44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

آیت نمبر 10، یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِینٍ کے لفظ دخان کو اس سورة کا عنوان بنایا گیا ہے، یعنی یہ وہ سورة ہے جس میں لفظ دخان وارد ہوا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کا زمانہ نزول بھی کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوتا، مگر مضامین کی اندرونی شہادت بتاتی ہے کہ یہ بھی اسی دور میں نازل ہوئی ہے جس میں سورة زُخْرُف اور اس سے پہلے کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں، البتہ یہ ان سے کچھ متأخر ہے۔ تاریخی پس منظر یہ ہے کہ جب کفار کی مخالفانہ روش شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی کہ خدایا، یوسف (علیہ السلام) کے قحط جیسے ایک قحط سے میری مدد فرما۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خیال یہ تھا کہ جب ان لوگوں پر مصیبت پڑے گی تو انہیں خدا یاد آئے گا اور ان کے دل نصیحت قبول کرنے کے لیے نرم پڑجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور سارے علاقے میں ایسے زور کا قحط پڑا کہ لوگ بلبلا اٹھے۔ آخر کار بعض سرداران قریش، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے خاص طور پر ابو سفیان کا نام لیا ہے، حضور کے پاس آئے اور آپ سے درخواست کی کہ اپنی قوم کو اس بلا سے نجات دلانے کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ یہی موقع ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔

موضوع اور مباحث

اس موقع پر کفار مکہ کی فہمائش اور تنبیہ کے لیے جو خطبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا گیا اس کی تمہید چند اہم مباحث پر مشتمل ہے : اول یہ کہ تم لوگ اس قرآن کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصنیف سمجھنے میں غلطی کر رہے ہو۔ یہ کتاب تو اپنی ذات میں خود اس امر کی بین شہادت ہے کہ یہ کسی انسان کی نہیں بلکہ خداوند عالم کی کتاب ہے۔ دوسرے یہ کہ تم اس کتاب کی قدر و قیمت سمجھنے میں بھی غلطی کر رہے ہو۔ تمہارے نزدیک یہ ایک بلا ہے جو تم پر نازل ہوگئی ہے۔ حالانکہ در حقیقت وہ گھڑی انتہائی مبارک گھڑی تھی جب اللہ تعالیٰ نے سراسر اپنی رحمت کی بنا پر تمہارے ہاں اپنا رسول بھیجنے اور اپنی کتاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ تیسرے یہ کہ تم اپنی نادانی سے اس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہو کہ اس رسول اور اس کتاب سے لڑ کر تم جیت جاؤ گے۔ حالانکہ اس رسول کی بعثت اور اس کتاب کی تنزیل اس ساعت خاص میں ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ قسمتوں کے فیصلے فرمایا کرتا ہے۔ اور اللہ کے فیصلے بودے نہیں ہوتے کہ جس کا جی چاہے انہیں بدل ڈالے، نہ وہ کسی جہالت و نادانی پر مبنی ہوتے ہیں کہ ان میں غلطی اور خامی کا کوئی احتمال ہو۔ وہ تو اس فرمانروائے کائنات کے پختہ اور اٹل فیصلے ہوتے ہیں جو سمیع وعلیم اور حکیم ہے۔ ان سے لڑنا کوئی کھیل نہیں ہے۔ چوتھے یہ کہ اللہ کو خود بھی زمین و آسمان اور کائنات کی ہر چیز کا مالک و پروردگار مانتے ہو اور یہ بھی مانتے ہو کہ زندگی و موت اسی کے اختیار میں ہے۔ مگر اس کے باوجود تمہیں دوسروں کو معبود بنانے پر اصرار ہے اور اس کے لیے حجت تمہارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ باپ دادا کے وقتوں سے یہی کام ہوتا چلا آ رہا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص شعور کے ساتھ یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ ہی مالک و پروردگار اور زندگی و موت کا مختار ہے تو اسے کبھی یہ شبہ تک لاحق نہیں ہوسکتا کہ معبود ہونے کے مستحق اس کے سوا یا اس کے ساتھ دوسرے بھی ہو سکتے ہیں۔ تمہارے باپ دادا نے اگر یہ حماقت کی تھی تو کوئی وجہ نہیں کہ تم بھی آنکھیں بند کر کے اسی کا ارتکاب کرتے چلے جاؤ۔ حقیقت میں تو ان کا رب بھی اکیلا وہی خدا تھا جو تمہارا رب ہے، اور انہیں بھی اسی ایک کی بندگی کرنی چاہیے تھی جس کی بندگی تمہیں کرنی چاہیے۔ پانچویں یہ کہ اللہ کی ربوبیت و رحمت کا تقاضا صرف یہی نہیں ہے کہ تمہارا پیٹ پالے بلکہ یہ بھی ہے کہ تمہاری رہنمائی کا انتظام کرے۔ اسی رہنمائی کے لیے اس نے رسول بھیجا ہے اور کتاب نازل کی ہے۔ اس تمہید کے بعد اس قحط کے معاملے کو لیا گیا ہے جو اس وقت در پیش تھا۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں، یہ قحط نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی استدعا پر آیا تھا، اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا اس خیال سے کی تھی کہ مصیبت پڑے گی تو کفار کی اکڑی ہوئی گردنیں ڈھیلی پڑجائیں گی، شاید کہ پھر حرف نصیحت ان پر کارگر ہو۔ یہ توقع اس وقت کسی حد تک پوری ہوتی نظر آ رہی تھی، کیونکہ بڑے بڑے ہیکڑ دشمنان حق کال کے مارے پکار اٹھے تھے کہ پروردگار، یہ عذاب ہم پر سے ٹال دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس پر ایک طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ ایسی مصیبتوں سے یہ لوگ کہاں سبق لینے والے ہیں، انہوں نے جب اس رسول کی طرف سے منہ موڑ لیا جس کی زندگی سے، جس کے کردار سے اور جس کے کام اور کلام سے علانیہ ہو رہا ہے کہ وہ یقیناً خدا کا رسول ہے، تو اب محض ایک قحط ان کی غفلت کیسے دور کر دے گا۔ دوسری طرف کفار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم بالکل جھوٹ کہتے ہو کہ یہ عذاب تم پر سے ٹال دیا جائے تو تم ایمان لے آؤ گے۔ ہم اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں، ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ تم اپنے اس وعدے میں کتنے سچے ہو۔ تمہارے سر پر تو شامت کھیل رہی ہے۔ تم ایک بڑی ضرب مانگ رہے ہو، ہلکی چوٹوں سے تمہارا دماغ درست نہیں ہوگا۔ اسی سلسلے میں آگے چل کر فرعون اور اس کی قوم کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی ٹھیک یہی آزمائش پیش آئی تھی جس سے اب کفار قریش کے سرداروں کو سابقہ پڑا ہے۔ ان کے پاس بھی ایسا ہی ایک معزز رسول آیا تھا۔ انہوں نے بھی وہ صریح علامات اور نشانیاں دیکھ لی تھیں جن سے اس کا مامور من اللہ ہونا صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ وہ بھی نشانی پر نشانی دیکھتے چلے گئے مگر اپنی ضد سے باز نہ آئے۔ یہاں تک کہ آخر کار رسول کی جان لینے کے درپے ہوگئے اور نتیجہ وہ کچھ دیکھا جو ہمیشہ کے لیے سامان عبرت بن گیا۔ اس کے بعد دوسرا موضوع آخرت کا لیا گیا ہے جس سے کفار مکہ کو شدت کے ساتھ انکار تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کر آتے نہیں دیکھا ہے، تم اگر دوسری زندگی کے دعوے میں سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو۔ اس کے جواب میں عقیدہ آخرت کی دو دلیلیں مختصر طور پر دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس عقیدے کا انکار ہمیشہ اخلاق کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھلونا نہیں ہے، بلکہ ایک حکیمانہ نظام ہے، اور حکیم کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا۔ پھر کفار کے اس مطالبہ کا کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو، یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ کام روز روز ہر ایک کے مطالبہ پر نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جب وہ تمام نوع انسانی بیک وقت جمع کرے گا اور اپنی عدالت میں ان کا محاسبہ فرمائے گا۔ اس وقت کی اگر کسی کو فکر کرنی ہو تو کرلے، کیونکہ وہاں کوئی نہ اپنے زور پر بچ سکے گا نہ کسی کے بچائے بچے گا۔ اللہ کی اس عدالت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ وہاں مجرم قرار پائیں گے ان کا انجام کیا ہوگا، اور جو وہاں سے کامیاب ہو کر نکلیں گے وہ کیا انعام پائیں گے۔ پھر یہ کہہ کر بات ختم کردی گئی ہے کہ تم لوگوں کو سمجھانے کے لیے یہ قرآن صاف سیدھی زبان میں اور تمہاری اپنی زبان میں نازل کردیا گیا ہے، اب اگر تم سمجھانے سے نہیں سمجھتے اور انجام بدی دیکھنے پر مصر ہو تو انتظار کرو، ہمارا نبی بھی منتظر ہے، جو کچھ ہونا ہے وہ اپنے وقت پر سامنے آجائے گا۔

