Ayahs 43:1–3سورة الزُّخْرُف 1
قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف " ہم " ہیں نہ کہ محمد ﷺ۔ اور قسم کھانے کے لیے قرآن کی جس صفت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ " کتاب مبین " ہے۔ اس صفت کے ساتھ قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر خود قرآن کی قسم کھانا آپ سے آپ یہ معنی دے رہا ہے کہ لوگو، یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے موجود ہے، اسے آنکھیں کھول کر دیکھو، اس کے صاف صاف غیر مبہم مضامین، اس کی زبان، اس کا ادب، اس کی حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم، یہ ساری چیزیں اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہیں کہ اس کا مصنف خداوند عالم کے سوا کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا۔
پھر یہ جو فرمایا کہ " ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اسے سمجھو، " اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ کسی غیر زبان میں نہیں ہے، بلکہ تمہاری اپنی زبان میں ہے، اس لیے اسے جانچنے پرکھنے اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آسکتی۔ یہ کسی عجمی زبان میں ہوتا تو تم یہ عذر کرسکتے تھے کہ ہم اس کے کلام الٰہی ہونے یا نہ ہونے کی جانچ کیسے کریں جبکہ ہماری سمجھ ہی میں یہ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن اس عربی قرآن کے متعلق تم یہ عذر کیسے کرسکتے ہو۔ اس کا ایک ایک لفظ تمہارے لیے واضح ہے۔ اس کی ہر عبارت اپنی زبان اور اپنے مضمون، دونوں کے لحاظ سے تم پر روشن ہے۔ خود دیکھ لو کہ کیا یہ محمد ﷺ کا یا کسی دوسرے عرب کا کلام ہوسکتا ہے۔ دوسرا مطلب اس ارشاد کا یہ ہے کہ اس کتاب کی زبان ہم نے عربی اس لیے رکھی ہے کہ ہم عرب قوم کو مخاطب کر رہے ہیں اور وہ عربی زبان کے قرآن ہی کو سمجھ سکتی ہے۔ عربی میں قرآن نازل کرنے کی اس صریح وجہ کو نظر انداز کر کے جو شخص صرف اس بنا پر اسے کلام الٰہی کے بجائے کلام محمد ﷺ قرار دیتا ہے کہ محمد ﷺ کی مادری زبان بھی عربی ہے تو وہ بڑی زیادتی کرتا ہے۔ (اس دوسرے مطلب کو سمجھنے کے لیے تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورة حٰم السجدہ، آیت 44 مع 54 ملاحظہ فرمائیں)
Ayah 43:4سورة الزُّخْرُف 2
" امّ الکتاب " سے مراد ہے " اصل الکتاب " یعنی وہ کتاب جس سے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابیں ماخوذ ہیں۔ اسی کو سورة واقعہ میں کِتَابٌ مَّکْنُوْنٌ (پوشیدہ اور محفوظ کتاب) کہا گیا ہے، اور سورة بروج میں اس کے لیے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی ایسی لوح جس کا لکھا مٹ نہیں سکتا اور جو ہر قسم کی در اندازی سے محفوظ ہے۔ قرآن کے متعلق یہ فرما کر کہ یہ " امّ الکتاب " میں ہے ایک اہم حقیقت پر متنبہ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانوں میں مختلف ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لیے مختلف انبیاء پر مختلف زبانوں میں کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں، مگر ان سب میں دعوت ایک ہی عقیدے کی طرف دی گئی ہے، حق ایک ہی سچائی کو قرار دیا گیا ہے، خیر و شر کا ایک ہی معیار پیش کیا گیا ہے، اخلاق و تہذیب کے یکساں اصول بیان کیے گئے ہیں اور فی الجملہ ایک ہی دین ہے جسے یہ سب کتابیں لے کر آئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سب کی اصل ایک ہے اور صرف عبارتیں مختلف ہیں۔ ایک ہی معنی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بنیادی کتاب میں ثبت ہیں اور جب کبھی ضرورت پیش آئی ہے، اس نے کسی نبی کو مبعوث کر کے وہ معنی حال اور موقع کی مناسبت سے ایک خاص عبارت اور خاص زبان میں نازل فرما دیے ہیں۔ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کا فیصلہ محمد ﷺ کو عرب کے بجائے کسی اور قوم میں پیدا کرنے کا ہوتا تو یہی قرآن وہ حضور ﷺ پر اسی قوم کی زبان میں نازل کرتا۔ اس میں بات اسی قوم اور ملک کے حالات کے لحاظ سے کی جاتی، عبارتیں کچھ اور ہوتیں، زبان بھی دوسری ہوتی، لیکن بنیادی طور پر تعلیم و ہدایت یہی ہوتی، اور وہ یہی قرآن ہوتا (اگرچہ قرآن عربی نہ ہوتا اسی مضمون کو سورة شعراء میں یوں ادا کیا گیا ہے وَ اِنَّہ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ............ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ وَّ اِنَّہ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ (192۔ 196)۔ " یہ رب العٰلمین کی نازل کردہ کتاب ہے ............. صاف صاف عربی زبان میں، اور یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ " (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، حواشی 119۔ 121)
سورة الزُّخْرُف 3
