45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 45:1–11

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لئے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں، نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے، نیز یہ قیامت اور حشر و نشر پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے : پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غور و فکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجہ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقلوں کو پاک کردیا اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں جن سے ان پر حجت قائم ہوجاتی ہے، پھر وہ تکبر اور استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انہوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا : (ویل لکل افاک اثیم) ” ہر جھوٹے، گناہ گار کے لئے ہلاکت ہے۔ “ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہگار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے درد ناک عذاب ہے اور یہ کہ (من ورآءھم جھنم) ” ان کے پیچھے جہنم ہے۔ “ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لئے کافی ہے (و) ” اور “ بیشک وہ (لایغنی عنھم ماکسبوا شیاً ) مال جو وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے۔ (ولا ما اتخذوا من دون اللہ اولیآء) اور نہ وہ کام آئیں گے، اللہ کے سوا جن کو انہوں نے کار ساز بنا رکھا تھا جنے سے یہ لوگ مدد طلبک رتے تھے۔ پس یہ کار ساز ان کو چھوڑ دیں گے، اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی قرآنی اور کھلی آیات بیان کردیں اور یہ بھی بیان کردیا کہ لوگوں کی اس بارے میں دو قسمیں ہیں تو اس کے بعد خبر دی کہ یہ قرآن جو ان مطالب عالیہ پر مشتمل ہے، وہی ہدایت ہے، فرمایا : (ھذا ھدی) ” یہ (قرآن) ہدایت ہے۔ “ اور یہ سارے قرآن کا عمومی وصف ہے کہ وہ اپنی صفات مقدسہ اور افعال حمیدہ کے ساتھ اللہ کی معرفت کی رہنمائی کرتا ہے اور اس کے رسولوں، اس کے اولیاء اور اعداء اور ان کے اوصاف کی معرفت کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ (والذین کفروا بایت ربھم) ” اور جو اپنے رب کی آیات کے منکر ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کرتے ہیں جن کا انکار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو تو (لھم عذاب من رجز الیم) ” ان کے لئے سخت قسم کا درد ناک عذاب ہے۔ “
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

آیات 12 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لئے سمندر کو مسخر کیا۔ (لتبتغوا من فضلہ) تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرسکو۔ (ولعلکم تشکرون) ” اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ “ اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمہاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ (وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ) ” اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمہارے لئے مسخر کردیا۔ “ یعنی اپنے فضل و احسان سے۔ یہ آیت کریمہ آسمانوں اور زمین کے تمام اجسام اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت کی ہے، مثلاً سورج، چاند کواکب، ستارے، سیارے، حیوانات کی مختلف انواع، درختوں اور پھلوں کی مختلف اصناف، معدنیات کی اقسام اور یدگر چیزیں جن کے اندر بنی آدم کے مصالح اور ان کی ضروریات ہیں۔ یہ چیز اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں پوری کوشش کریں اور اپنے فکر کو اس کی آیات اور حکمتوں میں تدبیر کرنے میں صرف کریں۔ بنابریں فرمایا : (آیت) ” بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ “ ان آیات میں سے اس کائنات کی تخلیق، اس کی تدبیر اور اس کی تسخیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفوذ اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں پائی جانے والی مضبوطی، مہارت، انوکھی صنعت اور حسن تخلیق اس کی حکمت کاملہ اور اس کے علم کی دلیل ہے۔ اس کائنات کی وسعتیں اور اس کی عظمت و کثرت اللہ کے وسیع اقتدار و سلطنت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کائنات میں تخصیصات اور متضاد اشیاء کا وجود، اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کائنات میں موجود دینی اور دنیاوی منافع و مصالح اس کی بےپایاں رحمت، لامحدود و فضل و احسان اور اس کے گوناگوں لطف و کرم پر دلالت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر چیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ یکتا ہے اور وہی ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی اس چیز کا مستحق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کے سامنے تذلل کا اظہار کیا جائے، نیز ہر چیز اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ لے کر آئے ہیں، سب صداقت پر مبنی ہے۔ یہ واضح عقلی دلائل ہیں جو کسی قسم کے شک و ریب کا شائبہ قول نہیں کرتے۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

آیت 14 ۔ 15 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے، یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہگاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دیتا ہے، پس اے مومنوں کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان، تمہارے درگزر اور تمہارے صبر کی جزا کے طور پر تمہیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔ اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر پر وہ رسوا کن سخت عذاب نازل نہیں ہوگا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنا بریں فرمایا : (من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء فعلیھا ثم الی ربکم ترجعون) ” جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 45:16–17

