Explained with ayahs 26–28
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی
ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں انکی طرح نہ ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکے سے عذاب تم پر بھی آجائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئی…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 30
یعنی مال، دولت، طاقت، اقتدار، کسی چیز میں بھی تمہارا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ تمہارا دائرہ اقتدار تو شہر مکہ کے حدود سے باہر کہیں بھی نہیں اور وہ زمین کے ایک بڑے حصے پر چھائے ہوئے تھے۔
سورة الْاَحْقَاف 31
اس مختصر سے فقرے میں ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے۔ خدا کی آیات ہی وہ چیز ہیں جو انسان کو حقیقت کا فہم و ادراک بخشتی ہیں۔ یہ فہم و ادراک انسان کو حاصل ہو تو وہ آنکھوں سے ٹھیک دیکھتا ہے، کانوں سے ٹھیک سنتا ہے، اور دل و دماغ سے ٹھیک سوچتا اور صحیح فیصلے کرتا ہے لیکن جب وہ آیات الٰہی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے تو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اسے نگاہ حق شناس نصیب نہیں ہوتی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
خلاصہ تفسیر
اور آپ قوم عاد کے بھائی (یعنی ہود علیہ السلام) کا (ان سے) ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خمدار تو دے تھے (یہ مقام کی نشان دہی اس لئے کی گئی کہ دیکھنے والوں کے ذہن میں استحضار ہوجائے) اس (بات) پر (عذاب الٰہی سے) ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو (ورنہ تم پر عذاب نازل ہوگا) اور (یہ ایسی ضروری اور صحیح بات ہے کہ) ان (ہود علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے پیچھے (اسی مضمون کے متعلق) بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے ہیں (اور عجب نہیں کہ ہود ؑ نے ان سب کا متفق ہونا دعوت الی التوحید میں ان کے سامنے بیان بھی کیا ہو، پس…
Read the full tafseer →ولقد مکنھم فیمآ ان مکنکم فیہ وجعلنا لھم سمعاً وابصار او افبدہ فما اغنی عنھم سمعھم ولابصارھم ولا افئذتھم من شیء اذکانوا یجحدون بایت اللہ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزون 26
قریش کو تنبیہ
یہ قریش کو براہ راست مخاطب کر کے ان کے سامنے وہ سبق رکھا ہے جو اس سرگزشت سے حاصل ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اساب و وسائل کی جو فراوانی اور تعمیر و تمدن کی جو عظمت و شوکت ان کو حاصل ہوئی وہ تم کو حاصل نہیں ہے لیکن دیکھ لو، جب ہم نے ان کو پکڑنا چاہا تو وہ ہماری پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکے ! ہم نے ان کو کان، آنکھ اور دل کی تمام صلاحیتیں عطا فرمائیں لیکن چونکہ وہ ہماری آیات کی روشنی قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس وجہ سے ان کے…
Read the full tafseer →2 6 ۔ 1 یہ اہل مکہ کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو تم سے پہلی قومیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا قوت وشوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں لیکن جب انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں آنکھ کان اور دل کو حق کے سننے دیکھنے اور اسے سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کیا تو بالآخر ہم نے انہیں تباہ کردیا اور یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آسکیں۔
26۔ یعنی جس عذاب کو وہ انہونا سمجھ کر بطور مذاق کہا کرتے تھے کہ لے آ اپنا عذاب ! جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے، وہ عذاب آیا اور اس نے انہیں ایسا گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
14: اس سے مراد قوم ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جو شام جاتے ہوئے اہل عرب کے راستے میں پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
