45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

آیت 28 کے فقرے وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورة جس میں لفظ جاثیہ آیا ہے۔

موضوع اور مباحث

اس کا موضوع توحید و آخرت کے متعلق کفار مکہ کے شبہات و اعتراضات کا جواب دینا اور اس رویے پر ان کو متنبہ کرنا ہے جو انہوں نے قرآن کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کر رکھا تھا۔ کلام کا آغاز توحید کے دلائل سے کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انسان کے اپنے وجود سے لے کر زمین و آسمان تک ہر طرف پھیلی ہوئی بیشمار نشانیوں کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا ہے کہ تم جدھر بھی نگاہ اٹھا کر دیکھو، ہر چیز اسی توحید کی شہادت دے رہی ہے جسے ماننے سے تم انکار کر رہے ہو۔ یہ طرح طرح کے حیوانات، یہ شب و روز، یہ بارشیں اور ان سے اگنے والی نباتات، یہ ہوائیں، اور یہ انسان کی اپنی پیدائش، ان ساری چیزوں کو اگر کوئی شخص آنکھیں کھول کر دیکھے اور کسی تعصب کے بغیر اپنی عقل کو سیدھے طریقہ سے استعمال کر کے ان پر غور کرے تو یہ نشانیاں اسے اس امر کا یقین دلانے کے لیے بالکل کافی ہیں کہ یہ کائنات بے خدا نہیں ہے، نہ بہت سے خداؤں کی خدائی میں چل رہی ہے، بلکہ ایک ہی خدا نے اسے بنایا ہے، اور وہی اکیلا اس کا مدبر اور فرماں روا ہے۔ البتہ اس شخص کی بات دوسری ہے جو نہ ماننے کی قسم کھا کر بیٹھ گیا ہو، یا شکوک و شبہات ہی میں پڑے رہنے کا فیصلہ کرچکا ہو۔ اسے دنیا میں کہیں سے بھی یقین و ایمان کی دولت حاصل نہیں ہوسکتی۔ آ گے چل کر دوسرے رکوع کی ابتدا میں پھر فرمایا گیا ہے کہ انسان اس دنیا میں جتنی چیزوں سے کام لے رہا ہے، اور جو بےحد و حساب اشیاء اور قوتیں اس کائنات میں اس کے مفاد کی خدمت کر رہی ہیں، وہ آپ سے آپ کہیں سے نہیں آگئی ہیں، نہ دیویوں اور دیوتاؤں نے انہیں فراہم کیا ہے، بلکہ وہ ایک ہی خدا ہے جس نے یہ سب کچھ اپنے پاس سے اس کو بخشا اور اس کے لیے مسخر کردیا ہے۔ کوئی شخص صحیح غور و فکر سے کام لے تو اس کی اپنی عقل ہی پکار اٹھے گی کہ وہی خدا انسان کا محسن ہے اور اسی کا یہ حق ہے کہ انسان اس کا شکر گزار ہو۔ اس کے بعد کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی، استکبار، استہزاء اور اصرار علی الکفر پر سخت ملامت کی گئی ہے جس سے وہ قرآن کی دعوت کا مقابلہ کر رہے تھے، اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ قرآن وہی نعمت لے کر آیا ہے جو پہلے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی، جس کی بدولت وہ تمام اقوام عالم پر فضیلت کے مستحق ہوئے تھے۔ انہوں نے جب اس نعمت کی ناقدری کی اور دین میں اختلاف کر کے اسے کھو دیا، تو اب یہ دولت تمہارے ہاں بھیجی گئی ہے۔ یہ ایک ایسا ہدایت نامہ ہے جو دین کی صاف شاہراہ انسان کو دکھاتا ہے۔ جو لوگ اپنی جہالت و حماقت سے اس کو رد کریں گے وہ اپنی ہی تباہی کا سامان کریں گے۔ اور خدا کی تائید و رحمت کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اس کی پیروی قبول کر کے تقویٰ کی روش پر قائم ہوجائیں۔ اسی سلسلے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبعین کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ خدا سے بےخوف لوگ تمہارے ساتھ جو بیہودگیاں کر رہے ہیں ان پر درگزر اور تحمل سے کام لو۔ تم صبر کرو گے تو خدا خود ان سے نمٹے گا اور تمہیں اس صبر کا اجر عطا فرمائے گا۔ پھر عقیدہ آخرت کے متعلق کفار کے جاہلانہ خیالات پر کلام کیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ ہم گردش ایام سے بس اسی طرح مرتے ہیں جس طرح ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ موت کے بعد کوئی روح باقی نہیں رہتی جسے قبض کیا جاتا ہو اور پھر کسی وقت دوبارہ لا کر انسانی جسم میں پھونک دیا جائے۔ اس چیز کا اگر تمہیں دعویٰ ہے تو ہمارے مرے ہوئے آباؤ اجداد کو زندہ کر کے دکھاؤ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے چند دلائل ارشاد فرمائے ہیں : ایک یہ کہ تم یہ بات کسی علم کی بنا پر نہیں کہہ رہے ہو بلکہ محض گمان کی بنیاد پر اتنا بڑا حکم لگا بیٹھے ہو۔ کیا فی الواقع تمہیں یہ علم ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور روحیں قبض نہیں کی جاتیں بلکہ فنا ہوجاتی ہیں ؟ دوسرے یہ کہ تمہارے اس دعوے کی بنیاد زیادہ سے زیادہ بس یہ ہے کہ تم نے کسی مرنے والے کو اٹھ کر دنیا میں آتے نہیں دیکھا ہے۔ کیا یہ بات اتنا بڑا دعویٰ کردینے کے لیے کافی ہے کہ مرنے والے پھر کبھی نہیں اٹھیں گے ؟ کیا تمہارے تجربے اور مشاہدے میں کسی چیز کا نہ آنا یہ معنی رکھتا ہے کہ تمہیں اس چیز کے نہ ہونے کا علم حاصل ہے ؟ تیسرے یہ کہ یہ بات سراسر عقل اور انصاف کے خلاف ہے کہ نیک اور بد، فرمانبردار اور نافرمان، ظالم اور مظلوم، آخر کار سب یکساں کردیے جائیں، کسی بھلائی کا کوئی اچھا نتیجہ اور کسی برائی کا کوئی برا نتیجہ نہ نکلے، نہ کسی مظلوم کی داد رسی ہو اور نہ کوئی ظالم اپنے کیے کی سزا پائے، بلکہ سب ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ خدا کی اس کائنات کے متعلق جس نے یہ تصور قائم کیا ہے اس نے بڑا ہی غلط تصور قائم کیا ہے۔ اس تصور کو ظالم اور بد کار لوگ تو اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ وہ اپنے افعال کا برا نتیجہ نہیں دیکھنا چاہتے، لیکن خدا کی یہ خدائی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ ایک برحق نظام ہے جس میں نیک و بد کو بالآخر یکساں کردینے کا ظلم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ چوتھے یہ کہ انکار آخرت کا عقیدہ اخلاق کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ اس کو اختیار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کے بندے بنے ہوئے ہیں، اور اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں بندگیٔ نفس کی کھلی چھوٹ مل جائے۔ پھر جب وہ اس عقیدے کو اختیار کرلیتے ہیں تو یہ انہیں گمراہ سے گمراہ تر کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کی اخلاقی حس بالکل مردہ ہوجاتی ہے اور ہدایت کے تمام دروازے ان کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔ یہ دلائل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ پورے زور کے ساتھ فرماتا ہے کہ جس طرح تم آپ سے آپ زندہ نہیں ہوگئے ہو، بلکہ ہمارے زندہ کرنے سے زندہ ہوئے ہو، اسی طرح تم آپ سے آپ نہیں مر جاتے، بلکہ ہمارے موت دینے سے مرتے ہو، اور ایک وقت یقیناً ایسا آنا ہے جب تم سب بیک وقت جمع کیے جاؤ گے۔ اس بات کو اگر آج تم اپنی جہالت و نادانی سے نہیں مانتے تو نہ مانو، جب وہ وقت آجائے گا تو تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اپنے خدا کے حضور پیش ہو اور تمہارا پورا نامہ اعمال بےکم وکاست تیار ہے جو تمہارے ایک ایک کرتوت کی شہادت دے رہا ہے۔ اس وقت تم کو معلوم ہوجائے گا کہ عقیدہ آخرت کا یہ انکار اور اس کا یہ مذاق جو تم اڑا رہے ہو، تمہیں کس قدر مہنگا پڑا ہے۔

