Ayah 45:2تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم غالب اور حکمت والے اللہ کی طرف سے یہ کتاب نازل کردہ ہے۔
الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ انتقام لینے والا (یعنی عذاب دینے) میں غالب اور تدبیر و انتظام خلائق حکمت سے کرنے والا۔
Ayah 45:3ان فی السموت والارض لایت للمؤمنین بلاشبہ آسمانوں میں اور زمین میں (ا اللہ کی قدرت و وحدانیت کی) مؤمنوں کیلئے کثیر نشانیاں ہیں۔
آیت کا یہ ظاہر مطلب بھی مراد ہوسکتا ہے کہ لفظ خَلْق کو محذوف بھی قرار دیا جاتا ہے ‘ یعنی آسمانوں کے اور زمین کے پیدا کرنے میں مؤمنوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 45:4وفی خلقکم وما یبث من دابۃ ایت لقوم یوقنون اور (اسی طرح) تمہاری اور ان جانوروں کی پیدائش
میں جن کو (ا اللہ نے زمین پر) پھیلا رکھا ہے ‘ ان لوگوں کیلئے (قدرت و وحدانیت کے) دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
وَفِیْ خَلْقِکُمْ یعنی تم میں سے ہر ایک کے پیدا کرنے میں قدرت و وحدانیت کی نشانیاں ہیں۔ ہر انسان کی تخلیق نطفہ سے ہوئی ‘ نطفہ جم کر لوتھڑا بنا ‘ پھر لوتھڑا بوٹی بنا ‘ یہاں تک کہ (تدریجی مراتب طے کر کے) انسان بن گیا۔
وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ اس کا عطف (بظاہر) ضمیر مجرور پر ہے ‘ لیکن خَلْقِکُمْ پر اس کا مطعوف قرار دینا زیادہ اچھا ہے کیونکہ جانوروں کا پھیلانا اور مختلف انواع بنانا اور تکمیل معاش کے سارے اسباب جانور کو عطا کرنا ‘ یہ سب صانع مختار کی ہستی ‘ وحدانیت اور کمال پر دلالت کر رہے ہیں۔
لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ان لوگوں کیلئے جو توحید و قیامت پر یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 45:5واختلاف الیل والنھار وما انزل اللہ من السماء من رزق فاحیابہ الارض بعد موتھا
وتصریف الریح ایت لقوم یعقلون اور اسی طرح رات اور دن کے تبادلے میں اور اس (مادۂ ) رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا ‘ پھر اس سے زمین کو خشک ہونے کے بعد سرسبز کیا اور ہواؤں کے چلانے میں دلائل ہیں ‘ ان لوگوں کیلئے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔
اِخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَار رات دن کی آمد و رفت اور گرمی و سردی کے موسموں میں (گھٹاؤ بڑھاؤ میں) ۔
مِنْ رِّزْقٍ رزق سے مراد ہے بارش ‘ کیونکہ بارش پیدائش رزق کا سبب ہے۔
فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضِ الخ یعنی زمین کے خشک ہوجانے کے بعد اللہ اس کو سرسبز کردیتا ہے۔
اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو دلائل کو سمجھتے اور ایمان لاتے ہیں ‘ یا قوم یعقلون سے اہل عقل مراد ہیں ‘ کیونکہ کافر تو (بےعقل) جانور ہیں ‘ بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گم کردہ راہ۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ تینوں آیات میں جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں ‘ وہ ظہور اور وقت کے لحاظ سے مختلف ہیں (کوئی بالکل ظاہر ہے ‘ کوئی دقت نظر اور غور کی محتاج ہے) اسی لئے تینوں آیتوں کے مقاطع میں تین مختلف لفظ (مُؤْمِنِیْنَ- قَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ- قَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) استعمال کئے ‘ صحیح بات یہ ہے کہ مقاطع میں اختلاف محض عبارت کی نیرنگی کی غرض سے کیا گیا (معنی اور مضمون میں کوئی اختلاف نہیں ہے) کیونکہ ایمان و ایقان تو ہم معنی لفظ ہیں اور دونوں سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ خالق جہان کو مانا جائے اور اس پر یقین کیا جائے۔
Ayah 45:6تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق فبای حدیث بعد اللہ وایتہ یؤمنون یہ اللہ کی آیتیں
ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں ‘ پھر (اگر یہ اس کو بھی نہیں مانگیں گے تو) اللہ کے کلام اور اس کی آیتوں کے بعد اور جس بات پر ایمان لائیں گے ؟
تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ یہ نشانیاں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں (ان سے اللہ کی قدرت کا ثبوت ملتا ہے) ۔
بِالْحَقِّ یہ نشانیاں برحق ہیں ‘ اب اگر آیات اللہ پر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو بَعْدَ اللّٰہِ اللہ کی کتاب کے بعد۔ وَاٰیٰتِہٖ اور اللہ کی آیات کے بعد اور کس بات پر یہ ایمان لائیں گے ‘ یعنی کفار مکہ اگر ان آیات کو نہیں مانتے تو اور کس دلیل کو مانیں گے۔
Ayah 45:7ویل لکل افاک اثیم۔ بڑی خرابی ہوگی اس شخص کی جو بڑا جھوٹا اور سخت گناہگار ہے
Ayah 45:8یسمع ایت اللہ تتلی علیہ ثم یصر مستکبرا کان لم یسمعھا فبشرہ بعذاب الیم
کہ اللہ کی آیتیں اسکے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ تکبر کے ساتھ کفر پر) جما رہتا ہے ‘ گویا اس نے اللہ کی آیتوں کو سنا ہی نہیں۔ آپ اسکو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے۔
اَثِیْمٍ بہت بڑا گناہگار ‘ اس سے نضر بن حارث مراد ہے۔ وَیْلٌ سے آخر تک جملہ معترضہ ہے۔
ثُمَّ یُصِرُّ لفظ ثم عربی میں تراخی کیلئے آتا ہے) سماع آیات کے بعد کفر پر جما رہنا بہت ہی بعید ہے ‘ اسی بعد کو ظاہر کرنے کیلئے اس جگہ لفظ ثم استعمال کیا گیا ہے (یعنی بعد زمانہ کے قائم مقام بعد مرتبہ کو قرار دیا اور لفظ ثم سے اس کا اظہار کیا) ۔
