Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کی تباہی کے اسباب
جناب رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کرلیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد حضرت ہود پیغمبر ہیں ؑ والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو احقاف میں رہتے تھے احقاف جمع ہے حقف کی اور حقف کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضرموت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی احقاف کا بیان کیا گیا ہے قتادہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شہر تھا یہاں…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 28
یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ ان کو یہ جواب کس نے دیا۔ کلام کے انداز سے خود بخود یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ جواب تھا جو اصل صورت حال نے عملاً ان کو دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بادل ہے جو ان کی وادیوں کو سیراب کرنے آیا ہے اور حقیقت میں تھا وہ ہوا کا طوفان جو انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے چلا آ رہا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
خلاصہ تفسیر
اور آپ قوم عاد کے بھائی (یعنی ہود علیہ السلام) کا (ان سے) ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خمدار تو دے تھے (یہ مقام کی نشان دہی اس لئے کی گئی کہ دیکھنے والوں کے ذہن میں استحضار ہوجائے) اس (بات) پر (عذاب الٰہی سے) ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو (ورنہ تم پر عذاب نازل ہوگا) اور (یہ ایسی ضروری اور صحیح بات ہے کہ) ان (ہود علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے پیچھے (اسی مضمون کے متعلق) بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے ہیں (اور عجب نہیں کہ ہود ؑ نے ان سب کا متفق ہونا دعوت الی التوحید میں ان کے سامنے بیان بھی کیا ہو، پس…
Read the full tafseer →فلما راوہ عارضا ً مستقبل اودیتھم لا قالوا ھذا عارض ممطرنا ط بل ھوما استعجلتم بہ ط ریع فیھا عذاب الیم 24
عذاب الٰہی کا ظہور اور مجرموں کا حشر
ضمیر مفعول کا مرجع وہی عذاب ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا۔ عارض کے معنی بادل کے ہیں اور یہاں یہ یہاں حال کے محل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کے لئے وہ جلدی مچائے ہوئے تھے جب وہ ایک ابرک کی ش میں ان وادیوں کی طرف بڑھتا نظر آیا تو خوش ہو کر بولے کہ یہ ابر باراں عے جو ہماری وادی کو جل تھل کر دے گا ! بل ھوما استعجلتم بہ یعنی وہ تو اس کو بار باراں سمجھے لیکن صورت حال نے بتایا کہ ابر باراں نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کے لئے وہ جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ریح…
Read the full tafseer →24۔ 1 عرصہ دراز سے ان کے ہاں بارش نہیں ہوئی تھی امنڈتے بادل دیکھ کر خوش ہوئے کہ اب بارش ہوگی بادل کو عارض اس لیے کہا ہے کہ بادل عرض آسمان پر ظاہر ہوتا ہے۔
24۔ 1 یہ حضرت ہود ؑ نے انہیں کہا کہ یہ محض بادل نہیں ہے جیسے تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
24۔ 3 یعنی وہ ہوا جس سے اس قوم کی ہلاکت ہوئی ان بادلوں سے ہی اٹھی اور نکلی اور اللہ کی مشیت سے ان کو اور ان کی ہر چیز کو تباہ کرگئی اسی لیے حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی لیکن آپ ﷺ کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
14: اس سے مراد قوم ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جو شام جاتے ہوئے اہل عرب کے راستے میں پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
درس نمبر 239 ایک نظر میں
یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…
Read the full tafseer →1 یعنی سامنے سے بادل اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ سمجھے کہ سب ندی نالے بھر جائیں گے۔ کہنے لگے کہ بہت برساؤ گھٹا اٹھی ہے اب کام بن جائے گا۔ اس وقت طویل خشک سالی کی وجہ سے پانی کی بہت ضرورت تھی۔
2 یعنی یہ برساؤ بادل نہیں بلکہ عذاب الٰہی کی آندھی ہے وہ ہی جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 24 { فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ } ”پھر جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے“
