Explained with ayahs 30–32
ایمان دار جنوں کی آخری منزل
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے حضرت عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے پس اصل چیز توراۃ ہی رہی اسی لئے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر حضرت ورقہ بن نوفل نے جس وقت حضور ﷺ کی زبانی حضرت جبرائیل کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 36
ہو سکتا ہے کہ یہ فقرہ بھی جنوں ہی کے قول کا حصہ ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ان کے قول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہو۔ فحوائے کلام سے دوسری بات زیادہ قریب قیاس محسوس ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(آیت) يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ حرف من اصل میں تبعیض یعنی جزئیت کے معنی کے لئے آتا ہے اگر یہی معنی یہاں لئے جائیں تو حرف من کے بڑھانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسلام قبول کرلینے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ فرمانا مناسب ہوا کہ بعض گناہ یعنی حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں اور بعض حضرات نے اس حرف من کو زائد قرار دیا ہے تو اس توجیہ کی ضرورت نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
قالوا یقومنا انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین بدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، یقومنا اجیبوا داعی اللہ کی آمنوا بہ یغترتکم من ذنوبکم و یخرکم من عذاب الیم، ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء ط اولئک فی ضل مبین 32-30)
جنوں کی دعوت اپنی قوم کو
یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنی گمراہ قوم کو دی۔ سب سے پہلے انہوں نے اس کتاب کا تعارف کرایا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی ہے جو اس کے باب میں سابق صحیفوں میں وارد ہوئی ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد صاحب شریعت نبی آنحتر ﷺ ہی میں آپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بنی…
Read the full tafseer →32۔ 1 یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ زمین کی وسعتوں میں اس طرح گم ہوجائے کہ اللہ کی گرفت میں نہ آسکے۔
۔ 32۔ 1 جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیں۔ مطلب یہ ہوا کہ نہ وہ خود اللہ کی گرفت سے بچنے پر قادر ہے اور نہ کسی دوسرے کی مدد سے ایسا ممکن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔
Read the full tafseer →ومن لا یحب داعی اللہ ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (46 : 32) “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زج کر دے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی اور سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ”۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان جنوں کے ڈراوے کا یہ ایک قدرتی حصہ ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا کیونکہ انہوں نے ان کو دعوت ایمان اور قبولیت حق دی۔ لہٰذا ڈراوے کا بعد قوی احتمال اس کا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا تو انجام کیا ہوگا۔ اور جو قبول نہ کرے گا وہ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا کہ اللہ اس پر سزا وجزاء…
Read the full tafseer →7 یعنی نہ خود بھاگ کر خدا کی مار سے بچ سکے نہ کوئی دوسرا بچا سکے حضرت شاہ صاحب " فی الارض " کی قید پر لکھتے ہیں کہ " (شیاطین کو) اوپر سے فرشتے مارتے ہیں تو زمین ہی کو بھاگتے ہیں۔ "
Read the full tafseer →آیت 32 { وَمَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ } ”اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں“
{ وَلَیْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئُط اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”اور نہیں ہوں گے اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“
یہاں پر ”دَاعِیَ اللّٰہِ“ کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک دنیا میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا انبیاء ورسل ہی ”اللہ کے داعی“ تھے۔ لیکن اب حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے امتیوں کو ”دَاعِیَ اللّٰہِ“ کی حیثیت سے لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
45 کیونکہ جن اب اوپر آسمان کی طرف تو جا نہیں سکتے اور اگر جائیں تو فرشتے انہیں مار بھگاتے ہیں۔ لہذا اب زمین ہی ان کی پناہ گاہ ہے۔ اب زمین سے بھاگ کر جائیں تو کہاں جائیں ؟
Read the full tafseer →35۔ (کہ باوجود وضوح حق و قیام دلائل کے داعی حق کی بات پر کان نہیں دھرتے اور اس کی تکذیب میں لگے ہوئے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔
جنات کے قرآن سننے کا واقعہ :
صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…
Read the full tafseer →ومن لا یجب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیاء اولئک فی ضلل مبین اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا نہ مانے گا تو وہ زمین میں ہرا نہیں سکتا ‘ اور اللہ کے سوا کوئی اس کا حامی بھی نہ ہوگا۔ ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
