Al-Ahqaf 46:28

Al-Ahqaf · from ayah 28

46:28

فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً ؕ— بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ ۚ— وَذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۟فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ قُرۡبَانًا اٰلِهَةً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡهُمۡ‌ۚ وَذٰلِكَ اِفۡكُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افتراء کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then why did those they took besides Allah as deities by which to approach [Him] not aid them? But they had strayed from them. And that was their falsehood and what they were inventing.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahqaf

All translations of 46:28

پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افتراء کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وه تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر انہوں نے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جن چیزوں کو اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کرلی ؟ اس کے بجائے وہ سب ان کے لیے بےنشان ہوگئے۔ یہ تو ان کا سراسر جھوٹ تھا، اور بہتان تھا جو انہوں نے تراش رکھا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیوں نہ مدد کی ان کی جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا بلکہ وہ ان سے گم گئے اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان (بتوں) نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے تقرّبِ (الٰہی) کے لئے اﷲ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، بلکہ وہ (معبودانِ باطلہ) ان سے گم ہو گئے، اور یہ (بتوں کو معبود بنانا) ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ بہتان (تھا) جو وہ باندھا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان لوگوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں انھوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا ؟ بلکہ وہ ان سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ بہتان باندھتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان ہستیوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ جنہیں ان لوگوں نے اللہ کے سوا تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھ کر الٰہ بنا رکھا تھا ؟ بلکہ وہ ان سے گم ہوجائیں گی اور یہ نتیجہ ہوگا ان کے جھوٹ کا اور اس بات کا جو جھوٹے عقیدے انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیوں نہ ان کی مدد کی انہوں نے جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کے لئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ سب ان سے کھوئے گئے اور یہ ان کا جھوٹ اور ان کا افتراء تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (عذاب آنے پر) کیوں نہ ان کی کوئی مدد کرسکیں وہ ہستیاں جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا تھا ؟ بلکہ (اس وقت) ان سے کھو گئیں (اور گم ہو کر رہ گئیں) وہ سب کی سب اور یہ تھا نتیجہ (و انجام) ان کے اس جھوٹ کا (جو یہ لوگ بولا کرتے تھے) اور ان کے ان ڈھکوسلوں کا جو یہ گھڑا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

سو ان کی مدد ان لوگوں نے کیوں نہ کی جنہیں انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب کے لئے وہ تو الٹے ان سے غائب ہوگئے اور یہ محض ان کی تراشی ہوئی اور گڑھی ہوئی بات تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیوں نہ مدد کی ان کی ان ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب ّ (الی اللہ) کا ذریعہ سمجھتے ہوئے بلکہ وہ سب تو ان سے گم ہوگئے اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور جو کچھ وہ افترا کر رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جن کو ان لوگوں نے اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی ؟ بلکہ وہ ان کے سامنے سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہ وہ افترا کیا کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

So why did those whom they had set up as gods apart from Allah, hoping that they would bring them nearer to Him, not come to their aid? Instead, they failed them. This was the end of the lie they had fabricated and the false beliefs they had invented.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, why is it that they were not helped by those whom they had taken as gods beside Allah in order to attain closeness (to Him)? Instead, they vanished from them. That was, in fact, their falsity and a thing they used to fabricate.

— Muhammad Taqi Usmani

So, why is it that they were not helped by those whom they had taken as gods beside Allah in order to attain closeness (to Him)? Instead, they vanished from them. That was, in fact, their falsity and a thing they used to fabricate.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As for those whom they had taken for gods besides Allah, as the means of approach to Him, why then did they not aid them Nay, but they vanished completely from them. And that was their falsehood, and what they were fabricating.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then why did those whom they had chosen for gods as a way of approach (unto Allah) not help them? Nay, but they did fail them utterly. And (all) that was their lie, and what they used to invent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then why did those they took besides Allah as deities by which to approach [Him] not aid them? But they had strayed from them. And that was their falsehood and what they were inventing.

