Explained with ayahs 4–9
جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہوجائے
یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہوجائے دستی لڑائی شروع ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قیدوبند کے ساتھ مقید کرلو جب لڑائی ختم ہوچکے معرکہ پورا ہوجائے تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لئے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة مُحَمَّد 8
اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق وسباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آجانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ " جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو " کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈبھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اس کے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔
آگے آیت 20 کے الفاظ اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب سورة حج کی آیت 39 اور سورة بقرہ کی آیت 190 میں لڑائی کا حکم آ چکا تھا اور اس پر خوف کے مارے مدینے کے منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کا حال یہ ہو رہا تھا کہ جیسے…
Read the full tafseer →(آیت) سَيَهْدِيْهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ، اس میں شہید فی سبیل اللہ کے لئے دو نعمتوں کا ذکر ہے ایک یہ کہ اللہ ان کو ہدایت کر دے گا۔ دوسرے ان کے سب حالات درست کر دے گا۔ حالات سے مراد دنیا و آخرت دونوں جہان کے حالات ہیں۔ دنیا میں تو یہ کہ جو شخص جہاد میں شریک ہوا اگرچہ وہ شہید نہ ہوا سلامت رہا وہ بھی شہید کے ثواب کا مستحق ہوگیا، اور آخرت میں یہ کہ وہ قبر کے عذاب سے محشر کی پریشانی سے نجات پائے گا اور اگر کچھ لوگوں کے حقوق اس کے ذمہ رہ گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ اصحاب حقوق کو اس سے راضی کر کے اس کی خلاصی کرا دیں گے (کما ورد حدیث ابی نعیم و البزار والبیہقی، مظہری) اور موت کے بعد ہدایت کردینے سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سیدھیھم ویصلح بالھم ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم 6-5
اوپر والی آیت میں جو بات فلن یضل اعمالھم کے منفی اسولب میں فرمائی گئی ہے وہی بات یہ مثبت اسلوب میں ارشاد ہوی تاکہ بات پوری طرح واضح اور موکد ہوجائے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ یاب کرے گا اور ان کے جملہ حالات سنوار دے گا۔ ہدایت یاب کرنے سے مقصود یہاں منزل مقصود کی ہدایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزل جنت … سے ان کو ہمکنار کرے گا۔
لفظ ہدایت، قرآن میں جگہ جگہ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آئیں گی۔ یصلح بالھم کے اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی و فیروز مندی سے متعلق قرآن…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی انہیں ایسے کاموں کی توفیق دے گا جن سے ان کے لئے جنت کا راستہ آسان ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2: جنگ بدر میں ستر آدمی گرفتار ہوئے تھے، ان کو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی اکثریت کے مشورے سے فدیہ لے کر چھوڑدیا تھا، ان پر سورة انفال (8۔ 22، 23) میں اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تک کافروں کی طاقت اچھی طرح کچلی نہیں جاتی، اس وقت تک قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا صحیح فیصلہ نہیں تھا، کیونکہ ان حالات میں دشمنوں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کی طاقت کو اور مضبوط کیا جائے، سورة انفال کی ان آیتوں سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ شاید آئندہ بھی جنگی قیدیوں کو چھوڑنا جائز نہ ہو، اس آیت نے یہ وضاحت فرمادی کہ اس وقت قیدیوں کو چھوڑ نے پر اللہ تعالیٰ نے ناراضگی کا جو اظہار…
Read the full tafseer →سیھدیھم ویصلح بالھم (48 : 5) ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (48 : 6) “ وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا ان کا حال درست کرے گا اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے ”۔ ان کے اعمال ضائع نہ کرے گا ۔ یہ اس بات کے بالمقابل ہے جو کفار کے معاملے میں کہی گئی کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے۔ اس لیے کہ مومنین کے اعمال مضبوط اور اصل درخت سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ درخت ہے سچائی کا درخت۔ یہ اعمال اس حق اور سچائی سے صادر ہوتے ہیں۔ یہ اعمال حق کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ حق کی سمت میں ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ باقی ہوتے ہیں اور دوام کی صفت رکھتے ہیں کیونکہ حق لازوال ہے۔
