Explained with ayahs 4–9
جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہوجائے
یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہوجائے دستی لڑائی شروع ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قیدوبند کے ساتھ مقید کرلو جب لڑائی ختم ہوچکے معرکہ پورا ہوجائے تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لئے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة مُحَمَّد 8
اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق وسباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آجانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ " جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو " کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈبھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اس کے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔
آگے آیت 20 کے الفاظ اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب سورة حج کی آیت 39 اور سورة بقرہ کی آیت 190 میں لڑائی کا حکم آ چکا تھا اور اس پر خوف کے مارے مدینے کے منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کا حال یہ ہو رہا تھا کہ جیسے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اوپر کی آیات میں اہل ایمان کا مصلح ہونا اور کفار کا مفسد ہونا بیان ہوا ہے اس کی مناسبت سے کفر و کفار کا فساد رفع کرنے کے لئے اس آیت میں احکام جہاد کا ذکر ہے) سو جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خونریزی کر چکو (جس کی حد یہ ہے کہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائے اور قتال بند کرنے سے مسلمانوں کی مضرت یا کفار کے غلبہ کا خوف نہ رہے) تو (اس وقت کفار کو قید کر کے) خوب مضبوط باندھ لو پھر اس کے بعد (تم کو دو باتوں کا اختیار ہے) یا تو بلا معاوضہ چھوڑ دینا اور یا معاوضہ لے کر چھوڑ دینا (اور یہ قید اور قتل کا حکم اس وقت تک ہے) جب تک کہ لڑنے والے…
Read the full tafseer →فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب ط حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد و اما فدآء حتی تضع العرب اوزادھا، ذلک ولویشآء اللہ لانتصرمنھم ولکن لیبلوا بعضکم ببعض والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم 4
کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے۔
کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے
یہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ کفار حق کے سہارے سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے اندر ریڑھ کی ہڈی گویا نہیں ہے تو جب جنگ میں ان سے مقابلہ ہو تو بےدریغ ان کی گردنیں مارو، اللہ نے ان کو تمہارے لئے شکار اور تمہاری تلواروں کے لئے ایک لقمہ تر بنا دیا ہے۔ یہی بات سورة انفال میں یوں فرمائی گئی ہے۔ فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل…
Read the full tafseer →4۔ 1 جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا کہ اس تعبیر میں کفار کے ساتھ غلظت وشدت کا زیادہ اظہار ہے۔ (فتح القدیر)
4۔ 2 یعنی زور دار معرکہ آرائی اور زیادہ سے زیادہ ان کو قتل کرنے کے بعد ان کے جو آدمی قابو میں آجائیں انہیں قیدی بنا لو اور مضبوطی سے انہیں جکڑ کر رکھو تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔
4۔ 3 من کا مطلب ہے بغیر فدیہ لیے بطور احسان چھوڑ دینا اور فداء کا مطلب کچھ معاوضہ لے کر چھوڑنا ہے قیدیوں کے بارے میں اختیار دے دیا گیا جو صورت حالات کے اعتبار سے اسلام اور مسلمانوں کے حق میں زیادہ بہتر ہو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2: جنگ بدر میں ستر آدمی گرفتار ہوئے تھے، ان کو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی اکثریت کے مشورے سے فدیہ لے کر چھوڑدیا تھا، ان پر سورة انفال (8۔ 22، 23) میں اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تک کافروں کی طاقت اچھی طرح کچلی نہیں جاتی، اس وقت تک قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا صحیح فیصلہ نہیں تھا، کیونکہ ان حالات میں دشمنوں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کی طاقت کو اور مضبوط کیا جائے، سورة انفال کی ان آیتوں سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ شاید آئندہ بھی جنگی قیدیوں کو چھوڑنا جائز نہ ہو، اس آیت نے یہ وضاحت فرمادی کہ اس وقت قیدیوں کو چھوڑ نے پر اللہ تعالیٰ نے ناراضگی کا جو اظہار…