زمانہ نزول

اس سورة کا زمانہ نزول بھی کسی معتبر روایت میں بیان نہیں ہوا ہے۔ مگر اس کے مضامین سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورة دخان کے بعد قریبی زمانے میں نازل ہوئی ہے۔ دونوں سورتوں کے مضامین میں ایسی مشابہت ہے جس سے یہ دونوں توام نظر آتی ہیں۔

Ayah 45:1
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے۔1

سورة الْجَاثِیَة 1 یہ اس سورے کی مختصر تمہید ہے جس میں سامعین کو دو باتوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ کتاب محمد ﷺ کی اپنی تصنیف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نازل ہو رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے وہ خدا نازل کر رہا ہے جو زبردست بھی ہے اور حکیم بھی۔ اس کا زبردست ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان اس کے فرمان سے سرتابی کی جرأت نہ کرے، کیونکہ نافرمانی کر کے وہ اس کی سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ اور اس کا حکیم ہونا اس کا متقاضی ہے کہ انسان پورے اطمینان کے ساتھ برضا ورغبت اس کی ہدایات اور اس کے احکام کی پیروی کرے، کیونکہ اس کی کسی تعلیم کے غلط یا نامناسب یا نقصان دہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے۔2

سورة الْجَاثِیَة 2 تمہید کے بعد اصل تقریر کا آغاز اس طرح کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ پس منظر میں اہل مکہ کے وہ اعتراضات ہیں جو وہ نبی ﷺ کی پیش کردہ تعلیم پر کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آخر محض ایک شخص کے کہنے سے ہم اتنی بڑی بات کیسے مان لیں کہ جن بزرگ ہستیوں کے آستانوں سے آج تک ہماری عقیدتیں وابستہ رہی ہیں وہ سب ہیچ ہیں اور خدائی بس ایک خدا کی ہے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ جس حقیقت کو ماننے کی دعوت تمہیں دی جا رہی ہے اس کی سچائی کے نشانات سے تو سارا عالم بھرا پڑا ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو۔ تمہارے اندر اور تمہارے باہر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو شہادت دے رہی ہیں کہ یہ ساری کائنات ایک خدا اور ایک ہی خدا کی تخلیق ہے اور وہی اکیلا اس کا مالک، حاکم اور مدبر ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ آسمان و زمین میں نشانیاں کس چیز کی ہیں۔ اس لیے کہ سارا جھگڑا ہی اس وقت اس بات پر چل رہا تھا کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خداؤں اور معبودوں کو بھی ماننے پر اصرار کر رہے تھے، اور قرآن کی دعوت یہ تھی کہ ایک خدا کے سوا نہ کوئی خدا ہے نہ معبود۔ لہٰذا بےک ہے یہ بات آپ ہی آپ موقع و محل سے ظاہر ہو رہی تھی کہ نشانیوں سے مراد توحید کی صداقت اور شرک کے بطلان کی نشانیاں ہیں۔ پھر یہ جو فرمایا کہ " یہ نشانیاں ایمان لانے والوں کے لیے ہیں " اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بجائے خود تو یہ نشانیاں سارے ہی انسانوں کے لیے ہیں، لیکن انہیں دیکھ کر صحیح نتیجے پر وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو ایمان لانے کے لیے تیار ہوں غفلت میں پڑے ہوئے لوگ، جو جانوروں کی طرح جیتے ہیں، اور ہٹ دھرم لوگ، جو نہ ماننے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں، ان کے لیے ان نشانیوں کا ہونا اور نہ ہونا یکساں ہے۔ چمن کی رونق اور اس کا حسن و جمال تو آنکھوں والے کے لیے ہے۔ اندھا کسی رونق اور کسی حسن و جمال کا ادراک نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے چمن کا وجود ہی بےمعنی ہے۔
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری اپنی پیدائش میں، اور اُن حیوانات میں جن کو اللہ (زمین میں)پھیلا رہا ہے، بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں۔3