— Saheeh International

Why did the idols, whom they worshipped as a means of pleasing God, not help them? In fact, they proved to be the cause of their going astray and it were lies which they had falsely invented lies.

— Muhammad Sarwar

Why did not then those help them whom they took for gods besides Allah to draw (them) nigh (to Him)? Nay! they were lost to them; and this was their lie and what they forged.

— Muhammad Habib Shakir

Then wherefore succoured them not those whom they had taken for gods beside Allah, as a means of approach? Aye! they failed them. And that was their lie, that which they had been fabricating.

— Abdul Majid Daryabadi

Why then was no help forthcoming to them from those whom they worshipped as gods, besides Allah, as a means of access (to Allah)? Nay, they left them in the lurch: but that was their falsehood and their invention.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 46:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–28

مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں انکی طرح نہ ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکے سے عذاب تم پر بھی آجائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْاَحْقَاف 32 یعنی ان ہستیوں کے ساتھ عقیدت کی ابتداء تو انہوں نے اس خیال سے کی تھی کہ یہ خدا کے مقبول بندے ہیں، ان کے وسیلے سے خدا کے ہاں ہماری رسائی ہوگی۔ مگر بڑھتے بڑھتے انہوں نے خود انہی ہستیوں کو معبود بنا لیا، ان ہی کو مدد کے لیے پکارنے لگے، انہی سے دعائیں مانگنے لگے، اور ان ہی کے متعلق یہ سمجھ لیا کہ یہ صالح تصرف ہیں، ہماری فریاد رسی و مشکل کشائی ہی کریں گے۔ اس گمراہی سے ان کو نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اپنے رسولوں کے ذریعہ سے بھیج کر طرح طرح سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنے ان جھوٹے خداؤں کی بندگی پر اڑے رہے اور اصرار کیے چلے گئے کہ ہم اللہ کے بجائے ان ہی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–28

خلاصہ تفسیر ربط آیات اوپر قوم عاد کا قصہ تفصیلاً مذکور تھا، آگے دوسری ایسی ہی قوموں کا ذکر ہے جن پر کفر اور مخالفت انبیاء کی وجہ سے عذاب آئے اور ہلاک ہوئے ان کی اجڑی ہوئی بستیاں بھی اہل مکہ کے سفروں کے وقت راستے میں آتی تھیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے لئے ان کا اجمالی حال آیات مذکورہ میں آیا ہے۔ اور ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیاں بھی (اس کفر و شرک کے سبب) غارت کی ہیں (جیسے ثمود و قوم لوط کہ ملک شام کو جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزرتے تھے اور چونکہ مکہ سے ایک طرف یمن ہے دوسری جہت میں شامل ہے اس لئے ما حولکم فرما دیا) اور ہم نے (ہلاک کرنے سے پہلے ان کی فرمائش کے لئے) بار بار اپنی نشانیاں (ان کو)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فلولا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قرباناً الھۃ بل ضلواعنھم وذلک افکھم وما کانوا یفترون 28 ایک سوال یہ قریش کے سامنے ایک سوال رکھا ہے کہ اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تمہارے یہ دیوی دیوتا تمہیں خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو آخر ان کے معبودوں نے ان کو خدا کے عذاب سے کیوں نہیں بچایا، انہوں نے بھی تو تمہاری ہی طرح ان معبودوں کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کیا تھا ؟ بل ضلوا عنھم یعنی وہ تو سب عین وقت پر کھوئے گئے، کوئی بھی ان کے کام آنے والا نہ بنا۔ ذلک افکھم وما کانوا یفترون یعنی ثابت ہوا کہ یہ سب ان کا جھوٹ اور افترائے محض تھا، انہوں نے محض اپنے جی سے ان کو معبود بنایا اور پھر خدا پر یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 یعنی جن معبودوں کو وہ تقرب الہی کا ذریعہ سمجھتے تھے انہوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ وہ اس موقعے پر آئے ہی نہیں بلکہ گم رہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ بتوں کو الہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں بارگاہ الہی میں قرب کا ذریعہ اور وسیلہ سمجھتے تھے اللہ نے اس وسیلے کو یہاں افک اور افتراء قرار دے کر واضح فرما دیا کہ یہ ناجائز اور حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–29

15: حضور سرور عالم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ جنات کے لئے بھی پیغمبر بنایا تھا، چنانچہ یہ واقعہ جس کا اس آیت میں تذکرہ ہے، اس وقت پیش آیا جب آنحضرت ﷺ طائف والوں کو تبلیغ فرمانے اور ان سے دکھ اٹھانے کے بعد مکہ مکرمہ واپس تشریف لے جارہے تھے، راستے میں ایک مقام کا نام نخلہ ہے وہاں آپ نے قیام فرمایا اور فجر کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت شروع کی، اس وقت جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزررہی تھی، اس نے یہ کلام سنا تو وہ اسے سننے کے لئے رک گئے، اور توجہ سے سننے کے لئے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی، قرآن کریم کا پُر اثر کلام، اور فجر کے وقت سرور عالم ﷺ کی زبانی، اس نے ان جنات پر ایسا اثر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–28

درس نمبر 239 ایک نظر میں یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

ف 9 یعنی جن بتوں کی نسبت کہا کرتے تھے کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ سے نزدیک کردیں اور بڑے بڑے درجے دلائیں وہ اس آڑے وقت میں کیوں کام نہ آئے۔ اب ذرا ان کو بلایا ہوتا۔ 10 یعنی آج ان کا کہیں پتہ نہیں۔ نہ عذاب کے وقت ان کو پکارا جاتا ہے آخر وہ گئے کہاں جو ایسی مصیبت میں بھی کام نہیں آتے۔ 11 یعنی ظاہر ہوا کہ بتوں کو خدا بنانا اور ان سے امیدیں قائم کرنا، محض جھوٹی اور من گھڑت باتیں تھیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے پھر وہ چلے کیسے۔ (ربط) اوپر کی آیات میں انسانوں کے تمردو سرکشی کی داستان تھی۔ آگے اس کے مقابل جنوں کی اطاعت و فرمانبرداری کا حال سناتے ہیں۔ تاکہ معلوم ہو کہ جو قوم طبعی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 { فَلَوْلَا نَصَرَہُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُرْبَانًا اٰلِہَۃً } ”تو کیوں نہ مدد کی ان کی ان ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب ّ الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے !“ ان کا خیال تھا کہ ان کے معبود انہیں اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنیں گے اور ہر مشکل میں ان کی مدد کریں گے۔ { بَلْ ضَلُّوْا عَنْہُمْ } ”بلکہ وہ سب تو ان سے گم ہوگئے“ جب ان پر عذاب آیا تو ان کے معبودوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا اور انہیں یوں لگا جیسے کہ حقیقت میں ان کے معبودوں کا کوئی وجود تھا ہی نہیں ‘ بس بقول میر دردؔ: ع ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ‘ جو سنا افسانہ تھا !“ {…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

40 اہل مکہ کے ارد گرد کسی زمانہ میں ایسی بیشمار بستیاں آباد تھیں۔ جو اب تباہ و برباد ہوچکی تھیں۔ انہیں وہ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے تھے اور اگر چاہتے تو ان سے عبرت بھی حاصل کرسکتے تھے۔ ان قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کئی ایسے الٰہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ وہ مصیبت کے وقت ہمارے کام آتے ہیں۔ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہیں اور یہ اللہ کے ہاں ہماری فریادیں پہنچانے اور ہمیں اللہ کے قریب کردینے کا ذریعہ ہیں۔ پھر چاہئے تو یہ تھا کہ جب اسی جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا کہ اس مصیبت میں وہ ان کی مدد کو پہنچتے۔ مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

