45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 45:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمتوں والا

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں میں اور زمین میں بہت نشانیاں ہیں ماننے والوں کے واسطے9

9 یعنی آدمی ماننا چاہے تو اسی آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے محکم نظام میں غور کر کے مان سکتا ہے ہے کہ ضرور کوئی ان کا پیدا کرنے والا اور تھامنے والا ہے۔ جس نے کمال حکمت و خوبی سے ان کو بنایا اور لامحدود قدرت سے ان کی حفاطت کی۔ " البعرۃ تدل علی البعیرد الاقدام تدل علی المسیر فکیف لا یدل ہذا النظام العجیب الغریب علی الصانع اللطیف الخبیر۔ "
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہارے بنانے میں اور جس قدر پھیلا رکھے ہیں جانور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو یقین رکھتے ہیں10

10 یعنی انسان خود اپنی بناوٹ اور دوسرے حیوانات کی ساخت میں غور کرے۔ تو درجہ عفان و ایقان تک پہنچانے والی ہزارہا نشانیاں اس کو ملیں گی۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور بدلنے میں رات دن کی اور جو اتاری اللہ نے آسمان روزی11 پھر زندہ کردیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد اور بدلنے میں ہواؤں کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو سمجھ سے کام لیتے ہیں1

11 یعنی پانی آسمان کی طرف سے اتارا جو مادہ ہے روزی کا۔ 1 یعنی ذرا بھی سمجھ سے کام لیں تو معلوم ہوجائے کہ یہ امور بجز اس زبردست قادر حکیم کے اور کسی کے بس میں نہیں۔ جیسا کہ پہلے متعدد مواضع میں اس کی تقریر گزر چکی۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ باتیں ہیں اللہ کی ہم سناتے ہیں تجھ کو ٹھیک ٹھیک پھر کونسی بات کو اللہ اور اس کی باتوں کو چھوڑ کر مانیں گے2

2 یعنی اللہ کو چھوڑ کر دوسرا کون ہے اور اس کی باتیں چھوڑ کر کس کی بات ماننے کے قابل ہے۔ جب اس بڑے مالک کی ایسی سچی اور صاف باتیں بھی کوئی بدبخت قبول نہ کرے تو آخر کس چیز کا منتظر ہے جسے قبول کرے گا۔
Ayahs 45:7–8

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

خرابی ہے ہر جھوٹے گناہ گار کے لیے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ سنتا ہے باتیں اللہ کی اس کے پاس پڑھی جاتی ہیں، پھر ضد کرتا ہے غرور سے گویا سنا ہی نہیں3 سو خوشخبری سنا دے اس کو ایک عذاب دردناک کی،

3 یعنی ضد اور غرور کی وجہ سے اللہ کی بات نہیں سنتا۔ اس کی شیخی اجازت نہیں دیتی کہ اپنی جہالت سے ہٹے۔ حق کو سن کر اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا سنا ہی نہیں۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب خبر پائے ہماری باتوں میں سے کسی کی، اس کو ٹھہرائے ٹھٹھا ایسوں کو ذلت کا عذاب ہے4

4 یعنی جس طرح وہ آیات اللہ کے ساتھ اہانت و استخاف کا معاملہ کرتا ہے، سزا بھی سخت اہانت و ذلت کی ملے گی۔ جو آگے آرہی ہے۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

پرے ان کے دوزخ ہے اور کام نہ آئیگا ان کے جو کمایا تھا ذرا بھی اور نہ وہ کہ جن کو پکڑا تھا اللہ کے سوائے رفیق5 اور ان کے واسطے بڑا عذاب ہے

5 یعنی اموال و اولاد وغیرہ کوئی چیز اس وقت کام نہ آئے گی۔ نہ وہ کام آئیں گے جن کو اللہ کے سوا معبود یا رفیق و مددگار بنا رکھا تھا اور جن سے بہت کچھ اعانت و امداد کی توقعات تھیں۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ سجھا دیا اور جو منکر ہیں اپنے رب کی باتوں سے ان کے لیے عذاب ہے ایک بلا کا دردناک6

