Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کی تباہی کے اسباب
جناب رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کرلیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد حضرت ہود پیغمبر ہیں ؑ والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو احقاف میں رہتے تھے احقاف جمع ہے حقف کی اور حقف کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضرموت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی احقاف کا بیان کیا گیا ہے قتادہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شہر تھا یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الْاَحْقَاف 26
یعنی یہ بات اللہ ہی جانتا ہے کہ تم پر عذاب کب آئے گا۔ اس کا فیصلہ کرنا میرا کام نہیں ہے کہ تم پر کب عذاب نازل کیا جائے اور کب تک تمہیں مہلت دی جائے۔
سورة الْاَحْقَاف 27
یعنی تم اپنی نادانی سے میری اس تنبیہ کو مذاق سمجھ رہے ہو اور کھیل کے طور پر عذاب کا مطالبہ کئے جاتے ہو۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ خدا کا عذاب کیا چیز ہوتا ہے اور تمہاری حرکات کی وجہ سے وہ کس قدر تمہارے قریب آ چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
خلاصہ تفسیر
اور آپ قوم عاد کے بھائی (یعنی ہود علیہ السلام) کا (ان سے) ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خمدار تو دے تھے (یہ مقام کی نشان دہی اس لئے کی گئی کہ دیکھنے والوں کے ذہن میں استحضار ہوجائے) اس (بات) پر (عذاب الٰہی سے) ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو (ورنہ تم پر عذاب نازل ہوگا) اور (یہ ایسی ضروری اور صحیح بات ہے کہ) ان (ہود علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے پیچھے (اسی مضمون کے متعلق) بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے ہیں (اور عجب نہیں کہ ہود ؑ نے ان سب کا متفق ہونا دعوت الی التوحید میں ان کے سامنے بیان بھی کیا ہو، پس…
Read the full tafseer →قالوآ اجئتنا لتا فکنا عن الھتنا ج فاتنا بما تعد نآ ان کنت من الصدقین 22
قوم کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب
افک کے معنی جھوٹ بولنے کے ہیں اس کے بعد عن کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ کسی ایسے فعل پر متضمن ہے جس کے معنی پھیرنے اور برگشتہ کرنے کے ہیں۔ یعنی انہوں نے حضرت ہود کے اس انداز کا جواب یہ دیا کہ اچھا آپ اس مقصد سے ہمارے پاس رسول بن کر تشریف لائے ہیں کہ جھوٹ موٹ اپنی رسالت اور ایک عذاب کی دھونس جما کر ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کریں ! اگر یہ بات ہے تو وہ عذاب ہمارے اوپر لائو جس سے ڈرا ہے ہو، اس کے بغیر ہم تمہارا سچا ہونا تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →22۔ 1 لتافکنا لتصرفنا یا لتمنعنا یا لتزیلنا سب متقارب المعنی ہیں تاکہ تو ہمیں ہمارے معبودوں کی پرستش سے پھیر دے روک دے ہٹا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
14: اس سے مراد قوم ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جو شام جاتے ہوئے اہل عرب کے راستے میں پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
درس نمبر 239 ایک نظر میں
یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…
Read the full tafseer →10 یعنی ہم اپنے آبائی طریقہ سے ہٹنے والے نہیں۔ اگر تو اپنی دھمکیوں میں سچا ہے تو دیر کیا ہے۔ جو زبان سے کہتا ہے، کر کے دکھلادے۔
Read the full tafseer →آیت 22 { قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِکَنَا عَنْ اٰلِہَتِنَا } ”انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو ؟“
{ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ } ”تو جس عذاب کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو وہ ہم پر لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
