45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

(1۔ 2) یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ لفظ ایک قسم ہے جو کہ تاکیدا کھائی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے جو کہ کافر کو سزا دینے میں غالب اور حکمت والا ہے کہ اس نے اس بات کا حکم دیا کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

چاند سورج ستارے اور بادل جو آسمانوں میں ہیں اور درخت و پہاڑ اور سمندر جو زمین میں ہیں ان تمام چیزوں میں ان لوگوں کے لیے جو کہ اپنے ایمان میں سچے ہیں بڑے دلائل ہیں۔
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

اور اسی طرح خود تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف تبدیل کرنے میں تمہارے لیے دلائل ہیں اور تمام جاندار چیزوں کے پیدا کرنے میں بھی تصدیق کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور عبرت کی چیزیں ہیں۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

اور اسی طرح رات اور دن کی تبدیلی میں اور ان کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور ان کی زیادتی و کمی میں تمہارے لیے عبرت اور نشانی ہے اور اسی طرح بارش میں بھی کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے زمین کے خشک اور بنجر ہوجانے کے بعد اسے تروتازہ کیا تمہارے لیے عبرت و دلائل ہیں اور اسی طرح ہواؤں کے دائیں بائیں آگے اور پیچھے اور رحمت و عذاب کی صورت میں تبدیل کرنے میں دلائل اور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو کہ ان کا اللہ کی جانب سے ہونا تسلیم کرتے ہیں۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو بذریعہ جبریل امین حق و باطل کے بیان کرنے کے لیے آپ پر نازل کی ہیں۔ تو پھر کلام خداوندی اور اس کی کتاب کے بعد یا یہ کہ اس کے عجائبات کے بعد اور کون سی بات ہوسکتی ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں اگر اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

تو بڑی خرابی ہوگی یا یہ کہ دوزخ میں خون اور پیپ کی وادی ہوگی ہر ایسے شخص کے لیے جو کہ جھوٹا اور نافرمان ہو یعنی نضر بن حارث۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اس کے باوجود کہ وہ آیات قرآنیہ کو سنتا ہے جو اس کے سامنے اوامرو نواہی کے بیان کے لیے پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر کرتا ہوا اپنے کفر پر اس طرح اڑا رہتا ہے گویا کہ اس نے ان کو سنا یہ نہیں۔ اے نبی کریم آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئیے، چناچہ یہ بدر کے دن مارا گیا۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اور یہ جب قرآن کریم کو سنتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے اس نضر کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

مرنے کے بعد ان کے آگے جہنم ہے عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کا جمع کردہ مال اور ان کی برائیاں کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ وہ جھوٹے معبود باطل جن کی انہوں نے پوجا پاٹ کی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

کیونکہ قرآن کریم گمراہی سے ہدایت ہے اور نضر اور اس کے ساتھیوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کی جو تکذیب کی ہے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

اللہ ہی نے تمہارے لیے دریا کو مسخر بنایا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں اور تاکہ تم اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اس کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرو۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

اور تمہارے نفع کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے چاند سورج بادل درخت جانور پہاڑ اور سمندروں کو مسخر کیا ان مذکورہ چیزوں میں ان لوگوں کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں غوروفکر کرتے ہیں دلائل قدرت اور عبرتیں ہیں۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

آپ حضرت عمر فاروق اور ان کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ مکہ والوں سے جو کہ عذاب الہی سے نہیں ڈرتے، درگزر کریں تاکہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر اور ان کے ساتھیوں کو ان کے نیک اعمال کا بدلہ دے اور یہ درگرز کرنے کا حکم ہجرت سے پہلے کا تھا پھر سب کو قتال کا حکم دے دیا گیا۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

جو شخص خلوص ایمانی کے ساتھ نیک کام کرتا ہے اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے تو اس کی سزا اسی کو بھگتنی پڑے گی پھر مرنے کے بعد تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