6 یعنی یہ قرآن عظیم الشان ہدایت ہے جو سب طرح کی برائی بھلائی انسان کو سمجھانے کے لیے آتی ہے جو اس کو نہ مانیں وہ سخت غلیظ اور دردناک عذاب بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بس میں کردیا تمہارے دریا کو چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے7 اور تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو8

7 یعنی سمندر جیسی مخلوق کو ایسا مسخر کردیا کہ تم بےتکلف اپنی کشتیاں اور جہاز اس میں لیے پھرتے ہو۔ میلوں کی گہرائیوں کو پایاب کر رکھا ہے۔ 8 یعنی بحری تجارت کرو، یا شکار کھیلو، یا اس کی تہ میں سے موتی نکالو۔ اور یہ سب منافے و فوائد حاصل کرتے وقت منعم حقیقی کو نہ بھولو۔ اس کا حق پہچانو، زبان و دول اور قلب و قالب سے شکر ادا کرو۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور کام میں لگا دیا تمہارے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں سب کو اپنی طرف سے9 اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو دھیان کرتے ہیں10

9 یعنی اپنے حکم اور قدرت سے سب کو تمہارے کام میں لگا دیا۔ یہ اسی کی مہربانی ہے کہ ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات انسان کی خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہیں۔ 10 آدمی دھیان کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ چیز اس کے بس کی نہ تھی محض اللہ کے فضل اور اس کی قدرت کاملہ سے یہ اشیاء ہمارے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ تو لامحالہ ہم کو بھی کسی کے کام میں لگنا چاہیے وہ کام یہ ہی ہے کہ اس منعم حقیقی اور محسن علی الاطلاق کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری میں اپنی حیات مستعار کے لمحات صرف کردیں تاکہ آئندہ چل کر ہمارا انجام درست ہو۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

کہہ دے ایمان والوں کو درگز کریں ان سے جو امید نہیں رکھتے اللہ کے دنوں کی1 تاکہ وہ سزا دے ایک قوم کو بدلہ اس کا جو کماتے تھے2

1 " ایام اللہ " (اللہ کے دنوں) سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ اپنے دشمنوں کو کوئی خاص سزا دے، یا اپنے فرمانبرداروں کو کسی خصوصی انعام و اکرام سے سرفراز فرمائے۔ لہذا " لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّام اللّٰهِ " سے وہ کفار مراد ہوئے جو اس کی رحمت سے ناامید اور اس کے عذاب سے بےفکر ہیں۔ 2 یعنی مسلمان آپ سے بدلہ لینے کی فکر نہ کریں۔ اللہ پر چھوڑ دیں، وہ ان کی شرارتوں پر کافی سزا، اور مومنین کے صبر وتحمل اور عفو و درگزر کا مناسب صلہ دے گا۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے بھلا کام کیا تو اپنے واسطے اور جس نے برا کیا سو اپنے حق میں3 پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے4

3 یعنی بھلے کام کا فائدہ کام کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اللہ کو اس کی کیا ضرورت ؟ اور بدی کرنے والا خود اپنے حق میں برا بیج بو رہا ہے۔ ایک کی برائی دوسرے پر نہیں پڑتی۔ غرض ہر شخص اپنے نفع نقصان کی فکر کرلے۔ اور جو عمل کرے یہ سمجھ کر کرے کہ اس کا سود و زیاں اسی کی ذات کو پہنچے گا۔ 4 یعنی وہاں پہنچ کر سب برائی بھلائی سامنے آجائے گی۔ اور ہر ایک اپنی کرتوت کا پھل چکھے گا۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے دی بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور پیغمبری اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں5 اور بزرگی دی ان کو جہان پر6

