Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کی تباہی کے اسباب
جناب رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کرلیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد حضرت ہود پیغمبر ہیں ؑ والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو احقاف میں رہتے تھے احقاف جمع ہے حقف کی اور حقف کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضرموت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی احقاف کا بیان کیا گیا ہے قتادہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شہر تھا یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الْاَحْقَاف 26
یعنی یہ بات اللہ ہی جانتا ہے کہ تم پر عذاب کب آئے گا۔ اس کا فیصلہ کرنا میرا کام نہیں ہے کہ تم پر کب عذاب نازل کیا جائے اور کب تک تمہیں مہلت دی جائے۔
سورة الْاَحْقَاف 27
یعنی تم اپنی نادانی سے میری اس تنبیہ کو مذاق سمجھ رہے ہو اور کھیل کے طور پر عذاب کا مطالبہ کئے جاتے ہو۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ خدا کا عذاب کیا چیز ہوتا ہے اور تمہاری حرکات کی وجہ سے وہ کس قدر تمہارے قریب آ چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
خلاصہ تفسیر
اور آپ قوم عاد کے بھائی (یعنی ہود علیہ السلام) کا (ان سے) ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خمدار تو دے تھے (یہ مقام کی نشان دہی اس لئے کی گئی کہ دیکھنے والوں کے ذہن میں استحضار ہوجائے) اس (بات) پر (عذاب الٰہی سے) ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو (ورنہ تم پر عذاب نازل ہوگا) اور (یہ ایسی ضروری اور صحیح بات ہے کہ) ان (ہود علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے پیچھے (اسی مضمون کے متعلق) بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے ہیں (اور عجب نہیں کہ ہود ؑ نے ان سب کا متفق ہونا دعوت الی التوحید میں ان کے سامنے بیان بھی کیا ہو، پس…
Read the full tafseer →قال انما العلم عند اللہ ز وابلغکم ما ارسلت بہ ولکنی اریکم قوماً تجھلون 23
حضرت ہود ؑ نے ان کے مطالبہ عذاب کے جواب میں فرمایا کہ تم کو اس عذاب سے آگاہ کردینے کا حکم مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا تھا۔ چناچہ میں نے اس سے آگاہ کردیا رہی یہ بات کہ وہ عذاب کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا تو اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ نہایت ہی سخت جہالت میں مبتلا ہو کہ جس عظیم خطرے سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس کے سدباب کی تدبیر سوچنے کے بجائے تم اس کو دعوت دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہو۔ میں اس خطرے کو لانے والا نہیں بلکہ اس سے…
Read the full tafseer →23۔ 1 یعنی عذاب کب آئے گا یا دنیا میں نہیں آئے گا بلکہ آخرت میں تمہیں عذاب دیا جائے گا اس کا علم صرف اللہ کو ہے وہی اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے میرا کام تو صرف پیغام پہچانا ہے۔
23۔ 2 کہ ایک کفر پر اصرار کر رہے ہو۔ دوسرے، مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
14: اس سے مراد قوم ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جو شام جاتے ہوئے اہل عرب کے راستے میں پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
درس نمبر 239 ایک نظر میں
یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…
Read the full tafseer →11 یعنی اس قسم کا مطالبہ کرنا تمہاری نادانی اور جہالت ہے۔ میں خدا کا پیغمبر ہوں جو پیام میرے ہاتھ بھیجا گیا وہ پہنچا رہا ہوں۔ اس سے زائد کا نہ مجھے علم نہ اختیار۔ یہ علم خدا ہی کو ہے کہ منکر قوم کس وقت دنیاوی سزا کی مستوجب ہوتی ہے اور کس وقت تک اسے مہلت ملنی چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 23 { قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِز } ”اس نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے“
یعنی عذاب کے بارے میں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اگر آئے گا تو کب آئے گا اور کس صورت میں آئے گا۔ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔
{ وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ } ”اور میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں وہ پیغام جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے“
میری ذمہ داری تو صرف اللہ کا پیغام تم لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دینے اور اس کے مطابق تمہیں خبردار کردینے کی حد تک ہے۔
{ وَلٰکِنِّیْٓ اَرٰٹکُمْ قَوْمًا تَجْہَلُوْنَ } ”لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت کی روش اختیار کر رہے ہو۔“
یہ تمہاری جہالت کی انتہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
36 کسی بات کا نتیجہ غلط نکالنا بھی جہالت ہے اور قوم ہود کی جہالت :۔ ان کی نادانی اور جہالت یہ تھی کہ جو بات انہیں ہود (علیہ السلام) سمجھانا چاہتے تھے انہوں نے اس کے برعکس نتیجہ نکالا۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے انہیں یہ سمجھایا تھا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کسی کو کسی بھی طرح کے تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ خود مجھے بھی نہیں۔ میں بھی محض اللہ کا پیغام پہنچانے والا اور تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ لیکن انہوں نے جواب میں یہ کہہ دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ۔ حالانکہ ہود (علیہ السلام) کا یہ دعویٰ تھا ہی نہیں کہ اگر تم انکار کرو گے تو میں تم پر عذاب بھی لاسکتا ہوں…
Read the full tafseer →27۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم عجیب الٹے پلٹے مطالبے مجھ سے کررہے ہو، میرا کام تو صرف عقائد صحیح کی تبلیغ ہے یعنی توحید، رسالت وعقیدۂ معاد تو ان کی صداقت ومعقولیت پر مجھ سے جتنی چاہو گفتگو کرلو۔ باقی مجھے یہ چیلنج دے کر کہ اگر میں سچا ہوں تو تمہارے سر پر ابھی قیامت لاکھڑی کروں، اس سے تو تم اپنی ہی بےمغزی وکج فہمی کا مظاہرہ کررہے ہو۔ (آیت) ”’ انما العلم عند اللہ “۔ یعنی قیامت کے متعلق تفصیلات وجزئیات کا علم کہ وہ کب آئے گی، کس وقت آئے گی وغیرہا، تو یہ تو صرف حق تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ (آیت) ” قوما تجھلون “۔ جہل وجہالت کا اردو میں ایک مفہوم یہ بھی چلا ہوا ہے کہ وہ ناخواندگی کا مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ترجمہ :۔ عاد کے بھائی (علیہ السلام) کا ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو جب وہ احقاف میں مقیم تھی ڈرایا (خبر دار کیا) (اذ) سے لیکر ٓخر تک (اخا عاد) سے بدل الاشتمال ہے، احقاف یمن میں ایک وادی ہے اسی میں ایک وادی ہے اسی میں ان کے مکانات تھے اور یقینا اس سے پہلے بھی ڈرانے والے یعنی رسول گذر چکے تھے اور اس کے بعد بھی یعنی ہود سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی اپنی قوموں کی طرف یہ کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور قدخلت جملہ معترضہ ہے، اگر تم غیر اللہ کی بندگ کرتے رہے تو مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، قوم نے جواب دیا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو…
Read the full tafseer →قال انما العلم عند اللہ وابلغکم ما ارسلت بہ ولکنی ارا کم قوما تجھلون حضرت ہود
نے کہا کہ (پورا) علم تو اللہ ہی کو ہے اور مجھ کو جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے ‘ میں وہ تم کو پہنچا رہا ہوں ‘ لیکن تم کو میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ (نری) جہالت کی باتیں کرتے ہو۔
الْعِلْمُ یعنی وقت عذاب کا علم۔
عِنْدَ اللّٰہِ یعنی عذاب مقرر وقت پر آئے گا ‘ اگر اس وقت تک نہیں آیا تو اس سے یہ لازم نہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ ہاں ‘ مجھے عذاب لانے میں کوئی دخل نہیں کہ جلد لانے کا طلبگار بنوں۔
وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ یعنی پیام توحید ‘ احکام اور تمہارے ایمان نہ لانے کی صورت میں نزول عذاب کی اطلاع دے کر جو مجھے تمہارے…