دَاعِیَ اللّٰہِ یعنی محمد ﷺ جو اسلام کی طرف بلانے والے ہیں۔
یَغْفِرْلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا ‘ یعنی وہ گناہ معاف کر دے گا جن کا تعلق حق اللہ سے ہوگا ‘ حقوق العباد ایمان لانے سے معاف نہیں ہوتے۔ جنات کی اس تبلیغ سے ستر جن مسلمان ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ حضور ﷺ اس وقت بطحاء میں تھے۔ آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر…
Read the full tafseer →اور جو آپ کا کہنا نہ مانے تو وہ عذاب الہی سے بچ نہیں سکتا اور اللہ کے علاوہ اس کے اقرباء اس کے کام نہیں آسکتے اور ایسے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →(1) ومن لایحب داعی اللہ …: بشارت کے بعد یہ نذارت ہے، جس میں اس کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة جن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے :(وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض ولن نعجزہ ہرباً) (الجن : 12)”اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا کہ بیشک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کرسکیں گے۔“
(2) ولیس لہ من دونہ اولیآء : یعنی اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول نہ کرنے والا نہ خود دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے مددگار اس کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناپید پائے گا اور نہ اس پر سبقت لے جاسکے گا اس کے ایسے مددگار نہیں ہیں جو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں :
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّا يُجِبْ [ اور جو کہا نہیں مانے گا ] دَاعِيَ اللّٰهِ [ اللہ کی دعوت دینے والے کا ] فَلَيْسَ [ تو وہ نہیں ہے ] بِمُعْجِزٍ [ عاجز کرنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَيْسَ لَهٗ [ اور نہیں ہیں اس کے لیے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس (اللہ ) کے سوا ] اَوْلِيَاۗءُ ۭ [ کچھ کار ساز لوگ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] فِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍ [ کھلی گمراہی میں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
﴿ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ ﴾ (الآیۃ) یہ جنات کے کلام کا تتمہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو کوئی شخص اللہ کے داعی کی بات نہ مانے یعنی ایمان نہ لائے تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور عذاب میں گرفتار ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب گرفت ہوگی تو کہیں بھاگ کر نہیں جاسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی مدد نہ کرسکے گا جس نے اللہ کے داعی کی نافرمانی کی وہ واضح گمراہی میں ہے۔
جو لوگ توحید کے منکر ہوتے ہیں وقوع قیامت کے بھی قائل نہیں ہوتے لہٰذا دعوت توحید کے بعد وقوع کا قیامت کا بھی تذکرہ فرمایا اور منکرین کا استبعاد دور کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے غور نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
26:۔ ” اولم یروا۔ الایۃ “ یہ قیامت اور بعث بعد الموت پر عقلی دلیل ہے۔ استفہام انکاری ہے کیا وہ اس بات کو نہیں جانتے اور اس میں غور نہیں کرتے جس خدائے ذوالجلال مالک صفات کمال نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھک ہار کر بیٹھ نہیں گیا اور نہ اس کی قوت و طاقت میں اس سے کوئی ضعف ہی پیدا ہوا ہے۔ فان قدرتہ ذاتیۃ لاینقص ولا ینقطع بالایجاد ابد الابدین (مظہری ج 8 ص 416) ۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ ” بلی “ کیوں نہیں، نہ صرف مردوں کو زندہ کرنے پر بلکہ وہ تو ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہے کہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
ربط آیات :
سورۃ ہذا حوا میم سبعہ کی آخری سورة ہے ، ان تمام سورتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اصول ہی بیان کئے گئے ہیں ، توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ان سورتوں کا خاص موضوع ہے ، اس ضمن میں گزشتہ آیات میں اللہ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ وہ بڑے متکبر لوگ تھے ، اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے ان کو احقاف کے مقام میں اللہ کی گرفت سے ڈرایا اور صاف فرمایا الا تعبدو الا اللہ (آیت ۔ 1 2 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، مجھے خطرہ ہے ، کہ کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو ، اللہ نے اس مغرور قوم کا ذکر اہل مکہ کو سمجھانے کے لئے کیا اور فرمایا کہ قوم عاد تو تم سے زیادہ طاقتور…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللہِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْاَرْضِ وَلَيْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءُ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍ 32
عجز
والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ،
( ع ج ز ) عجز الانسان
عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ترکیب : یستمعون حال محمولۃ علی المعنیٰ لان نفرامفرد فی اللفظ۔ والنفردون العشرۃ وجمعہ انفار۔ بقادر الیاء مزیدۃ لتاکیدالنفی فانہ مشتمل علی ان ومافی خبرھا۔
