Explained with ayahs 17–20
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لئے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت ابن عباس بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لئے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر تو مسلمان ہوگئے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْقَاف 24
ذلت کا عذاب اس تکبر کی مناسبت سے ہے جو انہوں نے کیا۔ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ رسول پر ایمان لا کر غریب اور فقیر مومنوں کے گروہ میں شامل ہوجانا ان کی شان سے گری ہوئی بات ہے۔ وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ جس چیز کو چند غلاموں اور بےنوا انسانوں نے مانا ہے اسے ہم جیسے بڑے لوگ مان لیں گے تو ہماری عزت کو بٹہ لگ جائے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دے گا۔
Read the full tafseer →(آیت) اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا یعنی کفار کو خطاب کر کے یہ کہا جائے گا کہ تم نے اگر کچھ اچھے کام دنیا میں کئے تھے تو ان کا بدلہ بھی تمہیں دنیوی نعمتوں اور عیش و عشرت کی صورت میں دیا جا چکا ہے اب آخرت میں تمہارا کچھ حصہ باقی نہیں رہا۔ یہ خطاب کفار کو ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے نیک اعمال جو ایمان نہ لانے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک مقبول نہیں آخرت میں تو ان کی کوئی قیمت نہیں مگر دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کا بدلہ اس کو دیدیتے ہیں۔ کفار فجار کو مال و دولت اور عزت وجاہت وغیرہ جو دنیا میں ملتا ہے وہ ان کے نیک اعمال، سخاوت، ہمدردی، سچائی وغیرہ کا بدلہ ہوتا ہے۔ مؤمنین کے…
Read the full tafseer →ویوم یعرض الذین کفروا علی النار ط ادھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا و استمتعتم بھا ج فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون 20
اوپر ولکل درجت مما عملوا میں اگرچہ اجمالاً دونوں گروہوں کے نتائج اعمال کا ذکر ہوچکا ہے لیکن یہاں مخاطب خاص طور پر متکبرین قریش ہیں اس وجہ سے ان کے انجام کی وضاحت خاص طور پر فرمائی ارشاد ہوا کہ اس دن کا خیال کرو جس دن یہ متکبرین جہنم کے سامنے حاضر کئے جائیں گے اور ان سے ہا جائے گا کہ تمہارے حصہ میں جو نعمتیں مقدر تھیں وہ تم دنیا میں برت چکے۔ اب تمہارے لئے صرف ذلت کا عذاب ہے اس لئے کہ تم بلا کسی حق کے خدا کی زمین میں تکبر اور اس کے…
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کافروں کی آنکھوں سے پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ دیکھ رہے یا اس کے قریب ہوں گے بعض نے یعرضون کے معنی یعذبون کے کیے ہیں اور بعض کہتے ہیں کلام میں قلب ہے مطلب ہے جب آگ ان پر پیش کی جائے گی تعرض النار علیھم (فتح القدیر)
20۔ 2 طیبات سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان ذوق وشوق سے کھاتے پیتے اور استعمال کرتے اور لذت و فرحت محسوس کرتے لیکن آخرت کی فکر کے ساتھ ان کا استعمال ہو تو بات اور ہے جیسے مومن کرتا ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ احکام الہی کی اطاعت کر کے شکر الہی کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے لیکن فکر آخرت سے بےنیازی کے ساتھ ان کا استعمال انسان کو سرکش اور باغی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
12: یعنی اگر تم نے دنیا میں کچھ اچھے کام کیے بھی تھے تو ہم نے دنیا ہی میں ان کا بدلہ عیش و عشرت کی شکل میں تمہیں دے دیا، اور تم نے اس کے مزے اڑا کر اپنا حصہ دنیا ہی میں لے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
والدین مومن ہیں اور لڑکا نافرمان ہے۔ وہ سب سے پہلے ان کی نیک روش کا انکار کرتا ہے۔ وہ نہایت ہی کرخت ، جارح اور قابل نفرت انداز میں ان سے مخاطب ہوتا ہے۔
اف لکما (46 : 17) “ اف ، تنگ کردیا تم نے ” اور اس کے بعد پورے دین کی بنیادی کا انکار کردیتا ہے یعنی آخرت کا ۔ اور ان الفاظ میں :
