Explained with ayahs 26–28
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی
ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں انکی طرح نہ ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکے سے عذاب تم پر بھی آجائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الْاَحْقَاف 32
یعنی ان ہستیوں کے ساتھ عقیدت کی ابتداء تو انہوں نے اس خیال سے کی تھی کہ یہ خدا کے مقبول بندے ہیں، ان کے وسیلے سے خدا کے ہاں ہماری رسائی ہوگی۔ مگر بڑھتے بڑھتے انہوں نے خود انہی ہستیوں کو معبود بنا لیا، ان ہی کو مدد کے لیے پکارنے لگے، انہی سے دعائیں مانگنے لگے، اور ان ہی کے متعلق یہ سمجھ لیا کہ یہ صالح تصرف ہیں، ہماری فریاد رسی و مشکل کشائی ہی کریں گے۔ اس گمراہی سے ان کو نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اپنے رسولوں کے ذریعہ سے بھیج کر طرح طرح سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنے ان جھوٹے خداؤں کی بندگی پر اڑے رہے اور اصرار کیے چلے گئے کہ ہم اللہ کے بجائے ان ہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
اوپر قوم عاد کا قصہ تفصیلاً مذکور تھا، آگے دوسری ایسی ہی قوموں کا ذکر ہے جن پر کفر اور مخالفت انبیاء کی وجہ سے عذاب آئے اور ہلاک ہوئے ان کی اجڑی ہوئی بستیاں بھی اہل مکہ کے سفروں کے وقت راستے میں آتی تھیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے لئے ان کا اجمالی حال آیات مذکورہ میں آیا ہے۔
اور ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیاں بھی (اس کفر و شرک کے سبب) غارت کی ہیں (جیسے ثمود و قوم لوط کہ ملک شام کو جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزرتے تھے اور چونکہ مکہ سے ایک طرف یمن ہے دوسری جہت میں شامل ہے اس لئے ما حولکم فرما دیا) اور ہم نے (ہلاک کرنے سے پہلے ان کی فرمائش کے لئے) بار بار اپنی نشانیاں (ان کو)…
Read the full tafseer →ولقد اھلکنا ماحولکم من القوی وصرفنا الایت لعلھم یرجعون 27
قریش کو ایک اور تنبیہ
یہ خطاب بھی قریش ہی سے ہے۔ فرمایا کہ عاد کا قصہ اگر کچھ دور کا سمجھتے ہو تو اپنے ماحول کی بستیوں پر نگاہ ڈالو۔ ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں کے پردے ہٹانے کے لئے بھی ہم نے اپنی آیات انکے سامنے گونگاوں پہلوئوں سے پیش کیں تاکہ وہ اپنے اصل خالق وہ مالک کی طرف رجوع کریں لیکن انہوں نے بھی ہماری آیات قبول کرنے سے انکار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ یہ اشارہ ان تبادہ شدہ بستیوں کی طرف ہے جن پر سے قریش کو اپنے تجارتی سفروں میں گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →27۔ 1 آس پاس سے عاد، ثمود اور لوط کی وہ بستیاں مراد ہیں جو حجاز کے قریب ہی تھیں، یمن اور شام و فلسطین کی طرف آتے جاتے ان سے ان کا گزر ہوتا تھا۔
27۔ 2 یعنی ہم نے مختلف انداز سے اور مختلف انوواع کے دلائل ان کے سامنے پیش کئے کہ شاید وہ توبہ کرلیں۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
14: اس سے مراد قوم ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جو شام جاتے ہوئے اہل عرب کے راستے میں پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
درس نمبر 239 ایک نظر میں
یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…
Read the full tafseer →7 یعنی " عاد " کے سوا " قوم ثمود " اور " قوم لوط " وغیرہ کی بستیاں بھی اسی طرح تباہ کی جا چکی ہیں۔ جو تمہارے آس پاس واقع تھیں۔ یہ مکہ والوں کو فرمایا کیونکہ سفروں میں ان کا گزر ان مقامات کی طرف ہوتا تھا۔
8 مگر اتنا سمجھانے پر بھی وہ باز نہ آئے۔
Read the full tafseer →آیت 27 { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَا مَا حَوْلَکُمْ مِّنَ الْقُرٰی } ”اور ہم نے ہلاک کیا ہے بہت سی ایسی بستیوں کو جو تمہارے اردگرد آباد تھیں“