تفسیر : قوم عاد کا ذکر کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اے قریش ! تم یہ نہ سمجھو کہ تم عاد جیسے سرکش ایمان نہ لائے تو اور کوئی زور آور ایمان نہیں لائے گا قوم جن تم سے زور آور اور سرکش ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ تو ایمان لاویں اور اپنی قوم کو جا کر ایمان لانے کی رغبت دلائیں اور تم پیغمبر ( علیہ السلام) کے ہم قوم ہم زبان ہم جنس ہو کر یوں اللہ کے داعی سے دور پڑے رہو۔ پس اے محمد ﷺ اذاصرفنا ان سے کہہ دیجئے جبکہ ہم نے تیرے پاس چند جن بھیجے قرآن سننے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
یٰـقَوْمَنَـآ اَجِیْـبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ وَمَنْ لاَّیُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَلَیْسَ لَـہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئُ ط اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الاحقاف : 31، 32)
(اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو، اور اس پر ایمان لائو، اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا، وہ زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے اور نہ اس کے لیے اس کے بالمقابل کوئی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جنوں کے وفد کا اپنے ساتھیوں سے خطاب۔
جنوں کے وفد نے قرآن اور نبی ﷺ پر ایمان لانے کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو یہ بھی بتلایا کہ جس نے داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول نہ کی وہ اللہ تعالیٰ کو زمین میں عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی گرفت کرنے پر آئے تو اس کی کوئی حمایت کرنے والا نہیں ہوگا۔ جنہوں نے داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول نہ کی وہ کھلی گمراہی میں مبتلا رہیں گے۔ جنوں کے وفدنے اپنے ساتھیوں کو دعوت دیتے ہوئے یہ بات بھی باور کروائی کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلے میں ہمیں زیادہ قوت عطا فرمائی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں…
Read the full tafseer →آیت 32 : وَمَنْ لاَّ یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا۔ وہ زمین میں ہرا نہیں سکتا) یعنی اس کو عذاب سے نجات پانے کے لئے بھاگنے کی جگہ نہ ملے گی۔ وَلَیْسَ لَہٗٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئُ اُولٰٓپکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی حامی بھی نہ ہوگا۔ ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں)
Read the full tafseer →تفسیر :
31 ۔” یاقومنا اجیبوا داعی اللہ “ یعنی محمد ﷺ ۔ ” وامنوا بہ یغفر لکم من ذنوبکم “ …” من “ صلہ ہے یعنی ذنوبکم تمہارے گناہوں کو۔ ” ویجر کم من عذاب الیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پس ان کی قوم میں سے ستر جنوں نے دعوت کو قبول کیا۔ پس وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور بطحاء میں آپ ﷺ کو پایا تو آپ (علیہ السلام) نے ان پر قرآن پڑھا اور ان کو حکم دیا اور نہی کی اور اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ آپ (علیہ السلام) جنوں اور انسانوں سب کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں آپ (علیہ السلام) سے پہلے کوئی جنوں و انسانوں کی طرف اکٹھے نہیں بھیجا گیا اور علماء کا اختلاف ہوا ہے جنوں میں سے مومنین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 32۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات نہیں کی بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے ‘ بیہقی حافظ ابن حجر اور علما نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اسی کا ذکران آیتوں اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے ‘ اس دفعہ جنات کے آنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے، یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے بعد باوصف، کسی مشقت کے بغیر ان کو تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمہارے مرنے کے بعد تمہاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز قادر ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 72] دعوت حق سے روگردانی کا نتیجہ کھلی گمراہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہیں۔ کیونکہ حق پوری طرح واضح ہوگیا اور اس میں کوئی غموض و خفا باقی نہیں رہ گیا۔ اب اس سے دور اور نفور رہنا سوائے کھلی گمراہی کے اور کچھ نہیں جس کا انجام بہت بھیانک ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو دین حق سے منہ موڑنا اور نور حق سے محروم رہنا محرومیوں کی محرومی اور دارین کا خسارہ اور نقصان ہے۔ اور ایسے بدبختوں کیلئے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ نہ وہ اپنے خالق ومالک کے حقوق سے واقف و آگاہ ہیں نہ ان کو اپنے مآل و انجام کے بارے میں کوئی آگاہی ہے اور نہ ان کو اپنے مقصد حیات کا کچھ پتہ ہے۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
آیات 27 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔
10 جنوں کے متعلق جس واقعہ کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی متعدد روایات سے معلمو ہوتا ہے کہ وہ بطن نخلہ میں پیش آیا جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آنحپرت کی بعث سے پہلے جنوں کو آسمان کی کچھ خبریں مل جایا کرتی تھیں مگر آنحضرت کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا اور جن خبریں حاصل کرنے کے لئے اوپر جاتے تو ان کو کثرت سے شہب کی مار پڑتی۔ اس پر انہیں خیال ہوا کہ زمین میں ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمان پر سخت پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ اس جستجو میں جنوں کے مختلف گروہ…
Read the full tafseer →(46:32) ومن : وائو عاطفہ من شرطیہ ہے۔ من لا یجب داعی اللہ جملہ شرط ہے ۔ اور فلیس بمعجز فی الارض۔ جواب شرط ہے۔ لا یحب مضارع منفی واحد مذکر غائب (مضارع مجزوم بوجہ عمل من شرطیہ ہے ) جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا۔
فلیس بمعجز۔ اس میںجواب شرط کا ہے لیس فعل ناقص واحد مذکر غائب۔ وہ نہیں ہے۔ معجز اسم فاعل واحد مذکر۔ اعجاز (افعال) مصدر۔ عاجز کرنے والا۔ تھکا دینے والا۔ تو وہ زمین پر خدا کو عاجز نہیں کرسکے گا۔ (کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دینا چاہے اور وہ اس کی دسترس سے بچ نکلے۔
اولئک : یعنی جو لوگ اللہ کے داعی کے کہنے کو نہ مانیں گے۔ ضلل مبین : موصوف وصفت کھلی گمراہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
جنوں کا ایمان لانا۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت قرآن سننے کے لیے بھیجی ، جب آپ بطن نخلہ میں مکہ مکرمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر قرات پڑھ رہے تھے یہی قرآن ان جنات نے سنی اور پھر جاکر اپنی قوم سے قرآن کی تعریف کی اس پر بہت بڑا قافلہ جنات کا دین اسلام کی باتیں سیکھنے آیا اور جب وہ جنات اس جگہ پہنچ گئے جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے تو اللہ نے ان کے دل میں قرآن کے سننے کا ایسا شوق پیدا کردیا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو یہ کلام اچھی طرح سننے دو ، اور جب وہ جنات قرآن کی نصیحت سن کر رسول اللہ پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔
نبوت وعزیمت
منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔…
Read the full tafseer →(32) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو زمین میں کہیں بھاگ کر تھکا نہیں سکے گا اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بھاگ کر زمین میں اوپر سے فرشتے مارتے ہیں تو زمین ہی کو تو بھاگتے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ زمین کے کسی حصے میں بھاگ کر خدا تعالیٰ کو عاجز کردے یہ نہیں ہوسکتا اور جس طرح یہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا اسی طرح اس کا کوئی حمایتی بھی نہیں ہوسکتا ایسے لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی داعی کے برحق ہونے پر دلائل قابم ہوجانے کے بعد پھر داعی کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ف 4۔ اولو العزم سے محققین نے سب پیغمبر مراد لئے ہیں، کیونکہ سب کا اہل عزم اور اہل ہمت ہونا ظاہر ہے اور من الرسل میں کلمہ من بیانیہ ہے اور چونکہ حسب ارشاد فضلنا بعضھم علی بعض اس صفت میں بعض رسل علیہ الصلوة والسلام اوروں سے بڑھے ہوئے ہیں، اس بناء پر یہ لقب بعض رسل کا بھی مشہور ہوگیا ہے جیسا کہ اعلام غالبہ میں ہوتا ہے۔
1۔ یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصہ معلوم ہوگی اور یہی معلوم ہو کہ استعجالا عذاب آگیا۔
Read the full tafseer →جو شخص اس داعی کی بات کو قبول نہیں کریگا اس کا کوئی دوست نہیں ہوگا :
23 ؎ وہ اپنی قوم ہی کے لوگوں کو مخاطب کر کے بات کر رہے ہیں اور قوم پر واضح کر رہے ہیں کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! جس شخص نے اس داعی الی اللہ کی بات کو نہسنا اور اس پر کان نہ رکھا اس کے بیان کی رپوا نہ کس اس نے اپنا ہینقصان کیا کیونکہ یہ کلام اللہ کا ہے کسی بندہ کا نہیں اور پھر جس شخص نے اللہ کے کلام کو ٹھکررا دیا وہ یقیناً اس دنیا میں بھی ٹھکرایا جائے گا اور آخرت میں بھی اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ یہ کلام اللہ کا ‘ یہ زمین اللہ کی اور پھر کوئی شخص اللہ کو عاجز کرنے کی کوشش میں مصروف ہوجائے تو اس کی کامیابی کی کوئی صورت ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
Commentary
أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (...as the resolute messengers observed patience - 46:35). The word 'resolute' has been used here as a qualification for all the messengers, and not only for some of them, because the word 'min' used with 'rusul' is not, according to the authentic exegetes, in the sense of 'some'. It is rather for 'Bayan' (description), to use the grammatical term. The sense is that all messengers are resolute people. Of course, variation in the grades of qualities between messengers is proved from the Holy Qur'an itself:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
36 This sentence might also be a part of the saying of the jinns, or it might be an addition by Allah to their saying. In view of the context the second view seems to be more reasonable.
Read the full tafseer →