Explained with ayahs 30–32
ایمان دار جنوں کی آخری منزل
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے حضرت عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے پس اصل چیز توراۃ ہی رہی اسی لئے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر حضرت ورقہ بن نوفل نے جس وقت حضور ﷺ کی زبانی حضرت جبرائیل کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 34
اس سے معلوم ہوا کہ یہی جن پہلے سے حضرت موسیٰ اور کتب آسمانی پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ قرآن سننے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ یہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لیے وہ اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول ﷺ پر بھی ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →(آیت) كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى اس میں بعد موسیٰ کی قید سے بعض حضرات نے سمجھا ہے کہ یہ جنات یہودی تھے کیونکہ موسیٰ ؑ کے بعد تو عیسیٰ ؑ پر انجیل نازل ہوئی اس کا ذکر نہیں کیا لیکن اس کی کوئی صریح روایت تو ہے نہیں اور انجیل کا ذکر نہ کرنے سے ان کے یہودی ہونے پر استدلال ناکافی ہے کیونکہ انجیل کے ذکر نہ کرنے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ انجیل اکثر احکام میں تورات کے تابع ہے اور قرآن مثل تورات کے مستقل کتاب ہے اس کے احکام و شرائع تورات سے بہت مختلف ہیں تو یہ ہوسکتا ہے کہ مقصود یہ بتلانا ہو کہ تورات جیسی کتاب مستقل قرآن ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
قالوا یقومنا انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین بدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، یقومنا اجیبوا داعی اللہ کی آمنوا بہ یغترتکم من ذنوبکم و یخرکم من عذاب الیم، ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء ط اولئک فی ضل مبین 32-30)
جنوں کی دعوت اپنی قوم کو
یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنی گمراہ قوم کو دی۔ سب سے پہلے انہوں نے اس کتاب کا تعارف کرایا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی ہے جو اس کے باب میں سابق صحیفوں میں وارد ہوئی ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد صاحب شریعت نبی آنحتر ﷺ ہی میں آپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
31۔ 1 یہ جنوں نے اپنی قوم کو نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی اس سے قبل قرآن کریم کے متعلق بتلایا کہ یہ تورات کے بعد ایک اور آسمانی کتاب ہے جو سچے دین اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
31۔ 2 یہ ایمان لانے کے وہ فائدے بتلائے جو آخرت میں انہیں حاصل ہوں گے من ذنوبکم میں من تبعیض کے لیے ہے یعنی بعض گناہ معاف فرما دے گا اور یہ وہ گناہ ہوں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوگا کیونکہ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ثواب و عقاب اور اوامر ونواہی میں جنات کے لیے بھی وہی حکم ہے جو انسانوں کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
16: یعنی آخرت میں پہنچ کر جب وہ عذاب سامنے آئے گا جس سے انہیں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا تھا، تو اس کی شدت دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری زندگی اتنی مختصر محسوس ہوگی جیسے وہ صرف ایک دن کا کوئی حصہ ہو۔
Read the full tafseer →قالوا یقومنا انا ۔۔۔۔۔ طریق مستقیم (46 : 30) “ اور انہوں نے جا کر کہا ، اے ہمارے قوم کے لوگو ، ہم نے ایک کتاب سنی ہے ، جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے۔ تصدیق کرنے والے ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف ”۔ وہ بڑی جلدی سے اپنی قوم کی طرف لوٹے ، اور جاتے ہی انہوں نے ان کے سامنے تقریر شروع کردی کہ برادران قوم ہم نے ایک نئی کتاب سنی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اپنے اصولوں میں یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کتب سماوی سے واقف تھے ، کیونکہ قرآن آیات اور بنیادی تعلیمات سنتے ہی ان کو…
Read the full tafseer →2 کتب سابقہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) کے برابر کوئی کتاب احکام و شرائع کو حاوی نہیں تھی۔ اسی پر انبیائے بنی اسرائیل کا عمل رہا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی یہ ہی فرمایا کہ میں تورات کو بدلنے کے لیے نہیں آیا بلکہ اس کی تکمیل کے لیے آیا ہوں۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وقت سے جنوں میں تورات ہی مشہور چلی آتی تھی۔ اس لیے اس موقع پر انہوں نے اسی کی طرف اشارہ کیا۔ خود تورات میں بھی جو پیشین گوئی نبی کریم ﷺ کی آئی ہے اس کے لفظ یہ ہیں کہ (اے موسیٰ ) " تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا۔ "
