Explained with ayahs 33–35
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہوجا کے کہنے سے ہی ہوگئیں کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہوگئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مردوں کے زندہ کردینے کی سکت نہیں رکھتا ؟ چناچہ دوسری آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الْاَحْقَاف 37
یعنی جس طرح تمہارے پیش رو انبیاء اپنی قوم کی بےرخی، مخالفت، مزاحمت اور طرح طرح کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ سالہا سال تک مسلسل صبر اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ کرتے رہے اسی طرح تم بھی کرو، اور یہ خیال دل میں نہ لاؤ کہ یا تو یہ لوگ جلدی سے ایمان لے آئے یا پھر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
خلاصہ تفسیر
کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا وہ اس پر (بدرجہ اولی) قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو (قیامت میں) زندہ کر دے۔ (اور وہ اس پر قادر) کیوں نہ ہو، بیشک وہ (تو) ہر چیز پر قادر ہے (یہ تو امکان ثابت ہوا) اور جس روز (اس کا وقوع ہوگا اور) کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جاویں گے (اور ان سے پوچھا جاوے گا کہ) کیا یہ دوزخ امر واقعی نہیں ہے جیسا کہ دنیا میں اس کی واقعیت کی نفی کیا کرتے تھے کماقال تعالیٰ عنہم و ما نحن بمعذبین) وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ضرور امر واقعی ہے ارشاد ہوگا (اچھا) اپنے کفر کے بدلہ میں (جسمیں…
Read the full tafseer →اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت ولارض ولم یعنی بخلقھن بقدر علی ان یعی نے الموتی ط بلی انہ علی کل شیء قدیر (33)
مکذبین کو انذار
یہ سورة کے خاتمہ پر مکذبین کو انذار ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنے پر قادر ہے۔ یہی سوال دوسرے مقامات میں بھی قرآن نے منکرین قیامت کے سامنے رکھا ہے۔ مثلاً فرمایا ہے : افعیینا بالخلق الاول (ق : 15) کیا ہم پہلی بار لوگوں کو پیدا کرنے سے عاجز ہے ؟) بعض جگہ یہ سوال کیا ہے کہ بتائو، آسمان و زمین کو پیدا کردینا زیادہ مشکل ہے یا مردوں کو…
Read the full tafseer →33۔ 1 جو اللہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جن کی وسعت و بےکرانی کی انتہا نہیں ہے وہ ان کو بنا کر تھکا بھی نہیں۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ یقینا کرسکتا ہے۔ اس لیے کہ وہ علی کل شیء قدیر کی صفت سے متصف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔
Read the full tafseer →اولم یروا ۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (46 : 33) “ اور کیا ان لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کئے اور ان کو بناتے ہوئے وہ نہ تھکا ، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟ کیوں نہیں ، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے ”۔ یہ ایک طرح توجہ دلانا ہے اس کائنات کی کھلی کتاب کے مطالعہ کی طرف ، جس کا تذکرہ سورت کے آغاز میں بھی ہوا تھا۔ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک نکتہ قرآن مجید میں براہ راست بھی ہوتا ہے۔ پھر وہی بات ایک قصے میں بھی آجاتی ہے ، اس طرح بتا دیا جاتا ہے کہ یہ قصہ اس لیے لایا گیا اور سیاق کلام میں مناسبت آجاتی ہے۔
یہ کتاب پہلے تو یہ بتاتی ہے کہ یہ عظیم…
Read the full tafseer →8 اس لفظ میں " یہود " کے عقیدے کا رد ہے جو کہتے تھے کہ چھ دن میں اللہ نے زمین و آسمان پیدا کیے۔ " ثم استراح " (پھر ساتویں دن آرام کرنے لگا) العیاذ باللہ۔
9 یعنی بڑا عذاب مرنے کے بعد ہوگا اور اس دھوکا میں نہ رہیں کہ مر کر کہاں زندہ ہوتے ہیں۔ اللہ کو یہ کچھ مشکل نہیں۔ جو آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے نہ تھکا، اس کو تمہارا دوبارہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 33 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیََ الْمَوْتٰی } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں ‘ وہ اس پر قادر ہے کہ ُ مردوں کو زندہ کر دے !“
یہ عقلی دلیل ہے اس شخص کے لیے جو اللہ کو ”خالق“ تو مانتا ہے مگر بعث بعد الموت پر یقین نہیں رکھتا۔ سورة قٓکی آیت 15 میں بھی ایسے ”فلسفیوں“ سے سوال کیا گیا ہے : { اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ } کہ کیا ہم کائنات اور اس کی مخلوقات کو ایک دفعہ تخلیق کرنے کے بعد تھک گئے ہیں ؟ کیا اب ہماری…
