Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کی تباہی کے اسباب
جناب رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کرلیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد حضرت ہود پیغمبر ہیں ؑ والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو احقاف میں رہتے تھے احقاف جمع ہے حقف کی اور حقف کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضرموت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی احقاف کا بیان کیا گیا ہے قتادہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شہر تھا یہاں…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 25
چونکہ سرداران قریش اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے اور اپنی ثروت و مشیخت پر پھولے نہ سماتے تھے، اس لیے یہاں ان کو قوم عام کا قصہ سنایا جا رہا ہے۔ جس کے متعلق اگر قدیم زمانہ میں وہ اس سرزمین کی سب سے زیادہ طاقتور قوم تھی۔
احقاف حقف کی جمع ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں ریت کے لمبے لمبے ٹیلے جو بلندی میں پہاڑوں کی حد کو نہ پہنچے ہو۔ لیکن اصلاحاً یہ صحرا عرب (الربع الخالی) کے جنوبی مغربی حصے کا نام ہے جہاں آج کوئی آبادی نہیں ہے۔ نقشے میں اس کا مقام ملاحظہ ہو۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عاد کا علاقہ عمان سے یمن تک پھیلا ہوا تھا اور قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اس کا اصل وطن الاحقاف تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
خلاصہ تفسیر
اور آپ قوم عاد کے بھائی (یعنی ہود علیہ السلام) کا (ان سے) ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو جو کہ ایسے مقام پر رہتے تھے کہ وہاں ریگ کے مستطیل خمدار تو دے تھے (یہ مقام کی نشان دہی اس لئے کی گئی کہ دیکھنے والوں کے ذہن میں استحضار ہوجائے) اس (بات) پر (عذاب الٰہی سے) ڈرایا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرو (ورنہ تم پر عذاب نازل ہوگا) اور (یہ ایسی ضروری اور صحیح بات ہے کہ) ان (ہود علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے پیچھے (اسی مضمون کے متعلق) بہت سے ڈرانے والے (پیغمبر اب تک) گزر چکے ہیں (اور عجب نہیں کہ ہود ؑ نے ان سب کا متفق ہونا دعوت الی التوحید میں ان کے سامنے بیان بھی کیا ہو، پس…
Read the full tafseer →-4 آگے آیات 28-21 کا مضمون
آگے بالا جمال قوم عاد کی تکذیب اور ان کے انجام کا حوالہ ہے۔ مقصود اس حوالہ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا اور قریش کے متکبرین کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو وہ بھی اسی طرح کے انجام سے دوچار ہوں گے جس سے وہ دور چار ہوئے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
واذا کر اخا عاد ط اذا نذر قومہ بالاحقاف و قد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ الاتعبدو الا اللہ ط انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم 21
اخا عاد سے مراد حضرت ہود ؑ ہیں جو قوم عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم عاد ہی کے ایک فرد تھے اس وجہ سے ان کو عاد کا بھائی کہا۔ رسول کا اپنی…
Read the full tafseer →21۔ 1 احقاف حقف کی جمع ہے ریت کا بلند مستطیل ٹیلہ بعض نے اس کے معنی پہاڑ اور غار کے کیے ہیں یہ حضرت ہود ؑ کی قوم عاد اولی کے علاقے کا نام ہے جو حضرموت (یمن) کے قریب تھا کفار کہ کی تکذیب کے پیش نظر نبی ﷺ کی تسلی کے لیے گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
21۔ 2 یوم عظیم سے مراد قیامت کا دن ہے، جسے اس کی ہولناکیوں کی وجہ سے بجا طور پر بڑا دن کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →13: قرآن کریم میں اصل لفظ احقاف ہے۔ یہ حقف کی جمع ہے جو لمبے مگر خم دار ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں جس جگہ قوم عاد آباد تھی، وہاں اسی قسم کے ٹیلے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سرزمین کا نام ہی احقاف تھا اور یہ یمن کے علاقے میں واقع تھی، آج یہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو بھیجا گیا تھا، اور ان کا تعارف پیچھے سورة اعراف : 65 کے حاشیے میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