سورة الْجَاثِیَة 3 یعنی جو لوگ انکار کا فیصلہ کرچکے ہیں، یا جنہوں نے شک ہی کی بھول بھلیوں میں بھٹکنا اپنے لیے پسند کرلیا ہے ان کا معاملہ تو دوسرا ہے، مگر جن لوگوں کے دل کے دروازے یقین کے لیے بند نہیں ہوئے ہیں وہ جب اپنی پیدائش پر، اور اپنے وجود کی ساخت پر، اور زمین میں پھیلے ہوئے انواع و اقسام کے حیوانات پر غور کی نگاہ ڈالیں گے تو انہیں بیشمار علامات ایسی نظر آئیں گی جنہیں دیکھ کر یہ شبہ کرنے کی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے گی کہ شاید یہ سب کچھ کسی خدا کے بغیر بن گیا ہو، یا شاید اس کے بنانے میں ایک سے زیادہ خداؤں کا دخل ہو۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد اول، النحل، حواشی 7 تا 9، جلد سوم، الحج، حواشی 5 تا 9، المومنون، حواشی 12۔ 13، الفرقان، حاشیہ 69، الشعراء، حواشی 57، 58، النمل، حاشیہ 80، الروم، حواشی 25 تا 32، 79۔ جلد چہارم، السجدہ، حواشی 14 تا 18۔ یٰس، آیات 71 تا 73۔ الزمر، آیت 6۔ المومن، حواشی 97۔ 98۔ 110)۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں ، 4 اور اُس رزق میں5 جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھاتا ہے،6 اور ہواوٴں کی گردش میں 7 بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

سورة الْجَاثِیَة 4 رات اور دن کا یہ فرق و اختلاف اس اعتبار سے بھی نشانی ہے کہ دونوں پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں، اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک روشن ہے اور دوسرا تاریک، اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک مدت تک بڑی تدریج دن بڑا اور رات چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہے، پھر ایک وقت جا کر دونوں برابر ہوجاتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کے فرق و اختلاف جو رات اور دن میں پائے جاتے ہیں اور ان سے جو عظیم حکمتیں وابستہ ہیں، وہ اس بات کی صریح علامت ہیں کہ سورج اور زمین اور موجودات زمین کا خالق ایک ہی ہے، اور ان دونوں کروں کو ایک ہی زبردست اقتدار نے قابو میں رکھا ہے، اور وہ کوئی اندھا بہرا بےحکمت اقتدار نہیں ہے بلکہ ایسا حکیمانہ اقتدار ہے جس نے یہ اٹل حساب قائم کر کے اپنی زمین کو زندگی کی ان بیشمار انواع کے لیے موزوں جگہ بنادیا ہے جو نباتات، حیوانات اور انسان کی شکل میں اس نے یہاں پیدا کی ہیں۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، یونس، حاشیہ 65، جلد سوم، النمل، حاشیہ 104، القصص، حاشیہ 92۔ جلد چہارم، لقمان، آیت 29، حاشیہ 50۔ یٰس، آیت 37، حاشیہ 32) سورة الْجَاثِیَة 5 رزق سے مراد یہاں بارش ہے، جیسا کہ بعد کے فقرے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 6 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد سوم، المومنون، حاشیہ 17، الفرقان، حواشی 62 تا 65، الشعراء، حاشیہ 5، النمل، حواشی 73۔ 74، الروم، حواشی 35۔ 73۔ جلد چہارم، یٰس حواشی 26 تا 31۔ سورة الْجَاثِیَة 7 ہواؤں کی گردش سے مراد مختلف اوقات میں زمین کے مختلف حصوں پر اور مختلف بلندیوں پر مختلف ہوائیں چلنا ہے جن سے موسموں کی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ دیکھنے کی چیز صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ زمین کے اوپر ایک وسیع کرہ ہوائی پایا جاتا ہے جس کے اندر وہ تمام عناصر موجود ہیں جو زندہ مخلوقات کو سانس لینے کے لیے درکار ہیں، اور ہوا کے اسی لحاف نے زمین کی آبادی کو بہت سی آفات سماوی سے بچا رکھا ہے۔ اس کے ساتھ دیکھنے کی چیز یہ بھی ہے کہ یہ ہوا محض بالائی فضا میں بھر کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف طریقوں سے چلتی رہتی ہے۔ کبھی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے اور کبھی گرم۔ کبھی بند ہوجاتی ہے اور کبھی چلنے لگتی ہے۔ کبھی ہلکی چلتی ہے تو کبھی تیز، اور کبھی آندھی اور طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ کبھی خشک ہوا چلتی ہے اور کبھی مرطوب۔ کبھی بارش لانے والی ہوا چلتی ہے اور کبھی اس کو اڑا لے جانے والی چل پڑتی ہے۔ یہ طرح طرح کی ہوائیں کچھ یوں ہی اندھا دھند نہیں چلتیں بلکہ ان کا ایک قانون اور ایک نظام ہے جو شہادت دیتا ہے کہ یہ انتظام کمال درجہ حکمت پر مبنی ہے اور اس سے بڑے اہم مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔ پھر اس کا بڑا گہرا تعلق اس سردی اور گرمی سے ہے جو زمین اور سورج کے درمیان بدلتی ہوئی مناسبتوں کے مطابق گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے، اور مزید براں اس کا نہایت گہرا تعلق موسمی تغیرات اور بارشوں کی تقسیم سے بھی ہے۔ یہ ساری چیزیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ کسی اندھی فطرت نے اتفاقاً یہ انتظامات نہیں کردیے ہیں، نہ سورج اور زمین اور ہوا اور پانی اور نباتات اور حیوانات کے الگ الگ مدبر ہیں، بلکہ لازماً ایک ہی خدا ان سب کا خالق ہے اور اسی کی حکمت نے ایک مقصد عظیم کے لیے یہ انتظام قائم کیا ہے، اور اسی کی قدرت سے یہ پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک مقرر قانون پر چل رہا ہے۔
Ayahs 45:6–7

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں۔ اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔8

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بد اعمال شخص کے لیے

سورة الْجَاثِیَة 8 یعنی جب اللہ کی ہستی اور اس کی وحدانیت پر خود اللہ ہی کے بیان کیے ہوئے یہ دلائل سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اب کیا چیز ایسی آسکتی ہے جس سے انہیں دولت ایمان نصیب ہوجائے۔ اللہ کا کلام تو وہ آخری چیز ہے جس کے ذریعہ سے کوئی شخص یہ نعمت پاسکتا ہے۔ اور ایک ان دیکھی حقیقت کا یقین دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ جو معقول دلائل ممکن ہیں وہ اس کلام پاک میں پیش کردیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی انکار ہی کرنے پر تلا ہوا ہو تو انکار کرتا رہے۔ اسکے انکار سے حقیقت نہیں بدل جائے گی۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں ، اور وہ اُن کو سُنتا ہے، پھر پُورے اِستکبار کے ساتھ اپنے کُفر پر اِس طرح اَڑا رہتا ہے کہ گویا اُس نے اُن کو سُنا ہی نہیں۔9 ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مُژدہ سُنا دو