اس فقرے کا تعلق کتاب مبین سے بھی ہے اور امّ الکتاب سے بھی۔ یعنی یہ تعریف قرآن کی بھی ہے اور اس اصل کتاب کی بھی جس سے قرآن منقول یا ماخوذ ہے۔ اس تعریف سے یہ بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ کوئی شخص اپنی نادانی سے اس کتاب کی قدر و منزلت نہ پہچانے اور اس کی حکیمانہ تعلیم سے فائدہ نہ اٹھائے تو یہ اسکی اپنی بد قسمتی ہے۔ کوئی اگر اس کی حیثیت کو گرانے کی کوشش کرے اور اس کی باتوں میں کیڑے ڈالے تو یہ اس کی اپنی رذالت ہے۔ کسی کی ناقدری سے یہ بےقدر نہیں ہو سکتی، اور کسی کے خاک ڈالنے سے اس کی حکمت چھپ نہیں سکتی۔ یہ تو بجائے خود ایک بلند مرتبہ کتاب ہے جسے اس کی بےنظیر تعلیم، اس کی معجزانہ بلاغت، اس کی بےعیب حکمت اور اس کے عالی شان مصنف کی شخصیت نے بلند کیا ہے۔ یہ کسی کے گرائے کیسے گر جائے گی۔ آگے چل کر آیت 44 میں قریش کو خاص طور پر اور اہل عرب کو بالعموم یہ بتایا گیا ہے کہ جس کتاب کی تم اس طرح ناقدری کر رہے ہو اس کے نزول نے تم کو ایک بہت بڑے شرف کا موقع عطا کیا ہے جسے اگر تم نے کھو دیا تو خدا کے سامنے تمہیں سخت جوابدہی کرنی ہوگی۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ 39)
Ayah 43:5سورة الزُّخْرُف 4
اس ایک فقرے میں وہ پوری داستان سمیٹ دی گئی ہے جو محمد ﷺ کے اعلان نبوت کے وقت سے لے کر ان آیات کے نزول تک پچھلے چند برس میں ہو گزری تھی۔ یہ فقرہ ہمارے سامنے یہ تصویر کھینچتا ہے کہ ایک قوم صدیوں سے سخت جہالت، پستی اور بدحالی میں مبتلا ہے۔ یکایک اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت اس پر ہوتی ہے۔ وہ اس کے اندر ایک بہترین رہنما اٹھاتا ہے اور اسے جہالت کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیے خود اپنا کلام نازل کرتا ہے، تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو، جاہلانہ اوہام کے چکر سے نکلے اور حقیقت سے آگاہ ہو کر زندگی کا صحیح راستہ اختیار کرلے۔ مگر اس قوم کے نادان لوگ اور اس کے خود غرض قبائلی سردار اس رہنما کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہیں اور اسے ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ جوں جوں سال پر سال گزرتے جاتے ہیں، ان کی عداوت اور شرارت بڑھتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے قتل کردینے کی ٹھان لیتے ہیں۔ اس حالت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ کیا تمہاری اس نالائقی کی وجہ سے ہم تمہاری اصلاح کی کوشش چھوڑ دیں ؟ اس درس نصیحت کا سلسلہ روک دیں ؟ اور تمہیں اسی پستی میں پڑا رہنے دیں جس میں تم صدیوں سے گرے ہوئے ہو ؟ کیا تمہارے نزدیک واقعی ہماری رحمت کا تقاضا یہی ہونا چاہیے ؟ تم نے کچھ سوچا بھی کہ خدا کے فضل کو ٹھکرانا اور حق سامنے آجانے کے بعد باطل پر اصرار کرنا تمہیں کس انجام سے دوچار کرے گا۔ ؟
Ayahs 43:6–7سورة الزُّخْرُف 5
یعنی یہ بیہودگی اگر نبی اور کتاب کے بھیجنے میں مانع ہوتی تو کسی قوم میں بھی کوئی نبی نہ آتا، نہ کوئی کتاب بھیجی جاتی۔
Ayah 43:8سورة الزُّخْرُف 6
یعنی خاص لوگوں کی بیہودگی کا نتیجہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ پوری نوع انسانی کو نبوت اور کتاب کی رہنمائی سے محروم کردیا جاتا، بلکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ جو لوگ باطل پرستی کے نشے اور اپنی قوت کے گھمنڈ میں بد مست ہو کر انبیاء کا مذاق اڑانے سے باز نہ آئے انہیں آخر کار تباہ کردیا گیا۔ پھر جب اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا تو جس قوت کے بل پر یہ قریش کے چھوٹے چھوٹے سردار اکڑ رہے ہیں اس سے ہزاروں گنی زیادہ طاقت رکھنے والے بھی مچھر اور پسو کی طرح مسل کر رکھ دیئے گئے۔
Ayahs 43:9–10سورة الزُّخْرُف 7
دوسرے مقامات پر تو زمین کو فرش سے تعبیر کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے لیے گہوارے کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ایک بچہ اپنے پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے، ایسے آرام کی جگہ تمہارے لیے اس عظیم الشان کرے کو بنادیا جو فضا میں معلق ہے۔ جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے۔ جو 66600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے۔ جسکے پیٹ میں وہ آگ بھری ہے کہ پتھروں کو پگھلا دیتی ہے اور آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر کبھی کبھی تمہیں بھی اپنی شان دکھا دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود تمہارے خالق نے اسے اتنا پر سکون بنادیا ہے کہ تم آرام سے اس پر سوتے ہو اور تمہیں ذرا جھٹکا تک نہیں لگتا۔ تم اس پر رہتے ہو اور تمہیں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ کرہ معلق ہے اور تم اس پر سر کے بل لٹکے ہوئے ہو۔ تم اطمینان سے اس پر چلتے پھرتے ہو اور تمہیں یہ خیال تک نہیں آ تاکہ تم بندوق کی گولی سے بھی زیادہ تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو، حالانکہ اس کی ایک معمولی سی جھر جھری کبھی زلزلے کی شکل میں آ کر تمہیں خبر دے دیتی ہے کہ یہ کس بلا کا خوفناک دیو ہے جسے اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 74۔ 75)
سورة الزُّخْرُف 8