وہ تمام اقوام جن کے انجام کا ذکر قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے جزیرہ نمائے عرب کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھیں۔ احقاف یعنی قوم عاد کا علاقہ مکہ سے جنوب مشرق میں واقع تھا۔ قوم ثمود کا علاقہ مدائن صالح مکہ سے شمال میں تھا اور شمال ہی کے رخ میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا علاقہ مدین تھا۔ جبکہ بحیرئہ مردار Dead Sea کے ساحل پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کے شہروں کے کھنڈرات بھی بحیرہ مردار کے اندر سے دریافت ہوچکے ہیں۔
{ وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
40 اہل مکہ کے ارد گرد کسی زمانہ میں ایسی بیشمار بستیاں آباد تھیں۔ جو اب تباہ و برباد ہوچکی تھیں۔ انہیں وہ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے تھے اور اگر چاہتے تو ان سے عبرت بھی حاصل کرسکتے تھے۔ ان قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کئی ایسے الٰہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ وہ مصیبت کے وقت ہمارے کام آتے ہیں۔ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہیں اور یہ اللہ کے ہاں ہماری فریادیں پہنچانے اور ہمیں اللہ کے قریب کردینے کا ذریعہ ہیں۔ پھر چاہئے تو یہ تھا کہ جب اسی جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا کہ اس مصیبت میں وہ ان کی مدد کو پہنچتے۔ مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا…
Read the full tafseer →30۔ (کفر وشرک اور تکذیب رسول اللہ ﷺ سے) (آیت) ” ولقد ...... القری “۔ یہ اہلاک اسی جرم کفر وتکذیب کی پاداش میں ہوا تھا۔ (آیت) ” ما حولکم من القری “۔ اطراف عرب کی مشہور متمدن وہلاک شدہ قومیں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، وغیرہ تھیں، جو یمن، عمان، عراق، عرب، شام و فلسطین میں آباد تھیں، لکم میں ضمیر جمع مخاطب سے مراد اہل عرب ہیں، جو قرآن مجید کے مخاطب اول تھے۔ (آیت) ” وصرفنا الایت “۔ یعنی ان کے ہلاک کرنے سے قبل بطور فہمائش وتنبیہ انہیں بار بار آگاہ بھی کیا گیا۔ ایات کے تحت میں ہر قسم کے دلائل و شواہد آگئے۔ اے کر رنا علیھم الحجج و انواع العبر (مدارک) اے الحجج والدلائل والعظات (بحر) (آیت) ” لعلھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی (بہت سی) بستیوں کو یعنی بستی والوں کو مثلاً ثمود اور عاد اور قوم لوط کو ہلاک کردیا اور ہم نے آیتوں کو یعنی واضح حجتوں کو طرح طرح سے بیان کردیا تاکہ وہ (کفر و شرک سے) باز آجائیں، تو انہوں نے ان سے عذاب کو دفع کر کے ان کی مدد کیوں نہ کی ؟ جن کو اللہ کے علاوہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا تھا، اور وہ بت ہیں اتخذوا کا مفعول، ضمیر محذوف ہے جو موصول کی طرف لوٹ رہی ہے اور وہ ھم ہے اقرباناً مفعول ثانی ہے اور الھۃ اس سے بدل ہے بلکہ وہ نزول عذاب کے وقت ان سے غائب ہوگئے اور یہ یعنی بتوں کو تقرب کے لئے معبود بنا لینا ان کا جھوٹ اور افتراء محض…
Read the full tafseer →ولقد اھلکنا ما حولکم من القری وصرفنا الایت لعلھم یرجعون۔ اور ہم نے دوسری آس پاس کی اور بستیاں بھی تباہ کردیں اور ہم نے بار بار اپنی نشانیاں بتادی تھیں تاکہ وہ باز آجائیں۔
Read the full tafseer →اور مکہ والو ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیاں بھی ہلاک کیں اور ہم نے ان ہلاک ہونے والوں کے سامنے اوامرو نواہی کی نشانیاں بیان کردی تھیں تاکہ یہ اپنے کفر سے رجوع کرکے توبہ کرلیں۔
Read the full tafseer →(1) ولقد اھلکنا ماحولکم من القریٰ : انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو مخطاب کر کے فرمایا کہ تم اپنے اردگرد کی بستیوں پر نظر ڈالو اور دیکھو کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوتوں کے بدلے پائے ہیں۔ اردگرد سے مراد احقاف ہے جو یمن کے حضر موت کے علاقے میں ہے، واں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو۔ تمہارے اور شام کے درمیان مقام حجر میں ثمود کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، یمن کی قوم سبا کے انجام پر غور کرو، مدین جو تمہارے اور غزہ کے درمیان ہے، تم وہاں آتے جاتے رہتے ہو اور قوم لوط کی بستیاں بھی تمہارے راستے میں…