Read the full tafseer →اس آیت میں کافروں کے ساتھ ملاقات سے مراد جنگ کا آمنا سامنا ہے۔ محض ملاقات نہیں ہے۔ اس سورت کے نزول تک جزیرۃ العرب میں بعض لوگ مسلمانوں کے ساتھ برسر جنگ تھے اور بعض کے ساتھ صلح کا معاہدہ تھا ۔ سورة برات ابھی نازل نہ ہوئی تھی جس کے نیتجے میں مشرکین کے ساتھ معاہدے ختم کر دئیے گئے تھے۔ اس طرح کہ جو معاہدے متعین وقت کے لئے تھے ان کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ وہ اپنے وقت تک رہیں گے اور جن کے اندر کوئی وقت متعین نہ تھا ، ان کے معاہدین کو چار ماہ کا عرصہ دے دیا گیا۔ اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اس کے بعد جزیرۃ العرب میں جہاں بھی کوئی مشرک پایا جائے گا اسے قتل کردیا جائے گا۔ کیونکہ جزیرۃ العرب اسلام کا…
Read the full tafseer →6 یعنی حق اور باطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہیے۔ باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں اور ان کے جتھے توڑ دیئے جائیں۔ اس لیے ہنگامہ کارزار میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف و تردد کو راہ نہ دو ۔ اور دشمنان خدا کی گردنیں مارنے میں کچھ باک نہ کرو۔ کافی خون ریزی کے بعد جب تمہاری دھاک بیٹھ جائے اور ان کا زور ٹوٹ جائے اس وقت قید کرنا بھی کفایت کرتا ہے۔ قال تعالیٰ (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ) 8 ۔ الانفال :67) یہ قید و بند ممکن ہے ان کے لیے…
Read the full tafseer →آیت 4 { فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”تو اے مسلمانو ! جب تمہاری مڈ بھیڑ ہو کافروں سے“
اب جبکہ تمہاری جدوجہد مسلح تصادم کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور تم لوگ تلوار کا جواب تلوار سے دینے کے لیے میدان میں اتر پڑے ہو تو جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے :
{ فَضَرْبَ الرِّقَابِ } ”تو ان کی گردنیں مارنا ہے !“
اب میدان کارزار میں تمہاری پہلی ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ جو دشمن حق تمہارے سامنے آئے وہ بچ کر نہ جائے۔ لہٰذا ان کی گردنیں اُڑائو ‘ انہیں قتل کرو !
{ حَتّٰٓی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ } ”یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح سے ُ کچل دو تب انہیں مضبوطی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5 دو سابقہ تمہیدی آیات کے بعد اب مسلمانوں کو جنگ سے متعلق ہدایات دی جارہی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے نزول سے بیشتر مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت تو مل چکی تھی مگر تاحال کوئی معرکہ پیش نہیں آیا تھا۔ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کے سلسلہ میں جو پہلی آیت نازل ہوئی وہ سورة الحج کی آیت نمبر 39 ہے پھر اس سلسلہ میں سورة البقرۃ کی آیات نمبر 190 تا 193 ہیں۔ اور یہ ہدایات حسب ذیل ہیں۔
1۔ جب معرکہ کارزار پیش آئے تو پورے جوش و خروش اور جرأت ایمانی سے ڈٹ کر کافروں کا مقابلہ کرو اور رسول اللہ نے فرمایا : لوگو ! دشمن سے بھڑنے کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو لیکن اگر بھڑ جاؤ تو پھر ثابت…
Read the full tafseer →4۔ یعنی سب کو قید کرلو، کوئی بھاگ کر نکل نہ جانے پائے۔ (آیت) ” اذا لقیتم الذین کفروا “۔ مراد میدان جنگ و جہاد میں مڈ بھیڑ ہونے سے ہے ..... یہ مراد نہیں کہ حالت امن وصلح میں راستہ گلی میں چلتا ہوا کوئی کافر دکھائی دے۔ (آیت) ” فضرب الرقاب “۔ یعنی انہیں مار ہی ڈالو۔ جو مقصود حکم قتال وفریضہ جہاد کا ہے ..... یہ مراد نہیں کہ ہمیشہ گردن ہی پر وار کرو، کسی اور طریقہ پر قتل نہ کرو، عبارۃ عن القتل لاان الواجب ان تضرب الرقاب خاصۃ دون غیرھا عن الاعضاء (مدارک) (آیت) ” حتی اذا اثخنتموھم “۔ اس اثخان یا کافی خونریزی کا معیار فقہاء نے یہ قرار دیا ہے کہ اب اگر قتل کے بجائے قید ہی پر اکتفاء کی جائے تو جب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا
بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا سو تمہارا جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو ‘ یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کر چکو تو خوب مضبوط باندھ لو ‘ پھر یا تو بلامعاوضہ چھوڑ دینا یا معاوضہ لے کر ‘ جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں۔
فَاِذَا الَقِیْتُمُ ۔ لقیتم ‘ لقاء سے مشتق ہے اور لقاء (کا معنی ہے مقابلہ ‘ اس) سے مراد ہے لڑائی۔
فَضَرْبَ الرِّقَاب اصل ترجمہ تھا : فَاضْرِبُوا الرِّقَابَ ضَرْبًا خوب گردنیں مارو۔ گردن مارنے سے مراد ہے قتل کردینا۔ دوسرے اعضاء کو زخمی کردینے سے کبھی ہلاکت ہوجاتی ہے ‘ کبھی…
Read the full tafseer →اسی طرح اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے سامنے ان سے پچھلے لوگوں کی مثالیں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جھٹلانے پر کس طرح ہلاک کیا اب مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جب بدر کے دن کفار سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مار دو یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خونریزی کرچکو اور ان کو قید کرلو تو قیدیوں کو خوب مضبوط باندھ لو پھر اس کے بعد یا تو قیدی پر احسان کر کے بلا فدیہ لیے اسے چھوڑ دینا یا قیدی سے اس کی جان کا فدیہ لے کر چھوڑ دینا جبکہ کفار اپنے ہتھیار نہ رکھیں یا یہ کہ جب تک کافر خود نہ چھوڑیں۔ کافر کی یہی سزا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فرشتوں کے ذریعہ سے ان کفار سے خود ہی…
Read the full tafseer →(1) فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب :”فاذا“ میں فاء کا تعلق پہلے کلام سے ہے کہ جب کفار باطل کے پیرو کار اور مومن حق کے پیروکار ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ حق کے پیروکار باطل کے پیرو کار کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ زمین میں فساد پھیلاتے پھریں، لہٰذا جب تم (میدان جنگ میں) ان لوگوں سے ملو جنہوں نے کفر کیا تو ان کی گردنیں خوب اڑاؤ۔
(2) فاذا لقیتم“ کا لفظی معنی اگرچہ ”جب تم ملو“ ہے، مگر اس سے مراد یہ ہے کہ جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو۔ یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی کافر سامنے آجائے تو اسے قتل کر دو ، کیونکہ قرآن مجید اور کلام عرب میں ”لقاء عدو“ سے مراد دشمن سے مقابلہ لیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یایھا…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جب دونوں فریقوں کو الگ الگ کرلیا تو کفار کے ساتھ جہاد کا حکمدیا : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کفار سے مراد مشرک ہیں جو بتوں کے پجاری تھے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد ہر وہ فرد ہے جو دین کا مخالف ہے وہ مشرک ہو یا کتابی ہو جبکہ اس کا کوئی عہد و پیمان نہ ہو، یہ ماوردی نے ذکر کیا اور ابن عربی نے اسے پسند کیا ہے اورز کہا : عموم آیت کی وجہ سے یہی صحیح ہے (1) مفعول مطلق ہے۔
زجاج نے کہا : رقاب کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ قتل عموماً اسی کے ذریعے ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ اغراء کی وجہ سے منصوب ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ کلام اس طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب “ (سو تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو) یعنی عرب کے مشرکین کی (آیت ) ” کفروا فضرب الرقاب “ (ان کی گردنیں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ دیں۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق “ (یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو) یعنی ان کو قید نہ کرو اور نہ فدیہ لیکر چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی خون ریزی تلوار کے ساتھ نہ کرلو۔
3:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء…
Read the full tafseer →فَاِذَا لَقِيْتُمُ [ پھر جب کبھی آمنے سامنے ہو تم لوگ ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ ان کے جنھوں نے کفر کیا ] فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ [ تو (مارو ) جیسا گردنیں مارنے کا حق ہے ] حَتّىٰٓ اِذَآ [ یہاں تک کہ جب ] اَثْخَنْتُمُوْهُمْ [ تم لوگ خوب خونریزی کرلو ان کی ] فَشُدُّوا [ تو تم لوگ مضبوط کرو ] الْوَثَاقَ ڎ [ جکڑنے کو ] فَاِمَّا [ پھر یا تو ] مَنًّـۢا بَعْدُ [ (چھوڑو ) احسان کرتے ہوئے اس کے بعد ] وَاِمَّا فِدَاۗءً [ اور یا بدلہ میں کچھ لینے کے لیے ] حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ [ یہاں تک کہ رکھ دے جنگ ] اَوْزَارَهَاڃ [ اپنے بوجھ (ہتھیار ) ] ذٰ۩لِكَ ړ [یہ ہے ] وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ [ اور اگر چاہتا اللہ ]…
Read the full tafseer →جہاد و قتال کی ترغیب، قیدیوں کے احکام، مجاہدین اور مقتولین کی فضیلت
یہ آیات متعدد مضامین پر مشتمل ہیں جہاد اور قتال کے بعض مسائل بتائے ہیں اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کی فضیلت ظاہر فرمائی اور کافروں کی بدحالی اور بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کافروں سے تمہارا مقابلہ ہوجائے اور قتل و قتال کی نوبت ہوجائے تو دشمنان اسلام کے قتل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کرو، ان میں سے جو قتل ہوجائیں ان کے علاوہ جو زندہ ہوں ان کو قید کرلو اور اچھی طرح کس کے ان کو باندھو اس کے بعد ان کو احسان کے طور پر یا اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے بدلہ ان کو چھوڑ دو ۔
اس کی تشریح اور تفسیر یہ ہے کہ جب دو قوموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل…
Read the full tafseer →5:۔ ” فاذا لقیتم۔ الایۃ “ بیان احوال فریقین کے بعد جہاد کا حکم دیا گیا۔ ” فضرب “ یہ اصل میں فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے جسے حذف فعل کے بعد اس کے مفعول بہ کی طرف مضاف کردیا گیا ہے۔ ای فاضربوا الرقاب ضربا (مدارک ج 4 ص 113) ۔ اور ضرب رقاب (گردنیں مارنا) قتل سے کنایہ ہے (بحر) ، اے ایمان والو ! مذکورہ بیان سے جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ مشرکین توحید کے دشمن اور شرک و باطل کے پجاری ہیں اور دوسروں کو بھی اسلام و توحید سے روکتے ہیں تو دنیا میں ان سے وہی معاملہ کرو جس کے وہ مستحق ہیں۔ جب میدان جنگ میں ان سے آمنا سامنا ہوجائے تو انہیں ہرگز معاف نہ کرو، جہاد میں کمزوری نہ دکھاؤ، ہمت نہ ہارو بلکہ مرد بنو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ربط آیات
گزشتہ درس میں تمہید کے طور پر فرمایا کہ فاسق لوگ وہ ہیں جو کفر کا شیوہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں اور خاص طور پر قرآن حکیم کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ان کے رب کی طرف سے بر حق ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا اور ان کے حالات کو درست کر دے گا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ کافر لوگ باطل کی پیروی کرتے ہیں ۔ جب کہ اہل ایمان حق کے متبع ہیں ۔ حق و باطل کی کشمکش ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
قانون جنگ اور اس کی حکمت
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے قانون اور اس کی…
Read the full tafseer →فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ 0 ۤۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا 0 ۚ ۣۛذٰلِكَ 0 ۭ ۛ وَلَوْ يَشَاۗءُ اللہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَہُمْ 4
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
