Al-Ahqaf 46:31

Al-Ahqaf · from ayah 31

46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَاٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَیُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِىَ اللّٰهِ وَاٰمِنُوۡا بِهٖ يَغۡفِرۡ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَ لِيۡمٍ

اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O our people, respond to the Messenger of Allah and believe in him; Allah will forgive for you your sins and protect you from a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:31

اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو، اس پر ایمان ﻻؤ، تو اللہ تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناه دےگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی بات مان لو، اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ہماری قوم! اللہ کے منادی کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہماری قوم! تم اﷲ کی طرف بلانے والے (یعنی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول کر لو اور ان پر ایمان لے آؤ (تو) اﷲ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہماری قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمہیں تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہماری قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو، اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے گا اور تم کو ایک درد ناک عذاب سے پناہ دے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہماری قوم کے لوگوں تم قبول کرلو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو اور (صدقِ دل) سے ایمان لے آؤ اس پر اللہ معاف فرما دے گا تمہارے گناہوں کو اور بچا دے گا تم کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے قوم والو کہنامانو اللہ کی طرف بلانے والے کا اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں محفوظ رکھے گا عذاب درد ناک سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لے آئو تاکہ وہ (اللہ) تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک درد ناک عذاب سے بچا لے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Our people, respond to the call of him who calls you to Allah and believe in him. Allah will forgive your sins and will protect you from a grievous chastisement.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O our people, respond to Allah‘s herald, and believe in him, and (once you do that,) Allah will forgive your sins for you, and will save you from a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

O our people, respond to Allah‘s herald, and believe in him, and (once you do that,) Allah will forgive your sins for you, and will save you from a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O our people! Respond to Allah's Caller, and believe in him. He (Allah) will forgive you some of your sins, and protect you from a painful torment."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O our people! respond to Allah's summoner and believe in Him. He will forgive you some of your sins and guard you from a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O our people, respond to the Messenger of Allah and believe in him; Allah will forgive for you your sins and protect you from a painful punishment.

— Saheeh International

Our people, respond favorably to the Messenger of God and believe in Him. He will forgive your sins and rescue you from the painful torment.

— Muhammad Sarwar

O our people! accept the Divine caller and believe in Him, He will forgive you of your faults and protect you from a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

O our people! answer Allah's summoner and believe in him; He shall forgive you your sins and shall shelter you from a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

"O our people, hearken to the one who invites (you) to Allah, and believe in him: He will forgive you your faults, and deliver you from a Penalty Grievous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–32

ایمان دار جنوں کی آخری منزل اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے حضرت عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے پس اصل چیز توراۃ ہی رہی اسی لئے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر حضرت ورقہ بن نوفل نے جس وقت حضور ﷺ کی زبانی حضرت جبرائیل کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْقَاف 35 معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد جنوں کے پے درپے وفود نبی ﷺ کے پاس حاضر ہونے لگے اور آپ سے ان کی رو در رو ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس بارے میں جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کم از کم چھ وفد آئے تھے۔ ان میں سے ایک وفد کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مکہ میں رات بھر غائب رہے۔ ہم لوگ سخت پریشان تھے کہ کہیں آپ پر کوئی حملہ نہ کردیا گیا ہو۔ صبح سویرے ہم نے آپ کو حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا۔ پوچھنے پر آپ نے بتایا کہ ایک جن مجھے بلانے آیا تھا۔ میں نے اس کے ساتھ آ کر یہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–32

(آیت) يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ حرف من اصل میں تبعیض یعنی جزئیت کے معنی کے لئے آتا ہے اگر یہی معنی یہاں لئے جائیں تو حرف من کے بڑھانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسلام قبول کرلینے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ فرمانا مناسب ہوا کہ بعض گناہ یعنی حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں اور بعض حضرات نے اس حرف من کو زائد قرار دیا ہے تو اس توجیہ کی ضرورت نہیں رہتی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–32