Read the full tafseer →46 یہود کا اللہ پر تھک جانے کا الزام :۔ اللہ کی ذات کے متعلق تھکنے، آرام کرنے، سونے اور اونگھنے کا تصور ہی یکسر باطل ہے۔ اور ایسا خیال وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ کو بھی اپنے جیسی عاجز اور محتاج مخلوق سمجھتے ہیں حالانکہ کسی بھی چیز سے اللہ کی مثال نہیں دی جاسکتی۔ ان الفاظ سے یہود کے اس عقیدہ کا رد ہوا جو کہتے تھے کہ اللہ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا کئے پھر ساتویں دن آرام کیا۔
Read the full tafseer →36۔ (تو وہ وقت مناسب پر مردوں کے زندہ کرنے پر قادر کیوں نہ ہوگا ؟ ) یعنی امکان بعث تو قدرت حق کے مشاہدہ آثار سے بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ’ ’ ولم یعی بخلقن “۔ یہ تردید ہے اسی یہود اور مسیحی عقیدہ کی کہ خدا چھ روز میں آفرینش کائنات کے بعد تھک گیا تھا، اور ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” بلی ..... قدیر “۔ یہ تردید ہے مشرک قوموں اور جاہلی فلسفیوں کے اس زعم کی کہ خدا موجود تو ہے لیکن اس کی قدرت محدود ہے اور اس کے اختیارات ایک خاص درجہ اور حد سے زیادہ نہیں۔ یورپ میں ایک گروہ مؤحدون (DEISTS) کے نام سے گزرا ہے۔ یہ لوگ وجود باری کے تو قائل تھے، لیکن جزاء وسزائے آخرت اور رسالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔
جنات کے قرآن سننے کا واقعہ :
صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…
Read the full tafseer →اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یعی بخلقھن بقدر علی ان یحی الموتی بلی انہ علی کل شی قدیر کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھک نہیں گیا ‘ وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے ؟ کیوں نہ ہو ‘ بلاشبہ ہو ہر چیز پر قادر ہے۔
اَوَلَمْ یَرَوْا استفہام انکاری ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا یہ کفار دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں اور اس بات کا یقین نہیں کرتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے الخ۔
وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِھِنَّ اور ان کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا اور نہ عاجز ہوگیا کیونکہ اس…
Read the full tafseer →کیا کفار مک نے یہ نہ جانا کہ جس ذات نے زمین و آسمان کو بغیر کسی تکان کے پیدا کردیا تو وہ ان کے دوبارہ زندہ کرنے پر پہلے سے زیادہ قادر ہے ضرور وہ تو زندگی اور موت ہر ایک چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →(1) اولم یروان اللہ الذی…:”اولم یروا“ سے مراد ”اولم یعلموا“ ہے، یعنی ”کیا انہیں معلوم نہیں ؟“ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کو پیدا کرتے ہوئے دیکھا نہیں تھا، بلکہ یہ بات وہ جانتے تھے۔ یہ اسلئے فرمایا کہ یہ بات ان کے ہاں مسلم تھی کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ قیامت کا ذکر بھی یہ کہہ کر فرمایا :(ماخلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی والذین کفروا عما انذروا معرضون) (الاحقاف : 3)”ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقررہ میعاد ہی کے ساتھ پیدا کیا ہیا ور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا…
Read the full tafseer →یہاں رویہ علم کے معنی میں ہے ان اسم کا اور اس کی خبر رویۃ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔
منکرین بعث کے خلاف استدلال ہے۔ کا معنی ہے وہ انہیں پیدا کرنے میں عاجز اور کمزور نہیں، یہ جملہ کہا جاتا ہے، جب وہ ہدایت نہ پائے۔ اس میں ادغام اکثر ہوتا ہے جمع میں تو عیو مخفف کہے گا۔ اس کو تشدید کے ساتھ عیرا بھی کہتے ہیں : کہا
وہ اپنے معاملے میں یوں عاجز آگئے کہ جس طرح کبوتری اپنے انڈے کے بارے میں عاجز آگئی۔
جب تو اس کی صحیح صورت کی طرف ہدایت نہ پائے اعیان ھو اس نے مجھے عاجز کردیا ہے حضرت حسن بصری نے عین کے کسرہ اور یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : یہ قلیل شاذ ہے کیونکہ عین کلمہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں :
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا [ کیا ان لوگوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ [ کہ وہ اللہ جس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] وَلَمْ يَعْيَ [ اور وہ نہیں تھکا ] بِخَلْقِهِنَّ [ان کو پیدا کرنے سے ] بِقٰدِرٍ [ قادر (نہیں ) ہے ] عَلٰٓي اَنْ [ اس پر کہ ] يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ [ وہ زندہ کرے مردوں کو ] بَلٰٓي اِنَّهٗ [ کیوں نہیں یقینا وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ [ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ]