1 ؎ یعنی جنگ موقوف ہوجائے ہتھیار اٹھانے کی حاجت نہ رہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِط حَتّٰی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّا م بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا 5 ج قف ذٰلِکَ ط وَلَوْیَشَآئُ اللّٰہُ لاَ نْتَصَرَ مِنْھُمْ وَلٰـکِنْ لِّیَبْلُوَا ْ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ ط وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 4)
(پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو ان کو مضبوط باندھ لو، پھر یا تو احسان کرکے چھوڑنا ہے یا فدیہ لینا ہے، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : کفار باطل کی پیروی کرتے ہیں اس لیے مومنوں کا فرض ہے کہ جب ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو وہ میدان جنگ جیتنے کی کوشش کریں۔
اس سورت کے نزول سے پہلے سورة حج میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں قتال کرنے کی اجازت مل چکی تھی اس لیے اس سورت میں مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! جب کفار کے ساتھ تمہاری مڈھ بھیڑ ہو تو پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ ان کی گردنیں کاٹو یہاں تک کہ جب ان کے سرغنوں کو قتل کرچکو اور لڑائی ختم ہوجائے تو ان کے قیدیوں کو مضبوطی کے ساتھ باندھ لو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرتے ہوئے چھوڑ دو یا ان سے فدیہ وصول کرو۔ اللہ…
Read the full tafseer →قتال میں کفار کو خوب قتل کرو :
آیت 4 : فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پس جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو) اللقاء لڑائی کو کہتے ہیں۔ فَضَرْبَ الرِّقَابِ (تو ان کی گردنیں مارو) اصل اس طرح ہے۔ فاضربوا الرقاب ضربًا۔ پس تم گردنوں کو مارو مارنا۔ فعل کو حذف کردیا اور مصدر کو شروع میں لائے۔ پس وہ اس کے قائم مقام ہوگیا۔ اور اس کی اضافت مفعول کی طرف ہے۔ تاکید کے ساتھ ساتھ اس میں اختیار بھی ملحوظ ہے۔ اس لئے کہ تم مصدر کا تذکرہ کرتے ہو اور وہ اس نصب والی حالت کے ساتھ ساتھ فعل پر دلالت کرتا ہے۔ ضرب الرقاب۔ یہ قتل کی تعبیر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ قتل ہی کیا جائے دوسرے اعضاء نہ کاٹے جائیں۔ اور تعبیر کی…
Read the full tafseer →3 ۔” ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الباطل “ شیطان کی۔ ” وان الذین امنوا اتبعوا الحق من ربھم “ یعنی قرآن ” کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم “ ان کی شکلوں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ مومنین کی نیکیوں کی مثالیں اور کافروں کے اعمال کے گمراہ کرنے کو بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 6۔ اس آیت میں قیدیوں کے بغیر بدلہ لینے کے اور بدلہ میں کچھ چیز لے کر چھوڑ دینے کا حکم ہے اور سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی ناخوشی ظاہر فرمائی تھی اس سے صاف معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی تک قیدیوں کو فدیہ لے کرچھوڑنے کا حکم نہ تھا بدر کی لڑائی کے بعد یہ حکم نازل ہوا ہے اور یہ سورة مدنی ہے۔ اسی واسطے امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے سعید بن جبیر اور بعض اور مفسرین نے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے اس باب میں اختلاف کرکے یہ جو کہا ہے کہ یہ سورة مکی ہے یہ قول صحیح نہیں ہے بعض مفسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے، ارشاد فرماتا ہے : (فاذ القیتم الذین کفروا) جب جنگ اور قتال میں تمہارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مار و یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے (فشدوالوثاق) تو انہیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لئے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہوجائیں گے۔