{ قَالُوْا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا } ”تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے۔“
وہ اسے دیکھ کر خوشیاں منانے لگے کہ ابھی بارش ہوگی اور جل تھل ایک ہوجائیں گے۔
{ بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ } ”نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی !“
تم لوگ خود ہی کہتے تھے نا کہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لاسکتے ہو ‘ تو دیکھ لو :
{ رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے۔“
اس تیز…
Read the full tafseer →37 قوم عاد پر عذاب بادل کی شکل میں نمودار ہوا تھا :۔ یہ لوگ بڑی مدت سے بارش کو ترس رہے تھے۔ قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ ایک کالی گھٹا اٹھتی اور اپنے علاقہ کی طرف آگے بڑھتی دیکھی تو خوشی سے جھوم اٹھے کئی طرح کی امنگیں انگڑائیاں لینے لگیں۔ بارش کے بعد سیرابی اور خوشحالی کی توقعات باندھنے لگے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ گھٹا باران رحمت کی گھٹا تھی یا ان کو نیست و نابود کرنے کے لیے اللہ کا عذاب کالی گھٹا اور آندھی کی صورت میں ان کے سروں پر پہنچنے والا تھا۔ یہ آندھی انتہائی تیز رفتار، سخت ٹھنڈی تھی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل ان پر چلتی رہی۔ اس واقعہ سے جو سبق ہمیں ملتا ہے کہ کسی چیز کی ظاہری شکل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
28۔ قوم عاد کی آخری تباہی کا ذکر ہے کہ پہلے تو وہ بدلی سی اٹھتی ہوئی دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور سمجھے کہ بارش کا بادل ہے۔ کچھ ہی دیر بعد معلوم ہوگیا کہ نہیں وہ تو عذاب کا طوفان ہے۔ (آیت) ” اودیتھم “۔ وادی کے لفظی معنی اس نشیب کے ہیں جس میں پانی جمع ہوجائے۔ (آیت) ” تدمر ..... مسکنھم “۔ یعنی نہ کوئی انسان زندہ بچا نہ کوئی حیوان اور نہ ان کی وہ عالی شان آراستہ پیراستہ عمارتیں ہی باقی رہیں۔ صرف اجڑے ہوئے اور گرے پڑے مکان اور کھنڈر باقی رہ گئے۔ (آیت) ” کذلک .... المجرمین “۔ عام قانون الہی کا بھی اعلان کردیا گیا کہ یہ غیبی ہلاکت عادی مجرموں اور نافرمانوں ہی کے نصیب میں آتی ہے اور اس میں کوئی تخصیص…
Read the full tafseer →فلما راوہ عارضاً جب قوم عاد نے ایک گہرا اور سیاہ بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے یہ برسائو بادل ہے ہم کو سیراب کرے گا، ارشاد ہوا نہیں، بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے، یہ جواب دیا تو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرف سے تھا یا پھر زبان حال کا، بخاری و مسلم وغیرہما نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھلکھلاتے ہوئے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، ہاں البتہ آپ مسکرایا کرتے تھے اور آپ بادل یا ریح شدید (آندھی) دیکھتے تو آپ کے چہرہ انور پر اضطراب کے آثار نمودار ہوجاتے (ایک روز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →فلما راوہ عارضا مستقبل اودیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا بل ھو ما استعجلتم بہ ریح فیھا عذاب الیم۔ سو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتا دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا (ا اللہ نے فرمایا : نہیں نہیں) بلکہ یہ وہی (عذاب) ہے جس کے جلد آنے کے تم خواستگار تھے۔ ایک آندھی ہے جس میں دکھ پہنچانے والا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →چناچہ جب انہوں نے اس بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو اس کی ہوا اور ہوا کے آثار دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل ہماری کھیتیوں پر برسے گا، حضرت ہود نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے اس میں ایک دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →(1) فلما راہ عارضاً …:”راہ“ کی ضمیر عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے آتے تھے۔ ”عرض یعرض“ سامنے آنا۔”عارض ‘ عظیم بادل جو پہاڑوں کی طرح افق پر سامنے آیا ہوا ہے۔ قوم کے ہود ؑ کو جھٹلانے اور ان پر عذاب کے درمیان کا لمبا قصہ مختصر کر کے نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ اس ایٓت میں ان کے الفاظ ”ھذا عارض مبطرنا“ (یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے) سے ظاہر ہے کہ اس عذاب سے پہلے مدت تک بارش بند رہی ہود ؑ نے کفر و شرک سے توبہ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار پر انہیں بارش کی بشارتھی دی۔ چناچہ فرمایا :(ویقوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدراراً ویزدکم قوۃ الی قوتکم ولاتتولوا مجرمین)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