3 شاید اس وقت قرآن کا جو حصہ حضور ﷺ نے تلاوت فرمایا تھا اس میں ایسا مضمون آیا ہوگا۔ یا قرائن…
Read the full tafseer →آیت 30 { قَالُوْا یٰــقَوْمَنَــآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰـبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی } ”انہوں نے کہا : اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام ٰ کے بعد نازل ہوئی ہے“
گویا وہ ِجنات ّحضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے۔ یہاں پر جنات کے اس قول کے حوالے سے یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ تورات کے بعد جو ”کتاب“ نازل ہوئی وہ قرآن ہے۔ اگرچہ ہم عرف عام میں انجیل کو بھی کتاب کہہ دیتے ہیں لیکن وہ اصطلاحی مفہوم میں باقاعدہ ”کتاب“ نہیں تھی۔ اس لیے کہ اس میں شریعت نہیں تھی۔ دراصل لفظ ”کتاب“ میں لغوی اعتبار سے شریعت قوانین ‘ احکام ‘ فرائض وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں…
Read the full tafseer →44 یہ جن پہلے تورات پر ایمان لا چکے تھے :۔ جنوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ کتاب تورات کا نام لیا انجیل کا نام نہیں لیا۔ اس لیے سابقہ آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب احکام و شرائع کے لحاظ سے تورات جیسی جامع اور اس کے ہم پلہ نہیں تھی۔ اسی پر علمائے بنی اسرائیل کا عمل رہا۔ خود سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہی فرمایا تھا کہ میں تورات کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اس کی تکمیل کرنے آیا ہوں۔ اور سیدنا سلیمان کے وقت سے جنوں میں تورات ہی مشہور چلی آتی تھی۔ نیز خود تورات میں رسول اللہ کی آمد سے متعلق جو پیشین گوئی مذکور ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ (اے موسیٰ ) میں تیری مانند ایک نبی بھیجوں گا
اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
34۔ آیت اس باب میں تو صاف وصریح ہے کہ جنات ایمان لے آنے کے بعد عذاب الہی سے بچ جائیں گے۔ لیکن اس باب میں ناطق وصریح نہیں کہ ایمان لانے پر جنت میں بھی داخل ہوجائیں گے۔ ان کے دخول جنت کے باب میں خاموشی ہے۔ امام ابوحنفیہ (رح) سے غایت احتیاط کی بناء پر جنات کے دخول جنت کے بارے میں سکوت وتوقف منقول ہے۔ قال ابوحنیفۃ لاثواب لھم الالنجاۃ من النار لھذہ الایۃ (مدارک) وقال النسفی فی التیسیر توقف ابوحنیفۃ فی ثواب الجن فی الجنۃ ونعیمھم لانہ لااستحقاق للعبد علی اللہ تعالیٰ ولم یقل بطریق الوعد فی حقھم الاالمغفرۃ والا جارۃ من العذاب واما نعیم الجنۃ فموقوف علی الدلیل (روح) البتہ دوسرے ائمہ نے جنات کے مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔
جنات کے قرآن سننے کا واقعہ :
صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…
Read the full tafseer →قالوا یقومنا ان سمعنا کتبا انزل من بعد موسیٰ مصدقا لما بین یدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم کہنے لگے : اے ہماری قوم ! ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ‘ حق اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔
کِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی عطاء نے کہا : وہ جنات یہودی مذہب پر تھے۔ میں کہتا ہوں : شاید کِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی کا یہ مطلب ہے کہ وہ کتاب شریعت موسیٰ کو منسوخ کرنے والی ہے ‘ انجیل اور زبور ‘ توریت کے بیشتر احکام کی ناسخ نہیں تھیں۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کے متعلق فرمایا : وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ…