قالوا یقومنا انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین بدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، یقومنا اجیبوا داعی اللہ کی آمنوا بہ یغترتکم من ذنوبکم و یخرکم من عذاب الیم، ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء ط اولئک فی ضل مبین 32-30) جنوں کی دعوت اپنی قوم کو یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنی گمراہ قوم کو دی۔ سب سے پہلے انہوں نے اس کتاب کا تعارف کرایا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی ہے جو اس کے باب میں سابق صحیفوں میں وارد ہوئی ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد صاحب شریعت نبی آنحتر ﷺ ہی میں آپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–31

31۔ 1 یہ جنوں نے اپنی قوم کو نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی اس سے قبل قرآن کریم کے متعلق بتلایا کہ یہ تورات کے بعد ایک اور آسمانی کتاب ہے جو سچے دین اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ 31۔ 2 یہ ایمان لانے کے وہ فائدے بتلائے جو آخرت میں انہیں حاصل ہوں گے من ذنوبکم میں من تبعیض کے لیے ہے یعنی بعض گناہ معاف فرما دے گا اور یہ وہ گناہ ہوں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوگا کیونکہ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ثواب و عقاب اور اوامر ونواہی میں جنات کے لیے بھی وہی حکم ہے جو انسانوں کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 30–35

16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یقومنا اجیبوا داعی اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 31) “ اے ہماری قوم کے لوگو ، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچائے گا ” ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ جن و انس دونوں کے لئے دعوت ہے اور اسے پوری زمین کے لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ اور اس کتاب کو سنتے ہی انہوں نے اس بات کو پالیا کہ حضرت محمد ﷺ داعی الی اللہ ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں بخشش نصیب ہوتی ہے اور اللہ کے عذاب سے بچا جاسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے جو کچھ سمجھا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اس کی بات مانو جو اللہ کی طرف بلا رہا ہے اور اس کی رسالت پر یقین کرو۔ 6 یعنی جو گناہ حالت کفر میں کرچکے ہو، اسلام کی برکت سے سب معاف ہوجائیں گے۔ آئندہ سے نیا کھاتہ شروع ہوگا۔ لیکن یاد رہے کہ یہاں ذنوب کا ذکر ہے۔ حقوق العباد کا معاف ہونا اس سے نہیں نکلتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31 { یٰـقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ } ”اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو“ { وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْ لَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ } ”اور اس پر ایمان لے آئو تاکہ وہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک درد ناک عذاب سے بچا لے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–32

45 کیونکہ جن اب اوپر آسمان کی طرف تو جا نہیں سکتے اور اگر جائیں تو فرشتے انہیں مار بھگاتے ہیں۔ لہذا اب زمین ہی ان کی پناہ گاہ ہے۔ اب زمین سے بھاگ کر جائیں تو کہاں جائیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–31

34۔ آیت اس باب میں تو صاف وصریح ہے کہ جنات ایمان لے آنے کے بعد عذاب الہی سے بچ جائیں گے۔ لیکن اس باب میں ناطق وصریح نہیں کہ ایمان لانے پر جنت میں بھی داخل ہوجائیں گے۔ ان کے دخول جنت کے باب میں خاموشی ہے۔ امام ابوحنفیہ (رح) سے غایت احتیاط کی بناء پر جنات کے دخول جنت کے بارے میں سکوت وتوقف منقول ہے۔ قال ابوحنیفۃ لاثواب لھم الالنجاۃ من النار لھذہ الایۃ (مدارک) وقال النسفی فی التیسیر توقف ابوحنیفۃ فی ثواب الجن فی الجنۃ ونعیمھم لانہ لااستحقاق للعبد علی اللہ تعالیٰ ولم یقل بطریق الوعد فی حقھم الاالمغفرۃ والا جارۃ من العذاب واما نعیم الجنۃ فموقوف علی الدلیل (روح) البتہ دوسرے ائمہ نے جنات کے مستحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–35

واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔ جنات کے قرآن سننے کا واقعہ : صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقومنا اجیبوا داعی اللہ وامنوا بہ یغفرلکم من ذنوبکم ویجرکم من عذاب الیم اے ہماری قوم (کے بھائیو ! ) اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ ‘ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے بھائیو تم رسول اکرم کی بات پر لبیک کہو جو توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور ان پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ زمانہ جاہلیت کے تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یقومنآ…:”یقومنآ“ کے ساتھ دوبارہ مخاطب کرنے کا مقصد اس بات کے اہم ہونے کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ جس طرح خطیب کسی اہم بات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اثنائے کلام میں ”ایھا الناس کہتا ہے۔۔ (ابن عاشور) (2) اجینوا داعی اللہ :”’ اعی اللہ“ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی دعوت اپنی ذات یا کسی بھی مخلوق کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کی اطاعت کی طرف تھی، جیسا کہ فرمایا :(قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ و علی بصیرۃ اناومن اثبعنی وسبحن اللہ وما انا من المشرکین) (یوسف :108)”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر ، میں اور وہ بھی جنہوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–31

کتاب سے مراد قرآن ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تھے۔ عطا نے کہا : وہ پہلے یہودی تھے تو اسلام لے آئے، اسی وجہ سے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : جنوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بارے میں نہیں سنا تھا (3) اسی وجہ سے انہوں نے کہا : یعنی وہ تو رات کی تصدیق کرنے والے : وہ دین حق کی طرف دعوت دینے والے تھے : یعنی اللہ تعالیٰ کے دین قدیم کی طرف۔ داعی سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کی ذات جنوں اور انسانوں کی طرف مبعوث تھی۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ کی ذات سے قبل کوئی نبی جنوں اور انسانوں کی طرف معبوث نہیں کیا گیا۔ میں کہتا ہوں : اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–34

جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں : 1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا [ اے ہماری قوم تم لوگ کہا مانو ] دَاعِيَ اللّٰهِ [ اللہ کی دعوت دینے والے کا ] وَاٰمِنُوْا بِهٖ [ اور تم لوگ ایمان لاؤ اس پر ] يَغْفِرْ لَكُمْ [ تو وہ (اللہ ) بخش دے گا تمہارے لیے ] مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ [ تمہارے گناہوں میں سے ] وَيُجِرْكُمْ [اور وہ امان دے گا تم کو ] مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ [ ایک درد ناک عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–32

﴿ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ ﴾ (الآیۃ) یہ جنات کے کلام کا تتمہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو کوئی شخص اللہ کے داعی کی بات نہ مانے یعنی ایمان نہ لائے تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور عذاب میں گرفتار ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب گرفت ہوگی تو کہیں بھاگ کر نہیں جاسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی مدد نہ کرسکے گا جس نے اللہ کے داعی کی نافرمانی کی وہ واضح گمراہی میں ہے۔ جو لوگ توحید کے منکر ہوتے ہیں وقوع قیامت کے بھی قائل نہیں ہوتے لہٰذا دعوت توحید کے بعد وقوع کا قیامت کا بھی تذکرہ فرمایا اور منکرین کا استبعاد دور کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے غور نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–35

اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–33

26:۔ ” اولم یروا۔ الایۃ “ یہ قیامت اور بعث بعد الموت پر عقلی دلیل ہے۔ استفہام انکاری ہے کیا وہ اس بات کو نہیں جانتے اور اس میں غور نہیں کرتے جس خدائے ذوالجلال مالک صفات کمال نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھک ہار کر بیٹھ نہیں گیا اور نہ اس کی قوت و طاقت میں اس سے کوئی ضعف ہی پیدا ہوا ہے۔ فان قدرتہ ذاتیۃ لاینقص ولا ینقطع بالایجاد ابد الابدین (مظہری ج 8 ص 416) ۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ ” بلی “ کیوں نہیں، نہ صرف مردوں کو زندہ کرنے پر بلکہ وہ تو ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہے کہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–32