اس میں دو وجوہ ہیں (1) بہتان لگا کر ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں (1) ۔ (2) منع کرنے کے ساتھ ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں یہ ضحاک کا قول ہے : عروہ بن اذینہ نے کہا :
شاعر کہتا ہے : اگر تجھے احسان کی توفیق نہیں دی گئی تو تو ایسی قوم میں ہے جنہیں پھیر دیا گیا ہے یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ وعدہ کا لفظ کبھی کبھی وعد کی جگہ استعمال ہوتا ہے اگر اس بات میں سچے ہو کہ تم نبی ہو یعنی عذاب کے آنے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے میرے پاس نہیں جو پیغام مجھے دے کر بھیجا گیا ہے میں تمہارے رب کی جانب سے تم تک پہنچانے والا ہوں۔ یعنی تم جو جلدی عذاب کے آنے کا مطالبہ کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عارض ممطرنا “ سے مراد ہیں بادل یعنی (یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا)
2:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) وعبد بن حمید (رح) والبخاری (رح) ومسلم و ابوداؤد اور ابن لمنذر وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول ﷺ کو کبھی اس طرح کھلکھلا کر ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں نے آپ کے حلق کو دیکھا ہو۔ آپ صرف مسکراتے تھے اور جب آپ کسی بادل کو یہ ہوا کو دیکھتے تھے تو آپ کے چہرے مبارک میں (پریشانی کے اثرات) پہچانے جاتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ لوگ جب بادل کو دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہوتے ہیں کہ اس…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْهُ [ پھر جب ان لوگوں نے دیکھا اس (عذاب ) کو ] عَارِضًا [ بادل ہوتے ہوئے ] مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ ۙ [ ان کی وادیوں کے سامنے آنے والا ہوتے ہوئے ] قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ [ تو انھوں نے کہا یہ ایک بادل ہے ] مُّمْطِرُنَا ۭ [ (بارش ) برسانے والا ہے ہم پر ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] مَا [ وہ ہے ] اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِهٖ ۭ [ تم جلدی مچاتے تھے جس کی ] رِيْحٌ [ (یہ) ایک ایسی ہوا ہے ] فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ [جس میں ایک دردناک عذاب ہے ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 26 ۔ میں ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے اللہ کی آیات ہی وہ چیز ہیں جو انسان کو حقیقت کا صیحح فہم و ادراک بخشتی ہیں یہ فہم و ادراک انسان…
Read the full tafseer →﴿فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں پر عذاب آنے کی یہ صورت ہوئی کہ سخت گرمی کی وجہ سے گھروں کو چھوڑ کر باہر میدان میں آگئے اسی حال میں انہیں ایک بادل آتا ہوا نظر آیا اسے دیکھہ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر پانی برسائے گا وہ پانی برسانے والا بادل کہاں تھا وہ تو وہی عذاب تھا جس کی جلدی مچا رہے تھے وہ عذاب ہوا کی صورت میں آگیا یہ ہوا بہت سخت تھی جو اپنے رب کے حم سے ہر چزد کو ہلاک کرتی جا رہی تھی۔
سورة ذاریات میں فرمایا ﴿ مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِؕ0042﴾ (وہ ہوا جس چیز پر پہنچتی تھی اسے ایسا بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
تسلی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم برتکذیب کفار ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر اخاعاد ....... الی ....... ماکانوا بہ یستھزء و ن “۔
ّ (ربط) سعادت وشقاوت کا ایک بنیادی ضابطہ اور قبول ایمان واعراض عن الحق پر مرتب ہونے والے ثمرات ونتائج کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے امم سابقہ کا حال بیان کرتے ہوئے کہ کسی طرح اللہ کے پیغمبر انکو ہدایت کی دعوت دیتے رہے بالآخر جب وہ اپنی بغاوت وسرکشی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب سے تباہ وبرباد کردیئے گئے فرمایا۔
اور یاد کرو عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) ۔ 1
