Explained with ayahs 4–9
جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہوجائے
یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہوجائے دستی لڑائی شروع ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قیدوبند کے ساتھ مقید کرلو جب لڑائی ختم ہوچکے معرکہ پورا ہوجائے تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لئے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 11
یہ ہے وہ نفع جو راہ خدا میں جان دینے والوں کو حاصل ہوگا۔ اس کے تین مراتب بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ دوسرے یہ کہ ان کا حال درست کر دے گا۔ تیسرے یہ کہ ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ پہلے ہی ان کو واقف کرا چکا ہے۔ رہنمائی کرنے سے مراد ظاہر ہے کہ اس مقام پر جنت کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ حالت درست کرنے سے مراد یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کو خلعتوں سے آراستہ کر کے وہاں لے جائے گا اور ہر اس آلائش کو دور کر دے گا جو دنیا کی زندگی میں ان کو لگ گئی تھی۔ اور تیسرے مرتبے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں پہلے ہی ان کو قرآن اور نبی ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) وَيُدْخِلُهُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ، یہ ایک تیسرا انعام ہے کہ ان کو صرف یہی نہیں کہ جنت میں پہنچا دیا جائے گا بلکہ ان کے دلوں میں خود بخود جنت کے اپنے اپنے مقام اور اس میں ملنے والی نعمتوں حور و قصور سے ایسی واقفیت پیدا کردی جائے گی جیسے وہ ہمیشہ سے انہی میں رہتے اور ان سے مانوس تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو جنت ایک نیا عالم تھا اس میں اپنا مقام تلاش کرنے میں وہاں کی چیزوں سے مناسبت اور تعلق قائم ہونے میں وقت لگتا، اور ایک مدت تک اجنبیت کے احساس سے قلب مطمئن نہ ہوتا۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے دین حق دے کر بھیجا ہے کہ تم دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سیدھیھم ویصلح بالھم ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم 6-5
اوپر والی آیت میں جو بات فلن یضل اعمالھم کے منفی اسولب میں فرمائی گئی ہے وہی بات یہ مثبت اسلوب میں ارشاد ہوی تاکہ بات پوری طرح واضح اور موکد ہوجائے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ یاب کرے گا اور ان کے جملہ حالات سنوار دے گا۔ ہدایت یاب کرنے سے مقصود یہاں منزل مقصود کی ہدایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزل جنت … سے ان کو ہمکنار کرے گا۔
لفظ ہدایت، قرآن میں جگہ جگہ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آئیں گی۔ یصلح بالھم کے اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی و فیروز مندی سے متعلق قرآن…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی جسے وہ بغیر راہنمائی کے پہچان لیں گے اور جب وہ جنت میں داخل ہونگے تو از خود ہی اپنے اپنے گھروں میں جا داخل ہونگے۔ اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک جنتی کو اپنے جنت والے گھر کے راستوں کا اس سے زیادہ علم ہوگا جتنا دنیا میں اسے اپنے گھر کا تھا (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Read the full tafseer →ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (48 : 6) “ وہ ان کو اس جنت میں داخل کر دے گا جس سے وہ ان کو واقف کرچکا ہے ”۔ احادیث میں شہداء کے بارے میں آتا ہے کہ ان کو جنت میں ان کی جائے قیام دکھائی جاتی ہے۔ امام احمد نے روایت فرمائی ہے ، زید ابن نمرد مشفی سے انہوں نے ابو ثوبان سے ، انہوں نے اپنے والد ثوبان سے انہوں نے مکحو سے انہوں نے کثیر ابن مرہ سے انہوں نے قیس جذامی اور انہوں نے ایک ایسے شخص سے جسے نبی ﷺ سے محبت حاصل تھی وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : شہید کا خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے چھ درجات حاصل ہوجاتے ہیں ، اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، وہ دیکھ لیتا ہے کہ جنت میں اس کی جائے قیام کیا ہے ، خوبصورت…
Read the full tafseer →2 یعنی جس جنت کا حال ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی زبان اور اپنے وجدان صحیح سے معلوم ہوچکا تھا اس میں داخل کیے جائیں گے اور وہاں پہنچ کر ہر جنتی اپنے ٹھکانے کو خود بخود پہچان لے گا اس کے دل کی کشش ادھر ہی ہوگی جہاں اس کو رہنا ہے (تنبیہ) ابن عباس ؓ نے " عَرَّفَہَالَہُمْ " کے معنی " طَیَّبَہَالَہُمْ " کے لیے ہیں۔ یعنی جنت ان کے لیے خوشبوؤں سے مہکا دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6 { وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمْ } ”اور داخل کرے گا انہیں جنت میں جس کی ان کو پہچان کرا دی ہے۔“