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اِس کتاب مبین کی

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبّہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔1

سورة الدُّخَان 1 کتاب مبین کی قسم کھانے کا مطلب سورة زخرف 1 میں بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں بھی قسم جس بات پر کھائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف محمد ﷺ نہیں ہیں بلکہ " ہم " ہیں، اور اس کا ثبوت کہیں اور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، خود یہ کتاب ہی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مزید بات یہ فرمائی گئی کہ وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی جس میں اسے نازل کیا گیا۔ یعنی نادان لوگ، جنہیں اپنی بھلائی برائی کا شعور نہیں ہے، اس کتاب کی آمد کو اپنے لیے بلائے ناگہانی سمجھ رہے ہیں اور اس سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ لیکن در حقیقت ان کے لیے اور تمام نوع انسانی کے لیے وہ ساعت بڑی سعید تھی جب " ہم " نے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے یہ کتاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس رات میں قرآن نازل کرنے کا مطلب بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ نزول قرآن کا سلسلہ اس رات شروع ہوا۔ اور بعض مفسرین اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس میں پورا قرآن ام الکتاب سے منتقل کر کے حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کردیا گیا اور پھر وہ حالات و وقائع کے مطابق حسب ضرورت نبی ﷺ پر 23 سال تک نازل کیا جاتا رہا۔ صحیح صورت معاملہ کیا ہے، اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس رات سے مراد وہی رات ہے جسے سورة قدر میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے۔ وہاں فرمایا گیا کہ اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیلَۃِ الْقَدْرِ ، اور یہاں فرمایا کہ اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ۔ پھر یہ بات بھی قرآن مجید ہی میں بتادی گئی ہے کہ وہ ماہ رمضان کی ایک رات تھی شَھْرُ رَمَضَا نَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰن (البقرہ، 185)۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ 2

