Muhammad 47:3

Muhammad · from ayah 3

47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ ؕ— كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ ۟ذٰ لِكَ بِاَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ

یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اس لئے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح خدا لوگوں سے ان کے حالات بیان فرماتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is because those who disbelieve follow falsehood, and those who believe follow the truth from their Lord. Thus does Allah present to the people their comparisons.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:3

یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اُس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اِس طرح اللہ لوگوں کو اُن کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اس لئے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح خدا لوگوں سے ان کے حالات بیان فرماتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس لئے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے اس دین حق کی اتباع کی جو ان کے اللہ کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے احوال اسی طرح بتاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ باطل کے پیچھے چلے ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اس حق کے پیچھے چلے ہیں جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، اسی طرح اللہ لوگوں کو بتارہا ہے کہ ان کے حالات کیا کیا ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اس لئے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ باطل کے پیچھے چلے اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے (اتارے گئے) حق کی پیروی کی، اسی طرح اﷲ لوگوں کے لئے ان کے احوال بیان فرماتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور بیشک جو لوگ ایمان لائے وہ اپنے رب کی طرف سے حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اس لئے کہ کافروں نے تو باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے (نازل ہوا) اسی طرح اللہ لوگوں سے ان کی ٹھیک ٹھیک حالت بیان کردیتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف آئے ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لئے ان کی مثالیں بیان کر رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سب اس لئے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے (حق کی بجائے) باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے انہوں نے پیروی کی اس حق کی جو (ان کے پاس) ان کے رب کی جانب سے آیا اللہ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے لوگوں کے لئے ان کی مثالیں

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اس لئے ہے کہ کافروں نے تو باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے آئے ہوئے حق کو اختیار کیا اللہ اسی طرح لوگوں کیلئے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لیے ہوا، کہ جو منکر ہوئے انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے اور اپنے رب کے دین حق کے پیچھے چلے اسی طرح اللہ لوگوں سے ان کے حالات بیان کرتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

That is because those who disbelieved followed falsehood whereas those who believed followed the Truth that came to them from their Lord. Thus does Allah set forth to people parables showing their true state.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is because the disbelievers have followed falsehood, while the believers have followed the truth (that has come) from their Lord. This is how Allah explains their (respective) situations to the people.

— Muhammad Taqi Usmani

That is because the disbelievers have followed falsehood, while the believers have followed the truth (that has come) from their Lord. This is how Allah explains their (respective) situations to the people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is because those who disbelieve follow falsehood, while those who believe follow the truth from their Lord. Thus does Allah set forth for mankind their parables.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is because those who disbelieve follow falsehood and because those who believe follow the truth from their Lord. Thus Allah coineth their similitudes for mankind.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is because those who disbelieve follow falsehood, and those who believe follow the truth from their Lord. Thus does Allah present to the people their comparisons.

— Saheeh International

This is because the disbelievers have followed falsehood and the believers have followed the Truth from their Lord. Thus God explains to the human being their own prospects.

— Muhammad Sarwar

That is because those who disbelieve follow falsehood, and have given them their dowries, taking (them) in marriage, not fornicating nor taking them for paramours in secret; and whoever denies faith, his work indeed is of no account, and in the hereafter he shall be one of the losers.

— Muhammad Habib Shakir

That is because those who disbelieve follow the falsehood, and those who believe follow the truth from their Lord. And thus Allah propoundeth Unto mankind their similitude.

— Abdul Majid Daryabadi

This because those who reject Allah follow vanities, while those who believe follow the Truth from their Lord: Thus does Allah set forth for men their lessons by similitudes.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہوگئیں، جیسے فرمان ہے ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الہٰی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر ﷺ پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے نبی ہو چکنے کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مُحَمَّد 7 اصل الفاظ ہیں " کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہ للنَّاسِ اَمْثَالَھُمْ "۔ اس فقرے کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ " اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں دیتا ہے "۔ لیکن اس لفظی ترجمہ سے اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح فریقین کو ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک بتائے دیتا ہے۔ ایک فریق باطل کی پیروی پر مصر ہے اس لیے اللہ نے اس کی ساری سعی و عمل کو لا حاصل کردیا ہے۔ اور دوسرے فریق نے حق کی پیروی اختیار کی ہے اس لیے اللہ نے اس کو برائیوں سے پاک کر کے اس کے حالات درست کردیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

