Al-Ahqaf 46:34

Al-Ahqaf · from ayah 34

46:34

وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَی النَّارِ ؕ— اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ ؕ— قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا ؕ— قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۟وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ ؕ اَلَيۡسَ هٰذَا بِالۡحَقِّ‌ ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا‌ ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡـتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ

اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will say, "Then taste the punishment because you used to disbelieve."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:34

جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس دن کافروں کو آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اس دن (ان سے پوچھا جائے گا) کہ کیا یہ (دوزخ) سچ نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کہ : ہمارے رب کی قسم ! یہ واقعی سچ ہے۔ اللہ ارشاد فرمائے گا کہ : پھر چکھو مزہ عذاب کا، اس کفر کے بدلے میں جو تم نے اختیار کر رکھا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا:) کیا یہ (عذاب) برحق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (برحق ہے)، ارشاد ہوگا: پھر عذاب کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، کیا یہ حق نہیں ہے ؟ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم ! وہ کہے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن کافر دوزخ پر پیش کئے جائیں گے (تو ان سے پوچھا جائے گا) کیا یہ (جہنم) حق نہیں ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں۔ ہمارے پروردگار کی قسم (یہ حق ہے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو اب عذاب کا مزا چکھو یہ اس چیز کا بدلہ ہے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس دن کو یاد رکھو جس دن ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ہے دوزخ کے سامنے لایا جائے گا۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے ! وہ جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے رب کی قسم یہ تو حقیقت ہے ! ! ارشاد ہوگا، تو چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یاد کرو اے لوگوں قیامت کے اس ہولناک دن کو کہ) جس دن پیش کیا جائے گا کافروں کو (دوزخ کی) اس ہولناک آگ پر (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو وہ کہیں گے ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (یہ قطعی طور پر حق ہے) حکم ہوگا کہ اچھا تو اب چکھتے رہو تم لوگ مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے (دنیا میں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس روز کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے پوچھا جائے گا کہ) یہ حقیقت ہے یا نہیں تو وہ کہیں گے کہ بیشک ہے ہم کو قسم ہے ہمارے پروردگار کی (تب) ارشاد ہوگا کہ اچھا تو چکھو عذاب اپنے کفر کے بدلہ میں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس روز پیش کیے جائیں گے یہ کافر آگ پر (اور ان سے پوچھا جائے گا :) کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ (حق ہے) اللہ فرمائے گا : تو اب چکھو عذاب کا مزہ اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے کیے جائیں گے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے ؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم حق ہے۔ حکم ہوگا کہ تم جو دنیا میں انکار کیا کرتے تھے اب عذاب کے مزے چکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day when the unbelievers will be brought within sight of the Fire, they will be asked: “Is this not the Truth?” and they will answer “Yes, by Our Lord (this is the Truth).” Allah will say: “Then suffer the chastisement as a requital for your disbelieving.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The day the disbelievers will be presented to the Fire, (it will be said to them,) :Is this not true? They will say, :Yes of course, Our Lord! He will say, :Then taste the punishment, for you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani

The day the disbelievers will be presented to the Fire, (it will be said to them,) :Is this not true? They will say, :Yes of course, Our Lord! He will say, :Then taste the punishment, for you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on the Day when those who disbelieve will be exposed to the Fire (it will be said to them): "Is this not the truth" They will say: "Yes, by our Lord!" He will say: "Then taste the torment, because you used to disbelieve!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And on the day when those who disbelieve are exposed to the Fire (they will be asked): Is not this real? They will say: Yea, by our Lord. He will say: Then taste the doom for that ye disbelieved.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will say, "Then taste the punishment because you used to disbelieve."

— Saheeh International

On the day when the disbelievers will be exposed to the fire, they will be asked, "Is this not real?" They will say, "Yes, Our Lord, it is real" He will say, "Suffer the torment for your disbelief".

— Muhammad Sarwar

And on the day when those who disbelieve shall be brought before the fire: Is it not true? They shall say: Aye! by our Lord! He will say: Then taste the punishment, because you disbelieved.