ربط آیات : سورۃ ہذا حوا میم سبعہ کی آخری سورة ہے ، ان تمام سورتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اصول ہی بیان کئے گئے ہیں ، توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ان سورتوں کا خاص موضوع ہے ، اس ضمن میں گزشتہ آیات میں اللہ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ وہ بڑے متکبر لوگ تھے ، اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے ان کو احقاف کے مقام میں اللہ کی گرفت سے ڈرایا اور صاف فرمایا الا تعبدو الا اللہ (آیت ۔ 1 2 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، مجھے خطرہ ہے ، کہ کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو ، اللہ نے اس مغرور قوم کا ذکر اہل مکہ کو سمجھانے کے لئے کیا اور فرمایا کہ قوم عاد تو تم سے زیادہ طاقتور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللہِ وَاٰمِنُوْا بِہٖ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۝ 31 قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جوب والجواب يقال في مقابلة السؤال، والسؤال علی ضربین : طلب مقال، وجوابه المقال . وطلب نوال، وجوابه النّوال . فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ، وعلی الثاني قوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–33

ترکیب : یستمعون حال محمولۃ علی المعنیٰ لان نفرامفرد فی اللفظ۔ والنفردون العشرۃ وجمعہ انفار۔ بقادر الیاء مزیدۃ لتاکیدالنفی فانہ مشتمل علی ان ومافی خبرھا۔ تفسیر : قوم عاد کا ذکر کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اے قریش ! تم یہ نہ سمجھو کہ تم عاد جیسے سرکش ایمان نہ لائے تو اور کوئی زور آور ایمان نہیں لائے گا قوم جن تم سے زور آور اور سرکش ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ تو ایمان لاویں اور اپنی قوم کو جا کر ایمان لانے کی رغبت دلائیں اور تم پیغمبر ( علیہ السلام) کے ہم قوم ہم زبان ہم جنس ہو کر یوں اللہ کے داعی سے دور پڑے رہو۔ پس اے محمد ﷺ اذاصرفنا ان سے کہہ دیجئے جبکہ ہم نے تیرے پاس چند جن بھیجے قرآن سننے کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–32

یٰـقَوْمَنَـآ اَجِیْـبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ وَمَنْ لاَّیُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَلَیْسَ لَـہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئُ ط اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الاحقاف : 31، 32) (اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو، اور اس پر ایمان لائو، اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا، وہ زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے اور نہ اس کے لیے اس کے بالمقابل کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–31

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ اور اہل طائف کا قرآن مجید سے انحراف مگر جنوں کا قرآن مجید کی طرف متوجہ ہونا۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی ﷺ مکہ والوں سے مایوس ہو کر اہل طائف کی طرف گئے اور انہیں اپنی دعوت پیش کی مگر انہوں نے مکہ والوں سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ نبی کریم ﷺ کو پتھرمار مار کر لہو لہان کردیا۔ اس کی تفصیل تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں دیکھنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ طائف سے شکستہ دل اور زخمی جسم کے ساتھ واپس آ ہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ وادی میں جنوں کو آپ کی طرف متوجہ فرمایا۔ جب جنوں کی جماعت نے آپ کی زبان اطہر سے قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 31 : یٰـقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ (اے ہماری قوم اللہ تعالیٰ کے داعی کی بات کو قبول کرو) داعی سے مراد محمد ﷺ وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَ یُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (اور اس پر ایمان لے آئو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور درد ناک عذاب سے محفوظ رکھے گا) قولِ امام ابوحنیفہ (رح) : جنات کو کوئی ثواب نہیں مگر صرف جہنم سے آزادی۔ اور دلیل یہ آیت ہے۔ قولِ امام مالک ٗ ابن ابی لیلیٰ ٗ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ : ان کو ثواب و عقاب دونوں ہونگے۔ قولِ ضحاک : وہ جنت میں داخل ہونگے اور اس میں سے کھائیں پئیں گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30 ۔” قالوا یا قومنا انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین یدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم “ عطاء رحمہ فرماتے ہیں کہ ان کا دین یہودیت تھا۔ اس لئے انہوں نے کہا ہے ” انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–32