فَبَشِّرْہُ- فَ سببیت کیلئے ہے (یعنی فَ سے پہلے کا کلام بعد والے کلام کی علت ہے) بشارت اس خبر کو کہتے ہیں جس کو سن کر چہرے پر خوشی کے آثار پیدا ہوجائیں (یعنی چہرہ کھل جائے) یہاں چہرے پر آثار غم پیدا کرنے والی خبر کو بطور استہزاء بشارت کہا ہے۔
Ayah 45:9واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق بناتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے ذلت کا عذاب ہے ‘
Ayah 45:10من وراءھم جھنم ان کے آگے دوزخ آرہی ہے۔
وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْءَا یعنی قرآن کا کچھ حصہ اس کو پہنچ جاتا ہے ‘ تو وہ ہماری آیات (یا آیت) کو ٹھٹول بناتا ہے (مذاق کی چیز) مطلب یہ ہے کہ وہ فوراً اس کا مذاق بنانے لگتا ہے۔
اُوْلٰٓءِکَ لَھُمْ یعنی ایسے تمام جھوٹوں کیلئے۔
عَذَابٌ مُّھِیْنٌ یعنی قبروں میں ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
مِنْ وَرَآءِھِمْ جَھَنَّمُ اس سے آگے جہنم ہے۔ آگے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کا رخ جہنم کی طرف ہے۔ ورآء کا ترجمہ ورے بھی ہے اور پرے بھی ‘ آگے بھی اور پیچھے بھی۔
ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئا ولا ما اتخذوا من دون اللہ اولیاء ولھم عذاب عظیم
اور (اس وقت) نہ تو ان کے وہ چیزیں ذرا کام آئیں گی جو دنیا میں کما گئے تھے اور نہ وہ جن کو اللہ کے سوا انہوں نے کارساز بنا رکھا تھا ‘ اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔
لَا یُغْنِیْ دفع نہیں کرے گا۔
مَا کَسَبُوْا یعنی مال اور اولاد۔
شَیْءًا یعنی کچھ بھی اللہ کا عذاب۔
وَلاَ اتَّخَذُوْا یعنی نہ بت جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ‘ یا وہ سردار اور پیشوا جن کی یہ پیروی کرتے ہیں۔
Ayah 45:11ھذا ھدی والذین کفروا بایت ربھم لھم عذاب من رجز الیم یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور
جو لوگ اپنے رب کی ان آیتوں کو نہیں مانتے ‘ ان کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہے۔
ھٰذَا ھُدًی یہ قرآن ہدایت ہے ‘ یعنی ایسی چیز ہے جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے۔
رِجْز سخت ترین عذاب۔
Ayah 45:12اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری الفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون۔ اللہ ہی ہے جس نے دریا کو تمہارے لئے مسخر بنایا تاکہ اسکے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں اور تم اس کی (عطا کردہ) روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو
Ayah 45:13وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعا منہ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون اور (اسی طرح) جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں ‘ ان سب کو اپنی طرف سے تمہارا مسخر بنایا ہے۔ بیشک ان چیزوں میں ان لوگوں کیلئے دلائل ہیں جو غور کرتے ہیں۔
سَخَّرَ یعنی سمندر کی سطح چکنی ہموار بنائی۔ تختہ ‘ لکڑی وغیرہ اسکے اندر گھس جائے تو پھر ابھر کر تیرے لگتی ہے اور اسکے اندر غوطہ لگایا جاسکتا ہے۔
بِاَمْرِہٖ اپنے حکم سے ‘ یعنی اپنے تسخیری حکم سے۔
مِنْ فَضْلِہٖ یعنی تجارت۔ غوطہ زنی اور شکار کے ذریعہ سے خداداد رزق تم طلب کرو۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِ یعنی چاند ‘ سورج ‘ ستاے ‘ پانی ‘ برف وغیرہ۔
مَا فِی الْاَرْضِ یعنی حیوانات ‘ نباتات ‘ معدنیات ‘ چشمے ‘ نہریں ‘ دریا وغیرہ۔
مِنْہُ اپنی طرف سے ‘ یعنی ان سب چیزوں کو اپنی طرف سے مسخر بنایا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ یہ سب چیزیں اسکی طرف سے ہیں۔
حضرت ابن عباس نے جمیعًا منہ کی تشریح میں فرمایا : یہ سب چیزیں اللہ کی طرف سے رحمت ہیں۔ زجاج نے کہا : یہ سب چیزیں اللہ کی طرف سے مہربانی ہیں۔
یِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ یعنی ان لوگوں کیلئے جو عجائبات صنعت خداوندی پر غور کرتے اور پھر اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔
بغوی نے حضرت ابن عباس اور قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ میں ایک غفاری شخص نے حضرت عمر کو گالی دی ‘ حضرت عمر نے اس کی پکڑ (یعنی اس پر حملہ) کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 45:14قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ لیجزی قوما بما کانوا یکسبون۔ آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگذر کیا کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے ‘ تاکہ اللہ ایک قوم کو (یعنی مسلمانوں کو) ان کے عمل کا صلہ دے۔
Ayah 45:15من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا ثم الی ربکم ترجعون جو شخص نیک کام کرتا ہے ‘ سو اپنے ذاتی نفع کیلئے اور جو شخص برا کام کرتا ہے ‘ اس کا وبال اس پر ہی پڑتا ہے ‘ پھر تم کو اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
یَغْفِرُوْا یعنی آپ مسلمانوں سے کہہ دیجئے : معاف کر دو ۔ اگر آپ ان کو معافی کا حکم دے دیں گے تو وہ معاف کردیں گے۔
لاَ یَرْجُوْنَ جو امید نہیں رکھتے اور خوف نہیں کرتے۔
اَیَّام اللّٰہِ یعنی ان واقعات سے جو اللہ نے اپنے دشمنوں کے ساتھ کئے ‘ مطلب یہ کہ ان اوقات کے آنے کی ان کو امید بھی نہیں جو اللہ نے مؤمنوں کی نصرت و کامیابی کیلئے مقرر کر رکھے ہیں۔
بغوی نے قرظی اور سدی کا قول نقل کیا ہے کہ حکم جہاد سے پہلے مکہ میں مسلمانوں کو مشرک سخت اذیتیں دیتے تھے ‘ صحابن نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا شکوہ کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ پھر آیت جہاد سے اس آیت کا حکم منسوخ کردیا گیا۔
