44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 44:41

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

وہ دن جب کوئی عزیزِ قریب اپنے کسی عزیزِ قریب36 کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئٰ مدد پہنچے گی

سورة الدُّخَان 36 اصل میں لفظ " مولیٰ " استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ رشتہ داری کا تعلق ہو یا دوستی کا یا کسی اور قسم کا۔
Ayah 44:42

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے۔37

سورة الدُّخَان 37 ان فقروں میں بتایا گیا ہے کہ فیصلے کے دن جو عدالت قائم ہوگی اس کا کیا رنگ ہوگا۔ کسی کی مدد یا حمایت وہاں کسی مجرم کو نہ چھڑا سکے گی، نہ اس کی سزا کم ہی کرا سکے گی۔ کلی اختیارات اس حاکم حقیقی کے ہاتھ میں ہوں گے جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اور جس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا بل بوتا کسی میں نہیں ہے۔ یہ بالکل اس کے اپنے اختیار تمیزی پر موقوف ہوگا کہ کسی پر رحم فرما کر اس کو سزا نہ دے یا کم سزا دے، اور حقیقت میں اس کی شان یہی ہے کہ انصاف کرنے میں بےرحمی سے نہیں بلکہ رحم ہی سے کام لے۔ لیکن جس کے مقدمے میں جو فیصلہ بھی وہ کرے گا وہ بہرحال بےکم وکاست نافذ ہوگا۔ عدالت الٰہی کی یہ کیفیت بیان کرنے کے بعد آگے کے چند فقروں میں بتایا گیا ہے کہ اس عدالت میں جو لوگ مجرم ثابت ہوں گے ان کا انجام کیا ہوگا، اور جن لوگوں کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں خدا سے ڈر کر نافرمانیوں سے پرہیز کرتے رہے تھے، ان کو کن انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔
Ayah 44:43

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

زَقّوم کا درخت38

سورة الدُّخَان 38 زقوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورة صافات، حاشیہ 34۔
Ayahs 44:44–46

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گناہ گار کا کھاجا ہوگا

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

تیل کی تلچھٹ39 جیسا، پیٹ میں اِس طرح جوش کھائے گا

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے

سورة الدُّخَان 39 اصل میں لفظ " المُھل " استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں پگھلی ہوئی دھات۔ پیپ لہو۔ پگھلا ہوا تارکول۔ لاوا تیل کی تلچھٹ۔ یہ مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ لیکن اگر زقوم سے مراد وہی چیز ہے جسے ہمارے ہاں تھوہر کہتے ہیں، تو اس کو چبانے سے جو رس نکلے گا، اغلب یہی ہے کہ وہ تیل کی تلچھٹ سے مشابہ ہوگا۔
Ayahs 44:47–51

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

" پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جاؤ اِس کو جہنم کے بیچوں بیچ

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

اور انڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تُو

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے۔40

سورة الدُّخَان 40 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو۔ کوئی پریشانی، کوئی خطرہ اور اندیشہ، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا، " اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے " (مسلم بروایت ابوہریرہ و ابو سعید خدری)۔
Ayahs 44:52–53

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

حریر و دیبا 41 کے لباس پہنے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

سورة الدُّخَان 41 اصل میں سُنْدُس اور اِسْتَبْرَق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ سُندس عربی زبان میں باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ اور استبرَق فارسی لفظ ستبر کا معرب ہے، اور یہ دبیز ریشمی کپڑے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 44:54

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

یہ ہوگی ان کی شان۔ اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں42 ان سے بیاہ دیں گے

سورة الدُّخَان 42 اصل الفاظ ہیں حُوْرٌ عِیْن۔ حور جمع ہے حوراء کی اور حوراء عربی زبان میں گوری عورت کو کہتے ہیں۔ اور عین جمع ہے عیناء کی، اور یہ لفظ بڑی بڑی آنکھوں والی عورت کے لیے بولا جاتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 26 و 29)
Ayah 44:55