پہاڑوں کے بیچ بیچ میں درے، اور پھر کوہستانی اور میدانی علاقوں میں دریا وہ قدرتی راستے ہیں جو اللہ نے زمین کی پشت پر بنا دیے ہیں۔ انسان ان ہی کی مدد سے کرہ زمین پر پھیلا ہے۔ اگر پہاڑی سلسلوں کو کسی شگاف کے بغیر بالکل ٹھوس دیوار کی شکل میں کھڑا کردیا جاتا اور زمین میں کہیں دریا، ندیاں، نالے نہ ہوتے تو آدمی جہاں پیدا ہوا تھا اسی علاقے میں مقید ہو کر رہ جاتا۔ پھر اللہ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ تمام روئے زمین کو یکساں بنا کر نہیں رکھ دیا، بلکہ اس میں قسم قسم کے ایسے امتیازی نشانات (Land marks) قائم کردیے جن کی مدد سے انسان مختلف علاقوں کو پہچانتا ہے اور ایک علاقے اور دوسرے علاقے کا فرق محسوس کرتا ہے۔ یہ دوسرا اہم ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان کے لیے زمین میں نقل و حرکت آسان ہوئی۔ اس نعمت کی قدر آدمی کو اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اسے کسی لق و دق صحرا میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے، جہاں سینکڑوں میل تک زمین ہر قسم کے امتیازی نشانات سے خالی ہوتی ہے اور آدمی کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچا ہے اور آگے کدھر جائے۔
سورة الزُّخْرُف 9
یہ فقرہ بیک وقت دو معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ کہ تم ان قدرتی راستوں اور ان نشانات راہ کی مدد سے اپنا راستہ معلوم کرسکو اور اس جگہ تک پہنچ سکو جہاں جانا چاہتے ہو۔ دوسرے معنی یہ کہ اللہ جل شانہ کی اس کاری گری کو دیکھ کر تم ہدایت حاصل کرسکو، حقیقت نفس الامری کو پاسکو، اور یہ سمجھ سکو کہ زمین میں یہ انتظام الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے، نہ بہت سے خداؤں نے مل کر یہ تدبیر کی ہے بلکہ ایک رب حکیم ہے جس نے اپنی مخلوق کی ضروریات کو ملحوظ رکھ کر پہاڑوں اور میدانوں میں یہ راستے بنائے ہیں اور زمین کے ایک ایک خطے کو بیشمار طریقوں سے ایک الگ شکل دی ہے جس کی بدولت انسان ہر خطے کو دوسرے سے ممیز کرسکتا ہے۔
Ayah 43:11سورة الزُّخْرُف 10
یعنی ہر علاقے کے لیے بارش کی ایک اوسط مقدار مقرر کی جو مدت ہائے دراز تک سال بہ سال ایک ہی ہموار طریقے سے چلتی رہتی ہے۔ اس میں ایسی بےقاعدگی نہیں رکھی کہ کبھی سال میں دو انچ بارش ہو اور کبھی دو سو انچ ہوجائے۔ پھر وہ اس کو مختلف زمانوں میں اور مختلف اوقات میں جگہ جگہ پھیلا کر اس طرح برساتا ہے کہ بالعموم وہ وسیع پیمانے پر زمین کی بار آوری کے لیے نافع ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اسکی حکمت ہی ہے کہ زمین کے بعض حصوں کو اس نے بارش سے قریب قریب بالکل محروم کر کے بےآب وگیاہ صحرا بنا دیے ہیں، اور بعض دوسرے حصوں میں وہ کبھی قحط ڈال دیتا ہے اور کبھی طوفانی بارش کردیتا ہے تاکہ آدمی یہ جان سکے کہ زمین کے آباد علاقوں میں بارش اور اس کے عام باقاعدگی کتنی بڑی نعمت ہے، اور یہ بھی اس کو یاد رہے کہ اس نظام پر کوئی دوسری طاقت حکمراں ہے جس کے فیصلوں کے آگے کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ ایک ملک میں بارش کے عام اوسط کو بدل سکے، یا زمین کے وسیع علاقوں پر اس کی تقسیم میں فرق ڈال سکے، یا کسی آتے ہوئے طوفان کو روک سکے، یا روٹھے ہوئے بادلوں کو منا کر اپنے ملک کی طرف کھینچ لائے اور انہیں برسنے پر مجبور کر دے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، صفحات 502۔ 503۔ جلد سوم، المومنون، حواشی 17۔ 18)۔
سورة الزُّخْرُف 11
یہاں پانی کے ذریعہ سے زمین کے اندر روئیدگی کی پیدائش کو بیک وقت دو چیزوں کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ یہ کام خدائے واحد کی قدرت و حکمت سے ہو رہے ہیں، کوئی دوسرا اس کار خدائی میں اس کا شریک نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ہو سکتی ہے اور ہوگی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 53 الف، جلد سوم، الحج، حاشیہ 79، النمل، حاشیہ 73، الروم، حواشی 25۔ 34۔ 35، جلد چہارم، سورة فاطر، حاشیہ 19، سورة یٰسٓ، حاشیہ 29)۔
Ayah 43:12سورة الزُّخْرُف 12
جوڑوں سے مراد صرف نوع انسانی کے زن و مرد، اور حیوانات و نباتات کے نر و مادہ ہی نہیں ہیں، بلکہ دوسری بیشمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑ بنایا ہے اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً عناصر میں بعض سے جوڑ لگتا ہے اور بعض کا بعض سے نہیں لگتا۔ جن کا جوڑ ایک دوسرے سے لگتا ہے، ان ہی کے ملنے سے طرح طرح کی ترکیبیں واقع ہو رہی ہیں۔ یا مثلاً بجلی میں منفی اور مثبت بجلیاں ایک دوسرے کا جوڑ ہیں اور ان کی باہمی کشش ہی دنیا میں عجیب عجیب کرشموں کی موجب بن رہی ہے۔ یہ اور دوسرے ان گنت جوڑے جو قسم قسم کی مخلوقات کے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں، ان کی ساخت، اور انکی باہمی مناسبتوں، اور ان کے تعامل کی گوناگوں شکلوں، اور ان کے ملنے سے پیدا ہونے والے نتائج پر اگر انسان غور کرے تو اس کا دل یہ گواہی دیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ سارا کارخانہ عالم کسی ایک ہی زبردست صانع حکیم کا بنایا ہوا ہے، اور اسی کی تدبیر سے یہ چل رہا ہے۔ صرف ایک عقل کا اندھا ہی یہ فرض کرسکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکیم کے بغیر ہوا اور ہو رہا ہے، یا اس میں ایک سے زیادہ خداؤں کی دخیل کاری کا کوئی امکان ہے۔
Ayah 43:13سورة الزُّخْرُف 13