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

آیت 16 ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انہیں (الکتب) یعنی تو رات و انجیل سے سرفراز کیا اور (الحکم) ہم نے انہیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور (النبوہ) ” نبوت “ عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔ (ورزقنھم من الطیبت) اور ہم نے انہیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من وسلویٰ نازل کیا۔ (وفضلنھم علی العلمین) اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انہیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمد یہ خارج ہے کیونکہ امت محمد یہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے۔ آیت کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے سوا دیگر امتوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور انہیں دیگر قوموں سے ممیز کیا۔ نیز وہ فضائل جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو فوقیت حاصل تھی، مثلاً : کتاب کا عطا کیا جانا، حکومت اور نبوت وغیرہ جیسے دیگر اوصاف تو وہ اس امت کو بھی حاصل ہیں اس کے علاوہ اس امت کے بہت سے فضائل ان پر مستزاد ہیں۔ پھر بنی اسرایئل کی شریعت امت محمدیہ کی شریعت کا ایک جز ہے، یہ کتاب عظیم گزشتہ تمام کتابوں پر نگہبان ہے اور محمد مصطفیٰ ﷺ گزشتہ تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ (واتینھم) اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے (بینت) ” دلائل “ جو حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں (من الامر) یعنی امر قدری سے جو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچایا ہے۔ یہ آیات وہ معجزات ہیں جن کا انہوں نے حضرت موسیٰ کے ذریعے سے مشاہدہ کیا، یہ ان سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بہترین طریقے سے ان کو قائم رکھیں، حق پر مجتمع رہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے واضح کیا ہے مگر انہوں نے اس کے برعکس حق کے ساتھ اس سے متضاد معاملہ کیا جو ان پر واجب تھا۔ پس جس معاملے میں ان کو مجتمع رہنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ اس لئے فرمایا : (فما اختلفوآ الا من بعد ما جآء ھم العلم) ” پس انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔ “ یعنی وہ علم جو عدم اختلاف کا موجب تھا صرف ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی نے انہیں اس اختلاف پر آمادہ کیا۔ (آیت) ” جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن آپ کا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ “ پس وہ حق شعاروں کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دے گا جنہوں نے باطل کو اختیار کیا اور جن کو خواہش نفس نے اختلاف پر آمادہ کیا۔
Ayahs 45:18–19

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

آیت 18 ۔ 19 یعنی ہم نے آپ کے لئے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ (فاتبعھا) ” پس اس کی اتباع کرو۔ “ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ (ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون) ” اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعت رسول کے خلاف ہے تو اس کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بےبہرہ ہیں۔ (انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاً ) یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھے کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے کہ تجھے کوئی بھلائی حاصل ہو یا تجھ سے کوئی برائی دور ہو۔ تیرے لئے درست نہیں کہ تو ان کی موافقت کرے اور ان سے موالات رکھے کیونکہ آپ اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (واللہ ولی المتقین) ” اور اللہ متقیوں کا درست ہے۔ “ اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقویٰ اور نیک عمل کے سبب سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

آیت 20 (ھذا) یعنی یہ قرآن کریم اور ذکر حکیم (بصآئر للناس) ” بصیرتیں ہیں لوگوں کے لئے۔ “ یعنی اس کے ذریعے سے لوگوں کو تمام امور میں بصیرت حاصل ہوتی ہے اور اہل ایمان اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے (لقوم یوقنون) ” یقین رکھنے والوں کے لئے “ پس وہ اس کے ذریعے سے دین کے اصول و فروع میں صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں بھلائی، مسرت اور سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ رحمت ہے، پس اس سے ان کے نفس پاک ہوتے ہیں، اس سے ان کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ان کا ایمان و یقین بڑھتا ہے اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے، جو گمراہی پر اصرار کرتا اور عناد سے کام لیتا ہے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

آیت 21 کیا کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے گناہ گار لوگوں اور اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں (ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت) ” کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ “ یعنی انہوں نے اپنے رب کے حقوق قائم کئے، اسے ناراض کرنے سے اجتناب کیا اور ہمیشہ اس کی رضا کو اپنی خواہشات نفس پر ترجیح دیتے ہیں، یعنی کیا وہ سمجھتے ہیں کہ (سوآء) وہ دنیا و آخرت میں مساوی ہوں گے ؟ ان کا اندازہ اور ان کا یہ گمان بہت برا ہے اور بہت برا ہے وہ فیصلہ جو انہوں نے کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو احکم الحاکمین، سب سے بڑھ کر عادل ہستی کی حکمت کے خلاف، عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے متناقض اور ان اصولوں کے متضاد ہے جنہیں لے کر کتابیں نازل ہوئیں اور جن کے بارے میں انبیاء ومرسلین نے آگاہ کیا۔ فی الواقع قطعی فیصلہ یہ ہے کہ اہل ایمان جو نیک عمل کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے لئے اس کی نیکی کے مطابق نصرت، فلاح، سعادت اور دنیا و آخرت کا ثواب ہے اور برئایوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی، رسوائی، عذاب اور بدبختی ہے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت 22 یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ تخلیق فرمایا تاکہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا محاسبہ کرے گا جن کو اس نے اپنی عبادت کا حکم دیا اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا کہ آیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں یا کفر کا رویہ اختیار کر کے کفار کی سزا کے مستحق بنتے ہیں ؟
Ayahs 45:23–26