جب تہ تمہاری قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 10] جنگ میں کفار کی گردنیں مارنے کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب میدان جنگ میں کفار سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو تم ان کی گردنیں مارو۔ " اصل میں یہ ترکیب اس طرح ہے " فاضربوا الرقاب ضربا "۔ پھر فعل امر کو حذف کرکے مصدر کو اس کے قائم مقام قرار دیا گیا۔ اور پھر اسے مفعول بہ کی طرف مضاف کردیا گیا۔ اس طرح اس عبارت میں اختصار کے ساتھ ایک خاص زور پیدا ہوگیا۔ اور ایسی قوت آگئی جو اس کے بغیر نہیں آسکتی تھی۔ اور گردنیں مارنے سے مراد مطلق قتل ہے جس طرح بھی ہو۔ اس کی تشنیع و تغلیظ اور قوت و شدت کے اظہار وبیان کے لئے یہ تعبیر اختیار فرمائی گئی ہے۔ [ روح، خازن، مدراک، جامع وغیرہ ] ۔ سو اس ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1 مسلمان اور کافر کے مابین امتیازظاہر کرنے کے بعد اب کفار سے جہاد کا حکم فرمایا یہاں کافروں سے مراد مشرکین اور اہل کتاب ہیں بشرطیکہ وہ ذمی نہ ہوں اور نہ ان سے معاہدہ ہو (قربطی)
2 قید کرنے کا یہ حکم اس وقت ہے جب کافروں کا زور ٹوٹ چکا ہو اور اگر ان کا زور نہ ٹوٹا ہو تو قید کرنے کی اجازت نہیں جیسا کہ ( سورة انفال 68, 67) میں گزر چکا ہے کہ جنگ بدر میں جب مسلمانوں نے کافروں کو قتل کرنے کی بجائے ان سے فدیہ لینے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ ان کا زور نہ ٹوٹا تھا تو اس پر عتاب نازل ہوا۔
3 بعض کے نزدیک یہ حکم آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم “ اور دیگر آیات قتال سے منسوخ ہوچکا ہے اور نابالغ بچے اور…
Read the full tafseer →(47:4) لقیتم ۔ ماضی جمع مذکر حاضر، لقاء لقی (باب سمع) مصدر۔ تم ملے۔ تم مقابل ہوئے۔ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے قرآن مجید میں ہے ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ ۔ (3:143) اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے۔ یا آیت لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا۔ (18:62) ہمارے اس سفر سے ہم کو (سخت ) تکان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے۔
فاذا لقیتم : پس جب ملو۔ جب تم آمنے سامنے آئو۔ جب تمہارا مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تشریح آیت نمبر 1 تا 6
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
کافروں سے مقابلہ۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو جب تم ان سے ملو جو کافر ہیں اور لڑائی کاہنگامہ گرم ہو تو مقابلہ کے وقت مخالفوں سے خوب لڑو، کیونکہ حق اور باطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے ومسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہیے باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں ، اور ان کے جتھے توڑ دیے جائیں اس لیے ہنگامہ کا راز میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف وتردد کو راہ نہ دو اور دشمنان حدا کی گردنیں مارنے میں کوتاہی نہ کرو، خدا کی راہ میں لڑو یہاں تک کہ غالب ہوجاؤ، اور جب لڑائی کے بعد کچھ دشمن قید میں آجائیں تو ان کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[1] مراد میدان جنگ میں مڈبھیڑ ہونے سے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ حالت امن و صلح میں راستے میں کوئی کافر چلتا ہوا دکھائی دے۔
[2] یعنی قید کرلو۔
[3] لفظی ترجمہ تو یہ تھا کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ عربی کا محاورہ ہے اردو میں اس طرح نہیں بولتے اس لئے ترجمہ الفاظ سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دشمن میں لڑائی کی طاقت نہ رہے اور لڑائی موقوف ہوجائے۔[4] یعنی اللہ چاہتا تو ان کافروں کو کوئی آسمانی عذاب بھیج کر عادوثمود کی طرح ہلاک کر ڈالتا، لیکن جہاد و قتال کے ذریعے اسے بندوں کا امتحان کرنا تھا کہ کتنے مسلمان اللہ کے نام پر جان و مال نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور کفار میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
جہاد کی حقیقت