36 کسی بات کا نتیجہ غلط نکالنا بھی جہالت ہے اور قوم ہود کی جہالت :۔ ان کی نادانی اور جہالت یہ تھی کہ جو بات انہیں ہود (علیہ السلام) سمجھانا چاہتے تھے انہوں نے اس کے برعکس نتیجہ نکالا۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے انہیں یہ سمجھایا تھا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کسی کو کسی بھی طرح کے تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ خود مجھے بھی نہیں۔ میں بھی محض اللہ کا پیغام پہنچانے والا اور تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ لیکن انہوں نے جواب میں یہ کہہ دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ۔ حالانکہ ہود (علیہ السلام) کا یہ دعویٰ تھا ہی نہیں کہ اگر تم انکار کرو گے تو میں تم پر عذاب بھی لاسکتا ہوں…
Read the full tafseer →26۔ اس قوم نے بھی حسب معمول دعوت کی اصل خوبیوں پر غور ہی نہ کیا، بلکہ اس دعوت کو اپنے رواجی پیمانہ سے ناپ کر اس سے بےتحاشا انکار ہی شروع کردیا .... قوم عاد اپنے زمانہ کے ایک بڑے زبردست تمدن کی مالک تھی، اس نے وہی جواب دیا، جو آج بھی ” مہذب “” ومتمدن “ قوموں کی زبان پر چڑھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ترجمہ :۔ عاد کے بھائی (علیہ السلام) کا ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو جب وہ احقاف میں مقیم تھی ڈرایا (خبر دار کیا) (اذ) سے لیکر ٓخر تک (اخا عاد) سے بدل الاشتمال ہے، احقاف یمن میں ایک وادی ہے اسی میں ایک وادی ہے اسی میں ان کے مکانات تھے اور یقینا اس سے پہلے بھی ڈرانے والے یعنی رسول گذر چکے تھے اور اس کے بعد بھی یعنی ہود سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی اپنی قوموں کی طرف یہ کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور قدخلت جملہ معترضہ ہے، اگر تم غیر اللہ کی بندگ کرتے رہے تو مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، قوم نے جواب دیا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو…
Read the full tafseer →قالوا اجئتنا لتا فکنا عن الھتنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین وہ کہنے لگے : کیا تم ہمارے
پاس اس ارادہ سے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو ؟ پس اگر تم سچے ہو تو جس (عذاب) کا تم ہم پر لانے کا وعدہ کر رہے ہو ‘ اس کو ہم پر لے آؤ۔
اَجِءْتَنَا استفہام (سوالیہ نہیں) تقریری ہے۔
عَنْ اٰلِھَتِنَا ہمارے معبودوں سے پھیر دینے کیلئے۔
بِمَا تَعِدُنَا یعنی شک پر جس عذاب کے آنے کا تم ہم سے وعدہ کر رہے ہو (اور ڈرا رہے ہو) ۔
اِنْ کُنْتَ کلام سابق مضمون جزاء پر دلالت کر رہا ہے ‘ اسلئے اس جگہ اِنْ کُنْتَ کے جواب کو محذوف ماننے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →قوم نے کہا اے ہود کیا تم ہمارے پاس اس ارادہ سے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے ہٹا دو تم عذاب لے آؤ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ اگر ہم ایمان نہ لائے تو ہم پر عذاب نازل ہوگا۔
Read the full tafseer →قالوا اجنتنا لتا فکنا عن الھتنا…: اس آیت کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة ہود (32) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
اس میں دو وجوہ ہیں (1) بہتان لگا کر ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں (1) ۔ (2) منع کرنے کے ساتھ ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتے ہیں یہ ضحاک کا قول ہے : عروہ بن اذینہ نے کہا :
شاعر کہتا ہے : اگر تجھے احسان کی توفیق نہیں دی گئی تو تو ایسی قوم میں ہے جنہیں پھیر دیا گیا ہے یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ وعدہ کا لفظ کبھی کبھی وعد کی جگہ استعمال ہوتا ہے اگر اس بات میں سچے ہو کہ تم نبی ہو یعنی عذاب کے آنے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے میرے پاس نہیں جو پیغام مجھے دے کر بھیجا گیا ہے میں تمہارے رب کی جانب سے تم تک پہنچانے والا ہوں۔ یعنی تم جو جلدی عذاب کے آنے کا مطالبہ کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1:۔ ابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود (علیہ السلام) پر رحم فرمائے گا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ دو وادیاں لوگوں میں خیر کی ہیں وادی مکہ اور وادی ارم جو ہند میں ہے اور دو بڑی وادیاں ہیں لوگوں میں وادی احقاف اور وادی حضرموت جس کو وادی برھوت کہا جاتا ہے جس میں کافروں کی روحیں ڈالی جاتی ہیں۔ اور لوگوں میں بہترین کنوں زمزم ہے اور لوگوں میں سب سے بڑا کنواں برھوت ہے اور یہ اس وادی میں ہے جو حضرموت کے مقام پر ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ احقاف شام میں ایک…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَجِئْتَـنَا [ ان لوگوں نے کہا کیا تو آیا ہمارے پا س ] لِتَاْفِكَنَا [ تاکہ تو پھیر دے ہم کو ] عَنْ اٰلِهَتِنَا ۚ [ ہمارے خداؤں سے ] فَاْتِنَا [ پس تو لے آ ] بِمَا [ اس چیز کو جس کا ] تَعِدُنَآ [ تو وعدہ کرتا ہے ہم سے ] اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ اگر تو سچ کہنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →﴿قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا 1ۚ ﴾ کیا تم اس لیے آئے ہو کہ ہمارے جو معبود ہیں ہم ان کی عبادت کرنا چھوڑ دیں اور تم ہمیں ان کی عبادت سے ہٹا دو تم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہو کہ میری دعوت پر عمل نہ کیا تو عذاب آجائے گا تم نے عذاب کی بڑی رٹ لگالی اگر تمہارا یہ ڈرانا صحیح ہے اور واقعی تمہاری بات صحیح ہے کہ نہ ماننے پر ہم عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے تو بس لے آؤ …… اگر قول سچا ہے تو دیر کی کیا ضرورت ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
تسلی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم برتکذیب کفار ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر اخاعاد ....... الی ....... ماکانوا بہ یستھزء و ن “۔
ّ (ربط) سعادت وشقاوت کا ایک بنیادی ضابطہ اور قبول ایمان واعراض عن الحق پر مرتب ہونے والے ثمرات ونتائج کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے امم سابقہ کا حال بیان کرتے ہوئے کہ کسی طرح اللہ کے پیغمبر انکو ہدایت کی دعوت دیتے رہے بالآخر جب وہ اپنی بغاوت وسرکشی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب سے تباہ وبرباد کردیئے گئے فرمایا۔
اور یاد کرو عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) ۔ 1
حاشیہ۔ (پیغمبر چونکہ خود اپنی قوم میں مبعوث ہوئے اس بناء پر حضرت ہود (علیہ…
Read the full tafseer →20:۔ ” قالوا اجئتنا “ قوم کے سرکش افراد نے نہایت معاندانہ جواب دیا کہ اے ہود ! کیا تو ہمیں ہمارے معبود سے ہٹانے کے لیے آیات ہے ؟ تو خوب سن لے ہم ان کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور جس عذاب کی تو ہمیں دھمکیاں دیتا ہے اگر سچا ہے تو اسے لے آ۔ دیر کیوں کر رہا ہے۔ قال انما العلم۔ الایۃ۔ ہود (علیہ السلام) نے فرمایا۔ عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ عذاب کب آئیگا، اس کی آمد کا معین وقت صرف اللہ ہی کو معلوم ہے، البتہ میرا کام یہ ہے کہ میں خدا کا پیغام تم تک پہنچاؤ وہ میں نے پہنچا دیا، لیکن تم ایسے نادان ہو اور جاہلوں کی سی باتیں کرتے ہو اور مجھ سے ایسے مطالبے کرتے ہو جو نہ میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
حوامیم سبعہ کی اس آخر سورة میں بھی سابقہ سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت ہی کا تذکرہ ہے ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل اور ساتھ ساتھ شرک کا رد ہوا۔ عقیدہ توحید پر استقامت اور جزائے عمل کا بیان ہوا۔ پھر لوگوں کے دو گروہوں یعنی سعادتمند اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہوا ۔ فرمایا سعادتمند لوگ وہ ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے سامنے مناجات کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نیک انجام بھی بیا ن ہوا۔ پھر اللہ نے بدبخت انسانوں کا ذکر…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَجِئْتَـنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِہَتِنَا 0 ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 22