(آیت) وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ ، اگر پہلے جملے میں ایمان اور عمل صالح کا ذکر آ چکا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی بھی شامل ہے مگر اس دوسرے جملے میں اس کو بالتصریح ذکر کرنے میں یہ بتلانا منظور ہے کہ ایمان کی اصل بنیاد اس پر ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کیا جائے۔ (آیت) وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ ، لفظ بال کبھی شان اور حال کے معنی میں آتا ہے اور کبھی قلب کے معنی میں یہاں دونوں معنے لئے جاسکتے ہیں، پہلے معنی لئے جاویں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حال کو یعنی دنیا و آخرت کے تمام کاموں کو درست کردیا اور دوسری صورت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الحق من ربھم ط کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم 3 قوت صرف حق کے اندر ہے یہ وجہ بتائی ہے اس بات کی کہ کیوں کفار کی تمام مساعی رائیگاں ہوں گی اور کیوں اہل ایمان اپنی کوششوں میں سرخ رو اور فائز المرام ہوں گے فرمایا ہے ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ کفار نے شیطان کے سکھائے ہونے باطل کی پیروی کی ہے اور اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ باطل کے لئے ان کی عقلی اور اس کی فطرت کے اندر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی مثال خودرو جھاڑی کی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی زمین میں اگ پڑتی ہے۔ اگر وہ اکھاڑی نہ جائے تو زمین میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور اگر کھاڑ دی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 ذلک یہ مبتدا ہے یا خبر ہے مبتدا محذوف کی ای الامر ذلک یہ اشارہ ہے ان وعیدوں کی طرف جو کافروں اور مومنوں کے لیے بیان ہوئے۔ 3۔ 2 تاکہ لوگ اس انجام سے بچیں جو کافروں کا مقدر ہے اور وہ راہ حق اپنائیں جس پر چل کر ایمان والے فلاح ابدی سے ہمکنار ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: کافر لوگ جو کوئی اچھے کام دنیا میں کرتے ہیں، جیسے غریبوں کی امداد وغیرہ، اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، لیکن آخرت میں ثواب حاصل کرنے کے لئے ایمان شرط ہے، اس لئے آخرت کے لحاظ سے وہ اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذلک بان الذین ۔۔۔۔۔ من ربھم (47 : 3) “ اور یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ”۔ جہاں تک باطل کا تعلق ہے اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر دور تک نہیں ہوتیں ، اس لیے وہ تباہ ہوجاتا ہے اور جو شخص بھی باطل کا پیرو ہوتا ہے یا باطل کا نتیجہ ہوتا ہے وہ ضائع ہونے والا ہوتا ہے اور کافر چونکہ باطل کے پیروکار ہوتے ہیں اس لیے ان کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اور ان میں سے کوئی مفید چیز باقی نہیں رہتی۔ اور حق چونکہ مستقل ہوتا ہے ، آسمان و زمین بھی اس پر قائم ہیں ، اس کی جڑیں اس کائنات میں بہت دور تک چلی جاتی ہیں۔ اس لیے وہ باقی ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اس طرح کھول کھول کر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے بھلے برے احوال پر متنبہ کرتا ہے۔ تاکہ باطل پرستی کی نحوست و شامت اور حق پرستی کی برکت ان کو پوری طرح ذہن نشین ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ } ”یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی“ { وَاَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کی پیروی کی ‘ جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔“ { کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَہُمْ } ”اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔“ اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے۔ اس کی بنیادی وجہ الفاظ کی وہ تقدیم و تاخیر ہے جو ہمیں قرآن کی آیات میں بعض جگہ نظر آتی ہے۔ جیسا کہ کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے ‘ الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر قرآن کا خاص اسلوب ہے اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 کفار کی نیکیاں برباد گناہ لازم جبکہ مومنوں کی حالت ان کے بالکل برعکس ہے :۔ اللہ تعالیٰ حق کی پیروی کرنے والوں اور باطل کی پیروی کرنے والوں کی ٹھیک ٹھاک مثالیں بیان کرتا ہے۔ حق کی پیروی کرنے والوں کی صورت حال یہ ہوگی کہ ان کی نیکیاں برقرار رہیں گی اور گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ اور باطل کی پیروی کرنے والوں کی صورت حال یہ ہوگی کہ ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم و برقرار رہیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل قبول نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (کہ وہ ان سے ہدایت وبصیرت کے سبق لیں) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی مومنوں اور کافروں کے درمیان یہ فرق عظیم۔ (آیت) ” للناس “۔ یعنی نفع رسانی خلق کی غرض سے۔ اے لاجل الناس لیعتبروابھم۔ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–3