اتعدنی ان اخرج وقد خلت القرون من قبلی ( 46 : 17) “ کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جاؤں گا ، حالانکہ مجھ سے پہلے نسلیں گزر چکی ہیں ”۔ یعنی وہ چلے گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی تو واپس نہیں آیا۔ حالانکہ قیامت کا تو وقت طے شدہ ہے اور لوگوں کا اٹھایا جانا اس طرح ہوگا کہ سب کو اکٹھا اٹھایا…
Read the full tafseer →5 کافر کے کسی نیک کام میں ایمان کی روح نہیں ہوتی۔ محض صورت اور ڈھانچہ نیکی کا ہوتا ہے۔ ایسی فانی نیکیوں کا اجر بھی فانی ہے جو اسی زندگی میں مال، اولاد، حکومت، تندرستی، عزت و شہرت وغیرہ کی شکل میں مل جاتا ہے۔ اس کو فرمایا کہ تم اپنی صوری نیکیوں کے مزے دنیا میں لے چکے اور وہاں کی لذتوں سے تمتع کرچکے۔ جو عیش و آرام ایمان لانے کی تقدیر پر آخرت میں ملتا، گویا اس کی جگہ بھی دنیا میں مزے اڑا لیے۔ اب یہاں کے عیش میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جن لوگوں نے آخرت نہ چاہی فقط دنیا ہی چاہی ان کی نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں مل چکا۔ "
6 یعنی آج تمہاری جھوٹی شیخی اور نافرمانیوں کی سزا…
Read the full tafseer →آیت 20 { وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ } ”اور جس دن یہ کافر پیش کیے جائیں گے آگ پر۔“
{ اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا } ”اُس وقت ان سے کہا جائے گا : تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے تم نے خوب فائدہ اٹھا لیا۔“
تم دنیا میں خوب عیش کرچکے ہو ‘ حلال و حرام کی تمیز سے بالاتر ہو کر تم نے وہاں بہت مزے اڑائے ہیں۔
{ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ } ”تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس تکبر…
Read the full tafseer →31 کافروں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے :۔ کافروں اور آخرت کے منکروں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص رفاہ عامہ کے لیے کوئی ہسپتال یا اس کا کوئی کمرہ بنواتا ہے۔ تو اس سے اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کی سخاوت کی شہرت ہو اور لوگ اس کو اچھے لفظوں میں یاد کریں۔ تو یہ بدلہ اسے دنیا میں مل جاتا ہے۔ اس کے نام کا کتبہ ہسپتال کے کمرہ کے باہر لگا دیا جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ کسی دوسرے کی طرف سے اخبارات و رسائل میں اشتہار یا خبر بھی شائع کرا دی جاتی ہے اس طرح اسے وہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے جس کے لیے اس نے یہ اچھا کام کیا تھا۔ غرضیکہ ایسے کافروں…
Read the full tafseer →22۔ (یہاں تک کہ ان میں منہمک ومستغرق ہو کر اپنے انجام اور اپنے خالق کو بھی بالکل بھلا بیٹھے تھے) (آیت) ” واستمتعتم “۔ استمتاع سے یہاں مطلق استمتاع لذات مراد نہیں کہ وہ ہرگز ممنوع یا مذموم نہیں۔ بلکہ صرف وہ استمتاع لذات مراد ہے جو آخرت فراموشی اور خدا فراموشی کی طرف لے جائے اور جس میں حلال و حرام کا کوئی امتیاز ہی نہ باقی رہ جائے۔ (آیت) ” اذھبتم ...... الدنیا “۔ یعنی اس طرح اوندھے منہ تم ان دنیوی ومادی لذتوں پر جھکے اور گرے کہ اب عالم آخرت میں عیش سرمدی و راحت ابدی سے لطف اٹھانے کی اپنے میں صلاحیت ہی باقی نہ رکھی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے دلالت زہد پر نکلتی ہے نیز اس طرف اشارہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً لفظ وصیت خاص تاکیدی حکم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور احسان و حسن دونوں حسن سلوک کے معنی میں ہیں جس میں خدمت و اطاعت بھی داخ ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔
مذکورہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بناء پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لئے بہ نسبت باپ کے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ، بخاری، مسلم، ابودائود ترمذی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے، ضمناً…