سورة الْجَاثِیَة 9 بالفاظ دیگر فرق اور بہت بڑا فرق ہے اس شخص میں جو نیک نیتی کے ساتھ اللہ کی آیات کو کھلے دل سے سنتا اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرتا ہے، اور اس شخص میں جو انکار کا پیشگی فیصلہ کر کے سنتا ہے اور کسی غور و فکر کے بغیر اپنے اسی فیصلے پر قائم رہتا ہے جو ان آیات کو سننے سے پہلے وہ کرچکا تھا۔ پہلی قسم کا آدمی اگر آج ان آیات کو سن کر ایمان نہیں لا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کافر رہنا چاہتا ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مزید اطمینان کا طالب ہے۔ اس لیے اگر اس کے ایمان لانے میں دیر بھی لگ رہی ہے تو یہ بات عین متوقع ہے کہ کل کوئی دوسری آیت اس کے دل میں اتر جائے اور وہ مطمئن ہو کر مان لے لیکن دوسری قسم کا آدمی کبھی کوئی آیت سن کر بھی ایمان نہیں لا سکتا۔ کیونکہ وہ پہلے ہی آیات الہٰی کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کرچکا ہے۔ اس حالت میں بالعموم وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن کے اندر تین صفات موجود ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے صداقت ان کو اپیل نہیں کرتی۔ دوسرے یہ کہ وہ بد عمل ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایسی تعلیم و ہدایت کو مان لینا انہیں سخت ناگوار ہوتا ہے جو ان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتی ہو۔ تیسرے یہ کہ وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں ہمیں کوئی کیا سکھائے گا، اس لیے اللہ کی جو آیات انہیں سنائی جاتی ہیں ان کو وہ سرے سے کسی غور و فکر کا مستحق ہی نہیں سمجھتے اور ان کے سننے کا حاصل بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو نہ سننے کا تھا۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنا لیتا ہے۔10 ایسے سب لوگوں کے لیے ذلّت کا عذاب ہے

سورة الْجَاثِیَة 10 یعنی اس ایک آیت کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ تمام آیات کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ مثلاً جب وہ سنتا ہے کہ قرآن میں فلاں بات بیان ہوئی ہے تو اسے سیدھے معنی میں لینے کے بجائے پہلے تو اسی میں کوئی ٹیڑھ تلاش کر کے نکال لاتا ہے تاکہ اسے مذاق کا موضوع بنائے، پھر اس کا مذاق اڑانے کے بعد کہتا ہے اجی ان کے کیا کہنے ہیں، وہ تو روز ایک سے ایک نرالی بات سنا رہے ہیں، دیکھو فلاں آیت میں انہوں نے یہ دلچسپ بات کہی ہے، اور فلاں آیت کے لطائف کا تو جواب ہی نہیں ہے۔
Ayahs 45:10–11

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

اُن کے آگے جہنّم ہے۔11 جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کر سکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے۔12 اُن کے لیے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا

سورة الْجَاثِیَة 11 اصل الفاظ ہیں مِنْ وَّرَآئِھِمْ جَھَنَّمُ۔ وراء کا لفظ عربی زبان میں ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو آدمی کی نظر سے اوجھل ہو، خواہ وہ آگے ہو یا پیچھے۔ اس لیے دوسرا ترجمہ ان الفاظ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ان کے پیچھے جہنم ہے۔ " اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ بیخبر منہ اٹھائے اس راہ پر دوڑے جا رہے ہیں اور انہیں احساس نہیں ہے کہ آگے جہنم ہے جس میں وہ جا کر گرنے والے ہیں۔ دوسرے معنی لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ آخرت سے بےفکر ہو کر اپنی اس شرارت میں مشغول ہیں اور انہیں پتہ نہیں ہے کہ جہنم ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 12 یہاں ولی کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک وہ دیویاں اور دیوتا اور زندہ یا مردہ پیشوا جن کے متعلق مشرکین نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جو شخص اس کا متوسل ہو وہ خواہ دنیا میں کچھ ہی کرتا ہے، خدا کے ہاں اس کی پکڑ نہ ہو سکے گی، کیونکہ ان کی مداخلت اسے خدا کے غضب سے بچا لے گی۔ دوسرے، وہ سردار اور لیڈر اور امراء و حکام جنہیں خدا سے بےنیاز ہو کر لوگ اپنا رہنما اور مطاع بناتے ہیں، اور آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی کرتے ہیں، اور انہیں خوش کرنے کے لیے خدا کو ناخوش کرنے میں تامل نہیں کرتے یہ آیت ایسے لوگوں کو خبردار کرتی ہے کہ جب اس روش کے نتیجے میں جہنم سے ان کو سابقہ پیش آئے گا تو ان دونوں قسم کے سرپرستوں میں سے کوئی بھی انہیں بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم تفسیر سورة الشوریٰ ، 6)
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

وہ اللہ ہے تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخّر کیاتاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں13 اور تم اس کا فضل تلاش کرو14 اور شکر گزار رہو

سورة الْجَاثِیَة 13 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 83، جلد سوم، الروم، حاشیہ 69، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 55، المومن، حاشیہ۔ 11، الشوریٰ ، حاشیہ 54۔ سورة الْجَاثِیَة 14 یعنی سمندر میں تجارت، ماہی گیری، غواصی، جہاز رانی اور دوسرے ذرائع سے رزق حلال حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخّر کر دیا ہے،15 سب کچھ اپنے پاس سے۔۔۔۔16 اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔17