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔43

سورة الدُّخَان 43 " اطمینان سے " طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز جتنی چاہیں گے بےفکری کے ساتھ جنت کے خادموں کو اس کے لانے کا حکم دیں گے اور وہ حاضر کردی جائے گی۔ دنیا میں کوئی شخص ہوٹل تو درکنار، خود اپنے گھر میں اپنی چیز بھی اس اطمینان سے طلب نہیں کرسکتا جس طرح وہ جنت میں طلب کرے گا۔ کیونکہ یہاں کسی چیز کے بھی اتھاہ ذخیرے کسی کے پاس نہیں ہوتے، اور جو چیز بھی آدمی استعمال کرتا ہے اس کی قیمت بہرحال اس کی اپنی جیب ہی سے جاتی ہے۔ جنت میں مال اللہ کا ہوگا اور بندے کو اس کے استعمال کی کھلی اجازت ہوگی۔ نہ کسی چیز کے ذخیرے ختم ہوجانے کا خطرہ ہوگا نہ بعد میں بل پیش ہونے کا کوئی سوال۔
Ayah 44:56

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آ چکی سو آ چکی اور اللہ اپنے فضل سے،

سورة الدُّخَان 44 اس آیت میں دو باتیں قابل توجہ ہیں ایک یہ کہ جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم سے بچائے جانے کا ذکر خاص طور پر الگ فرمایا گیا ہے، حالانکہ کسی شخص کا جنت میں پہنچ جانا آپ اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ جہنم میں جانے سے بچ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرمانبرداری کے انعام کی قدر انسان کو پوری طرح اسی وقت محسوس ہوسکتی ہے جبکہ اس کے سامنے یہ بات بھی ہو کہ نافرمانی کرنے والے کہاں پہنچے ہیں، اور وہ کس برے انجام سے بچ گیا ہے۔ دوسری قابل توجہ بات اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے جہنم سے بچنے اور جنت میں پہنچنے کو اپنے فضل کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ اس سے انسان کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کامیابی کسی شخص کو نصیب نہیں ہو سکتی جب تک اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو، اگرچہ آدمی کو انعام اس کے اپنے حسن عمل ہی پر ملے گا، لیکن اول تو حسن عمل ہی کی توفیق آدمی کو اللہ کے فضل کے بغیر کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔ پھر جو بہتر سے بہتر عمل بھی آدمی سے بن آسکتا ہے وہ کبھی کامل و اکمل نہیں ہوسکتا جس کے متعلق دعوے سے یہ کہا جاسکے کہ اس میں نقص کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ وہ بندے کی کمزوریوں اور اس کے عمل کی خامیوں کو نظر انداز کر کے اس کی خدمات کو قبول فرمالے اور اسے انعام سے سرفراز فرمائے۔ ورنہ باریک بینی کے ساتھ حساب کرنے پر وہ اتر آئے تو کس کی یہ ہمت ہے کہ اپنی قوت بازو سے جنت جیت لینے کا دعویٰ کرسکے۔ یہی بات ہے جو حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا اعملوا و سددوا وقاربوا و اعلموا انّ احداً لن یُّدخلہ عملہ الجنۃ۔ " عمل کرو اور اپنی حد استطاعت تک زیادہ سے زیادہ ٹھیک کام کرنے کی کوشش کرو، مگر یہ جان لو کہ کسی شخص کو محض اس کا عمل ہی جنت میں نہ داخل کر دے گا۔ " لوگوں نے عرض کیا " یا رسول اللہ، کیا آپ کا عمل بھی " ؟ فرمایا وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یتغمّدنی اللہ بِرَحْمَتِہ، " ہاں میں بھی محض اپنے عمل کے زور سے جنت میں نہ پہنچ جاؤں گا الّا یہ کہ مجھے میرا رب اپنی رحمت سے ڈھانک لے "۔
Ayahs 44:57–59

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

ان کو جہنّم کے عذاب سے بچا دے گا،44 یہی بڑی کامیابی ہے

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

اے نبیؐ، ہم نے اِس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

اب تم بھی انتظارکرو، یہ بھی منتظر ہیں۔45

سورة الدُّخَان 45 یعنی اب اگر یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے تو دیکھتے رہو کہ ان کی کس طرح شامت آتی ہے، اور یہ بھی منتظر ہیں کہ دیکھیں تمہاری اس دعوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