Read the full tafseer →ویوم یعرض الذین کفروا علی النار اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون اور جس روز کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے اور انکو خوب برت چکے ‘ سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی ‘ اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے۔
وَیَوْمَ یُعْرَضُ یعنی جس دن کافروں کو آگ کا عذاب دیا جائے گا۔ بطور مبالغہ جملہ کی ساخت الٹ دی گئی۔ کافروں کی آگ پر پیشی ہوگی ‘ یعنی کافروں کے سامنے آگ لائی جائے گی۔
طَیِّبٰتِکُمْ…
Read the full tafseer →اور دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے جب کفار دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیوں کا ثواب یعنی لذت دنیا میں حاصل کرچکے اور ان نعمتوں سے خوب فائدہ حاصل کرچکے تو آج تمہیں سخت ترین عذاب دیا جائے گا اس وجہ سے کہ تم ایمان لانے سے ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم دنیا میں کفر و گناہ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(1) ویوم یعرض الذین کفروا علی النار : پچھلی آیات سے اس کا ربط دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والے قیامت کے منکر کے انجام کے ذکر کے بعد تمام کفار کا انجام بیان فرمایا۔ دو سرا یہ کہ پچھلی آیت میں ذکرہوا کہ مومن ہوں یا کافر سب کو ان کے اعمال کے مطابق جزا ملے گی اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا، تو اب اس سوال کا جواب دیا کہ کفار دنیا میں جو نیکیاں کرتے رہے ان کا کیا بنے گا ؟ کم از کم ان کا بدلا تو ضرور ملنا چاہیے، اگر انہیں ان کی جزا نہ دی گئی تو یہ ظلم ہے۔ فرمایا اس وقت کو یاد کرو جب وہ لوگ جنہوں نے حق قبول کرنے سے انکار کیا، آگ پر پیش کئے جائیں گے۔
(2) اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم…
Read the full tafseer →اے محمد ﷺ انہیں یاد دلائیے جس روز انہیں پیش کیا جائے گا۔ یعنی جہنم سے پردہ ہٹایا جائے گا انہیں آگ کے قریب کیا جائے گا اور وہ اس کی طرف دیکھیں گے۔ یعنی انہیں کہا جائے گا قول مضمر ہے۔ حضرت حسن بصری، نصر ابو العالیہ، یعقوب، اور ابن کثیر نے وہ ہمزہ مخففہ کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ بغیر مد کے جملہ خبر یہ کی صورت میں پڑھا ہے یہ سب فصیح لغتیں ہیں۔ اس کا معنی شرمندہ ہونا ہے عرب استفہام کے ساتھ اور استفہام کے بغیر شرمند کرتے ہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
ابو عبید نے استفہام کے ترک کو اختیار کیا ہے کیونکہ آئمہ سبعہ میں سے یہ اکثر کی قرأت ہے یعنی نافع، عاصم، ابو عمرو، حمزہ اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن مردویہ (رح) نے حفص بن ابی العاص (رح) سے روایت کیا کہ ہم حضرت عمر ؓ کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” ویوم یعرض الذین کفروا علی النار “ (اور جس دن کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے )
2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) والحاکم (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے جابر بن عبداللہ ؓ کے ہاتھ میں کچھ درہم دیکھے تو فرمایا یہ درہم کیسے ہیں ؟ انہوں نے…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يُعْرَضُ [ اور جس دن پیش کیے جائیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] عَلَي النَّارِ ۭ [ آگ پر ] اَذْهَبْتُمْ [ (تو کہا جائے گا ) تم لوگ لے گئے ] طَيِّبٰتِكُمْ [ اپنی پاکیزہ (چیزوں) کو ] فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا [ اپنی دنیوی زندگی میں ] وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ۚ [ اور تم لوگوں نے فائدہ اٹھایا ان سے ] فَالْيَوْمَ تُجْـزَوْنَ [ پس آج تم لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا ] عَذَابَ الْهُوْنِ [ ذلت کے عذاب کا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَسْـتَكْبِرُوْنَ [ تم لوگ بڑے بنے پھرتے تھے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَبِمَا [ اور بسبب اس کے…