لِیَجْزِیَ قَوْمًا تاکہ مؤمنوں کو صبر کرنے کی جزا عطا فرمائے ‘ یا کافروں کو پوری سزا دے ‘ دنیا میں سزا دے کر آخرت کی سزا میں تخفیف نہ کردی جائے ‘ یا (قومًا سے مراد ہیں دونوں فریق) یعنی دونوں فریقوں کو بدلہ دے۔
بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ یعنی ان کاموں کا جو وہ کرتے تھے ‘ اچھے ہوں یا برے۔
فَلِنَفْسِہٖ یعنی اس کا ثواب اسی کو ملے گا۔
وَمَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْھَا اور جو بدی کرے گا اپنے لئے برائی کرے گا ‘ بدی کا وبال اسی پر پڑے گا۔
تُرْجَعُوْنَ یعنی اپنے اعمال کی وجہ سے جب تم ثواب و عذاب کے مستحق ہوجاؤ گے تو تم کو اللہ کے پاس لوٹا کرلے جایا جائے گا تاکہ عمل کے مطابق تم کو ثواب و عذاب دیا جائے۔ نیکی کا بدلہ اچھا ‘ بدی کا بدلہ برا۔
Ayah 45:16ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب والحکم والنبوۃ ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی العلمین۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو (آسمانی) کتاب اور حکمت (یعنی علم احکام) اور نبوت دی تھی اور ہم نے ان کو نفیس نفیس چیزیں کھانے کو دی تھیں اور اس زمانہ کے تمام لوگوں پر ان کی فضیلت دی تھی
Ayah 45:17واتینھم بینت من الامر فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم بغیا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون اور دین کے معاملہ میں ہم نے ان کو کھلی کھلی دلیلیں دی ‘ سو انہوں نے علم ہی کے آنے کے بعد آپس کی ضداضدی کی وجہ سے باہم اختلاف کیا۔ بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے باہمی اختلافی مسائل کا فیصلہ کر دے گا۔
الْکِتٰبَ یعنی توریت ‘ انجیل ‘ زبور۔
الْحُکْمَ یعنی ان کے علماء اور بادشاہوں کو اہل حکم بنایا۔
النُّبُوَّۃَ خصوصیت کے ساتھ اس جگہ نبوت کا ذکر اسلئے کیا کہ بنی اسرائیل میں اللہ نے بکثرت انبیاء مبعوث فرمائے۔
الطَّیِّبٰتِ لذیذ حلال کھانے کی چیزیں ‘ جیسے من وسلویٰ وغیرہ۔
وَفَضَّلْنٰھُمْ اور مراتب قرب عطا کر کے ہم نے ان میں سے بعض لوگوں کو یعنی انبیاء کو انکے زمانے کے لوگوں پر فوقیت عطا کی۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : ان کے زمانے میں اللہ کا محبوب اور اللہ کے نزدیک معزز کوئی بھی ان سے زیادہ نہ تھا (اور نہ ان جیسا تھا ‘ مترجم) ۔
یہ آیت ثابت کر رہی ہے کہ خاص انسان ‘ خاص ملائکہ پر فضیلت رکھتے ہیں (العٰلمین کا لفظ ملائکہ کو شامل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائکہ پر بھی انبیاء بنی اسرائیل کو اللہ نے برتری عطا فرما دی تھی ‘ مترجم) ۔
بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِج امر دین کی کھلی دلیلیں۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو ان تمام امور کا علم عطا فرما دیا تھا ‘ جن کو جاننا اور ان پر عقیدہ رکھنا ضروری تھا ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور بعثت کی نشانیاں بھی بتادی تھیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو اتنا ہی یقینی طور پر جانتے پہچانتے تھے جتنا اپنی اولاد کو پہچانتے تھے۔
فَمَا اخْتَلَفُوْا یعنی امور دین میں یا رسول اللہ ﷺ کے سلسلے میں ان کا باہمی اختلاف اسی وقت ہوا جب ان کو حقیقت کا علم ہوگیا اور یہ اختلاف محض آپس کی عداوت ‘ حسد اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہوا ‘ کسی محکم دلیل کی روشنی میں یہ اختلاف نہیں تھا۔ آیت مذکورہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اکہتر بہتر فرقے کسی دلیل کی روشنی میں نہیں بن گئے تھے ‘ بلکہ محض آپس کی ضداضدی سے بنے تھے۔ امت اسلامیہ کے تہتر فرقے بھی کسی محکم دلیل کی بناء پر نہیں ہوگئے تھے ‘ بلکہ نصوص قطعیہ کے مقابلہ میں صرف اتباع وہم کی وجہ سے ہوگئے (اسی وہم کو ہر فرقہ والا فہم و دانش قرار دیتا ہے) جیسے فرقہ معتزلہ نے فلاسفہ کے اتباع میں بہت سے مسائل (دینی) کا فیصلہ کرنے اور حق کو باطل سے ممتاز بنانے کیلئے عقل کو کافی قرار دیا (اور ظاہر نصوص کی مخالفت کی ‘ مترجم) یا مجسمہ نے خیال کرلیا کہ ہر موجود کا جسم ہونا ضروری ہے (اسلئے خدا کا بھی جسم ہے) یا محض حسد وعناد سے کچھ فرقے (اجماع امت سے الگ ہو کر) بن گئے ‘ جیسے خارجی اور شیعہ۔
یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ یعنی سز 1 و جزا کی شکل میں عملی فیصلہ کر دے گا ‘ کسی کو عذاب دے گا اور کسی کو ثواب۔
یَخْتَلِفُوْنَ یعنی دینی مسائل میں جو ان کا اختلاف تھا ‘ اس کا عملی فیصلہ قیامت کے دن کر دے گا۔
Ayah 45:18ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون۔ المتقین پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک طریقے پر کردیا ‘ سو آپ اسی طریقے پر چلے جائیے اور ان جاہلوں کی خواہشات پر نہ چلئے۔
Ayah 45:19انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیئا وان الظلمین بعضھم اولیاء بعض وا اللہ ولی یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کے ذرا کام نہیں آسکتے اور ظالم لوگ باہم ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ اہل تقویٰ کا دوست ہے۔
شَرِیْعَۃٍ حق راستہ ‘ صراط مستقیم ‘ جس پر چلنے کا انبیاء کو حکم دیا گیا تھا۔
مِنَ الْاَمْرِ ۔ الامر سے مراد ہے امر دین۔
فَاتَّبِعْھَا یعنی اے محمد ﷺ ! آپ شریعت حق پر چلئے۔