وآمنوا بمانزل علی محمد اگرچہ پہلے جملہ میں ایمان اور عمل صالح کا ذکر آچکا ہے، دوبارہ آمنوا بمانزل علی محمد کہنے کی حاجت نہیں رہتی، اس لئے کہ ایمان لانے میں محمد ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیمات پر ایمان لانا خود بخود شامل ہے، مگر اس طرز کے اختیار کرنے میں تخصیص بعد التعمیم کے فائدہ کے علاوہ کو جو خاص کی اہمیت اور اس کا مہتم بالشان ہونا ہے جیسا کہ حافظوا علی الصلوات و الصلوۃ الوسطی میں ہے ایک فائدہ اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کسی شخص کا خدا اور آخرت اور پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کو ماننا بھی اس وقت تک نافع نہیں ہے جب تک کہ وہ آپ کو اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الباطل وان الذین امنوا اتبعوا الحق من ربھم کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر غلط راستے پر چلے اور اہل ایمان صحیح راستہ پر چلے ‘ جو ان کے رب کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کیلئے ان کے حالات بیان فرماتا ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں تو تمام وہ امور داخل ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے ‘ ان میں خاص طور پر اس شریعت پر جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی ‘ ایمان لانا لازم قرار دیا ‘ اس سے شریعت محمدیہ پر ایمان لانے کی عظمت کا اظہار اور اس امر کی صراحت کرنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اب اللہ تعالیٰ اس چیز کو واضح فرما رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے کافروں کا کام ضائع اور مسلمانوں کے اعمال درست ہوئے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ ان کے اعمال تو ان کے کفر و شرک کی وجہ سے برباد ہوئے اور اہل ایمان نے قرآنی صحیح راستہ کو اختیار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ذلک بان الذین کفروا اثبعوا الباطل …: یعنی کفار کے اعمال برباد کرنے اور ایمان والوں کے گناہ دور کرنے اور ان کا حال دسرت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے باطل کی پیروی اختیار کی اور اس کے پیچھے چل پڑے، جبکہ ایمان والے اس حق پر چلتے رہے جو ان کا اپنا طے کردہ نہیں تھا، بلکہ ان کے رب کی طرف سے نازل کیا ہوا تھا۔ دونوں کے راستے مختلف تھے، اس لئے ان کا انجام بھی مختلف ہوا۔ (2) کذلک یطرب اللہ الناس امثالھم ”امثال“ ”مثل“ کی جمع ہے، اس کا معنی مثال بھی ہے اور کسی چیز کا حال اور وصف بھی، جیسا کہ آگے آرہا ہے : فرمایا :(مثل الجنۃ التی وعد المتقون ، فیھا انھر من مآء غیر اسن) (محمد : 15)”اس جنت کا حال اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اسم اشاریہ محل رفع میں ہے یعنی معاملہ اس طرح ہے یا تقدیر کلام یہ ہوگی، جن دونوں کا ذکر گزر چکا ہے اس کا سبب یہ ہے کافر نے باطل کی پیروی کی اور مومن نے حق کی پیروی کی۔ باطل سے مراد شرک اور حق سے مراد توحید و ایمان ہے۔ یعنی اس بیان کی طرح جس کی وضاحت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے نیکیوں اور برائیوں کے معاملہ کی وضاحت کرتا ہے میں جو ضمیر ہے کی طرف لوٹ رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “ (جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے دوسروں کو روکا اللہ نے ان کے اعمال کالعدم کردیئے) یہ آیت مکہ کے رہنے والے قریش کے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “ (اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) اس سے مدینہ والے انصار مراد ہیں (آیت) ” واصلح بالھم “ (اور ان کی حالت درست کردے گا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کاموں کو درست کردیا۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” اضل اعمالہم “ (ان کے اعمال کالعدم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّ [ یہ اس سبب سے کہ ] الَّذِيْنَ كَفَرُوا [ جن لوگوں نے انکار کیا ] اتَّبَعُوا [وہ لوگ پیروی کرتے ہیں ] الْبَاطِلَ [ باطل کی ] وَاَنَّ [ اور (یہ ) کہ ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [ جو لوگ ایمان لائے ] اتَّبَعُوا [ وہ پیروی کرتے ہیں ] الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ [ حق کی اپنے رب (کی طرف) سے ] كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ [ اس طرح بیان کرتا ہے اللہ ] لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ [ لوگوں کے لیے انکی مثالیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر ارشاد فرمایا کہ یہ جو اہل کفر کی بدحالی ہوگی اور اہل ایمان کے حال کو اللہ تعالیٰ سدھار دے گا یہ اس وجہ سے ہے کہ کافروں نے باطل کا اتباع کیا اور اہل ایمان نے حق کا اتباع کیا، اتباع الحق کے ساتھ لفظ ﴿مِنْ رَّبِّهِمْ ﴾ بھی فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو (اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہیے) ﴿كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ للنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ 003﴾ (اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کے لیے امثال بیان فرماتا ہے۔ ) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ امثال سے احوال مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ مومنین اور کافرین کے احوال بیان فرماتا ہے مومنین کو حق پر بتاتا ہے اور اس کے نتیجے میں فلاح اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” ذلک بان۔ الایۃ “ یہ بطریق لف و نشر مرتب ماقبل کی علت ہے۔ باء سببیہ ہے اور اس کا متعلق محذوف ہے یعنی مشرکین کی نیکیوں کا ضائع ہونا اس لیے ہے کہ انہوں نے حق سے اعراض کر کے باطل کا اتباع کیا اور مومنوں کے گناہوں کا معاف ہونا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے باطل سے منہ موڑ کر حق کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی۔ ای ذلک کائن بسبب اتباع الاولین الباطل، واتباع الاخرین الحق۔ (روح ج 26 ص 38) ۔ یا باء ” لتستیقنوا “ سے متعلق ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یعنی تمہیں یقین ہوجائے کہ مختلف جزاء اس لیے دی جائے گی کہ کفار نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے حق کا اتباع کیا۔ اس لیے کفار کے اعمال برباد اور مومنوں کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