درس نمبر 239 ایک نظر میں
یہ سبق گزشتہ دو اسباق سے بالکل مختلف موضوع پر ہے۔ گزشتہ اسباق میں انسانی قلب و نظر کو جن زاویوں سے لیا گیا تھا اس سبق میں ان سے مختلف بالکل ایک نیا پہلو لیا گیا ہے اس سبق میں مشرکین مکہ کو وادی احقاف کی سیر کرائی جاتی ہے کہ یہ وادی اور دوسری جو تباہ ہوئیں وہ مکہ کے اردگرد واقع تھیں۔ اور یہ لوگ ان واقعات سے پوری طرح باخبر تھے جو قوم عاد اور ان کے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ انہوں نے بھی اپنے رسول سے وہی سلوک کیا تھا جو یہ حضرت نبی کریم ﷺ سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی اعتراضا کئے تھے جو یہ کر رہے تھے۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی آداب نبوت کے حدود…
Read the full tafseer →7 یعنی ہود (علیہ السلام) جو " عاد " کے قومی بھائی تھے۔
8 مؤلف " ارض القرآن "، " بلاد الاحقاف " کے تحت میں لکھتا ہے " یمامہ، عمان، بحرین، حضرموت اور مغربی یمن کے بیچ میں جو صحرائے اعظم " الدہنا۔ " یا " ربع خالی " کے نام سے واقع ہے گو وہ آبادی کے قابل نہیں، لیکن اس کے اطراف میں کہیں کہیں آبادی کے لائق تھوڑی تھوڑی زمین ہے خصوصاً اس حصہ میں جو حضرموت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے۔ گو اس وقت وہ بھی آباد نہیں تاہم عہد قدیم میں اسی حضرموت اور نجران کے درمیان حصہ میں " عادِارم " کا مشہور قبیلہ آباد تھا جس کو خدا نے اس کی نافرمانی کی پاداش میں نیست و نابود کردیا۔ "
9 یعنی ہود (علیہ السلام) سے پہلے اور…
Read the full tafseer →آیت 21 { وَاذْکُرْ اَخَا عَادٍط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ } ”اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی ہود علیہ السلام کا ‘ جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں“
جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی ساحلی علاقے کو پرانے زمانے میں ”احقاف“ کہا جاتا تھا جہاں قوم عاد آباد تھی ‘ اب یہ علاقہ لق و دق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
{ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ} ”اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے“
یعنی ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے۔ -۔ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے بارے میں قبل ازیں بھی کئی…
Read the full tafseer →33 یہاں قوم عاد کا ذکر اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ قریشی سرداروں سے بھی زیادہ مغرور، متکبر اور سرکش تھے۔ یہ قوم کفار مکہ کی نسبت قدوقامت، ڈیل ڈول اور جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی بہت بڑھ کر تھی۔
34 احقاف قوم عاد کا مسکن :۔ احقاف، حقف کی جمع ہے۔ بمعنی ریت کے بڑے بڑے میلوں میں پھیلے ہوئے ٹیلے۔ یہی علاقہ قوم عاد کا مسکن تھا۔ جو کسی زمانہ میں سرسبز اور شاداب علاقہ تھا۔ قوم عاد نے اسی جگہ زمین دوز مکان بنا رکھے تھے۔ یہ علاقہ جنوبی عرب میں حضرموت کے شمال میں واقع ہے۔ اور آج کل وہاں ریت ہی ریت کے ٹیلے ہیں جو سینکڑوں میل تک پھیلتے چلے گئے ہیں۔ اس علاقہ کو آج کل ربع خالی بھی کہتے ہیں۔ کوئی شخص اس…
Read the full tafseer →24۔ (آیت) ” اخاعاد “۔ یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر۔ قوم عاد اور مسکن عاد پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔ (آیت) ” الاحقاف “۔ احقاف کے لفظی معنی ریک کے مستطیل تودوں کے ہیں۔ عرب قدیم کے لوگ ایسے مقامات پر بستیوں اور آبادیوں سے ناآشنا نہ تھے۔ دہنہ عرب جنوب کے اس طویل علاقے کا نام ہے جو شرقا غربا عمان سے یمن تک اور شمالا جنوبا نجد سے حضرموت تک، 3 لاکھ مربع میل کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع خطہ کے مغربی حصہ کی زمین میں سرخ رنگ کی ریگ کی ہے۔ اور یہی علاقہ الاحقاف کہلاتا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
25۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ دعوت توحید کوئی نرالی اور انوکھی چیز تو ہے نہیں۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ترجمہ :۔ عاد کے بھائی (علیہ السلام) کا ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو جب وہ احقاف میں مقیم تھی ڈرایا (خبر دار کیا) (اذ) سے لیکر ٓخر تک (اخا عاد) سے بدل الاشتمال ہے، احقاف یمن میں ایک وادی ہے اسی میں ایک وادی ہے اسی میں ان کے مکانات تھے اور یقینا اس سے پہلے بھی ڈرانے والے یعنی رسول گذر چکے تھے اور اس کے بعد بھی یعنی ہود سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی اپنی قوموں کی طرف یہ کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور قدخلت جملہ معترضہ ہے، اگر تم غیر اللہ کی بندگ کرتے رہے تو مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، قوم نے جواب دیا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو…
Read the full tafseer →واذکر اخا عاد اذ انذر قومہ بالاحقاف وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ الا تعبدوا الا اللہ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم اور ذکر کیجئے عاد کے بھائی (ہود) کا جبکہ انہوں نے اپنی قوم (والوں) کو جو احقاف میں رہتی تھی ‘ ڈرایا اور ان سے پہلے بھی (اپنی اپنی امتوں کو) ڈرانے والے گذر گئے تھے اور ان کے بعد بھی گذرے (انہوں نے اس طرح ڈرایا) کہ اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا تمہارے متعلق خوف ہے۔
اَخَا عَادٍ یعنی حضرت ہود علیہ السلام۔
قَومَہٗ اپنی قوم کو ‘ یعنی عاد کو۔ ۃ
بِالْاَحْقَاف احقاف میں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : احقاف کا مقام عمان اور مہرہ کے درمیان تھا۔ مقاتل نے کہا :…
Read the full tafseer →اور آپ کفار مکہ کے سامنے حضرت ہود کا تذکرہ کیجیے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو دوزخ کی سختیوں سے ڈرایا یا یہ کہ احقاف میں یا شام میں ایک پہاڑ سے یا یہ کہ احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں وہاں یہ قوم آباد تھی یا یہ کہ یمن میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضرت ہود نے کھڑے ہو کر اپنی قوم کو ڈرایا۔ حالانکہ حضرت ہود سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے نبی گزر چکے ہیں۔ حضرت ہود نے ان سے فرمایا کہ اللہ کے علاوہ اور کسی کی وحدانیت کے مت قائل ہو اور یہ کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر سخت دن کا عذاب آئے گا۔
Read the full tafseer →(1) واذکرا اخاعاد :”اذکر“ ”ذکر“ سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنی قوم کے سامنے اس کا ذکر کرو، تاکہ انہیں نصیحت ہو اور اگر ”ذکر“ سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اسے یاد کرو، تاکہ تمہیں اس سے تسلی حاصل ہو۔ دونوں باتیں بیک وقت بھی مراد ہوسکتی ہیں، کیونکہ ”اذکر“ دونوں سے فعل امر ہے۔ قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد دنیا میں چند متکبر اقوام کا ذکر فرمایا، جن میں سے عاد کا ذکر کچھ تفصیل کے ساتھ اور دوسری اقوام کا حال آیت (27) (ولقد اھلکنا ماحولکم من القری) میں اجمال کے ساتھ بیان فرمایا۔ عاد کے بھائی سے مراد ہود ؑ ہیں، جیسا کہ فرمایا :(والی عاد اخاھم ھوداً (الاعراف : 65)”اور عاد کی طرف ان کے…
Read the full tafseer →ہود بن عبداللہ بن رباح (علیہ السلام) ہیں وہ ان کے نبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ان مشرکوں کو عاد کا قصہ یاد دلائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ کو حکم دیا اپنے دل میں حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کریں تاکہ اس کی اقتداء کریں اور آپ ﷺ کی قوم آپ کو جھٹلاتی ہے اس کے ذریعے آپ ﷺ پر یہ معاملہ آسان ہوجائے گا احقاف سے مراد عاد کا علاقہ ہے۔ احقاف سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں (1) یہ خلیل اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے وہ لوگ اپنی قوت کے باعث اہل زمین پر غالب آگئے احقاف کی جمع ہے اس سے مراد ریت کا لمبا ٹیلہ ہے جو ٹیڑھا ہو اور پہاڑ تک نہ پہنچا ہو، اس کی جمع حقاف احقاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1:۔ ابن ماجہ وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود (علیہ السلام) پر رحم فرمائے گا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ دو وادیاں لوگوں میں خیر کی ہیں وادی مکہ اور وادی ارم جو ہند میں ہے اور دو بڑی وادیاں ہیں لوگوں میں وادی احقاف اور وادی حضرموت جس کو وادی برھوت کہا جاتا ہے جس میں کافروں کی روحیں ڈالی جاتی ہیں۔ اور لوگوں میں بہترین کنوں زمزم ہے اور لوگوں میں سب سے بڑا کنواں برھوت ہے اور یہ اس وادی میں ہے جو حضرموت کے مقام پر ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ احقاف شام میں ایک…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ [ اور آپ یاد کریں ] اَخَا عَادٍ ۭ [ عاد کے بھائی (ہود) کو ] اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ [ جب انہوں نے خبردار کیا اپنی قوم کو ] بِالْاَحْقَافِ [ احقاف (کے علاقے ) میں ] وَقَدْ خَلَتِ [ حالانکہ گزر چکے تھے ] النُّذُرُ [خبردار کرنے ] مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ [ ان کے آگے (والے علاقے ) سے ] وَمِنْ خَلْفِهٖٓ [ اور ان کے پیچھے (والے علاقے ) سے ] اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم بندگی مت کرو (کسی کی) ] اِلَّا اللّٰهَ ۭ [ سوائے اللہ کے ] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ بیشک میں ڈرتا ہوں تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کے عذاب سے ]
ح ق: (ن) حقوفا ہرن کا ریت کے تودہ میں بیٹھنا ۔ حقف ، ج…
Read the full tafseer →قوم عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم کا انکار اور تکذیب، پھر ہلاکت اور تعذیب
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے اس میں قوم عاد کے کفر وعناد کا اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے تبلیغ کرنے کا پھر قوم عاد کے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے اس قوم کے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) تھے جن کو یہاں ﴿ اَخَا عَادٍ ﴾ کے عنوان سے ذکر ہے چونکہ حضرت ہود (علیہ السلام) عاد ہی کی قوم میں سے تھے اس لیے ﴿ اَخَا عَادٍ ﴾ فرمایا لفظ ﴿اَلاحْقَاف﴾ حِقْفٌ کی جمع ہے۔ قوم عاد کا رہنا سہنا اور بودو باش یمن میں تھی جس علاقہ میں یہ لوگ رہتے تھے وہاں ریت کے پہاڑ تھے اس لیے اسے احقاف سے تعبیر فرمایا ﴿حِقفُ﴾ اس پہاڑی کو کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
تسلی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم برتکذیب کفار ومجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر اخاعاد ....... الی ....... ماکانوا بہ یستھزء و ن “۔
ّ (ربط) سعادت وشقاوت کا ایک بنیادی ضابطہ اور قبول ایمان واعراض عن الحق پر مرتب ہونے والے ثمرات ونتائج کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے امم سابقہ کا حال بیان کرتے ہوئے کہ کسی طرح اللہ کے پیغمبر انکو ہدایت کی دعوت دیتے رہے بالآخر جب وہ اپنی بغاوت وسرکشی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب سے تباہ وبرباد کردیئے گئے فرمایا۔
اور یاد کرو عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) ۔ 1
حاشیہ۔ (پیغمبر چونکہ خود اپنی قوم میں مبعوث ہوئے اس بناء پر حضرت ہود (علیہ…
Read the full tafseer →19:۔ ” واذکر اخا عاد “ یہ تیسری تفصیلی نقلی دلیل ہے از ہود (علیہ السلام) مع تخویف دنیوی۔ ” الاحقاف “ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے ٹیلے کے ہیں۔ قوم عاد ریت کے ٹیلوں پر سکونت پذیر تھی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کا پیغام پہنچایا۔ اور اسے اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ قوم ہود سے پہلے اور اس کے بعد جتنے بھی اللہ کی طرف سے پیغمبر آئے سب نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” ان لا تعبدوا الا اللہ “ کہ اللہ کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو۔ اگر پیغام توحید کو ٹھکراؤ گے تو ایک بہت بڑے اور دردناک عذاب کا خطرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