Read the full tafseer →اور کہنے لگے کہ ہم قرآن کریم سن کر آئے ہیں، جو موسیٰ کے بعد رسول اکرم پر نازل کیا گیا ہے کہ وہ توحید اور رسول اکرم کی نعت و صفت میں توریت کی تصدیق کرنے والا ہے، اور جنات موسیٰ پر بھی ایمان رکھتے تھے کہ وہ حق اور دین اسلام کی طرف رہنمائی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(1) قالوا یقومنآ انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ : جنوں نے نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب الخیل کا نام لینے کے بجائے تو رات کا نام لیا۔ بعض مفسرین کے مطابق اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ یہود کے دین پر تھے۔ یا انہیں انجیل کے نزول کا علم نہیں تھا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سے پہلے آخری کتاب جو شریعت کے احکام پر مشتمل تھی وہ تورات تھی۔ داؤد ؑ کی زبور اور عیسیٰ ؑ کی انجیل اس کی تکمیل یا تفسیر و تبیین کرنے والی کتابیں تھیں۔ موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے تمام انبیاء حتیٰ کہ عیسیٰ ؑ بھی تورات ہی پر عمل کے پابند تھے۔ (دیکھیے مائدہ : 44) اسی سورة احقاف میں بھی قرآن سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
کتاب سے مراد قرآن ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تھے۔ عطا نے کہا : وہ پہلے یہودی تھے تو اسلام لے آئے، اسی وجہ سے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : جنوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بارے میں نہیں سنا تھا (3) اسی وجہ سے انہوں نے کہا :
یعنی وہ تو رات کی تصدیق کرنے والے : وہ دین حق کی طرف دعوت دینے والے تھے : یعنی اللہ تعالیٰ کے دین قدیم کی طرف۔
داعی سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کی ذات جنوں اور انسانوں کی طرف مبعوث تھی۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ کی ذات سے قبل کوئی نبی جنوں اور انسانوں کی طرف معبوث نہیں کیا گیا۔
میں کہتا ہوں : اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں :
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰقَوْمَنَآ [انہوں نے کہا اے ہمارے قوم ] اِنَّا سَمِعْنَا [ بیشک ہم نے سنا ] كِتٰبًا [ ایک ایسی کتاب کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کی گئی ] مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى [ موسیٰ کے بعد ] مُصَدِّقًا [تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ [ اس کی جو اس کے سامنے (پہلے ) ہے ] يَهْدِيْٓ [ (وہ) رہنمائی کرتی ہے ] اِلَى الْحَـقِّ [ حق کی طرف ] وَاِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْـتَقِيْمٍ [اور ایک سیدھے راستے کی طرف ]
نوٹ ۔ 2: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضور ﷺ جنات کے بھی اسی طرح رسول ہیں ۔ جس طرح ہمارے لیے ہیں ۔ اس کا جواب نفی میں دینا ممکن نہیں ہے کیونکہ آگے آیت ۔ 31 میں جنوں کا یہ قول موجود ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
﴿ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ ﴾ (الآیۃ) یہ جنات کے کلام کا تتمہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو کوئی شخص اللہ کے داعی کی بات نہ مانے یعنی ایمان نہ لائے تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور عذاب میں گرفتار ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب گرفت ہوگی تو کہیں بھاگ کر نہیں جاسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی مدد نہ کرسکے گا جس نے اللہ کے داعی کی نافرمانی کی وہ واضح گمراہی میں ہے۔
جو لوگ توحید کے منکر ہوتے ہیں وقوع قیامت کے بھی قائل نہیں ہوتے لہٰذا دعوت توحید کے بعد وقوع کا قیامت کا بھی تذکرہ فرمایا اور منکرین کا استبعاد دور کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے غور نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…
Read the full tafseer →25:۔ ” قالوا یقومنا “ جنات نے اپنی قوم کو ہر قسم کے دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ” انا سمعنا کتابا “ یہ دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے اور ” انزل من بعد موسیٰ “ یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے اور ” یہدی الی الحق الخ “ یہ دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یہ جن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے تھے اس لیے انہوں نے ان کا نام لیا۔ (روح) اے ہماری قوم ! ہم ایک ایسی عظیم کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہے اور پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور عقائد حقہ اور سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ ” یقومنا اجیبوا۔ الایۃ “ اے ہماری قوم ! اللہ کے اس داعی قرآن کو مان لو اور اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
ربط آیات :