نام اور کوائف اسی سورة کے نام سورة محمد ﷺ ہے ۔ سورة کی دوسری آیت میں لفظ محمد ﷺ مذکور ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ اس سورة کا دوسرا نام قتال بھی آتا ہے ، کیونکہ اس میں جنگ کا ذکر بھی ہے ۔ قرآن کی بعض دوسری سورتیں بھی مختلف انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اسمائے گرامی کے ساتھ منسوب ہیں جیسے سورة ہود (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) اسی طرح یہ سورة حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نام نامی سے منسوب ہے۔ یہ سورة مدنی دور میں نازل ہوئی اور اگلی مزید دوسورتیں یعنی سورة الفتح اور سورة الحجرات بھی مدنی سورتی ہیں ۔ آگے پھر سورة ق سے لے کر سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝ 0 ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللہُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَہُمْ۝ 3 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : الذین کفروامبتدء اضل اعمالہم خبرہ والذین مبتدء وھوالحق الجملۃ معترضۃ بین المبتدء وخبرہ وھو کفر الخ ذلک مبتدء بان الذین خبرہ فضرب الرقاب قال الزجاج اصلہ فاضربوا الرقاب ضرباً ۔ فحذف الفعل واقیم المصدر مقامہ مضافاً الی الفعول۔ وقیل ھو منصوب علی الاغراء حتی اذا غایۃ للامر بضرب الرقاب لالبیان غایۃ القتل۔ فامامنا الخ ای فاماتمون منااوتفدون فداء حتی متعلقۃ بشدوالوثاق۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں اور بیشتر مدینہ میں نازل ہوئی سورتوں میں احکام و جہاد یا منافقین کی بدکرداری اور اس کے برے نتائج بیان ہوئے ہیں یا مکارم اخلاق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّبَعُوالْحَقَّ مِنْ رَّبِّھِمْ ط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَھُمْ ۔ (محمد : 3) (یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی، اور جو لوگ ایمان لائے انھوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کررہا ہے۔ ) قوت کا سرچشمہ حق کی پیروی ہے حق و باطل کی کشمکش میں اوپر کی آیات میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل حق کی تائید و نصرت کی اور ان کو سرافراز فرمایا اور اہل باطل کی مساعی کو ناکام اور بےاثر کرکے انھیں ناکام و نامراد کیا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القران ربط کلام : کفار کے اعمال ضائع کرنے کا سبب اور ایمانداروں کو جزادینے کا باعث۔ کفار کے اعمال اس لیے ضائع کردیئے جائیں گے کہ وہ دین کے مقابلے میں کفر، توحید کے بدلے شرک اور حق کی بجائے باطل کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے ہر حال میں اس حق کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حالات اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ کفر اور اسلام، توحید اور شرک، حق اور باطل، جھوٹے اور سچے کے درمیان فرق کرسکیں۔ باطل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا بشرطیکہ حق والے حق کے تقاضے پورے کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مؤمنوں اور کافروں کے عمل کی مثال : آیت 3 : ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ (یہ اس وجہ سے ہے کہ کافر تو غلط راستہ پر چلے اور اہل ایمان صحیح راستہ پر چلے جو ان کے رب کی طرف سے ہے) : ذلک مبتدأ اور مابعد اس کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہیذلک الامر یہ بات یعنی ایک فریق کے اعمال بیکار کیے اور دوسرے فریق کی سیئات کو مٹا دیا گیا اور اصلاح و درستی اس لئے کی گئی کہ ایک فریق نے شیطان کی اتباع اختیار کی اور دوسرے نے قرآن کی اتباع کی۔ کَذٰلِکَ (اس بیان کرنے کی طرح) یَضْرِبُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ کھول کر بیان کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” والذین امنوا وعملو الصالحات وامنوا بمانزل علی محمد “ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ کسی چیز میں آپ ﷺ کی مخالفت نہیں کی۔ ” وھوالحق من ربھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” الذین کفروا وصدوا “ سے مشرکین مکہ اور ” والذین امنوا وعملوالصالحات “ سے انصار مراد ہیں۔ ” کفر عنھم سیئاتھم واصلح بالھم “ ان کے حال کو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ان کو گناہوں سے بچایا۔ یعنی یہ اصلاح ان کے اعمال کی اصلاح کی طرف لوٹتی ہے حتیٰ کہ انہوں نے کوئی نافرمانی نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ کی وحدانیت کے راستہ سے روکتے ہیں وہ مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ سلوک یا حاجیوں کو پانی پلانا یا اور بعض ایسے نیک کام جو دنیا کی رسم کے طور پر کرتے ہیں عقبیٰ کے اجر کے لحاظ سے ایسے لوگوں کے وہ سب نیک عمل رائیگاں ہیں کیونکہ قیامت اور عقبیٰ کے اجر کے یہ لوگ قائل نہیں ہیں اس لئے ان کے جو نیک عمل ہیں وہ فقط دنیا کی رسم کے طور پر ہیں جو بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے اور عقبیٰ کے اجر کے قائل نہیں ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں حضرت عمر ؓ کی مشہور حدیث ہے۔ جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شریعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