Read the full tafseer →کافروں سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی لذت کی چیزیں دنیا میں ختم کردیں، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا
اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ قیامت کے دن جب کافروں کو آگ پر پیش کیا جائے گا یعنی دوزخ میں داخل کرنے کے لیے آگ کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب تمہارے لیے عذاب ہی عذاب ہے تمہیں یہاں آنے کا یقین نہیں تھا دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے، دنیا ہی کے لیے جئے، اسی کے لیے مرے، لذت کی چیزوں کے پیچھے پڑے، انہی کو سب کچھ سمجھا، حلال سے حرام سے نفس کی ہر لذت پوری کی، اب تمہارے لیے لذت کی چیزوں میں سے کچھ نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ایمان کی دعوت دیتے تھے اور قیامت پر ایمان لانے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ،
اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →18:۔ ” ویوم یعرض۔ الایۃ “ تخویف اخروی۔ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین کو دوزخ میں ڈالا جائیگا تو ان سے کہا جائیگا کہ تم عیش و عشرت کی تمام لذتوں سے دنیا میں لطف اندوز ہوچکے ہو اور احکام الٰہیہ سے باغی ہو کر ان سے پورا پورا فائدہ اٹھا چکے ہو۔ اس لیے اب آخرت میں تمہارے لیے کوئی راحت و لذت نہیں۔ دنیا میں تم نے قبول حق سے استکبار کیا اور محض وساوس شیطانیہ اور شبہات واہیہ کے درپے ہو کر توحید کو ٹھکرایا اور خدا کی نافرمانیوں اور فسق و فجور پر کمر بستہ رہے۔ اس لیے آج تمہیں ان بد اعمالیوں کا بدلہ ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب کی شکل میں دیا جائیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے والدین سے متعلق دیئے گئے تاکیدی حکم کا ذکر کیا ، اس اعتبار سے انسانوں کو دو قسمیں بن جاتی ہیں ، یعنی سعادت مند اور بدبخت ، گزشتہ درس میں سعادت مند لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہیں اور سا تھ ساتھ انسانوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتے ہیں ، حقوق العباد میں اولین حق والدین کا ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ، وہ لوگ والدین کی خدمت کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عر ض کرتے ہیں کہ وہ اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر یہ ادا کرنے کی توفیق بخشے اور یہ کہ وہ نیک اعمال انجام دے سکیں ۔ وہ…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَي النَّارِ 0 ۭ اَذْہَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا 0 ۚ فَالْيَوْمَ تُجْـزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْـتَكْبِرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ 20 ۧ
يوم
اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ،
( ی و م ) الیوم
( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترکیب : راوہ الضمیر یعودالی مافی قولہ بماتعدناوقیل الی غیر مذکوریفسرہ بابعد عارضا منصوب علی الحال اوالتمیز العارض السحاب قالہ
تفسیر : اشقیاء کی بابت صرف اسی قدر بیان فرمایا تھا کہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاوے گا اب یہاں اس پورے بدلہ کو کسی قدر مشرح بیان فرماتا ہے۔ فقال و یوم یعرض الذین کفرو اعلی النار اور یاد کرو کہ جس دن منکر لوگ جہنم کے روبرو لائے جاویں گے تب ان سے کہا جاویگا اذھتبم طیباتکم کہ تم اپنے مزے دنیا میں حاصل کرچکے اور خوب برت چکے اب اپنے تکبر اور بدکاری کی وجہ سے ذلت کا عذاب اٹھائو۔ یعنی آخرت کو بھول گئے تھے دنیا کے عیش و آرام میں ایسے محو تھے کہ آخرت کے لیے کچھ بھی فکر نہ…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ ط اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا وَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَـکْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ ۔ (الاحقاف : 20)
(جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جہنم کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور تم ان کا لطف اٹھا چکے، آج تمہیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا بسبب اس کے جو تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے رہے ہو، اور اس سبب سے جو تم نافرمانی کرتے رہے ہو۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کا انکار اور والدین کی نافرمانی وہی شخص کرتا ہے جو آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ اس لیے یہاں اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر صورت لوگوں کو زندہ کرے گا اور ان سے حساب و کتاب لے گا۔ نیک لوگ اپنے عقیدہ اور عمل کی جزا پائیں گے۔ برے لوگ اپنے برے عقیدہ اور عمل کے مطابق سزا سے دو چار ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو جب جہنم کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اس سے پہلے دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتوں سے لذّت یاب ہوچکے اب تمہارے لیے اذّیت اور ذلّت ناک عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ تم نے دنیا میں بلادلیل حق کے ساتھ تکبر کا رویہ…
Read the full tafseer →کفار کی آگ پر پیشی سزا کے لئے :
آیت 20 : وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ (اور جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے) ان کو آگ پر پیش کرنا تعذیب و سزا کے لئے ہوگا۔ عرب کہتے ہیں۔ عرض بنو فلان علی السیف۔ فلان قتل کردیئے گئے۔ ایک قول یہ ہے کہ عرض النار کا قول اس سے لیا گیا جیسے کہتے ہیں۔ عرضت الناقۃ علی الحوض اس سے مقصد حوض کو اس کے سامنے کرنا مراد ہوتا ہے۔ پس ان کو پلٹا جائے گا۔ اَذْہَبْتُمْ (کیا تم حاصل کرچکے) ان کو کہا جائے گا کیا تم حاصل کرچکے۔ یہ ناصب ظرف ہے۔
طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا (لذت کی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں) یعنی جو تمہارے لئے طیبات میں سے…
Read the full tafseer →تفسیر :
19 ۔ ” ولکل درجات مما عملوا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام کی طرف سبقت کرنے والے مراد ہیں۔ پس یہ ان سے افضل ہے جو ان سے بعد ایمان لائے۔ اگرچہ ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کی وجہ سے فضائل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے اور کہا گیا ہے کہ ” ولکل “ یعنی مومنین و کافروں کے دونوں فریقوں کے لئے درجات یعنی اللہ کے ہاں قیامت کے دن منازل و مراتب ہیں۔ ان کے اعمال کی وجہ سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کے بدلہ میں ان کو جزا دیں گے۔ ابن زید حمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ بیان ہے کہ جہنمیوں کے درجات انتہائی نیچے تک ہوں گے…
Read the full tafseer →20۔ حدیث اور تفسیر کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر (علیہ السلام) کا اس آیت پر پورا عمل تھا خود بھی آپ تکلف اور راحت کے کھانے پینے کے سامان سے پرہیز کرتے تھے اوروں کو بھی آپ اسی قسم کی نصیحت کیا کرتے تھے حدیث کی کتابوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضرت عمر (علیہ السلام) کو دنیا کی راحت کی چیزوں سے اس قدر پرہیز نہیں تھا۔ چناچہ صحیحین 1 ؎ میں خود حضرت عمر ؓ سے جو روایت ہے اس میں حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کیا تھا کہ حضرت فارس اور روم کے لوگ باوجود مشرک ہونے کے چین کرتے ہیں اور آپ پر اور آپ کی امت پر تنگ دستی غالب ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے کچھ اپنی امت کی فارغ البالی کی دعا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتا ہے، جب ان کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا اور زجرو تو بیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا : (اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا) ” تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے۔ “ کیونکہ تم دنیا پر مطمئن ہوگئے، اس کی لذتوں کے دھوکے میں مبتلا ہوگئے، اس کی شہوات کو پسند کرلیا اور اس کی طیبات نے تمہیں آخرت کی کوششوں سے غافل کردیا (واستمتعتم بھا) ” اور ان سے متمتع ہوچکے۔ “ جیسے چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے ہوئے مویشی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی تمہاری آخرت میں سے تمہارا حصہ ہے (فالیوم تجزون عذاب الھون) یعنی آج تمہیں سخت عذاب دیا جائے گا جو تمہیں رسوا کرکے رکھ دے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–35
قول باری ہے (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ تم اپنی لذت کی سی چیزیں دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب لطف اٹھا چکے) زہری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے لئے کشادگی اور وسعت پیدا فرمادے، اس نے آخر فارس اور روم کے لوگوں کے لئے زندگی کی کشائش اور وسعت پیدا کررکھی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ “
حضور ﷺ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی بھی تمہیں شک ہے۔ ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں فوری طور پر جو کچھ دینا تھا دے دیا گیا تھا۔
ہمیں عبداللہ بن محمد…
Read the full tafseer →[ 49] کافروں اور منکروں کیلئے دائمی محرومی کا اعلان، والعیاذ باللہ :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز کافروں اور منکروں کے لیے اندی اور دائمی محرومی کا اعلان کردیا جائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ پس مومن کو چاہے کہ وہ دنیاوی عیش و عشرت میں افراط اور زیادتی سے کام نہ لے بلکہ سادگی اور پاکیزگی کو اپنا شعار بنائے۔ کہ یہ دنیا تعیش کی جگہ نہیں، بلکہ یہ دراصل آخرت کے لئے کمائی اور تیاری کرنے کی جگہ اور ایک مسافر خانہ ہے۔ روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت جابر ؓ کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھا تو پوچھا کہ یہ درہم کیسا ہے ؟ تو انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ بچوں کیلئے گوشت خریدنے جا رہا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
تمام انبیاء نے آسمانی دین کی ہی تعلیم دی ہے
تشریح : آیت گیارہ میں تو کفار کی حجت بازی کا ذکر کیا گیا ہے اور جواب دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم ؓ کے زمانے سے لے کر ہمیشہ انسان کی اصلاح کیلئے رسول اور آسمانی کتابیں آتی رہی ہیں اور مخالفت کرنے والے بھی آتے رہے ہیں اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اس طرح قرآن پاک جو کہ تمام پہلے نازل ہونے والی کتابوں یعنی تو رات، انجیل اور زبور کے علاوہ تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اور ان سب کو سچی کتابیں بھی کہتا ہے کچھ باتیں تو ان کتابوں کے مطابق ہیں اور کچھ باتوں کا قوانین اور شریعت میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک بات کہ ' اللہ ایک ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار ومعارف۔
اور اپنی بڑائی کا غرور اس بات میں مبتلا کردیتا ہے کہ انسان اپنی پسند ہی کو معیار قرار دے دیتا ہے جس طرح ان کفار کا حال ہے اگر دین اسلام حق ہوتا اور اس میں بھلائی ہوتی تو ہم اس کو قبول کرتے ان غریب لوگوں کو ہم سے پہلے ایمان لانے کا موقع نہ ملتا یعنی جیسے ہم دنیا کمانے میں ان سے بہتر ہیں گویا ہر بہتری ہمارے ہی لیے ہے اور جب خود انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ یہ قدیمی مضامین اور پرانی باتوں کی طرف ایک جھوٹ ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی حق ہی نازل ہوا تھا مثلا تورات کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تو قوم موسیٰ کے لیے ہدایت اور ہزار رحمتوں کا باعث تھی کہ آخرت…