یعنی جنت اور اس کی نعمتوں کا قرآن میں تفصیلی تعارف کرا دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →7 یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوجاتے ہیں اس کا صرف یہی فائدہ نہیں کہ وہ قومی زندگی کا سبب بنتے ہیں۔ بلکہ خود ان کی ذات کو بھی کئی فائدے پہنچتے ہیں۔ خواہ وہ دنیوی لحاظ سے بظاہر کامیاب نظر نہ آتے ہوں۔ مثلاً یہ کہ اللہ ان کی صحیح راستے کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ دوسرے یہ کہ ان کے دلوں سے ہر قسم کی کدورت دور کرکے اور ان کی حالت کو درست کر دے گا۔ پھر انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
8 عرف کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کا انہیں کتاب و سنت کے ذریعہ تعارف کرایا جاچکا ہے اور اس کی صفات کو سب جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
8۔ (جس سے ہر شہید بےتکلف اپنی دائمی آرام گاہ تک پہنچ جائے گا) (آیت) ” سیھدیھم “۔ یعنی ان کے منزل مقصود کے پہنچنے تک ہر قدم پر ان کی رہنمائی اور دستگیری ہوتی رہے گی۔ (آیت) ” یصلح بالھم “۔ قبر میں، حشر میں، پل صراط پر، ہر جگہ ان کی نصرتوی اوری جاری رہے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →ویدخلھم الجنۃ عرفھا لم اور ان کو جنت میں داخل کر دے گا جس کی ان کو پہچان کرا دے گا۔
یعنی جنت کے اندر ان کو ان کے مکان بتادے گا کہ بغیر کسی راہ نما کے سیدھے وہ اپنے مکانوں میں پہنچ جائیں گے ‘ ایسا معلوم ہوگا کہ روز پیدائش سے وہ ان مکانوں میں رہتے چلے آئے ہیں۔ جس طرح لوگ دنیا میں اپنے مکانوں اور بیبیوں اور خادموں اور گھر والوں تک براہ راست ‘ بغیر کسی راہ نمائی کے پہنچ جاتے ہیں ‘ اس سے بھی زیادہ شناخت جنتیوں کو جنت کے اندر اپنے مکانوں اور درجہ کی ہوگی اور وہ براہ راست اپنے مکانوں اور گھر والوں تک پہنچ جائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر نے آیت کی یہی تشریح کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) اور ان کو نیک اعمال کی توفیق دے گا اور ان کی حالت و نیت کو درست رکھے گا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں نجات دے گا اور قیامت کے دن ان کے اعمال کو قبول فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو پہچان کرا دے گا کہ وہ جنت میں اس طرح چلے جائیں گے جیسا کہ دنیا میں اپنے مکانات میں چلے جایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم : یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان اس نے قرآن کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی بہت اچھی طرح کروا دی ہے۔ اس سورت کی آیت (15) میں بھی اس کی کچھ شناخت آرہی ہے۔ جب وہ اس جنت میں جائیں گے تو وہ ان کے لئے اجنبی نہیں ہوگی، بلکہ عین اس وعدے اور شناخت کے مطابق ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے انہیں کروا رکھی ہے۔ ”عرفھا لھم“ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی جنتی کو جنت میں اپنے گھر جانے کے لئے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یخلص المومنون من النار، فیحبسون علی قنطرۃ بین الجنجۃ والنار، فیقص لبعضھم من بعض…
Read the full tafseer →جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں کہا جائے گا : اپنے اپنے گھروں میں چلے جائو تو وہ اپنے گھروں کو ان جمعہ پڑھنے والوں سے زیادہ جانتے ہوں گے جب وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹتے ہیں، یہ معنی مجاہد اور اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے بخاری شریف میں ایسی حدیث موجود ہے جو اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے جو حضرت ابو سعید خدرزی ؓ سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں کو جہنم سے چھٹکارا دیا جائے گا تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان پل پر روک لیا جائے گا تو ان میں سے بعض کے بعض پر مظالم کو بیان کیا جائے گا جو ان کے دمیان ہوئے تھے یہاں تک کہ جب انہیں پاک صاف کردیا جائے گا تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب “ (سو تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو) یعنی عرب کے مشرکین کی (آیت ) ” کفروا فضرب الرقاب “ (ان کی گردنیں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ دیں۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق “ (یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو) یعنی ان کو قید نہ کرو اور نہ فدیہ لیکر چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی خون ریزی تلوار کے ساتھ نہ کرلو۔
3:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء…
