Explained with ayahs 1–3
ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہوگئیں، جیسے فرمان ہے ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الہٰی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر ﷺ پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے نبی ہو چکنے کے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 4
4۔ اگرچہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہنے کے بعد اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّ لَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کہنے کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایمان لانے میں محمد ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیمات پر ایمان لانا آپ سے آپ شامل ہے، لیکن اس کا الگ ذکر خاص طور پر یہ جتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے مبعوث ہوجانے کے بعد کسی شخص کا خدا اور آخرت اور پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کا ماننا بھی اس وقت تک نافع نہیں ہے جب تک کہ وہ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ مان لے۔ یہ تصریح اس لیے ضروری تھی ہجرت کے بعد اب مدینہ طیبہ میں ان لوگوں سے بھی سابقہ در پیش تھا جو ایمان کے دوسرے تمام لوازم کو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(آیت) وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ ، اگر پہلے جملے میں ایمان اور عمل صالح کا ذکر آ چکا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی بھی شامل ہے مگر اس دوسرے جملے میں اس کو بالتصریح ذکر کرنے میں یہ بتلانا منظور ہے کہ ایمان کی اصل بنیاد اس پر ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کیا جائے۔
(آیت) وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ ، لفظ بال کبھی شان اور حال کے معنی میں آتا ہے اور کبھی قلب کے معنی میں یہاں دونوں معنے لئے جاسکتے ہیں، پہلے معنی لئے جاویں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حال کو یعنی دنیا و آخرت کے تمام کاموں کو درست کردیا اور دوسری صورت…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد وھوا لحق من ربھم لا کفرعنھم سیاتھم واصلح بالھم 2
اہل ایمان کے لئے بشارت
اوپر کی آیت میں کفار کے لئے جس درجے کی تہدید ووعید ہے اس آیت میں، اسی اسلوب بیان میں، اہل ایمان کے لئے، دنیا اور آخرت دونوں میں، فیروز مندی کی بشارت ہے، فرمایا ہے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح بھی کئے، ان کے گناہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیئے اور ان کے تمام احوال بالکل درست کردیئے۔
جس طرح کفار کے لئے تہدید قطعیت کے اظہار کے لئے ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح اہل ایمان کے لئے بشارت بھی ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔
دین حق وہی ہے جو رسول اللہ صلعم پر…
Read the full tafseer →2۔ 1 ایمان میں اگرچہ وحی محمدی یعنی قرآن پاک پر ایمان لانا بھی شامل ہے لیکن اس کی اہمیت اور شرف کو مزید واضح اور نمایاں کرنے کے لئے اس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔
2۔ 2 یعنی ایمان لانے سے قبل کی غلطیاں اور کو تاہیاں معاف فرما دیں جیسا کہ نبی ﷺ کا بھی فرمان ہے کہ اسلام ماقبل کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح الجامع الصغیر الالبانی)
2۔ 3 بالھم کے معنی امرھم شانھم حالھم یہ سب متقارب المعنی ہیں مطلب ہے کہ انہیں معاصی سے بچا کر رشد و خیر کی راہ پر لگا دیا ایک مومن کے لیے اصلاح حال کی یہی سب سے بہتر صورت ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ مال و دولت کے ذریعے سے ان کی حالت درست کردی کیونکہ ہر مومن کو مال ملتا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: کافر لوگ جو کوئی اچھے کام دنیا میں کرتے ہیں، جیسے غریبوں کی امداد وغیرہ، اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، لیکن آخرت میں ثواب حاصل کرنے کے لئے ایمان شرط ہے، اس لئے آخرت کے لحاظ سے وہ اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اور دوسری طرف :
والذین امنوا ۔۔۔۔۔ من ربھم (47 : 2) “ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ اور ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے ”۔
والذین امنوا (47 : 2) میں محمد ﷺ پر ایمان لانا شامل ہے لیکن یہاں اس کا ذکر علیحدہ بطور تاکید کیا گیا ہے تا کہ اس کی صفت میں یہ جملہ لایا جائے۔