سورة الْجَاثِیَة 15 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 44، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 35۔ سورة الْجَاثِیَة 16 اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا یہ عطیہ دنیا کے بادشاہوں کا سا عطیہ نہیں ہے جو رعیت سے حاصل کیا ہوا مال رعیت ہی میں سے کچھ لوگوں کو بخش دیتے ہیں، بلکہ کائنات کی ساری نعمتیں اللہ کی اپنی پیدا کردہ ہیں اور اس نے اپنی طرف سے یہ انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ دوسرے یہ کہ نہ ان کی نعمتوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے میں کسی اور ہستی کا کوئی دخل، تنہا اللہ ہی ان کا خالق بھی ہے اور اسی نے اپنی طرف سے وہ انسان کو عطا کی ہیں۔ سورة الْجَاثِیَة 17 یعنی اس تسخیر میں اور ان چیزوں کو انسان کے لیے نافع بنانے میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ یہ نشانیاں اس حقیقت کی طرف کھلا کھلا اشارہ کر رہی ہیں کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کائنات کی تمام اشیاء اور قوتوں کا خالق ومالک اور مدبر و منتظم ایک ہی خدا ہے جس نے ان کو ایک قانون کا تابع بنا رکھا ہے۔ اور وہی خدا انسان کا رب ہے جس نے اپنی قدرت اور حکمت اور رحمت سے ان تمام اشیاء اور وقتوں کو انسان کی زندگی، اس کی معیشت، اس کی آسائش، اس کی ترقی اور اس کی تہذیب و تمدن کے لیے سازگار و مددگار بنایا ہے۔ اور تنہا وہی خدا انسان کی عبودیت اور شکر گزاری اور نیاز مندی کا مستحق ہے نہ کہ کچھ دوسری ہستیاں جن کا نہ ان اشیاء اور قوتوں کے پیدا کرنے میں کوئی حصہ، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے اور نافع بنانے میں کوئی دخل۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے نبی ؐ،ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے بُرے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے ،18 اُں کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔19

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا پھر جانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے

سورة الْجَاثِیَة 18 اصل الفاظ ہیں اَلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّام اللہِ۔ لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " جو لوگ اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے "۔ لیکن عربی محاورے میں ایسے مواقع پر ایام سے مراد محض دن نہیں بلکہ وہ یادگار دن ہوتے ہیں جن میں اہم تاریخی واقعات پیش آئے ہوں۔ مثلاً ایام العرب کا لفظ تاریخ عرب کے اہم واقعات اور قبائل عرب کی ان بڑی بڑی لڑائیوں کے لیے بولا جاتا ہے جنہیں بعد کی نسلیں صدیوں تک یاد کرتی رہی ہیں۔ یہاں ایام اللہ سے مراد کسی قوم کے وہ برے دن ہیں جب اللہ کا غضب اس پر ٹوٹ پڑے اور اپنے کرتوتوں کی پاداش میں وہ تباہ کر کے رکھ دی جائے۔ اسی معنی کے لحاظ سے ہم نے اس فقرے کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ " جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے، " یعنی جن کو یہ خیال نہیں ہے کہ کبھی وہ دن بھی آئے گا جب ہمارے ان افعال پر ہماری شامت آئے گی، اور اسی غفلت نے ان کو ظلم و ستم پر دلیر کردیا ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 19 مفسریں نے اس آیت کے دو مطلب بیان کیے ہیں، اور آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان اس ظالم گروہ کی زیادتیوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ ان کو اپنی طرف سے ان کے صبر و حلم اور ان کی شرافت کی جزا دے اور راہ خدا میں جو اذیتیں انہوں نے برداشت کی ہیں ان کا اجر عطا فرمائے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اس گروہ سے درگزر کریں تاکہ اللہ خود اس کی زیادتیوں کا بدلہ اسے دے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک تھا جب تک مسلمانوں کو جنگ کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ پھر جب اس کی اجازت آگئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نسخ کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ " درگزر " کا لفظ اس معنی میں کبھی نہیں بولا جاتا کہ جب آدمی کسی کی زیادتیوں کا بدلہ لینے پر قادر نہ ہو تو اس سے درگزر کرے، بلکہ اس موقع پر صبر، تحمل اور برداشت کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان الفاظ کو چھوڑ کر جب یہاں درگزر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اہل ایمان انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود ان لوگوں کی زیادتیوں کا جواب دینے سے پرہیز کریں جنہیں خدا سے بےخوفی نے اخلاق و آدمیت کی حدیں توڑ ڈالنے پر جری کردیا ہے۔ اس حکم کا کوئی تعارض ان آیات سے نہیں ہے جن میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ جنگ کی اجازت کا تعلق اس حالت سے ہے جب مسلمانوں کی حکومت کسی کافر قوم کے خلاف باقاعدہ کارروائی کرنے کی کوئی معقول وجہ پائے۔ اور عفو و درگزر کا حکم ان عام حالات کے لیے ہے جن میں اہل ایمان کو خدا سے بےخوف لوگوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سے سابقہ پیش آئے اور وہ انہیں اپنی زبان و قلم اور اپنے برتاؤ سے طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ اس حکم کا مقصود یہ ہے کہ مسلمان اپنے مقام بلند سے نیچے اتر کر ان پست اخلاق لوگوں سے الجھنے اور جھگڑنے اور ان کی ہر بیہودگی کا جواب دینے پر نہ اتر آئیں۔ جب تک شرافت اور معقولیت کے ساتھ کسی الزام یا اعتراض کو جواب دینا یا کسی زیادتی کی مدافعت کرنا ممکن ہو، اس سے پرہیز نہ کیا جائے۔ مگر جہاں بات ان حدود سے گزرتی نظر آئے وہاں چپ سادھ لی جائے اور معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے۔ مسلمان ان سے خود الجھیں گے تو اللہ ان سے نمٹنے کے لیے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے گا۔ درگزر سے کام لیں گے تو اللہ خود ظالموں سے نمٹے گا اور مظلوموں کو ان کے تحمل کا اجر عطا فرمائے گا۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حُکم20 اور نبوّت عطا کی تھی۔ اُن کو ہم نے عمدہ سامانِ زیست سے نوازا ، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی،21

سورة الْجَاثِیَة 20 حکم سے مراد تین چیزیں ہیں۔ ایک، کتاب کا علم و فہم اور دین کی سمجھ۔ دوسرے، کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت۔ تیسرے، معاملات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ سورة الْجَاثِیَة 21 یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انہیں تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کردی، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں دنیا کی تمام قوموں میں سے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے چن لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ کے حامل ہوں اور خدا پرستی کے علمبردار بن کر اٹھیں۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کے معاملہ میں اُنہیں واضح ہدیایت دے دیں۔ پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رُونما ہوا وہ (ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ)عِلم آجانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔22 اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

سورة الْجَاثِیَة 22 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حاشیہ 23، آل عمران، حواشی 17۔ 18۔ جلد چہارم، الشوریٰ ، حواشی نمبر 22۔ 23۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

اس کے بعد اب اے نبی ؐ ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت)پر قائم کیا ہے۔23 لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے

سورة الْجَاثِیَة 23 مطلب یہ ہے کہ جو کام پہلے بنی اسرائیل کے سپرد کیا گیا تھا وہ اب تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔ انہوں نے علم پانے کے باوجود اپنی نفسا نفسی سے دین میں ایسے اختلافات بر پا کیے، اور آپس میں ایسی گروہ بندیاں کر ڈالیں جن سے وہ اس قابل نہ رہے کہ دنیا کو خدا کے راستے پر بلا سکیں۔ اب اسی دین کی صاف شاہراہ پر تمہیں کھڑا کیا گیا ہے تاکہ تم وہ خدمت انجام دو جسے بنی اسرائیل چھوڑ بھی چکے ہیں اور ادا کرنے کے اہل بھی نہیں رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، الشوریٰ ، آیات 13 تا 15 مع حواشی 20 تا 26)
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔24 ظالم لوگ ایک دُوسرے کے ساتھی ہیں ، اور متّقیوں کا ساتھی اللہ ہے

سورة الْجَاثِیَة 24 یعنی اگر تم انہیں راضی کرنے کے لیے اللہ کے دین میں کسی قسم کا رد و بدل کرو گے تو اللہ کے مواخذہ سے وہ تمہیں نہ بچا سکیں گے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں25

سورة الْجَاثِیَة 25 مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اور یہ شریعت دنیا کے تمام انسانوں کے لیے وہ روشنی پیش کرتی ہے جو حق اور باطل کا فرق نمایاں کرنے والی ہے۔ مگر اس سے ہدایت وہی لوگ پاتے ہیں جو اس کی صداقت پر یقین لائیں، اور انہی کے حق میں یہ رحمت ہے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا26 وہ لوگ جنہوں نے بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ 27

سورة الْجَاثِیَة 26 توحید کی دعوت کے بعد اب یہاں سے آخرت پر کلام شروع ہو رہا ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 27 یہ آخرت کے بر حق ہونے پر اخلاقی استدلال ہے۔ اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی و بدی کے فرق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو، بلکہ اچھوں کو ان کی اچھائی کا اچھا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا برا بدلہ پائیں۔ یہ بات اگر نہ ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق میں خوبی و زشتی کی تمیز ہی بےمعنی ہوجاتی ہے اور خدا پر بےانصافی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ کوئی جزا و سزا نہ ہو، کیونکہ یہ تصور ہی ان کے عیش کو منغّص کردینے والا ہے۔ لیکن خداوند عالم کی حکمت اور اس کے عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک جیسا معاملہ کرے اور کچھ نہ دیکھے کہ مومن صالح نے دنیا میں کس طرح زندگی بسر کی ہے اور کافر و فاسق یہاں کیا گل کھلاتا رہا ہے۔ ایک شخص عمر بھر اپنے اوپر اخلاق کی پابندیاں لگائے رہا۔ حق والوں کے حق ادا کرتا رہا۔ ناجائز فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کیے رہا۔ اور حق و صداقت کی خاطر طرح طرح کے نقصانات برداشت کرتا رہا۔ دوسرے شخص نے اپنی خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کیں، نہ خدا کا حق پہچانا اور نہ بندوں کے حقوق پر دست درازی کرنے سے باز آیا۔ جس طرح سے بھی اپنے لیے فائدے اور لذتیں سمیٹ سکتا تھا، سمیٹتا چلا گیا۔ کیا خدا سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ان دونوں قسم کے آدمیوں کی زندگی کے اس فرق کو وہ نظر انداز کر دے گا ؟ مرتے دم تک جن کا جینا یکساں نہیں رہا ہے، موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی میں اس سے بڑھ کر اور کیا بےانصافی ہو سکتی ہے ؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حواشی 9۔ 10، النمل، حاشیہ 35، جلد سوم، الحج، حاشیہ 9، النمل، حاشیہ 86، الروم، حواشی 6 تا 8۔ جلد چہارم، تفسیر سورة ، صٓ، آیت 28۔ 30)
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے28 اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے۔ لوگوں پر ظلم ہر گز نہ کیا جائے گا۔29

سورة الْجَاثِیَة 28 یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی تخلیق کھیل کے طور پر نہیں کی ہے بلکہ یہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے۔ اس نظام میں یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے اختیارات اور ذرائع و وسائل کو صحیح طریقہ سے استعمال کر کے جن لوگوں نے اچھا کارنامہ انجام دیا ہو، اور انہیں غلط طریقے سے استعمال کر کے جن دوسرے لوگوں نے ظلم و فساد برپا کیا ہو، یہ دونوں قسم کے انسان آخر کار مر کر مٹی ہوجائیں اور اس موت کے بعد کائنات ایک کھلنڈرے کا کھلونا ہوگی نہ کہ ایک حکیم کا بنایا ہوا با مقصد نظام (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، الانعام، حاشیہ 46، جلد دوم، یونس، حاشیہ 11، ابراہیم، حاشیہ 26، النحل، حاشیہ 6، جلد سوم، العنکبوت، حاشیہ 75، الروم، حاشیہ 6)۔ سورة الْجَاثِیَة 29 اس سیاق وسباق میں اس فقرے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر نیک انسانوں کو ان کی نیکی کا اجر نہ ملے، اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا نہ دی جائے، اور مظلوموں کی کبھی داد رسی نہ ہو تو یہ ظلم ہوگا۔ خدا کی خدائی میں ایسا ظلم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح خدا کے ہاں ظلم کی یہ دوسری صورت بھی کبھی رونما نہیں ہو سکتی کہ کسی نیک انسان کو اس کے استحقاق سے کم اجر دیا جائے، یا کسی بد انسان کو اس کے استحقاق سے زیادہ سزا دے دی جائے۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا 30 اور اللہ نے علم کے باوجود31 اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مُہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟32 اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟33