تفسیر سورة محمد یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عربت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں، چناچہ فرمایا : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ) یہ رؤسائے کفر اور ائمہ ضلالت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ (اضل اعمالھم) یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کردیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کردیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لئے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 6] ایمان اور کفر دونوں کے نتائج کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے کفر و ایمان کے نتائج اور ان کے مآل و انجام کے درمیان فرق و اختلاف کے سبب اور اس کی اصل وجہ کو بیان فرمایا گیا ہے کہ کیوں کفار کی مساعی رائیگاں اور ان کے اعمال اکارت چلے جائیں گے۔ اور ایمان والے اپنی کوششوں میں سرخرو اور فائز المرام ہوں گے۔ نیز اس ارشاد سے اس فرق و اختلاف کے سبب اور اصل باعث کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ کہ چونکہ کفر والے باطل کی پیروی کرتے ہیں جس کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ اور یہ راہ بغاوت و سرکشی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جبکہ ایمان والے اس دین حق کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ سو ایمان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

منکر و مومن کا مقابلہ تشریح : یہ آیات مومن اور کافر کا فرق بڑی وضاحت سے کرتی ہیں۔ کیونکہ صرف قرآن کو پڑھ لینا اور پھر لپیٹ کر رکھ دینا ہی اسلام لے آنا نہیں کہلاتا بلکہ نیکی، ایمان، تقوی اور اللہ رسول اور قرآن پر پورا پورا یقین رکھنا اور اس میں بتائے گئے تمام احکامات پر خلوص نیت سے عمل کرنا دوسروں کو عمل کرنے کی تاکید کرنا اور یہ سب کچھ دل و جان سے کرنا۔ مومن کی نشانی ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے خاص رحمتیں، برکتیں اور مدد نازل ہوتی رہتی ہے۔ اس تمام عمل کے دوران اگر کوئی غلطی ان سے ہوجاتی ہے تو اللہ غفور الرّحیم ان کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اللہ پوری خبر رکھنے والا ہے وہ نیتوں کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی توحید کی راہ اختیار کی جو حق ہے۔ 8 تاکہ ایک طرف حق پرستوں کی کامیابی و بامرادی کو دیکھ کر نیکی کی طرف رغبت پیدا ہو اور دوسری طرف باطل پرستوں کی ناکامی و نامردای دیکھ کر برائی سے نفرت ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:3) ذلک ۔ یعنی کافروں کی گمراہی اور تکفیر اور مومنوں کی اصلاح احوال۔ بان۔ میں ب تعلیلیہ ہے ان حرف تحقیق۔ حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے ۔ الباطل جھوٹی بات، الحق دین حق، یا الباطل سے مراد شیطان اور الحق سے قرآن ہے۔ یضرب امثالہم (اللہ ) ان کی مثالیں بیان کرتا ہے ۔ ان کے حالات بیان کرتا ہے۔ یضرب ۔ مضارع واحد مذکر غائب ضرب مصدر سے جس کے معنی مارنا۔ ضرب لگانا۔ اور بیان کرنا کے ہیں۔ بیان کرنے کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا (2: 26) خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

تشریح آیت نمبر 1 تا 6 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

بہکانے والوں کا انجام اور کفر کی وجہ سے اعمال صالحہ کی بربادی۔ (ف 1) شان نزول : بروز بدر بارہ آدمی تھے جو سب کافروں کا خرچ اپنے ذمہ اٹھائے ہوئے تھے اور کافروں کو لڑائی پر برانگیختہ کرتے تھے اور اس خرچ کو بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے عتبہ شیبہ پسران ربیعہ پسران حجاج ابوالبختری بن ہشام ، ابوجہل بن ہشام وغیرہ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا جو لوگ خود اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا تو اللہ نے ان کے نیک اعمال بےکار بےفائدہ باطل کردیے جو کچھ بھی انہوں نے کیے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا اور اسیروں کو چھڑایا یاغریبوں کی مدد کی ہو سب برباد ہوئی آخرت میں اس کا کچھ ثواب…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–4