سورة الدُّخَان 2 اصل میں لفظ " اَمْرٍ حَکِیْم " استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حکم سراسر حکمت پر مبنی ہوتا ہے، کسی غلطی یا خامی کا اس میں کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ایک پختہ اور محکم فیصلہ ہوتا ہے، اسے بدل دینا کسی کے بس میں نہیں۔ سورة الدُّخَان 3 سورة قدر میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ ، " اس رات ملائکہ اور جبریل اپنے رب کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں۔ " اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے شاہی نظم و نسق میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں وہ افراد اور قوموں اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کر کے اپنے فرشتوں کے حوالے کردیتا ہے۔ اور پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ بعض مفسرین کو جن میں حضرت عکرمہ سب سے زیادہ نمایاں ہیں، یہ شبہ لاحق ہوا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے، کیونکہ بعض احادیث میں اسی رات کے متعلق یہ بات منقول ہوئی ہے کہ اس میں قسمتوں کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ لیکن ابن عباس، ابن عمر، مجاہد، قتادہ، حسن بصری، سعید بن جبیر، ابن زید، ابو مالک، ضحاک اور دوسرے بہت سے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رمضان کی وہی رات ہے جسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے، اس لیے کہ قرآن مجید خود اس کی تصریح کر رہا ہے، اور جہاں قرآن کی صراحت موجود ہو وہاں اخبار آحاد کی بنا پر کوئی دوسرے رائے نہیں قائم کی جاسکتی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ " عثمان بن محمد کی جو روایت امام زہری نے شعبان سے شعبان تک قسمتوں کے فیصلے ہونے کے متعلق نقل کی ہے وہ ایک مرسل روایت ہے، اور ایسی روایات نصوص کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتیں۔ " قاضی ابوبکر ابن العربی کہتے ہیں کہ " نصف شعبان کی رات کے متعلق کوئی حدیث قابل اعتماد نہیں ہے، نہ اس کی فضیلت کے بارے میں اور نہ اس امر میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف التفات نہیں کرنا چاہیے "۔ (احکام القرآن)
Ayahs 44:5–6

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے۔3 ہم ایک رسُول بھیجنے والے تھے

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

تیرے ربّ کی رحمت کے طو ر پر۔4 یقیناً وہی سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے،5

سورة الدُّخَان 4 یعنی یہ کتاب دے کر ایک رسول کو بھیجنا نہ صرف حکمت کا تقاضا تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی تھا، کیونکہ وہ رب ہے اور ربوبیت صرف اسی بات کی متقاضی نہیں ہے کہ بندوں کے جسم کی پرورش کا سامان کیا جائے اور انہیں تاریکی میں بھٹکتا نہ چھوڑ دیا جائے۔ سورة الدُّخَان 5 اس سیاق وسباق میں اللہ تعالیٰ کی ان دو صفت کو بیان کرنے سے مقصود لوگوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ صحیح علم صرف وہی دے سکتا ہے، کیونکہ تمام حقائق کو وہی جانتا ہے۔ ایک انسان تو کیا، سارے انسان مل کر بھی اگر اپنے لیے کوئی راہ حیات متعین کریں تو اس کے حق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، کیونکہ پوری نوع انسانی یکجار ہو کر بھی ایک سمیع وعلیم نہیں بنتی۔ اس کے بس میں یہ ہے ہی نہیں کہ ان تمام حقائق کا احاطہ کرے جن کا جاننا ایک صحیح راہ حیات متعین کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہی سمیع وعلیم ہے، اس لیے وہی یہ بتاسکتا ہے کہ انسان کے لیے ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا، حق کیا ہے اور باطل کیا، خیر کیا ہے اور شر کیا۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا ربّ اور ہر اُس چیز کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔6

سورة الدُّخَان 6 اہل عرب خود اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات اور اس کی ہر چیز کا رب (مالک و پروردگار) ہے۔ اس لیے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم بےسوچے سمجھے محض زبان ہی سے یہ اقرار نہیں کر رہے ہو، بلکہ تمہیں واقعی اس کی پروردگاری کا شعور اور اس کے مالک ہونے کا یقین ہے، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ (1) انسان کی رہنمائی کے لیے کتاب اور رسول کا بھیجنا اس کی شان رحمت و پروردگاری کا عین تقاضا ہے، اور (2) مالک ہونے کی حیثیت سے یہ اس کا حق اور مملوک ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا فرض ہے کہ اس کی طرف سے جو ہدایت آئے اسے مانو اور جو حکم آئے اس کے آگے سر اطاعت جھکا دو۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

کوئی معبُود اُس کے سوا نہیں ہے۔7 وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔8 تمہارا ربّ اور تمہارے اُن اسلاف کا ربّ جو پہلے گزر چکے ہیں۔9

سورة الدُّخَان 7 معبود سے مراد ہے حقیقی معبود جس کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت (بندگی و پرستش) کی جائے۔ سورة الدُّخَان 8 یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ جس نے بےجان مادوں میں جان ڈال کر تم کو جیتا جاگتا انسان بنایا، اور جو اس امر کے کلی اختیارات رکھتا ہے کہ جب تک چاہے تمہاری اس زندگی کو باقی رکھے اور جب چاہے اسے ختم کر دے، اس کی تم بندگی نہ کرو، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرو، یا اس کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کرنے لگو۔ سورة الدُّخَان 9 اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تمہارے جن اسلاف نے اس کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنائے، ان کا رب بھی حقیقت میں وہی تھا۔ انہوں نے اپنے اصلی رب کے سوا دوسروں کی بندگی کر کے کوئی صحیح کام نہ کیا تھا کہ ان کی تقلید کرنے میں تم حق بجانب ہو اور ان کے فعل کو اپنے مذہب کے درست ہونے کی دلیل ٹھہرا سکو۔ ان کو لازم تھا کہ وہ صرف اسی کی بندگی کرتے کیونکہ وہی ان کا رب تھا۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو تمہیں لازم ہے کہ سب کی بندگی چھوڑ کر اسی ایک کی بندگی اختیار کرو کیونکہ وہی تمہارا رب ہے۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے)بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔10