Read the full tafseer →حضرت ہود نے فرمایا نزول عذاب کے متعلق تو اللہ کو خبر ہے میں تو تمہیں توحید کا حکم پہنچا رہا ہوں اور میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم حکم الہی اور اس کے عذاب کے بارے میں جہالت کی باتیں کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →(1) قال انما العلم عند اللہ : ہود ؑ نے ان کے اس گستاخانہ مطالبے پر کسی تلخی کے اظہار کے بجائے وہی جانتا ہے کہ تم پر دنیا میں عذاب آئے گا یا آخرت میں اور یہ بھی وہی جانتا ہے کہ تمہیں کب تک مہلت دی جائے گی۔ میرے پاس نہ اس کا اختیار ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آؤں اور نہ ہی مجھے اس کے وقت کا علم ہے۔
(2) وا ابلغم ما ارسلت بہ : میرا کام وہ پیغام تم تک پہنچا دینا ہے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفظاً ، ان علیک الا البلغ) (الشوری :38)”پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔“
(3) ولکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
اس میں دو وجوہ ہیں (1) بہتان لگا کر ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں (1) ۔ (2) منع کرنے کے ساتھ ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں یہ ضحاک کا قول ہے : عروہ بن اذینہ نے کہا :
شاعر کہتا ہے : اگر تجھے احسان کی توفیق نہیں دی گئی تو تو ایسی قوم میں ہے جنہیں پھیر دیا گیا ہے یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ وعدہ کا لفظ کبھی کبھی وعد کی جگہ استعمال ہوتا ہے اگر اس بات میں سچے ہو کہ تم نبی ہو یعنی عذاب کے آنے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے میرے پاس نہیں جو پیغام مجھے دے کر بھیجا گیا ہے میں تمہارے رب کی جانب سے تم تک پہنچانے والا ہوں۔ یعنی تم جو جلدی عذاب کے آنے کا مطالبہ کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1:۔ ابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود (علیہ السلام) پر رحم فرمائے گا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ دو وادیاں لوگوں میں خیر کی ہیں وادی مکہ اور وادی ارم جو ہند میں ہے اور دو بڑی وادیاں ہیں لوگوں میں وادی احقاف اور وادی حضرموت جس کو وادی برھوت کہا جاتا ہے جس میں کافروں کی روحیں ڈالی جاتی ہیں۔ اور لوگوں میں بہترین کنوں زمزم ہے اور لوگوں میں سب سے بڑا کنواں برھوت ہے اور یہ اس وادی میں ہے جو حضرموت کے مقام پر ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ احقاف شام میں ایک…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ [ انہوں نے کہا (اس کا) پورا علم تو بس ] عِنْدَ اللّٰهِ ڮ [ اللہ کے پاس ہے ] وَاُبَلِّغُكُمْ [ اور میں پہنچاتا ہوں تم لوگوں کو ] مَّآ [ اس چیز کو ] اُرْسِلْتُ بِهٖ [ میں بھیجا گیا جس کے ساتھ ] وَلٰكِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ [ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگوں کو ] قَوْمًا [ایک ایسی قوم (کہ) ] تَجْـهَلُوْنَ [ تم لوگ نادانی کرتے ہو ]
Read the full tafseer →﴿قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ﴾ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے وہی جانتا ہے کہ کسی قوم پر کب عذاب آئے گا اور کب ہلاک ہوگی میرا کام عذاب لانا نہیں ہے مجھے اللہ نے جو پیغام دے کر بھیجا ہے میں تو اس کے پہنچانے کا پابند ہوں اور تمہیں اسی کی تبلیغ کرتا ہوں میں تو تمہیں حق کی دعوت دیتا ہوں اور تم جہالت کی باتیں کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
تسلی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم برتکذیب کفار ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر اخاعاد ....... الی ....... ماکانوا بہ یستھزء و ن “۔
ّ (ربط) سعادت وشقاوت کا ایک بنیادی ضابطہ اور قبول ایمان واعراض عن الحق پر مرتب ہونے والے ثمرات ونتائج کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے امم سابقہ کا حال بیان کرتے ہوئے کہ کسی طرح اللہ کے پیغمبر انکو ہدایت کی دعوت دیتے رہے بالآخر جب وہ اپنی بغاوت وسرکشی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب سے تباہ وبرباد کردیئے گئے فرمایا۔
اور یاد کرو عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) ۔ 1
حاشیہ۔ (پیغمبر چونکہ خود اپنی قوم میں مبعوث ہوئے اس بناء پر حضرت ہود (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