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (افرء یت) کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ؟ (من اتخذ الھہ ھوۂ ) ” جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ “ جس راستے پر چاہا چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ (واضلہ اللہ علی علم) اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہوسکتا ہے۔ (وختم علی سمعہ) ” اور اس کے کانوں پر مہر لگا دی۔ “ اس لئے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لئے فائدہ مند ہو (وقلبہ) ” اور اس کے دل پر “ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا (وجعل علی بصرہ غشوۃ) ” اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ “ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے (فمن یھدیہ من بعد اللہ) ” پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے ؟ “ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیئے اور گمراہی کے دروازے کھول دیئے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کئے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔ “ جو تمہیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمہیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔ (وقالوا) یعنی منکرین آخرت کہت یہیں : (آیت) ” یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مرجاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں جو کوئی مرجاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ (ان ھم الایظنون) پس انہوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل وبرہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھا لاؤ۔ “ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباؤ و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے۔ انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انہوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجیے : اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لئے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
Ayahs 45:27–37

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہ غالب اور دانا ہے

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لئے تیاری کریں، چناچہ فرمایا : (وتری) اے اس دن کو دیکھنے والے ! تو دیکھے گا کہ (کل امۃ جاثیۃ) ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ (کل امۃ تدعی الی کتبھا) ” ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔ “ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انہوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انہوں نے اسے ضائع کردیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو ؟ تو حضرت موسیٰ کی امت کو شریعت موسی، حضرت عیسیٰ کی امت کو شریعت عیسیٰ اور محمد ﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف تھے۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال ہے اور یہ معنی فی نفسہ صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد : (کل امۃ تدعی الی کتبھا) سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامہ اعمال اور خیر و شر کی طرف سے جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اسکے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسمآء فعلیھا) (السبحائیۃ :15/30) ” جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لئے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔ “ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے : (ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق) ” یہ ہماری تحریر ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔ “ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمہارے درمیان حق اور انصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ (انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون) ” بیشک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔ اس سے مراد نامہ اعمال ہے۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا لہٰذا فرمایا : (فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت) جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح، یعنی واجبات اور مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی (فید خلھم ربھم فی رحمتہ) ” پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ “ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ (ذلک ھو الفوز المبین) یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہوجاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہوجاتی ہے۔ (واما الذین کفروا) اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انہیں اجر و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا : (افلم تکن ایتی تتلی علیکم) ” کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ “ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمہاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمہارے لئے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمہیں تمہارے کرتوتوں کے سزا دی جائے گی۔ نیز انہیں زجر و توبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا : (آیت) ” اور جب کا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔ “ اس کا انکار کرتے ہوئے (آیت) ” ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔ “ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعد الموت کی خبر لایا انہوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا تھا۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وبدالھم سیات ما عملوا) یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ (وحاق بھم) اور نازل ہوگا ان پر (ماکانوا بہ یستھزء ون) ” جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ “ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوگا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ (وقیل الیوم ننسکم) ” اور کہا جائے گا آج ہم تمہیں بھلا دیں گے۔ “ یعنی ہم تمہیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ (کما نسیتم لقآء یومکم) ” جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔ “ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ (وما وئکم النار) یعنی جہنم تمہارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (وما لکم من نصرین) ” اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔ “ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ (ذلکم) یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ (اتخذتم ایت اللہ ھزوا) ” تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا۔ “ حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں، نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا ہے۔ (وغرتکم الحیوۃ الدنیا) ؁ ور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہوگئے، اس کے لئے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لئے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ (آیت) ” پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔ “ یعنی انہیں ملہت دی جائے گی نہ انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کرلیں۔ (فللہ الحمد) ” پس اللہ ہی کے لئے ہر قسم کی حمد ہے۔ “ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ (رب السموت و رب الارض رب العلمین) ” جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔ “ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمد وثناء ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ (ولہ الکبریآء فی السموت ولارض) ” اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے۔ “ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تدلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ (وھو العزیز) اور وہ ہر چیز پر غالب ہے (الحکیم) ” حکمت والا ہے۔ “ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لئے پیدا کی ہے۔