طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا، شیطان بوکھلایا
مسند امام احمد میں حضرت زبیر سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ ﷺ اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہوگئے ابن عباس کی روایت میں ہے کہ یہ جنات (نصیبین) کے تھے تعداد میں سات تھے کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت ابن عباس مروی ہے کہ نہ تو حضور ﷺ نے جنات کو سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا نہ آپ نے انہیں دیکھا آپ تو اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار جا رہے تھے ادھر یہ ہوا تھا شیاطین کے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان روک ہوگئی تھی اور ان پر شعلے برسنے شروع ہوگئے تھے۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 33
اس آیت کی تفسیر میں جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرات حسن بصری، سعید بن حبیر، زر بن حبیش، مجاہد، عکرمہ اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا واقعہ، جس کا اس آیت میں ذکر ہے، بطن نخلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ابن اسحاق، ابو نعیم اصفہانی اور واقدی کا بیان ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس ہوئے تھے۔ راستہ میں آپ نے نخلہ میں قیام کیا۔ وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرأت…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (ان سے) اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جبکہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے جو (اخیر میں یہاں پہنچ کر) قرآن سننے لگے تھے غرض جب وہ لوگ قرآن (کے پڑھے جانے کے موقع) کے پاس آپہنچے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو (اور اس کلام کو سنو) پھر جب قرآن پڑھا جا چکا (یعنی جتنا اس وقت پیغمبر ﷺ کو نماز میں پڑھنا تھا ختم ہوچکا) تو وہ لوگ (اس پر ایمان لے آئے اور) اپنی قوم کے پاس (اسکی) خبر پہنچانے کے واسطے واپس گئے (اور جا کر ان سے) کہنے لگے اے بھائیو ہم ایک (عجیب) کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور دین) حق اور راہ راست کی طرف…
Read the full tafseer →-6 آگے آیات 35-29 کا مضمون
آگے نبی ﷺ کو چند آیات میں تسلی دی گئی ہے کہ اگر تمہاری قوم کے لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو یہ اس کتاب کا یا تمہارا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ خود ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے ورنہ اس کتاب کی دلکشی اور اثر آفرینی کا حال تو یہ ہے کہ اگر صالحین جن کی کسی جماعت کیکانوں میں اتفقا سے بھی اس کی آواز پڑگئی ہے تو وہ سراپا گوش ہو کر اس طرف متوجہ ہوگئے ہیں اور پھر اس کی دعوت لے کر اپنی قوم کی اصلاح کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حیف ہے اگر یہ لوگ جن کے لئے یہ کتاب اتاری گئی ہے، اس کی قدر نہ کریں۔
اس کے بعد خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں کفار کے لئے تہدید و وعید اور…
Read the full tafseer →29۔ 1 صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب نخلہ وادی میں پیش آیا، جہاں آپ ﷺ صحاب اکرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنوں کو تجسس تھا کہ آسمان پر ہم پر بہت زیادہ سختی کردی گئی ہے اب ہمارا وہاں جانا تقریبًا ناممکن بنادیا گیا ہے، کوئی بہت ہی اہم واقعہ رونما ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے۔ چناچہ مشرق و مغرب کے مختلف اطراف میں جنوں کی ٹولیاں واقعے کا سراغ لگانے کے لئے پھیل گئیں ان میں سے ایک ٹو لی نے یہ قرآن سنا اور یہ بات سمجھ لی کہ نبی ﷺ کی بعثت کا یہ واقعہ ہی ہم پر آسمان کی بندش کا سبب ہے اور جنوں کی یہ ٹولی آپ پر ایمان لے آئی اور جا کر اپنی قوم کو بھی بتلایا (مسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
15: حضور سرور عالم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ جنات کے لئے بھی پیغمبر بنایا تھا، چنانچہ یہ واقعہ جس کا اس آیت میں تذکرہ ہے، اس وقت پیش آیا جب آنحضرت ﷺ طائف والوں کو تبلیغ فرمانے اور ان سے دکھ اٹھانے کے بعد مکہ مکرمہ واپس تشریف لے جارہے تھے، راستے میں ایک مقام کا نام نخلہ ہے وہاں آپ نے قیام فرمایا اور فجر کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت شروع کی، اس وقت جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزررہی تھی، اس نے یہ کلام سنا تو وہ اسے سننے کے لئے رک گئے، اور توجہ سے سننے کے لئے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی، قرآن کریم کا پُر اثر کلام، اور فجر کے وقت سرور عالم ﷺ کی زبانی، اس نے ان جنات پر ایسا اثر…