یعنی زمین کی تمام مخلوقات میں سے تنہا انسان کو کشتیاں اور جہاز چلانے اور سواری کے لیے جانور استعمال کرنے کی یہ مقدرت اللہ تعالیٰ نے اس لیے تو نہیں دی تھی کہ وہ غلے کی بوریوں کی طرح ان پر لد جائے اور کبھی نہ سوچے کہ آخر وہ کون ہے جس نے ہمارے لیے بحر ذخّار میں کشتیاں دوڑانے کے امکانات پیدا کیے، اور جس نے جانوروں کی بیشمار اقسام میں سے بعض کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ ہم سے بدرجہا زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود ہمارے تابع فرمان بن جاتے ہیں اور ہم ان پر سوار ہو کر جدھر چاہتے ہیں انہیں لیے پھرتے ہیں۔ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور نعمت دینے والے کو فراموش کردینا، دل کے مردہ اور عقل و ضمیر کے بےحس ہونے کی علامت ہے۔ ایک زندہ اور حساس قلب و ضمیر رکھنے والا انسان تو ان سواریوں پر جب بیٹھے گا تو اس کا دل احساس نعمت اور شکر نعمت کے جذبے سے لبریز ہوجائے گا۔ وہ پکار اٹھے گا کہ پاک ہے وہ ذات جس نے میرے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا۔ پاک ہے اس سے کہ اس کی ذات وصفات اور اختیارات میں کوئی اس کا شریک ہو۔ پاک ہے اس کمزوری سے کہ اپنی خدائی کا کام خود چلانے سے وہ عاجز ہو اور دوسرے مددگار خداؤں کی اسے حاجت پیش آئے۔ پاک ہے اس سے کہ میں ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کروں۔
اس آیت کے منشا کی بہترین عملی تفسیر رسول اللہ ﷺ کے وہ اذکار ہیں جو سواریوں پر بیٹھتے وقت آپ ﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب سفر پر جانے کے لیے سواری پر بیٹھتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ آیت پڑھتے، اور اس کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اللھم انی اسألُکَ فی سفری ھٰذا البرَّ و التقویٰ ، ومن العمل ماترضیٰ ، اللھم ھون لنا السفر، واطْولَنا البعید، اللھم انت الصاحب فی السفر، والخلیفۃُ فی الاھل، اللھم اَصْحِبْنا فی سفرنا واخْلُفْنَا فی اھلنا (مسند احمد، مسلم، ابوداؤد نسائی، دارمی، ترمذی)۔ " خدایا میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے اس سفر میں مجھے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق دے جو تجھے پسند ہو۔ خدایا ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے اور لمبی مسافت کو لپیٹ دے، خدایا تو ہی سفر کا ساتھی اور ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نگہبان ہے، خدایا ہمارے سفر میں ہمارے ساتھ اور پیچھے ہمارے گھر والوں کی خبر گیری فرما۔ "
حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ کہہ کر رکاب میں پاؤں رکھا، پھر سوار ہونے کے بعد فرمایا الحمد للہ، سبحان الذی سخر لنا ھٰذا ..........، پھر تین مرتبہ الحمد للہ اور تین دفعہ اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا سبحانک، لا اِلٰہ الا انت، قد ظلمت نفسی فاغفرلی۔ اس کے بعد آپ ہنس دیے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ ہنسے کس بات پر ؟ فرمایا، بندہ جب ربِّ اغْفِرْلِیْ کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس کی یہ بات بڑی پسند آتی ہے، وہ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا مغفرت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ)۔
ایک صاحب ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں جانور پر سوار ہوا اور میں نے آیت سبحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا پڑھی۔ حضرت حسن ؓ نے فرمایا کیا اس طرح کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا پھر کیا کہوں ؟ فرمایا کہو کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی، شکر ہے اس کا کہ اس نے محمد ﷺ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا، شکر ہے اس کا کہ اس نے ہمیں اس بہترین امت میں داخل کیا جو خلق خدا کے لیے نکالی گئی ہے، اس کے بعد یہ آیت پڑھو (ابن جریر۔ احکام القرآن للجصّاص)۔
Ayah 43:14سورة الزُّخْرُف 14
مطلب یہ ہے کہ ہر سفر پر جاتے ہوئے یاد کرلو کہ آگے ایک بڑا اور آخری سفر بھی درپیش ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ ہر سواری کو استعمال کرنے میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ شاید کوئی حادثہ اسی سفر کو آدمی کا آخری سفر بنا دے، اس لیے بہتر ہے کہ ہر مرتبہ وہ اپنے رب کی طرف واپسی کو یاد کر کے چلے تاکہ اگر مرنا ہی ہے تو بیخبر نہ مرے۔
یہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر ذرا اس تعلیم کے اخلاقی نتائج کا بھی اندازہ کر لیجیے۔ کیا آپ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ جو شخص کسی سواری پر بیٹھتے وقت سمجھ بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ اس طرح اللہ کو اور اس کے حضور اپنی واپسی اور جواب دہی کو یاد کر کے چلا ہو وہ آگے جا کر کسی فسق و فجور یا کسی ظلم و ستم کا مرتکب ہوگا ؟ کیا کسی فاحشہ سے ملاقات کے لیے، یا کسی کلب میں شراب خوری اور قمار بازی کے لیے جاتے وقت بھی کوئی شخص یہ کلمات زبان سے نکال سکتا ہے یا ان کا خیال کرسکتا ہے ؟ کیا کوئی حاکم یا سرکاری افسر، یا تاجر، جو یہ کچھ سوچ کر اور اپنے منہ سے کہہ کر گھر سے چلا ہو، اپنی جائے عمل پر پہنچ کر لوگوں کے حق مار سکتا ہے ؟ کیا کوئی سپاہی بےگناہوں کا خون بہانے اور کمزوروں کی آزادی پر ڈاکہ مارنے کے لیے جاتے وقت بھی اپنے ہوائی جہاز یا ٹینک پر قدم رکھتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر لا سکتا ہے ؟ اگر نہیں، تو یہی ایک چیز ہر اس نقل و حرکت پر بند باندھ دینے کے لیے کافی ہے جو معصیت کے لیے ہو۔