سورة الْجَاثِیَة 30 خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن کر رہ جائے۔ جس کام کو اس کا دل چاہے اسے کر گزرے، خواہ خدا نے اسے حرام کیا ہو، اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہے اسے نہ کرے، خواہ خدا نے اسے فرض کردیا ہو۔ جب آدمی اس طرح کسی کی اطاعت کرنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا معبود خدا نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کی وہ اس طرح اطاعت کر رہا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ زبان سے اس کو اپنا اِلٰہ اور معبود کہتا ہو یا نہ کہتا ہو، اور اس کا بت بنا کر اس کی پوجا کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ اس لیے کہ ایسی بےچوں چرا اطاعت ہی اس کے معبود بن جانے کے لیے کافی ہے اور اس عملی شرک کے بعد ایک آدمی صرف اس بنا پر شرک کے جرم سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے اپنے اس مطاع کو زبان سے معبود نہیں کہا ہے اور سجدہ اس کو نہیں کیا ہے۔ اس آیت کی یہی تشریح دوسرے اکابر مفسرین نے بھی کی ہے۔ ابن جریر اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " اس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ جس چیز کی نفس نے خواہش کی اس کا ارتکاب کر گزرا۔ نہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حرام کیا، نہ اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال کیا۔ " ابوبکر جصاص اس کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ " وہ خواہش نفس کی اس طرح اطاعت کرتا ہے جیسے کوئی خدا کی اطاعت کرے "۔ زمخشری اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ " وہ خواہش نفس کا نہایت فرمانبردار ہے۔ جدھر اس کا نفس اسے بلاتا ہے اسی طرف وہ چلا جاتا ہے، گویا وہ اس کی بندگی اس طرح کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے خدا کی بندگی کرے۔ " (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 56۔ جلد چہارم، تفسیر سورة سبا، حاشیہ 63۔ یٰس، حاشیہ 53۔ الشوریٰ ، حاشیہ 38) سورة الْجَاثِیَة 31 اصل الفاظ ہیں اَضَلَّہُ اللہُ عَلیٰ عِلْمِہ۔ ایک مطلب ان الفاظ کا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص عالم ہونے کے باوجود اللہ کی طرف سے گمراہی میں پھینکا گیا، کیونکہ وہ خواہش نفس کا بندہ بن گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے اپنے اس علم کی بنا پر کہ وہ اپنے نفس کی خواہش کو اپنا خدا بنا بیٹھا ہے، اسے گمراہی میں پھینک دیا۔ سورة الْجَاثِیَة 32 اللہ کے کسی کو گمراہی میں پھینک دینے اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دینے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دینے کی تشریح اس سے پہلے ہم متعدد مقامات پر اس کتاب میں کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حواشی 10۔ 16، الانعام، حواشی 17۔ 27، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 80، التوبہ، حواشی 89۔ 93، یونس، حاشیہ 71، الرعد، حاشیہ 44، ابراہیم، حواشی 6۔ 7۔ 40، النحل، حاشیہ 11، بنی اسرائیل، حاشیہ 51، جلد سوم، الروم، حاشیہ 84، جلد چہارم، فاطر، آیت 8، حواشی 16۔ 17، المومن، حاشیہ 54۔ سورة الْجَاثِیَة 33 جس سیاق وسباق میں یہ آیت آئی ہے اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ آخرت کا انکار دراصل وہی لوگ کرتے ہیں جو خواہشات نفس کی بندگی کرنا چاہتے ہیں اور عقیدہ آخرت کو اپنی اس آزادی میں مانع سمجھتے ہیں۔ پھر جب وہ آخرت کا انکار کردیتے ہیں تو ان کی بندگی نفس اور زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنی گمراہی میں روز بروز زیادہ ہی بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی برائی ایسی نہیں ہوتی جس کے ارتکاب سے وہ باز رہ جائیں۔ کسی کا حق مارنے میں انہیں تامل نہیں ہوتا۔ کسی ظلم اور زیادتی کا موقع پا جانے کے بعد ان سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس سے صرف اس لیے رک جائیں گے کہ حق و انصاف کا کوئی احترام ان کے دلوں میں ہے جن واقعات کو دیکھ کر کوئی انسان عبرت حاصل کرسکتا ہے، وہی واقعات ان کی آنکھوں کے سامنے بھی آتے ہیں، مگر وہ ان سے الٹا یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اور ہمیں یہی کچھ کرنا چاہیے۔ کوئی کلمہ نصیحت ان پر کارگر نہیں ہوتا۔ جو دلیل بھی کسی انسان کو برائی سے روکنے کے لیے مفید ہو سکتی ہے، وہ ان کے دل کو اپیل نہیں کرتی، بلکہ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ساری دلیلیں اپنی اسی بےقید آزادی کے حق میں نکالتے چلے جاتے ہیں، اور ان کے دل و دماغ کسی اچھی فکر کے بجائے شب و روز اپنی اغراض و خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کرنے کی ادھیڑ بن ہی میں لگے رہتے ہیں۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ عقیدہ آخرت کا انکار انسانی اخلاق کے لیے تباہ کن ہے۔ آدمی کو آدمیت کے دائرے میں اگر کوئی چیز رکھ سکتی ہے تو وہ صرف یہ احساس ہے کہ ہم غیر ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہمیں خدا کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی۔ اس احساس سے خالی ہوجانے کے بعد کوئی شخص بڑے سے بڑا عالم بھی ہو تو وہ جانوروں سے بدتر رویہ اختیار کیے بغیر نہیں رہتا۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو۔“ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کو ئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔34

سورة الْجَاثِیَة 34 یعنی کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے ان کو بتحقیق یہ معلوم ہوگیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لیے کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، اور یہ بات بھی انہیں معلوم ہوگئی ہو کہ انسان کی روح کسی خدا کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مر کر فنا ہوجاتا ہے۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بنا پر کرتے ہیں۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ " ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں "، لیکن یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ " ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ " اسی طرح علمی طریقہ پر وہ یہ جاننے کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ آدمی کی روح خدا کے حکم سے نکالی نہیں جاتی ہے بلکہ وہ محض اس طرح مر کر ختم ہوجاتا ہے جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کہہ سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ فی الواقع کیا صورت پیش آتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب انسانی ذرائع علم کی حد تک زندگی بعد موت کے ہونے یا نہ ہونے، اور قبض روح واقع ہونے یا گردش ایام سے آپ ہی آپ مر جانے کا یکساں احتمال ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ امکان آخرت کے احتمال کو چھوڑ کر حتمی طور پر انکار آخرت کے حق میں فیصلہ کر ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور ہے کہ دراصل اس مسئلے کا آخری فیصلہ وہ دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے ہیں ؟ چونکہ اس کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو اور موت کی حقیقت نیستی اور عدم نہیں بلکہ خدا کی طرف سے قبض روح ہو، اس لیے وہ اپنے دل کی مانگ کو اپنا عقیدہ بنا لیتے ہیں اور دوسری بات کا انکار کردیتے ہیں۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیات انہیں سُنائی جاتی ہیں35 تو اِن کے پاس کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ داد کو اگر تم سچے ہو۔36