سورۃ ہذا حوا میم سبعہ کی آخری سورة ہے ، ان تمام سورتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اصول ہی بیان کئے گئے ہیں ، توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ان سورتوں کا خاص موضوع ہے ، اس ضمن میں گزشتہ آیات میں اللہ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ وہ بڑے متکبر لوگ تھے ، اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے ان کو احقاف کے مقام میں اللہ کی گرفت سے ڈرایا اور صاف فرمایا الا تعبدو الا اللہ (آیت ۔ 1 2 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، مجھے خطرہ ہے ، کہ کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو ، اللہ نے اس مغرور قوم کا ذکر اہل مکہ کو سمجھانے کے لئے کیا اور فرمایا کہ قوم عاد تو تم سے زیادہ طاقتور…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰقَوْمَنَآ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ يَہْدِيْٓ اِلَى الْحَـقِّ وَاِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْـتَقِيْمٍ 30
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ترکیب : یستمعون حال محمولۃ علی المعنیٰ لان نفرامفرد فی اللفظ۔ والنفردون العشرۃ وجمعہ انفار۔ بقادر الیاء مزیدۃ لتاکیدالنفی فانہ مشتمل علی ان ومافی خبرھا۔
تفسیر : قوم عاد کا ذکر کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اے قریش ! تم یہ نہ سمجھو کہ تم عاد جیسے سرکش ایمان نہ لائے تو اور کوئی زور آور ایمان نہیں لائے گا قوم جن تم سے زور آور اور سرکش ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ تو ایمان لاویں اور اپنی قوم کو جا کر ایمان لانے کی رغبت دلائیں اور تم پیغمبر ( علیہ السلام) کے ہم قوم ہم زبان ہم جنس ہو کر یوں اللہ کے داعی سے دور پڑے رہو۔ پس اے محمد ﷺ اذاصرفنا ان سے کہہ دیجئے جبکہ ہم نے تیرے پاس چند جن بھیجے قرآن سننے کو…
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰـقَوْمَنَـآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰبـًا اُنْزِلَ مِنْ م بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَھْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الاحقاف : 30)
(انھوں نے کہا، اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی۔ اور یہ کتاب حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ )
جنوں کی اپنی قوم کو دعوت
جن جنات نے طائف میں آنحضرت ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا، انھوں نے اپنی قوم کے پاس پہنچ کر فریضہ ٔ انذار ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآن کریم کا تعارف کرایا کہ یہ وہ مکمل کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ اور اہل طائف کا قرآن مجید سے انحراف مگر جنوں کا قرآن مجید کی طرف متوجہ ہونا۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی ﷺ مکہ والوں سے مایوس ہو کر اہل طائف کی طرف گئے اور انہیں اپنی دعوت پیش کی مگر انہوں نے مکہ والوں سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ نبی کریم ﷺ کو پتھرمار مار کر لہو لہان کردیا۔ اس کی تفصیل تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں دیکھنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ طائف سے شکستہ دل اور زخمی جسم کے ساتھ واپس آ ہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ وادی میں جنوں کو آپ کی طرف متوجہ فرمایا۔ جب جنوں کی جماعت نے آپ کی زبان اطہر سے قرآن مجید…
Read the full tafseer →آیت 30 : قَالُوْا یٰـقَوْمَنَآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰـبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی (وہ کہنے لگے اے ہمارے بھائیو ! ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں۔ جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی) انہوں نے من بعد موسٰی کہا۔ کیوں کہ وہ پہلے یہودیت پر تھے۔
قول ابن عباس ؓ :
جنات نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کی اطلاع نہ پائی تھی۔
مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے) یَہْدِیْ اِلَی الْحَقِّ ( حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے) الحق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستہ کی طرف)
Read the full tafseer →واذصرفنا الیک نفرا کی تفسیر