درس نمبر 239 ایک نظر میں
یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…
Read the full tafseer →4 یعنی مال، اولاد، جتھے، اور جسمانی طاقت جو ان کو دی گئی تھی، تم کو نہیں دی گئی۔ مگر جب عذاب آیا، کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر تم کس بات پر مغرور ہو۔
5 یعنی نصیحت سننے کے لیے کان اور قدرت کی نشانیاں دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سمجھنے بوجھنے کے لیے دل دیے گئے تھے۔ پر وہ کسی قوت کو کام میں نہ لائے۔ اندھے، بہرے اور پاگل بن کر پیغمبروں کے مقابل ہوگئے۔ آخر انجام یہ ہوا کہ یہ قوتیں سب موجود ہیں اور عذاب الٰہی نے آگھیرا۔ کوئی اندرونی یا بیرونی قوت اس کو دفع نہ کرسکی۔
6 یعنی جس عذاب کی ہنسی اڑایا کرتے تھے وہ ان پر واقع ہوا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کو دل اور کان اور آنکھ دی تھی۔ یعنی دنیا کے کام میں…
Read the full tafseer →آیت 26 { وَلَقَدْ مَکَّنّٰہُمْ فِیْمَآ اِنْ مَّکَّنّٰکُمْ فِیْہِ } ”اور ہم نے جو تمکن انہیں دیا تھا ایسا تمکن ّہم نے تمہیں نہیں دیا ہے“
قریش مکہ کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ جو طاقت اور شان و شوکت قوم عاد کو عطا ہوئی تھی اور جو وسائل انہیں میسر تھے تم لوگوں کے پاس تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ قبل ازیں سورة الاعراف کی آیت 69 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ تہذیب و تمدن کے اعتبار سے قوم عاد اپنے زمانے کی بہت ترقی یافتہ قوم تھی۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھا جس نے خصوصی طور پر ایک شہر بسا کر اسے جنت ِارضی کا نام دیا تھا۔ قوم عاد کا علاقہ اب لق ودق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس صحرا…
Read the full tafseer →39 یعنی سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچ بچار کے لیے دل دیئے تھے۔ مگر وہ ان سے اتنا ہی کام لیتے تھے جو ایک جانور لیتا ہے۔ یعنی اتنا ہی جو دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے مفید ہو۔ دنیا کے کام میں عقلمند تھے لیکن وہ عقل نہ آئی جس سے آخرت درست ہو، آیات الٰہی سنتے وقت ان کے کان بہرے ہوجاتے تھے اور آیات الٰہی دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں بند ہی رہتی تھیں۔ پھر جب ان پر عذاب الٰہی آیا تو ان کی عقلمندی ان کے کسی کام نہ آسکی۔
Read the full tafseer →29۔ یعنی جب ان کی، جو تم سے کہیں زیادہ صاحب اقتدار ومالک جاہ وحشم تھے۔ کوئی عقلی تدبیر اور مادی قوت انہیں اس انجام سے نہ بچا سکی تو تم کب تک عذاب الہی سے بچے رہ سکتے ہو۔...... چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کا عرب، قوم عاد وقوم ثمود کے آغاز و انجام سے خوب واقف تھا۔ اس لئے اس کے سامنے ان قوموں کی مثالیں خاص طور پر مؤثر تھیں، (آیت) ” ولقد ..... فیہ “۔ یعنی جو تہذیبی وتمدنی عروج انہیں حاصل تھا وہ تمہیں کہاں نصیب۔ (آیت) ” وجعلنا ..... افئدۃ “۔ یعنی ہر قسم کی جسمی وعقلی صلاحیتیں انہیں حاصل تھیں۔ اے الات الدرک والفھم (مدارک) آیت سے بقاعدۂ عبارۃ النص یہ بھی نکلا کہ انسان کو مادی وعقلی جتنی بھی صلاحیتیں…
Read the full tafseer →ولقد مکنا ھم فیما (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ اے اہل مکہ تم کو اپنی قوت، قدرت اور ثروت، پر فخر و ناز نہیں ہونا چاہیے، سابق زمانہ میں جو قومیں تم سے کہیں زیادہ زور آور، سرمایہ دار تھیں ہم ان کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں تمہاری ان کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے یعنی مال، دولت، طاقت، اقتدار، غرضیکہ کسی چیز میں بھی تمہارا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے تمہارا دائرہ اقتدار تو شہر مکہ کے حدود سے باہر کہیں بھی نہیں اور وہ زمین کے ایک بڑے حصے پر چھائے ہوئے تھے۔ وجعلنا لھم سمعاً و ابصاراً وافئدۃ (الآیۃ) اس کے مخاطب بھی اہل مکہ ہی ہیں ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو ؟ تم سے پہلی قومیں…