Read the full tafseer →درس نمبر 240 ایک نظر میں
اس سورت کا یہ آخری سبق ہے اس سورت کے موضوع کی وضاحت کے لئے یہ ایک نئی وادی میں سفر ہے۔ ایک واقعہ کہ جنوں نے قرآن کی دعوت کو سنا۔ تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ خاموشی سے سنو۔ اور سن کر یہ طے کیا کہ ہم ایمان لاتے ہیں۔ وہ ایمان لائے اور اپنی قوم میں جا کر انہوں نے دعوت دین کے کام کا آغاز کردیا۔ اپنی قوم کو عذاب جہنم سے ڈرانا اور جنت کی خوشخبری دینا شروع کردیا۔ اور انہوں نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ اگر تم نے منہ موڑا اور گمراہی اختیار کی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے
جنوں کی خبر کو یہاں اس انداز سے پیش کرنا اور یہ دکھانا کہ قرآن مجید کا ان کے دلوں پر کس طرح اثر ہوا اور…
Read the full tafseer →1 بعثت محمدی ﷺ سے قبل جنوں کو کچھ آسمانی خبریں معلوم ہوجاتی تھیں۔ جب حضور ﷺ پر وحی آنا شروع ہوئی وہ سلسلہ تقریباً بند ہوگیا اور بہت کثرت سے شہاب کی مار پڑنے لگی۔ جنوں کو خیال ہوا کہ ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمانی خبروں پر بہت سخت پہرے بٹھلائے گئے ہیں۔ اسی کی جستجو کے لیے جنوں کے مختلف گروہ مشرق و مغرب میں پھیل پڑے۔ ان میں سے ایک جماعت " بطن نخلہ " کی طرف گزری۔ وہاں اتفاق سے اس وقت حضور پرنور ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ نماز فجر ادا کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کی اس ٹکڑی کا رخ قرآن سننے کے لیے ادھر پھیر دیا۔ قرآن کی آواز انہیں بہت عجیب اور موثر و دلکش معلوم ہوئی اور اس کی عظمت…
Read the full tafseer →آیت 29 { وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کردیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے۔“
{ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا } ”تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : چپ ہو جائو !“
تلاوتِ قرآن کی سماعت کے بارے میں خود قرآن کا بھی یہی حکم ہے : { وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } الاعراف ”اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طبعاً نیک اور شریف قسم کے ِجنات…
Read the full tafseer →41 انسان سے پہلے زمین پر جنوں کی آبادی :۔ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سے دو نوع ایسی ہیں جو شریعت الٰہی کی مکلف ہیں۔ ایک جن، دوسرے انسان۔ پھر انسانوں کی پیدائش سے پہلے جن ہی اس زمین پر آباد تھے۔ اور ان کی طرف بھی پیغمبر مبعوث ہوتے تھے۔ اور جس طرح انسانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی نافرمان ہی رہی ہے۔ اسی طرح جنوں کی اکثریت بھی نافرمان ہی تھی اور اب بھی ہے۔
خ بعد میں نبوت صرف انسانوں میں :۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اسے بھی اشرف المخلوقات بنایا اور جنوں کی حیثیت انسان کے بالتبع بن جانے کی ہوگئی۔ نبوت کا سلسلہ جنوں کی طرف سے بند ہو کر انسانوں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اب جو پیغمبر انسانوں…
Read the full tafseer →32۔ (اور غور اور ادب سے اس کلام کو سنو) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے قیام مکہ کے زمانہ میں طائف تبلیغ دعوت کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اور بظاہر وہاں سے بالکل ناکام اور شکستہ خاطر واپس آرہے تھے۔ شب کے وقت نخلہ میں آپ ﷺ قرآن مجید نماز میں بآواز بلند پڑھ رہے تھے کہ جنات کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ قرآن سننے لگے۔ ملاحظہ ہوں، سورة الاعراف (پ 8) کے حاشیے۔ (آیت) ” حضروہ “۔ یعنی قرآن پڑھے جانے کے موقع پر آگئے۔
33۔ یعنی قرآن کی اہمیت مطلع کرنے اور اس کے احکام کی نافرمانی کے نتائج سے خبردار کرنے کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔
جنات کے قرآن سننے کا واقعہ :
صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن…
Read the full tafseer →واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعنو القران فلما حضروہ قالوا انصتوا فلما قضی
ولوا الی قومھم منذرین اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑ دیا جو قرآن سننے لگے تھے ‘ سو جب وہ لوگ قرآن سننے آپہنچے تو کہنے لگے : خاموش رہ کر ‘ کان لگا کر سنو۔ پھر جب قرآن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس خبر کیلئے واپس چلے گئے۔
وَاِذْ صَرَفْنَا اور جب ہم نے موڑ دیا۔ یہ جملہ آخر تک معترضہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔
نَفَرًا۔ نفر دس سے کم تعداد کی جماعت کو کہتے ہیں ‘ اس کی جمع انفار آتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نصیبین کے سات جن تھے ‘ رسول اللہ ﷺ نے قاصد بنا کر ان کو ان کی قوم کے پاس…
Read the full tafseer →اور جبکہ نو جنات آپ کی طرف آئے وہ آکر قرآن کریم سننے لگے اور جب وہ بطن نخلہ میں رسول اکرم جہاں قرآن کریم پڑھ رہے تھے پہنچے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو تاکہ رسول اکرم کے قرآن پڑھنے کو سنیں۔ چناچہ جب رسول اکرم اپنی تلاوت اور اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو وہ رسول اکرم اور قرآن پر ایمان لے آئے۔ چناچہ وہ ایمان سے سرفراز ہو کر اپنی قوم کے پاس ان کو ڈرانے والے بن کر پہنچے۔
شان نزول : وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ (الخ)
ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم بطن نخلہ میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے آپ کے پاس نو جن اترے جب انہوں نے قرآن کریم سنا تو وہ آپس میں…
Read the full tafseer →(1) واذ صرفنا الیک نفراً من الجن…:”اذ“ سے پہلے ”اذکر“ محذوف ہے جس کا عطف اس سے پہلے مذکور آیت ”واذکر احاعاد“ پر ہے۔ یعنی کفار مکہ کے لئے ہود ؑ اور ان کی قوم عاد کا ذکر کیجیے جو ان سے کہیں زیادہ قوت و شوکت والے تھے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے پر ان کا کیا حال ہوا، اسی طرح اہل مکہ کے اردگرد کی بستیوں کے کفر پر اصرار کا انجام کیا ہوا، تاکہ اہل مکہ کو ان کے انجام سے عبرت ہو اور وہ کفر و شرک سے باز آجائیں۔”واذ صرفنا الیک نفراً من الجن یستعون القرآن“ اور ان کفار کے لئے اس وقت کا ذکر کیجیے جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کا رخ آپ کی طرف پھیرا اور انہوں نے آپ سے قرآن سنا۔ مقصد کفار مکہ کو شرم دلانا ہے کہ اپنی…
Read the full tafseer →یہ قریش کے مشرکوں کو توبیخ ہے یعنی جنوں نے قرآن کو سنا وہ آپ پر ایمان لائے اور انہیں علم ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جبکہ تم اعراض کرنے والے اور کفر پر اصرار کرنے والے ہو۔ کا معنی ہے ہم نے انہیں آپ کی طرف متوجہ کیا اور ہم نے بھیجا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہیں آسمان سے چوری چھپے سنے سے شہبائیے مارنے کے ساتھ پھیر دیا گیا تھا جس طرح اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انہیں اس امر سے نہیں روکا گیا مگر جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی۔
مفرین حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، مجاہد وغیرہ نے کہا : جب ابو طالب فوت ہوگئے تو نبی کریم ﷺ تنہا ثقفیف سے مدد لینے کے لئے طائف کی طرف نکلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
جنات کی اپنی قوم کو نصیحتیں :
1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن “ (اور جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف موڑدیا جو قرآن سننے لگے تھے) یعنی نخلہ کے مقام پر اور رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ وہ آپ پر بھیڑ کرلیتے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع الحاکم (وصححہ) وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ (جنات) نبی کریم ﷺ پر نیچے اترآئے اور آپ بطن نخلہ میں قرآن پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس کو سنا تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ اور کہا ٹھہر جاؤ۔ اور وہ نوجن تھے ان…
Read the full tafseer →وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ [ اور جب ہم نے پھیرا آپ کی طرف ] نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ [ ایک ٹولی کو جنوں میں سے ] يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ [سنتے ہوئے قرآن کو ] فَلَمَّا حَضَرُوْهُ [ پھر جب وہ سامنے آئے اس (قرآن پڑھنے ) کے ] قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ [ تو انہوں نے کہا چپ چاپ سنو ] فَلَمَّا قُضِيَ [ پھر جب وہ (قرآن پڑھنا ) پورا کیا گیا ] وَلَّوْا [ تو وہ سب واپس لوٹے ] اِلٰى قَوْمِهِمْ [ اپنی قوم کی طرف ] مُّنْذِرِيْنَ [خبردار کرنے والے ہوتے ہوئے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 29 ۔ کی تفسیر میں جور وایات متعدد صحابہ کرام اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
جنات کا رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا، پھر واپس جاکر اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا !
رسول اللہ ﷺ رسول الثقلین تھے یعنی آپ انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جنات کی طرف بھی یہاں سورة الاحقاف میں اور سورة الجن میں جنات کا خدمت عالی میں حاضر ہونا اور آپ سے قرآن مجید سننا مذکور ہے علماء حدیث نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنات کی آبادی میں تشریف لے گئے اور انہیں احکام دینیہ کی تبلیغ فرمائی محدثین کی اصطلاح میں اس کو لیلۃ الجن کہتے ہیں حضرات محدثین کرام نے فرمایا ہے کہ لیلۃ الجن کا واقعہ چھ مرتبہ پیش آیا، معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جنات کو تبلیغ کریں انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
24:۔ ” واذ صرفنا “ یہ چوتھی تفصیلی نقلی دلیل ہے از جنات۔ جنات نے بھی کلام الٰہی سن کر اس کو مان لیا اور اللہ کی توحید پر ایمان لے آئے اور واپس جا کر اپنی قوم کو بھی تبلیغ کرنے لگے اور دلائل عقل ونقل اور وحی سے قوم کے سامنے مسئلہ بیان کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں وادی نخلہ میں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت جو سات یا نو افراد پر مشتمل تھی وہاں سے گذری، جب تلاوت قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑی تو نہایت خاموشی سے اسے سننے لگے (ابن کثیر) جب تلاوت ختم ہوئی تو ان کے سینے نور ایمان سے روشن ہوچکے تھے اس لیے اب وہ واپس پہنچ کر ازراہ خیر خواہی و ہمدردی اپنی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
ربط آیات :
سورۃ ہذا حوا میم سبعہ کی آخری سورة ہے ، ان تمام سورتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اصول ہی بیان کئے گئے ہیں ، توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ان سورتوں کا خاص موضوع ہے ، اس ضمن میں گزشتہ آیات میں اللہ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ وہ بڑے متکبر لوگ تھے ، اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے ان کو احقاف کے مقام میں اللہ کی گرفت سے ڈرایا اور صاف فرمایا الا تعبدو الا اللہ (آیت ۔ 1 2 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، مجھے خطرہ ہے ، کہ کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو ، اللہ نے اس مغرور قوم کا ذکر اہل مکہ کو سمجھانے کے لئے کیا اور فرمایا کہ قوم عاد تو تم سے زیادہ طاقتور…
Read the full tafseer →وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ 0 ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا 0 ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29
صرف
الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152]
( ص ر) الصرف
کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے :
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ترکیب : یستمعون حال محمولۃ علی المعنیٰ لان نفرامفرد فی اللفظ۔ والنفردون العشرۃ وجمعہ انفار۔ بقادر الیاء مزیدۃ لتاکیدالنفی فانہ مشتمل علی ان ومافی خبرھا۔
تفسیر : قوم عاد کا ذکر کر کے یہ بات بتلاتا ہے کہ اے قریش ! تم یہ نہ سمجھو کہ تم عاد جیسے سرکش ایمان نہ لائے تو اور کوئی زور آور ایمان نہیں لائے گا قوم جن تم سے زور آور اور سرکش ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ تو ایمان لاویں اور اپنی قوم کو جا کر ایمان لانے کی رغبت دلائیں اور تم پیغمبر ( علیہ السلام) کے ہم قوم ہم زبان ہم جنس ہو کر یوں اللہ کے داعی سے دور پڑے رہو۔ پس اے محمد ﷺ اذاصرفنا ان سے کہہ دیجئے جبکہ ہم نے تیرے پاس چند جن بھیجے قرآن سننے کو…
Read the full tafseer →وَاِذْ صَرَفْنَـآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ج فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ج فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ۔ (الاحقاف : 29)
(اور یاد کیجیے جب ہم نے پھیر دیا آپ کی طرف جنوں کے گروہ کو تاکہ وہ قرآن کریم سنیں، جب وہ اس جگہ پہنچے تو انھوں نے آپس میں کہا، خاموش ہو کر سنو، جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف انذار کرنے والے بن کر لوٹے۔ )