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترکیب : راوہ الضمیر یعودالی مافی قولہ بماتعدناوقیل الی غیر مذکوریفسرہ بابعد عارضا منصوب علی الحال اوالتمیز العارض السحاب قالہ
تفسیر : اشقیاء کی بابت صرف اسی قدر بیان فرمایا تھا کہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاوے گا اب یہاں اس پورے بدلہ کو کسی قدر مشرح بیان فرماتا ہے۔ فقال و یوم یعرض الذین کفرو اعلی النار اور یاد کرو کہ جس دن منکر لوگ جہنم کے روبرو لائے جاویں گے تب ان سے کہا جاویگا اذھتبم طیباتکم کہ تم اپنے مزے دنیا میں حاصل کرچکے اور خوب برت چکے اب اپنے تکبر اور بدکاری کی وجہ سے ذلت کا عذاب اٹھائو۔ یعنی آخرت کو بھول گئے تھے دنیا کے عیش و آرام میں ایسے محو تھے کہ آخرت کے لیے کچھ بھی فکر نہ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِکَنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَـآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الاحقاف : 22)
(انھوں نے کہا کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جھوٹ بول کر ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردو، اچھا تو لے آئو اپنا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو، اگر تم سچوں میں سے ہو۔ )
قوم کی طرف سے عذاب کا مطالبہ
حضرت ہود (علیہ السلام) کے انذار کے جواب میں ان کی قوم کے لوگوں نے یہ کہا آپ یہ جو ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی پر زور دے رہے ہیں اور مسلسل شرک کی مذمت کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی بات نہ مانی تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا۔ ہمیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : حق کے ساتھ استکبار کرنے والے لوگوں میں قوم عاد بھی شامل ہے اس لیے ان کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے قرآن مجید نے انھیں ”…
Read the full tafseer →آیت 22 : قَالُوْا (قوم ہود کے لوگ کہنے لگے) اَجِئْتَنَا لِتَاْفِکَنَا (کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے تاکہ تو ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو ) تأفکنا اے تصرفنا پس الافک پھیرنے کو کہتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں اف کہ عن رأیہٖ ۔ عَنْ اٰلِہَتِنَا (ہمارے معبودوں سے) یعنی ان کی عبادت سے۔ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ (تو ہمارے پاس لے آجس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) کہ شرک پر ایسا عذاب ہوگا۔ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچا ہے) اپنے اس وعدے میں۔
Read the full tafseer →تفسیر :
21 ۔” واذکر اخاعاد “ یعنی ھود (علیہ السلام) کو ” اذانذر قومہ بالا حقاف “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حقاف عمان اور مھرۃ کے درمیان وادی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ قوم عاد کی منزلیں یمن میں حضرموت میں ایک جگہ میں تھیں جس کو مھرۃ کہا جاتا ہے اور اس کی طرف مھری اونٹ منسوب ہیں اور اہل عاد موسم بہار میں سفر کرتے تھے۔ پھر جب پیاس تنگ کرتی تو اپنے گھروں کی طرف لوٹ آتے اور یہ قبیلہ ارم میں سے تھے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ عاد یمن کا قبیلہ ہے۔ یہ لوگ ریتلی زمین میں رہتے تھے جو سمندر کے قریب تھی۔ اس جگہ کو شحر کہا جاتا تھا اور احقاف حقف کی جمع ہے اور وہ لمبے ٹیڑھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21۔ 25۔ قوم عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو فرمایا ہود (علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے شہ زور اور صاحب قوت تھے اس لئے ان کی شہ زوری کا غرور توڑنے کے لئے ان پر ہوا کا عذاب بھیجا اس قوم کا قصہ سورة الاعراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ایسی شہ زور قوم کا ہوا میں اڑنا اور پٹخنیاں کھا کھا کر ہلاک ہونا اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود (علیہ السلام) نے اپنی بت پرست قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے نوح (علیہ السلام) گزر چکا ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(واذکر) یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر (اخاعاد) ” قوم عاد کے بھائی کا “ اس سے مراد ہود ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی (اذانذرقومہ) ” جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ “ اور وہ تھے قوم عاد (بالاحقاف) یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ (احقاف) سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ (وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ) ” اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی ” یعنی حضرت ہود ( علیہ السلام) ان میں سے کوئی انوکھے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 54] منکر قوم کی بغاوت و سرکشی کا ایک نمونہ و مظہر :
سو یہ قوم ہود کا اپنے پیغمبر کو باغبانہ اور سرکشانہ ضواب تھا اور اس سے ایسی باغی اور سرکش قوموں کی بغاوت و سرکشی کا ایک نمونہ مظہر سامنے آتا ہے سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کے حق و صدق اور درود سوز بھرے خطاب کے جواب میں ان سے کہا کہ " کیا تم ہمارے پاس اسی لیے آئے ہو کہ ہمیں برگشتہ کردو اپنے معبودوں سے، پس تم لے آؤ ہم ہر عذاب۔ جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو اگر تم سچے ہو اپنے قول وقرار میں۔ " سو یہ تھا قوم عاد کا اپنے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کو باغبانہ اور سرکشانہ جواب کہ ہم تمہارے کہنے پر اپنے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی
تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیات 21 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجئے جو قوم عاد کے فرد تھے اور ان ہی کی طرف مبعوث ہوئے حالانکہ وہ لوگ ریتلے ٹیلوں کے درمیان رہتے تھے جہاں کسی نعمت کا پہنچناآسان نہ تھا مگر اللہ نے بذریعہ نبی ہدایت کا پیغام پہنچادیا اور ان سے پہلے بھی نبی گزرچکے تھے جن کے بارے کفار جانتے تھے اور یہ سلسلہ نبوت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی جاری رہا یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا تصور کفار کے پاس نہ ہو اور سب نے ایک ہی پیغام دیا وہی ہود (علیہ السلام) نے بھی پہنچایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی کبھی عبادت نہ کرو اور اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت سے باز آجاؤ ورنہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 4 یعنی وہی جانتا ہے کہ تم پر کب عذاب آئیگا میرے اختایر میں نہیں ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آئوں اور جب تک چاہوں اس کو تم سے ٹالتا رہوں۔
Read the full tafseer →(46:22) اجئتنا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے جئت ماضی واحد مذکر حاضر۔
مجیی (باب ضرب) مصدر نا ضمیر جمع متکلم کیا تو ہمارے پاس (اس ارادہ سے ) اجئتنا میں استفہام (سوالیہ نہیں ) تقریری ہے
لتأفکنا۔ لام تعلیل کا ہے تأفک مضارع منصوب بوجہ عمل لام واحد حاضر افک (باب ضرب ) مصدر سے۔
قاموس میں ہے کہ افک باب ضرب، سمع، دونوں سے آتا ہے اور مصدر افک الف کے کسرہ اور فتحہ اور فاء کے سکون اور حرکت سے جھوٹ بولنے کے معنی میں آتا ہے اور افک عنہ۔ یعنی جب عن کے صلہ کے ساتھ آئے تو معنی ہوں گے پھیرنے بدلنے، اور مراد سے محروم کرنے کے۔
امام راغب کہتے ہیں کہ افک کا استعمال ہر اس شے کے متعلق ہوتا ہے جو اپنے اصلی رخ سے پھیر دی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کا بدانجام۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ اور کافروں کو سمجھاؤ کہ قوم عاد کا کیا حال ہوا، جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو احقاف پر کھڑا ہوکر عذاب الٰہی سے ڈرایا احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود نے اپنی بت پرستی قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے بہت سے پیغمبر گذرچکے ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہ پوجنا، اگر تم میری نصیحت کو نہ مانوگے تو مجھ کو خوف ہے کہ تم لوگوں پر کوئی سخت عذاب آجائے گا قوم کے سرکش لوگوں نے جواب دیا کہ ہود اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ، ہم نے اپنے بتوں کی پوجانہ چھوڑیں گے ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[8] احقاف کے لغوی معنی ریت کے تودوں کے ہیں۔ الاحقاف سے مراد وہ ریگستان ہے جو عمان سے یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی قوم عاد کا اصل مسکن تھا۔ ظاہر بات ہے کہ جس دور میں قوم عاد اپنے عروج پر تھی اس زمانے میں یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب رہا ہوگا۔