حوامیم سبعہ کی اس آخر سورة میں بھی سابقہ سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت ہی کا تذکرہ ہے ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل اور ساتھ ساتھ شرک کا رد ہوا۔ عقیدہ توحید پر استقامت اور جزائے عمل کا بیان ہوا۔ پھر لوگوں کے دو گروہوں یعنی سعادتمند اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہوا ۔ فرمایا سعادتمند لوگ وہ ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے سامنے مناجات کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نیک انجام بھی بیا ن ہوا۔ پھر اللہ نے بدبخت انسانوں کا ذکر…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ اَخَا عَادٍ 0 ۭ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللہَ 0 ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ 21
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترکیب : راوہ الضمیر یعودالی مافی قولہ بماتعدناوقیل الی غیر مذکوریفسرہ بابعد عارضا منصوب علی الحال اوالتمیز العارض السحاب قالہ
تفسیر : اشقیاء کی بابت صرف اسی قدر بیان فرمایا تھا کہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاوے گا اب یہاں اس پورے بدلہ کو کسی قدر مشرح بیان فرماتا ہے۔ فقال و یوم یعرض الذین کفرو اعلی النار اور یاد کرو کہ جس دن منکر لوگ جہنم کے روبرو لائے جاویں گے تب ان سے کہا جاویگا اذھتبم طیباتکم کہ تم اپنے مزے دنیا میں حاصل کرچکے اور خوب برت چکے اب اپنے تکبر اور بدکاری کی وجہ سے ذلت کا عذاب اٹھائو۔ یعنی آخرت کو بھول گئے تھے دنیا کے عیش و آرام میں ایسے محو تھے کہ آخرت کے لیے کچھ بھی فکر نہ…
Read the full tafseer →وَاذْکُرْ اَخَاعَادٍ ط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّاللّٰہَ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الاحقاف : 21)
(اور عاد کے بھائی کا ذکر کیجیے جبکہ اس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا اور ایسے خبردار کرنے والے اس کے آگے اور پیچھے بھی گزر چکے تھے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور قریش کو تنبیہ
قومِ عاد کے انجام کے حوالے سے قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ کیونکہ ذکر صرف یہاں قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : حق کے ساتھ استکبار کرنے والے لوگوں میں قوم عاد بھی شامل ہے اس لیے ان کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے قرآن مجید نے انھیں ”…
Read the full tafseer →قوم عاد کا تذکرہ :
آیت 21 : وَاذْکُرْ اَخَاعَادٍ (اور تم قوم عاد کے بھائی کا ذکر کرو) اخاعاد سے ہود (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗٗ بِالْاَحْقَافِ (جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو ریت کے مستطیل گول ٹیلوں کے پاس ڈرایا) احقاف یہ جمع حقف کی ہے بمعنی ریت کا طویل کچھ ٹیڑھا ٹیلہ۔ یہ احقوقف الشیٔ سے لیا گیا ہے۔ جبکہ وہ ٹیڑھی ہوجائے۔
قولِ ابن عباس ؓ :
یہ احقاف عمان و مہرہ کے درمیان وادی کا نام ہے۔
وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ (اور ڈرانے والے ہو گزرے) النذر جمع نذیر کی ہے جو بمعنی منذر ہے۔ یا النذر بمعنی انذار یعنی ڈرانا ہے۔ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ (ان سے پہلے اور ان سے پیچھے) یہ…
Read the full tafseer →20 ۔” ویوم یعرض الذین کفروا علی النار “ پس ان کو کہا جائے گا۔ ” اذھبتم طیبا تکم فی حیاتکم الدنیا “ ابن کثیر ، ابن عامر، ابوجعفر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” اذھبتم “ استفہام کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر (رح) نے دوہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر استفہام کے خبر کی بناء پر پڑھا ہے اور یہ دونوں فصیح ہیں۔ اس لئے کہ عرب ڈانٹ کے لئے استفہام لاتے ہیں اور استفہام کو چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ پس تو کہے گا ” اذھبت ففعلت کذا ؟ “…” واستمتعتم بھا “ فرمایا کہ تم اپنی لذات لے گئے اور تم نے ان سے نفع اٹھالیا۔ ” فالیوم تجزون عذاب الھون “ یعنی وہ عذاب جس میں ذلت و رسوائی ہو۔ ” بما کنتم تستکبرون “ تم تکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