وَلاَ تَتَّبِعْ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے ‘ لیکن خطاب کا اصل رخ امت کی طرف ہے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو اتباع خواہشات کا احتمال ہی نہیں تھا) یعنی آپ کی امت ان لوگوں کا اتباع نہ کرے جو کتاب اللہ سے ناواقف ہیں ‘ خواہ اس طور پر کہ باوجود عدم علم کے مدعی علم ہیں جیسے فلاسفہ ‘ یا اس طور پر کہ کسی سے انہوں نے کچھ سیکھا ہی نہیں ‘ کسی نے کتاب کی بات ان کو پہلے بتائی نہیں جیسے سرداران قریش تھے (اول گروہ جہل مرکب میں مبتلا ہے اور دوسرا گروہ جہل بسیط کا مریض ہے ‘ مترجم) سرداران قریش رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے : اپنے باپ دادا کے مذہب کی طرف لوٹ آؤ ‘ وہ تم سے افضل تھے۔
یا یہ مطلب ہے کہ علم تو ان کو تھا ‘ وہ جانتے تھے لیکن قصداً انہوں نے اللہ کی کتاب پر عمل ترک کردیا تھا اور آیات کتاب کی غلط تاولیں کرتے تھے تو گویا وہ علم ہی سے محروم تھے جیسے علماء یہود تھے ‘ اسی طرح مسلمانوں میں وہ فرقے بھی جو راہ حق سے بھٹکے ہوئے تھے اور اپنی خواہشات کے تابع تھے۔
اِنَّھُمْ یعنی جو لوگ اپنی راہ پر چلنا چاہتے ہیں جو راہ حق نہیں ہے۔ اگر آپ ان کی راہ پر چلے تو وہ اللہ کے عذاب سے تمہاری طرف سے بالکل دفاع نہیں کرسکیں گے۔
وَاِنَّ الظَّلِمِیْنَالخ یعنی یہ باہم مجانست رکھتے ہیں اور اتحاد ‘ جنسی یگانگت و انضمام کی علت ہے ‘ اسلئے یہ سب باہم گھلے ملے ہوئے ہیں ‘ آپ ان کو دوست نہ بنائیں۔
وَاللّٰہُ وَلِیَّ الْمُتَّقِیْنَ اور اللہ تقویٰ والوں کا دوست ہے ‘ پس آپ تقویٰ اختیار کیجئے اور شریعت پر چلئے۔ دونوں جملوں سے درپردہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کافر آپ کو ضرر نہیں پہنچا سکتے ‘ کیونکہ یہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ تقویٰ والوں کا دوست ہے اور دونوں کی دوستی میں عظیم الشان فرق ہے۔
Ayah 45:20ھذا بصائر للناس وھدی ورحمۃ لقوم یوقنون یہ قرآن عام لوگوں کیلئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور یقین (یعنی ایمان) لانے والوں کیلئے بڑی رحمت (کا سبب) ہے۔
ھٰذَا یہ یعنی قرآن مجید یا اتباع شریعت۔
بَصَاءِرُ یعنی بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع۔
لِلنَّاسِ سب لوگوں کیلئے۔ اس سے دونوں جہان میں کامیاب ہونے کے طریقے ظاہر ہوجاتے ہیں۔
وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ اللہ کی طرف سے راہنمائی اور رحمت ہے۔
لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ان لوگوں کیلئے جو اس کے اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 45:21ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت سواء
محیاھم ومماتھم ساء ما یحکمون یہ لوگ جو برے برے کام کرتے ہیں ‘ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے ‘ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا کہ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے ؟ یہ لوگ برا فیصلہ کرتے ہیں۔
اَمْ حَسِبَ- اَمْ منقطعہ ہے ‘ یعنی بَلْ کے معنی میں ہے اور اس میں ہمزہ (سوالیہ) انکاری اور توبیخی ہے ‘ یعنی یہ لوگ یقین کرتے بلکہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ۔
اِخْتَرَحُوْا جنہوں نے کمائیں برائیاں۔
اس آیت کا نزول مکہ کے ان مشرکوں کے حق میں ہوا ‘ جنہوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو ‘ یعنی قیامت اگر واقع میں ہوئی بھی تب بھی ہم تم سے آخرت میں برتر رہیں گے ‘ جس طرح دنیا میں ہم کو برتری حاصل ہے۔
کَاَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی نیکوکار ایمان والوں کی مثل ہم ان کو کردیں گے۔
سَوَآءً ۔ کالّذین سے بدل ہے ‘ یعنی جس طرح دنیوی زندگی کے اندر رزق اور صحت میں کافر و مؤمن برابر ہیں ‘ کیا انکا یہ خیال ہے کہ مرنے کے بعد بھی عزت اور نجات میں یہ لوگ مؤمنوں کی طرح ہوں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دنیا اور آخرت میں مؤمن اللہ کا محب ہے اور کافر سے دونوں جہان میں اللہ کو نفرت ہے۔ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے۔
سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ یعنی دونوں فریق کے مساوی ہونے کا ان کا یہ فیصلہ برا ہے (غلط ہے) ۔
مسروق کا بیان ہے کہ ایک مکی شخص نے مجھ سے کہا : یہ آپ کے بھائی تمیم داری کی قیاہ گاہ ہے۔ ایک رات صبح تک یا جب صبح ہونے والی ہی تھی ‘ اس وقت تک وہ آیت اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوْا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِالخ پڑھتے رہے اور رکوع اور سجدے کرتے رہے ‘ اور روتے رہے۔
Ayah 45:22وخلق اللہ السموت والارض بالحق ولتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون اور
ا اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا اور اسلئے کہ ہر شخص کو اسکے کئے کا بدلہ دے دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
وَخَلَقَ اللّٰہُ الخ یعنی اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا تاکہ اللہ کی ہستی ‘ اس کی قدرت اور کامل صفات پر ان کی تخلیق سے استدلال کیا جاسکے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی پیدائش بےکار اور بےسود نہیں کی گئی ‘ بلکہ اس کے اندر اللہ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ نیک اور بد میں امتیاز اور مظلوم کا ظالم سے انتقام دلوانا مقصود ہے ‘ اگر یہ امتیاز اور انتقام اس زندگی میں نہ ہو تو مرنے کے بعد بہرحال ہونا ضروری ہے۔