— Muhammad Habib Shakir

And on the Day whereon those who disbelieve will be placed before the Fire: is this not real? They will say: yea, by our Lord. He will say: taste wherefore the torment, for ye have been disbelieving.

— Abdul Majid Daryabadi

And on the Day that the Unbelievers will be placed before the Fire, (they will be asked,) "Is this not the Truth?" they will say, "Yea, by our Lord!" (One will say:) "Then taste ye the Penalty, for that ye were wont to deny (Truth)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–35

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہوجا کے کہنے سے ہی ہوگئیں کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہوگئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مردوں کے زندہ کردینے کی سکت نہیں رکھتا ؟ چناچہ دوسری آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–35

سورة الْاَحْقَاف 37 یعنی جس طرح تمہارے پیش رو انبیاء اپنی قوم کی بےرخی، مخالفت، مزاحمت اور طرح طرح کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ سالہا سال تک مسلسل صبر اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ کرتے رہے اسی طرح تم بھی کرو، اور یہ خیال دل میں نہ لاؤ کہ یا تو یہ لوگ جلدی سے ایمان لے آئے یا پھر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کر دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

خلاصہ تفسیر کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا وہ اس پر (بدرجہ اولی) قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو (قیامت میں) زندہ کر دے۔ (اور وہ اس پر قادر) کیوں نہ ہو، بیشک وہ (تو) ہر چیز پر قادر ہے (یہ تو امکان ثابت ہوا) اور جس روز (اس کا وقوع ہوگا اور) کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جاویں گے (اور ان سے پوچھا جاوے گا کہ) کیا یہ دوزخ امر واقعی نہیں ہے جیسا کہ دنیا میں اس کی واقعیت کی نفی کیا کرتے تھے کماقال تعالیٰ عنہم و ما نحن بمعذبین) وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ضرور امر واقعی ہے ارشاد ہوگا (اچھا) اپنے کفر کے بدلہ میں (جسمیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ویو مریعرض الذین کفروا علی النار ط الیس ھذا بالحق ط قالوا بلی و ربنا ط قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (34) یہ اسی انذار کی تصویر ہے کہ اس دن کی یاد کو ہمیشہ مستحضر رکھو جس دن کفر کرنے والوں کو دوزخ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ بتائو قیامت ایک واقعہ اور حقیقت ثابت ہوئی ہے یا نہیں ؟ اس وقت وہ اپنے رب کی قسم کھا کر جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے رب کی قسم، بلاشبہ یہ ایک امر واقعی ثابت ہوئی ! ان کے اس اعتراف کے بعد حکم ہوگا کہ اب جائو، اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو ! یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ قیامت کے دلائل آفاق وانفس کے اندر اتنے واضح ہیں کہ کوئی عاقل ان کا انکار نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34۔ 1 وہاں اعتراف ہی نہیں کریں گے بلکہ اپنے اس اعتراف پر قسم کھا کر اسے مؤکد کریں گے لیکن اس وقت کا یہ اعتراف بےفائدہ ہے کیونکہ مشاہدے کے بعد اعتراف کی کیا حثیت ہوسکتی ہے آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اعتراف نہیں تو کیا انکار کریں گے۔ 34۔ 2 اس لئے کہ جب ماننے کا وقت تھا، اس وقت مانا نہیں، یہ عذاب اسی کفر کا بدلہ ہے، جو اب تمہیں بھگتنا ہی بھگتنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 30–35