Read the full tafseer →ف 1 استکبار سے مراد ایمان سے انکار فسق سے دوسرے گناہ مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ ذلت کے عذاب کے دو سبب ہونگے دنیا میں ناحق اکڑنا اور غرور گھمنڈ میں پھنس کر حق کے ماننے سے انکار اور دوسرا فسق یعنی معاصی اور یہ دونوں باتیں کفار کا شیوہ ہیں مسلمان کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ واضح رہے کہ بہت سی احادیث میں عیش کو شی اور تہمت پرستی کی مذمت کرے۔ اسی کے پیش نظر حضرت عمر زہد کی زندی بسر کرتے اور دوسروں کو بھی زاہد اختیار کرنے کی ترغیب دیتے اور اس اندیشہ کا اظہار کرتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی زندگی کی لذات میں مستغرق ہو کر اس آیت کے مصداق بن جائیں ورنہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بن کر دنیا کا…
Read the full tafseer →(46:20) ویوم : وائو عاطفہ ہے یوم مفعول فعل محذوف کا۔ ای اذکر الیوم اور یاد کرو اس دن کو جس دن کہ :۔ یا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
یعرض الذین کفروا علی النار۔ یعرض مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ عرض (باب ضرب) مصدر (جمع کے معنی میں) پیش کئے جائیں گے۔
اذھبتم طیبتکم : اس سے قبل جملہ قیل لہم محذوف ہے۔ (ان سے کہا جائے گا۔ طیبتکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری لذت کی چیزیں) تمہاری نعمتیں تم لے چکے ہو اپنی نعمتوں کا لطف، اس معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
فلا تعضلوہن لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن (4:19) تم ان کو اپنے گھروں میں نہ روک رکھو کہ اس طرح مہر وغیرہ کی کچھ رقم ان سے واپس لے لو۔
استمتعتم۔ ماضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
تشریح ـ: آیات نمبر 13 تا 20
قرآن کریم میں کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت و عبادت اور فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے ہر شخص کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک ، حسن معاملہ ، ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت و اطاعت کا حکم بھی دیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے بعد دنیا میں سب سے بڑا حق ماں اور باپ کا ہے۔ بلکہ ہر طرح کی ذہنی اذیتوں اور رنج و غم سے دور رہنے کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اپنے ماں بات کے ساتھ محبت و اطاعت کا حق ادا کردیاجائے۔ زیر مطالعہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک آدمی اللہ کے ایک ہونے کا زبان سے اقرار اور دل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ نیک وبد ہر فرقے کے لیے جنت دوزخ میں درجے مقرر ہیں ہر شخص کو بروز قیامت خواہ مسلمان ہو خواہ کافر بحسب اعمال درجے اور مرتبے ملیں گے مسلمان کو درجات، جنت ، کافر کو درکا دوزخ کہ ان کے اعمال کو کم نہ کرے اور پورا پورا ہر شخص کو بدلہ ملے کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا کہ نیکی کا بدلہ گھٹا دیاجائے یابدی کی سزا بڑھادی جائے آگے فرمایا کہ اب تو یہ کافر لوگ دوبارہ زندہ ہونے اور اسزا جزا کو کہانیاں بتلاتے ہیں اور رسول و قرآن کو جھٹلاتے ہیں لیکن قیامت کے دن سزا کے طور پر دوزخ میں جھونکے جانے کے لیے جب ان کو دوزخ کے کنارہ پر ٹھہرایاجائے گا تو اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[7] کم سے کم تیس مہینے اس طرح پر ہوتے ہیں کہ سورة بقرہ کی آیت 233 صفحہ 70 اور سورة لقمان کی آیت 14 صفحہ 970 میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال فرمائی ہے۔ لہذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہوئی۔
Read the full tafseer →ف 1: جہنم والوں سے کہا جائے گا ۔ کہ تم نے دنیا کو دین پر مقدم جانا ۔ اور منافع عاجلہ کو اخروی ثواب واجر پر ترجیح دی ۔ تم دنیا میں تمام مسرتوں سے یاد کام ہوچکے ۔ اس لئے آج تمہارے لئے اور رسوائی کا عذاب ہے ۔ اور یہ اس تکبر کا عوض ہے ۔ جو تم میں رکھا ! اور اس فسق کی پاداش ہے ۔ جس کا تم نے ارتکاب کیا ۔ حضرت ہود ایسی قوم میں تشریف لائے ۔ جو ریگستانوں میں رہتی تھی ۔ اس مناسبت سے ان کی جگہوں کو اخفاف کے نام سے کیا گیا ۔ جس کے معنے ریت کے تو وہ کسے ہوتے ہیں ۔ ان کی بھی انبیاء کی طرح بھی تھی ۔ کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو ۔ اور صرف ایک معبود کو اپنا پروردگار قرار دو ۔
Read the full tafseer →(20) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے آگ کے روبروحاضر کئے جائیں گے کا جائے گا کہ تم اپنی دنیوی زندگی میں اپنے حصے کی نعمتیں حاصل کرچکے اور ان سے خوب فائدہ اٹھا چکے پس آج تم کو اس تکبر کے باعث جو تم ناحق زمین میں کیا کرتے تھے اور ان نافرمانیوں کے سبب جو تم کرتے رہتے تھے ذلیل و خوار کرنے والے عذاب کی سزا اور بدلا دیا جائے گا۔ یعنی جس دن اہل نار آگ کے روبرو لائے جائیں گے تو ان سے منجملہ اور باتوں کے یہ بھی کہا جائے گا کہ تم لذت کی چیزیں اور اپنے حصے کی نعمتیں دنیا میں حاصل کرچکے اور ان سے خوب فائدہ اٹھا چکے اور خوب برت چکے تو آج تم کو ذلیل کرنے والا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 1۔ فی الارض کی قید اس اشارہ کے لئے کہ ارض پر رہ کر تکبر کرنا اور بھی زیادہ مذموم ہے، اور بغیر الحق قید واقعی ہے کیونکہ مخلوق سے صدور تکبر کا ہمیشہ بغیر الحق ہی ہوگا، اور استکبار سے مراد استکبار عن الایمان ہے کہ عذاب خلود اسی کے خواص سے ہے۔
2۔ اس میں تمام کفریات و فسقیات و وجوہ ظلم داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →20 ؎ ایک ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے جس حقیقت حال سے گزرنا پڑتا ہے سب کو معلوم ہے اور پھر اس کی وضاحت خود بخود ہوجاتی ہے کہ آیا ملزم مجرم بھی ہیں یا نہیں اگر وہ مجرم قرار پاتا ہے تو اس وقت اس کی سزا شروع ہوتی ہے اور اس کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں الزام مجھ پر لگا تھا اور اب وہ الزام نہیں بلکہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ مجرم تھا اور پھر جو سزا سنائی جاتی ہے وہ بہرحال اس کو پوا کرنا پڑتی ہے کفار پر جب یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ فی الواقع وہ کفر کے مرتکب ہوئے تھے تو ان کو آگ پر لایا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے سا جیل خانہ کو دیکھ لیں تو ان سے کہا جائے گا کہ تم نے اس دن کے آنے ہی سے انکار کیا تھا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا ("You have consumed your good things in your worldly life - 46:20), It means that the infidels will be told that they had already been awarded delights, luxuries and enjoyment in the worldly life for whatever good deeds they had done there; now there is nothing left for them in the Hereafter. It is known from this verse that the good deeds of disbelievers do not have any worth in the Hereafter due to lack of belief or faith, but Allah Ta’ ala compensates them in this world. The riches and wealth, honour and dignity, etc., which are…
Read the full tafseer →24 "A torment of disgrace", because of the arrogance that they showed. They thought they were big people and it was below their dignity to believe in the Messenger and join the group of the poor and indigent believers. They were involved in the false pride that if the big people like them would believe in a thing which a few slaves and poor men had believed in, they would incur infamy. That is why AIIah will disgrace them in the Hereafter and will destroy their pride.
Read the full tafseer →