21:۔ ” فلما راوہ “ جب عذاب کا وقت آگیا اور سیاہ بادل کی صورت میں اس کے آثار نمودار ہونے لگے اور بادل ان کی وادیوں پر منڈلانے لگے تو وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ عرصہ سے بارش نہیں ہوئی تھی اس لیے بادلوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل آگئے ہیں اور آج خوب بارش ہوگی۔ ” بل ھو ما استعجلتم بہ “ تو زبان حال نے ان سے کہا نہیں نہیں، یہ باران تحمت لے کر نہیں آئے، بلکہ ان بادلوں میں وہ عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ یہ ایک ہولناک طوفان باد ہے جو اللہ کے قہر و عذاب کو لے کر آرہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلا جائیگا، چناچہ وہ اس طرح مٹ مٹا گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا کوئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
حوامیم سبعہ کی اس آخر سورة میں بھی سابقہ سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت ہی کا تذکرہ ہے ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل اور ساتھ ساتھ شرک کا رد ہوا۔ عقیدہ توحید پر استقامت اور جزائے عمل کا بیان ہوا۔ پھر لوگوں کے دو گروہوں یعنی سعادتمند اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہوا ۔ فرمایا سعادتمند لوگ وہ ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے سامنے مناجات کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نیک انجام بھی بیا ن ہوا۔ پھر اللہ نے بدبخت انسانوں کا ذکر…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللہِ ۡ ۖ وَاُبَلِّغُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَلٰكِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـہَلُوْنَ 23
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترکیب : راوہ الضمیر یعودالی مافی قولہ بماتعدناوقیل الی غیر مذکوریفسرہ بابعد عارضا منصوب علی الحال اوالتمیز العارض السحاب قالہ
تفسیر : اشقیاء کی بابت صرف اسی قدر بیان فرمایا تھا کہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاوے گا اب یہاں اس پورے بدلہ کو کسی قدر مشرح بیان فرماتا ہے۔ فقال و یوم یعرض الذین کفرو اعلی النار اور یاد کرو کہ جس دن منکر لوگ جہنم کے روبرو لائے جاویں گے تب ان سے کہا جاویگا اذھتبم طیباتکم کہ تم اپنے مزے دنیا میں حاصل کرچکے اور خوب برت چکے اب اپنے تکبر اور بدکاری کی وجہ سے ذلت کا عذاب اٹھائو۔ یعنی آخرت کو بھول گئے تھے دنیا کے عیش و آرام میں ایسے محو تھے کہ آخرت کے لیے کچھ بھی فکر نہ…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَاللّٰہِ صلے ز وَاُبَلِّغُکُمْ مَّـآ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَلٰـکِنِّیْٓ اَرٰ کُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ۔ (الاحقاف : 23)
(حضرت ہود (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس کا صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا، مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت میں مبتلا ہو۔ )
حضرت ہود (علیہ السلام) کا جواب
حضرت ہود (علیہ السلام) کے انذار کے جواب میں ان کے مخالفین نے یہ جواب دیا کہ اگر تم اپنے اندیشے میں سچے ہو تو اس عذاب کو لاکر دکھائو۔ تو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ عذاب کا لانا میرا کام نہیں، وہ تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : حق کے ساتھ استکبار کرنے والے لوگوں میں قوم عاد بھی شامل ہے اس لیے ان کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے قرآن مجید نے انھیں ”…
Read the full tafseer →آیت 23 : قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ (انہوں نے فرمایا۔ بیشک علم پورا تو) کہ عذاب کس وقت آئے گا۔ عِنْدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے) مجھے اس وقت کا کچھ علم نہیں۔ جس میں تمہیں عذاب ہوگا۔ وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ (مجھ کو جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ تم کو پہنچائے دیتا ہوں) قراءت : ابوعمرونے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ وہ جو کہ میری شان ہے۔ کہ میں تمہیں وہ پیغام پہنچائوں۔ جو انذار و تخویف میں سے مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔ وَلٰکِنِّیْ اَرٰکُمْ قَوْمًا تَجْہَلُوْنَ (لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نری جہالت کی باتیں کر رہے ہو) یعنی تم جاہل ہو اور جانتے نہیں ہو۔ کہ رسول تو منذر بنا کر…