اور ہم نے بنی اسرائیل کو علم و فہم عطا کیا تھا اور ان میں انبیاء کرام اور کتابیں بھی بھیجی تھیں اور من وسلوی یا یہ کہ غنیمتیں ان کو عطا کی تھیں اور ان کے زمانہ کے علماء پر ان کو کتاب و رسول کے ذریعے فضیلت دی تھی۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

اور ہم نے دین کے بارے میں انہیں واضح دلیلیں دیں مگر انہوں نے اپنی کتاب کے ذریعے علم آجانے کے بعد رسول اکرم اور قرآن کریم اوردین اسلام میں اختلاف کیا اور آپس کے حسد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ اے نبی اکرم آپ کا پروردگار یہود و نصاری اور مسلمانوں کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں جن میں یہ دنیا میں باہم مختلف تھے فیصلہ کردے گا۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

پھر ہم نے آپ کو اپنے حکم اور اطاعت کے خاص طریقہ پر منتخب کرلیا، آپ اسی پر قائم رہیے اور اسی کے مطابق عمل کرتے رہیے یا یہ کہ اسلام کے ساتھ ہم نے آپ کو اعزاز عطا کیا اور اس چیز کا حکم دیا کہ اللہ کی مخلوق کو اسی کی طرف بلائیں اور ان مشرکین اور یہود و نصاری کے طریقہ پر نہ چلیے جو توحید الہی کو نہیں جانتے۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

کیونکہ ان لوگوں کے طریقہ کی پیروی عذاب الہی کے مقابلہ میں آپ کے کچھ کام نہیں آئے گی اور کافر تو ایک دوسرے کے طریقہ پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ تو کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کا دوست ہے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

یہ قرآن حکیم دانش مندیوں کا سبب اور گمراہی سے ہدایت پر آنے کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کی تصدیق کرتے ہیں عذاب کے مقابلہ میں بڑی رحمت ہے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

کیا یہ لوگ جنہوں نے بڑے بڑے شرکیہ کام کیے یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم آخرت میں ثواب اور درجات کے اعتبار سے انہیں ان لوگوں کے برابر رکھیں گے جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے جیسا کہ حضرت علی اور ان کے دونوں ساتھی۔ بدر کے دن جب کفار میں سے عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان جنگ میں نکلے اور ان کے مقابلے کے لیے حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ تشریف لائے تو کفار نے کہا کہ محمد جو آخرت کے بارے میں ثواب کا ذکر فرماتے ہیں اگر وہ بات صحیح ہے تو ہمیں ان مسلمانوں پر آخرت میں بھی فوقیت ہوگی جیسا کہ اس دنیا میں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی ہے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ دونوں گروہ برابر ہوجائیں کیونکہ مسلمانوں کی موت وحیات ایمان پر ہے اور کفار کا مرنا جینا دونوں چیزیں کفر پر ہیں۔ یا یہ کہ مسلمانوں کی موت وحیات اور ایمان اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر برابر سرابر ہے اور کافر کا مرنا جینا کفر و معصیت اور اللہ تعالیٰ کے غصے اور اس کی ناراضگی پر برابر سرابر ہے، یہ لوگ اپنے لیے برا فیصلہ کرتے ہیں۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ ہر ایک نیک و بد کو اس کی نیکی اور برائی کا بدلہ دیا جائے اور کسی کی نیکی میں اور گناہوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