29۔ 32۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات نہیں کی بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے ‘ بیہقی حافظ ابن حجر اور علما نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اسی کا ذکران آیتوں اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے ‘ اس دفعہ جنات کے آنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–33

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے، یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے بعد باوصف، کسی مشقت کے بغیر ان کو تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمہارے مرنے کے بعد تمہاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز قادر ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–35

قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “ حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔ ہمیں عبداللہ بن محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 70] جنوں کی اپنی قوم کو قبول حق کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے اپنی قوم سے کہا کہ قبول کرو تم لوگ اللہ کے داعی کی دعوت کو کہ یہ اسرار حق اور صدق ہے۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کی دعوت کو۔ جن کی حیات طیبہ اور بعثت و تشریف آوری کا مشن اور مقصد ہی یہ تھا کہ دنیا کو خدا وند قدوس کی توحید و بندگی کی دعوت دیں۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ ما تبقی ھذہ الاحرف والکلمات۔ سو اللہ کے داعی کو قبول کرنا اور اس پر ایمان لانا اور دین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی اصل اور بنیاد ہے۔ بہرکیف جنوں نے اپنی قوم کو اس طرح قبول حق کی دعوت دی۔ جو قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت اور اس کی قوت تاثیر کا ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–35

قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔ ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–35

آیات 27 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 7 چناچہ ان کی قوم سے ستر آدمی آپ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے آحضرت سے بطحا میں ملاقات کی آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا اور اوامرو نواہی کی تلقین کی۔ 8 ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی رسالت عام تھی اور آپ جن و انس کی طرف مبعوث تھے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ ” وبعثت الی الخلق کافۃ کہ میں تمام مخلوق (جن و انس) کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ نیز اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جن بھی انسانوں کی طرف مکلف ہیں اور آخرت میں ثواب و عقاب کے مستحق ٹھہرینگے۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت 130 میں گزر چکا ہے۔ البتہ پیغمبر صرف انسانوں میں سے ہوئے ہیں (یوسف :109) مزیدت فصیل سورة الرحمٰن میں آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:31) اجیبوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ اجابۃ (افعال) مصدر تم قبول کرو۔ تم مان لو۔ داعی اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی طرف بلانے والا۔ داعی اسم فاعل واحد مذکر دعاء باب نصر مصدر۔ بلانے والا، پکارنے والا۔ منصوب بوجہ اجیبوا کا مفعول ہونے کے۔ وامنوا بہ۔ وائو عاطفہ امنوا امر جمع مذکر حاضر، ایمان (افعال) مصدر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داعی ہے اور اس پر ایمان لے آئو۔ یغفر لکم۔ یغفر مضارع (مجزوم بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا۔ من ذنوبکم۔ میں من تبعیضیہ ہے ذنوبکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے گناہ ذنوبجمع ہے ذنب کی۔ تمہارے گناہوں میں سے بعض (گناہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–33

تشریح آیات نمبر 12 تا 28 قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–32

جنوں کا ایمان لانا۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت قرآن سننے کے لیے بھیجی ، جب آپ بطن نخلہ میں مکہ مکرمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر قرات پڑھ رہے تھے یہی قرآن ان جنات نے سنی اور پھر جاکر اپنی قوم سے قرآن کی تعریف کی اس پر بہت بڑا قافلہ جنات کا دین اسلام کی باتیں سیکھنے آیا اور جب وہ جنات اس جگہ پہنچ گئے جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے تو اللہ نے ان کے دل میں قرآن کے سننے کا ایسا شوق پیدا کردیا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو یہ کلام اچھی طرح سننے دو ، اور جب وہ جنات قرآن کی نصیحت سن کر رسول اللہ پر ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–35