Read the full tafseer →وَيُدْخِلُهُمُ [اور وہ داخل کرے گا ان کو ] الْجَــنَّةَ [ اس جنت میں ] عَرَّفَهَا [ اس نے خوشبو میں بسایا جس کو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ]
Read the full tafseer →﴿وَ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ﴾ اور انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جو ان کی منزل مقصود ہے ﴿عَرَّفَهَا لَهُمْ 006 ﴾ (اللہ نے انہیں جنت کی پہچان کرا دی) یعنی دنیا میں اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ انہیں اس کی پہچان کرا دی ہے جنت کی پہچان کرانے کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ جب جنت میں داخل ہونے لگیں گے تو اپنے اپنے مقرر کردہ مقام کو وہ اس طرح جانتے ہوں گے جیسے اپنے دنیا والے گھروں میں اس کو پہچانتے تھے بلکہ ان سے زیادہ اپنی جنت والی مقررہ جگہ کے راستے کو پہچانتے ہوں گے۔ (كما فی الحدیث)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6:۔ ” سیہدیہم “ شہداء کے لیے بشارت اخرویہ۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو وہ جنت کی راہ دکھائیگا بقرینہ ویدخلہم الجنۃ الخ، کیونکہ شہید ہوجانے کے بعد ہدایت کا معروف معنی تو مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ منکر و نکیر کے سوال کے وقت درست جواب تلقین فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں ہر ایک کو اپنا اپنا مقام معلوم ہوگا۔ ہر آدمی کسی سے پوچھے بغیر ہی اپنی منزل میں چلا جائے گا گویا وہ اپنے اس گھر کو پہلے ہی سے جانتا ہے (سیہدیہم) الی طریق الجنۃ او الی الصواب فی جواب منکر و نکیر (ویصلح بالہم) یرضی خصماءھم ویقبل اعمالہم (مدارک ج 4 ص 114) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ربط آیات
گزشتہ درس میں تمہید کے طور پر فرمایا کہ فاسق لوگ وہ ہیں جو کفر کا شیوہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں اور خاص طور پر قرآن حکیم کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ان کے رب کی طرف سے بر حق ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا اور ان کے حالات کو درست کر دے گا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ کافر لوگ باطل کی پیروی کرتے ہیں ۔ جب کہ اہل ایمان حق کے متبع ہیں ۔ حق و باطل کی کشمکش ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
قانون جنگ اور اس کی حکمت
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے قانون اور اس کی…
Read the full tafseer →وَيُدْخِلُہُمُ الْجَــنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمْ 6
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]
الجنۃ
ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
1 ؎ یعنی جنگ موقوف ہوجائے ہتھیار اٹھانے کی حاجت نہ رہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سَیَھْدِیْہِمْ وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ ۔ وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَھَا لَھُمْ ۔ (محمد : 5، 6)
(وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال سنوار دے گا۔ اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو شناخت کرا دی ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی راہ میں کام آنے والوں پر انعامات
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جائیں گے، گزشتہ آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی شہادت سے پہلے ان کا ایک ایک عمل اور خود شہادت کا عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بہت زیادہ اجر وثواب کا حامل ہے۔ دنیا میں بھی اس سے برگ و بار پھوٹیں گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ یعنی ان کی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : کفار باطل کی پیروی کرتے ہیں اس لیے مومنوں کا فرض ہے کہ جب ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو وہ میدان جنگ جیتنے کی کوشش کریں۔
اس سورت کے نزول سے پہلے سورة حج میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں قتال کرنے کی اجازت مل چکی تھی اس لیے اس سورت میں مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! جب کفار کے ساتھ تمہاری مڈھ بھیڑ ہو تو پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ ان کی گردنیں کاٹو یہاں تک کہ جب ان کے سرغنوں کو قتل کرچکو اور لڑائی ختم ہوجائے تو ان کے قیدیوں کو مضبوطی کے ساتھ باندھ لو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرتے ہوئے چھوڑ دو یا ان سے فدیہ وصول کرو۔ اللہ…
Read the full tafseer →اللہ کے دین کی مدد :
آیت 6 : وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (اور ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ جس کی ان کو پہچان کرائے گا)
قولِ مجاہد (رح) :
ان کو ان کی رہائش گاہوں کا اس طرح تعارف کرائے گا کہ کسی سے وہ پوچھنے کے محتاج نہ ہونگے۔ نمبر 2۔ ان کو عرف نامی خوشبو سے خوشبو والا بنائے گا۔
Read the full tafseer →5 ۔” سیھدیھم “ دنیا میں ان کی زندگی کے ایام میں درست کاموں کی طرف اور آخرت میں درجات کی طرف ” ویصلح بالھم “ ان کے مد مقابل کو راضی کریں گے اور ان کے اعمال قبول کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 6۔ اس آیت میں قیدیوں کے بغیر بدلہ لینے کے اور بدلہ میں کچھ چیز لے کر چھوڑ دینے کا حکم ہے اور سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی ناخوشی ظاہر فرمائی تھی اس سے صاف معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی تک قیدیوں کو فدیہ لے کرچھوڑنے کا حکم نہ تھا بدر کی لڑائی کے بعد یہ حکم نازل ہوا ہے اور یہ سورة مدنی ہے۔ اسی واسطے امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے سعید بن جبیر اور بعض اور مفسرین نے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے اس باب میں اختلاف کرکے یہ جو کہا ہے کہ یہ سورة مکی ہے یہ قول صحیح نہیں ہے بعض مفسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے، ارشاد فرماتا ہے : (فاذ القیتم الذین کفروا) جب جنگ اور قتال میں تمہارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مار و یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے (فشدوالوثاق) تو انہیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لئے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہوجائیں گے۔
جب تہ تمہاری قید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 19] شہید کیلئے دخول جنت کی خوش خبری کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ شہیداء کیلئے جنت کی پہچان بھی کرادی جاتی ہے اور ان کیلئے اس سے سرفرازی کی بشارت و خوشخبری بھی سنا دی گئی۔ سو اللہ تعالیٰ نے شہید کو جنت کی پہچان کرادی۔ اپنے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ اور نصوص کریمہ کے ذریعے۔ چناچہ حضرت ابو سعید خدری ؓ اس بارے میں اپنی ایک قدرے تفصیلی حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد اس طرح نقل فرماتے ہیں۔ " والذی نفسی بیدہ ان احدھم بمنزلہ فی الجنۃ اھدی منہ بمنزلہ الذی کان لہ فی الدنیا " یعنی " دو قسم ہے اس ذات اقدس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ان میں سے ایک شخص جنت میں اپنے گھر کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →ف 7 چناچہ ہر جنتی جنت میں اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے زیادہ پہچان لیگا۔ “ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(47:6) عرفھا لہم۔ عرف ماضی واحد مذکر غائب تعریف (تفعیل) مصدر اس نے اس سے تعارف کرا دیا۔ اس نے اس کی پہچان کرائی۔ اس نے اس کی تعریف کی۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کی طرف راجع ہے۔
امام راغب لکھتے ہیں کہ عرفہ کے معنی خوشبودار کرنے کے بھی آتے ہیں جنت کے بارے میں جو یہ ارشاد ہو رہا ہے عرفھا لہم اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ حق تعالیٰ نے جنت کو اہل جنت کے لئے خوشبودار اور مزین کردیا ہے۔
فائدہ :۔ سیھدیہم ۔ ان کو سیدھے راستے پر چلائے گا۔
اس میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو اب کس بات کی ہدایت ہوگی ؟ مختلف مفسرین نے مختلف طریقے پر اس کی تفسیر کی ہے۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تشریح آیت نمبر 1 تا 6
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ کفر و انکار کی روش اختیار کرکے خود کو بھی ہر طرح کی سچائیوں سے دور رہے اور دوسروں کو بی اس راہ حق و صداقت پر چلنے سے روکنے کی جدو جہد اور کوشش کرتے رہے تو اللہ ایسے لوگوں کے تمام وہ اوعمال جنہیں وہ بہت نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں ضائع کردے گا۔ وہ اعمال نہ تو دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر عمل صالح اختیار کئے اور نبی مکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو انہوں نے پوری طرح مانا تو اللہ نہ صرف ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا بلکہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہر کام کو درست فرمادے گا جس کے ذریعہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
کافروں سے مقابلہ۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو جب تم ان سے ملو جو کافر ہیں اور لڑائی کاہنگامہ گرم ہو تو مقابلہ کے وقت مخالفوں سے خوب لڑو، کیونکہ حق اور باطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے ومسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہیے باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں ، اور ان کے جتھے توڑ دیے جائیں اس لیے ہنگامہ کا راز میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف وتردد کو راہ نہ دو اور دشمنان حدا کی گردنیں مارنے میں کوتاہی نہ کرو، خدا کی راہ میں لڑو یہاں تک کہ غالب ہوجاؤ، اور جب لڑائی کے بعد کچھ دشمن قید میں آجائیں تو ان کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[1] مراد میدان جنگ میں مڈبھیڑ ہونے سے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ حالت امن و صلح میں راستے میں کوئی کافر چلتا ہوا دکھائی دے۔
[2] یعنی قید کرلو۔
[3] لفظی ترجمہ تو یہ تھا کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ عربی کا محاورہ ہے اردو میں اس طرح نہیں بولتے اس لئے ترجمہ الفاظ سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دشمن میں لڑائی کی طاقت نہ رہے اور لڑائی موقوف ہوجائے۔[4] یعنی اللہ چاہتا تو ان کافروں کو کوئی آسمانی عذاب بھیج کر عادوثمود کی طرح ہلاک کر ڈالتا، لیکن جہاد و قتال کے ذریعے اسے بندوں کا امتحان کرنا تھا کہ کتنے مسلمان اللہ کے نام پر جان و مال نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور کفار میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2: اللہ کی مدد کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے مشن کی تکمیل کے لئے اپنا لہو تک بہادیا جائے
Read the full tafseer →(6) اور ان کو اس جنت میں داخل کردے گا جس کی تعریف ان سے کردی گئی ہے اور ان کو وہ بہشت معلوم کرادی ہے۔ ہم متعدد بار عرض کرچکے ہیں کہ جہاد یا قتال کا منشاء اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ملک میں شرارت بند ہو اور امن قائم رہے۔ اسی لئے جن سے شرارت اور بدامنی کا وقوع نہیں ہوتا ان کو جہاد میں بھی قتل کا حکم نہیں۔
مثلاً عورتیں، بچے ، بوڑھے وغیرہ۔
یہاں بھی یہی حکم ہے کہ جب کبھی دشمنوں سے بھڑ جائو تو پھر گردنوں کا مارنا ہے یعنی قتل کرنا چونکہ عام طور پر گردن کاٹنے سے قتل واقع ہوجاتا ہے اس لئے سبب کا بیان فرمایا ورنہ قتل اعدا جس طرح بھی ہوا اسے حاصل کیا جائے پھر جب دشمن کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ مغلوب ہوجائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 7۔ یعنی قبر میں اور حشر میں اور صراط پر اور تمام مواقع آخرت میں۔
Read the full tafseer →یہ لوگ جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو اس کی پہچان واضح طور پر ہوگی
6 ؎ اہل جنت اور خصوصاً وہ اہل جنت جو اللہ کی راہ میں شہید ہو کر جائیں گے اس کا مکمل تعارف ان کو دنیا ہی میں کرا دیا ہے وہ وہاں پہچ کر کسی طرح کی اجنبیت محسوس نہیں کریں گے بلکہ وہاں اس طرح رہیں گے اور دوسرے اہل جنت سے جاتی ہیں اس طرح مصروف گفتگو ہوجائیں گے کہ گویا یہ لوگ آج ہی یہاں نہیں آئے بلکہ ایک مدت سے یہاں رہے ہیں اور یہ بھی کہ گویا سب کے سب ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ قرآن کریم نے جو جنت کا تعارف کرایا ہے اور جو جو انعامات دیئے جانے کا ذکر کیا ہے وہ اس قدرحقیقت پر مبنی ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ اس قدر حقیقت پر مبنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (and will admit them to the Paradise He has identified for them. - 47:6). This is the third bounty of Allah. He will not only admit them into Paradise but will identify for them the gardens of bliss and will make them familiar with such bounties as houris and mansions in a way that it would seem to them that they have been living there since eternity. If such an acquaintance was not made, Paradise would have seemed a strange world. It would have taken them time to find their abode, to accustom themselves with the new environment, and they would not…
Read the full tafseer →11 This is the profit that the martyrs falling in the way of Allah will gain. Its three grades have been stated: (1) That AIlah will guide them; (2) that He will set their condition right; and (3) that He will admit them to the Paradise with which He has acquainted them beforehand. Guidance here obviously implies guiding to Paradise; setting the condition right implies that before their entry into Paradise, AIlah will adorn them with robes of honour and remove every filth which had polluted them in the life of the world; and the third stage means that even in this world they have been told…
Read the full tafseer →