Ayah 43:15سورة الزُّخْرُف 15
جُزء بنا دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے کسی بندے کو اس کی اولاد قرار دیا جائے، کیونکہ اولاد و لامحالہ باپ کی ہم جنس اور اس کے وجود کا ایک جزء ہوتی ہے، اور کسی شخص کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی کہنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اسے اللہ کی ذات میں شریک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کسی مخلوق کو اللہ کا جزء بنانے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اسے ان صفات اور اختیارات کا حامل قرار دیا جائے جو اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں، اور اسی تصور کے تحت اس سے دعائیں مانگی جائیں، یا اس کے آگے عبودیت کے مراسم ادا کیے جائیں، یا اس کی تحریم و تحلیل کو شریعت واجب الاتباع ٹھہرا لیا جائے۔ کیونکہ اس صورت میں آدمی الوہیت و ربوبیت کو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان بانٹتا ہے اور اس کا ایک جز بندوں کے حوالے کردیتا ہے۔
Ayahs 43:16–17سورة الزُّخْرُف 16
یہاں مشرکین عرب کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے بت انہوں نے عورتوں کی شکل کے بنا رکھے تھے، اور یہی ان کی وہ دیویاں تھیں جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اول تو تم نے یہ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے اور اس زمین کو اسی نے تمہارے لیے گواہ بنایا ہے، اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے، اور اسی نے یہ جانور تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا۔ حالانکہ جنہیں تم معبود بنا رہے ہو وہ خدا نہیں بلکہ بندے ہیں۔ پھر مزید غضب یہ کیا کہ بعض بندوں کو صفات ہی میں نہیں بلکہ اللہ کی ذات میں بھی اس کا شریک بنا ڈالا اور یہ عقیدہ ایجاد کیا کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ اس پر بھی تم نے بس نہ کیا اور اللہ کے لیے وہ اولاد تجویز کی جسے تم خود اپنے لیے ننگ و عار سمجھتے ہو۔ بیٹی گھر میں پیدا ہوجائے تو تمہارا منہ کالا ہوجاتا ہے، خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتے ہو، بلکہ بعض اوقات زندہ بچی کو دفن کردیتے ہو۔ یہ اولاد تو آئی اللہ کے حصے میں۔ اور بیٹے، جو تمہارے نزدیک فخر کے قابل اولاد ہیں، مخصوص ہوگئے تمہارے لیے ؟ اس پر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم اللہ کے ماننے والے ہیں۔
Ayah 43:18سورة الزُّخْرُف 17
بالفاظ دیگر جو نرم و نازک اور ضعیف و کمزور اولاد ہے وہ تم نے اللہ کے حصے میں ڈالی، اور خم ٹھونک کر میدان میں اترنے والی اولاد خود لے اڑے۔
اس آیت سے عورتوں کے زیور کے جواز کا پہلو نکلتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے زیور کو ایک فطری چیز قرار دیا ہے۔ یہی بات احادیث سے بھی ثابت ہے۔ امام احمد، ابو داؤد اور نسائی حضرت علی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک ہاتھ میں ریشم اور دوسرے ہاتھ میں سونا لے کر فرمایا یہ دونوں چیزیں لباس میں استعمال کرنا میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔ ترمذی اور نسائی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ریشم اور سونا میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں پر حرام کیا گیا۔ علامہ ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے حسب ذیل روایات نقل کی ہیں
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن حارثہ کے صاحبزادے اسامہ بن زید کو چوٹ لگ گئی اور خون بہنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کو ان سے اپنی اولاد جیسی محبت تھی۔ آپ ان کا خون چوس کر تھوکتے جاتے اور ان کو یہ کہہ کہہ کر بہلاتے جاتے کہ اسامہ اگر بیٹی ہوتا تو ہم اسے زیور پہناتے، اسامہ اگر بیٹی ہوتا تو ہم اسے اچھے اچھے کپڑے پہناتے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا لبس الحریر والذھب حرام علی ذکور امتی و حلال لاناثھا، " ریشمی کپڑے اور سونے کے زیور پہننا میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہے۔ " حضرت عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ دو عورتیں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو ان کا حق ادا کرو، یعنی ان کی زکوٰۃ نکالو۔
حضرت عائشہ کا قول ہے کہ زیور پہننے میں مضائقہ نہیں بشرطیکہ اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔
حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ تمہاری عملداری میں جو مسلمان عورتیں رہتی ہیں ان کو حکم دو کہ اپنے زیوروں کی زکوٰۃ نکالیں۔
امام ابوحنیفہ نے عمرو بن دینار کے حوالہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ حضرت عائشہ نے اپنی بہنوں کو اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیٹیوں کو سونے کے زیور پہنائے تھے۔