وَلِتُجْزٰی اللہ کی ہستی ‘ اس کی قدرت تامہ ‘ انصاف اور صفات کاملہ پر استدلال اس کائنات کا مقصد ہے اور یہ بھی غرض ہے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ مل جائے گا۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا ‘ یعنی ناکردہ گناہ کو عذاب یا جرم سے زیادہ عذاب نہ دیا جائے گا ‘ نہ کسی کے ثواب میں کمی کی جائے گی۔
ایک نکتہ : اللہ کا کوئی فعل ظلم نہیں ‘ بےگناہ کو عذاب اور نیک کو ثواب سے محروم کردینا بھی اس کیلئے ظلم نہیں ‘ لیکن غیر مجرم کو سزا یا نیک کو ثواب سے محروم کردینا ‘ بندوں کیلئے ظلم ہے اور جو مخلوق ایسا کرے وہ ظالم ہے اور چونکہ ظاہری طور پر اللہ اگر یہ فعل کرے تو اسکا فعل ظلم کا ہم شکل ہوگا ‘ اسلئے اس کو بھی ظلم کہہ دیا گیا۔
Ayah 45:23افرء یت من اتخذالھہ ھوں ہ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرون سو کیا آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہشات کو بنا رکھا ہے اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے اور اس نے کانوں پر اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ سو ایسے شخص کو اللہ کے (گمراہ کردینے کے) بعد کون ہدایت کرے ‘ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے ؟
اَفَرَءَیْتَ ۔ افرئیت سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا آپ اس کو ہدایت کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے دیکھ بھی لیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ‘ ایسے آدمی کو کون ہدایت کرسکتا ہے ؟ یہ اللہ کے اوامرو نواہی کو ترک کر کے اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا ہے ‘ گویا اس نے خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔
حضرت ابن عباس ‘ حسن اور قتادہ نے آیت کے مطلب کی توضیح اس طرح کی ہے : اس کافر نے اپنا دین ‘ نفسانی ہوا و ہوس کو بنا رکھا ہے ‘ پس جس بات کی خواہش ہوتی ہے ‘ اس کو اختیار کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ پر اس کا ایمان نہیں ‘ وہ اللہ سے ڈرتا نہیں اور جس کام سے اللہ نے روکا ہے ‘ اس سے رکتا نہیں۔
بعض لوگوں نے یہ مطلب بیان کیا ہے : اس نے اپنے معبود ہوا و ہوس کو بنا رکھا ہے ‘ اپنی نفسانی خواہشات کی پوجا کرتا ہے۔
ابن جریر اور ابن المنذر کا بیان ہے اور بغوی نے سعید بن جبیر کی طرف بھی اس بیان کی نسبت کی ہے کہ عرب پتھروں کی اور سونے چاندی کی پوجا کرتے تھے۔ جب کوئی پتھر پہلے سے اچھا مل جاتا تو پہلے پتھر کو پھینک دیتے ‘ توڑ ڈالتے اور دوسرے کو پوجنے لگتے ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
شعبی نے کہا : ہوٰی کو ہوا اسلئے کہا جاتا ہے کہ (ہوٰی کا معنی ہے لڑھکانا ‘ نیچے گرانا اور) خواہشات اپنے پرستار کو دوزخ میں گرا دیتی ہے۔
عَلٰی عِلْمٍ یعنی اللہ اس کی گمراہی اور (فطری) استعداد کی خرابی کو جانتا تھا ‘ اس بناء پر اسکو گمراہ کیا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ کو علم تھا کہ یہ گمراہ ہوگا۔ حضرت ابو عبد اللہ صحابی کی عیادت کیلئے لوگ گئے تو آپ کو روتا پایا۔ دریافت کیا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرما دیا تھا کہ اپنی لبیں لے لو ‘ پھر اس پر قائم رہو یہاں تک کہ (مرنے کے بعد) مجھ سے آکر ملو۔ حضرت ابو عبد اللہ نے فرمایا : ہاں ! یہ تو ہے ‘ لیکن یہ بھی میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ نے اپنی دائیں مٹھی میں کچھ (روحوں) کو لیا اور کچھ (روحوں) کو بائیں مٹی میں لیا اور فرمایا : یہ اس کیلئے (یعنی جنت کیلئے) ہیں اور یہ اس کیلئے (یعنی جہنم کیلئے) ہیں اور میں (سب سے) بےپروا ہوں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔
وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ یعنی انکے کانوں پر مہر لگا دی ‘ اسلئے وہ نصیحت نہیں سنتے اور انکے دلوں پر مہر لگا دی ‘ اسلئے وہ آیات پر غور نہیں کرتے۔
وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ وغِشٰوَۃًط اور انکی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ‘ اسلئے وہ بصیرت اندوز عبرت آگیں نظر سے نہیں دیکھتے۔
فَمَنْ یَّھْدِیْہِ الخ یعنی اللہ نے اس کو گمراہ کردیا تو اس کے بعد کوئی اس کو ہدایت نہیں کرسکتا۔ استفہام انکاری ہے۔
ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اہل جاہلیت (یعنی کافر) کہا کرتے تھے : رات اور دن (کا چکر) ہم کو ہلاک کرتا ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 45:24وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر وما لھم بذلک من
علم ان ھو الا یظنون اور (قیامت کے منکر) کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندی کے اور کوئی زندگی (آئندہ) نہیں ہے ‘ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو صرف زمانہ (کی گردش) سے موت آتی ہے ‘ اور ان لوگوں کے پاس اس (قول) کی کوئی دلیل نہیں ‘ محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں۔
مَا ھَیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا یعنی زندگی بس یہی زندگی ہے جس میں ہم ہیں۔
نَمُوْتُ وَنَحْیَا کسی زمانے میں ہم مرجاتے ہیں ‘ کسی زمانے میں جیتے ہیں۔ اس جملہ کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی موت کے بعد آتی ہے ‘ کیونکہ واؤ (نموت ونحیا کے درمیان) صرف عطف کیلئے ہے (ترتیب یا تعقیب کیلئے نہیں ہے) کذا قال الزجاج۔ اس جملہ سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ زندگی بس دنیوی زندگی ہے ‘ آئندہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔
اِلاَّ الدَّھْرُ یعنی مرور زمانہ ہی موت کا سبب ہے۔ گردش زمانہ سے آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے ‘ پھر مرجاتا ہے ‘ یعنی مرور زمانہ کے علاوہ کوئی اور صانع و قادر نہیں۔ دہر اصل میں اس عالم کی پوری عمر کو کہا جاتا ہے ‘ یعنی اس جہان کے آغاز آفرینش سے ختم عالم کی درمیانی پوری مدت کا نام دہر ہے ‘ اس کے بعد ہر طویل مدت پر لفظ دہر کا اطلاق ہونے لگا۔ لفظ زمانہ کی وضع ہر مدت کیلئے ہے ‘ کوتاہ ہو یا طویل (گویا لفظ زمانہ عام ہے اور لفظ دہر خاص۔ مترجم)
مَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ علم کے حصول کے دو طریقے ہیں :
نمبر 1: بغیر غور و فکر اور بلا سوچ بچار کے (اس علم کو بدیہی کہتے ہیں) ۔
نمبر 2: اور غور و فکر کے بعد (ایسے علم کو برہانی اور استدلالی کہتے ہیں) اور زمانہ کا مؤثر حقیقی ہونا نہ بداہۃً معلوم ہے ‘ نہ کوئی دلیل ایسی ہے جس سے اس کا ثبوت ہوسکتا ہو ‘ اسلئے کافروں کو اس کا علم ہی نہیں ہے بلکہ ایک صانع و حکیم کی ہستی کا ثبوت مختلف دلائل سے ملتا ہے۔
اِنْ ھُمْ الاَّ یَظُنُّوْنَ یعنی بغیر علم و دلیل کے یہ لوگ زمانہ کے مؤثر حقیقی ہونے کا (خیال کر رہے ہیں اور) حکم لگا رہے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرماا : دہر کو برا نہ کہو ‘ کیونکہ حقیقت میں اللہ ہی دہر ہے ‘ رواہ مسلم۔
بغوی کی روایت میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں کہ اللہ نے فرمایا : اے ابن آدم ! تو ہائے دہر کی نامرادی نہ کہہ ‘ کیونکہ حقیقت میں میں ہی دہر ہوں۔ رات اور دن کو میں نے ہی چلا رکھا ہے ‘ اگر چاہوں تو ان کو سمیٹ لوں۔
حدیث کا حاصل مطلب یہ ہے کہ زمانہ کو برا کہنا اسی خیال پر مبنی ہے کہ دہر ہی تمام حوادث و مصائب لاتا ہے (یعنی ہر انقلاب کا حقیقی فاعل دہر ہے) لیکن حقیقت میں حوادث لانے والا اور تمام مصائب نازل کرنے والا تو اللہ ہی ہے ‘ پس دہر کو برا کہنا درحقیقت اللہ کو برا کہنا ہوا۔ بعض اہل علم نے فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الدَّھْرُ کا مطلب فَاِنَّ اللّٰہَ دَاھِرُ الدَّھْرَ بیان کیا ہے ‘ یعنی اللہ ہی خالق دہر ہے۔ زمانہ کو خالق سمجھ کر برا کہنا شرک ہے ‘ اس سے پرہیز کرو۔
Ayah 45:25واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کنا حجتھم الا ان قالوا ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین۔ اور جس وقت (اس بارے میں) انکے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا بجز اسکے اور کوئی جواب نہیں ہوتا کہ کہتے ہیں : اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کر کے ہمارے سامنے) لے آؤ۔
Ayah 45:26قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ لا ریب فیہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون آپ کہہ دیجئے کہ ان تم کو زندہ رکھتا ہے ‘ پھر (جب چاہے گا) تم کو موت دے گا ‘ پھر قیامت کے دن جس (کے وقوع) میں کوئی شک نہیں ‘ تم کو جمع کرے گا ‘ لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔
بَیِّنٰتٍ یعنی واضح آیات جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر کھلے طور پر دلالت کر رہی ہیں اور منکرین کے عقیدے کے خلاف کھلا ثبوت پیش کر رہی ہیں ‘ یا بیّنات سے مراد ہیں کھول کر بیان کرنے والی آیات۔
حُجَّتَھُمْ یعنی کوئی ایسی بات جس سے استدلال کرسکیں۔ مشرکوں اور منکروں کے قول کو حجت صرف ان کے خیال کے اعتبار سے فرمایا (ورنہ ان کا یہ قول واقع میں کوئی حجت ‘ یعنی انکار قیامت کی دلیل نہیں ہے ‘ مترجم) ۔
یُحْیِیْکُمْ یعنی جس وقت تک چاہتا ہے تم کو زندہ رکھتا ہے۔
ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ پھر جب چاہتا ہے تم کو موت دیتا ہے۔
ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ پھر سزا و جزا کیلئے تم کو جمع کرے گا۔
اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اس میں الٰی زائد ہے ‘ یا لام ہے یعنی لیوم القیٰمۃ قیامت کے دن۔
لاَ رَیْبَ فِیْہِ یعنی وقوع قیامت میں ذرا شک نہیں کیونکہ اللہ کا وعدہ حق ہے ‘ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ جو ایجاد (آغاز آفرینش) پر قادر ہے ‘ وہ دوبارہ زندہ کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے اور سزا و جزا حکمت کا تقاضا ہے (عقل چاہتی ہے کہ اعمال کا بدلہ ضرور ہو) ۔
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ چونکہ کوتاہ نظر ہیں ‘ قلیل التفکر ہیں ‘ اسلئے اللہ کی قدرت کو نہیں جانتے۔
Ayah 45:27واللہ ملک السموت والارض ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسر المبطلون اور اللہ ہی کی
سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی ‘ اس روز باطل پرست خسارے میں رہیں گے۔
سابق آیات میں زندہ رکھنے ‘ مردہ کرنے اور قیامت کے دن سب کو جمع کرنے پر اللہ کے قادر ہونے کا بیان کیا گیا ہے ‘ اس آیت میں عمومی قدرت کا اظہار فرمایا ہے۔
یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ یعنی قیامت کے دن اہل باطل کی خسران مآلی سامنے آجائے گی ‘ سب کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔
Ayah 45:28وتری کل امۃ جاثیہ کل امۃ تدعی الی کتبھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون۔ اور (اس روز) آپ ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ (خوف کے مارے) زانو کے بل گرپڑا ہوگا ‘ ہر فرقہ اپنے اعمال نامے (کے حساب) کی طرف بلایا جائے گا۔ آج تم کو تمہارے کئے ہی کا بدلہ ملے گا
