Ayahs 43:80–81سورة الزُّخْرُف 64
مطلب یہ ہے کہ میرا کسی کو خدا کی اولاد نہ ماننا، اور جنہیں تم اس کی اولاد قرار دے رہے ہو ان کی عبادت سے انکار کرنا کسی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں ہے۔ میں جس بنا پر اس سے انکار کرتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ کوئی خدا کا بیٹا یا بیٹی نہیں ہے اور تمہارے یہ عقائد حقیقت کے خلاف ہیں۔ ورنہ میں تو خدا کا ایسا وفادار بندہ ہوں کہ اگر بالفرض حقیقت یہی ہوتی تو تم سے پہلے میں بندگی میں سر جھکا دیتا۔
Ayahs 43:82–84سورة الزُّخْرُف 65
یعنی آسمان اور زمین کے خدا الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ساری کائنات کا ایک ہی خدا ہے۔ اسی کی حکمت اس پورے نظام کائنات میں کار فرما ہے، اور وہی تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔
Ayah 43:85سورة الزُّخْرُف 66
یعنی اس کی ہستی اس سے بدرجہا بلندو برتر ہے کہ کوئی خدائی میں اس کا شریک ہو اور اس عظیم کائنات کی فرماں روائی میں کچھ بھی دخل رکھتا ہو۔ زمین و آسمان میں جو بھی ہیں، خواہ وہ انبیاء ہوں یا اولیا، فرشتے ہوں یا جن یا ارواح، ستارے ہوں یا سیارے، سب اس کے بندے اور غلام اور تابع فرمان ہیں۔ ان کا کسی خدائی صفت سے متصف یا خدائی اختیار کا حامل ہونا قطعی ناممکن ہے۔
سورة الزُّخْرُف 67
یعنی دنیا میں تم خواہ کسی کو اپنا حامی و سرپرست بناتے پھرو، مگر مرنے کے بعد تمہارا سابقہ اسی ایک خدا سے پڑنا ہے اور اسی کی عدالت میں تم کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔
Ayah 43:86سورة الزُّخْرُف 68
اس فقرے کے کئی مفہوم ہیں
ایک یہ کہ لوگوں نے جن جن کو دنیا میں معبود بنا رکھا ہے وہ سب اللہ کے حضور شفاعت کرنے والے نہیں ہیں۔ ان میں سے جو گمراہ و بد راہ تھے وہ تو خود وہاں مجرم کی حیثیت سے پیش ہوں گے۔ البتہ وہ لوگ ضرور دوسروں کی شفاعت کرنے کے قابل ہوں گے جنہوں نے علم کے ساتھ (نہ کہ بےجا نے بوجھے) حق کی شہادت دی تھی۔
دوسرے یہ کہ جنہیں شفاعت کرنے کا اختیار حاصل ہوگا وہ بھی صرف ان لوگوں کی شفاعت کرسکیں گے جنہوں نے دنیا میں جان بوجھ کر (نہ کہ غفلت و بیخبر ی کے ساتھ) حق کی شہادت دی ہو۔ کسی ایسے شخص کی شفاعت نہ وہ خود کریں گے نہ کرنے کے مجاز ہوں گے جو دنیا میں حق سے برگشتہ رہا تھا، یا بےسمجھے بوجھے اشھد ان لا الٰہ الا اللہ بھی کہتا رہا اور دوسرے الہٰوں کی بندگی بھی کرتا رہا۔
تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر یہ کہتا ہے کہ اس نے جن کو معبود بنا رکھا ہے وہ لازماً شفاعت کے اختیارات رکھتے ہیں، اور انہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا زور حاصل ہے کہ جسے چاہیں بخشوا لیں قطع نظر اس سے کہ اس کے اعمال و عقائد کیسے ہی ہوں، تو وہ غلط کہتا ہے۔ یہ حیثیت اللہ کے ہاں کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ جو شخص کسی کے لیے ایسی شفاعت کے اختیارات کا دعویٰ کرتا ہے وہ اگر علم کی بنا پر اس بات کی مبنی بر حقیقت شہادت دے سکتا ہو تو ہمت کر کے آگے آئے۔ لیکن اگر وہ ایسی شہادت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اور یقیناً نہیں ہے، تو خواہ مخواہ سنی سنائی باتوں پر، یا محض قیاس و وہم و گمان کی بنیاد پر ایسا ایک عقیدہ گھڑ لینا سراسر لغو، اور اس خیالی بھروسے پر اپنی عاقبت کو خطرے میں ڈال لینا قطعی حماقت ہے۔