Read the full tafseer →اس سے مراد قوم ثمود کے دیہات، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں اور اسی طرح کی دوسری بستیاں ہیں جو بلا حجاز کے قریب قریب تھی ان کی خبریں ان کے پاس متواتر آتی رہتی تھیں۔ آیات سے مراد ججج اور دلائل، بینات اور مواعظ کی انواع، یعنی ہم نے انہیں ان بستیوں والوں کے لئے بیان کیا تو وہ نھہ لوٹے ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے قرآن کی آیات وعدہ، وعید، قصص اور اعجاز کی صورت میں پھیر پھیر کر بیان کیں۔ ممکن ہے یہ مشرک لوٹ آئیں۔
Read the full tafseer →3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اھلکنا ماحولکم من القری “ ‘ اور البتہ یقینی بات ہے کہ ہم نے ہلاک کردیا تمہارے ارد گرد کی بستیوں کو یعنی یہاں وہاں یعنی یمن میں یمامہ میں اور شام میں۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا [ اور بیشک ہم ہلاک کرچکے ] مَا حَوْلَكُمْ [ اس کو جو تمہارے اردگرد ہیں ] مِّنَ الْقُرٰى [بستیوں میں سے ] وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ [ اور ہم نے بار بار بیان کیا آیتوں کو ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [ شاید وہ لوگ لوٹ آئیں ]
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل مکہ سے مزید خطاب کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى ﴾ (ہم نے تمہارے چاروں طرف کی بستیاں ہلاک کردیں) اس سے یمن اور شام کی بستیاں مراد ہیں یمن کی بستیاں تو وہی قوم عاد والی بستیاں تھیں، اور جب اہل مکہ تجارت کے لیے ملک شام جاتے تھے تو قوم ثمود کی بستیوں پر اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو دیکھا کرتے تھے ان کی تباہی و بربادی سے عبرت حاصل کرنا ضروری تھا لیکن عبرت نہیں لیتے تھے۔
﴿ وَ صَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 0027﴾ (اور ہم نے انہیں بار بار نشانیاں بتادی تھیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) لیکن وہ باز نہ آئے بالآخر وہ ہلاک ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
تذکرۂ ہلاکت امم سابقہ برائے عبرت اہل مکہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد اھلکنا ما حولکم ..... الی ...... وما کانوا یفترون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قوم عاد کی ہلاکت وتباہی کا ذکر فرمایا گیا جس سے مقصدیہ ظاہر کرنا تھا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی انکے دین کا تمسخر و مذاق بنایا اور عذاب خداوندی کی وعید کو سن کر پیغمبر سے مطالبہ کرنے لگے کہ وہ اچھا عذاب لے آؤ جس سے ڈرا رہے ہو تو اب اس مناسبت سے اجمالا ان دوسری قوموں کی تباہی کا حوالہ دیا جارہا ہے جو مکہ کے اطراف اور شام کے علاقہ میں بسنے والی تھیں اور یہ بتایا جارہا ہے کہ نہ انکے معبود کام آئے اور نہ انکے وسائل اور مال و دولت و عذاب…
Read the full tafseer →23:۔ ” ولقد اھلکنا “ تخویف دنیوی۔ یہ بھی مکہ والوں ہی سے خطاب ہے گرد و نواح سے قوم ہود، قوم ثمود اور اصحاب حجر وغیرہ کی بستیاں مراد ہیں۔ ہم نے ان کے پاس اپنے پیغمبر بھیجے اور گوناگوں طریقوں سے ان کو سمجھایا۔ مگر وہ شرک و کفر سے باز نہ آئے اور آخر ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ” فلولا نصرھم۔ الایۃ “ یہ سورت کا مقصودی مضمون ہے۔ اس میں مشرکین کی اس بات کا جواب ہے کہ ہم نے مان لیا کہ ہمارے معبود سنتے نہیں اور ان کو پکارنا جائز نہیں، لیکن ان کے پکارنے میں تاثیر اور برکت ضرور ہے، کیونکہ ان کو پکارنے سے کاموں میں برکت ہوجاتی ہے تو جواب دیا گیا کہ جن لوگوں نے معبودانِ جائز نہیں، لیکن ان کے پکارنے میں تاثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کے دین حق سے انکار اور ان کے غرور وتکبر کا ذکر کرکے مشرکین مکہ اور عرب کو عبرت دلائی کہ اگر تم نے بھی قوم عاد کی طرح اللہ کی توحید ، اس کے رسول اور معاد کا انکار کیا ، شرک اور کفر سے باز نہ آئے ، غرور وتکبر پر مصر رہے تو پھر تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام کے انجام ہلاکت سے مختلف نہیں ہوگا۔ اللہ نے قوم عاد کو ہوا جسی نرم ونازک چیز کے ذریعے ہلاک کیا جو انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی کا ذریعہ ہے تو جب اس قوم کے تمام نافرمان بچے بوڑھے ، مرد ، عورتیں سب ہلاک ہوگئے تو پھر ان کی عمارات کے کھنڈرات کے سوا ان کے علاقہ میں کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔
سابقہ اقوام سے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَہْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ 27
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله :…
Read the full tafseer →ولقد اھلکنا ماحولکم من القریٰ اب پھر کفار مکہ کی طرف روئے سخن کرتا ہے کہ اے مکہ والو ! ہم نے تمہارے آس پاس جنوب و شمال میں کس قدر بستیاں ہلاک کی ہیں جنوب میں قوم عاد کی بستیاں الٹی پڑی ہیں ان کے عمارات کے نشان اے قریش ! جب تم تجارت کے لیے وہاں جاتے ہودیکھتے ہو اور اسی طرح شمال و مغرب میں ثمود کی بستیاں اجڑی پڑی دکھائی دیا کرتی ہیں اور قوم لوط کی بستیاں سدوم وغیرہ کے بھی آثار تم دیکھا کرتے ہو۔ اور ان کو ہم نے یوں ہی یکبارگی ہلاک نہیں کردیا ہے بلکہ صرفناالایات لعلھم یرجعون اپنی نشانیاں ادل بدل کر بار بار دکھائیں کہ وہ رجوع ہوں مگر نحوست سر پر آچکی تھی کیوں مانتے انجام کار برباد ہوئے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَھْلَـکْنَا مَا حَوْلَـکُمْ مِّنَ الْقُرٰی وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الاحقاف : 27)
(ہم ہلاک کرچکے ہیں تمہارے گردوپوش کی بہت سی بستیوں کو، اور ان کے لیے اپنی آیتیں گوناگوں پہلوئوں سے پیش کیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ )
قریش کو مکرر تنبیہ
اس آیت میں بھی قریش ہی سے خطاب ہے اور گزشتہ مضمون ہی پر زور دیا گیا ہے کہ اگر تم عاد کی تباہی کو دور کی بات سمجھتے ہو تو ان بستیوں کو دیکھو جن پر سے تم اپنے تجارتی اسفار میں گزرتے ہو۔ مراد اس سے قوم ثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ چونکہ مکہ کے ایک طرف یمن ہے اور دوسری جہت میں ملک شام۔ اور ملک شام کو جاتے ہوئے ان بستیوں میں سے گزرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کا انجام بیان کرنے کے بعد اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر انتباہ کیا گیا۔
رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے مکہ والو ! ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیوں کو تباہ کیا اور ان کے سامنے بار بار اپنی آیات پڑھیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ جب وہ اپنے رب کی طرف نہ پلٹے تو اس نے انہیں نیست و نابود کردیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں نیست و نابود کیا تو جنہیں وہ ” اللہ “ کے سوا مشکل کشا سمجھتے تھے اور ان کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بناتے تھے وہ ان کی مدد نہ کرسکے۔ قوم عادجب ” اللہ “ کے عذاب میں مبتلا ہوئی تو انہیں اپنے معبود یاد نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے معبودوں کو اپنے قرب کا…
Read the full tafseer →آیت 27 : وَلَقَدْ اَہْلَکْنَا مَا حَوْلَکُمْ (اور ہم نے تمہارے آس پاس کی اور اور بستیاں بھی ہلاک کی ہیں) کم سے مراد اہل مکہ ہیں۔