سورة الدُّخَان 10 اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑی اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دہریے ہوں یا مشرکین، ان سب پر وقتاً فوقتاً ایسی ساعتیں آتی رہتی ہیں جب ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھے بیٹھے ہو اس میں کہیں نہ کہیں جھول موجود ہے۔ دہریہ اپنے انکار خدا میں بظاہر خواہ کتنا ہی سخت ہو، کسی نہ کسی وقت اس کا دل یہ شہادت دے گزرتا ہے کہ خاک کے ایک ذرے سے لے کر کہکشانوں تک اور گھاس کی ایک پتی سے لے کر انسان کی تخلیق تک یہ حیرت انگیز، حکمت سے لبریز نظام کسی صانع حکیم کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ اسی طرح ایک مشرک اپنے شرک میں خواہ کتنا ہی گہرا ڈوبا ہوا ہو، کبھی نہ کبھی اس کا دل بھی یہ پکار اٹھتا ہے کہ جنہیں میں معبود بنائے بیٹھا ہوں یہ خدا نہیں ہو سکتے۔ لیکن اس قلبی شہادت کا نتیجہ نہ تو یہ ہوتا ہے کہ انہیں خدا کے وجود اور اس کی توحید کا یقین حاصل ہوجائے، نہ یہی ہوتا ہے کہ انہیں اپنے شرک اور اپنی دہریت میں کامل یقین و اطمینان حاصل رہے۔ اس کے بجائے ان کا دین در حقیقت شک پر قائم ہوتا ہے خواہ اس میں یقین کی کتنی ہی شدت وہ دکھا رہے ہوں۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ شک ان کے اندر بےچینی کیوں نہیں پیدا کرتا، اور وہ سنجیدگی کے ساتھ حقیقت کی جستجو کیوں نہیں کرتے کہ یقین کی اطمینان بخش بنیاد انہیں مل سکے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کے معاملے میں سنجیدگی ہی سے تو وہ محروم ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں اصل اہمیت صرف دنیا کی کمائی اور اس کے عیش کی ہوتی ہے جس کی فکر میں وہ اپنے دل اور دماغ اور جسم کی ساری طاقتیں خرچ کر ڈالتے ہیں۔ رہے دین کے مسائل، تو وہ حقیقت میں ان کے لیے ایک کھیل، ایک تفریح، ایک ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہوتے جن پر سنجیدگی کے ساتھ چند لمحے بھی وہ غور و فکر میں صرف نہیں کرسکتے۔ مذہبی مراسم ہیں تو تفریح کے طور پر ادا کیے جا رہے ہیں۔ انکار و دہریت کی بحثیں ہیں تفریح کے طور پر کی جا رہی ہیں۔ دنیا کے مشاغل سے اتنی فرصت کسے ہے کہ بیٹھ کر یہ سوچے کہ کہیں ہم حق سے منحرف تو نہیں ہیں اور اگر حق سے منحرف ہیں تو اس کا انجام کیا ہے۔
Ayahs 44:10–13

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے درد ناک سزا

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

(اب کہتے ہیں کہ) " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں"

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

اِن کی غفلت کہاں دُور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسُولِ مُبین آگیا11

سورة الدُّخَان 11 رسول مبین کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا رسول ہونا اس کی سیرت، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے کارناموں سے بالکل عیاں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے حقیقت کو کھول، کھول کر بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
Ayah 44:14

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر بھی یہ اُس کی طرف مُلتفت نہ ہوئے اور کہا کہ ”یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے۔“12

سورة الدُّخَان 12 ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ بےچارہ تو سیدھا آدمی تھا، کچھ دوسرے لوگوں نے اسے بھروں پر چڑھا لیا، وہ در پر وہ قرآن کی آیتیں گھڑ گھڑ کر اسے پڑھا دیتے ہیں، یہ آ کر عام لوگوں کے سامنے انہیں پیش کردیتا ہے، وہ مزے سے بیٹھے رہتے ہیں، اور یہ گالیاں اور پتھر کھاتا ہے۔ اس طرح ایک چلتا ہوا فقرہ کہہ کر وہ ان ساری دلیلوں اور نصیحتوں اور سنجیدہ تعلیمات کو اڑا دیتے تھے جو رسول اللہ ﷺ برسوں سے ان کے سامنے پیش کر کر کے تھکے جا رہے تھے۔ وہ نہ ان معقول باتوں پر کوئی توجہ کرتے تھے جو قرآن مجید میں بیان کی جا رہی تھیں۔ نہ یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص یہ باتیں پیش کر رہا ہے وہ کس پائے کا آدمی ہے۔ اور نہ یہ الزام رکھتے وقت ہی وہ کچھ سوچنے کی زحمت گوارا کرتے تھے کہ ہم یہ کیا بکواس کر رہے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص در پردہ بیٹھ کر سکھانے پڑھانے والا ہوتا تو وہ حضرت خدیجہ اور ابوبکر اور علی اور زید بن حارثہ ؓ اور دوسرے ابتدائی مسلمانوں سے آخر کیسے چھپ جاتا جن سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے قریب اور ہر وقت کا ساتھی کوئی نہ تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہی لوگ سب سے بڑھ کر حضور ﷺ کے گرویدہ اور عقیدت مند تھے، حالانکہ درپردہ کسی دوسرے شخص کے سکھانے پڑھانے سے نبوت کا کاروبار چلایا گیا ہوتا تو یہی لوگ آپ کی مخالفت میں سب سے پیش پیش ہوتے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 107، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 12)۔
Ayahs 44:15–16