31۔ یعنی کہیں واقع میں وہ شفیع یا معبود یا صاحب تصرف تھوڑے ہی تھے۔ یہ تو محض جاہلی مذہب والوں نے افسانے گڑھ رکھے تھے۔ افک سے اس مشرکانہ عقیدہ کی کامل تردید ہوگئی کہ خدائی بھی کوئی تدریجی درجہ بندی کی چیز ہے۔ اور ایک معبود اعظم کے ماتحت چھوٹے چھوٹے دیوی، دیوتا اور بھی ہوتے ہوں ! (آیت) ” الذین ...... الھۃ “۔ یعنی انہوں نے ان ہستیوں کو معبود اس غرض سے تراش رکھا تھا کہ وہ آڑے وقت کام آئیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–28

ترجمہ : اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی (بہت سی) بستیوں کو یعنی بستی والوں کو مثلاً ثمود اور عاد اور قوم لوط کو ہلاک کردیا اور ہم نے آیتوں کو یعنی واضح حجتوں کو طرح طرح سے بیان کردیا تاکہ وہ (کفر و شرک سے) باز آجائیں، تو انہوں نے ان سے عذاب کو دفع کر کے ان کی مدد کیوں نہ کی ؟ جن کو اللہ کے علاوہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا تھا، اور وہ بت ہیں اتخذوا کا مفعول، ضمیر محذوف ہے جو موصول کی طرف لوٹ رہی ہے اور وہ ھم ہے اقرباناً مفعول ثانی ہے اور الھۃ اس سے بدل ہے بلکہ وہ نزول عذاب کے وقت ان سے غائب ہوگئے اور یہ یعنی بتوں کو تقرب کے لئے معبود بنا لینا ان کا جھوٹ اور افتراء محض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلو لا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا الھۃ بل ضلوا عنھم وذلک افکھم وما کانوا یفترون سو اللہ کے سوا جن جن چیزوں کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کیلئے اپنا معبود بنا رکھا تھا ‘ انہوں نے ان کی مدد کیوں نہیں کی بلکہ وہ ان سے غائب ہوگئے ‘ وہ محض ان کی من گھڑت اور تراشی ہوئی بات تھی۔ مَا حَوْلَکُمْ یعنی اے اہل مکہ ! تمہارے آس پاس کی بستیاں جیسے قوم ثمود کی بستی حجر اور قوم لوط کی بستی سدوم وغیرہ۔ بستیوں کو ہلاک کرنے سے مراد ہے اہل بستی کو ہلاک کرنا۔ فَلَوْلاَ لَصَرَھُمْ یعنی اللہ کے عذاب سے کیوں نہیں بچایا۔ وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ یعنی بار بار دلائل اور نشان ہائے قدرت ہم نے پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو جن چیزوں کو انہوں نے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی بلکہ وہ ان کے معبود ان سے غائب ہوگئے یہ ان کی خود بنائی ہوئی جھوٹی بات تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فلولا نصرھم الذین اتخذوا …:”قرباناً“ حال ہے یا مفعول لہ ہے، ترجمہ مفعول لہ کے مطابق کیا گیا ہے، اہل مکہ اور ان کے اردگرد کی قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کئی ایسے الہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ مصیبت کے وقت ان کے کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں، اس کے پاس ان کی فریادیں پہنچاتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سورة زمر میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنے پیش رو لوگوں کی طرح کہا کرتے تھے :(مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی) (الزمر : 3) ”ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھلا کے معنی میں ہے یعنی ان کے معبودوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی جن کی وہ عبادت کرتے تھے ان کا گمان یہ تھا کہ یہ معبود ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کریں گے کیونکہ انہوں نے کہا تھا (یونس 18) اور جو ہلاکت ان پر واقع ہوگی اس سے یہ معبود انہیں محفوظ رکھیں گے۔ کسائی نے کہا : قربان سے مراد ہر اطاعت اور قربانی ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔ اس کی جمع قرابین ہے جس طرح دھبان کی جمع رہابین ہے اتخذ کے دو مفعولوں میں سے ایک الذین مخدوف کی طرف لوٹ رہا ہے دوسرا مفعول الھۃ ہے (1) اور حال بن رہا ہے کو دوسرا مفعول بنانا صحیح نہیں۔ ا سے بدل ہے کیونکہ معنی میں فساد پیدا ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