21۔ 25۔ قوم عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو فرمایا ہود (علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے شہ زور اور صاحب قوت تھے اس لئے ان کی شہ زوری کا غرور توڑنے کے لئے ان پر ہوا کا عذاب بھیجا اس قوم کا قصہ سورة الاعراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ایسی شہ زور قوم کا ہوا میں اڑنا اور پٹخنیاں کھا کھا کر ہلاک ہونا اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود (علیہ السلام) نے اپنی بت پرست قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے نوح (علیہ السلام) گزر چکا ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(واذکر) یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر (اخاعاد) ” قوم عاد کے بھائی کا “ اس سے مراد ہود ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی (اذانذرقومہ) ” جب انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ “ اور وہ تھے قوم عاد (بالاحقاف) یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ (احقاف) سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ (وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ) ” اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی ” یعنی حضرت ہود ( علیہ السلام) ان میں سے کوئی انوکھے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 51] پیغمبر ( علیہ السلام) اپنی قوم کے بھائی ہوتے ہیں :
سو " اخا عاد " کی تصریح سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر اپنی قوم ہی کے ایک فرد اور ان کے بھائی ہوتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ آپ (علیہ السلام) ان کے قومی اور وطنی بھائی تھے۔ حالانکہ قوم عاد ایک کافر اور بڑی سرکش متکبر اور باغی قوم تھی، مگر اس کے باوجود حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کا بھائی کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ نبی کو بھائی کہہ دینا نہ کوئی جرم ہے نہ گناہ۔ اور یہاں تو نبی کو قوم عاد کا بھائی فرمایا جا رہا ہے جو کہ ایک کافر قوم تھی۔ تو پھر حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کون سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
قوم عاد کا قصہ جو کہ نافرمان تھی
تشریح : قوم عاد کا قصہ ان لوگوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے جو اس زمانے میں نخوت غرور بڑائی لاپرواہی اور کفروشرک کی وجہ سے ناشکری اور نافرمانی پر اڑے رہتے تھے۔ ان لوگوں کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت عزت عقل و فہم اور صحت و تندرستی دے رکھی تھی مگر وہ ان تمام نعمتوں کے نشے میں بد مست اپنے نبی کی ہدایت پر چلنے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا نبی کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ اور جس عذاب کی اطلاع ان کا نبی ان کو دیتا تھا اس کو مذاق سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے پڑھے لکھے لوگ عقل و فہم رکھتے ہوئے بھی اللہ کو اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو بالکل فضول (نعوذ باللہ) اور بےکار بےمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیات 21 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ حضرت ہود (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجئے جو قوم عاد کے فرد تھے اور ان ہی کی طرف مبعوث ہوئے حالانکہ وہ لوگ ریتلے ٹیلوں کے درمیان رہتے تھے جہاں کسی نعمت کا پہنچناآسان نہ تھا مگر اللہ نے بذریعہ نبی ہدایت کا پیغام پہنچادیا اور ان سے پہلے بھی نبی گزرچکے تھے جن کے بارے کفار جانتے تھے اور یہ سلسلہ نبوت ہود (علیہ السلام) کے بعد بھی جاری رہا یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا تصور کفار کے پاس نہ ہو اور سب نے ایک ہی پیغام دیا وہی ہود (علیہ السلام) نے بھی پہنچایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی کبھی عبادت نہ کرو اور اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کی اطاعت سے باز آجاؤ ورنہ اگر…