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے۔13

سورة الدُّخَان 13 ان آیات کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف واقع ہوا ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام کے زمانے میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مشہور شاگرد مسروق کہتے ہیں کہ ایک روز ہم کوفے کی مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے۔ اس نے آیت یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ پڑھی، پھر کہنے لگا، جانتے ہو یہ کیسا دھواں ہے ؟ یہ دھواں قیامت کے روز آئے گا اور کفار و منافقین کو اندھا بہرا کر دے گا، مگر اہل ایمان پر اس کا اثر بس اس قدر ہوگا کہ جیسے زکام لاحق ہوگیا ہو۔ اس کی یہ بات سن کر ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے اور ان سے واعظ کی یہ تفسیر بیان کی۔ حضرت عبداللہ لیٹے ہوئے تھے۔ یہ تفسیر سن کر گھبرا کے اٹھ بیٹھے اور کہنے لگے کہ آدمی کو علم نہ ہو تو اسے جاننے والوں سے پوچھ لینا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب قریش کے لوگ اسلام قبول کرنے سے انکار اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہی چلے گئے تو حضور نے دعا کی کہ خدایا یوسف ؑ کے قحط جیسے قحط سے میری مدد فرما۔ چناچہ ایسا شدید کال پڑا کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑا اور مردار تک کھا گئے۔ اس زمانے میں حالت یہ تھی کہ جو شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا اسے بھوک کی شدت میں بس دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ آخر کار ابو سفیان نے آ کر حضور سے کہا کہ آپ تو صلہ رحمی کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ کی قوم بھوکوں مر رہی ہے۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ اس مصیبت کو دور کر دے۔ یہی زمانہ تھا جب قریش کے لوگ کہتے لگے تھے کہ خدایا ہم پر سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اسی واقعہ کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ اور بڑی ضرب سے مراد وہ ضرب ہے جو آخر کار جنگ بدر کے روز قریش کو لگائی گئی۔ یہ روایت امام احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے متعدد سندوں کے ساتھ مسروق سے نقل کی ہے۔ اور مسروق کے علاوہ ابراہیم نخعی، قتادہ، عاصم اور عامر کا بھی یہی بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس آیت کی یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی۔ اس لیے اس امر میں کوئی شک نہیں رہتا کہ حضرت موصوف کی رائے فی الواقع یہی تھی۔ تابعین میں سے مجاہد، قتادہ، ابو العالیہ، مقاتل، ابراہیم النخعی، ضحاک اور عطیۃ العوفی وغیرہ حضرات نے بھی اس تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے اتفاق کیا ہے۔ دوسری طرف حضرت علی، ابن عمر، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن علی اور حسن بصری جیسے اکابر کہتے ہیں کہ ان آیات میں سارا ذکر قیامت کے قریب زمانے کا کیا گیا ہے اور وہ دھواں جس کی خبر دی گئی ہے، اسی زمانے میں زمین پر چھائے گا۔ مزید تقویت اس تفسیر کو ان روایات سے ملتی ہے جو خود نبی ﷺ سے منقول ہیں۔ خذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک روز ہم قیامت کے متعلق آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ اتنے میں حضور برآمد ہوئے اور فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات یکے بعد دیگرے ظاہر نہ ہو لیں گی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ دھواں۔ دابہ۔ یاجوج و ماجوج کا خروج، عیسیٰ ابن مریم کا نزول۔ زمین کا دھنسنا مشرق میں، مغرب میں اور جزیرۃ العرب میں۔ اور عدن سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکتی ہوئی لے جائے گی (مسلم)۔ اسی کی تائید ابو مالک اشعری کی وہ روایت کرتی ہے جسے ابن جریر اور طبرانی نے نقل کیا ہے، اور ابو سعید خدری کی روایت جسے ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے۔ ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے دھوئیں کو علامات قیامت میں شمار کیا ہے، اور یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دھواں جب چھائے گا تو مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا، اور کافر کی نس نس میں وہ بھر جائے گا اور اس کے ہر منفذ سے نکلے گا۔ ان دونوں تفسیروں کا تعارض اوپر کی آیات پر غور کرنے سے بآسانی رفع ہوسکتا ہے۔ جہاں تک حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی تفسیر کا تعلق ہے، یہ امر واقعہ ہے کہ مکہ معظمہ میں حضور ﷺ کی دعا سے سخت قحط رونما ہوا تھا جس سے کچار کے خنّے بہت کچھ ڈھیلے پڑگئے تھے، اور انہوں نے اسے رفع کرانے کے لیے حضور ﷺ سے دعا کی درخواست کی تھی۔ اس واقعہ کی طرف قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اشارے کیے گئے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 29، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 77، یونس، حواشی 14۔ 15۔ 29، جلد سوم، المومنون حاشیہ 72)۔ ان آیات میں بھی صاف محسوس ہوتا ہے کہ اشارہ اسی صورت حال کی طرف ہے۔ کفار کا یہ کہنا کہ " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں "۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ " ان کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے جبکہ رسول مبین آ گیا، پھر بھی یہ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا باؤلا ہے۔ " پھر یہ فرمانا کہ " ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔ " یہ ساری باتیں اسی صورت میں راست آسکتی ہیں جبکہ واقعہ حضور ﷺ ہی کے زمانے کا ہو۔ قیامت کے قریب ہونے والے واقعات پر ان کا اطلاق بعید از فہم ہے۔ اس لیے اس حد تک تو ابن مسعود ؓ کی تفسیر ہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ حصہ صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ " دھواں " بھی اسی زمانے میں ظاہر ہوا تھا، اور اس شکل میں ظاہر ہوا تھا کہ بھوک کی شدت میں جب لوگ آسمان کی طرف دیکھتے تھے تو دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا، یہ بات قرآن مجید کے ظاہر الفاظ سے بھی مطابقت نہیں رکھتی، اور احادیث کے بھی خلاف ہے۔ قرآن میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ آسمان دھواں لیے ہوئے آگیا اور لوگوں پر چھا گیا۔ وہاں تو کہا گیا ہے کہ " اچھا تو اس دن کا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ " بعد کی آیات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس ارشاد کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تم نہ رسول کے سمجھانے سے مانتے ہو، نہ قحط کی شکل میں جو تنبیہ تمہیں کی گئی ہے اس سے ہی ہوش میں آتے ہو، تو پھر قیامت کا انتظار کرو، اس وقت جب پوری طرح شامت آئے گی تب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا۔ پس جہاں تک دھوئیں کا تعلق ہے، اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ قحط کے زمانے کی چیز نہیں ہے بلکہ علامات قیامت میں سے ہے، اور یہی بات احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ تعجب ہے کہ مفسرین کبار میں سے جنہوں نے حضرت ابن مسعود کی تائید کی انہوں نے پوری بات کی تائید کردی، اور جنہوں نے ان کی تردید کی انہوں نے پوری بات کی تردید کردی، حالانکہ آیات اور احادیث پر غور کرنے سے یہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا کونسا حصہ صحیح ہے اور کون سا غلط۔
Ayah 44:17