16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویوم یعرض الذین ۔۔۔۔۔ کنتم تکفرون (46 : 34) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ، اس وقت ان سے پوچھا جائے گا ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں ، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے) “۔ اللہ فرمائے گا ” اچھا تو اب عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے “۔ ویوم یعرض الذین کفروا علی النار (46 : 34) ” جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے “۔ یہ الفاظ آتے ہی قاری سوچتا ہے کہ اگلا لفظ کیا ہوگا ، کیا قصہ ہوگا ، قصہ نہیں آتا اور اسکرین پر مکالمہ آجا تا ہے۔ الیس ھذا بالحق (46 : 34) ” کیا یہ حق نہیں ؟ “ اچانک اس سوال سے گویا ان لوگوں پر برق ناگہانی گر جاتی ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ دوزخ کا وجود اس کا عذاب کیا واقعی چیز نہیں ؟ آخر سب ذلیل ہو کر اقرار کریں گے کہ بیشک واقعی ہے۔ (ہم غلطی پر تھے جو اس کا انکار کیا کرتے تھے)11 یعنی اس وقت کہا جائے گا کہ اچھا اب اس انکار و تکذیب کا مزہ چکھتے رہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 { وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِط اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّ } ”اور جس روز پیش کیے جائیں گے یہ کافر آگ پر ‘ اور ان سے پوچھا جائے گا : کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟“ کہ دنیا میں تو تم لوگ بعث بعد الموت کی باتوں کو ڈھکو سلے سمجھتے تھے ‘ آخرت اور اس کی سزا و جزا کی خبروں کو فرضی کہانیاں قرار دیتے تھے جبکہ جہنم اور اس کے عذاب کی وعیدیں تمہیں محض جھوٹے ڈراوے لگتے تھے۔ آج تم دوبارہ زندہ ہو کر ”آخرت“ کے عالم میں پہنچ چکے ہو ‘ اب تم آخرت کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ دیکھو ! یہ ہے جہنم کی آگ تمہارے سامنے جس کے بارے میں تمہیں بار بار خبردار کیا گیا تھا۔ اب بتائو کیا یہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 کافر اور آخرت کے منکر آخرت کا انکار اس لیے کرتے ہیں کہ اگر وہ اس کا اقرار کرلیں تو اس سے ان کی آزادی میں خلل آتا ہے۔ اور اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ حالانکہ کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے کے باوجود بھی بلی وہاں موجود ہی رہتی ہے اور حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح منکروں کے آخرت کے انکار کردینے سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑتا اور قیامت کے دن انہیں کہا جائے گا کہ اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا عذاب ایک ٹھوس حقیقت ہے یا نہیں جس سے تم آنکھیں بند کرکے اس کا انکار کردیا کرتے تھے ؟ اور اس دن انہیں اقرار کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

37۔ اور اس کفر میں آخرت و جہنم کا انکار بھی داخل ہے۔ (آیت) ” ھذا “۔ یعنی یہ عذاب جس کا اب وقوع ہورہا ہے۔ (آیت) ” الیس ھذا بالحق “۔ یعنی حقیقت سے دو چار ہونے کے بعد ابھی تمہارے وہمی دلائل قائم ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–35

واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔ جنات کے قرآن سننے کا واقعہ : صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم یعرض الذین کفروا علی النار الیس ھذا بالحق قالوا بلی وربنا قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون اور جس روز کافروں کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا (اور ان سے پوچھا جائے گا :) کیا یہ (دوزخ) امر واقعی نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : قسم ہے اپنے رب کی ! (امر واقعی) کیوں نہیں (ضرور ہے) تو ارشاد ہوگا : تو اب اپنے کئے ہوئے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو۔ اَلَیْسَ ھٰذَا عذاب دوزخ کی طرف اشارہ ہوگا جس کا وہ دنیا میں انکار کرتے تھے۔ وَرَبِّنَا قسم ہے اپنے رب کی۔ اس وقت وہ قسم کھائیں گے اور اعتراف کریں گے ‘ لیکن بےسود ہوگا۔ فَذُوقُوْا۔ فَ سببی ہے (یعنی فَ سے پہلے کا مضمون فَ کے بعد والے مضمون کا سبب ہے) دوزخ کا حق ہونا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جس روز یہ کافر دوزخ میں داخل کرنے سے پہلے اس کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے دریافت کیا جائے گا کیا یہ عذاب امر واقعی نہیں ہے، تو یہ کہیں گے ضرور واقعی امر ہے، حق تعالیٰ ان سے فرمائے گا تو اچھا دنیا میں جو تم کفر و انکار کر رہے تھے اور اس کے بدلے میں اس دوزخ کا عذاب چکھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ویوم یعرض الذین کفروا علی النار …: قیامت کے حق ہونے کو دلیل کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اس دن کا ایک منظر پیش فرمایا، یعنی وہ دن یاد کرو جب ان لوگوں کو جو قیامت اور جہنم کا انکار کرتے تھے آگ پر پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں ہوگا بلکہ انہیں ذلیل کرنا اور وہ دنیا میں جہنم اور قیامت کا جو مذاق اڑاتے رہے اس کے بدلے میں ان کا مذاق اڑانا ہوگا۔ جہنم کے عذاب کے ساتھ ملامت، ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تہکم کا یہ عذاب بجائے خود بہت بڑی سزا ہوگی، دوسری جگہ فرمایا :(یوم یدعون الی نار جھنم دغا ھذہ النار التی کنتم بھا تکبذون افسخر ھذا ام انتم لاتبصرون) (الطور :13 تا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انہیں وہ دن یاد دلایا جس روز انہیں پیش کیا جائے گا تو انہیں کہا جائے گا : تو انہیں بیان کرنے والا کہے گا مامصد یہ ہے یعنی اپنے کفر کے باعث عذاب چکھو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–34

جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں : 1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ يُعْرَضُ [ اور جس دن پیش کیے جائیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] عَلَي النَّارِ ۭ[ آگ پر ] اَلَيْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ۭ [ (تو پوچھا جائے گا) کیا یہ برحق نہیں ہے ] قَالُوْا بَلٰي وَرَبِّنَا ۭ [ وہ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم ] قَالَ [ کہے گا (ان کا رب) ] فَذُوْقُوا الْعَذَابَ [ تو (اب) چکھو عذاب کو ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ [ تم لوگ انکار کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–34

اس کے بعد کافروں کو یاد دہانی فرمائی کہ قیامت کے دن جب اہل کفر آگ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں داخل ہونے لگیں گے تو ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ دنیا میں جب تم سے کہا جاتا تھا کہ کفر کی سزا دوزخ ہے تو تم اسے نہیں مانتے تھے اور جو حضرات اس بات کی خبر دیتے تھے تم ان کا مذاق بناتے تھے اب بولو کیا کہتے ہو کیا یہ آگ جو تمہارے سامنے ہیں اس کا سامنا ہونا اور تمہارا اس میں داخل ہونا حق ہے یا نہیں ﴿ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا 1ؕ ﴾ وہ اس پر کہیں گے کہ ہاں واقعی یہ حق ہے ہم مانتے ہیں تصدیق کرتے ہیں وہ اس بات کو قسم کھا کر کہیں گے لیکن اس وقت اقرار اور قسم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ﴿ قَالَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–35

اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ ” ویوم یعرض “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب کافروں کو دوزخ میں داخل کیا جائیگا تو ان سے کہا جائیگا کہ دنیا میں تم اس عذاب کا انکار کیا کرتے تھے اور وعدہ عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے اب بتاؤ کیا یہ عذاب برحق نہیں ہے اور وہ وعدہ عذاب سچا نہیں تھا ؟ ” قالوا بلی وربنا “ اس کے جواب میں کافر کہیں گے کہ کیوں نہیں، ہمارے پروردگار کی قسم وہ سراپا حق ہے، پھر آواز آئیگی اچھا اب اپنے کفر و انکار کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–35

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے رد میں جنات کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے قرآن پاک سنا تو ایمان قبول کرلیا اور وہ اپنی قوم کی طرف مندر بن کر لوٹے ، اس کے بر خلاف مشرکین مکہ وعرب کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) کے ہم قوم ، ہم زبان اور ہم جنس ہونے کے باوجود غرور وتکبر اور ضد وعناد کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے قاصر ہیں ۔ جناب بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں ، اگر چہ وہ انسانوں سے کم درجہ رکھتے ہیں ان کی تخلیق کے متعلق سورة الحجر میں موجود ہے والجا ن خلقنا من قبل من نارا لسموم (آیت ۔ 7 2 ) انسانوں سے پہلے ہم نے جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا ، شاہ ولی اللہ محدث…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَي النَّارِ۝ 0 ۭ اَلَيْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ۝ 0 ۭ قَالُوْا بَلٰي وَرَبِّنَا۝ 0 ۭ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۝ 34 عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–35