Read the full tafseer →22 ۔” قالوا اجئتنا لتافکنا “ تاکہ تو ہمیں پھیر دے۔ ” عن آلھتنا “ یعنی ان کی عبادت سے۔ ” فاتنا بما تعدنا “ عذاب کا۔ ” ان کنت من الصادقین “ کہ عذاب ہم پر اترنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21۔ 25۔ قوم عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو فرمایا ہود (علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے شہ زور اور صاحب قوت تھے اس لئے ان کی شہ زوری کا غرور توڑنے کے لئے ان پر ہوا کا عذاب بھیجا اس قوم کا قصہ سورة الاعراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ایسی شہ زور قوم کا ہوا میں اڑنا اور پٹخنیاں کھا کھا کر ہلاک ہونا اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود (علیہ السلام) نے اپنی بت پرست قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے نوح (علیہ السلام) گزر چکا ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(واذکر) یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر (اخاعاد) ” قوم عاد کے بھائی کا “ اس سے مراد ہود ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی (اذانذرقومہ) ” جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ “ اور وہ تھے قوم عاد (بالاحقاف) یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ (احقاف) سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ (وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ) ” اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی ” یعنی حضرت ہود ( علیہ السلام) ان میں سے کوئی انوکھے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 55] حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو پیغمبرانہ شان کا جواب :
سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے جواب میں ان سے کہا کہ " علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ میرا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے اور بس۔ " یعنی نہ تو وہ عذاب لانا میرے بس میں ہے اور نہ ہی مجھے اس کے بارے میں کوئی علم ہے کہ وہ کب آئے گا۔ یہ سب کچھ تو اللہ پاک ہی کے علم اور اسی کی قدرت کے ماتحت ہے۔ میرا کام تو صرف اس قدر ہے کہ میں تم لوگوں کو خداوند قدوس کا وہ پیغام بلا کم وکاست پہنچا دوں جسکے ساتھ اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے یہاں پر " انما " کے کلمہء حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ غیب کے ان حقائق کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی
تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیات 21 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجئے جو قوم عاد کے فرد تھے اور ان ہی کی طرف مبعوث ہوئے حالانکہ وہ لوگ ریتلے ٹیلوں کے درمیان رہتے تھے جہاں کسی نعمت کا پہنچناآسان نہ تھا مگر اللہ نے بذریعہ نبی ہدایت کا پیغام پہنچادیا اور ان سے پہلے بھی نبی گزرچکے تھے جن کے بارے کفار جانتے تھے اور یہ سلسلہ نبوت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی جاری رہا یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا تصور کفار کے پاس نہ ہو اور سب نے ایک ہی پیغام دیا وہی ہود (علیہ السلام) نے بھی پہنچایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی کبھی عبادت نہ کرو اور اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت سے باز آجاؤ ورنہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 4 یعنی وہی جانتا ہے کہ تم پر کب عذاب آئیگا میرے اختایر میں نہیں ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آئوں اور جب تک چاہوں اس کو تم سے ٹالتا رہوں۔
Read the full tafseer →(46:23) قال۔ ای قال ھود۔
العلم۔ یعنی عذاب کے وقت کا علم۔