Read the full tafseer →ولقد مکنھم فیما ان مکنکم فیہ وجعلنا لھم سمعا وابصارا وافئدۃ فما اغنی عنھم سمعھم ولا ابصارھم ولا افئدتھم من شی اذ کانوا یجحدون بایت اللہ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن اور ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے لیکن نہ ان کے کان ذرا ان کے کام آئے ‘ نہ آنکھیں ‘ نہ دل کیونکہ وہ آیات خدا کا انکار کرتے تھے اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے ‘ اس نے ان کو آگھیرا۔
وَلَقَدْ مِکَّنّٰھُمْ ہم نے قوم عاد کو وہ قدرت دی تھی ‘ یعنی قوت اور مال۔
اِنْ مَکَّنّٰکُمْ فِیْہِ- اِنْ نافیہ ہے ‘ تم کو وہ قدرت نہیں دی ‘ یا شرطیہ ہے اور…
Read the full tafseer →اور ہم نے ان کو اس قدر مال و طاقت اور کاموں کا حوصلہ دیا تھا کہ اے مکہ والو تمہیں اس قدر مال نہیں دیا اور نہ اتنی قوت دی ہے اور ہم نے انہیں سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے و سمجھنے کے لیے دل دیے تھے مگر کیونکہ وہ حق تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی کتاب کا انکار کیا کرتے تھے تو اس لیے عذاب الہی کے سامنے ان کی آنکھوں وغیرہ میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی اور وہ جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہی عذاب نازل ہوگیا۔
Read the full tafseer →(1) ولقد مکنھم فیمآ ان مکنکم فیہ :”مکن یمکن تمکینا“ کسی چیز پر قدرت دینا۔ ”ان رہی ہے کہ جسمانی ڈیل ڈول، مال، اولاد، قوت، سلطن ، غرض وہ دنیوی اسباب جن پر ہم نے قوم عاد کو قدرت عطا کی تھی حسین ان پر قدرت عطا نہیں کی، جب اللہ کے عذاب کے سامنے ان کی تمام تر قوت و شوکت تنکوں کی طرح اڑ گئی تو تمہاری کیا بساط ہے ؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمائی ہے، دیکھیے سورة روم (9) اور سورة مومن (21)۔
(2) وجعلنا لھم سمعاً وابصاراً و افدۃ…: دوسری جگہ ان کے متعلق فرمایا :(وکانوا مستبصرین) (العنکبوت : 38)”حالانکہ وہ بہت سمجھ دار تھے۔“ یعنی ہم نے انہیں سننے کے لئے کان، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سوچ بچار…
Read the full tafseer →ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان زائد ہے اس کی تقدیر کلام ہے : یہ قتبی کا قول ہے۔ اخفش نے یہ شعر پڑھا۔
انسان امید رکھتا ہے کہ وہ اسے نہیں دیکھے گا جبکہ اس کے قریب سے مصائب اسے آ پہنچتے ہیں۔
پہلے مصرعہ میں ان زائدہ ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ما الذی کے معنی میں ہے اور ان ماء کے معنی میں ہے (2) تقدیر کلام یہ ہے : یہ مبرو کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ شرطیہ ہے اور اس کا جواب مضمر مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی : یہاں پر کلام مکمل ہوگئی پھر نئی کلام کی اور فرمایا : افئدہ سے مراد دل ہیں جو اسے سمجھتے ہیں۔ سے مراد اللہ تعالیٰ کے عذاب ہے کیونکہ وہ انکار کرتے تھے ان کا احاطہ کرلیا (اس نے جس کا وہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد مکنھم فیماان مکنکم فیہ “ (اور ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی) یعنی ہم نے ان کو وہ قوت دی تھی جو قوت ہم نے تمہیں قوت اس میں نہیں دی تھی۔
2:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” ولقد مکنہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے قوم عاد کو زمین میں اس سے بڑھ کر قوت اور طاقت دی جتنی کہ اس امت کو دی گئی۔ اور وہ سخت قوت والی کثیراولاد والے اور لمبی عمروں والے تھے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ [ اور بیشک ہم اختیار دے چکے ان کو ] فِيْمَآ [ اس میں ] اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ [ ہم نے اختیار نہیں دیا تم کو جس میں ] وَجَعَلْنَا لَهُمْ [ اور ہم نے بنائے (دیئے ) انکے لیے ] سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ [ سماعت اور بصارت اور دل ] فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ [ پھر کام نہ آئے ان کے ] سَمْعُهُمْ [ ان کی سماعت ] وَلَآ اَبْصَارُهُمْ [ اور نہ ان کی بصارتیں ] وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ [ اور نہ ان کے دل ] مِّنْ شَيْءٍ [ کسی بھی چیز میں ] اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙ[جب وہ جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی نشانیوں کا ] وَحَاقَ بِهِمْ [ اور گھیرے میں…
Read the full tafseer →قوم عاد کی ہلاکت کا تذکرہ کرنے کے بعد اہل مکہ کو توجہ دلائی ﴿ وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ ﴾ (الآیۃ) اور ہم نے قوم عاد کو ان چیزوں کی قوت دی تھی جن کی قوت وقدرت تمہیں نہیں دی، ان کے پاس جو مالی و جسمانی قوتیں تھیں وہ تم سے کہیں زیادہ تھیں، جب وہ کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے ہلاک کردئیے گئے تو تمہاری کیا حیثیت ہے… ؟ وہ لوگ نہ بہرے تھے نہ اندھے تھے نہ باولے بیوقوف تھے ہم نے انہیں کان بھی دئیے تھے اور آنکھیں بھی اور دل بھی لیکن جب ان پر عذاب آیا ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی نہ ان کے حواس ظاہرہ بچا سکے اور نہ کسی تدبیر سے عذاب سے محفوظ ہوسکے جس کا دل اور دماغ سے ادراک ہوتا ہے یہ عذاب کا ابتلاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
تسلی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم برتکذیب کفار ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر اخاعاد ....... الی ....... ماکانوا بہ یستھزء و ن “۔
ّ (ربط) سعادت وشقاوت کا ایک بنیادی ضابطہ اور قبول ایمان واعراض عن الحق پر مرتب ہونے والے ثمرات ونتائج کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے امم سابقہ کا حال بیان کرتے ہوئے کہ کسی طرح اللہ کے پیغمبر انکو ہدایت کی دعوت دیتے رہے بالآخر جب وہ اپنی بغاوت وسرکشی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب سے تباہ وبرباد کردیئے گئے فرمایا۔
اور یاد کرو عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) ۔ 1
حاشیہ۔ (پیغمبر چونکہ خود اپنی قوم میں مبعوث ہوئے اس بناء پر حضرت ہود (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
22:۔ ” ولقد مکنا ھم۔ الایۃ “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات ہے۔ ان نافیہ ہے۔ اے اہل مکہ ! قوم ہود کو ہم نے جو دنیوی قوت و دولت اور شان و شوکت دی تھی وہ تمہیں نہیں دی، وہ تم سے زیادہ طاقتور اور دولت مند تھے، ان کو ہم نے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے کے لیے دل دئیے۔ لیکن ان نعمتوں سے انہٰں کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ کانوں سے انہوں نے حق بات کو نہ سنا اور آنکھوں سے خدا کی قدرت ووحدانیت کے تکوینی دلائل کو بغور نہ دیکھا اور دلوں کو معرفت خداوندی کی تحصیل میں استعمال نہ کیا، اس لیے ان ساری قوتوں کے باوجود وہ دولت ایمان سے محروم رہے اور اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کے دین حق سے انکار اور ان کے غرور وتکبر کا ذکر کرکے مشرکین مکہ اور عرب کو عبرت دلائی کہ اگر تم نے بھی قوم عاد کی طرح اللہ کی توحید ، اس کے رسول اور معاد کا انکار کیا ، شرک اور کفر سے باز نہ آئے ، غرور وتکبر پر مصر رہے تو پھر تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام کے انجام ہلاکت سے مختلف نہیں ہوگا۔ اللہ نے قوم عاد کو ہوا جسی نرم ونازک چیز کے ذریعے ہلاک کیا جو انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی کا ذریعہ ہے تو جب اس قوم کے تمام نافرمان بچے بوڑھے ، مرد ، عورتیں سب ہلاک ہوگئے تو پھر ان کی عمارات کے کھنڈرات کے سوا ان کے علاقہ میں کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔
سابقہ اقوام سے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ مَكَّنّٰہُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْہِ وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَۃً 0 ۡ ۖ فَمَآ اَغْنٰى عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَلَآ اَبْصَارُہُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُہُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ 0 ۙ بِاٰيٰتِ اللہِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ 26 ۧ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ…
Read the full tafseer →ترکیب : فیما مابمعنی الذی وان نافیۃ فتقدیر الکلام مکناھم فی الذی مامکناکم فیہ من کثرۃ المال وطول العمروقوۃ الابدان۔ وقیل ان زائدۃ ای ولقدمکناھم فیما مکنا کم فیہ الاول قول المبردوالثانی قول القتیبی۔ لولابمعنی ھلا ھم مفعول مقدم لنصرالذین فاعلہ اتخذوا الخ صلۃ الذین۔ قال الکسائی القربان مایتقرب بہ الی اللہ من طاعۃ ونسیکۃ والجمع قرابین کالرھبان والرھابین۔ و اول مفعول اتخذوالراجع الی الموصول المحذوف وثانیھما قربانًا والہۃ بدل اوعطف بیان اولہۃ وقربانًا حال او مفعول لہ علی انہ بمعنی التقرب۔ البیضاوی۔ وھذا ھوالصحیح الصریح۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے قصہ عاد کا۔ فرماتا ہے ولقدمکناھم الخ کہ اے قریش ! تم اپنے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ مَکَّنّٰھُمْ فِیْمَـآ اِنْ مَّکَّنّٰـکُمْ فِیْہِ وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْئِدَۃً صلے ز فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ سَمْعُھُمْ وَلَآاَبْصَارُھُمْ وَلَآ اَفْئِدَتُہُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِذْکَانُوْا یَجْحَدُوْنَ لا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الاحقاف : 26)
(ہم نے ان کو مقدور دیا تھا ان چیزوں کا جن کا ہم نے تم کو مقدور نہیں دیا، ان کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے، لیکن ان کے کسی کام نہ آئے ان کے کان نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور انھیں گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو ان کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔
قوم عاد جسمانی اعتبار سے اس قدر کڑیل جوان تھے کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ہم نے ان جیسے لوگ پیدا نہیں کیے۔ (الفجر : 8) اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ “ (الاعراف : 69) ” انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ “ (الشعراء : 133) یہ بڑے بڑے محلات میں رہتے تھے۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ “ (الشعراء : 129 تا 133)
اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کیے لیکن انہوں نے اپنے کانوں، اپنی آنکھوں اور اپنے دلوں کو حقیقت کو…
Read the full tafseer →آیت 26 : وَلَقَدْ مَکَّنّٰہُمْ فِیْمَآ اِنْ مَّکَّنّٰکُمْ فِیْہِ (ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی) نحو : اِن نافیہ ہے۔ ان باتوں میں مامکنا کم ہم نے تم کو قدرت نہیں دی۔ البتہ
ان کا مزہ :
اِنْ لفظ کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اور ما کو جمع کرنے میں بےمزہ تکرار واقع ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ مہما اصل میں ما ما ہے۔ اس بدمزگی کی وجہ سے الف کو ہا سے بدل ڈالا مہما بنا لیا۔ نمبر 2۔ ان کو وصلیہ زائدہ بنائیں اور اس کا مطلب ہوگا۔ اس لئے کہ ہم نے ان کو قدرت دی ان چیزوں میں جن میں تم کو قدرت دے رکھی ہے۔ مگر سب سے درست وجہ ان کو نافیہ بنانا ہے۔ اس لئے کہ…
Read the full tafseer →قوم عاد پر عذاب کا واقعہ