وھو الحق من ربھم (47 : 2) اور سابق ایمان کی تاکید مزید ہوجائے اور عمل صالح کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ایمان زندہ ہے ، موجود ہے اور فعال ہے۔
کفر عنھم سیاتھم (47 : 2) “ اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں ”۔ یہ خبر ہے الذین کی۔ اور کفار کے اعمال کو ضائع کردیا…
Read the full tafseer →4 یعنی برائیوں کی عادت چھڑا کر اللہ تعالیٰ ان کا حال سنوار دیتا ہے کہ یوماً فیوماً نیکی میں ترقی کرتے رہتے ہیں۔ اور آخرت میں ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرما کر اچھے حال میں رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پہلے زمانہ میں ساری مخلوق ایک شریعت کی مکلف نہ تھی۔ اس وقت سب جہان کو ایک حکم ہے، اب سچا دین یہی ہے اور برے بھلے کام مسلمان بھی کرتے ہیں اور کافر بھی، لیکن سچا دین ماننے کو یہ قبولیت ہے کہ نیکی ثابت اور برائی معاف، اور نہ ماننے کی یہ سزا ہے کہ نیکی برباد گناہ لازم۔ "
Read the full tafseer →آیت 2 { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور جو ایمان لائے اس شے پر جو نازل کی گئی محمد ﷺ پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے“
{ کَفَّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَاَصْلَحَ بَالَہُمْ } ”اللہ نے دور کردیں ان سے ان کی خطائیں اور ان کے حال کو سنوار دیا۔“
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رض کو مسلسل آزمائشوں کی بھٹیوں میں سے گزار کر ان کی شخصیات کو ُ کندن بنا دیا۔ اس کی نظر ِرحمت سے ان کی سیرتیں ایمان و یقین کے نور سے جگمگانے لگیں اور ان کے کردار ‘ اخلاق و عمل کی خوشبو…
Read the full tafseer →2۔ الف آپ کی بعثت کے بعد سب کو آپ کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لانے کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ مدینہ میں کچھ ایسے یہود موجود تھے جو ایمان بالغیب کی جملہ جزئیات پر ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجا لاتے تھے۔ انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ اب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات پر ایمان لانا سود مند نہ ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ سابقہ تمام انبیاء کی شریعت علاقائی یا قومی بھی تھی اور عارضی بھی۔ جبکہ رسول اللہ سارے جہاں کے لیے اور تاقیام قیامت رسول ہیں۔ اسی طرح قرآن بھی جملہ اہل عالم کے لیے ایک تاقیام قیامت ہدایت کا ذریعہ ہے۔ لہذا…
Read the full tafseer →2۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) (آیت) ” کفر عنہم سیاتھم “۔ یعنی ان گناہوں سے در گزر کردے گا ...... گناہوں سے پاک تو بجز انبیاء معصومین کے اور کوئی ہو نہیں سکتا۔ چناچہ یہاں قرآن مجید ” سیات “۔ کو کھلم کھلا (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ (مومنین صالحین) ہی کی جانب منسوب کررہا ہے۔ مومنین صادقین کے فخر وشرف کے لئے بس اس قدر کافی ہے کہ ان کے اعمال صالحہ کے انبار عظیم کے ساتھ جو گنے چنے ہوئے چند گناہ ہوں گے، وہ بالکل معاف کردیئے جائیں گے۔ (آیت) ” محمد “۔ اسم پاک محمد ﷺ پر حاشیہ سورة ال عمران (پ 4) میں گزر چکا۔ نیز ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” اصلح بالھم “۔ یہ اصلاح حال دنیا میں تو اس طرح ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وآمنوا بمانزل علی محمد اگرچہ پہلے جملہ میں ایمان اور عمل صالح کا ذکر آچکا ہے، دوبارہ آمنوا بمانزل علی محمد کہنے کی حاجت نہیں رہتی، اس لئے کہ ایمان لانے میں محمد ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیمات پر ایمان لانا خود بخود شامل ہے، مگر اس طرز کے اختیار کرنے میں تخصیص بعد التعمیم کے فائدہ کے علاوہ کو جو خاص کی اہمیت اور اس کا مہتم بالشان ہونا ہے جیسا کہ حافظوا علی الصلوات و الصلوۃ الوسطی میں ہے ایک فائدہ اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کسی شخص کا خدا اور آخرت اور پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کو ماننا بھی اس وقت تک نافع نہیں ہے جب تک کہ وہ آپ کو اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد وھو الحق من ربھم کفر عنھم سیاتھم واصلح بالھم۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور وہ ان کے رب کے پاس سے امر واقعی ہے۔ اللہ ان کے اوپر سے ان کے گناہ اتار دے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا ‘
