Al-Jaathiya 45:34

Al-Jaathiya · from ayah 34

45:34

وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۟وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰٮكُمۡ كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰذَا وَمَاۡوٰٮكُمُ النَّارُ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا۔ اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it will be said, "Today We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours, and your refuge is the Fire, and for you there are no helpers.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:34

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ "آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا۔ اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان سے کہا جائے گا کہ : آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم نے یہ بات بھلا ڈالی تھی کہ تمہیں اپنے اس دن کا سامنا کرنا ہوگا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے، اور تمہیں کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑدیں گے جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے اور تمہارا ٹھکانا آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اُن سے) کہا جائے گا: آج ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جِس طرح تم نے اپنے اِس دن کی پیشی کو بھلا دیا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلادیا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں کہا جائے گا : آج ہم تمہیں ایسے ہی بھلا دیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار بھی نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تم کو نظر انداز کریں گے جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں بننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں جیسا کہ تم نے (دنیا میں) بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی (حاضری و) پیشی کو اب تمہارا ٹھکانا (دوزخ کی دہکتی بھڑکتی) یہ آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (ان سے) کہا جائے گا کہ آج تم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جیسا کہ تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں اسی طرح نظر انداز کردیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو نظر انداز کررکھا تھا اور تمہارا ٹھکانہ اب آگ ہے اور تمہارے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تم کو بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and it will be said: “We will forget you today as you forgot the meeting of this Day of yours. The Fire shall now be your abode, and you shall have none to come to your aid.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be said, :Today We will forget you, as you forgot facing this your day, and your abode is the Fire, and for you there are no helpers at all.

— Muhammad Taqi Usmani

It will be said, :Today We will forget you, as you forgot facing this your day, and your abode is the Fire, and for you there are no helpers at all.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And it will be said: "This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours. And your abode is the Fire, and there is none to help you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And it will be said: This day We forget you, even as ye forgot the meeting of this your day; and your habitation is the Fire, and there is none to help you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it will be said, "Today We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours, and your refuge is the Fire, and for you there are no helpers.

— Saheeh International

They will be told, "On this day We shall forget you in the same way that you had forgotten your coming into Our presence. Your dwelling will be hell fire and no one will help you.

— Muhammad Sarwar

And it shall be said: Today We forsake you as you neglected the meeting of this day of yours and your abode is the fire, and there are not for you any helpers:

— Muhammad Habib Shakir

And it will be said: Today shall forget you, even as ye forgat the meeting of this your Day, and your abode will be the Fire, and none ye will have as helpers.

— Abdul Majid Daryabadi

It will also be said: "This Day We will forget you as ye forgot the meeting of this Day of yours! and your abode is the Fire, and no helpers have ye!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–37

کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة الْجَاثِیَة 45 یعنی وہاں ان کو پتہ چل جائے گا کہ اپنے جن طور طریقوں اور عادات و خصائل اور اعمال و مشاغل کو وہ دنیا میں بہت خوب سمجھتے تھے وہ سب ناخوب تھے۔ اپنے آپ کو غیر جوابدہ فرض کر کے انہوں نے ایسی بنیادی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات ہی غلط ہو کر رہ گیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–37

معارف و مسائل (آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقیل الیوم فنسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا وما ولکم النار ومالکم مننصرین 34 نسی، یہاں نظر انداز کرنے کے مفہوم میں ہے یعنی ان کو پہلے ہی مرحلہ میں آگاہ کردیا جائے گا کہ جس طرح تم نے دنیا میں اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کے نظر انداز کئے رکھا اور اس ہولناک دن کی پیشی سے انہوں نے تم کو آگاہ کیا تو تم نے سنی ان سنی کردی اسی طرح آج ہم تک و نظر انداز کریں گے۔ تم کتنا ہی چیخو اور چلائو لیکن ہمارے ہاں تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہونی ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ کہ اگر تم کو اپنی جمعیت پر ناز تھا تو وہ بھی آج تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتی اور اگر اپنے شرکاء و شفعاء پر بھروسہ تھا تو وہ بھی تمہارے کچھ کام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے۔ اللہ اپنے بعض بندوں سے کہے گا ' کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی ؟ کیا میں نے تیرا اکرام نہیں کیا تھا ؟ کیا میں نے گھوڑے اور بیل وغیرہ تیری ماتحتی میں نہیں دیئے تھے ؟ تو سرداری بھی کرتا اور چنگی بھی وصول کرتا رہا۔ وہ کہے گا ہاں یہ تو ٹھیک ہے میرے رب ! اللہ تعالیٰ پوچھے گا، کیا تجھے میری ملاقات کا یقین تھا ؟ وہ کہے گا، نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں بھی (تجھے جہنم میں ڈال کر) بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھولے رہا (صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–34