29 ۔” واذا صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ تنہا طائف تشریف لے گئے ثقیف نصر اور اس کی قوم سے مدد مانگنے۔ محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف میں ثقیف کے چند لوگوں کے پاس پہنچے اور وہ ان دنوں می ثقیف کے سردار اور معزز لوگ تھے اور یہ تین بھائی تھے عبدیالیل، مسعود، حبیب۔ یہ عمرو بن عمیر کے بیٹے تھے اور ان میں سے ایک کے نکاح میں قریش کی شاخ بنو جمح کی ایک عورت تھی تو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس بیٹھے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور ان ک و بتایا کہ اسلام کی مدد کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 32۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات نہیں کی بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے ‘ بیہقی حافظ ابن حجر اور علما نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اسی کا ذکران آیتوں اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے ‘ اس دفعہ جنات کے آنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے، یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے بعد باوصف، کسی مشقت کے بغیر ان کو تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمہارے مرنے کے بعد تمہاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز قادر ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 69] قرآن حکیم گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم پہلی آسمانی کتابوں کا مصداق اور ان کا ذریعہئِ تصدیق ہے۔ چناچہ ان جنوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایک ایسا عظیم الشان کلام سنا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوا۔ اور جو تصدیق کرنے والا ہے پہلی کتابوں کی۔ یعنی تورات و انجیل وغیرہ کی۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر انہوں نے یا تو اس لئے کیا کہ یہ جن خود یہودی مذہب پر تھے یا پھر اس لیے کہ پہلی کتابوں میں سے تورات سب کے نزدیک مسلم و متفق علیہ رہی ہے۔ تاآنکہ ظالموں نے اس کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز یہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
آیات 27 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 7 چناچہ ان کی قوم سے ستر آدمی آپ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے آحضرت سے بطحا میں ملاقات کی آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا اور اوامرو نواہی کی تلقین کی۔
8 ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی رسالت عام تھی اور آپ جن و انس کی طرف مبعوث تھے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ ” وبعثت الی الخلق کافۃ کہ میں تمام مخلوق (جن و انس) کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ نیز اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جن بھی انسانوں کی طرف مکلف ہیں اور آخرت میں ثواب و عقاب کے مستحق ٹھہرینگے۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت 130 میں گزر چکا ہے۔ البتہ پیغمبر صرف انسانوں میں سے ہوئے ہیں (یوسف :109) مزیدت فصیل سورة الرحمٰن میں آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(46:29) واذ : اس سے قبل اذکر الوقت : محذوف ہے : ای واذکر الوقت اذ ۔۔ اور یاد کرو وہ وقت جب ۔۔
صرفنا۔ ماضی جمع متکلم صرف (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے پھیرا۔ ہم نے متوجہ کیا۔ الیک تیری طرف۔ ؎
نفرا۔ اسم جمع ہے دس سے کم تعداد کی جماعت کو نفر کہتے ہیں، صرف آدمیوں کے لئے بولا جاتا ہے عورتوں یا کسی دوسری مخلوق کے لئے نہیں بولا جاتا۔ ترجمہ آیت :۔ اور یاد کرو وہ وقت یا اس واقعہ کو جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا۔
مولانا مودودی اس واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں :۔
اس آیت کی تفسیر میں جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، حضرت زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرات حسن بصری (رح) ، سعید بن جبیر ؓ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
جنوں کا ایمان لانا۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت قرآن سننے کے لیے بھیجی ، جب آپ بطن نخلہ میں مکہ مکرمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر قرات پڑھ رہے تھے یہی قرآن ان جنات نے سنی اور پھر جاکر اپنی قوم سے قرآن کی تعریف کی اس پر بہت بڑا قافلہ جنات کا دین اسلام کی باتیں سیکھنے آیا اور جب وہ جنات اس جگہ پہنچ گئے جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے تو اللہ نے ان کے دل میں قرآن کے سننے کا ایسا شوق پیدا کردیا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو یہ کلام اچھی طرح سننے دو ، اور جب وہ جنات قرآن کی نصیحت سن کر رسول اللہ پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