Read the full tafseer →اور جو لوگ حق تعالیٰ اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے یعنی صحابہ کرام اور انہوں نے اچھے کام کیے اور بالخصوص وہ سب اس قرآن کریم پر ایمان لائے جو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر نازل کیا گیا۔
تو حق تعالیٰ بذریعہ جہاد ان کے گناہوں کو معاف کردے گا اور دنیا میں ان کی حالت اور نیت و اعمال درست کردے گا یا یہ کہ اسلام میں ان کو غلبہ دے گا۔
شان نزول : وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (الخ)
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الخ) کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ مکہ والے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور والَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →(1) والذین امنوا وعملوا الصلحت …:”امنوا“ میں اگرچہ عمل صالح بھی شامل ہے، کیونکہ عمل بھی ایمان کا جزو ہے، مگر اس کی اہیمت کا احساس دلانے کے لئے اسے علیحدہ بھی ذکر فرمایا۔ دیکھیے سورة عصر کی تفسیر۔ اسی طرح ”امنوا“ میں اگرچہ دوسری ایمانیات کے ساتھ محمد ﷺ اور آپ پر نازل شدہ وحی پر ایمان بھی شامل ہے مگر اس کا شرف نمایاں کرنے کے لئے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ خصوصاً اس لئے کہ مدینہ میں کچھ ایسے یہود موجود تھے جو ایمان بالغیب کی تمام جزئیات ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجا لاتے تھے مگر نبی کریم ﷺ کو نبی ماننے کے باوجود یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کردیتے تھے کہ آپ امیوں کے نبی ہیں۔ اب بھی کئی…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد انصار ہیں مقاتل نے کہا : یہ قریش کے چند افراد کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دونوں مومنوں اور کافروں کے بارے میں عام ہیں : کا معنی ہے ان کو باطل کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں ہدایت پانے سے گمراہ کردیا اس کی صورت یہ تھی کہ انہیں توفیق دینے سے پھر دیا۔ جس نے کہا : اس کا مصداق انصار ہیں اس نے صالحات سے مراد ان کو گھر دینے اور مال دینے میں ان کے ساتھ ہمدردی کرنا لیا ہے۔ جس نے کہا : مراد قریش ہیں تو عمل صالح سے مراد ہجرت ہے۔ جس نے کہا : یہاں عام مراد ہے تو صحالات سے مراد تمام وہ اعمال ہیں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔
یعنی حضرت محمد…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کیے نیکیوں کے ] وَاٰمَنُوْا بِمَا [ اور ایمان لائے اس پر جو ] نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ [نازل کیا گیا محمد پر ] وَّهُوَ الْحَقُّ [ جبکہ وہ ہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّهِمْ ۙ[ ان کے رب (کی جانب ) سے ] كَفَّرَ عَنْهُمْ [ تو وہ (اللہ ) دور کرے گا ان سے ] سَـيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں کو ] وَاَصْلَحَ [ اور وہ اصلاح کرے گا ] بَالَهُمْ [انکی حالت کی ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 2 میں صرف یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا ، بلکہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ اس چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والوں کی بربادی اور اہل حق پر انعام کا اعلان
آیات مذکورہ بالا میں اہل کفر اور اہل ایمان کے درمیان فرق واضح فرمایا ہے اور اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے کفر و شرک پر تو کسی خیر کی امید رکھنے کا کوئی سوال ہی نہیں اہل کفر جو بعض مرتبہ صلہ رحمی یا خدمت خلق کے کام کرتے ہیں آخرت میں ان چیزوں کا بھی کچھ نہیں ملے گا اعمال ضائع کرنے کا سبب کفر ہی بہت ہے۔ پھر اوپر سے جنہوں نے اللہ کے راستے روکنے کا جو کام کیا یہ ان کے اعمال ضائع ہونے کا ایک مزید سبب بن گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل…
Read the full tafseer →3:۔ ” والذین امنوا۔ الایۃ “ مقابلے میں مومنین کے حال کا ذکر اور بشارت ہے۔ اور جو لوگ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے اور نیک کام کیے اور محمد ﷺ پر جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے (قرآن اور تمام دیگر احکام) سب پر ایمان لائے، ہر بات پر آپ کی تصدیق کی اور کسی چیز میں آپ کی مخالفت نہ کی۔ آپ پر جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے وہ سراپا حق ہے اور اللہ کی طرف سے ہے۔ ایسے لوگوں کے اللہ تعالیی گناہ معاف فرمائیگا اور دنیا وآخرت میں ان کے احوال و معاملات درست کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اسی سورة کے نام سورة محمد ﷺ ہے ۔ سورة کی دوسری آیت میں لفظ محمد ﷺ مذکور ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ اس سورة کا دوسرا نام قتال بھی آتا ہے ، کیونکہ اس میں جنگ کا ذکر بھی ہے ۔ قرآن کی بعض دوسری سورتیں بھی مختلف انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اسمائے گرامی کے ساتھ منسوب ہیں جیسے سورة ہود (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) اسی طرح یہ سورة حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نام نامی سے منسوب ہے۔ یہ سورة مدنی دور میں نازل ہوئی اور اگلی مزید دوسورتیں یعنی سورة الفتح اور سورة الحجرات بھی مدنی سورتی ہیں ۔ آگے پھر سورة ق سے لے کر سورة…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَّہُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ 0 ۙ كَفَّرَ عَنْہُمْ سَـيِّاٰتِہِمْ وَاَصْلَحَ بَالَہُمْ 2
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : الذین کفروامبتدء اضل اعمالہم خبرہ والذین مبتدء وھوالحق الجملۃ معترضۃ بین المبتدء وخبرہ وھو کفر الخ ذلک مبتدء بان الذین خبرہ فضرب الرقاب قال الزجاج اصلہ فاضربوا الرقاب ضرباً ۔ فحذف الفعل واقیم المصدر مقامہ مضافاً الی الفعول۔ وقیل ھو منصوب علی الاغراء حتی اذا غایۃ للامر بضرب الرقاب لالبیان غایۃ القتل۔ فامامنا الخ ای فاماتمون منااوتفدون فداء حتی متعلقۃ بشدوالوثاق۔
تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں اور بیشتر مدینہ میں نازل ہوئی سورتوں میں احکام و جہاد یا منافقین کی بدکرداری اور اس کے برے نتائج بیان ہوئے ہیں یا مکارم اخلاق…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّھُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ لا کَفَرَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰ تِہِمْ وَاَصْلَحَ بَالَھُمْ ۔ (محمد : 2)
(اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے، اور وہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے، اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کردیں اور ان کا حال سنوار دیا۔ )
کفار کے مقابلے میں دوسرے گروہ کی صفات اور اس کا اعزاز
حق و باطل کی اس کشمکش میں دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : الاحقاف کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اے رسول ﷺ ! پہلے رسولوں کی طرح صبر کریں، وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے تو اس قدر بد حواس ہوں گے کہ یہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیوں سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے سورة محمد ﷺ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ دنیا میں بھی ہلاکت کے گھڑے میں گرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل کرے گا اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اس سورت میں کفار، منافقین اور مسلمانوں کے اعمال اور ان کے ا نجام کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ہوا یہ کہ اعلان نبوت کے بعد کفار اور مشرکین نبی کریم ﷺ کی ذات کو انتہائی اختلاف کا باعث سمجھتے…
Read the full tafseer →امَنُوْا کی مراد :
آیت 2 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے۔ اس سے قریش کے کچھ لوگ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ انصار کے کچھ حضرات۔ نمبر 3۔ اہل کتاب کے کچھ افراد۔ نمبر 4۔ عام ہے۔ وَ ٰامَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ اور وہ اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ مانزل سے قرآن مجید مراد ہے۔
پھر جملہ معترضہ لا کر اس کی تاکید کردی اور وہ جملہ یہ ارشاد ہے۔
وَّہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ یعنی قرآن ایک قول یہ ہے : کہ دین محمد ﷺ وہی حق ہے۔ اس لئے کہ وہ منسوخ نہ ہوگا۔ وہ دیگر تمام ادیان کا ناسخ ہے۔ کَفَّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ…
Read the full tafseer →تفسیر :