1: یہ آیات مقام جہاد میں نازل ہوئی ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لئے پہلے چند باتوں کو ذہن نشین کرلینا چاہیے ۔ اور وہ یہ ہیں کہ :۔ (1) اسلام کی غرض دنیا میں تسکین و طمانیت کی فضا کو پیدا کرنا ہے ۔ اور نوع انسانی کو ایسے تکلفات پر مرکوز کرنا ہے ۔ جہاں رنگ وبو کے تمام اختلاف مٹ جاتے ہیں ۔ (2) ہر عقیدہ خیر کو اور ہر نظام برکات التیام کو پھیلانا ، نہ صرف جائز بلکہ انسانیت کے لئے ضروری ہے ۔ (3) تشدد کی تعریف یہ نہیں ہے کہ زندگی کے عمدہ پروگرام کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے قوت اور طاقت کا استعمال کیا جائے ۔ بلکہ یہ ہے ۔ کہ بری باتوں کو پھیلانے کے لئے حرب اور جنگ کے معرکے قائم کئے جائیں ۔ (4)…
Read the full tafseer →(4) پھر جب منکروں سے تمہارامقابلہ ہوجائے اور تم صف بستہ ہوکر اہل باطل سے بھڑ جائو تو ان کی گردنوں کو مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خوں ریزی کرچکو تو پھر ان کو قید کرو اور خوب مضبوط باندھو پھر اس قیدوبند کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کردینا ہے جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں اور ہتھیار نہ ڈال دیں یہ سن چکے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کافروں سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے تم کو قتال کا حکم دیا تاکہ وہ تم میں سے بعض کا بعض کے ذریعے امتحان کرے اور امتحان لے اور تم کو آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ تعالیٰ ہرگز ان کے اعمال کو ضائع نہیں…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی قتل کرو۔
5۔ مراد اس سے اسلام اور استسلام میں سے کسی امر کا قبول کرنا ہے، پس اگر قتل اور قید سے پہلے اسلام لے آویں یا ذمی ہونا قبول کرلیں، تو اب نہ قتل جائز ہے اور نہ قید جائز ہے۔
6۔ مسلمانوں کا امتحان یہ ہے کہ کون حکم الہی کو جان پر ترجیح دیتا ہے اور کفار کا امتحان یہ کہ اس عقوبت سے متنبہ ہو کر کون حق کو قبول کرتا ہے، پس اس حکمت کے لئے بھی جہاد مشروع کیا گیا۔
Read the full tafseer →مسلمانو ! جب تمہارا میدان جنگ میں آمنا سامناہو جائے تو کافروں کو خوب قتل کرو :
4 ؎ اگر باطل کو اس دنیا میں رہنے کا حق ہے تو لاریب حق کو اس سے زیادہ حق ہے کہ وہ زندہ رہے اور اپنا حق ہونا لوگوں پر ظاہر کرے لیکن باطل اگر بزور حق کو مٹانے پر تل جائے حالانکہ باطل تو بذاتہ مٹ جانے کی چیز ہے اور ایسے حالات فریقین کو میدان جنگ تک پہنچا دیں تو مسلمانوں کو یعنی حق پرستوں کو بھی حق ہے کہ وہ باطل پرستوں کے پرخچے اڑا دیں اور خوب ان کی گردنیں ماریں امور کسی طرح سے ان کا کوئی لحاظ نہ کریں۔ نہ قرابت کا اور نہ جان پہچان کا اور نہ ہی بڑے چھوٹے کا ۔ ایسے حالات کو بخوشی قبول نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کے مواقع…
Read the full tafseer →Commentary
This verse lays down two points of law: first, it lays down that when war breaks the might and power of the enemy, and does away with their pomp and glory, they should be arrested rather than being killed. The Muslims are then given two options regarding the prisoners of war - either confer favour on them and release them without ransom or compensation; or release them against payment of ransom. There are several ways in which ransom may be taken, for instance by exchanging Muslim prisoners of war for non-Muslim prisoners of war. It is also possible to set them free after accepting…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 The words of this verse as well as the context in which it occurs clearly show that it was sent down after the revelation of the command for fighting and before the actual fighting began. The words, "When you meet the disbelievers in the battlefield ...", indicate that the fighting has not yet taken place ana the Muslims are being instructed that when it dces take place, what they should do.
The words of verse 20 below testify that this Surah was sent down at a time when the command for fighting had already been given in Surah AI-Hajj: 39 and AI-Baqarah: 190, and the hypocrites of Madinah…
Read the full tafseer →