ان تمام روایات کو نقل کرنے کے بعد علامہ جصاص لکھتے ہیں کہ " نبی ﷺ اور صحابہ سے جو روایات عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کے حلال ہونے کے متعلق وارد ہوئی ہیں وہ عدم جواز کی روایات سے زیادہ مشہور اور نمایاں ہیں۔ اور آیت مذکورہ بالا بھی اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے۔ پھر امت کا عمل بھی نبی ﷺ اور صحابہ کے زمانے سے ہمارے زمانے (یعنی چوتھی صدی کے آخری دور) تک یہی رہا ہے، بغیر اس کے کہ کسی نے اس پر اعتراض کیا ہو۔ اس طرح کے مسائل میں اخبار آحاد کی بنا پر کوئی اعتراض تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ "
Ayah 43:19سورة الزُّخْرُف 18
یعنی مذکر یا مونث ہونے سے مبرا ہیں۔ یہ مفہوم فحوائے کلام سے خود بخود مترشح ہو رہا ہے۔
سورة الزُّخْرُف 19
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے " ؟
Ayah 43:20سورة الزُّخْرُف 20
یہ اپنی گمراہی پر تقدیر سے ان کا استدلال تھا جو ہمیشہ سے غلط کار لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمارا فرشتوں کی عبادت کرنا اسی لیے تو ممکن ہوا کہ اللہ نے ہمیں یہ کام کرنے دیا۔ اگر وہ نہ چاہتا کہ ہم یہ فعل کریں تو ہم کیسے کرسکتے تھے پھر مدت ہائے دراز سے ہمارے ہاں یہ کام ہو رہا ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو ہمارا یہ کام ناپسند نہیں ہے۔
Ayah 43:21سورة الزُّخْرُف 21
مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ چونکہ اللہ کی مشیت کے تحت ہو رہا ہے، اس لیے ضرور اس کو اللہ کی رضا بھی حاصل ہے۔ حالانکہ اگر یہ استدلال صحیح ہو تو دنیا میں صرف ایک شرک ہی تو نہیں ہو رہا ہے۔ چوری، ڈاکہ، قتل، زنا، رشوت، بد عہدی، اور ایسے ہی دوسرے بیشمار جرائم بھی ہو رہے ہیں جنہیں کوئی شخص بھی نیکی اور بھلائی نہیں سمجھتا۔ پھر کیا اسی طرز استدلال کی بنا پر یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ تمام افعال حلال و طیب ہیں، کیونکہ اللہ اپنی دنیا میں انہیں ہونے دے رہا ہے، اور جب وہ انہیں ہونے دے رہا ہے، تو ضرور وہ ان کو پسند بھی کرتا ہے ؟ اللہ کی پسند اور ناپسند معلوم ہونے کا ذریعہ وہ واقعات نہیں ہیں جو دنیا میں ہو رہے ہیں، بلکہ اللہ کی کتاب ہے جو اس کے رسول کے ذریعہ سے آتی ہے اور جس میں للہ خود بتاتا ہے کہ اسے کونسے عقائد، کون سے اعمال، اور کون سے اخلاق پسند ہیں اور کون سے ناپسند۔ پس اگر قرآن سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب ان لوگوں کے پاس ایسی موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہو کہ فرشتے بھی میرے ساتھ تمہارے معبود ہیں اور تم کو ان کی عبادت بھی کرنی چاہیے، تو یہ لوگ اس کا حوالہ دیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، الانعام، حواشی 71۔ 79۔ 80۔ 110۔ 124۔ 125۔ جلد دوم، الاعراف، حاشی 16، یونس، حاشیہ 101، ہود، حاشیہ 116، الرعد، حاشیہ 49، النحل، حواشی 10۔ 31۔ 94، جلد چہارم، الزمر، حاشیہ 20۔ الشوریٰ ، حاشیہ 11)۔
Ayah 43:22سورة الزُّخْرُف 22
یعنی ان کے پاس کسی کتاب الہیٰ کی کوئی سند نہیں ہے بلکہ سند صرف یہ ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آ رہا ہے، لہٰذا ہم بھی انہی کی تقلید میں فرشتوں کو دیویاں بنائے بیٹھے ہیں۔
Ayah 43:23سورة الزُّخْرُف 23
یہ بات قابل غور ہے کہ انبیاء کے مقابلے میں اٹھ کر باپ دادا کی تقلید کا جھنڈا بلند کرنے والے ہر زمانے میں اپنی قوم کے کھاتے پیتے لوگ ہی کیوں رہے ہیں ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی حق کی مخالفت میں پیش پیش اور قائم شدہ جاہلیت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں سرگرم رہے، اور وہی عوام کو بہکا اور بھڑکا کر انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف فتنے اٹھاتے رہے ؟ اس کے بنیادی وجوہ دو تھے۔ ایک یہ کہ کھاتے پیتے اور خوشحال طبقے اپنی دنیا بنانے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ حق اور باطل کی، بزعم خویش، دور از کار بحث میں سر کھپانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کی تن آسانی اور ذہنی کاہلی انہیں دین کے معاملے میں انتہائی بےفکر، اور اس کے ساتھ عملاً قدامت پسند (Conservative) بنا دیتی ہے تاکہ جو حالت پہلے سے قائم چلی آ رہی ہے وہی، قطع نظر اس سے کہ وہ حق ہے یا باطل، جوں کی توں قائم رہے اور کسی نئے نظام کے متعلق سوچنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ نظام سے ان کے مفاد پوری طرح وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں، اور انبیاء (علیہم السلام) کے پیش کردہ نظام کو دیکھ کر پہلی ہی نظر میں وہ بھانپ جاتے ہیں کہ یہ آئے گا تو ان کی چودھراہٹ کی بساط بھی لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اور ان کے لیے اکل حرام اور فعل حرام کی بھی کوئی آزادی باقی نہ رہے گی۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 91، جل دوم، الاعراف، حواشی 46۔ 53۔ 58۔ 74۔ 88۔ 92، ہود، حواشی 31، 32، 41، بنی اسرائیل، حاشیہ 18، جلدسوم، المومنون، حواشی 26۔ 27۔ 35۔ 59، جلد چہارم، سبا، آیت 34، حاشیہ 54)۔
Ayahs 43:24–26سورة الزُّخْرُف 24
تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 124 تا 133، الانعام، ھواشی 50 تا 55، جلد دوم، ابراہیم، حواشی 46 تا 53، جلد سوم، مریم، حواشی 26۔ 27، الانبیاء، حواشی 54 تا 66، الشعراء، حواشی، 50 تا 62، العنکبوت، حواشی 26 تا 46، جلد چہارم، الصافات، آیات 83 تا 100، حواشی 44 تا 55۔