حل لغات :۔ من بعد موسیٰ ۔ موسیٰ کے بعد معلوم ہتا ہے ۔ یہ جنات یہودی تھے ۔ اور حضرت مسیح کے متعلق یا تو کچھ جانتے ہی نہ تھے ۔ یا ان کو تسلیم نہ کرتے تھے ۔
نبوت وعزیمت
منصب نبوت کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ جو شخص اس انعام سے سرفراز ہوتا ہے تمام قسم کی مخالفتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرتا ہے ۔ وہ ہر نوح کی مشکلات ومضائب پر عبور حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ بانقبیع نبوت نام ہے ۔ باطل کی مخالفت کا ۔ جھوٹ کے ساتھ اظہار دشمنی کا ۔ اور فواحش کے ساتھ جنگ کرنے کا ۔ اس لئے ناممکن ہے کہ پیغمبر قوم کی ہمدردیوں کو آسانی کے ساتھ قبول کرلے ۔ قوم اس کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ اس کے خلاف سارے گروہ انسانی کو مشتعل کردیتی ہے ۔…
Read the full tafseer →(30) ان جنوں نے اپنی قوم میں جاکر کہا اے برادران قوم ہم نے بلا شبہ ایک ایسی کتاب سنی ہے اور ہم ایک ایسی کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے وہ کتاب اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور وہ کتاب دین حق کی اور سیدھے راستے کی رہنمائی کرتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وقت سے توریت ان میں مشہور تھی۔
یعنی جب شان کی توریت تھی اور جس طرح وہ بہت سے احکام اور شرائع کو شامل تھی اس کے بعد سے ایسی کوئی کتاب آج تک سننے میں نہیں آئی، توریت کے بعد ہم نے یہی کتاب سنی ہے جو دین حق کی دعوت دیتی اور اس کی طرف یعنی اسلام کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔
بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ف 3۔ جن جنات کے ایمان لانے کا ان آیتوں میں ذکر ہے ان کا واقعہ حدیثوں میں اس طرح آیا ہے کہ جب بعثت نبویہ کے وقت جنات کو آسمانی خبریں سننے سے بذریعہ شہب روک دیا گیا تو جنات میں تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب تحقیق کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کے سبب یہ امر ہوگیا۔ جنات مختلف اقطار میں تحقیق کے واسطے روانہ ہوئے بعض جنات حجاز کی طرف بھی چلے، اس روز حضور ﷺ مع اپنے چند اصحاب کے بطن نخلہ میں ایک مقام کا نام ہے تشریف رکھتے تھے، اور سوق عکاظ کو تشریف لے جانے کا قصد تھا، غرض آپ صبح کی نماز پڑہا رہے تھے، جب وہ جنات یہاں پہنچے قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے…
Read the full tafseer →واپس جا کر وہ قوم کو اس طرح نصیحت کرنے لگے :
03 ؎ قرآن کریم کو اتفاقاً سننے والے جتنے افراد بھی تھے گویا کہ وہ اپنی قوم کے مبلغ بن گئے اس لئے کہ ان کی گفتگو واضح کر رہی ہے کہ وہ ہماں شماں نہیں ہیں بلکہ اچھی خاصی واقفیت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے قوم کے سامنے جا کر جو بیان دیا اس میں کہا ہے کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے جو کتاب سنی ہے وہ بلا شبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بطور پیش گوئی اس کی تصدیق کرتی ہے اور اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ یقیناً حق ہے اور وہ حق کی طرف ہدایت دینے والی ہے اور ظاہر ہے کہ حق کی راہ ہی صراط مستقیم ہے اور اس طرح جو کچھ انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان کیا تھا…
Read the full tafseer →كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ (a book sent down after Musa). Here the words 'after Musa (علیہ السلام) have been taken by some exegetes to indicate that these jinns were Jews, because Injil that was revealed to Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) after Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، has not been mentioned. But there is no clear narration to support this inference. That they did not refer to Injil cannot be a sufficient proof for the jinns being Jews. Another reason for not mentioning Injil may be that Injil follows Torah in most commandments, and the Qur'an, like Torah, is an independent Book,…
Read the full tafseer →34 This shows that these jinns had already had faith in the Prophet Moses and in the Divine Books. After hearing the Qur'an they felt that it gave the same teachings as the former Prophets had been preaching. Therefore, they believed in this Book forthwith and also in the Holy prophet who had brought it.
Read the full tafseer →