جنوں کے استماعِ قرآن سے آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ اور اس کے بعد کی آیات میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ مخالفین کے رویئے سے نہ دل گرفتہ ہوں اور نہ مایوس ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ اور اہل طائف کا قرآن مجید سے انحراف مگر جنوں کا قرآن مجید کی طرف متوجہ ہونا۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی ﷺ مکہ والوں سے مایوس ہو کر اہل طائف کی طرف گئے اور انہیں اپنی دعوت پیش کی مگر انہوں نے مکہ والوں سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ نبی کریم ﷺ کو پتھرمار مار کر لہو لہان کردیا۔ اس کی تفصیل تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں دیکھنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ طائف سے شکستہ دل اور زخمی جسم کے ساتھ واپس آ ہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ وادی میں جنوں کو آپ کی طرف متوجہ فرمایا۔ جب جنوں کی جماعت نے آپ کی زبان اطہر سے قرآن مجید…
Read the full tafseer →جنات کی آمد اور ایمان قبول کرنا :
آیت 29 : وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا (جب کہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے) ہم نے ان کو مائل کیا اور آپ کی جانب متوجہ کیا۔ النفر دس سے کم تعداد پر بولا جاتا ہے۔ مِّنَ الْجِنِّ ( جنات کی ایک جماعت) یہ نصیبین مقام کے جنات تھے۔ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْٰانَ (جو قرآن سننے لگے تھے) آپ ﷺ سے۔ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ (جب وہ لوگ قرآن کے پاس آپہنچے) ہٗ کی ضمیر قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ آپ سے اتنے فاصلہ پر پہنچے کہ وہاں سے قرآن سن سکتے تھے۔ قَالُوْٓا (وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے) اَنْصِتُوْا (خاموشی سے سنو)
روایت : میں ہے کہ جنات…
Read the full tafseer →28 ۔” فلولا “ پس کیوں نہیں ” نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا آلھۃ “ یعنی وہ بت جن کو انہوں نے معبود بنالیا ہے۔ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ قربان ہر وہ چیز جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور اس کی جمع قرابین ہے جیسے رھبان اور رھابین۔
” بل ضلوا عنھم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بلکہ گم ہوگئے معبودوں سے ۔ پس عذاب کے اترنے کے وقت ان کو کوئی نفع نہ دیا۔ ” وذلک افکھم “ یعنی ان کا جھوٹ ہے جو وہ کہتے تھے کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں گے اور ان کی سفارش کریں گے۔ ” وماکانوا یفترون “ جھوٹ بولتے تھے کہ وہ معبود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29۔ 32۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات نہیں کی بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے ‘ بیہقی حافظ ابن حجر اور علما نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اسی کا ذکران آیتوں اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے ‘ اس دفعہ جنات کے آنے کا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام مخلوق، یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اس لئے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔ انسانوں کہ دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لئے ممکن ہے۔ رہے جنات تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالیٰ نے بھیجی (نفرا من الجن یستمعون القرآن فلما حضروہ قالو انصتوا) آپ کی طرف ” جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہوجاؤ “ یعنی انہوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ (فلمی قضی) ” جب قرآن پڑھا جا چکا ہے “ اور انہوں نے اس کو یاد کرلیا اور قرآن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
[ 67] قرآن حکیم کی اثر آفرینی جنوں پر :