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں۔ اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسُول14 آیا

سورة الدُّخَان 14 اصل میں " رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کریم کا لفظ جب انسان کے لیے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ بہترین شریفانہ خصائل اور نہایت قابل تعریف صفات سے متصف ہے۔ معمولی خوبیوں کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

اور اس نے کہا”15اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو،16 میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسُول ہوں۔17

سورة الدُّخَان 15 یہ بات ابتدا ہی میں سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں حضرت موسیٰ کے جو اقوال نقل کیے جا رہے ہیں وہ ایک وقت میں ایک ہی مسلسل تقریر کے اجزا نہیں ہیں، بلکہ سالہا سال کے دوران میں مختلف مواقع پر جو باتیں انہوں نے فرعون اور اس کے اہل دربار سے کہی تھیں ان کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 83 تا 97، یونس، حواشی، 72 تا 93، جلد سوم، طہ، حواشی 18 الف تا 52، الشعراء، حواشی 7 تا 49، النمل، حواشی 8 تا 17، القصص، حواشی 46 تا 56،۔ جلد چہارم، المومن، آیات 23 ت 46۔ الزخرف 46 تا 56 مع حواشی) سورة الدُّخَان 16 اصل میں اَدُّوْا اِلَیَّ عِبَاد اللہِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو اوپر ہم نے کیا ہے اور اس کے لحاظ سے یہ اس مطالبے کا ہم معنی ہے جو سورة اعراف (آیت 105) ، سورة طٰہٰ (47) اور الشعراء (17) میں گزر چکا ہے کہ " بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دو " دوسرا تر جمہ، جو حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے، یہ ہے کہ " اللہ کے بندو میرا حق ادا کرو " یعنی میری بات مانو، مجھ پر ایمان لاؤ، اور میری ہدایت کی پیروی کرو، یہ خدا کی طرف سے تمہارے اوپر میرا حق ہے۔ بعد کا یہ فقرہ کہ " میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں " اس دوسرے مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ سورة الدُّخَان 17 یعنی بھروسے کے قابل رسول ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی بات ملا کر کہنے والا نہیں ہوں۔ نہ اپنی کسی ذاتی خواہش یا غرض کے لیے خود ایک حکم یا قانون گھڑ کر خدا کے نام سے پیش کرنے والا ہوں۔ مجھ پر تم یہ اعتماد کرسکتے ہو کہ جو کچھ میرے بھیجنے والے نے کہا ہے وہی بےکم وکاست تم تک پہنچاؤں گا۔ (واضح رہے کہ یہ دو فقرے اس وقت کے ہیں جب حضرت موسیٰ نے سب سے پہلے اپنی دعوت پیش فرمائی تھی)۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے (اپنی مامُوریّت کی)صریح سَنَد پیش کرتا ہوں۔18

سورة الدُّخَان 18 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے مقابلے میں جو سرکشی تم کر رہے ہو یہ دراصل اللہ کے مقابلے میں سرکشی ہے، کیونکہ میری جن باتوں پر تم بگڑ رہے ہو وہ میری نہیں بلکہ اللہ کی باتیں ہیں اور میں اسی کے رسول کی حیثیت سے انہیں بیان کر رہا ہوں۔ اگر تمہیں اس میں شک ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں یا نہیں، تو میں تمہارے سامنے اپنے مامور من اللہ ہونے کی صریح سند پیش کرتا ہوں۔ اس سند سے مراد کوئی ایک معجزہ نہیں ہے بلکہ معجزات کا وہ طویل سلسلہ ہے جو فرعون کے دربار میں پہلی مرتبہ پہنچنے کے بعد سے آخر زمانہ قیام تک حضرت موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی قوم کو سالہا سال تک دکھاتے رہے۔ جس سند کو بھی ان لوگوں نے جھٹلایا اس سے بڑھ کر صریح سند آپ پیش کرتے چلے گئے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف حواشی نمبر 42۔ 43)۔
Ayahs 44:20–21

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو۔“19

سورة الدُّخَان 19 یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت موسیٰ کی پیش کردہ ساری نشانیوں کے مقابلے میں فرعون اپنی ہٹ پر اڑا ہوا تھا مگر یہ دیکھ کر کہ ان نشانیوں سے مصر کے عوام اور خواص روز بروز متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں، اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے۔ اس زمانے میں پہلے تو اس نے بھرے دربار میں وہ تقریر کی جو سورة زخرف، آیات 51۔ 53 میں گزر چکی ہے (ملاحظہ ہو حواشی سورة زخرف 45 تا 49) پھر زمین پاؤں تلے سے نکلتی دیکھ کر آخر کار وہ اللہ کے رسول کو قتل کردینے پر آمادہ ہوگیا۔ اس وقت آنجناب نے وہ بات کہی جو سورة مومن، آیت 27 میں گزر چکی ہے کہ اِنّی عذت بربّی ورَبکُم مِن کُل مُتکبرٍ لّا یؤمن بیوم الحساب۔ " میں نے پناہ لی اپنے رب کی ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا "۔ یہاں حضرت موسیٰ اپنی اسی بات کا حوالہ دے کر فرعون اور اس کے اعیان سلطان سے فرما رہے ہیں کہ دیکھو، میں تمہارے سارے حملوں کے مقابلہ میں اللہ رب العالمین سے پناہ مانگ چکا ہوں۔ اب تم میرا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن اگر تم خود اپنی خیر چاہتے ہو تو مجھ پر حملہ آور ہونے سے باز رہو، میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو۔ مجھ پر ہاتھ ہرگز نہ ڈالنا، ورنہ اس کا بہت برا انجام دیکھو گے۔
Ayah 44:22