حاشیہ۔ (پیغمبر چونکہ خود اپنی قوم میں مبعوث ہوئے اس بناء پر حضرت ہود (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
21:۔ ” فلما راوہ “ جب عذاب کا وقت آگیا اور سیاہ بادل کی صورت میں اس کے آثار نمودار ہونے لگے اور بادل ان کی وادیوں پر منڈلانے لگے تو وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ عرصہ سے بارش نہیں ہوئی تھی اس لیے بادلوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل آگئے ہیں اور آج خوب بارش ہوگی۔ ” بل ھو ما استعجلتم بہ “ تو زبان حال نے ان سے کہا نہیں نہیں، یہ باران تحمت لے کر نہیں آئے، بلکہ ان بادلوں میں وہ عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ یہ ایک ہولناک طوفان باد ہے جو اللہ کے قہر و عذاب کو لے کر آرہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلا جائیگا، چناچہ وہ اس طرح مٹ مٹا گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا کوئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
حوامیم سبعہ کی اس آخر سورة میں بھی سابقہ سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت ہی کا تذکرہ ہے ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل اور ساتھ ساتھ شرک کا رد ہوا۔ عقیدہ توحید پر استقامت اور جزائے عمل کا بیان ہوا۔ پھر لوگوں کے دو گروہوں یعنی سعادتمند اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہوا ۔ فرمایا سعادتمند لوگ وہ ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے سامنے مناجات کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نیک انجام بھی بیا ن ہوا۔ پھر اللہ نے بدبخت انسانوں کا ذکر…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِہِمْ 0 ۙ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا 0 ۭ بَلْ ہُوَمَا اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِہٖ 0 ۭ رِيْحٌ فِيْہَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ 24 ۙ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1 ؎ چند عرصہ سے قوم عاد پر قحط تھا یہ ایک خدا تعالیٰ کا ان کے بیدار کرنے کو چھوٹا سا کوڑا تھا اس پر بھی ویسے ہی گمراہ رہے اب ہلاکی کا وقت آیا تو سیاہ آندھی اٹھتی ہوئی نمودار ہوئی جس کو دیکھ کر وہ خوش ہوئے کہ ہمارے سامنے یہ بادل اٹھا ہے یہ ضرور پانی برسا دے گا وہ دراصل بادل نہ تھا سیاہ آندھی تھی جس کی نسبت وہ پیغمبر سے کہہ دیا کرتے تھے لا ہلاکت کا روز وہ لاتا کیوں نہیں ؟ پس ایسی سخت زور سے آندھی چلنی شروع ہوئی کہ آدمی اڑنے لگے ٹکرا کر مرگئے اور چیلوں کی طرح سے اوپر کو اڑے جاتے تھے بڑے بڑے درخت اڑاتے پھرتے تھے سات روز یہی بلا رہی بس ان کے مکانات باقی رہے وہ سب ہلاک ہوئے۔ 12 منہ
ابن عباس وبہ قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ لا قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ط بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ ط رِیْحٌ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْ ئٍ م بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لاَ یُرٰٓی اِلاَّ مَسٰکِنُھُمْ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الاحقاف : 24، 25)
(پھر جب انھوں نے اس عذاب کو بادل کی شکل میں اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ وہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کردے گا، نہیں، بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے، یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں وہ دردناک عذاب ہے۔ یہ ہر چیز کو تباہ کردے گا اپنے رب کے حکم سے، پس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مطالبہ پر عذاب نازل ہونا اور قوم عاد کا انجام۔
نامعلوم حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کس کس انداز میں اور کتنی مدت سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی کوشش فرمائی لیکن ناہنجار قوم نے بالآخر حضرت ھود (علیہ السلام) کو بدعا کرنے پر مجبور کردیا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے جب پوری طرح محسوس کیا کہ یہ قوم کسی طرح سدھرنے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے قوم کے اصرار پر اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی کہ اب اس قوم کا فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی بدعا قبول کی اور قوم عاد پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ بڑی مدت…