اے نبی کریم آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی ہے جس نے اپنا معبود اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے کہ ان بتوں سے جس کو اس کا نفس چاہتا ہے پوجنا شروع کردیتا ہے اور وہ شخص نضر بن حارث یا ابوجہل یا حارث بن قیس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا گمراہوں میں سے ہونا معلوم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان سے گمراہ کردیا ہے۔ اور اس کے کان پر اور دل پر مہر لگا دی ہے تاکہ وہ حق بات کو نہ سن سکے اور نہ سمجھ سکے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے تاکہ وہ حق بات کو دیکھ نہ سکے سو اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے کے بعد ایسے شخص کو کون دین کا راستہ بتا سکتا ہے پھر بھی تم قرآن کریم سے نصیحت نہیں حاصل کرتے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ شان نزول : اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ (الخ) ابن منذر اور ابن جریر نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ قریش ایک زمانہ تک ایک پتھر کو پوجتے تھے پھر جب اس سے اچھا پتھر مل جاتا تو اس پہلے پتھر کو پھینک دیتے اور دوسرے کو پوچنا شروع کردیتے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے، یہیں آباء مرتے ہیں اور یہیں اولاد پیدا ہوتی ہے اور ہمیں صرف رات و دن اور مہینوں اور گھنٹوں کی گردش سے موت آجاتی ہے اور ان کی اس بکواس کی ان کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں محض گمان سے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ شان نزول : وَقَالُوْا مَا هِىَ (الخ) ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ جاہل کہا کرتے تھے کہ ہمیں تو رات و دن کی آمد و رفت سے موت آجاتی ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ الخ
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

اور جس وقت ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے سامنے ہماری اوامرو نواہی کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا اس پر سوائے اس کے اور کوئی عذر اور جواب نہیں ہوتا کہ وہ رسول اکرم سے کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لاؤ ہم خود آپ کی بات کے بارے میں ان سے پوچھ لیں کہ یہ صحیح ہے یا غلط اگر آپ اپنے اس بعث بعد الموت کے دعوے میں سچے ہیں۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

آپ اس ابوجہل وغیرہ سے فرما دیجیے کہ اللہ ہی تمہیں قبروں سے زندہ کرے گا اور وہ ہی تمہیں موت دیتا ہے پھر قیامت کے دن جس کے وقوع میں کوئی شک نہیں تم سب کو جمع کرے گا مگر مکہ والے نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش اور نباتات ہیں اور قیامت کے دن مشرکین دنیا و آخرت کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے نقصان میں رہیں گے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

آپ ہر ایک فرقہ والے کو ایک ہی جگہ دیکھیں گے پھر ایک فرقہ کو اس کے نامہ اعمال کے پڑھنے کی طرف بلایا جائے گا، چناچہ ان میں سے بعض کو ان کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور بعض کو ان کے بائیں ہاتھ میں۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

اور کہا جائے گا کہ آج تمہارے دنیا کے اعمال و اقوال کا بدلہ دیا جائے گا اور یہ ہمارا لکھوایا ہوا دفتر ہے جو تمہارے مقابلہ میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے ہم تمہارے تمام اعمال و اقوال کو لکھواتے جاتے تھے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

سو جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تھے ہم انہیں اپنی جنت میں داخل کریں گے۔ یہ کامل کامیابی ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے محفوظ رہے یہ ان لوگوں کی جماعت ہوگی جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

اور کافروں سے کہا جائے گا کیا تمہیں دنیا میں اوامرو نواہی کے بارے میں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں مگر تم نے ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا تھا اور تم مشرک تھے۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

اور جس وقت دنیا میں تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بعث بعد الموت کے بارے میں وعدہ سچا ہے اور قیامت کے قیام میں کوئی شک نہیں وہ ضرور قائم ہوگی۔ مگر تم کہا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیام قیامت کیا چیز ہے محض ایک خیال سا تو ہمیں ہوتا ہے باقی ہمیں اس کا یقین نہیں اور ان پر ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

(33۔ 34) اور انبیاء کرام اور کتب خداوندی کے ساتھ مذاق کی سزا ان کو آگھیرے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم تمہیں دوزخ میں ڈالتے ہیں جیسا کہ تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کوئی تمہارا مددگار نہیں۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

اور یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہنسی اڑائی تھی اور تمہیں اطاعت خداوندی سے دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا سو آج نہ تو یہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ دنیا میں ہی واپس کیے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہ غالب اور دانا ہے

(36۔ 37) سو ہر قسم کے شکر و احسانات اسی ذات کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور ہر اس جاندار کا رب ہے جو روئے زمین پر چلتے ہیں۔ اور اسی کے لیے بڑائی اور بادشاہت ہے آسمان اور زمین والوں پر اور وہ اپنی بادشاہت و سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