4:۔ سعید بن منصور نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت ) ” وذلک افکہم “ (اور یہ ان کی من گھڑت باتیں ہیں ) 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” وذلک افکہم “ (اور وہ ان کی من گھڑت باتیں ہیں) یعنی الف اور کاف کے فتح کے ساتھ اور فرمایا یہ انکی اصل ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَوْلَا نَــصَرَهُمُ [ تو کیوں نہیں مدد کی ان کی ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں نے جن کو ] اتَّخَذُوْا [ان لوگوں نے بنایا ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] قُرْبَانًا [ قربت حاصل کرنے کے لیے ] اٰلِهَةً ۭ [ معبود ] بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ ۚ [ بلکہ وہ سب گم ہوگئے ان سے ] وَذٰلِكَ اِفْكُهُمْ [اور یہ ان کا جھوٹ تھا ] وَمَا [ اور وہ (بھی ) جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ یہ گھڑتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

جنات کا رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا، پھر واپس جاکر اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا ! رسول اللہ ﷺ رسول الثقلین تھے یعنی آپ انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جنات کی طرف بھی یہاں سورة الاحقاف میں اور سورة الجن میں جنات کا خدمت عالی میں حاضر ہونا اور آپ سے قرآن مجید سننا مذکور ہے علماء حدیث نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنات کی آبادی میں تشریف لے گئے اور انہیں احکام دینیہ کی تبلیغ فرمائی محدثین کی اصطلاح میں اس کو لیلۃ الجن کہتے ہیں حضرات محدثین کرام نے فرمایا ہے کہ لیلۃ الجن کا واقعہ چھ مرتبہ پیش آیا، معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جنات کو تبلیغ کریں انھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–28

تذکرۂ ہلاکت امم سابقہ برائے عبرت اہل مکہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد اھلکنا ما حولکم ..... الی ...... وما کانوا یفترون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قوم عاد کی ہلاکت وتباہی کا ذکر فرمایا گیا جس سے مقصدیہ ظاہر کرنا تھا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی انکے دین کا تمسخر و مذاق بنایا اور عذاب خداوندی کی وعید کو سن کر پیغمبر سے مطالبہ کرنے لگے کہ وہ اچھا عذاب لے آؤ جس سے ڈرا رہے ہو تو اب اس مناسبت سے اجمالا ان دوسری قوموں کی تباہی کا حوالہ دیا جارہا ہے جو مکہ کے اطراف اور شام کے علاقہ میں بسنے والی تھیں اور یہ بتایا جارہا ہے کہ نہ انکے معبود کام آئے اور نہ انکے وسائل اور مال و دولت و عذاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

24:۔ ” واذ صرفنا “ یہ چوتھی تفصیلی نقلی دلیل ہے از جنات۔ جنات نے بھی کلام الٰہی سن کر اس کو مان لیا اور اللہ کی توحید پر ایمان لے آئے اور واپس جا کر اپنی قوم کو بھی تبلیغ کرنے لگے اور دلائل عقل ونقل اور وحی سے قوم کے سامنے مسئلہ بیان کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں وادی نخلہ میں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت جو سات یا نو افراد پر مشتمل تھی وہاں سے گذری، جب تلاوت قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑی تو نہایت خاموشی سے اسے سننے لگے (ابن کثیر) جب تلاوت ختم ہوئی تو ان کے سینے نور ایمان سے روشن ہوچکے تھے اس لیے اب وہ واپس پہنچ کر ازراہ خیر خواہی و ہمدردی اپنی قوم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–28