سو اس سے جنوں کے قرآن سننے اور اس سے متأثر ہونے کے واقعے کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے جس میں پیغمبر کیلئے اور آپ کے توسط سے ہر داعیء حق کے لیے تسلیہ کا سامان ہے۔ یعنی اس کا عطف " اخا عاد " پر ہے۔ یعنی ان لوگوں کو جنوں کا یہ واقعہ بھی سنا دیجئے تاکہ انکے سامنے یہ امر واضح ہو سکے کہ جس قرآن پر ایمان لانا تمہیں اتنا گراں ہے وہ ایسا صاف صریح اور اس قدر پر تاثیر کلام حق ہے کہ جنوں جیسی مخلوق بھی، جن کے اصل طبیعت پر شر ہی کا غلبہ ہوتا ہے، وہ پہلی ہی مرتبہ سننے سے اس پر ایمان لے آئی اور وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو حق کے داعی و مبلغ اور منذر بن کر لوٹے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
قرآن انسانوں اور جنوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے جنوں کا ذکر آتا ہے۔ ان کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور بہت سے دوسرے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو نخلہ کے مقام پر نماز میں تلاوت کر رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزرا اور وہ قرآن سننے لگا۔ ان کے موجود ہونے کی خبر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔ کیونکہ جن انسان کی طرح مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے بنائے گئے ہیں۔ اس لیے دکھائی نہیں دیتے ان آیات میں بہت سے نئے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی مخلوقات ہیں جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
آیات 27 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جہاں قرآن پڑھا جا رہا تھا۔ یہ بطن نخلہ کا واقعہ ہے۔ جب آنحضرت اپنے چند صحابہ کے ساتھ بغرض تبلیغ تشریف لے گئے۔ راستہ میں نخلہ کے مقام پر رات بسر کی اور صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جن نصیبن سے آٹھ افراد پر مشتمل ایک وفد وہاں پہنچا۔
6 اس سے معلمو ہوتا ہے کہ وہ جن آنحضرت پر ایمان لے آئے تھے۔ بعد کی آیات بھی اس پر دلیل ہیں۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن متعدد مرتبہ آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور ایک یا دو مرتبہ آپ ان کو تعلیم دینے کے لئے باہر بھی تشریف لے گئے۔ (قرطبی ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(46:29) واذ : اس سے قبل اذکر الوقت : محذوف ہے : ای واذکر الوقت اذ ۔۔ اور یاد کرو وہ وقت جب ۔۔
صرفنا۔ ماضی جمع متکلم صرف (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے پھیرا۔ ہم نے متوجہ کیا۔ الیک تیری طرف۔ ؎
نفرا۔ اسم جمع ہے دس سے کم تعداد کی جماعت کو نفر کہتے ہیں، صرف آدمیوں کے لئے بولا جاتا ہے عورتوں یا کسی دوسری مخلوق کے لئے نہیں بولا جاتا۔ ترجمہ آیت :۔ اور یاد کرو وہ وقت یا اس واقعہ کو جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا۔
مولانا مودودی اس واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں :۔
اس آیت کی تفسیر میں جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، حضرت زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرات حسن بصری (رح) ، سعید بن جبیر ؓ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
جنوں کا ایمان لانا۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت قرآن سننے کے لیے بھیجی ، جب آپ بطن نخلہ میں مکہ مکرمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر قرات پڑھ رہے تھے یہی قرآن ان جنات نے سنی اور پھر جاکر اپنی قوم سے قرآن کی تعریف کی اس پر بہت بڑا قافلہ جنات کا دین اسلام کی باتیں سیکھنے آیا اور جب وہ جنات اس جگہ پہنچ گئے جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے تو اللہ نے ان کے دل میں قرآن کے سننے کا ایسا شوق پیدا کردیا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو یہ کلام اچھی طرح سننے دو ، اور جب وہ جنات قرآن کی نصیحت سن کر رسول اللہ پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں…