مِّنَ الْقُرٰی (جیسے قوم ثمود کی بستیاں جو مقام حجر میں واقع تھیں) قوم لوط کے شہر ٗ القری بول کر اہل القریٰ مراد ہیں۔ اسی لئے فرمایا۔ وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (اور ہم نے بار بار اپنی نشانیاں بتلا دی تھیں کہ وہ باز آجائیں) ہم نے ان پر قسم قسم کی عبرتیں اور دلائل بار بار بیان کردیئے تاکہ وہ سرکشی سے لوٹ کر ایمان کی طرف آجائیں مگر وہ نہ لوٹے۔
Read the full tafseer →26 ۔” ولقد مکناھم فیما ان مکنا کم فیہ “ یعنی ان چیزوں میں جن میں تم کو قدرت نہیں دی جیسے بدن کی قوت اور لمبی عمر اور مال کی کثرت ۔ مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ ” ما “ اس کے قول ” فیما “ میں ” الذی “ کے مرتبہ میں ہے اور ان ماکے مرتبہ میں۔ اور اصل عبارت یوں ہوگی ” ولقد مکناھم فی الذی ما مکنا کم فیہ “
” وجعلنا لھم سمعا وابصارا وافئدۃ فما اغنی عنھم سمعھم ولا ابصارھم ولاافئدتھم من شیء اذا کانوا یجحدوں بایات اللہ وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26۔ 28۔ قوم عاد کے لوگ جیسے شہ زور تھے ایسے ہی مالدار اور صاحب مقدور بھی تھے کیونکہ اطراف یمن میں ان کی بستیاں خوب شاداب تھیں زراعت کی کثرت تھی مکہ اے اطراف کی زمین کی طرح ناقابل زراعت زمین نہیں تھی اس مالداری کے سبب سے ان لوگوں کو عمارتیں بنانے کا شوق بھی بہت تھا چناچہ اس کا ذکر سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخرا پن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اللہ تبارک و تعالیٰ عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین کے ارد گرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں یعنی انہیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ (لعلھم یرجعون) شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔ اس لئے یہاں فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 63] کفار قریش اور دوسرے منکرین کو تنبیہ و تزکیر :
سو ایسے تمام منکرین کو خطاب کرکے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم تمہارے گرودپیش کی اور بھی بہت سی بستیوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ " جیسے قوم ثمود، قوم سبا، قوم مدین اور قوم لوط وغیرہ۔ جن کے آثار و نشانات اور کھنڈرات یہ لوگ اپنے سردیوں اور گرمیوں کے تجارتی سفروں کے دوران خود دیکھتے ہیں۔ مگر اس سے سبق نہیں لیتے۔ اور یہ صرف وہیں کے لوگوں اور کفار قریش ہی پر منحصر نہیں، بلکہ غفلت شعاری اور لاپرواہی کی یہ روش انسان پر ہمیشہ مسلط رہی ہے۔ اور کل کی طرح آج بھی ہے۔ اس انسان مغفل کا کل بھی یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی
تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
آیات 27 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ تو انسان ہیں آپ کی جنس سے ہیں پھر انسانی شعور اور صاف کمال ظاہر کے لیے بھی اور کمال باطن کے لیے بھی رکھتے ہیں جبکہ آپ کیع طا کا حال یہ ہے کہ ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ تک پہنچنے کے اسباب پیدا فرمادیے کہ جب آپ تلاوت فرما رہے تھے تو انہوں نے قرآن کوسنا اور ایک دوسرے سے کہاخاموش ہوجاؤ سنو کیا ارشاد ہورہا ہے اور جب آپ ﷺ نے تمام کیا تو ایمان لے آئے بلکہ مبلغ بن کر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو ان کو بدرجہ اتم قبول کر چاہیے کہ جنات میں چونکہ نبوت نہیں اسلیے وہ مان کر عمل تو کرسکتے ہیں کیفیات باطنی اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی استعداد نہیں رکھتے جبکہ انسان ایمان…
Read the full tafseer →ف 2 جیسے قوم ثمود اور قوم لوط کی بستیاں۔
Read the full tafseer →(46:27) ولقد اوپر آیت 26 ملاحظہ ہو۔
ما حولکم : ما موصولہ ہے حولکم مضاف مضاف الیہ، تمہارے اردگرد : تمہارے آس پاس۔
خطاب اہل مکہ سے ہے یعنی اے اہل مکہ تمہارے آس پاس کی کئی بستیاں ہم نے تباہ کردیں۔ مثلاً قوم ثمود کی بستی حجر۔ قوم لوم کی بستی سدوم وغیرہ۔ بستیوں کو ہلاک کرنے سے مراد ہے بستی کے بسنے والے۔
من القری میں من تبعیضیہ ہے تمہارے آس پاس کی بعض بستیاں۔