Read the full tafseer →آیت 24 : فَلَمَّا رَاَوْہُ (جب انہوں نے دیکھا اس بادل کو) اس کی ضمیر ماتعدنا کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یا وہ ضمیر مبہم ہے جس کو عارضًا سے واضح کیا گیا ہے۔ عَارِضًا یہ تمیز یا حال ہے۔ العارض اس بادل کو کہتے ہیں۔ جو سامنے والے افق سماء پر ظاہر ہو۔ مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا (اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا) روایت میں ہے کہ بارش ان کے ہاں عرصہ سے نہ ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی وادیوں کی جانب آتا ہوا بادل دیکھا تو کہنے لگے۔ یہ بادل ہم پر بارش لائے گا اور خوشی سے یہ بات کھل کر کہی۔
لطیفہ اضافت :
مستقبل اور ممطر کی اضافت مجازی…
Read the full tafseer →23 ۔” قال “ ہود (علیہ السلام) نے ۔ ” انما العلم عند اللہ “ اور وہ جانتا ہے کہ کب تمہارے پاس عذاب آئے گا۔ ” وابلغکم ماارسلت بہ “ تمہاری طرف وحی۔ ” ولکنی اراکم قوما تجھلون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21۔ 25۔ قوم عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو فرمایا ہود (علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے شہ زور اور صاحب قوت تھے اس لئے ان کی شہ زوری کا غرور توڑنے کے لئے ان پر ہوا کا عذاب بھیجا اس قوم کا قصہ سورة الاعراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ایسی شہ زور قوم کا ہوا میں اڑنا اور پٹخنیاں کھا کھا کر ہلاک ہونا اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود (علیہ السلام) نے اپنی بت پرست قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے نوح (علیہ السلام) گزر چکا ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(واذکر) یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر (اخاعاد) ” قوم عاد کے بھائی کا “ اس سے مراد ہود ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی (اذانذرقومہ) ” جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ “ اور وہ تھے قوم عاد (بالاحقاف) یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ (احقاف) سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ (وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ) ” اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی ” یعنی حضرت ہود ( علیہ السلام) ان میں سے کوئی انوکھے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[ 58] ہر چیز اپنے رب کے حکم کی پابند، سبحانہ و تعالیٰ :
سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر چیز اپنے نفع و نقصان کے سلسلے میں اپنے رب کے حکم کی پابند ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہوا ایسی زور کی اور اس قدر ہولناک ہوگی کہ ہر چیز کو تباہ اور برباد کرکے رکھ دے گی اپنے رب کے حکم سے۔ یعنی اصل چیز تو حکم خداوندی ہے۔ ورنہ اس کے بغیر کسی بھی چیز سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ سو ہر چیز نفع دینے یا نقصان پہنچانے میں اپنے خالق ومالک ہی کے حکم و ارشاد کی پابند ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا حکم ملے گا ویسے ہی کرے گی۔ ورنہ بزات خود اس میں نہ کسی نفع و نقصان کا کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ ضرررسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی
تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیات 21 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجئے جو قوم عاد کے فرد تھے اور ان ہی کی طرف مبعوث ہوئے حالانکہ وہ لوگ ریتلے ٹیلوں کے درمیان رہتے تھے جہاں کسی نعمت کا پہنچناآسان نہ تھا مگر اللہ نے بذریعہ نبی ہدایت کا پیغام پہنچادیا اور ان سے پہلے بھی نبی گزرچکے تھے جن کے بارے کفار جانتے تھے اور یہ سلسلہ نبوت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی جاری رہا یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا تصور کفار کے پاس نہ ہو اور سب نے ایک ہی پیغام دیا وہی ہود (علیہ السلام) نے بھی پہنچایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی کبھی عبادت نہ کرو اور اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت سے باز آجاؤ ورنہ اگر…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی بہت خوش ہوئے کہ بادل آیا جو ہمیں سیراب رے گا۔ ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب حضرت ہود نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر یہ کہہ دی ہو۔