Read the full tafseer →جنات کا وجود
2: جنوں کے متعلق آج سے پہلے اہل تاویل کا مسلک یہ تھا ۔ یہ انسانوں کا ایک گروہ ہے جو عام طور پر پہاڑوں اور جنگلوں میں رہتا ہے ۔ انہیں لوگوں نے طائف سے واپسی کے وقت قرآن کو سنا ۔
قوم جن نے تعجب اور حیرت سے اپنی قوم کو قرآن کے سننے کا مژدہ سنایا ۔ ابن کو جن اس مناسبت سے کہا گیا ۔ کہ یہ لوگ عام لوگوں کی نظروں پے پوشیدہ اور مستتر رہتے ہیں ۔ اور شہر والوں سے ان کے تعقات زیادہ نہیں ہوتے ۔ مگر یہ تاویل اب بالکل مہمل ثابت ہوچکی ہے ۔ کیونکہ جو مجبوری اس مسئلہ میں تھی ۔ اب وہ دور ہوگئی ۔ تجربات کی روشنی میں معلوم ہوگیا ہے ۔ کہ جنات ایک مستتر اور نظر نہ آنے والی مخلوق ہے ۔ اب خود یورپ نے جو…
Read the full tafseer →(29) اور اے پیغمبر آپ ان سے اس واقعہ کا ذکر کیجئے کہ جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی جانب متوجہ کردیا درآنحالیکہ وہ قرآن سننے لگے قرآن کی آواز ان کو پہنچنے لگی اور انہوں نے قریب پہنچنے کی کوشش کی غرض جب وہ قران کی تلاوت کے پاس آپہنچے تو کہنے لگے چپ رہو اور خاموش ہوجائو پھر جب قرآن کی تلاوت پوری ہوگئی اور تلاوت ہوچکی تو وہ جن اپنی قوم کو آگاہ کرنے اور ڈرانے کی غرض سے قوم کے پاس واپس گئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نکلے تھے حج کے دنوں میں شہر مکہ سے باہر نماز صبح پڑھنے کے لئے اپنے یاروں کے ساتھ اس وقت کتنے جن سن گئے اور مسلمان ہوئے اپنی قوم کو جاکر سمجھایا اس بار حضرت (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ف 3۔ جن جنات کے ایمان لانے کا ان آیتوں میں ذکر ہے ان کا واقعہ حدیثوں میں اس طرح آیا ہے کہ جب بعثت نبویہ کے وقت جنات کو آسمانی خبریں سننے سے بذریعہ شہب روک دیا گیا تو جنات میں تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب تحقیق کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کے سبب یہ امر ہوگیا۔ جنات مختلف اقطار میں تحقیق کے واسطے روانہ ہوئے بعض جنات حجاز کی طرف بھی چلے، اس روز حضور ﷺ مع اپنے چند اصحاب کے بطن نخلہ میں ایک مقام کا نام ہے تشریف رکھتے تھے، اور سوق عکاظ کو تشریف لے جانے کا قصد تھا، غرض آپ صبح کی نماز پڑہا رہے تھے، جب وہ جنات یہاں پہنچے قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے…
Read the full tafseer →ایک گروہ جن نے نبی کریم ﷺ کو قرآن کریم پڑھتے سنا :
92 ؎ { جن } کی اصل ج ن ن ہے اصل الجن : ستر الشئی من الحاسۃ۔ یقال جن الشئی یجنہ ، جنا مثل سترہ ماوزنا و معنیٰ ہر چھپی ہوئی چیز کو کہتے ہیں جو نظر نہ آئے۔ مختصر یہ کہ { جن } کا لفظ عربی زبان میں کائنات کی ہر ایک چیز پر کسی نہ کسی طرح بولا جاتا ہے او احادیث میں ہر طرح کے سانپوں ، کیڑوں مکوڑوں ، ڈنگروں ، ڈھوروں ، کتوں ، بلوں ، چوہوں ، مکھیوں ، مچھروں اور سارے حشرات الارض پر بولا جاتا ہے۔ ایک پوشیدہ مخلوق جس کی اصل آگ ہے اس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض انسانوں پر بھی یہ لفظ بولا گیا ہے جسے شیطان کا لفظ بولا گیا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
Commentary
The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith.
The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…
Read the full tafseer →33 The traditions that have been related from Hadrat `Abdullah bin Mas'ud, Hadrat Zubair, Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas, Hasan Basri, Said bin Jubair, Zarr bin Hubaish, Mujahid, 'ikrimah and others in connection with the commentary of this verse concur that this incident of the first visit of the jinns, which has been mentioned in this verse, had occurred in the valley of Nakhlah. And according to Ibn Ishaq, Abu Nu`aim Isfahaini and Waqidi, this incident occurred during the Holy Prophet's return journey from Ta'if to Makkah. On the way, when he halted at Nakhlah, and was reciting the Qur'an in…
Read the full tafseer →