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔20

سورة الدُّخَان 20 یہ حضرت موسیٰ کی آخری رپورٹ ہے جو انہوں نے اپنے رب کے سامنے پیش کی۔ " یہ لوگ مجرم ہیں " یعنی ان کا مجرم ہونا اب قطعی طور پر ثابت ہوچکا ہے۔ کوئی گنجائش ان کے ساتھ رعایت برتنے اور ان کو اصلاح حال کا مزید موقع دینے کی باقی نہیں رہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حضور آخری فیصلہ فرمائیں۔
Ayah 44:23

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(جواب دیا گیا)”اچھا تُو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ۔21 تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ 22

سورة الدُّخَان 21 یعنی ان سب لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ان میں بنی اسرائیل بھی تھے اور مصر کے وہ قبطی باشندے بھی جو حضرت یوسف ؑ کے زمانے سے حضرت موسیٰ ؑ کی آمد تک مسلمانوں میں شامل ہوچکے تھے، اور وہ لوگ بھی جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی نشانیاں دیکھ کر اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر اہل مصر میں سے اسلام قبول کیا تھا۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن جلد دوم، یوسف، حاشیہ 68) سورة الدُّخَان 22 یہ ابتدائی حکم ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو ہجرت کے لیے دیا گیا تھا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طہ، حاشیہ 53، الشعراء، حواشی 39 تا 47)
Ayah 44:24

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

سمندر کو اس حال پر کھلا چھوڑ دے۔ یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے۔“23

سورة الدُّخَان 23 یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضرت موسیٰ ؑ اپنے قافلہ کو لے کر سمندر پار کرچکے تھے اور چاہتے تھے کہ سمندر پر عصا مار کر اسے پھر ویسا ہی کردیں جیسا وہ پھٹنے سے پہلے تھا، تاکہ فرعون اور اس کا لشکر اس راستے سے گذر کر نہ آجائے جو معجزہ سے بنا تھا۔ اس وقت فرمایا گیا کہ ایسا نہ کرو۔ اس کو اسی طرح پھٹا کا پھٹا رہنے دو تاکہ فرعون اپنے لشکر سمیت اس راستے میں اتر آئے، پھر سمندر کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ پوری فوج غرق کردی جائے گی۔
Ayahs 44:25–28

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

" کتنے ہی باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

کتنے ہی عیش کے سر و سامان، جن میں وہ مزے کر رہے تھے اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

یہ ہُوا اُن کا انجام، اور ہم نے دُوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنا دیا۔24

سورة الدُّخَان 24 حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بعد مصر کی سرزمین کا وارث بنادیا۔ اور قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں جو آل فرعون کے بعد مصر کے وارث ہوئے، کیونکہ تاریخوں میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کبھی وہاں واپس گئے ہوں اور وہاں اس زمین کے وارث ہوئے ہوں یہی اختلاف بعد کے مفسرین میں بھی پایا جاتا ہے۔ (تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، الشعراء، حاشیہ 45)
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین ،25 اور ذرا سی مہلت بھی اُن کو نہ دی گئی

سورة الدُّخَان 25 یعنی جب وہ حکمراں تھے تو ان کی عظمت کے ڈنکے بج رہے تھے۔ ان کی حمد وثناء کے ترانوں سے دنیا گونج رہی تھی۔ خوش آمدیوں کے جم گھٹے انکے آگے اور پیچھے لگے رہتے تھے۔ ان کی وہ ہوا باندھی جاتی تھی کہ گویا ایک عالم ان کے کمالات کا گرویدہ اور ان کے احسانات کا زیر بار ہے۔ اور ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مقبول نہیں، مگر جب وہ گرے تو کوئی آنکھ ان کے لیے رونے والی نہیں تھی، بلکہ دنیا نے ایسا اطمینان کا سانس لیا کہ گویا ایک کانٹا تھا جو اس کے پہلو سے نکل گیا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے نہ خلق خدا کے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی کہ زمین والے ان کے لیے روتے، نہ خدا کی خوشنودی کا کوئی کام کیا تھا کہ آسمان والوں کو ان کی ہلاکت پر افسوس ہوتا۔ جب تک مشیت الٰہی سے اس کی رسی دراز ہوتی رہی، وہ زمین کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ جب ان کے جرائم حد سے گذر گئے تو اس طرح اٹھا کر پھینک دیئے جیسے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔
Ayah 44:30

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلّت کے عذاب ،26

سورة الدُّخَان 26 یعنی فرعون بجائے خود کے لیے ذلت کا عذاب تھا اور دوسرے تمام عذاب اسی ایک عذاب مجسم کے شاخسانے تھے۔
Ayah 44:31

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اُونچے درجے کا آدمی تھا،27

سورة الدُّخَان 27 اس میں ایک لطیف طنز ہے کفار قریش کے سرداروں پر۔ مطلب یہ ہے کہ حد بندگی سے تجاوز کرنے والوں میں تمہارا مرتبہ اور مقام ہی کیا ہے۔ بڑے اونچے درجے کا سرکش تو وہ تھا جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے تحت خدائی کا روپ دھارے بیٹھا تھا۔ اسے جب خس و خاشاک کی طرح بہا دیا گیا تو تمہاری کیا ہستی ہے کہ قہر الٰہی کے آگے ٹھہر سکو۔
Ayah 44:32

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور اُن کی حالت جانتے ہوئے اُن کو دنیا کی دُوسری قوموں پر ترجیح دی،28

سورة الدُّخَان 28 یعنی بنی اسرائیل کی خوبیاں اور کمزوریاں دونوں اللہ پر عیاں تھیں اس نے بےدیکھے بھالے اس کا انتخاب اندھا دھند نہیں کرلیا تھا۔ اس وقت دنیا میں جتنی قومیں موجود تھیں ان میں سے اس قوم کو جب اس نے اپنے پیغام کا حامل اور اپنی توحید کی دعوت کا علمبردار بنانے کے لیے چنا تو اس بنا پر چنا کہ اس کے علم میں وقت کی موجود قوموں میں سے یہی اس کے لیے موزوں تر تھی۔
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی۔29

سورة الدُّخَان 29 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 64 تا 85، النساء، حواشی 182 تا 199، المائدہ، حواشی 42 تا 47، جلد دوم الاعراف، حواشی 97 تا 132، جلد سوم، طہ، حواشی 56 تا 74۔
Ayahs 44:34–35

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں، اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔30

سورة الدُّخَان 30 یعنی پہلی دفعہ ہم مریں گے تو بس فنا ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہے۔ " پہلی موت " اس کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد کوئی دوسری موت بھی ہو۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو اس قول کے صادق ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے بعد لازم دوسرا بچہ پیدا ہو، بلکہ صرف یہ کافی ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کوئی بچہ نہ ہوا ہو۔
Ayah 44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ دادا کو۔“31

سورة الدُّخَان 31 ان کا استدلال یہ تھا کہ ہم نے کبھی مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جی اٹھتے نہیں دیکھا ہے، اس لیے ہم یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہوگی۔ تم لوگ اگر دعویٰ کرتے ہو کہ دوسری زندگی ہوگی تو ہمارے اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ تاکہ ہمیں زندگی بعد موت کا یقین آجائے۔ یہ کام تم نے نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارا دعویٰ بےبنیاد ہے۔ یہ گویا ان کے نزدیک حیات بعد الموت کی تردید میں بڑی پختہ دلیل تھی۔ حالانکہ سراسر مہمل تھی۔ آخر ان سے یہ کہا کس نے تھا کہ مرنے والے دوبارہ زندہ ہو کر اسی دنیا میں واپس آئیں گے ؟ اور نبی ﷺ یا کسی مسلمان نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ ہم مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ؟
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

یہ بہتر ہیں یا تُبع کی قوم32 اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مُجرم ہوگئے تھے۔33

سورة الدُّخَان 32 تبع قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کسریٰ ، قیصر، فرعون وغیرہ القاب مختلف ممالک کے بادشاہوں کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 عیسیوی تک یہ حکمراں رہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورة سبا، 37) سورة الدُّخَان 33 یہ کفار کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انکار آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ انسانی شاہد ہے کہ زندگی کے اس نظریہ کو جس قوم نے بھی اختیار کیا ہے وہ آخر کار تباہ ہو کر رہی ہے۔ رہا یہ سوال کہ " یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اس سے پہلے کے لوگ "؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفار مکہ تو اس خوش حالی و شوکت و حشمت کو پہنچ ہی نہیں سکے ہیں جو تبع کی قوم، اور اس سے پہلے سبا اور قوم فرعون اور دوسری قوموں کو حاصل رہی ہے۔ مگر یہ مادی خوشحالی اور دنیاوی شان و شوکت اخلاقی زوال کے نتائج سے ان کو کب بچا سکتی تھی۔ یہ اپنی ذرا سی پونجی اور اپنے ذرائع و وسائل کے بل بوتے پر بچ جائیں گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورة سباء، حواشی نمبر 25۔ 36)
Ayahs 44:38–39

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

یہ آسمان و زمین اور اِن کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔34

سورة الدُّخَان 34 یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی حیات بعد الموت اور آخرت کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل اس کارخانہ عالم کو کھلونا اور اس کے خالق کو نادان بچہ سمجھتا ہے، اسی بناء پر اس نے یہ رائے قائم کی ہے کہ انسان دنیا میں ہر طرح کے ہنگامے برپا کر کے ایک روز بس یونہی مٹی میں رل مل جائے گا اور اس کے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔ حالانکہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کی نہیں بلکہ ایک خالق حکیم کی بنائی ہوئی ہے اور کسی حکیم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ فعل عبث کا ارتکاب کرے گا۔ انکار آخرت کے جواب میں یہ استدلال قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، ہم اس کی مفصل تشریح کرچکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد، اول، الانعام، حاشیہ 46، جلد دوم، یونس، حواشی 10۔ 11، جلد سوم، الانبیاء، حواشی 16۔ 17، المومنون، حواشی 101۔ 102، الروم، حواشی 4 تا 10)۔
Ayah 44:40

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

اِن سب کے اُٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے،35

سورة الدُّخَان 35 یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ " اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو "۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا تو نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے، فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اس کے لیے تو رب العالمین نے ایک وقت مقرر کردیا ہے جب تمام اولین و آخرین کو وہ دوبارہ زندہ کر کے اپنی عدالت میں جمع کرے گا اور ان کے مقدمات کا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ تم مانو چاہے نہ مانو، یہ کام بہرحال اپنے وقت مقرر پر ہی ہوگا۔ تم مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کیونکہ اس طرح قبل از وقت خبردار ہو کر اس عدالت سے کامیاب نکلنے کی تیاری کرسکو گے۔ نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، کیونکہ اپنی ساری عمر اس غلط فہمی میں کھپا دو گے کہ برائی اور بھلائی جو کچھ بھی ہے بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے، مرنے کے بعد پھر کوئی عدالت نہیں ہونی ہے جس میں ہمارے اچھے یا برے اعمال کا کوئی مستقل نتیجہ نکلنا ہو۔