25 ۔” تدمر کل شیئ “ عاد کے مردوں اور ان کے مالوں کو ہلاک کردیا۔ ” بامرربھا “ پہلی بات یہ ہوئی جس کی وجہ سے ان کو معلوم ہوا کہ جو ان کے مرد اور مویشی باہر گئے ہوئے تھے انہوں نے دیکھا کہ ہوا ان کو آسمان و زمین کے درمیان اڑ رہی ہے تو وہ اپنے گھروں میں داخل ہوگئے اور دروازے بند کرلیے تو ہوا آئی اور ان کے دروازوں کو چوکھٹوں سمیت اکھاڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا۔ پس اس نے ان پر ریت ڈال دی وہ لوگ اٹھ دن سات راتیں ریت کے نیچے رہے، ان کی آہیں گونجتی تھیں۔ پھر اللہ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان پر سے ریت کو ہٹا دیا اور ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔
حضرت عائشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26۔ 28۔ قوم عاد کے لوگ جیسے شہ زور تھے ایسے ہی مالدار اور صاحب مقدور بھی تھے کیونکہ اطراف یمن میں ان کی بستیاں خوب شاداب تھیں زراعت کی کثرت تھی مکہ اے اطراف کی زمین کی طرح ناقابل زراعت زمین نہیں تھی اس مالداری کے سبب سے ان لوگوں کو عمارتیں بنانے کا شوق بھی بہت تھا چناچہ اس کا ذکر سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخرا پن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(واذکر) یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر (اخاعاد) ” قوم عاد کے بھائی کا “ اس سے مراد ہود ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی (اذانذرقومہ) ” جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ “ اور وہ تھے قوم عاد (بالاحقاف) یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ (احقاف) سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ (وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ) ” اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی ” یعنی حضرت ہود ( علیہ السلام) ان میں سے کوئی انوکھے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 60] محض مادی ترقی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو مادہ پرست منکروں کو تنبیہ کرتے ہوئے اور گزشتہ منکر قوموں کی مادی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دی تھی جن کی قدرت تم لوگوں کو نہیں دی۔ " چناچہ جسمانی ذیل ڈول، قوت و طاقت، مال و دولت کی کثرت و فروانی اور حکومت و سلطنت وغیرہ کی جو جو اور جس قدر نعمتیں ان کو دی گئی تھیں وہ تمہیں نہیں دی گئیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا کہ وہ تعداد اور قوت وغیرہ میں بھی ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور آثار و نشانات کے اعتبار سے بھی۔ { افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی
تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیات 21 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجئے جو قوم عاد کے فرد تھے اور ان ہی کی طرف مبعوث ہوئے حالانکہ وہ لوگ ریتلے ٹیلوں کے درمیان رہتے تھے جہاں کسی نعمت کا پہنچناآسان نہ تھا مگر اللہ نے بذریعہ نبی ہدایت کا پیغام پہنچادیا اور ان سے پہلے بھی نبی گزرچکے تھے جن کے بارے کفار جانتے تھے اور یہ سلسلہ نبوت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی جاری رہا یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا تصور کفار کے پاس نہ ہو اور سب نے ایک ہی پیغام دیا وہی ہود (علیہ السلام) نے بھی پہنچایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی کبھی عبادت نہ کرو اور اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت سے باز آجاؤ ورنہ اگر…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی مال و دولت، طاقت و اقتدار اور جسمانی صلاحیتوں، غرض ہر چیز میں وہ تم سے زیادہ تھے۔
Read the full tafseer →(46:26) ولقد، وائو عاطفہ لام تاکید کا ۔ قد ماضی پر آئے تو تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ اور بیشک :