تفسیر : تفسیر اول سورة میں وہ دلائل بیان فرمائے تھے جو قادر حکیم مختار کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔ اس پر دو باتیں متفرع کی تھیں اول بت پرستوں کے قول کا ابطال۔ دوم اثبات توحید خالص۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت میں کلام کیا مخالفین کے جو شبہات تھے ان کے جواب دیے۔ اہل مکہ جو حضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے میں تامل کرتے تھے اس کا باعث دنیا پر غرور اور اس کے لذات و شہوات میں غرق ہونا تھا۔ اس لیے قوم عاد کا حال بیان کر کے دنیا کی بےثباتی اور تمرد کا بدنتیجہ سامنے کھڑا کردیا۔ پھر آپ کی نبوت کی تعمیم شروع کی انس کے لیے تو تھے ہی جن کے لیے بھی ثابت کی۔ اس کے بعد پھر مسئلہ معاد میں کلام کرتا ہے فقال اولم یروان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ ط اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ط قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا ط قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ (الاحقاف : 34) (وہ دن یاد کیجیے جس دن یہ کافر جہنم کی آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ حقیقت نہیں، وہ جواب دیں گے ہاں ! ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حقیقت ہے) ، اللہ فرمائے گا تو چکھو عذاب اس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے۔ ) مکذبین سے ایک سوال اس آیت کریمہ میں قیامت کا انکار کرنے والوں کے سامنے ان کے انجام کی تصویر رکھ کر ایک سوال کیا گیا ہے کہ آج تو تمہیں تمہارے نفسانی تحفظات اور مفاداتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–34

فہم القران ربط کلام : جو لوگ اپنے رب کی دعوت قبول نہیں کرتے ان کو چیلنج اور ان کا انجام۔ جو لوگ ” اللہ “ کی ذات پر اس کے حکم کے مطابق ایمان نہیں لاتے کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے میں اسے کوئی تھکان محسوس نہ ہوئی۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے۔ کیوں نہیں ! بلاشبہ وہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر مکمل اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، اس کے احکام اور اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا انہیں جان لینا چاہیے کہ ایک دن آنے والا ہے جس دن انکار کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 34 : وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ (اور جس روز کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے) ۔ انہیں کہا جائے گا۔ اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّ (کیا یہ دوزخ امر حقیقت نہیں ہے) ظرف کا ناصب قول کا لفظ مضمر ہے۔ اور ہذا کا مشارالیہ عذاب ہے۔ قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ (وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ! ضرور امر واقعی ہے۔ ارشاد ہوگا۔ تو اپنے کفر کے بدلے میں اس کا عذاب چکھو) کیونکہ تم دنیا میں کفر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33 ۔” اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والارض ولم یعی بخلقھن “ ان کے از سر نو پیدا کرنے سے عاجز نہیں آیا۔ ” بقادر “ اسی طرح اکثر حضرات کی قرات ہے اور اس پر باء کے داخل ہونے کی وجہ سے ان کا اختلاف ہوا ہے۔ پس ابوعبیدہ اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ باء زائد ہے تاکید کے لئے۔ جیسے اس کا قول ” تنبت بالدھن “ اور یعقوب نے یقدر یاء کے ساتھ فعل پڑھا ہے اور ابوعبیدہ (رح) نے اکثر حضرات کی قرات کو اختیار کیا ہے۔ اس لئے کہ عبداللہ ؓ کی قرات میں قادر بغیر باء کے ہے۔ ” علی ان یحیے الموتی بلی انہ علی کل شیء قدیر “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–35

33۔ 35۔ حشر کے منکر لوگوں کے پاس کوئی نقلی دلیل تو تھی نہیں صرف عقلی باتوں سے وہ لوگ حشر کا انکار کرتے تھے۔ چناچہ مستدرک 1 ؎ حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے سورة یٰس میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت سے گزر چکا ہے کہ ایک شخص عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی آنحضرت ﷺ کے پاس لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑات جاتا تھا اور بڑے تعجب سے آنحضرت ﷺ سے کہتا تھا کہ کیا اس ہوا میں اڑی ہوئی حاک سے خدا انسان کا پھر پتلا بنا دے گا وہاں سورة یٰس میں بھی اور یہاں اس آیت میں اور سورة مومن میں اور جگہ جگہ ان عقلی اعتراض کرنے والے لوگوں کی عقل میں آنے کے موافق اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ہے حاصل اس جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–35

جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جو حالت ہوگئی اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجرو توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا : (الیس ھذا بالحق) ” کیا یہ حق نہیں ہے ؟ “ جبکہ تم اس جہنم میں پہنچ چکے ہو اور اس کا واضح مشاہدہ بھی کرچکے ہو (قالو ابلی و ربنا) ” تو وہ کہیں گے : کیوں نہیں ہمارے رب ! “ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہوجائے گا۔ (قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون) ” اللہ فرمائے گا : اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو “ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمہاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–35

قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “ حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔ ہمیں عبداللہ بن محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 74] منکرین کی دوزخ پر پیشی کے منظر کا ذکر وبیان : سو منکرین کے انذار کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یاد کرو کہ جس روز کافروں کو دوزخ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ سو ایسا ان بدبختوں سے بطور توبیخ و تقریع اور تذلیل و تحقیر کہا جائے گا کہ اس طرح اہل دوزخ عذاب پر عذاب، رسوائی پر رسوائی اور ذلت پر ذلت اٹھائیں گے۔ اور افسوس پر افسوس کریں گے۔ مگر بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ بہر حال نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت کی باطنی آگ میں اضافے کے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے اس ہولناک دن کو یاد کرو اور اس کو ہمیشہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–35

قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔ ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–35

آیات 27 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–35

ف 1 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبر ہی اولو العزم (ہمت والے) تھے لیکن علمائے سلف نے پانچ پیغمبروں حضرت نوح ابراہیم موسیٰ عیسیٰ اور محمد ﷺ کو خاص طور پر اولالعزم قرار دیا ہے۔ 2 یعنی قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر انہیں دنیا میں اپنے عیش و آرام کا زمانہ بہت ہی مختصر معلوم ہوگا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں دستور ہے کہ گزاری مدت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔ 3 یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہوگئی اب بھی جو شخص نافرمانی میں پڑا رہے گا وہ اپنی شامت خود بلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:34) یوم یعرض الذین کفروا علی النار (ملاحظہ ہو آیت 20: متذکرہ الصدر) ۔ الیس ھذا بالحق۔ اس جملہ سے قبل فیقال لہم مقدر ہے۔ یعنی جب کافر لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے ۔ تو ان سے کہا جائے گا الیس ھذا بالحق (کیا یہ حق نہیں ہے) ھذا کا اشارہ عذاب دوزخ کی طرف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا کیا یہ دوزخ کا عذاب حق نہیں ہے ؟ امر واقعی نہیں ہے ؟ قالوا بلی وربنا : وہ کہیں گے کہ ہمیں ہمارے رب کی قسم ضرور سچ اور حق ہے وائو قسمیہ ہے ربنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمیں اپنے پروردگار کی قسم۔ قال۔ ای قال اللہ لہم۔ فذوقوا۔سببیہ ہے یعنیسے پہلے کا مضمونکے بعد والے مضمون کا سبب ہے۔ دوزخ کا حق ہونا۔ باوجودیکہ وہ دنیا میں اس کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–35

تشریح ـ: آیت نمبر 34 تا 35 جو شخص بھی حق و صداقت کی بات کرتا اور لوگوں کو اس طرف دعوت دیتا ہے اس کو ہمیشہ قوم کی بےرخی ، مخالفت ، دشمنی ، مزاحمت اور طرح طرح کی اذیتوں سے عزم و حوصلہ اور صبر برداشت کے ساتھ گذرنا پڑتا ہے۔ جب سورت الاحقاف کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت مسلمانوں پر کفار کا ظلم و ستم ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا تھا ۔ بنی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی ان مسلسل اذیتوں اور تکلیفوں سے پریشان ہو کر رہ گئے تھے جن کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہ لینا تھا۔ یہ ایک بڑا نازک لمحہ تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جس طرح آپ سے پہلے عزم و ہمت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–35