6 ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب حضرت ہود نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر یہ کہہ رہی ہو
Read the full tafseer →(46:24) فلما راوہ۔ فلما۔ پھر جب : راد ماضی جمع مذکر غائب، راوماضی جمع مذکر غائب، رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ رأو اصل میں رایوا تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح یاء کو الف سے بدلا۔ اب الف اور وائو دو ساکن جمع ہوئے الف کو حذف کردیا۔ راوا ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب بما تعدنا میں ما کی طرف راجع ہے۔
عارضا۔ ابر، بادل۔ عرض سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ عارض وہ بادل جو فضا کے عرض میں پھیلتا اور نمایاں ہوتا ہے۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے یا بوجہ تمیز ہونے کے۔
مستقبل اودیتہم : مستقبل اسم فاعل واحد مذکر استقبال (استفعال) مصدر۔ سامنے آنے والا۔ مضاف۔
اودیتہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ مستقبل کا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کا بدانجام۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ اور کافروں کو سمجھاؤ کہ قوم عاد کا کیا حال ہوا، جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو احقاف پر کھڑا ہوکر عذاب الٰہی سے ڈرایا احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود نے اپنی بت پرستی قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے بہت سے پیغمبر گذرچکے ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہ پوجنا، اگر تم میری نصیحت کو نہ مانوگے تو مجھ کو خوف ہے کہ تم لوگوں پر کوئی سخت عذاب آجائے گا قوم کے سرکش لوگوں نے جواب دیا کہ ہود اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ، ہم نے اپنے بتوں کی پوجانہ چھوڑیں گے ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
[10] یعنی وہ عذاب کا دن کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے
Read the full tafseer →(24) پھر جب انہوں نے اس عذاب موعودکو ایک سیاہ بادل کی شکل میں اپنے میدانوں کی طرف آتا ہوا دیکھا اور اپنی وادیوں کی طرف متوجہ دیکھا تو کہنے لگے یہ ابر ہے جو ہم پر برسے گا۔ ارشاد ہوا بات نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے یہ ایک تیز ہوا اور آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1۔ یعنی نہ ان کے حواس ان کو عذاب سے بچا سکے اور نہ ان کی تدبیر جس کا ادراک قلب سے ہوتا ہے اور نہ ان کی قوت، پس تمہاری تو کیا حقیقت ہے۔
Read the full tafseer →قوم عاد نے ایک بادل کو آتا دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ رزق دوڑتا چلا آ رہا ہے :
42 ؎ بارش میں بلا شبہ اللہ نے رزق رکھا ہے بلکہ آسمان سے رزق نازل کرنے سے مراد بارش نازل کرنا ہی ہے لیکن یہ بادل صرف رزق ہی کو نہیں اٹھائے نظر آ رہا تھا بلکہ اس میں وہ عذاب الٰہی بھی مخفی تھا جو قوم عاد کی ہلاکت کا باعث تھا لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ جس چیز کا ہم مذاق اڑا رہے ہیں یہ وہی چیز ہے جو ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں لیکن زیادہ دیر نہ لگی کہ ان کی خوشیاں ان کی ہلاکت میں بدل گئیں اور جہاں شہنائیاں بج رہی تھیں وہاں ماتم کرنے والا بھی کوئی نہ رہا۔ ایسی آندھی چلی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی جس نے نہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
Commentary
The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith.
The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…
Read the full tafseer →28 Here, there is no indication as to who gave them this answer. However, the style shows explicitly that this was the answer they were given by the existing conditions. They thought it was a cloud which was coming to give rain to their valleys, but in reality it was a windstorm that was coming on to completely exterminate them.
Read the full tafseer →