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کے دین حق سے انکار اور ان کے غرور وتکبر کا ذکر کرکے مشرکین مکہ اور عرب کو عبرت دلائی کہ اگر تم نے بھی قوم عاد کی طرح اللہ کی توحید ، اس کے رسول اور معاد کا انکار کیا ، شرک اور کفر سے باز نہ آئے ، غرور وتکبر پر مصر رہے تو پھر تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام کے انجام ہلاکت سے مختلف نہیں ہوگا۔ اللہ نے قوم عاد کو ہوا جسی نرم ونازک چیز کے ذریعے ہلاک کیا جو انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی کا ذریعہ ہے تو جب اس قوم کے تمام نافرمان بچے بوڑھے ، مرد ، عورتیں سب ہلاک ہوگئے تو پھر ان کی عمارات کے کھنڈرات کے سوا ان کے علاقہ میں کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔ سابقہ اقوام سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَوْلَا نَصَرَہُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ قُرْبَانًا اٰلِہَۃً۝ 0 ۭ بَلْ ضَلُّوْا عَنْہُمْ۝ 0 ۚ وَذٰلِكَ اِفْكُہُمْ وَمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝ 28 «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

فلولانصرھم پس ان کے ان معبودوں نے ان کی کیوں نہ مدد کی کہ جن کو انہوں نے وسیلہ بنا کر معبود سمجھ رکھا تھا اور جانتے تھے کہ یہ ہمارے کام آویں گے بل ضلواعنہم بلکہ وہ کھوئے گئے کہیں دکھائی بھی نہ دیے وذلک اور یہ بات کہ وہ معبود کام آویں گے افکہم ان کا ڈھکوسلا تھا وماکانوا یفترون معطوف علی افکہم۔ اور یہ منجملہ ان کے ان ڈھکوسلوں کے ایک ڈھکوسلا تھا۔ یعنی ایسے ایسے اور بھی خیالات باطل دماغ میں جما رکھے تھے جیسا کہ بت پرستوں میں اب تک ایسے صدہا خیالات فاسدہ مانے جاتے ہیں۔ اصول ثلاثہ۔ اثبات باری تعالیٰ و توحید ومعاد کے ضمن میں یہاں تک اور بہت سے اصول ملیہ ذکر ہوگئے سعادت و شقادت کے آثار ‘ ماں باپ کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَوْلاَ نَصَرَ ھُمْ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُرْبَانًا اٰلِھَۃً ط بَلْ ضَلُّوْا عَنْھُمْ ج وَذٰلِکَ اِفْـکُھُمْ وَمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الاحقاف : 28) (پھر کیوں نہ ان کی مدد کی (ان ہستیوں نے) جن کو انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے تقرب کے لیے معبود بنا رکھا تھا، وہ سب ان سے کھوئے گئے اور یہ ان کا جھوٹ اور ان کا افترا تھا۔ ) مشرکین سے ایک سوال قریش کا نام لیے بغیر ان سے ایک سوال کیا جارہا ہے کہ تم نے قوم عاد کی طرح بعض ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی بعض صفات میں اس لیے شریک کر رکھا ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گی۔ تو پھر قوم عاد یا دوسری قوموں کی بستیوں پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–28

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کا انجام بیان کرنے کے بعد اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر انتباہ کیا گیا۔ رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے مکہ والو ! ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیوں کو تباہ کیا اور ان کے سامنے بار بار اپنی آیات پڑھیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ جب وہ اپنے رب کی طرف نہ پلٹے تو اس نے انہیں نیست و نابود کردیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں نیست و نابود کیا تو جنہیں وہ ” اللہ “ کے سوا مشکل کشا سمجھتے تھے اور ان کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بناتے تھے وہ ان کی مدد نہ کرسکے۔ قوم عادجب ” اللہ “ کے عذاب میں مبتلا ہوئی تو انہیں اپنے معبود یاد نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے معبودوں کو اپنے قرب کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کے معبودوں کی سفارش کہاں گئی : آیت 28 : فَلَوْلَا (پس کیوں نہ) نَصَرَہُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُرْبَانًا اٰلِہَۃً (ان کی مدد کی جن جن چیزوں کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا ہے) القربان سے وہ چیز مراد ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔ یعنی ان کو ایسا سفارشی قرار دیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ جبکہ وہ کہا کرتے تھے۔ ہؤلاء شفعاؤنا عنداللّٰہ۔ نحو : اتخذ کا ایک مفعول الذین محذوف کی طرف لوٹنے والا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ اتخذوہم اور دوسرا مفعول اٰلہۃًہے اور قربانًا حال ہے۔ بَلْ ضَلُّوْا عَنْہُمْ (بلکہ وہ ان سے گم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” ولقد اھلکنا ماحولکم “ اے اہل مکہ ! ” من القری “ جیسے ثمود کی حجر اور سدوم کی زمین اور ان دونوں کی مثل۔ ” وصرفنا الایات “ واضح دلائل ” لعلھم یرجعون “ اپنے کفر سے پس وہ نہیں لوٹے تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا، مشرکین مکہ کو ڈرارے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–28