Read the full tafseer →ف 2 توحید و نبوت کے دلائل پیش کرنے کے قوم عاد کا قصہ بیان فرمایا کہ اہل مکہ اس سے عبرت حاصل کریں (رازی) احقاف، حقف کی جمع ہے۔ ریت کے بلند اور مستطیل ٹیلے کو حقف کہتے ہیں۔ یہاں ” احقاف “ سے مراد یمن کے مشرق میں حضرموت کا وہ علاقہ ہے جو عرب کے صحرائے اعظم (ربع خالی) کا حصہ ہے حضرت ہود کی قوم عاد اسی علاقہ میں آباد تھی۔ لیکن آج وہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔
3 یعنی قیامت کے دن کا … پس یہاں عظیم یوم کی صفت ہے اور اس دن کی ہولناکی اور سختی کے پیش نظر اس کو بڑا دن کہا ہے بعض نے لکھا ہے کہ یہاں عظیم اصل میں عذاب کی صفت ہے اور بس کا مجرور ہونا یوم کے متصل آنے یعنی جوار کی وجہ سے ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →(46:21) واذکر۔ وائو عاطفہ اذکر امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ ذکر باب نصر ۔ مصدر۔ تو یاد کر ۔ تو ذکر کر۔ تو ذکر سنا۔
اخا عاد۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اذکر کا۔ تو یاد کر، قوم عاد کے بھائی (ہود) کو۔ یا تو ذکر سنا (ان کو یعنی کفار مکہ کو :۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے قوم عاد کے بھائی ہود کا۔
اذ انذر قومہ۔ اذ۔ جب ۔ ظرف زمان، انذر ماضی واحد مذکر، غائب انذار (افعال) مصدر۔ اس نے ڈرایا۔ قومہ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول انذر کا، جب اس نے اپنی قوم (والوں) کو ڈرایا۔
بالاحقاف۔ ای فی الاحقاف “ احقاف میں۔ یعنی جو احقاف میں رہتی تھی۔ الاحقاف حقف کی جمع ہے۔ حقف ریت کے اس ٹیلے کو کہتے ہیں جو مستطیل ہو اور مرتفع ہو لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–33
تشریح آیات نمبر 12 تا 28
قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے جو اپنی معمولی سردارریوں اور بہت تھوڑے مال دولت کے بوجود اتنے مغرور اور متکبر بن چکے تھے کہ ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات کے ذریعہ اہل مکہ کو قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم سبا کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے یہ بتایا ہے کہ جب ان کے پاس ان کے پغمبروں اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو انہوں نے غرور تکبر کا پیکر بن کر ان کی اطاعت سے انکار کیا اور اور اپنے کفر و شرک اور مال و دولت کی بدمستی میں لگے رہے۔ آخر کار ان کا اور ان کی ترقیات کا انجام یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
قوم عاد کا بدانجام۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ اور کافروں کو سمجھاؤ کہ قوم عاد کا کیا حال ہوا، جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو احقاف پر کھڑا ہوکر عذاب الٰہی سے ڈرایا احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود نے اپنی بت پرستی قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے بہت سے پیغمبر گذرچکے ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہ پوجنا، اگر تم میری نصیحت کو نہ مانوگے تو مجھ کو خوف ہے کہ تم لوگوں پر کوئی سخت عذاب آجائے گا قوم کے سرکش لوگوں نے جواب دیا کہ ہود اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ، ہم نے اپنے بتوں کی پوجانہ چھوڑیں گے ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[8] احقاف کے لغوی معنی ریت کے تودوں کے ہیں۔ الاحقاف سے مراد وہ ریگستان ہے جو عمان سے یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی قوم عاد کا اصل مسکن تھا۔ ظاہر بات ہے کہ جس دور میں قوم عاد اپنے عروج پر تھی اس زمانے میں یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب رہا ہوگا۔
[9] یہ سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہود (علیہ السلام) کوئی انوکھے خبردار کرنے والے نہیں تھے۔ ان سے پہلے بھی خبردار کرنے والے آ چکے تھے اور ان کے بعد بھی آتے رہے۔
Read the full tafseer →حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم
2: تذکیر یا یام اللہ کے اصول کے مطابق گزشتہ قوموں کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔ کہ کیونکر نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آیا ۔ حضرت ہود کا ذکر تھا ۔ کہ انہوں نے آکر اپنی قوم کو بتوں کی پرستش سے روکا ۔ اور کہا ۔ کہ اگر تم ایک اللہ کی عبادت نہیں کرو گے ۔ اس خالق ارض وسما کے سامنے نہیں جھکوگے ۔ اور اپنی بندگی اور عبودیت کا ثبوت نہیں دوگے ۔ تو مجھے ڈر ہے کہ اس یوم عظیم میں تمہارے لئے عذاب مقدر نہ ہو ۔ ایسا نہ ہو تم لوگ اپنی گمراہی کی وجہ سے اللہ کے غضب وخشم کو آزماؤ۔ انہوں نے بجائے اس کے کہ اس خیر و برکت کی تعلیم کو تسلیم کرلیتے ۔ اور عقیدہ توحید کو مان…
Read the full tafseer →(21) اور اے پیغمبر آپ قوم عاد کے بھائی یعنی ہود (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جیسا کہ اس نے اپنی قوم کو جو ایک ریگستانی علاقہ میں آباد تھی ڈرایا اور یقینا ہود سے پہلے بھی اور اس کے پیچھے بھی بہت سے ڈرانے والے گزر چکے ہیں ہود (علیہ السلام) نے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو میں تم پر ایک بڑے سخت دن کا آفت اور عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہود (علیہ السلام) جو قوم عاد کے بھائی برادر تھے ان کو عاد کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا جیسا کہ قرآن میں کئی جگہ ان کا ذکر گزر چکا ہے۔
یہ لوگ یمن کے علاقے میں یا عمان اور مہرہ کے درمیان ریگستان میں جہاں بڑے بڑے مستطیل ریت کے ٹیلے تھے وہاں آباد تھے ۔ ہود…
Read the full tafseer →ف 3۔ ان لوگوں کا مسکن بقول اکثر بلاد یمن میں تھا، اور وہاں ریگ کے تودے تھے، عرب کے لوگ تجارت کے لئے اکثر سفر کیا کرتے تو ان مقامات پر گزرتے تھے اور آدمیوں کا اور مواشی کا اس ہوا میں اڑے اڑے پھرنا در منثور میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور وادی کہتے ہیں نشیب زمین کو جہاں پانی جمع ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے کبھی اس کا ترجمہ میدان سے کیا جاتا ہے اور کبھی ندی نالہ سے۔
Read the full tafseer →ہود علیہ اسلام نے قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا :
21 ؎ { الاحقاف } حقف کی جمع اور حقف ریت یا مٹی کے مستطیل شکل کے تودہ کو کہا جاتا ہے یعنی وہ علاقہ جس میں اس طرح کے ٹیلے پائے جاتے تھے اور کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ عمان ، یمن ، نجد اور حضر موت کے درمیان اقع ہے اور الاحقاف کے نام سے موسوم ہے اور یہی علاقہ قوم عاد کا اصل مسکن رہا ہے اور اقوام عالم میں قوم عادہی کو جو شہرت اپنے زمانہ میں ملی تھی اس کا ذکر تاریخ کے صفحات میں آج تک پایا جاتا ہے۔ قوم عاد کی زیادتیوں اور مظالم کی داستان بھی بہت لمبی ہے اور جو دنیا میں انہوں نے کارہائے نمایاں کئے اور جس جس فن میں ترقی حاصل…
Read the full tafseer →{ 1} The reference here is to the towns of Thamud and the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) that were in the way of the people of Arabia while they travelled to Syria. The people of ` Ad were in Yemen, towards South from Makkah, while the towns of Thamud and those of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were towards North, hence the words, "around you"
Commentary
These verses are to remind the infidels of the severe punishments faced by earlier people who rejected the messengers sent to them. Special reference is made to ` Ad, the people of Sayyidna Hud (علیہ السلام) who has been described as their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
25 As the chiefs of the Quraish had a false pride of their superiority and exulted in their wealth and prosperity, the story of `Ad is being related to them about whom it was well known that they had been the mightiest people in Arabia.
Literally, Ahqaf (pl. of hiqf) are long dunes of sand less in height than mountains, but technically it is a name given to the southern-western part of the Arabian desert (Ar-Rub'ul-khali) which is wholly un-inhabited. Please see the map on page 672.
Ibn Ishaq says that the territory of 'Ad extended from 'Oman to Yaman, and the Qur'an tells us that they…
Read the full tafseer →