1 ۔” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم “ ان کو باطل کردیا قبول نہیں کیا اور اعمال سے مراد جو وہ کھانا کھلاتے اور صلہ رحمی کرنے جیسے نیک کام کرتے تھے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ کے بارے میں ان کی تدبیریں ومکر کو باطل کردیا اور اس کا نقصان ان ہی پر لوٹادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ کی وحدانیت کے راستہ سے روکتے ہیں وہ مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ سلوک یا حاجیوں کو پانی پلانا یا اور بعض ایسے نیک کام جو دنیا کی رسم کے طور پر کرتے ہیں عقبیٰ کے اجر کے لحاظ سے ایسے لوگوں کے وہ سب نیک عمل رائیگاں ہیں کیونکہ قیامت اور عقبیٰ کے اجر کے یہ لوگ قائل نہیں ہیں اس لئے ان کے جو نیک عمل ہیں وہ فقط دنیا کی رسم کے طور پر ہیں جو بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے اور عقبیٰ کے اجر کے قائل نہیں ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں حضرت عمر ؓ کی مشہور حدیث ہے۔ جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تفسیر سورة محمد
یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عربت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں، چناچہ فرمایا : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ) یہ رؤسائے کفر اور ائمہ ضلالت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ (اضل اعمالھم) یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کردیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کردیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لئے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب…
Read the full tafseer →[ 3] خاتم الادیان پر ایمان کی اہمیت و عظمت، والحمدللّٰہ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جو ایمان لائے اس دین حق پر جس کو اتارا گیا محمد پر۔ اور وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ " سو یہ تخصیص بعد التعمیم ہے۔ پس اس سے واضح ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد گزشتہ کتابوں پر ایمان بھی صرف اسی صورت میں معتبر اور قابل قبول ہوگا جبکہ آنحضرت ﷺ پر اور آپ ﷺ کی پیش فرمودہ شریعت مقدسہ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق پر ایمان لایا جائے۔ اور یہ ایک واضح حقیقت اور طبعی و فطری امر ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی پیش فرمودہ شریعت مقدسہ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق پر ایمان لایا جائے۔ اور یہ ایک واضح حقیقت اور طبعی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
منکر و مومن کا مقابلہ
تشریح : یہ آیات مومن اور کافر کا فرق بڑی وضاحت سے کرتی ہیں۔ کیونکہ صرف قرآن کو پڑھ لینا اور پھر لپیٹ کر رکھ دینا ہی اسلام لے آنا نہیں کہلاتا بلکہ نیکی، ایمان، تقوی اور اللہ رسول اور قرآن پر پورا پورا یقین رکھنا اور اس میں بتائے گئے تمام احکامات پر خلوص نیت سے عمل کرنا دوسروں کو عمل کرنے کی تاکید کرنا اور یہ سب کچھ دل و جان سے کرنا۔ مومن کی نشانی ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے خاص رحمتیں، برکتیں اور مدد نازل ہوتی رہتی ہے۔ اس تمام عمل کے دوران اگر کوئی غلطی ان سے ہوجاتی ہے تو اللہ غفور الرّحیم ان کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اللہ پوری خبر رکھنے والا ہے وہ نیتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی دنیا و آخرت دونوں بنادیں، دنیا میں ان کے لئے عزت اور آخرت میں جنت ہے۔
Read the full tafseer →(47:2) والذین امنوا مبتداء کفر عنہم سیئاتہم خبر۔ درمیانی جملہ من ربہم معترضہ ہے واصلح بالہم خبر ثانی۔
ما نزل علی محمد میں ما موصولہ ہے نزل علی محمد اس کا صلہ ہے (اور ایمان لائے اس پر) جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ۔ یعنی قرآن ۔
فائدہ : الذین امنوا وعملوا الصلحت اگرچہ اس میں تمام وہ امور داخل ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے خاص طور پر اس شریعت پر جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی (بواسطۂ قرآن) ایمان لانا لازم قرار دیا۔ اس سے شریعت محمدیہ پر ایمان لانے کی عظمت کا اظہار اور اس امر کی صراحت کرنی مقصود ہے کہ اس شریعت پر ایمان لائے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی اور اصل ایمان یہی ہے ۔ تمام ایمانیات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تشریح آیت نمبر 1 تا 6
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
بہکانے والوں کا انجام اور کفر کی وجہ سے اعمال صالحہ کی بربادی۔
(ف 1) شان نزول : بروز بدر بارہ آدمی تھے جو سب کافروں کا خرچ اپنے ذمہ اٹھائے ہوئے تھے اور کافروں کو لڑائی پر برانگیختہ کرتے تھے اور اس خرچ کو بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے عتبہ شیبہ پسران ربیعہ پسران حجاج ابوالبختری بن ہشام ، ابوجہل بن ہشام وغیرہ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا جو لوگ خود اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا تو اللہ نے ان کے نیک اعمال بےکار بےفائدہ باطل کردیے جو کچھ بھی انہوں نے کیے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا اور اسیروں کو چھڑایا یاغریبوں کی مدد کی ہو سب برباد ہوئی آخرت میں اس کا کچھ ثواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة محمد