Ayah 45:29ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون اور (کہا جائے گا :) یہ ہمارا کتابچہ (اندراج نامہ) ہے جو تمہارے مقابلے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے اور ہم تمہارے اعمال کو (فرشتوں کے ذریعہ سے) لکھواتے جاتے تھے۔
بغوی نے لکھا ہے : جاثیہ دو زانو بیٹھنے والی۔ فریق معاملہ جب حاکم کے سامنے اپنے معاملہ پیش کرتا ہے تو دو زانو بیٹھ کر پیش کرتا اور فیصلہ کا انتظار کرتا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : میں ہی سب سے پہلا شخص ہوں گا جو دو زانو ہو کر اللہ کے روبرو اپنا جھگڑا پیش کرے گا۔ ہم نے سورة الحج کی آیت ھٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ کی تفسیر میں اس کی وضاحت کردی ہے۔
حضرت سلمان فارسی نے فرمایا : قیامت کے دن ایک ساعت ایسی ہوگی جو دس سال کی ہوگی ‘ سب لوگ اس مدت کے دوران دو زانو پڑے ہوں گے ‘ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم بھی پکار اٹھیں گے : نَفْسِیْ نَفْسِیْ میں صرف اپنے نفس کے بچاؤ کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃٍ میں جاثیۃ کا معنی ہے مجتمع۔ یہ لفظ جثوۃ سے ماخوذ ہے اور جثوۃ کا معنی ہے جماعت۔
جزری نے نہایہ میں حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ جماعت بن کر اپنے نبی کے پیچھے جائیں گے۔
عبدا اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں اور بیہقی نے عبد بن ثانیہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ منظر میرے سامنے ہے کہ میں جہنم سے ورے کرم (کے مقام) میں تم کو مجتمع دیکھ رہا ہوں۔ اسکے بعد سفیان نے یہ آیت تلاوت کی۔
شیخ ابن حجر نے لکھا ہے : کرم سے مراد ہے اونچی جگہ جہاں امت محمدیہ مجتمع ہوگی۔
کِتٰبِھَا یعنی اعمالنامے کی طرف بلایا جائے گا اور کہا جائے گا : اپنا اعمالنامہ پڑھ ‘ جو خود ہی اپنی حساب فہمی کیلئے کافی ہے۔
حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سارے اعمالنامے عرش کے نیچے جمع ہوں گے۔ جب (حساب فہمی کیلئے) میدان میں لوگوں کو کھڑا کیا جائے گا تو ایک ہوا آکر اعمال ناموں کو اڑا کر لوگوں کے دائیں بائیں ہاتھوں میں پہنچا دے گی۔ سب سے پہلی تحریر ‘ جو اعمالنامے میں ہوگی ‘ وہ یہ آیت ہوگی : اِقْرَأْ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا (رواہ البیہقی) ۔
اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ ہر امت سے کہا جائے گا کہ آج تم کو تمہارے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
ھٰذَا کِتٰبْنَا یعنی یہ تمہارے اعمالنامے ہیں جو ہمارے حکم سے لکھنے والے ملائکہ نے لکھے ہیں۔
یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ یعنی تم پر تمہارے اعمال کی شہادت دے رہے ہیں۔
اِنَّا کُنَّا لَسْتَنْسِخُ ہم فرشتوں کے ذریعہ سے لکھوا لیتے تھے۔ بعض علماء نے نستنسخ کا ترجمہ کیا : ہم اعمالناموں کی نقل کرا لیتے تھے۔ اعمال لکھنے والے دونوں فرشتے آدمی کے اعمال اوپر لے جاتے ہیں ‘ اللہ ان میں سے ایسے اعمال کو قائم رکھتا ہے جن پر ثواب یا عذاب مرتب ہوتا ہے اور جو اعمال بیکار ہوتے ہیں ‘ ان کو ساقط کردیتا ہے۔ جیسے کوئی کسی سے کہتا ہے :
Ayah 45:30فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیدخلھم ربھم فی رحمتہ ذلک ھو الفوز المبین۔ سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کئے تھے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ صریح کامیابی ہے۔
Ayah 45:31واما الذین کفروا افلم تکن ایتی تتلی علیکم فاستکبرتم وکنتم قوما مجرمین اور جو لوگ کافر تھے (ان سے کہا جائے گا :) کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ سو تم نے ان کو قبول کرنے سے تکبر کیا ‘ اور تم (اس وجہ سے) بڑے مجرم لوگ تھے۔
فِیْ رَحْمَتِہٖ رحمت سے مراد ہے جنت۔ گذشتہ آیت اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ مجمل تھی ‘ اس آیت سے سزا و جزا کی تفصیل کی گئی ہے۔
الْفَوْزُ الْمُبِیْن یہ کھلی کامیابی ہے ‘ ہر طرح کی آمیزش سے پاک۔
اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ یہ استفہام انکاری یعنی انکار نفی ہے جو مفید اثبات ہے۔
فَاسْتَکْبَرْتُمْ یعنی تم نے ان کو ماننے اور ان پر یقین کرنے سے تکبر کیا۔
وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ یعنی تم ایسے لوگ تھے جن کی عادت ہی کفر اور جرم کرنے کی تھی ‘ تم کفر کرنے کے عادی تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کافروں کو اپنے غضب میں مبتلا کرے گا کیونکہ وہ عادی مجرم تھے۔
Ayah 45:32واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ لاریب فیھا قلتم ما ندری ما الساعۃ ان نظن الا
ظنا وما نحن بمستیقنین اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے تو تم نے کہا : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے۔ محض ایک خیال سا تو ہم کو بھی ہوتا ہے اور ہم کو یقین نہیں۔
اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ یعنی اللہ کا وعدۂ قیامت۔ وعدٌ مصدر ہے ‘ یعنی قیامت کا وعدہ کرنا ‘ یا بمعنی موعود ہے ‘ یعنی قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔
لاَ رَیْبَ فِیْھَا یعنی قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں کیونکہ اس کے آنے کی خبر اللہ نے دی ہے اور ان کی دی ہوئی خبر کا غلط ہونا ناممکن ہے۔
مَا السَّاعَۃُ یعنی قیامت آنے کی جب تم کو خبر دی گئی تو اس خبر پر تم کو اچنبھا ہوا اور تم نے بطور تعجب کہا : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے۔