Ayah 43:27سورة الزُّخْرُف 25
ان الفاظ میں حضرت ابراہیم ؑ نے محض اپنا عقیدہ ہی بیان نہیں کیا بلکہ اس کی دلیل بھی دے دی۔ دوسرے معبودوں سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ نہ انہوں نے پیدا کیا ہے، نہ وہ کسی معاملہ میں صحیح رہنمائی کرتے ہیں، نہ کرسکتے ہیں۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک سے تعلق جوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ وہی پیدا کرنے والا ہے اور وہی انسان کی صحیح رہنمائی کرتا ہے اور کرسکتا ہے۔
Ayah 43:28سورة الزُّخْرُف 26
یعنی یہ بات کہ خالق کے سوا کوئی معبود ہونے کا مستحق نہیں ہے۔
سورة الزُّخْرُف 27
یعنی جب بھی راہ راست سے ذرا قدم ہٹے تو یہ کلمہ ان کی رہنمائی کے لیے موجود رہے اور وہ اسی کی طرف پلٹ آئیں۔ اس واقعہ کو جس غرض کے لیے یہاں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کفار قریش کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کردیا جائے اور انہیں اس بات پر شرم دلائی جائے کہ تم نے اسلاف کی تقلید اختیار کی بھی تو اس کے لیے اپنے بہترین اسلاف کو چھوڑ کر اپنے بد ترین اسلاف کا انتخاب کیا۔ عرب میں قریش کی مشیخت جس بنا پر چل رہی تھی وہ تو یہ تھی کہ وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل کی اولاد تھے اور ان کے بنائے ہوئے کعبے کی مجاوری کر رہے تھے۔ اس لیے انہیں پیروی ان کی کرنی چاہیے تھی نہ کہ اپنے ان جاہل اسلاف کی جنہوں نے حضرت ابراہیم و اسماعیل کے طریقے کو چھوڑ کر گرد و پیش کی بت پرست قوموں سے شرک سیکھ لیا، پھر اس واقعہ کو بیان کر کے ایک اور پہلو سے بھی ان گمراہ لوگوں کی غلطی واضح کی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ حق و باطل کی تمز کیے بغیر اگر آنکھیں بند کر کے باپ دادا کی تقلید کرنا درست ہوتا تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ یہ کام کرتے۔ مگر انہوں نے صاف صاف اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہہ دیا کہ میں تمہارے اس جاہلانہ مذہب کی پیروی نہیں کرسکتا جس میں تم نے اپنے خالق کو چھوڑ کر ان ہستیوں کو معبود بنا رکھا ہے جو خالق نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ تقلید آبائی کے قائل نہ تھے، بلکہ ان کا مسلک یہ تھا کہ باپ دادا کی پیروی کرنے سے پہلے آدمی کو آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہیے کہ وہ صحیح راستے پر ہیں بھی یا نہیں، اور اگر دلیل معقول سے یہ ظاہر ہو کہ وہ غلط راستے پر جا رہے ہیں تو ان کی پیروی چھوڑ کر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو دلیل کی رو سے حق ہو۔
Ayah 43:29سورة الزُّخْرُف 28
اصل میں رَسُولٌ مُّبِیْن کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا رسول آگیا جس کا رسول ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا۔ جس کی نبوت سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی صاف شہادت دے رہی تھی کہ وہ یقیناً خدا کا رسول ہے۔
Ayah 43:30سورة الزُّخْرُف 29
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 5، جلد چہارم، تفسیر سورة صٓ، حاشیہ 5۔
Ayah 43:31سورة الزُّخْرُف 30
دونوں شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ کفار کا یہ کہنا تھا کہ واقعی خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا اور وہ اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا تو ہمارے ان مرکزی شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو اس غرض کے لیے منتخب کرتا۔ رسول بنانے کے لیے اللہ میاں کو ملا بھی تو وہ شخص جو یتیم پیدا ہوا، جس کے حصے میں کوئی میراث نہ آئی، جس نے بکریاں چرا کر جوانی گزار دی، جو اب گزر اوقات بھی کرتا ہے تو بیوی کے مال سے تجارت کر کے، اور جو کسی قبیلے کا شیخ یا کسی خانوادے کا سربراہ نہیں ہے۔ کیا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ جیسے نامی گرامی سردار موجود نہ تھے ؟ کیا طائف میں عروہ بن مسعود، حبیب بن عمرہ، کنانہ بن عبد عمرو، اور ابن عبد یالیل جیسے رئیس موجود نہ تھے ؟ یہ تھا ان لوگوں کا استدلال۔ پہلے تو وہ یہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کوئی بشر بھی رسول ہوسکتا ہے۔ مگر جب قرآن مجید میں پے در پے دلائل دے کر ان کے اس خیال کا پوری طرح ابطال کردیا گیا، اور ان سے کہا گیا کہ اس سے پہلے ہمیشہ بشر ہی رسول ہو کر آتے رہے ہیں، اور انسانوں کی ہدایت کے لیے بشر ہی رسول ہوسکتا ہے نہ کہ غیر بشر، اور جو رسول بھی دنیا میں آئے ہیں وہ یکایک آسمان سے نہیں اتر آئے تھے بلکہ انہی انسانی بستیوں میں پیدا ہوئے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، بال بچوں والے تھے اور کھانے پینے سے مبرا نہ تھے (ملاحظہ ہو النحل، آیت، 43۔ بنی اسرائیل، 94۔ 95۔ یوسف، 109۔ الفرقان، 7۔ 20۔ الانبیاء، 7۔ 8۔ الرعد، 38) ، تو انہوں نے یہ دوسری پیترا بدلا کہ اچھا، بشر ہی رسول سہی، مگر وہ کوئی بڑا آدمی ہونا چاہیے۔ مالدار ہو، با اثر ہو، بڑے جتھے والا ہو، لوگوں میں اس کی شخصیت کی دھاک بیٹھی ہوئی ہو۔ محمد بن عبداللہ ﷺ اس مرتبے کے لیے کیسے موزوں ہو سکتے ہیں ؟