1: اس سورة کا آغاز کو سورة احقاف کے آخری مضمون کے ساتھ ایک باریک تعلق ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اختتام سورت کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ جو لوگ فسق وفجور کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اور اللہ کے قوانین رشدوہدیات کو نہیں مانتے ۔ وہ ہلاک ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ اس حقیقت کے اظہار کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا ۔ کہ آخر یہ لوگ کچھ نیک کام بھی تو کرتے ہوں گے ۔ پھر کیونکر قرین عدل و انصاف ہے کہ ان کو ایک دم ہلاکت وموت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ لوگ بحیثیت نظام کے اسلام کو تسلیم نہیں کرتے اور اس طرح خیروبرکت کی اشاعت میں زبردست رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان کے اعمال مقبول نہیں ہیں ۔ کیونکہ اعمال…
Read the full tafseer →(2) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور جو کچھ محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اس سب پر ایمان لائے اور بات بھی یہ ہے کہ جو کچھ محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں کے پروردگار کی طرف سے ایک امر واقعی برحق اور سچا دین ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے ان کی برائیاں دور کردیں اور اتار دیں اور ان کو سنوارا اور درست کردیا۔ اوپر کی آیت میں دو باتیں اعمال کو کالعدم کرنے کے لئے بیان فرمائیں ایک کفر دوسرے رکاوٹ عن سبیل اللہ اگرچہ ایک بات بھی یعنی فقط کفر ہی اعمال کی بربادی کے لئے کافی ہے لیکن وہ دونوں باتوں کے چونکہ مرتکب ہوئے تھے اس لئے دو باتوں کا ذکر فرمایا۔
اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ یعنی جن کاموں کو وہ نیک سمجھ رہے تھے بوجہ عدم ایمان کے وہ مقبول نہیں بلکہ ان میں سے بعضے کام اور الٹے موجب عقاب ہیں۔
Read the full tafseer →جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والے کلام کو مانا ان کا حال
2 ؎ فرمایا اوپر تو ان لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کینیکیاں بھی ان کو کچھ فائدہ نہ دیں گی بلکہ برباد کردی جائیں گی لیکن ان کے مقابلہ میں ایسے خوش بخت لوگ بھی موجود ہیں جو ایمان کی دولت سے مالامال ہوئے اور ان کے ایمان لانے کا ان کو یہ صلہ ملا کہ ان کے حق کو قبول کرلینے کے باعث ان کی غلطیاں بھی مٹا دی گئیں خواہ وہ غلطیاں انہوں نے ایمان لانے سے پہلے عمداً کیں تھیں یا ایمان لانے کے بعد سہواً ان سے ہو چکیں سب کو مٹا دیا جائے گا اور ان کے کاموں کی بحمد اللہ اصلاح کردی جائے گی گویا ایمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ
…and believed in that which is revealed to Muhammad …(47:2)
Although the previous sentence has referred to faith and righteous deeds which includes faith in the messenger-ship of the Holy Prophet Muhammad ﷺ and the revelation that was sent down to him, this sentence specifies explicitly the fact that the actual basis of faith is to embrace all the teachings of the Last Holy Prophet ﷺ .
The word " بال (bal) in وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ "…and will set aright their state of affairs..(47:2) " is sometimes used in the sense of state of affairs and condition,…
Read the full tafseer →4 Although after saying alladhina amanu (those who believed) there was no need to say wa amanu bi-ma nuzzila 'ala Muhammed-in (and accepted that which has been sent down to Muhammad), for belief by itself implies believing in the Holy Prophet Muhammad and in the teachings sent down to him, yet making a separate mention of it is particularly meant to assert this: After the appointment of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) to Prophethood, a person's belief in Allah and the Hereafter and the former Messengers and the Books cannot be beneficial until he also believes in him and…
Read the full tafseer →