شہداء کی حقیقت قابل غور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →1 یعنی جو لوگ اللہ کے راستہ میں شہید ہوئے خواہ بظاہر یہاں کامیاب نظر نہ آتے ہوں۔ لیکن حقیقتہً وہ کامیاب ہیں۔ اللہ ان کے کام ضائع نہ کرے گا۔ بلکہ انجام کار ان کی محنت ٹھکانے لگائے گا۔ ان کو جنت کی طرف راہ دے گا۔ اور آخرت کے تمام منازل و مواقف میں ان کا حال درست رکھے گا۔
Read the full tafseer →آیت 5 { سَیَہْدِیْہِمْ وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ } ”وہ ان کی راہنمائی کرے گا اور ان کے احوال کو سنوار دے گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5 دو سابقہ تمہیدی آیات کے بعد اب مسلمانوں کو جنگ سے متعلق ہدایات دی جارہی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے نزول سے بیشتر مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت تو مل چکی تھی مگر تاحال کوئی معرکہ پیش نہیں آیا تھا۔ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کے سلسلہ میں جو پہلی آیت نازل ہوئی وہ سورة الحج کی آیت نمبر 39 ہے پھر اس سلسلہ میں سورة البقرۃ کی آیات نمبر 190 تا 193 ہیں۔ اور یہ ہدایات حسب ذیل ہیں۔
1۔ جب معرکہ کارزار پیش آئے تو پورے جوش و خروش اور جرأت ایمانی سے ڈٹ کر کافروں کا مقابلہ کرو اور رسول اللہ نے فرمایا : لوگو ! دشمن سے بھڑنے کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو لیکن اگر بھڑ جاؤ تو پھر ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
8۔ (جس سے ہر شہید بےتکلف اپنی دائمی آرام گاہ تک پہنچ جائے گا) (آیت) ” سیھدیھم “۔ یعنی ان کے منزل مقصود کے پہنچنے تک ہر قدم پر ان کی رہنمائی اور دستگیری ہوتی رہے گی۔ (آیت) ” یصلح بالھم “۔ قبر میں، حشر میں، پل صراط پر، ہر جگہ ان کی نصرتوی اوری جاری رہے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →سیھدیھم ویصلح بالھم ان کو منزل مقصود تک پہنچائے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا۔
ذٰلِکَ مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی ان کے متعلق حکم یہی ہے۔ یا فعل محذوف ہے ‘ یعنی مشرکوں کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
وَلَوْ یَشَآءُ لاَ نْتَصَرَمِنْھُمْ یعنی اگر اللہ چاہتا تو کافروں سے انتقام لے لیتا ‘ تمہارے جہاد کے بغیر ان کو ہلاک کردیتا۔
وَلٰکِنْ لیکن اس نے تم کو جنگ اور قتال کرنے کا حکم دیا۔
لِّیَبْلُوَا۔ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍتاکہ کافروں سے جنگ کرا کے مؤمنوں کی جانچ کرلے اور جہاد کر کے وہ ثواب کے مستحق ہوجائیں اور مؤمنوں سے جنگ کرا کے کافروں کی جانچ کرلے اور مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دے دے تاکہ کچھ لوگ کفر سے باز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) اور ان کو نیک اعمال کی توفیق دے گا اور ان کی حالت و نیت کو درست رکھے گا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں نجات دے گا اور قیامت کے دن ان کے اعمال کو قبول فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو پہچان کرا دے گا کہ وہ جنت میں اس طرح چلے جائیں گے جیسا کہ دنیا میں اپنے مکانات میں چلے جایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →سیھدیھم ویصلح بالھم : یعنی اللہ تعالیٰ ان کی محنت ٹھکانے لگائے گا، انہیں جنت کے راستے پر لے جائے گا اور آخرت میں پیش آنے والے تمام مراحل میں ان کی حالت کو درست رکھے گا۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یعفر للشھید کل ذنب الا الذین) (مسلم، الامار 1 ۃ باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطاباء الا الدین :1886)”قرض کے سوا شہید کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“ شہادت اور شہداء کے مزید بہت سے فضائل کی تفصیل کے لئے تب احادیث میں سے جہاد کے ابواب ملاحظہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →قشیری نے کہا : ابو عمرو کی قرأت قتلوا بڑی بعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مقتول کی یہ صفت نہیں ذکر کی جاتی۔ دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے عنقریب وہ انہیں جنت کی طرف لے جائے گا ان میں جو باقی ہیں انہیں ہدایت عطا فرما دے گا۔ ابن زیاد نے کہا : وہ قبر میں منکر و نکیر کے ساتھ دلیل قائم کرنے میں ان کی رہنمائی کرے گا (2) ابو المعالی نے کہا : بعض اوقات ہدایت کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد مومنوں کو جنت کے راستوں کی طرف مجاہدین کی صفت میں ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (فالصافات 23) اس کا معنی ہے انہیں اس کی طرف تم لے جائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب “ (سو تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو) یعنی عرب کے مشرکین کی (آیت ) ” کفروا فضرب الرقاب “ (ان کی گردنیں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ دیں۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق “ (یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو) یعنی ان کو قید نہ کرو اور نہ فدیہ لیکر چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی خون ریزی تلوار کے ساتھ نہ کرلو۔
3:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء…
Read the full tafseer →سَيَهْدِيْهِمْ [ وہ رہنمائی کرے گا ان کی ] وَيُصْلِحُ [ اور وہ اصلاح کرے گا ] بَالَهُمْ [ ان کی حالت کو ]
Read the full tafseer →﴿سَيَهْدِيْهِمْ وَ يُصْلِحُ بَالَهُمْۚ005 ﴾ (اللہ انہیں منزل مقصود تک پہنچا دے گا اور ان کا حال درست فرمائے گا) قبر، حشر اور تمام مواقع میں ان کا حال درست فرما دے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6:۔ ” سیہدیہم “ شہداء کے لیے بشارت اخرویہ۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو وہ جنت کی راہ دکھائیگا بقرینہ ویدخلہم الجنۃ الخ، کیونکہ شہید ہوجانے کے بعد ہدایت کا معروف معنی تو مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ منکر و نکیر کے سوال کے وقت درست جواب تلقین فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں ہر ایک کو اپنا اپنا مقام معلوم ہوگا۔ ہر آدمی کسی سے پوچھے بغیر ہی اپنی منزل میں چلا جائے گا گویا وہ اپنے اس گھر کو پہلے ہی سے جانتا ہے (سیہدیہم) الی طریق الجنۃ او الی الصواب فی جواب منکر و نکیر (ویصلح بالہم) یرضی خصماءھم ویقبل اعمالہم (مدارک ج 4 ص 114) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ربط آیات
گزشتہ درس میں تمہید کے طور پر فرمایا کہ فاسق لوگ وہ ہیں جو کفر کا شیوہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں اور خاص طور پر قرآن حکیم کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ان کے رب کی طرف سے بر حق ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا اور ان کے حالات کو درست کر دے گا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ کافر لوگ باطل کی پیروی کرتے ہیں ۔ جب کہ اہل ایمان حق کے متبع ہیں ۔ حق و باطل کی کشمکش ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
قانون جنگ اور اس کی حکمت
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے قانون اور اس کی…
Read the full tafseer →سَيَہْدِيْہِمْ وَيُصْلِحُ بَالَہُمْ 5 ۚ
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی،
وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
1 ؎ یعنی جنگ موقوف ہوجائے ہتھیار اٹھانے کی حاجت نہ رہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سَیَھْدِیْہِمْ وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ ۔ وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَھَا لَھُمْ ۔ (محمد : 5، 6)
(وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال سنوار دے گا۔ اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو شناخت کرا دی ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی راہ میں کام آنے والوں پر انعامات
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جائیں گے، گزشتہ آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی شہادت سے پہلے ان کا ایک ایک عمل اور خود شہادت کا عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بہت زیادہ اجر وثواب کا حامل ہے۔ دنیا میں بھی اس سے برگ و بار پھوٹیں گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ یعنی ان کی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : کفار باطل کی پیروی کرتے ہیں اس لیے مومنوں کا فرض ہے کہ جب ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو وہ میدان جنگ جیتنے کی کوشش کریں۔
اس سورت کے نزول سے پہلے سورة حج میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں قتال کرنے کی اجازت مل چکی تھی اس لیے اس سورت میں مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! جب کفار کے ساتھ تمہاری مڈھ بھیڑ ہو تو پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ ان کی گردنیں کاٹو یہاں تک کہ جب ان کے سرغنوں کو قتل کرچکو اور لڑائی ختم ہوجائے تو ان کے قیدیوں کو مضبوطی کے ساتھ باندھ لو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرتے ہوئے چھوڑ دو یا ان سے فدیہ وصول کرو۔ اللہ…