[9] یہ سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہود (علیہ السلام) کوئی انوکھے خبردار کرنے والے نہیں تھے۔ ان سے پہلے بھی خبردار کرنے والے آ چکے تھے اور ان کے بعد بھی آتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 1: قوم ہود (علیہ السلام) کو یہ تاو اپنے معبودوں اور دیوتاؤں پر اتنا ناز تھا کہ ہر آن ان کے تقرب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرتے اور ان کے سامنے جھکتے یا ان کی طرف سے ایسی سردمہری کا ظہور ہوا ۔ کہ پوری قوم بٹ گئی ۔ اور انہوں نے دست اعانت دراز نہ کیا ۔ قرآن حکیم پوچھتا ہے ۔ ان مشرکین سے کہ وہ بت جو مشکلات اور مصائب میں تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔ تم کو موت اور عذاب سے بچا نہیں سکتے ۔ وہ خدا کیونکر ہوگئے ۔ اور اس قابل کس طرح بن گئے ۔ کہ ان کی پوجا کی جائے
Read the full tafseer →(22) قوم کے لوگوں نے جواب دیا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمارے ٹھاکروں اور ہمارے معبودوں سے پھیر دے اور لوٹادے تو ہم تو ایسا کرنے والے ہیں نہیں پس تو اگر سچا ہے تو جس عذاب کی ہم کو دھمکی اور عدہ دیتا ہے اس عذاب کو ہم پر لے آ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 4۔ اس لئے کہ ایک تو توحید کو نہیں قبول کرتے ہو، پھر اپنے منہ سے بلا مانگتے ہو، پھر مجھ پر اس کی فرمائش کرتے ہو۔
Read the full tafseer →قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور عذاب کا مطالبہ کیا :
22 ؎ قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اچھا آپ آپ ہمارے پاس اس لئے تشریف لائے ہیں کہ جھوٹ موٹ داستانیں سنا کر ہمارے معبودوں سے ہم کو برگشتہ کردیں۔ کان کھول کر سن لو کہ ہم آپ کی اس دھونس میں آنے والے نہیں اور نہہی تیری ان داستانوں کی کوئی وقعت ہم سمھجتے ہیں۔ جا ! جس عذاب کا ڈراوا ہم کو تو دے رہا ہے اس کو لے آ اور اگر تو سچا ہے توجلدی کر ذرا دیر نہ لگا۔ وضاحت پیچھے حوالہ بالا میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
Commentary
The previous verses have condemned the infidelity and the arrogant attitude of the infidels and its destructive results. In these verses, the people of Makkah are being put to shame by telling them that even jinn, who are even more proud and haughty than you, had their hearts softened after hearing the Qur'an, and they became Muslims; Allah has given the humans more sense and intelligence than jinns, and despite that they do not embrace faith.
The incident of the jinn listening to the Qur'an and then embracing faith is stated in authentic ahadith. When the Holy Prophet ﷺ was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
25 As the chiefs of the Quraish had a false pride of their superiority and exulted in their wealth and prosperity, the story of `Ad is being related to them about whom it was well known that they had been the mightiest people in Arabia.
Literally, Ahqaf (pl. of hiqf) are long dunes of sand less in height than mountains, but technically it is a name given to the southern-western part of the Arabian desert (Ar-Rub'ul-khali) which is wholly un-inhabited. Please see the map on page 672.
Ibn Ishaq says that the territory of 'Ad extended from 'Oman to Yaman, and the Qur'an tells us that they…
Read the full tafseer →