اس آیت سے ضمناً دو بڑے اہم اصول بھی مستنبط ہوتے ہیں۔ اولاً اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے بغیر حق کی شہادت دینا چاہے دنیا میں معتبر ہو، مگر اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ دنیا میں تو جو شخص کلمہ شہادت زبان سے ادا کرے گا، ہم اس کو مسلمان مان لیں گے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرتے رہیں گے جب تک وہ کھلم کھلا کفر صریح کا ارتکاب نہ کرے۔ لیکن اللہ کے ہاں صرف وہی شخص اہل ایمان میں شمار ہوگا جس نے اپنی بساط علم و عقل کی حد تک یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے لا الٰہ الا اللہ کہا ہو کہ وہ کس چیز کا انکار اور کس چیز کا اقرار کر رہا ہے۔
ثانیاً ، اس سے قانون شہادت کا یہ قاعدہ نکلتا ہے کہ گواہی کے لیے علم شرط ہے۔ گواہ جس واقعہ کی گواہی دے رہا ہو اس کا اگر اسے علم نہیں ہے تو اس کی گواہی بےمعنی ہے۔ یہی بات نبی ﷺ کے ایک فیصلے سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے ایک گواہ سے فرمایا کہ اِذا رأیت مثل الشمس فاشہد و الّا فدع (احکام القرآن للجصّاص) " اگر تو نے واقعہ کو خود اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھا ہے جیسے تو سورج کو دیکھ رہا ہے تو گواہی دے ورنہ رہنے دے۔ "
Ayah 43:87سورة الزُّخْرُف 69
اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تم ان سے پوچھو کہ خود ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ دوسرے یہ کہ اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کے معبودوں کا خالق کون ہے تو یہ کہیں گے کہ اللہ۔
Ayah 43:88سورة الزُّخْرُف 70
یہ قرآن مجید کی نہایت مشکل آیات میں سے ہے جس میں نحو کا یہ نہایت پیچیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وَقِیْلِہ میں واؤ کیسا ہے اور اس لفظ کا تعلق اوپر سلسلہ کلام میں کس چیز کے ساتھ ہے۔ مفسرین نے اس پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر کوئی تشفی بخش بات مجھے ان کے ہاں نہیں ملی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ صحیح بات وہی ہے جو شاہ عبدالقادر صاحب ؒ کے ترجمے سے مترشح ہوتی ہے، یعنی اس میں واؤ عطف کا نہیں بلکہ قسمیہ ہے، اور اس کا تعلق فَاَنّیٰ یُؤْفَکُوْنَ سے ہے، اور قِیْلِہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف پھرتی ہے جس پر یَا رَبِّ اِنَّ ھٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ کا فقرہ صریح دلالت کر رہا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ
قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ " اے رب یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے "، کیسی عجیب ہے ان لوگوں کی فریب خوردگی کہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا اور ان کے معبودوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور پھر بھی خالق کو چھوڑ کر مخلوق ہی کی عبادت پر اصرار کیے جاتے ہیں۔
رسول کے اس قول کی قسم کھانے کا مدعا یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ روش صاف ثابت کیے دے رہی ہے کہ فی الواقع یہ ہٹ دھرم ہیں، کیونکہ ان کے رویے کا غیر معقول ہونا ان کے اپنے اعتراف سے ظاہر ہے، اور ایسا غیر معقول رویہ صرف وہی شخص اختیار کرسکتا ہے جو نہ ماننے کا فیصلہ کیے بیٹھا ہو۔ بالفاظ دیگر یہ قسم اس معنی میں ہے کہ بالکل ٹھیک کہا رسول نے، فی الواقع یہ مان کردینے والے لوگ نہیں ہیں۔
Ayah 43:89سورة الزُّخْرُف 71
یعنی ان کی سخت باتوں اور تضحیک و استہزاء پر نہ ان کے لیے بد دعا کرو اور نہ ان کے جواب میں کوئی سخت بات کہو، بس سلام کر کے ان سے الگ ہوجاؤ۔