وابلغکم ما ارسلت بہ۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ ابلغکم۔ ابلغ مضارع واحد متکلم تبلیغ (تفعیل ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر میں تم کو پہنچاتا ہوں ما موصولہ ارسلت مضارع مجہول واحد متکلم ارسال (افعال ) مصدر میں بھیجا گیا ہوں بہ ب کے صلہ کے ساتھ بمعنی جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما کی طرف راجع ہے
ارکم۔ اری مضارع واحد متکلم رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ میں دیکھتا ہوں ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تمہیں دیکھتا ہوں۔ میں تمہیں پاتا ہوں۔
قوما۔ لوگ، جاعت۔
تجھلون : مضارع کا صیغہ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کا بدانجام۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ اور کافروں کو سمجھاؤ کہ قوم عاد کا کیا حال ہوا، جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو احقاف پر کھڑا ہوکر عذاب الٰہی سے ڈرایا احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود نے اپنی بت پرستی قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے بہت سے پیغمبر گذرچکے ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہ پوجنا، اگر تم میری نصیحت کو نہ مانوگے تو مجھ کو خوف ہے کہ تم لوگوں پر کوئی سخت عذاب آجائے گا قوم کے سرکش لوگوں نے جواب دیا کہ ہود اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ، ہم نے اپنے بتوں کی پوجانہ چھوڑیں گے ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[10] یعنی وہ عذاب کا دن کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے
Read the full tafseer →(23) ہود (علیہ السلام) نے کہا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو تم کو وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو پیغام میں دے کر بھیجا گیا ہوں مگر میں تم کو دیکھتا کہ تم جہالت اور نادانی کی باتیں کررہے ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہود (علیہ السلام) نے عاد کو ڈرایا احقاف ایک ضلع ہے یمن میں اس کے معنی ریت کے نقل۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ میں تم کو توحید کی دعوت دیتا ہوں تم عذاب مانگتے ہو میرا کام تو یہی ہے کہ جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ تم کو پہنچا دوں باقی عذاب کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
ہاں ! اتناکہہ سکتا ہوں کہ عذاب کو بلا سوچے سمجھے طلب کرنا یہ جاہلوں اور نادانوں کی باتیں ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 4۔ اس لئے کہ ایک تو توحید کو نہیں قبول کرتے ہو، پھر اپنے منہ سے بلا مانگتے ہو، پھر مجھ پر اس کی فرمائش کرتے ہو۔
Read the full tafseer →ہود (علیہ السلام) نے نے کہا کہ عذاب کب آئے گا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے میرے علم کا معاملہ نہیں :
23 ؎ ہود (علیہ السلام) نے قوم کے اس مطالبہ کا جواب یہ دیا کہ تم بہت جلدی کر رہے ہو حالانکہ تم کو اتنی جلدی نہیں کرنی چاہئے پھر تم کو یہ بھی خیال ہونا چہئے کہ جب میں نے اپنا پیغام تم لوگوں تک نہیں پہنچایا بلکہ اللہ کے پیغام پہنچایا اور وہی چاہئے پھر تم کو یہ بھی خیال ہونا چاہئے کہ جب میں نے اپنا پیغام تم لوگوں تک پہنچایا بلکہ اللہ کے پیغام پہنچایا اور وہی پہنچایا جو اس نے مجھے حکم دیا ہے یہ معاملہ تو اللہ کا ہے کہ وہ تم کو کتنی مدت تک مہلت دینا چاہتا ہے میں اللہ کا پیغام تم کو پہنچا رہا ہوں اور جو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
Commentary
The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith.
The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…
Read the full tafseer →26 That is, "Allah alone knows as to when the torment will descend on you and for how long you will be granted respite."
27 That is, "You are taking my warning as a joke in your ignorance and are demanding the torment for fun. You have no idea of how dreadful is God's torment and how near at hand it might have approached because of your misdeeds. "
Read the full tafseer →