ع ی ی : (س) ۔ عیاء کام کرنے سے عاجز ہونا ، تھک جانا ، زیر مطالعہ آیت ۔ 33 ۔
نوٹ۔ 1: اس سورة کے شروع میں وہ پس منظر واضح کیا گیا ہے جس میں یہ سورة نازل ہوئی تھی ، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اس کے بعد کافروں کو یاد دہانی فرمائی کہ قیامت کے دن جب اہل کفر آگ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں داخل ہونے لگیں گے تو ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ دنیا میں جب تم سے کہا جاتا تھا کہ کفر کی سزا دوزخ ہے تو تم اسے نہیں مانتے تھے اور جو حضرات اس بات کی خبر دیتے تھے تم ان کا مذاق بناتے تھے اب بولو کیا کہتے ہو کیا یہ آگ جو تمہارے سامنے ہیں اس کا سامنا ہونا اور تمہارا اس میں داخل ہونا حق ہے یا نہیں ﴿ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا 1ؕ ﴾ وہ اس پر کہیں گے کہ ہاں واقعی یہ حق ہے ہم مانتے ہیں تصدیق کرتے ہیں وہ اس بات کو قسم کھا کر کہیں گے لیکن اس وقت اقرار اور قسم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ﴿ قَالَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
26:۔ ” اولم یروا۔ الایۃ “ یہ قیامت اور بعث بعد الموت پر عقلی دلیل ہے۔ استفہام انکاری ہے کیا وہ اس بات کو نہیں جانتے اور اس میں غور نہیں کرتے جس خدائے ذوالجلال مالک صفات کمال نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھک ہار کر بیٹھ نہیں گیا اور نہ اس کی قوت و طاقت میں اس سے کوئی ضعف ہی پیدا ہوا ہے۔ فان قدرتہ ذاتیۃ لاینقص ولا ینقطع بالایجاد ابد الابدین (مظہری ج 8 ص 416) ۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ ” بلی “ کیوں نہیں، نہ صرف مردوں کو زندہ کرنے پر بلکہ وہ تو ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہے کہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے رد میں جنات کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے قرآن پاک سنا تو ایمان قبول کرلیا اور وہ اپنی قوم کی طرف مندر بن کر لوٹے ، اس کے بر خلاف مشرکین مکہ وعرب کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) کے ہم قوم ، ہم زبان اور ہم جنس ہونے کے باوجود غرور وتکبر اور ضد وعناد کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے قاصر ہیں ۔
جناب بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں ، اگر چہ وہ انسانوں سے کم درجہ رکھتے ہیں ان کی تخلیق کے متعلق سورة الحجر میں موجود ہے والجا ن خلقنا من قبل من نارا لسموم (آیت ۔ 7 2 ) انسانوں سے پہلے ہم نے جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا ، شاہ ولی اللہ محدث…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللہَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 0 ۭ بَلٰٓي اِنَّہٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ترکیب : یستمعون حال محمولۃ علی المعنیٰ لان نفرامفرد فی اللفظ۔ والنفردون العشرۃ وجمعہ انفار۔ بقادر الیاء مزیدۃ لتاکیدالنفی فانہ مشتمل علی ان ومافی خبرھا۔
تفسیر : قوم عاد کا ذکر کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اے قریش ! تم یہ نہ سمجھو کہ تم عاد جیسے سرکش ایمان نہ لائے تو اور کوئی زور آور ایمان نہیں لائے گا قوم جن تم سے زور آور اور سرکش ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ تو ایمان لاویں اور اپنی قوم کو جا کر ایمان لانے کی رغبت دلائیں اور تم پیغمبر ( علیہ السلام) کے ہم قوم ہم زبان ہم جنس ہو کر یوں اللہ کے داعی سے دور پڑے رہو۔ پس اے محمد ﷺ اذاصرفنا ان سے کہہ دیجئے جبکہ ہم نے تیرے پاس چند جن بھیجے قرآن سننے کو…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِھِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتٰی ط بَلٰٓی اِنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الاحقاف : 33)
(کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ بیشک اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جو ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ قادر ہے اس بات پر کہ مردوں کو زندہ کرے، کیوں نہیں، وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے۔ )
مکذبین کو انذار
سورة کے خاتمے پر مکذبین کے سامنے ایک ایسا سوال رکھا گیا ہے جس کے جواب دینے میں کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں۔ ہر سطح کا آدمی بڑے اطمینان سے مثبت انداز میں اس کا جواب دے سکتا ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القران
ربط کلام : جو لوگ اپنے رب کی دعوت قبول نہیں کرتے ان کو چیلنج اور ان کا انجام۔