Read the full tafseer →آیت 5 : سَیَہْدِیْہِمْ (اللہ تعالیٰ ان کو مقصود تک پہنچائے گا) جنت کے راستہ کی طرف یا منکر نکیر کے درست جواب میں وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ (اور ان کی حالت درست رکھے گا) ان کے خصماء کو راضی کر دے گا اور ان کے اعمال کو قبول کرے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر :
4 ۔” فاذا لقیتم الذینکفروا فضرب الرقاب “ یہ نصب ابھارنے کے لئے ہے یعنی ” فاضربوا رقابھم “ یعنی ان کی گردنیں۔ ” حتی اذا ثخنتموھم، قتل کے ذریعے اور تم ان کو مغلوب کردو۔ ” فشدوالوثاق “ یعنی قید میں حتیٰ کہ وہ اس سے چھوٹ نہ سکیں اور قید قتل میں مبالغہ کے بعد ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا ” ما کان لنبی ان یکون لہ اسریٰ حتی یثخن فی الارض “…” فاما منا بعدوا مافدائ “ یعنی ان کو قید کرنے کے بعد یا تو تم ان پر احسان کرو، ان کو بغیر فدیہ کے چھوڑ کر اور یا تم ان سے فدیہ لو۔ علماء رحمہم اللہ کا اس آیت کے حکم میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ منسوخ ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فاما تثقفنھم فی الحرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 6۔ اس آیت میں قیدیوں کے بغیر بدلہ لینے کے اور بدلہ میں کچھ چیز لے کر چھوڑ دینے کا حکم ہے اور سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی ناخوشی ظاہر فرمائی تھی اس سے صاف معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی تک قیدیوں کو فدیہ لے کرچھوڑنے کا حکم نہ تھا بدر کی لڑائی کے بعد یہ حکم نازل ہوا ہے اور یہ سورة مدنی ہے۔ اسی واسطے امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے سعید بن جبیر اور بعض اور مفسرین نے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے اس باب میں اختلاف کرکے یہ جو کہا ہے کہ یہ سورة مکی ہے یہ قول صحیح نہیں ہے بعض مفسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے، ارشاد فرماتا ہے : (فاذ القیتم الذین کفروا) جب جنگ اور قتال میں تمہارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مار و یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے (فشدوالوثاق) تو انہیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لئے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہوجائیں گے۔
جب تہ تمہاری قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 18] شہید کیلئے اصلاح حال کی خوش خبری کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کو اللہ جلد پہنچا دے گا انکے مقصد تک اور اللہ درست فرمادے گا ان کے حال کو۔ " چناچہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ شہید کو چھ انعامات سے اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی نواز دیا جاتا ہے۔ اس کی ہر خطا معاف فرما دی جاتی ہے۔ وہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے۔ حورِعین سے اس کی شادی کردی جاتی ہے۔ فزع اکبر۔ بڑی گھبراہٹ۔ اور عذاب قبر سے اس کو امن دے دیا جاتا ہے۔ اور اس کا حلہئِ ایمان۔ ایمانی پوشاک۔ پہنا دی جاتی ہے۔ [ رواہ احمد، ابن کثیر ] سو شہداء کے اعمال کو ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو راہ راست سے بھی سرفراز کیا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1 مسلمان اور کافر کے مابین امتیازظاہر کرنے کے بعد اب کفار سے جہاد کا حکم فرمایا یہاں کافروں سے مراد مشرکین اور اہل کتاب ہیں بشرطیکہ وہ ذمی نہ ہوں اور نہ ان سے معاہدہ ہو (قربطی)
2 قید کرنے کا یہ حکم اس وقت ہے جب کافروں کا زور ٹوٹ چکا ہو اور اگر ان کا زور نہ ٹوٹا ہو تو قید کرنے کی اجازت نہیں جیسا کہ ( سورة انفال 68, 67) میں گزر چکا ہے کہ جنگ بدر میں جب مسلمانوں نے کافروں کو قتل کرنے کی بجائے ان سے فدیہ لینے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ ان کا زور نہ ٹوٹا تھا تو اس پر عتاب نازل ہوا۔
3 بعض کے نزدیک یہ حکم آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم “ اور دیگر آیات قتال سے منسوخ ہوچکا ہے اور نابالغ بچے اور…
Read the full tafseer →(47:5) سیھدیہم س مضارع پر د اکل ہو کر اسے مستقبل قریب کے لئے خاص کردیتا ہے یھدی کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب الذین قتلوا فی سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستہ پر چلائے گا۔