10: یعنی دوزخ کے جس عذاب کا یہ کافر لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہی عذاب ان کو گھیرے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–34

آیت نمبر 33 اس کے بعد دوبارہ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور ان کا بہت ہی دردناک انجام ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی دنیا میں تم نے آج کے دن کو یاد نہ رکھا تھا۔ آج ہم تم کو مہربانی سے یاد نہ کریں گے۔ ہمیشہ کے لیے اسی طرح عذاب میں پڑا چھوڑ دیں گے۔ جیسے تم نے اپنے کو دنیا کے مزوں میں پھنسا کر چھوڑ دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 { وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰٹکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } ”اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں اسی طرح نظر انداز کردیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو نظر انداز کررکھا تھا“ { وَمَاْوٰٹکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ } ”اور تمہارا ٹھکانہ اب آگ ہے اور تمہارے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے۔“ چناچہ اب تمہارے رونے دھونے اور چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اب تمہیں اس عذاب سے چھڑانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 اس کا یہ مطلب نہیں کہ حساب کتاب کے وقت انہیں بھلا دیا جائے گا۔ بلکہ حساب کتاب یا سزا کے فیصلہ اور جہنم میں پھینک دیئے جانے کے بعد انہیں وہیں پڑا رہنے دیا جائے گا۔ وہ خواہ چیخیں پکاریں، فریاد کریں۔ ان کی کوئی بات سنی ہی نہ جائے گی۔ اور جو حال بھی ان پر گزرے ان کی خبر تک نہ لی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (جو تمہاری سزا کچھ ہلکی ہی کراسکے) (آیت) ” ننسکم “۔ فعل انساء (بھلا دینا) جب حق تعالیٰ کی جانب منسوب ہوتی ہے تو نعوذ باللہ کوئی سہو یا ضعف حافظہ تو مراد ہو نہیں سکتا۔ یہ تو ملائکہ تک کے حق میں ممکن نہیں۔ مراد صرف مجاز ہی سے ہوسکتی ہے، یعنی کافروں کو رحمت حق کے التفات سے محروم کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقاء یومکم ھذا وما ولکم النار وما لکم من نصرین وہ ان کو آ گھیرے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں ‘ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور (آج) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔ وَبَدَالَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا یعنی دنیا میں جو برے عمل انہوں نے کئے تھے ‘ ان کی برائیاں یا ان کی سزا (ان کے سامنے آجائے گی) ان پر ظاہر ہوجائے گی۔ وَحَاقَ بِھِمْ اور ان پر نازل ہوگا۔ اَلْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ یعنی آج تم کو عذاب میں داخل کر کے چھوڑ رکھیں گے (جیسے کوئی شخص بھولی ہوئی چیز کو چھوڑے رکھتا ہے) اللہ نسیان سے پاک ہے ‘ اسلئے نسیان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) اور انبیاء کرام اور کتب خداوندی کے ساتھ مذاق کی سزا ان کو آگھیرے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم تمہیں دوزخ میں ڈالتے ہیں جیسا کہ تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کوئی تمہارا مددگار نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا…: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة اعراف (51) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ہم تمہیں آگ میں چھوڑ جائیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو چھوڑ دیا تھا۔ یعنی اس کے لئے عمل کو ترک کردیا تھا تمہارا مسکن اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے یعنی تمہارے لئے کوئی ایسا آدمی نہیں جو تمہاری مدد کرے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–37

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا “ (اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تم کو بھلا دیتے ہیں جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا) سے مراد ہے کہ تم نے میرا ذکر اور میری اطاعت چھوڑ دی تھی تو اسی طرح میں نے بھی تم کو چھوڑ دیا (آیت ) ” کما نسیتم لقآء یومکم ھذا یعنی تم نے میرا ذکر اور میری اطاعت چھوڑ دی تھی اسی طرح میں تم کو آگ میں چھوڑ دوں گا۔ مؤمن کے استغفار پر فرشتے کا آمین : 18:۔ ابن عساکر (رح) نے عمر بن ذر ؓ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قوم اللہ کے ذکر کے لئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقِيْلَ [ اور کہا جائے گا ] الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ [ آج ہم بھلا دیں گے تم لوگوں کو ] كَمَا نَسِيْتُمْ [ اس کی مانند جو تم نے بھلایا ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا [ اپنے اس دن کی ملاقات کو ] وَمَاْوٰىكُمُ [ اور تمہارا ٹھکانہ ] النَّارُ [ آگ ہے ] وَمَا لَكُمْ [ اور نہیں ہے تمہارے لیے ] مِّنْ نّٰصِرِيْنَ [ کوئی بھی مدد کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–35

﴿وَ قِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰىكُمْ ﴾ (مجرمین سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں) یعنی تمہیں عذاب میں ڈال کر چھوڑ دیتے ہیں جیسے کوئی چیز بھول بھلیاں کردی جاتی ہیں، یہ نہ سمجھنا کہ کبھی عذاب سے چھٹکارہ ہوجائے گا جیسے تم نے آج کے دن کو بھلایا ایسے ہی ہمیشہ کے لیے تمہیں رحمت سے محروم کردیا گیا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ مجرمین سے مزید خطاب ہوگا کہ یہ جو کچھ نتیجہ (عذاب کی صورت میں) تمہارے سامنے ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق بنایا تھا اور تمہیں دنیا والی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا تھا، آج جب یہاں دوزخ میں ڈال دئیے گئے تو نہ عذاب سے نکالے جاؤ گے اور نہ یہ موقعہ دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–37

دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت : قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔ (ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–34

23:۔ ” وبدا لہم۔ الایۃ “ سیئات بد اعمالیوں کے نتائج یعنی بد اعمالیوں کی سزائیں ظاہر ہوجائیں گی اور استہزاء اور تمسخر کی سزا ان پر نازل ہوگی۔ وقیل الیوم ننسکم الخ، چونکہ نسیان کے حقیقی معنی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف محال ہے، اس لیے مجازا عذاب میں چھوڑ دینا مراد ہے از قبیل تسمیۃ المسبب باسم السبب یعنی جس طرح تم نے قیامت کے دن بارگاہ ایزدی میں پیشی کو بھلا دیا تھا اس سے بالکل ہی غافل ہوگئے تھے، اسی طرح آج ہم تمہیں دائمی عذاب میں داخل کریں گے اور ہمیشہ کے لیے تمہیں اس میں چھوڑ دیں گے، اس طرح جہنم تمہارا دائمی ٹھکانا ہوگا اور آج کوئی تمہارا یار و مددگار اور ناصر و گمگسار نہیں جو تمہیں اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–37

ربط آیات سورۃ جاثیہ حوامیم سبعہ میں چھٹے نمبر پر ہے اگلی سورة الاحقاف پر یہ ساتوں سورتیں ختم ہوجائیں گی ان سورتوں کو لباب القرآن یعنی قرآن کا لب لباب اور نچوڑ کہا گیا ہے ان میں دین کے بنیادی عقائد اور اصول بیان کئے ہیں۔ اس سورة میں بھی توحید اور اس کے دلائل ، مشرکین کا رد ، شریعت کا اتباع ، تکبر کی تردید اور بعض دوسرے اہم مسائل بیان ہوئے ہیں۔ سورة کے اس آخری حصہ میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوچکا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی تمام باطل پرست اور بدعقیدہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ ہر گروہ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَـمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۝ 34 نسی النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ، فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] ، لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] ، فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–37

ترکیب : اضاف اللقاء الی الیوم تو سعالانہ اضاف الی الشیء ماھو واقع فیہ کمکراللیل کماقدمراعرابہ فی اکثر المواضع و ماوٰ کم الجملۃ معطوفہ علی الیوم الخ و کذ الاھم یستعتبون ای لایطلب منھم العتبٰی وھوالرجوع الی طاعۃ اللہ۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا کہ ان کے اعمال کی برائی جو ان پر پڑے گی منجملہ اس کے ایک یہ بات ہوگی کہ جہنم میں ڈال کر ان سے یہ عتاب آمیز کلام کیا جاوے گا جس سے ابدی مایوسی ٹپکتی ہے اور جو کچھ آس تھی وہ بھی ٹوٹ جاوے گی۔ تین جملے بیان ہوئے۔ اول الیوم ننساکم کہ آج ہم تم کو بھول جاویں گے یعنی بمنزلہ بھولے ہوئے کے کردیں گے ‘ سخت بےپروائی کریں گے۔ جیسا کہ تم آج کے دن کے سامان اور اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا وَمَاْ وٰ کُمُ النَّارُ وَمَا لَـکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 34) (اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم بھی تمہیں اسی طرح طاق نسیان میں رکھ دیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا، اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں۔ ) قیامت یوم الجزا ہے اللہ تعالیٰ کے رسول دعوت و نصیحت کے جتنے اسالیب ممکن ہیں سب کو نہایت جانفشانی اور ہمدردی کے ساتھ بروئے کار لا کر اپنی امت دعوت کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں بہرحال ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے تکبر کا نتیجہ تھا کہ وہ قیامت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ذریعے یہ اعلان کروایا کہ لوگو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے مگر تکبر کرنے والوں کو جب بھی کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ تو متکبر لوگ شک کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت قائم ہوگی۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں اس لیے ہمیں ان پر یقین نہیں آتا۔ حالانکہ ان لوگوں کی بےیقینی کے باوجود قیامت قائم ہوگی اور ان کے سامنے ان کے برے اعمال پیش کردیئے جائیں گے۔ جس قیامت کا وہ مذا ق اڑاتے ہیں وہی انہیں گھیر لے گی انہیں کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب میں پڑے چھوڑ دیا جائے گا : آیت 34 : وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا (اور کہا جائے گا۔ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں یسا تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا) ننساکم ہم تمہیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ جیسا تم نے اس دن کی ملاقات کا وعدہ چھوڑے رکھا اور اس کا حاصل اطاعت ہے۔ لقاء کی اضافت یوم کی طرف اس طرح ہے جیسا مکر کی اضافت لیل و نہار کی طرف اس آیت میں آئی ہے۔ بل مکر اللیل والنہار ] سبا۔ 33[ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو بھلا دیا اپنے اس دن میں اور اس کی جزاء کے ملنے کو بھلا دیا۔ وَمَاْوٰکُمُ النَّارُ (تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے) تمہاری منزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 33–34

32، واذا قیل ان وعداللہ حق والساعۃ لاریب فیھا، حمزہ (رح) نے، والساعۃ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس کا عطف وعد پر ہے اور دیگر حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے ۔ ، قلتم ماندری ما الساعۃ ان نظن الا ظنا، یعنی ہم اس کو نہیں جانتے مگر وہم اور اندازہ۔ ، ومانحن بمستیقنین، کہ وہ ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

34۔ قرآن شریف میں کہیں تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ملاقات اور اپنے سامنے کھڑے ہونے کو حشر فرمایا ہے جیسا کہ قد خسرالذین کذبوا بلقاء اللہ اور وقال الذین لا یرجون لقاء نا۔ میں ہے اور کہیں سزا و جزا جو اس دن لوگوں کو پیش آئے گی اسکو حشر فرمایا جیسا کہ اس آیت میں ہے لقاء یومکم ھذا صحیح حدیثوں میں حشر کے حالات کی جو تفصیل ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی و بدی کی پرسش کے وقت حشر کے دن نیک و بد سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور پھر جزا و سزا کا حکم ہوگا اسی واسطے بعضی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سامنے کھڑے ہونے کو حشر فرمایا ہے اور بعضی آیتوں میں جزا و سزا کو صحیح مسلم 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–37

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 24–37

قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ ) ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی (ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “ قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–34

60 بدعملیوں کے نتائجِ بد کا ظہور آخرت میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بدعملوں کی بدعملیوں کے نتائج آخرت میں ہی ظاہر ہوں گے۔ تب ایسے لوگوں کی آنکھیں کھلیں گی۔ سو وہاں انکے برے اعمال کی وہ برائیاں کھل کر اور اپنی اصل شکل میں انکے سامنے آجائیں گی جو دنیا میں ان کو نظر نہیں آرہی تھیں کہ ابتلا و آزمائش کے تقاضوں کی بنا پر دنیا میں ان پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ سو دنیا میں انسان جو جو عقلی اور اخلاقی جرائم کرتا ہے انکے اصل اور حقیقی نتائج اس کے سامنے نہیں آتے۔ اس لیے وہ ان پر دلیر ہو کر انکے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں میں ایسا کھو جاتا ہے کہ کسی ناصح کی نصیحت قبول کرنے کی بجائے الٹا اپنے ایسے سچے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–37

مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

آیات 27 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–35

ف 3 منانے کے موقع سے مراد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:34) وقیل ۔ واؤ عاطفہ۔ قیل : ای قیل لہم : ان سے کہا جائیگا ۔ ماضی مجہول بمعنی مستقبل۔ واحد مذکر غائب قول (باب نصر) مصدر ہے قیل کا ۔ الیوم۔ آج کے دن۔ (مراد یوم قیامت) الیوم ۔۔ یستعتبون مقولہ ۔ ننساکم مضارع جمع متکلم نسیان (باب سمع) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہم تم کو بھول جائیں گے۔ ہم تم کو فراموش کردیں گے۔ ہم تم کو بھولے بسرے کی طرح بالکل چھوڑ دیں گے۔ کما نسیتم لقاء یومکم ھذا : ک حرف تشبیہ ما موصولہ نسیتم لقاء یومکم ھذا اس کا صلہ۔ جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ یومکم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ لقاء کا۔ یہ مصدر کی اضافت اپنے ظرف کی طرف ہے فیکون المعنی : کما…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–37

تشریح آیات نمبر 25 تا 37 جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ایمان نہ لانے اور یاد خداوندی سے غفلت کا ہولناک انجام۔ (ف 1) صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر طرح کی راحت دے ہے اور وہ لوگ دنیا کے عیش میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں اور ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ اپنے سامنے کھڑا کرکے پوچھے گا کہ اے شخص کیا تجھ کو میں نے ہر طرح کی عزت و راحت سے دنیا میں نہیں رکھا، وہ شخص کہے گا کہ ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تجھ کو کبھی یہ خیال بھی آیا تھا کہ ایک روز تجھ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوناپڑے گا، وہ کہے گا کہ نہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس طرح تو نے دنیا میں میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[10] یعنی آج ہم تم کو مہربانی سے یاد نہ کریں گے اور ہمیشہ کے لئے دوزخ میں پڑا چھوڑ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–37

ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) اور ان دین حق کے منکروں اور جرائم پیشہ لوگوں سے کہا جائیگا کہ جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات اور اس دن کے سامنے آنے کو فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج بھی تم کو فراموش کردیں گے اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی بھی مددگار نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دن کے آنے کو تم نے فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج ہم تم سے ایسا معاملہ کریں گے جیسے بھولے ہوئے آدمی سے کہا جاتا ہے۔ حضرت حق تعالیٰ کے فراموش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو رحمت سے محروم کردیں گے تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور جب خدا کی رحمت سے محروم کردیئے گئے تو ہر قسم کی مدد اور ہر قسم کے مدد کرنے والوں سے بھی محوم آخری ٹھکانا جہنم قرار پائے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان سے کہا جائے گا کہ آج تم اسی طرح بھلا دیئے جائو گے جس طرح تم نے اس روز کو بھلا دیا تھا 43 ؎ بھلا دینا نظر انداز کردینے کے مفہوم میں بولا گیا ہے اور ہر زبان میں یہ لفظ اس مفہوم میں بولا جاتا ہے ۔ گویا ان کی چیخ و پکار ، آہ زاری اور اپیل در اپیل کے جواب میں صرف اور صرف ان کو یہ بات سنا دی جائے گی کہ آج تمہاری اس چیخ و پکار اور آہ بکا کی کوئی قیمت ہمارے ہاں نہیں ہے بلکہ آج تو تم کو اسی طرح نظر انداز کردیا گیا ہیجس طرح تم نے اس دن کو نظر انداز کردیا تھا او بار بار سمجھانے والوں کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا تھا اور ان کی باتوں کو سن کر الٹا ان سے مذاق کیا کرتے تھے اور جب تم کو اس روز کے متعلق یاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–37

Commentary وَتَرَ‌ىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

45 That is, "There they will come to know that their ways of behaviour, their practices and manners, and their actions and pastimes, which they regarded as very good in the world were, in fact, very bad: they had committed a basic mistake in thinking that they were not answerable to anyone, and this had rendered their whale lifework fruitless and vain."

Read the full tafseer →