Ayah 43:32سورة الزُّخْرُف 31
یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے جس کے اندر چند مختصر الفاظ میں بہت سی اہم باتیں ارشاد ہوئی ہیں
پلی بات یہ کہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرنا ان کے سپرد کب سے ہوگیا ؟ کیا یہ طے کرنا ان کا کام ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے کس کو نوازے اور کس کو نہ نوازے ؟ (یہاں رب کی رحمت سے مراد اس کی رحمت عام ہے جس میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ ملتا رہتا ہے)۔
دوسری بات یہ کہ نبوت تو خیر بہت بڑی چیز ہے، دنیا میں زندگی بسر کرنے کے جو عام ذرائع ہیں، ان کی تقسیم بھی ہم نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی کسی اور کے حوالے نہیں کردی۔ ہم کسی کو حسین اور کسی کو بدصورت، کسی کو خوش آواز اور کسی کو بد آواز، کسی کو قوی ہیکل اور کسی کو کمزور کسی کو ذہین اور کسی کو کند ذہن، کسی کو قوی الحافظہ اور کسی کو نسیان میں مبتلا، کسی کو سلیم الاعضاء اور کسی کو اپاہج یا اندھا یا گونگا بہرا، کسی کو امیر زادہ اور کسی کو فقیر زادہ، کسی کو ترقی یافتہ قوم کا فرد اور کسی کو غلام یا پس ماندہ قوم کا فرد پیدا کرتے ہیں۔ اس پیدائشی قسمت میں کوئی ذرہ برابر بھی دخل نہیں دے سکتا۔ جس کو جو کچھ ہم نے بنادیا ہے وہی کچھ بننے پر وہ مجبور ہے۔ اور ان مختلف پیدائشی حالتوں کا جو اثر بھی کسی کی تقدیر پر پڑتا ہے اسے بدل دینا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان رزق، طاقت، عزت، شہرت، دولت، حکومت وغیرہ کی تقسیم بھی ہم ہی کر رہے ہیں۔ جس کو ہماری طرف سے اقبال نصیب ہوتا ہے اسے کوئی گرا نہیں سکتا، اور جس پر ہماری طرف سے ادبار آجاتا ہے اسے گرنے سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ ہمارے فیصلوں کے مقابلے میں انسانوں کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اس عالمگیر خدائی انتظام میں یہ لوگ کہاں فیصلہ کرنے چلے ہیں کہ کائنات کا مالک کسے اپنا نبی بنائے اور کسے نہ بنائے۔
تیسری بات یہ کہ اس خدائی انتظام میں یہ مستقل قاعدہ ملحوظ رکھا گیا ہے کہ سب کچھ ایک ہی کو، یا سب کچھ سب کو نہ دے دیا جائے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو۔ ہر طرف تمہیں بندوں کے درمیان ہر پہلو میں تفاوت ہی تفاوت نظر آئے گا۔ کسی کو ہم نے کوئی چیز دی ہے تو دوسرے کسی چیز سے اس کو محروم کردیا ہے، اور وہ کسی اور کو عطا کردی ہے، یہ اس حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے کہ کوئی انسان دوسروں سے بےنیاز نہ ہو، بلکہ ہر ایک کسی نہ کسی معاملہ میں دوسرے کا محتاج رہے۔ اب یہ کیسا احمقانہ خیال تمہارے دماغ میں سمایا ہے کہ جسے ہم نے ریاست اور وجاہت دی ہے اسی کو نبوت بھی دے دی جائے ؟ کیا اسی طرح تم یہ بھی کہو گے کہ عقل، علم، دولت، حسن، طاقت، اقتدار، اور دوسرے تمام کمالات ایک ہی میں جمع کردیے جائیں، اور جس کو ایک چیز نہیں ملی ہے اسے دوسری بھی کوئی چیز نہ دی جائے ؟
سورة الزُّخْرُف 32
یہاں رب کی رحمت سے مراد اس کی رحمت خاص، یعنی نبوت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے جن رئیسوں کو ان کی دولت و وجاہت اور مشیخت کی وجہ سے بڑی چیز سمجھ رہے ہو، وہ اس دولت کے قابل نہیں ہیں جو محمد بن عبداللہ ﷺ کو دی گئی ہے۔ یہ دولت اس دولت سے بدرجہا زیادہ اعلیٰ درجے کی ہے اور اس کے لیے موزونیت کا معیار کچھ اور ہے۔ تم نے اگر یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہارا ہر چودھری اور سیٹھ نبی بننے کا اہل ہے تو یہ تمہارے اپنے ہی ذہن کی پستی ہے۔ اللہ سے اس نادانی کی توقع کیوں رکھتے ہو ؟
Ayahs 43:33–35سورة الزُّخْرُف 33
یعنی یہ سیم و زر، جس کا کسی کو مل جانا تمہاری نگاہ میں نعمت کی انتہا اور قدر و قیمت کی معراج ہے، اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام انسانوں کے کفر کی طرف ڈھلک پڑنے کا خطرہ نہ ہوتا تو وہ ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنادیا جاتا۔ اس جنس فرومایہ کی فراوانی آخر کب سے انسان کی شرافت اور پاکیزگی نفس اور طہارت روح کی دلیل بن گئی ؟ یہ مال تو ان خبیث ترین انسانوں کے پاس بھی پایا جاتا ہے جن کے گھناؤنے کردار کی سڑاند سے سارا معاشرہ متعفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسے تم نے آدمی کی بڑائی کا معیار بنا رکھا ہے۔
Ayah 43:36سورة الزُّخْرُف 34
وسیع المعنیٰ لفظ ہے۔ رحمان کے ذکر سے مراد اس کی یاد بھی ہے، اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت بھی، اور یہ قرآن بھی۔
Ayahs 43:37–39سورة الزُّخْرُف 35
یعنی اس امر میں تمہارے لیے تسلی کا کوئی پہلو نہیں ہے کہ تمہیں غلط راہ پر ڈالنے والے کو سزا مل رہی ہے، کیونکہ وہی سزا گمراہی قبول کرنے کی پاداش میں تم بھی پا رہے ہو۔
Ayah 43:40سورة الزُّخْرُف 36
مطلب یہ ہے کہ جو سننے کے لیے تیار ہوں اور جنہوں نے حقائق کی طرف سے آنکھیں بند نہ کرلی ہوں، ان کی طرف توجہ کرو، اور اندھوں کو دکھانے اور بہروں کو سنانے کی کوشش میں اپنی جان نہ کھپاؤ، نہ اس غم میں اپنے آپ کو گھلاتے رہو کہ تمہارے یہ بھائی بند کیوں راہ راست پر نہیں آتے اور کیوں اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