جو لوگ ” اللہ “ کی ذات پر اس کے حکم کے مطابق ایمان نہیں لاتے کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے میں اسے کوئی تھکان محسوس نہ ہوئی۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے۔ کیوں نہیں ! بلاشبہ وہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر مکمل اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، اس کے احکام اور اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا انہیں جان لینا چاہیے کہ ایک دن آنے والا ہے جس دن انکار کرنے…
Read the full tafseer →آیت 33 : اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ (کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا) یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ وما مسنا من لغوب۔ ] ق۔ 38[ عرب عییت بالامر اس وقت بولتے ہیں۔ جب اس کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔ بِقٰدِرٍ (وہ اس پر قدرت رکھتا ہے) : یہ محل رفع میں خبر اَنَّ ہے۔ اس پر قراءت عبداللہ بن مسعود قادرٌ دلالت کرتی ہے۔ اور باء کو اس پر داخل کیا گیا کیونکہ ابتدائے آیت نفی پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ اَنّ اور ما اس کے حیز میں ہیں۔
قول الزجاج :
اگر تم اس طرح کہو :…
Read the full tafseer →32 ۔ ” ومن لایجب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض “ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا کہ اس سے چھوٹ جائے۔ ” ولیس لہ من دونہ اولیائ “ مددگار جو اس کو اللہ سے بچا سکیں۔” اولئک فی ضلال مبین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
33۔ 35۔ حشر کے منکر لوگوں کے پاس کوئی نقلی دلیل تو تھی نہیں صرف عقلی باتوں سے وہ لوگ حشر کا انکار کرتے تھے۔ چناچہ مستدرک 1 ؎ حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے سورة یٰس میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت سے گزر چکا ہے کہ ایک شخص عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی آنحضرت ﷺ کے پاس لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑات جاتا تھا اور بڑے تعجب سے آنحضرت ﷺ سے کہتا تھا کہ کیا اس ہوا میں اڑی ہوئی حاک سے خدا انسان کا پھر پتلا بنا دے گا وہاں سورة یٰس میں بھی اور یہاں اس آیت میں اور سورة مومن میں اور جگہ جگہ ان عقلی اعتراض کرنے والے لوگوں کی عقل میں آنے کے موافق اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ہے حاصل اس جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے، یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے بعد باوصف، کسی مشقت کے بغیر ان کو تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمہارے مرنے کے بعد تمہاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز قادر ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 73] منکرین و مکذبین کے لیے انذار :
سو ان لوگوں کے انذار کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمایا اور اس کو ان کی پیدائش سے کسی طرح کی کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ ہاں کیوں نہیں وہ بلاشبہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو جس قادر مطلق نے اپنی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ سے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کو اس حیرت انگیز طریقے سے پیدا فرما دیا اور اس کے لئے اس کو کسی تعب و مشقت اور تکان وغیرہ نے چھوا تک نہیں آخر اس کے لئے یہ امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
آیات 27 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 1 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبر ہی اولو العزم (ہمت والے) تھے لیکن علمائے سلف نے پانچ پیغمبروں حضرت نوح ابراہیم موسیٰ عیسیٰ اور محمد ﷺ کو خاص طور پر اولالعزم قرار دیا ہے۔
2 یعنی قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر انہیں دنیا میں اپنے عیش و آرام کا زمانہ بہت ہی مختصر معلوم ہوگا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں دستور ہے کہ گزاری مدت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔
3 یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہوگئی اب بھی جو شخص نافرمانی میں پڑا رہے گا وہ اپنی شامت خود بلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جاتا۔
Read the full tafseer →(46:33) اولم یروا۔ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے وائو حرف عطف جس سے قبل معطوف علیہ محذوف ہے ۔ ای الم یعلموا ولم یروا کیا وہ نہیں جانتے اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔
لم یروا مضارع مجزوم نفی حجد بلم۔ جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی ہے ای الم یتفکروا۔ الم یعلموا۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔ کیا ان کو علم نہیں۔
ان تحقیق۔ بےشک۔ یقینا ۔ حرف تحقیق ہے اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔
ولم یعی بخلقہن۔ وائو عاطفہ مضارع مجزوم نفی حجد بلم۔ واحد مذکر۔ غائب۔ عی (باب سمع) مصدر۔ عی عیی ماضی، یعیی مضارع۔ عاجز ہونا۔ کامیاب نہ ہونا۔ اعیاء (افعال)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
قیامت ضرور آئے گی۔
(ف 1) حاصل ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کردیا تو اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اسی اگر انسان سمجھے کہ بغیر کسی مصالح کے جس اللہ نے خلاف عقل اتنا بڑا آسمان بلاستون کے کھڑا کردیا اور اتنی بڑی زمین بنادی اور بغیر مادہ مسالہ کے پہلی دفعہ انسان کا مادہ اور مسالہ بھی پیدا کیا اور انسان کی خاک کا مادہ اور مسالہ موجود ہوتے ہوئے انسان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہے ۔ کیا ان کو عقل اتنے کام کی نہیں کہ اس عقل سے یہ لوگ اتنا سمجھ لیویں کہ جس کی قدرت کے آگے مشکل کام آسان ہے اس کو آسان کام کیا مشکل ہے آگے فرمایا کہ اب تو یہ سزا جزا کے منکر لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔
نبوت وعزیمت
منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔…
Read the full tafseer →(33) کیا ان منکرین قیامت نے اس بات کو نہیں دیکھا اور نہیں سمجھا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور بنانے میں وہ ذرا بھی نہیں تھکا وہ اللہ تعالیٰ بدرجہ اولیٰ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے کیوں نہیں وہ ضرور قارد ہے۔ بیشک وہ ہر چیزپر قدرت رکھتا اور ہر چیز کرسکتا ہے۔ یعنی یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے اور آسمان و زمین پیدا کرنے میں اس کو تھکاوٹ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے جواب فرمایا بیشک وہ قادر ہے اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا اس کو کیا مشکل ہے وہ ہر چیز کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ف 4۔ اولو العزم سے محققین نے سب پیغمبر مراد لئے ہیں، کیونکہ سب کا اہل عزم اور اہل ہمت ہونا ظاہر ہے اور من الرسل میں کلمہ من بیانیہ ہے اور چونکہ حسب ارشاد فضلنا بعضھم علی بعض اس صفت میں بعض رسل علیہ الصلوة والسلام اوروں سے بڑھے ہوئے ہیں، اس بناء پر یہ لقب بعض رسل کا بھی مشہور ہوگیا ہے جیسا کہ اعلام غالبہ میں ہوتا ہے۔
1۔ یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصہ معلوم ہوگی اور یہی معلوم ہو کہ استعجالا عذاب آگیا۔
Read the full tafseer →مخالفین ‘ معاندین اور مکذبین کو معلوم نہیں کہ آسمانوں زمین کو پیدا کرنیوالا اللہ ہے :
33 ؎ اب مضمون کا رخ نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخالفین ‘ معاندین اور مکذبین کی طرف پر تا ہے جو قیامت کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے اور یہی سب سے بڑا کانٹا تھا جو ان کے گلے میں پھنس گیا تھا اور وہ اس کو نگل نہیں سکتے تھے اور بضد تھے کہ اگر تم سچے ہو تو اس کو فوراً لے آئو ورنہ اس تعلیم و تبلیغ سے باز آئو۔ توحید کے اعلان کے بعد دوسری یہی سب سے بڑی بات تھی جس کو وہ ہضم نہیں کرسکے تھے۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اچھا یہ تو بتائو کہ اس کارخانہ کائنات کا پیدا کرنے والا تو تم بھی مانتے ہو کہ اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
Commentary
أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (...as the resolute messengers observed patience - 46:35). The word 'resolute' has been used here as a qualification for all the messengers, and not only for some of them, because the word 'min' used with 'rusul' is not, according to the authentic exegetes, in the sense of 'some'. It is rather for 'Bayan' (description), to use the grammatical term. The sense is that all messengers are resolute people. Of course, variation in the grades of qualities between messengers is proved from the Holy Qur'an itself:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
36 This sentence might also be a part of the saying of the jinns, or it might be an addition by Allah to their saying. In view of the context the second view seems to be more reasonable.
Read the full tafseer →