26۔ 28۔ قوم عاد کے لوگ جیسے شہ زور تھے ایسے ہی مالدار اور صاحب مقدور بھی تھے کیونکہ اطراف یمن میں ان کی بستیاں خوب شاداب تھیں زراعت کی کثرت تھی مکہ اے اطراف کی زمین کی طرح ناقابل زراعت زمین نہیں تھی اس مالداری کے سبب سے ان لوگوں کو عمارتیں بنانے کا شوق بھی بہت تھا چناچہ اس کا ذکر سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخرا پن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–28

اللہ تبارک و تعالیٰ عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین کے ارد گرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں یعنی انہیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ (لعلھم یرجعون) شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔ اس لئے یہاں فرمایا :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–35

قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “ حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔ ہمیں عبداللہ بن محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

[ 67] قرآن حکیم کی اثر آفرینی جنوں پر : سو اس سے جنوں کے قرآن سننے اور اس سے متأثر ہونے کے واقعے کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے جس میں پیغمبر کیلئے اور آپ کے توسط سے ہر داعیء حق کے لیے تسلیہ کا سامان ہے۔ یعنی اس کا عطف " اخا عاد " پر ہے۔ یعنی ان لوگوں کو جنوں کا یہ واقعہ بھی سنا دیجئے تاکہ انکے سامنے یہ امر واضح ہو سکے کہ جس قرآن پر ایمان لانا تمہیں اتنا گراں ہے وہ ایسا صاف صریح اور اس قدر پر تاثیر کلام حق ہے کہ جنوں جیسی مخلوق بھی، جن کے اصل طبیعت پر شر ہی کا غلبہ ہوتا ہے، وہ پہلی ہی مرتبہ سننے سے اس پر ایمان لے آئی اور وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو حق کے داعی و مبلغ اور منذر بن کر لوٹے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–28

قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–35

آیات 27 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی وقت آن پڑنے پر وہ ان کے کام کیوں نہ آئے ؟… سورة زمر میں گزر چکا ہے کہ انہی کی طرح مشرکین مکہ بھی اپنے دیوتائوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ ” ما نعبدھم الا لیقربونآء الی اللہ زلفی اور ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں (آیت :3) اور سورة یونس آیت 18 میں ھولاء شفآء نا عند اللہ ” یہ اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں۔ 4 یعنی جب وہ وقت آیا جس کے لئے ان کی پوجا کی جاتی تھی اور ان کے سامنے نذرانے پیش کئے جاتے تھے تو یوں غائب ہوگئے کہ کہیں ان کا سراغ نہ ملا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(46:28) فلولا : ای فھل لا۔ کیوں نہ۔ لو لا کا استعمال ڈانٹنے اور توبیخ کرنے کے لئے آیا ہے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لو لا جاء وا علیہ باربعۃ شھداء (24:13) یہ (افتراء پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے لئے چار گواہ کیوں نہ لائے۔ نصرہم الذین اتخذوا۔ نصر ماضی واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے) نصر (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے مدد کی ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے بتوں کو معبود بنا رکھا تھا الذین اسم موصول اتخذوا صلہ فاعل فعل نصر کا۔ من دون اللہ قربانا الھۃ۔ من دون اللہ متعلق الھۃ اور الھۃ مفعول ہے اتخذوا کا۔ اور قربانا مسعول لہ فعل اتخذوا کا۔ قربانا۔ للتقرب الی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–33