سورة الْجَاثِیَة 35 یعنی وہ آیات جن میں آخرت کے امکان پر مضبوط عقلی دلائل دیے گئے ہیں، اور جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا ہونا عین حکمت و انصاف کا تقاضا ہے اور اس کے نہ ہونے سے یہ سارا نظام عالم بےمعنی ہوجاتا ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 36 دوسرے الفاظ میں ان کی اس حجت کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی ان سے یہ کہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہوگی تو اسے لازماً قبر سے ایک مردہ اٹھا کر ان کے سامنے لے آنا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ یہ نہیں مان سکتے کہ مرے ہوئے انسان کسی وقت از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جانے والے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سرے سے کسی نے بھی ان سے نہیں کہی تھی کہ اس دنیا میں متفرق طور پر وقتاً فوقتاً مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ یہ تھا کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا اور ان سب کے اعمال کا محاسبہ کر کے جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

اے نبی ؐ ، اِن سے کہو، اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے،37 پھر وہی تم کو اُس قیامت کی دن جمع کر ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، 38مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔39

سورة الْجَاثِیَة 37 یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ موت گردش ایام سے آپ ہی آپ آجاتی ہے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ نہ تمہیں زندگی اتفاقاً ملتی ہے، نہ تمہاری موت خود بخود واقع ہوجاتی ہے۔ ایک خدا ہے جو تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی اسے سلب کرتا ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 38 یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ اب نہیں ہوگا، اور متفرق طور پر نہیں ہوگا، بلکہ ایک دن سب انسانوں کے جمع کرنے کے لیے مقرر ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 39 یعنی جہالت اور قصور فکر و نظر ہی لوگوں کے انکار آخرت کا اصل سبب ہے، ورنہ حقیقت میں تو آخرت کا ہونا نہیں بلکہ، اس کا نہ ہونا بعید از عقل ہے۔ کائنات کے نظام اور خود اپنے وجود پر کوئی شخص صحیح طریقہ سے غور کرے تو اسے خود محسوس ہوجائے گا کہ آخرت کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے ،40 اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے

سورة الْجَاثِیَة 40 سیاق وسباق کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس فقرے سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو خدا اس عظیم الشان کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے اس کی قدرت سے یہ بات ہرگز بعید نہیں ہے کہ جن انسانوں کو وہ پہلے پیدا کرچکا ہے انہیں دوبارہ وجود میں لے آئے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے۔41 ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہٴ اعمال دیکھے۔ اُن سے کہا جائے گا”آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے

سورة الْجَاثِیَة 41 یعنی وہاں میدان حشر کا ایسا ہول اور عدالت الہٰی کا ایسا رعب طاری ہوگا کہ بڑے بڑے ہیکڑ لوگوں کی اکڑ بھی ختم ہوجائے گی اور عاجزی کے ساتھ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔
Ayahs 45:29–30

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اُوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھواتے جا رہے تھے۔“42

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے

سورة الْجَاثِیَة 42 لکھوانے کی صرف یہی ایک ممکن صورت نہیں ہے کہ کاغذ پر قلم سے لکھوایا جائے۔ انسانی اقوال و افعال کو ثبت کرنے اور دوبارہ ان کو بعینہ اسکی شکل میں پیش کردینے کی متعدد دوسری صورتیں اسی دنیا میں خود انسان دریافت کرچکا ہے، اور ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ آگے اس کے اور کیا امکانات پوشیدہ ہیں جو کبھی انسان ہی کی گرفت میں آجائیں گے۔ اب یہ کون جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح انسان کی ایک ایک بات، اور اس کی حرکات و سکنات میں سے ایک ایک چیز، اور اس کی نیتوں اور ارادوں اور خواہشات اور خیالات میں سے ہر مخفی سے مخفی شے کو ثبت کرا رہا ہے، اور کس طرح وہ ہر آدمی، ہر گروہ اور ہر قوم کا پورا کارنامہ حیات بےکم وکاست اس کے سامنے لا رکھے گا۔
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کُفر کیا تھا اُن سے کہا جائے گا”کیا میری آیات تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں؟43 مگر تم نے تکبّر کیا اور مجرم بن کر رہے

سورة الْجَاثِیَة 43 یعنی اپنے گھمنڈ میں تم نے یہ سمجھا کہ اللہ کی آیات کو مان کر مطیع فرمان بن جانا تمہاری شان سے فروتر ہے، اور تمہارا مقام بندگی کے مقام سے بہت اونچا ہے۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے۔“44

سورة الْجَاثِیَة 44 اس سے پہلے آیت 24 میں جن لوگوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ آخرت کا قطعی اور کھلا انکار کرنے والے تھے۔ اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین رکھتے اگرچہ گمان کی حد تم اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں لازماً وہ خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے احساس سے خالی ہوگا، اور یہ عدم احساس اس کو لازماً فکر و عمل کی گمراہیوں میں مبتلا کر کے رہے گا۔ صرف آخرت کا یقین ہی دنیا میں آدمی کے رویے کو درست رکھ سکتا ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو شک اور انکار، دونوں اسے ایک ہی طرح کی غیر ذمہ دارانہ روش پر ڈال دیتے ہیں۔ اور چونکہ یہی غیر ذمہ دارانہ روش آخرت کی بد انجامی کا اصل سبب ہے، اس لیے دوزخ میں جانے سے انکار کرنے والا بچ سکتا ہے، نہ یقین رکھنے والا۔
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اُس وقت اُن پر ان کے اعمال کی بُرائیاں کھُل جائیں گی 45اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آجائیں گے جِس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ "آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے

سورة الْجَاثِیَة 45 یعنی وہاں ان کو پتہ چل جائے گا کہ اپنے جن طور طریقوں اور عادات و خصائل اور اعمال و مشاغل کو وہ دنیا میں بہت خوب سمجھتے تھے وہ سب ناخوب تھے۔ اپنے آپ کو غیر جوابدہ فرض کر کے انہوں نے ایسی بنیادی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات ہی غلط ہو کر رہ گیا۔
Ayahs 45:35–37

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کو آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ کو راضی کرو۔“46

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں بڑائی اُسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے

سورة الْجَاثِیَة 46 یہ آخری فقرہ اس انداز میں ہے جیسے کوئی آقا اپنے کچھ خادموں کو ڈانٹنے کے بعد دوسروں سے خطاب کر کے کہتا ہے کہ اچھا، اب ان نالائقوں کی یہ سزا ہے۔