اِنْ نّظُنُّ الاَّ ظَنًّا۔ ظنًّا کی تنوین تحقیر کیلئے ہے ‘ یعنی حقیر سا گمان ‘ خفیف سا وہم۔ ظن کا اطلاق کبھی مطلق علم پر ہوتا ہے جیسے آیت الْخَاشِعِیْنَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلَاقُوْا رَبِّھِمْ یعنی وہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ضرور ملیں گے۔ کبھی ظن کا معنی وہم ہوتا ہے ‘ اس آیت میں یہی معنی مراد ہے۔
Ayah 45:33وبدالھم سیات ما عملوا وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ اور (اس وقت) ان پر اپنے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور جس عذاب کو وہ مذاق اڑاتے تھے ‘
Ayah 45:34وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقاء یومکم ھذا وما ولکم النار وما لکم من نصرین وہ ان کو آ گھیرے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں ‘ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور (آج) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔
وَبَدَالَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا یعنی دنیا میں جو برے عمل انہوں نے کئے تھے ‘ ان کی برائیاں یا ان کی سزا (ان کے سامنے آجائے گی) ان پر ظاہر ہوجائے گی۔
وَحَاقَ بِھِمْ اور ان پر نازل ہوگا۔
اَلْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ یعنی آج تم کو عذاب میں داخل کر کے چھوڑ رکھیں گے (جیسے کوئی شخص بھولی ہوئی چیز کو چھوڑے رکھتا ہے) اللہ نسیان سے پاک ہے ‘ اسلئے نسیان سے مراد اس جگہ ترک کردینا ہے ‘ مترجم) ۔
کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا یعنی جس طرح تم نے آج کی ملاقات کی تیاری ترک کردی تھی اور اس کی پروا بھی نہیں کی تھی۔ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ میں مصدر کی اضافت ظرف کی طرف ہے ‘ یعنی اپنے رب سے ملنے کے دن کی تیاری یا اعمال کا بدلہ پانے کے دن کی تیاری تم نے ترک کردی تھی۔
وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ اور تمہاری کوئی مددگار نہیں جو تم کو دوزخ سے رہا کرا سکے۔
Ayah 45:35ذلکم بانکم اتخذتم ایت اللہ ھزوا وغرتکم الحیوۃ الدنیا فالیوم لا یخرجون منھا ولا
ھم یستعتبون یہ (تمہاری سزا) اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو ٹھٹول بنا رکھا تھا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا ‘ سو آج وہ لوگ نہ تو دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ کی خفگی کا تدارک طلب کیا جائے گا۔
ھُزُوًا یعنی مذاق کی چیز بنا رکھا تھا ‘ یعنی اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا تھا اور ان پر غور نہیں کیا تھا۔
وَغَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا یعنی تم نے خیال کر رکھا تھا کہ اس دنیوی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہوگی اور اعمال کی حساب فہمی نہ ہوگی۔
وَلاَھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ- عُتبٰی رضامندی (قاموس) استعتاب رضامندی طلب کرنا ‘ یعنی ان سے اس بات کی طلب نہیں کی جائے گی کہ توبہ کر کے اللہ کو راضی کرلو ‘ کیونکہ توبہ کا وقت گذر چکا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موت کے بعد طلب رضامندی (کی گنجائش) نہ ہوگی ‘ کیونکہ رضامندی کا حصول اعمال پر موقوف ہے اور اعمال کا وقت (مرنے کے بعد) گذر چکتا ہے۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : عُتبٰی گناہ اور بدکاری سے لوٹ جانا (توبہ کرنا) بغوی نے (اسی معنی کے لحاظ سے) لکھا ہے : ان سے طلب نہیں کی جائے گی کہ اللہ کی طاعت کی طرف لوٹ آئیں۔
ہُمْ کو یُسْتَعْتَبُوْنَ سے پہلے لانا حصر اور خصوصیت کو بتارہا ہے ‘ یعنی صرف ان سے اللہ کی ناراضگی دور کرنے کا تدارک طلب نہیں کیا جائے گا۔ مؤمنوں کی یہ حالت نہیں ہوگی۔
Ayah 45:36فللّٰہ الحمد رب السموت ورب الارض رب العلمین۔ سو تمام خوبیاں اللہ ہی کیلئے ہیں جو مالک ہے آسمانوں کا اور مالک ہے زمین کا ‘ ملک ہے سارے جہانوں کا
Ayah 45:37ولہ الکبریاء فی السموت والارض وھو العزیز الحکیم اور اسی کو بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں ‘ اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ اللہ ہی کیلئے تعریف ہے کہ اس نے مؤمنوں اور کافروں سے جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کو پورا کیا۔
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ اللہ کی ربوبیت ‘ اس کی ایک مستقل نعمت ہے جو اسکے کمال قدرت پر دلالت کر رہی ہے ‘ اسی لئے لفظ کا مکرر ذکر کیا۔
وَلَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی ان کی عظمت و بزرگی کے آثار آسمان و زمین میں ظاہر ہیں۔
الْعَزِیْزُ ایسا زبردست جس پر کوئی غالب نہ آسکے۔ اس کے مقابلہ میں بڑا ہونے کا دعویٰ کسی کیلئے جائز نہیں۔
الْحَکِیْمُ اسکا اندازہ اور فیصلہ پر حکمت ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے : بڑائی میری چادر ہے اور بزرگی میری لنگی (یعنی عظمت و کبریاء کی وجہ سے میں مخلوق کی نظر سے پوشیدہ ہوں۔ مترجم) ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اگر مجھ سے کوئی چھیننے کی کوشش کرے گا ‘ میں اس کو دوزخ میں داخل کر دوں گا۔ دوسری روایت میں آیا ہے : میں اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا۔
الحمد اللہ سورة الجاثیہ کی تفسیر 22/ربیع الثانی 1208 ھ کو ختم ہوئی
انشاء اللہ اس کے بعد سورة الاحقاف کی تفسیر آئے گی۔
الحمد اللہ ربّ العٰلمین وصلّی اللہ عَلٰی خیر خلقہ محمدٍ واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین