Explained with ayahs 4–9
جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہوجائے
یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہوجائے دستی لڑائی شروع ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قیدوبند کے ساتھ مقید کرلو جب لڑائی ختم ہوچکے معرکہ پورا ہوجائے تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لئے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 12
اللہ کی مدد کرنے کا ایک سیدھا سادھا مفہوم تو یہ ہے کہ اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کیا جائے۔ لیکن اس کا ایک غامض مفہوم بھی ہے جس کی ہم اس سے پہلے تشریح کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، تفسیر آل عمران، حاشیہ 50)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) وَيُدْخِلُهُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ، یہ ایک تیسرا انعام ہے کہ ان کو صرف یہی نہیں کہ جنت میں پہنچا دیا جائے گا بلکہ ان کے دلوں میں خود بخود جنت کے اپنے اپنے مقام اور اس میں ملنے والی نعمتوں حور و قصور سے ایسی واقفیت پیدا کردی جائے گی جیسے وہ ہمیشہ سے انہی میں رہتے اور ان سے مانوس تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو جنت ایک نیا عالم تھا اس میں اپنا مقام تلاش کرنے میں وہاں کی چیزوں سے مناسبت اور تعلق قائم ہونے میں وقت لگتا، اور ایک مدت تک اجنبیت کے احساس سے قلب مطمئن نہ ہوتا۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے دین حق دے کر بھیجا ہے کہ تم دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم، والذین کفروا فتعسا لھم واضل اعمالھم ذلک بانھم کھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم 9-7
نصرت الٰہی کا ظہور کب ہوتا ہے
یہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب سنبھال لے گا۔ وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم اس طرح جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں۔ اگر انہوں نے یہ قدم اٹھا دیا تو اس کے بعد اس کی شامیں ظاہر ہوں گی۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 1 اللہ کی مدد کرنے سے مطلب اللہ کے دین کی مدد ہے کیونکہ وہ اسباب کے مطابق اپنے دین کی مدد اپنے مومن بندوں کے ذریعے سے ہی کرتا ہے یہ مومن بندے اللہ کے دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ ودعوت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے یعنی انہیں کافروں پر فتح و غلبہ عطا کرتا ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور قرون اولی کے مسلمانوں کی روشن تاریخ ہے وہ دین کے ہوگئے تھے تو اللہ بھی ان کا ہوگیا تھا انہوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ نے نہیں بھی دنیا پر غالب فرما دیا جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ ولینصرن اللہ من ینصرہ۔ الحج۔ اللہ اس کی ضرور مدد فرماتا ہے جو اس کی ضرور مدد فرماتا ہے جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Read the full tafseer →جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کے اس اعزاز ، ان سے اللہ کی رضامندی ، ان کی اس نگہبانی اور بلند مقامات کی اس فضا میں اہل ایمان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے لئے یکسو ہوجائیں اور اسلامی نظام کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ ان سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے گا اور اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں کے لئے تو ہلاکت ہی مقدر ہے۔
یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اقدامکم (7) والذین کفروا ۔۔۔۔۔ اعمالھم (8) ذلک بانھم کرھوا۔۔۔۔ اعمالھم (9) (47 : 7 تا 9) “ اے لوگوں ، جو ایمان لائے ہو ، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے تو ان…
Read the full tafseer →3 یعنی اللہ کے دین کی اور اس کی پیغمبر کی۔
4 یعنی جہاد میں اللہ کی مدد سے تمہارے قدم نہیں ڈگمگائیں گے اور اسلام وطاعت پر ثابت قدم رہو گے جس کے نتیجہ میں " صراط " پر ثابت قدمی نصیب ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اللہ چاہے تو خود ہی کافروں کو مسلمان کر ڈالے پر یہ بھی منظور نہیں کہ " جانچنا منظور ہے۔ سو بندہ کی طرف سے کمر باندھنا اور اللہ کی طرف سے کام بنانا۔ "
Read the full tafseer →آیت 7 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ } ”اے اہل ِایمان ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔“
یہ اللہ تعالیٰ کا بہت اہم قانون ہے۔ اگر تم لوگ اللہ کے فرماں بردار بندے بن کر رہو گے ‘ اسی سے مدد مانگو گے ‘ اسی پر توکل ّکرو گے اور اس کے دین کے غلبے کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مشن بنا لوگے تو وہ تمہیں بےسہارا اور بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا ‘ بلکہ ایسی صورت میں ہر جگہ ‘ ہر گھڑی اس کی مدد آپ لوگوں کے شامل حال رہے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر تم لوگ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں…
Read the full tafseer →9 اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد کرنا ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً جہاد میں ان کی مدد فرمائے گا اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آنے دے گا۔ بندہ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اقامت دین کے لیے کمر بستہ رہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔
Read the full tafseer →9۔ (دشمن کے مقابلہ میں۔ اور تم کبھی اس کے مجمع اور قوت و شوکت سے مرعوب نہ ہوگے) (آیت) ” ان تنصرواللہ “۔ یعنی اللہ کے دین کی مدد ونصرت کرتے رہو گے۔ (آیت) ” ینصرکم “۔ یعنی غلبہ ہو یا مغلوبیت، ہر حال اور ہر صورت میں تائید خداوندی تمہارے ساتھ رہے گی، (آیت) ” یثبت اقدامکم “۔ فن حرب کے جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ میدان جنگ میں کتنی اہمیت عظیم اسی ہمت اور ثابت قدمی کو ہے۔ مسلمانوں کی اس ثابت قدمی پر اغیار کی شہادت کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ مومنین عارفین نے کہا کہ ہے کہ یہ ثابت قدم رکھنے کا وعدہ عام ہے ہر شعبہ زندگی کے لئے، محض میدان جنگ کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں۔ اللہ کے دین کی نصرت کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم۔ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔
Read the full tafseer →اے ایمان والو ! اگر تم دشمن کے ساتھ لڑائی میں رسول اکرم کی مدد کرو گے تو دشمن پر غلبہ اور فتح نصیب کر کے تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی میں تمہارے قدم جما دے گا۔
Read the full tafseer →(1) یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ : اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین اور اللہ کے دوستوں کی مدد کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا :(ولو یشآء اللہ لانتصرمنھم) (محمد : 3)”اور اگر اللہ چاہے تو ضرور ان سے اتنقام لے لے۔“ اللہ کے دین کی مدد اس کی راہ میں جہاد اور جان و مال کی قربانی سے بھی ہوتی ہے اور اس کے دشمنوں پر دین حق کے دلائل وبراہین قائم کرنے کے ساتھ بھی۔
(2) ینصرکم : اللہ تعالیٰ کی مدد دو طرح سے آتی ہے، ایک یہ کہ وہ ہمیں دنیا میں دشمنوں پر فتح اور غلبہ عطا فرما دے۔ مگر ایسا کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ…
Read the full tafseer →اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے تو کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الحج 40) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ قطرب نے کہا : اگر تم اللہ کے نبی کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تماری مدد فرمائے گا۔ معنی ایک ہی ہے۔
یعنی جنگ کے وقت تمہیں ثابت قدم رکھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسلام پر ثابت قدم رکھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے پل صراط پر تمہیں ثابت قدم رکھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد ہے امن دے کر دلوں کو ثابت رکھتا ہے تو ثابت قدمی سے مراد جنگ کے وقت مدد کرنا ہے سورة الانفال میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ وہاں ہی فرمایا : ا (الانفال 12) وہاں واسطہ کو ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم “ (اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا) یعنی اس کی مدد پر (تم کامیاب ہوگے ) ۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم “ یعنی اللہ پر حق ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو عطا کرے اور یہ کہ وہ اس کی مدد کرے جو اس (کے دین) کی مدد کرے (آیت ) ” والذین کفروا فتعسالھم واضل اعمالھم (8) ذلک بانہم کرھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم “ (اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے تباہی ہے اور اللہ ان کے اعمال کو کالعدم کردے گا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [ اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ [ اگر تم لوگ مدد کروگے اللہ کی ] يَنْصُرْكُمْ [ تو وہ مدد کرے گا تمہاری ] وَيُثَبِّتْ [ اور وہ جما دے گا ] اَقْدَامَكُمْ [ تمہارے قد موں کو ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 7 کی تفسیر میں حضرت شاہ صاحب (یعنی شاہ عبدالقادر ) لکھتے ہیں کہ اللہ چاہے تو خود ہی کافروں کو مسلمان کرڈالے ، پر یہ منظور نہیں ہے ۔ جانچنا منظور ہے۔ سو بندہ کی طرف سے کمر باندھنا اور اللہ کی طرف ہے کام بنانا ۔ (ترجمہ شیخ الہند سے منقول ) مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں ۔ اگر انہوں نے یہ قدم اٹھا لیا…
Read the full tafseer →اس کے بعد مسلمانوں سے مدد کا وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 007﴾ اس میں یہ بتادیا کہ تم اللہ کی مدد کرو گے یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے کوششوں میں لگو گے (جس کا وہ محتاج نہیں ہے) تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور ثابت قدم رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ماخوذ از افاضات حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ۔ مراجعت فرمائیں (ازالۃ الخفاء )
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ...... الی ......... وان الکفرین لامولی لھم “۔
(ربط) سابق مضمون مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب وتشویق پر مشتمل تھا اور یہ کہ اہل حق پر یہ لازم ہے کہ باطل کو مٹانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کرڈالیں جب تک وہ فریضہ جہاد ادا نہیں کریں گے عند اللہ بری الذمہ نہ ہوسکیں گے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور میدان جہاد میں انکی ثابت قدمی کا میعار بیان فرمایا جارہا ہے۔
فرمایا، اے ایمان والو اگر تم مدد کروگے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد…
Read the full tafseer →ف 27: ” یا ایہا الذین۔ الایۃ “ بیان حال مؤمنین دشمن کے مقابلے میں ایمان والوں کی فتح و ظفر کا راز بیان فرمایا۔ اللہ کی مدد کرنے سے مجازاً اللہ کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کرنا مراد ہے (روح) اے ایمان والو ! اگر تم مال و جان سے اللہ کے دین اور اللہ کے سول کی مدد کروگے، اور محض رضائے الٰہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جہاد کروگے، تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا دشمن کے مقابلے میں تمہیں ثبات و استقلال عطا فرمائیگا اور فتح و ظفر سے تمہیں ہمکنار فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات
ابتدائے سورة میں تمہید بیان کی گئی ۔ اس کے بعد اللہ نے جنگ کے بعض قوانین بیان فرمائے کہ اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا ۔ بلکہ جرأت اور بہادری سے لڑنا ، پھر جب اچھی طرح خونریزی ہوجائے تو دشمن کے بچے کھچے سپاہیوں کو قیدی بنا لو حتیٰ کہ جنگ موقوف ہوجائے۔ جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ یا تو ان پر احسان کر کے انہیں رہا کر دو یا ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دو ۔ یہ جنگ کافروں کو سزا دینے کا ایک طریقہ ہے ، تا ہم اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی دوسرے طریقے سے بھی کفار کا قلع قمع کرنے پر قادر ہے۔ مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جنگ کے ذریعے آزمائش کرنا چاہتا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ 7
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
1 ؎ یعنی جنگ موقوف ہوجائے ہتھیار اٹھانے کی حاجت نہ رہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَا مَکُمْ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّھُمْ وَاَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ ۔ (محمد : 7، 8)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔ اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔ )
اللہ تعالیٰ کی نصرت اور استقامت کا وعدہ
انسانی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ زندگی کا ایک حصہ ضروریات زندگی پر مشتمل ہے اور دوسرا مقاصدِ زندگی پر۔ مسلمان اپنی ذات میں بھی اور ایک مملکت کے شہری اور سربراہ ہونے کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو جنگ کے دوران کفار کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ لڑنے کا حکم دینے کے بعد ان کی مدد کرنے کی یقین دہانی اور اس کی بنیاد۔
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد فرمائے گا اور ہر میدان میں تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ یاد رکھو ! کہ کفار کے لیے ہلاکت ہے اور ان کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔ اس لیے ان کے اعمال غارت کردیئے جائیں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مجاہدین کو اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے اور دوسری طرف کفار کے اعمال ضائع کرنے اور ان کی کوششوں کو…
Read the full tafseer →آیت 7 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ (اے ایمان والو اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کرو گے) اللہ تعالیٰ کی مدد کا مطلب اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کی مدد۔ یَنْصُرْکُمْ (وہ تمہاری مدد کرے گا) تمہارے دشمنوں کے خلاف اور تمہیں فتح دے گا۔ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (اور تمہارے قدم جما دے گا) لڑائی کے مواقع پر یا اسلام کی راہ پر۔
Read the full tafseer →6 ۔” ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم “ یعنی ان کے لئے ان کے جنت میں ٹھکانوں کو بیان کیا حتیٰ کہ وہ سیدھے اپنے ٹھکانوں تک پہنچ جائیں گے کوئی غلطی نہ کریں گے اور نہ کسی سے راہ پوچھیں گے۔ گویا کہ وہ وہاں کے رہائشی ہیں جب سے وہ پیدا کیے گئے۔ پس مومن اپنے ٹھکانہ اور اپنی بیوی اور اپنے گھر کے خادموں کو دنیا کے گھر اور دنیا کے اہل سے زیادہ پہچانتا ہوگا۔ یہ اکثر مفسرین (رح) کا قول ہے۔ عطائؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” عرفھا لھم “ یعنی ان کے لئے اس کو پاکیزہ کیا۔ یہ عرف سے مشتق ہے اور عرف عمدہ خوشبو اور خوشبودار کھانے کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ اوپر مسلمانوں کو حکم تھا کہ جب منکر شریعت لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے ایماندار لوگو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرأت پیدا کر دے گا جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جما دیئے۔ آگے فرمایا جو لوگ اللہ کے دین کے منکر اور اس کے کلام کو جادو بتاتے ہیں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ لشکر اسلام کا رعب پیدا کر دے گا اس لئے میدان جنگ میں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لئے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا، یعنی اللہ تعالیٰ طمانینت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔
یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 20] اللہ کے دین کی مدد، اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :
سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے دین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو اور وہ راہ حق میں تمہارے قدم جما دے گا۔ " اور اس حقیقت کی ایک اور مقام پر اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ { الذی اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللّٰہ ط ولولا دفع اللّٰہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوٰت ومسجد یذکر فیہا اسم اللّٰہ کثیرا ط ولینصرن اللّٰہ من ینصرہ ط ان اللّٰہ لقوی عزیز } [ الحج : 40 پ 17] یعنی اللہ ضرور مدد فرمائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →ف 8 چناچہ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اللہ کے دین کی مدد کی وہ دنیا میں غالب و باعزت رہے اور جب انہوں نے اس کے دین کی مدد چھوڑ دی تو وہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہوئے اور ان کے دشمن ان پر غالب آگئے۔
Read the full tafseer →(47:7) ان تنصروا اللہ ینصرکم : ان شرطیہ ہے تنصروا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان ) جمع مذکر حاضر، اللہ مفعول فعل تنصروا کا ۔ ینصرکم جواب شرط۔ ینصر مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکرحاضر۔
اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا، یعنی اگر تم اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے دشمنون کے خلاف فتح دے گا اور دین ودنیا کے امور میں تمہاری مدد کرے گا :۔
ویثبت اقدامکم۔ وائو عاطفہ یثبت مضارع واحد مذکر غائب۔ تثبیت (تفعیل) مصدر۔ جمائے رکھے گا۔ ثابت قدم رکھے گا۔ اقدامکم مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مفعول یثبت کا۔ اور وہ تم کو ثابت قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
تشریح آیات نمبر 7 تا 11
اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! اگر تم نے اللہ کے دین کی مدد کی تو اللہ نہ صرف دنیا اور آخرت میں تمہاری مدد کرے گا تمہارے قدموں کو جما دے گا ۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و انکار کی زندگی کو اپنا رکھا ہے وہ آج دنیا میں اپنے آپ کو بہت کامیاب سمجھ رہے ہیں اور زندگی کی راہوں میں بڑی تیزی سے چلتے نظر آرہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب یہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گریں اور جن کاموں کو وہ زندگی کی کامیابی سمجھ رہے ہیں اور ان کے نزدیک بہتر عمل تھے وہ سب اس سے غائب ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
اللہ تعالیٰ کن کن کی مدد کرتا ہے ؟
(ف 1) اوپر مسلمانوں کا حکم تھا کہ جب کافر لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو، ان آیتوں میں فرمایا، اے مسلمانو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرات پیدا کردے گا کہ جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جمادیے آگے فرمایا جو لوگ کافر ہیں اور اس کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دل میں لشکراسلام کا رعب پیدا کردے گا اور اس لیے میدان جنگ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[5] اللہ کی مدد کرنے کا مطلب اس کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2: اللہ کی مدد کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اس کے مشن کی تکمیل کے لئے اپنا لہو تک بہادیا جائے
Read the full tafseer →(7) اے ایمان والو ! اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا یعنی تم کو دشمنوں پر غالب کرے گا اور میدان جہاد میں تم کو ثابت قدمی عطافرمائے گا۔
Read the full tafseer →ف 8۔ مطلب یہ کہ مجموع بمقابلہ مجموع کے خواہ ابتداء ہی سے خواہ انتہا میں ثابت قدم رہ کر کفار پر غالب آجائے گا۔
Read the full tafseer →ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری ضرور مدد کرے گا :
7 ؎ (ان تنصروا اللہ) اگر تم اللہ کی مدد کرو گے کے الفاظ سے کسی کو دھوکا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج ہے یا اللہ تعالیٰ کسی جگہ پھنس گیا ہے کہ تم اس کی مدد کرو گے اور اس کو اس پھنسنے سے نکالو گے تو جب تم کہیں پھنس گئے وہ تم کو بھی نکالے گا ۔ لاریب اس طرحکا تخیل کفر ہے اور اس طرح کی گفتگو محض تفہیم کے لئے کی جاتی ہے تاکہ بات سمجھ میں آجائے کیونکہ ایک انسان جب دوسرے انسان سے گفتگو کرتا ہے تو اس کا جو انداز گفتگو ہوتا ہے وہی قرآن کریم نے اختیار کیا ہے کو ین کہ وہ انسانوں ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لئے سمجھ لینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (and will admit them to the Paradise He has identified for them. - 47:6). This is the third bounty of Allah. He will not only admit them into Paradise but will identify for them the gardens of bliss and will make them familiar with such bounties as houris and mansions in a way that it would seem to them that they have been living there since eternity. If such an acquaintance was not made, Paradise would have seemed a strange world. It would have taken them time to find their abode, to accustom themselves with the new environment, and they would not…
Read the full tafseer →12 "If you help AIIah": "If you participate in the work of raising Allah's Word with your life and wealth." But this has a deeper meaning too, which we have explained in E. N. 50 of Surah Al-`Imran above.
Read the full tafseer →