ویصلح بالہم۔ وائو عاطفہ یصلح مضارع واحد مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر۔ ان کی حالت درست کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تشریح آیت نمبر 1 تا 6
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
کافروں سے مقابلہ۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو جب تم ان سے ملو جو کافر ہیں اور لڑائی کاہنگامہ گرم ہو تو مقابلہ کے وقت مخالفوں سے خوب لڑو، کیونکہ حق اور باطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے ومسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہیے باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں ، اور ان کے جتھے توڑ دیے جائیں اس لیے ہنگامہ کا راز میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف وتردد کو راہ نہ دو اور دشمنان حدا کی گردنیں مارنے میں کوتاہی نہ کرو، خدا کی راہ میں لڑو یہاں تک کہ غالب ہوجاؤ، اور جب لڑائی کے بعد کچھ دشمن قید میں آجائیں تو ان کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[1] مراد میدان جنگ میں مڈبھیڑ ہونے سے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ حالت امن و صلح میں راستے میں کوئی کافر چلتا ہوا دکھائی دے۔
[2] یعنی قید کرلو۔
[3] لفظی ترجمہ تو یہ تھا کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ عربی کا محاورہ ہے اردو میں اس طرح نہیں بولتے اس لئے ترجمہ الفاظ سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دشمن میں لڑائی کی طاقت نہ رہے اور لڑائی موقوف ہوجائے۔[4] یعنی اللہ چاہتا تو ان کافروں کو کوئی آسمانی عذاب بھیج کر عادوثمود کی طرح ہلاک کر ڈالتا، لیکن جہاد و قتال کے ذریعے اسے بندوں کا امتحان کرنا تھا کہ کتنے مسلمان اللہ کے نام پر جان و مال نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور کفار میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2: اللہ کی مدد کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے مشن کی تکمیل کے لئے اپنا لہو تک بہادیا جائے
Read the full tafseer →(5) اللہ ان شہید ہونے والوں کو ان کے مقصد تک پہنچا دے گا اور ان کے حال کو سنوار دے گا اور درست کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 7۔ یعنی قبر میں اور حشر میں اور صراط پر اور تمام مواقع آخرت میں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے گا اور ان کے کاموں کو سنوار دے گا :
5 ؎ یہی لوگ ہیں جنکو دنیوی زندگی کا اصل مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور انکے راہ کی ساری رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ ان کا نام سر بلندہوتا ہی اور آخرت میں یہ لوگ بغیرروک ٹوک سیدھے جنت میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیت ہیں اور اس طرح صرف وہی نہیں بلکہ ان کی پوری قوم کی زندگی سنور جاتی ہے اور ان کی قوم دنیا کی قوموں میں سربلندہوتی ہے۔ اسی راز کو اللہ تعالیٰ نے سورة البقرہ کی آیت 451 ‘ سورة آل عمران کی آیت 961 میں واضح کردیا ہے اور ہم نے ان دونوں جگہ پر اس کی وضاحت کردی ہے اگر مطالعہ مطلوب ہو تو…
Read the full tafseer →سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ (He will guide them, and will set aright their state of affairs - 47:5). This sentence refers to two of Allah's bounties: First, He will steer them by His guidance; and secondly, He will improve their conditions. The word "state of affairs" includes the conditions of both the worlds - those of this world and those of the Hereafter. Even if a Muslim did not acquire the glorious privilege of a martyr in this world, he too will receive the reward of a martyr; and in the Hereafter he will be spared the torment of the grave and the anxiety of resurrection. If he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 The words of this verse as well as the context in which it occurs clearly show that it was sent down after the revelation of the command for fighting and before the actual fighting began. The words, "When you meet the disbelievers in the battlefield ...", indicate that the fighting has not yet taken place ana the Muslims are being instructed that when it dces take place, what they should do.
The words of verse 20 below testify that this Surah was sent down at a time when the command for fighting had already been given in Surah AI-Hajj: 39 and AI-Baqarah: 190, and the hypocrites of Madinah…
Read the full tafseer →