قیامت ضرور آئے گی۔ (ف 1) حاصل ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کردیا تو اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اسی اگر انسان سمجھے کہ بغیر کسی مصالح کے جس اللہ نے خلاف عقل اتنا بڑا آسمان بلاستون کے کھڑا کردیا اور اتنی بڑی زمین بنادی اور بغیر مادہ مسالہ کے پہلی دفعہ انسان کا مادہ اور مسالہ بھی پیدا کیا اور انسان کی خاک کا مادہ اور مسالہ موجود ہوتے ہوئے انسان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہے ۔ کیا ان کو عقل اتنے کام کی نہیں کہ اس عقل سے یہ لوگ اتنا سمجھ لیویں کہ جس کی قدرت کے آگے مشکل کام آسان ہے اس کو آسان کام کیا مشکل ہے آگے فرمایا کہ اب تو یہ سزا جزا کے منکر لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–35

[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔ نبوت وعزیمت منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن یہ دین حق کے منکر نار دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے اور آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ دوزخ ایک امر واقعی اور غیر مشتبہ حقیقت نہیں ہے وہ کہیں گے ہم کو اپنے پروردگار کی قسم بیشک یہ ایک امر حق اور غیر مشتبہ حقیقت ہے ارشاد ہوگا پس اب اس کفر کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے اس عذاب کا مزہ چکھو۔ دنیا میں جہنم کا انکار کرتے تھے اب دوزخ کے کنارے پر کھڑے ہوکر اور آنکھوں سے دیکھ کر اعتراف کریں گے آگے تسلی ہے نبی کریم ﷺ کے لئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–35

ف 4۔ اولو العزم سے محققین نے سب پیغمبر مراد لئے ہیں، کیونکہ سب کا اہل عزم اور اہل ہمت ہونا ظاہر ہے اور من الرسل میں کلمہ من بیانیہ ہے اور چونکہ حسب ارشاد فضلنا بعضھم علی بعض اس صفت میں بعض رسل علیہ الصلوة والسلام اوروں سے بڑھے ہوئے ہیں، اس بناء پر یہ لقب بعض رسل کا بھی مشہور ہوگیا ہے جیسا کہ اعلام غالبہ میں ہوتا ہے۔ 1۔ یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصہ معلوم ہوگی اور یہی معلوم ہو کہ استعجالا عذاب آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار کو جب آگ پر پیش کیا جائے گا تو ان سے پوچھا جائے گا کہ دیکھو کیا یہ حق ہے ؟ 43 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں کفار مکہ کے اس نظریہ کا ذکر تھا کہ قیامت سے جو تم انکار کرتے ہو اس انکار پر آخر تمہارے پاس دلیل کیا ہے ؟ لیکن نہ تو وہ اس کی کوئی دلیل بتا سکے اور اسلام کی بتائی ہوئی دلیل کو انہوں نے تسلیم کیا جو قیامت کے آنے کے حق میں اس نے پشی کی اور یہ بھی کہ وہ دلیل انہیں کے نظریہ سے پیش کی۔ فرمایا اچا اگر نہیں مانتے تو ایک بات کو کان کھول کر سن لو کہ منکرین قیامت کو جب دوزخ کے اوپرلے جا کر کھڑا کردیا جائے گا اور وہ جس چیز کا انکار کرتے تھے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–35

Commentary أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّ‌سُلِ (...as the resolute messengers observed patience - 46:35). The word 'resolute' has been used here as a qualification for all the messengers, and not only for some of them, because the word 'min' used with 'rusul' is not, according to the authentic exegetes, in the sense of 'some'. It is rather for 'Bayan' (description), to use the grammatical term. The sense is that all messengers are resolute people. Of course, variation in the grades of qualities between messengers is proved from the Holy Qur'an itself: تِلْكَ الرُّ‌سُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

36 This sentence might also be a part of the saying of the jinns, or it might be an addition by Allah to their saying. In view of the context the second view seems to be more reasonable.

Read the full tafseer →