[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔ نبوت وعزیمت منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) اے برادران قوم تم اللہ کی طرف بلانے والے یعنی محمد ﷺ کی بات مانوں اور بات کا ماننا یہی کہ اس پر ایمان لے آئو اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا اور محفوظ رکھے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے داعی محمد ﷺ کی دعوت مان لو اور ان پر ایمان لے آئو تو تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ بعض حضرات نے من تبعیضیہ مراد لے کر بعض گناہ ترجمہ کیا ہے یعنی حقوق العباد کے علاوہ گناہ معاف ہوجائیں گے بعض نے ن بیانیہ مراد لیا ہے بعض نے من کو زائدہ کہا ہے بہرحال بعض حضرات نے کل ذنوب ترجمہ کیا ہے حاصل یہ ہے کہ اسلام لانے سے سب ہی گناہ معاف ہوجاتے ہیں حقوق العباد کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–31

ف 3۔ جن جنات کے ایمان لانے کا ان آیتوں میں ذکر ہے ان کا واقعہ حدیثوں میں اس طرح آیا ہے کہ جب بعثت نبویہ کے وقت جنات کو آسمانی خبریں سننے سے بذریعہ شہب روک دیا گیا تو جنات میں تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب تحقیق کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کے سبب یہ امر ہوگیا۔ جنات مختلف اقطار میں تحقیق کے واسطے روانہ ہوئے بعض جنات حجاز کی طرف بھی چلے، اس روز حضور ﷺ مع اپنے چند اصحاب کے بطن نخلہ میں ایک مقام کا نام ہے تشریف رکھتے تھے، اور سوق عکاظ کو تشریف لے جانے کا قصد تھا، غرض آپ صبح کی نماز پڑہا رہے تھے، جب وہ جنات یہاں پہنچے قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ہماری قوم کے لوگوٖٖ ! اس داعی الی اللہ کی بات سنو اور ایمان لائو : 13 ؎ قوم میں پہنچ کر ان لوگوں کو جو تقریر ہوئی وہ ابھی جاری ہے اور انہوں نے اپنی بات کو بیان کرتے ہوئے قوم کو کہا اے ہماری قوم کے لوگو ! اس اللہ کے داعی کی بات کو بغور سنو اس کو قبول کرتے ہوئے اس پر ایمان لے آئو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو صاف کر دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے نجات دے گا ۔ غور کرو کہ انہوں نے قرآن کریم اتفاقاً سنا ہے لیکن حقیقت ی ہے کہ ان کے دل میل سے صاف تھے اور خصوصاً رسول اللہ ﷺ سے کوئی بغض اور کوئی عناد ان کے دلوں میں موجود نہ تھا اور نہ ہی وہ آپ کو جانتے تھے اور مکہ والوں کو حسد اور کینہ وبغض جیسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

یغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ (will forgive your sins for you,) The word 'min' used in the text gives the sense of 'some'. If it is taken in this sense here, it would mean that 'some sins' will be forgiven by embracing Islam. It will indicate that only sins relating to the rights of Allah would be forgiven but not the rights of people. But some exegetes have taken 'min' in this verse as an extra word that has no additional meaning in Arabic idioms. Given this interpretation, no explanation is required.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 Authentic traditions show that after this several deputations of the jinns visited the Holy Prophet, one after the other, and met him face to face. When all the traditions related in the collections of Hadith on this subject are read together, it appears that at least six deputations had visited him in Makkah before the Hijrah. About one of these deputations Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud relates: 'One day the Holy Prophet remained missing from Makkah for the whole night. We could not know his whereabouts and feared he might have been attacked by somebody. Early in the morning we saw him…

Read the full tafseer →