تشریح آیات نمبر 12 تا 28 قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–28

سابقہ اقوام کی ہلاکت سامان عبرت۔ (ف 1) ان ایتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخراپن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے خمیازہ کے طور پر ایک دم میں اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا پھر فرمایا نصیحت کی باتیں سننے کے لیے کان قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور اچھے کاموں کی طرف خیال دوڑانے کے لی دل یہ سب کچھ ان کو دیا گیا تھا مگر ان چیزوں سے ان لوگوں نے اللہ کی ناراضی کے کام کیے اس کے عذاب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–28

[10] یعنی وہ عذاب کا دن کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–28

ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے جن کو معبود بنا رکھا تھا ان معبود ان باطلہ نے ان تباہ ہونے والوں کی مدد کیوں نہیں کی اور ان کو بچایا کیوں نہیں بلکہ وہ سب کے سب جھوٹے معبود ان کی نظر سے غائب ہوگئے اور یہ غیر اللہ کو معبود اور شفیع اور قرب الٰہی کا ذریعہ محض بہتان افترا اور بنائی ہوئی بات تھی۔ غیر اللہ کی عبادت کے سلسلے میں جو وجہ یہ بیان کیا کرتے تھے کہ ہم تو ان کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں لیقربونا الی اللہ زلفی جیسا کہ سورة زھر میں گزرا ہے اور یہ کہتے تھے کہ یہ تو ہمارے شفیع ہیں اللہ کی جناب میں ھئولاء شفحائونا عنداللہ جیسا کہ سورة…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–31

ف 3۔ جن جنات کے ایمان لانے کا ان آیتوں میں ذکر ہے ان کا واقعہ حدیثوں میں اس طرح آیا ہے کہ جب بعثت نبویہ کے وقت جنات کو آسمانی خبریں سننے سے بذریعہ شہب روک دیا گیا تو جنات میں تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب تحقیق کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کے سبب یہ امر ہوگیا۔ جنات مختلف اقطار میں تحقیق کے واسطے روانہ ہوئے بعض جنات حجاز کی طرف بھی چلے، اس روز حضور ﷺ مع اپنے چند اصحاب کے بطن نخلہ میں ایک مقام کا نام ہے تشریف رکھتے تھے، اور سوق عکاظ کو تشریف لے جانے کا قصد تھا، غرض آپ صبح کی نماز پڑہا رہے تھے، جب وہ جنات یہاں پہنچے قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 26–28

ایک قابل غور بات ہے جس پر تم کو بھی غور کرنا چاہئے کہ شاید تمہاری اصلاح ہوجائے : 82 ؎ جس طرح آج تم قریش مکہ کے سوا دوسروں کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور رب کریم کے سوا بہت سی ہستیوں کو حاجب روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو کبھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ قرار دے کر ، کبھی اللہ کے بندوں کو داتا اور اوتار سمجھ کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ سارے کام قوم عاد ، ثمود اور دوسری ساری قوموں نے کئے لیکن غور و فکر کرو کہ جب ان کے عذاب کا وقت آیا تو ان ساری شخصیتوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا حالانکہ ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–29

Commentary The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith. The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32 That is, "They had put faith in those things in the beginning with the idea that they were favourite servants of God and through them they would attain nearness to Him, but then gradually they made them their gods. They started invoking them for help; they formed the belief that they had the powers to change their destinies and could answer their prayers and remove their hardships." To deliver them from this error Allah sent His Revelations through His Messengers over and over again in different ways to bring them to the right path, but they persisted m the worship of their gods, and…

Read the full tafseer →