صرفنا الایت۔ صرفنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم تصریف (تفعیل ) مصدر، پھیر پھیر کر سمجھانا۔ تصریف الکلام۔ بات کو پھیر پھیر کر بیان کرنا۔ طرح طرح سے گفتگو کا بیان کرنا۔ الایت۔ نشانیاں۔ باتیں۔ ہم نے پھیر پھیر کر باتیں سمجھائیں۔ یعنی بار بار دلائل دے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
سابقہ اقوام کی ہلاکت سامان عبرت۔
(ف 1) ان ایتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخراپن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے خمیازہ کے طور پر ایک دم میں اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا پھر فرمایا نصیحت کی باتیں سننے کے لیے کان قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور اچھے کاموں کی طرف خیال دوڑانے کے لی دل یہ سب کچھ ان کو دیا گیا تھا مگر ان چیزوں سے ان لوگوں نے اللہ کی ناراضی کے کام کیے اس کے عذاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[10] یعنی وہ عذاب کا دن کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے
Read the full tafseer →(27) اور بلا شبہ ہم نے تمہارے ماحول اور آس پاس کی بستیوں کو بھی تباہ و برباد اور ہلاک کیا ہے اور ہم نے طرح طرح سے ان کے سامنے دلائل عبرت پیش کئے اور اپنی باتیں ان کو مختلف عنوان سنائیں اور بتائیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ آس پاس کی بستیاں یعنی قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ عرب کے ایک جانب یمن اور دوسری جانب شام تھا اہل مکہ عام طور سے ان علاقوں میں تجارت کے لئے سفر کیا کرتے تھے اور ان بستیوں کو اجڑا ہوا دیکھتے تھے اکثر و بیشتر یہ بستیاں شارع عام پر پڑتی تھیں اور آتے جاتے دکھائی دیتی تھیں جیسا کہ ہم سورة سبا میں اور دوسری جگہ بیان کر آئے ہیں مختلف انداز اور مختلف عنوان سے ان کو سمجھاتے رہے لیکن وہ نہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ جیسے ثمود و قوم لوط کہ شام کو جاتے ہوئے ان کے مساکن سے گزرتے تھے اور چونکہ مکہ سے ایک طرف میں ہے، دوسری جہت میں شام، اس لئے ماحولکم فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ایک قابل غور بات ہے جس پر تم کو بھی غور کرنا چاہئے کہ شاید تمہاری اصلاح ہوجائے :
82 ؎ جس طرح آج تم قریش مکہ کے سوا دوسروں کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور رب کریم کے سوا بہت سی ہستیوں کو حاجب روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو کبھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ قرار دے کر ، کبھی اللہ کے بندوں کو داتا اور اوتار سمجھ کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ سارے کام قوم عاد ، ثمود اور دوسری ساری قوموں نے کئے لیکن غور و فکر کرو کہ جب ان کے عذاب کا وقت آیا تو ان ساری شخصیتوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا حالانکہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
Commentary
The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith.
The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
30 That is, "You are no match for them as far as wealth, power, authority and other things are concerned: your sphere of authority is restricted to the bounds of the city of Makkah, but they had dominated a large part of the earth. "
31 An important truth has been stated in this brief sentence. It is only the Revelations of Allah which give the right knowledge and understanding of the truth and reality to man. If man has this understanding and knowledge he sees the right thing with his eyes, hears the right thing with his ears, thinks the right thing with his mind and intellect and takes the…
Read the full tafseer →