جہاد کی حقیقت 1: یہ آیات مقام جہاد میں نازل ہوئی ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لئے پہلے چند باتوں کو ذہن نشین کرلینا چاہیے ۔ اور وہ یہ ہیں کہ :۔ (1) اسلام کی غرض دنیا میں تسکین و طمانیت کی فضا کو پیدا کرنا ہے ۔ اور نوع انسانی کو ایسے تکلفات پر مرکوز کرنا ہے ۔ جہاں رنگ وبو کے تمام اختلاف مٹ جاتے ہیں ۔ (2) ہر عقیدہ خیر کو اور ہر نظام برکات التیام کو پھیلانا ، نہ صرف جائز بلکہ انسانیت کے لئے ضروری ہے ۔ (3) تشدد کی تعریف یہ نہیں ہے کہ زندگی کے عمدہ پروگرام کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے قوت اور طاقت کا استعمال کیا جائے ۔ بلکہ یہ ہے ۔ کہ بری باتوں کو پھیلانے کے لئے حرب اور جنگ کے معرکے قائم کئے جائیں ۔ (4)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) یہ مختلف سلوک کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے باطل اور غلط راہ کی پیروی کی اور جو لوگ اہل ایمان ہیں انہوں نے دین حق کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہواہی اس کی پیروی اختیار کی اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کے فائدے اور نفع کے لئے فریقین کے احوال بیان کرتا ہے۔ یعنی منکر باطل اور جھوٹ کی اتباع کرتا ہے اور ایمان دار اس حق کی پیروی کرتا ہے جو اس کے پروردگار کی جانب سے آیا ہے اس لئے دونوں کے انجام اور دونوں کے ساتھ سلوک بھی مختلف ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان لوگوں کے احوال بیان فرماتا ہے اور فریقین کا ذکر کرتا ہے تاکہ لوگوں کو ترغیب وتہذیب ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ غلط راستہ کا موجب ناکامی ہونا اور صحیح رستہ کا سبب لئے وہ ناکام رہے اور یہ کامیاب ہوئے اور اگر اسلام کے صحیح رستہ ہونے میں کوئی شبہہ ہو تو من ربھم سے اس کا جواب ہوگیا کہ دلیل اس کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونا معجزات نبویہ بالخصوص اعجاز قرآنی سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافر باطل کی اور مومن ہمیشہ حق کی پیروی کرتے ہیں اس لئے دونوں کی راہیں واضح ہیں : 3 ؎ باطل پرست اور حق پرست دوالگ الگ گروہ ہیں اور دونوں کی راہیں الگ الگ ہیں اور جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ دونوں کے نتائج بھی الگ الگ ہوں گے۔ باطل پرست جھوٹ اور گناہ کار پیروکار ہے اور حق پرست سچ اور نیکی کا کرنے والا ہے اور اسی طرح حق کی شناخت کرائی جا رہی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے آیا ہے وہ حق ہے اور اس کا ماسوا باطل اور اللہ تعالیٰ سے آنے کا مطلب اللہ تعالیٰ کا حکم دینا ہے کہ اس کو کیا جائے اور ماسواء کا مطلب اللہ تعالیٰ کا منع کرنا ہے کہ اس کو نہ کیا جائے ۔ معلوم رہے کہ ” حق پرست “ نام رکھنے سے یا ” باطل پرست “…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ …and believed in that which is revealed to Muhammad …(47:2) Although the previous sentence has referred to faith and righteous deeds which includes faith in the messenger-ship of the Holy Prophet Muhammad ﷺ and the revelation that was sent down to him, this sentence specifies explicitly the fact that the actual basis of faith is to embrace all the teachings of the Last Holy Prophet ﷺ . The word " بال (bal) in وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ "…and will set aright their state of affairs..(47:2) " is sometimes used in the sense of state of affairs and condition,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 That is, "He makes both the parties aware of their positions. One party insists on following falsehood; therefore, Allah has brought all its endeavors to naught: and the other party has adopted obedience of the Truth; therefore, AIIah has purified it of its evils and corrected its condition."

Read the full tafseer →