مکنہم : ماضی جمع متکلم تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (قوم عاد) ہم نے ان کو جمائو عطا کیا۔ ہم نے ان کو اقتدار دیا۔ مکنۃ بمعنی آشیانہ۔ مکنات جمع مکن مکانۃ (باب کرم) اس نے حاکم کے پاس عزت پائی۔ مرتبہ حاصل کیا۔ امکان (افعال) با اقتدار ہونا۔ قابو پانا۔ کسی جگہ قدرت حاصل کرنا۔ تمکین (تفعیل) جمائو عطا کرنا۔ توانا وبا اقتدار بنادینا۔
فیما۔ میں ما موصولہ ہے اور فیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اس اسم موصول کی طرف راجع ہے ان نافیہ ہے اور ہم نے ان کو ان باتوں میں قدرت دے رکھی تھی کہ تم کو ان باتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
سابقہ اقوام کی ہلاکت سامان عبرت۔
(ف 1) ان ایتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخراپن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے خمیازہ کے طور پر ایک دم میں اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا پھر فرمایا نصیحت کی باتیں سننے کے لیے کان قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور اچھے کاموں کی طرف خیال دوڑانے کے لی دل یہ سب کچھ ان کو دیا گیا تھا مگر ان چیزوں سے ان لوگوں نے اللہ کی ناراضی کے کام کیے اس کے عذاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[10] یعنی وہ عذاب کا دن کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے
Read the full tafseer →(26) اور بلا شبہ ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں کی قدرت اور مقدور دیا تھا جن باتوں کی قدرت اور مقدور تم کو نہیں دیا اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے لیکن وہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کے آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے اس لئے نہ ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا اور وہی چیزان پر الٹ پڑی۔
مطلب یہ ہے کہ جو قوت اور طاقت اور طول قامت اور درازی عمر اور مال کی کثرت ہم نے ان کو دے رکھی تھی وہ تو تم کو دی بھی ہیں جب ان کو عذاب سے یہ سب چیزیں نہ بچاسکیں تو تمہارے پاس تو یہ چیزیں ہیں بھی نہیں پھر تم عذاب الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1۔ یعنی نہ ان کے حواس ان کو عذاب سے بچا سکے اور نہ ان کی تدبیر جس کا ادراک قلب سے ہوتا ہے اور نہ ان کی قوت، پس تمہاری تو کیا حقیقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ایک قابل غور بات ہے جس پر تم کو بھی غور کرنا چاہئے کہ شاید تمہاری اصلاح ہوجائے :
82 ؎ جس طرح آج تم قریش مکہ کے سوا دوسروں کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور رب کریم کے سوا بہت سی ہستیوں کو حاجب روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو کبھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ قرار دے کر ، کبھی اللہ کے بندوں کو داتا اور اوتار سمجھ کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ سارے کام قوم عاد ، ثمود اور دوسری ساری قوموں نے کئے لیکن غور و فکر کرو کہ جب ان کے عذاب کا وقت آیا تو ان ساری شخصیتوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا حالانکہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
Commentary
The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith.
The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
30 That is, "You are no match for them as far as wealth, power, authority and other things are concerned: your sphere of authority is restricted to the bounds of the city of Makkah, but they had dominated a large part of the earth. "
31 An important truth has been stated in this brief sentence. It is only the Revelations of Allah which give the right knowledge and understanding of the truth and reality to man. If man has this understanding and knowledge he sees the right thing with his eyes, hears the right thing with his ears, thinks the right thing with his mind and intellect and takes the…
Read the full tafseer →