5 یعنی تورات دی اور سلطنت یا قوت فیصلہ یا دانائی کی باتیں یا دین کی سمجھ عطا کی، اور کس قدر کثرت سے پیغمبر ان میں سے اٹھائے یہ تو روحانی غذا ہوئی، جسمانی غذا دیکھو تو وہ بھی بہت افراط سے دی گئی حتی کہ من وسلوی اتارا گیا۔ 6 یعنی اس زمانہ میں سارے جہان پر ان کو فضیلت کلی حاصل تھی اور بعض فضائل جزئیہ کے اعتبار سے تو " اس زمانہ " کی قید لگانے کی بھی ضرورت نہیں۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دیں ان کو کھلی باتیں دین کی7 پھر انہوں نے پھوٹ جو ڈالی تو سمجھ آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں وہ جھگڑتے تھے8

7 یعنی نہایت واضح اور مفصل احکام، کھلے کھلے معجزات جو دین کے باب میں بطور حجت وبرہان کے پیش کیے جاتے ہیں۔ 8 یعنی آپس کی ضد اور نفسانیت سے اصل کتاب کو چھوڑ کر بیشمار فرقے بن گئے۔ جن کا عملی فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا اس وقت پتہ لگے کہ ان کا منشاء نفس پروری اور ہوا پرستی کے سوا کچھ نہ تھا۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک راستہ پر دین کے کام کے سوا تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی9

9 یعنی ان اختلافات اور فرقہ وارانہ کشمکش کی موجودگی میں ہم نے آپ کو دین کے صحیح راستہ پر قائم کردیا تو آپ کو اور آپ کی امت کو چاہیے کہ اس راستہ پر برابر مستقیم رہے۔ کبھی بھول کر بھی جاہلوں اور نادانوں کی خواہشات پر نہ چلے۔ مثلاً ان کی خواہش یہ ہے کہ آپ ان کے طعن وتشنیع اور ظلم وتعدی سے تنگ آکر دعوت و تبلیغ ترک کردیں، یا مسلمانوں میں بھی ویسا ہی اختلاف و تفریق پڑجائے جس میں وہ لوگ خود مبتلا ہیں۔ اندریں صورت واجب ہے کہ ان کی خواہشات کو بالکل پامال کردیا جائے۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

وہ ہرگز کام نہ آئیں گے تیرے اللہ کے سامنے ذرا بھی10 اور بےانصاف ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اللہ رفیق ہے ڈرنے والوں کا11

10 یعنی ان کی طرف جھکنا تم کو خدا کے ہاں کچھ کام نہ دے گا۔ 11 یعنی منصف اور راستی پسند مسلمان، ظالم اور بےراہ و کافروں کے رفیق نہیں ہوسکتے۔ وہ تو اللہ کے مطیع بندے ہیں اور اللہ ہی ان کا رفیق و مددگار ہے۔ لازم ہے کہ اسی کی راہ چلیں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ سوجھ کی باتیں ہیں لوگوں کے واسطے اور راہ کی اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین لاتے ہیں12

12 یعنی قرآن بڑی بڑی بصیرت افروز حقائق پر مشتمل ہے۔ لوگوں کو کام کی باتیں اور کامیابی کی راہ سجھاتا ہے۔ اور جو خوش قسمت اس کی ہدایات و نصائح پر یقین کر کے عمل پیرا ہوتے ہیں ان حق میں میں خصوصی طور پر قرآن و رحمت و برکت ہے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں جنہوں نے کمائی ہیں برائیاں کہ ہم کردیں گے ان کو برابر ان لوگوں کی جو کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام ایک سا ہے ان کا جینا اور مرنا برے دعوے ہیں جو کرتے ہیں13

13 یعنی اللہ تعالیٰ کی شؤن حکمت پر نظر کرتے ہوئے کیا کوئی عقلمند یہ گمان کرسکتا ہے کہ ایک بدمعاش آدمی، اور ایک مرد صالح کے ساتھ خداوند تعالیٰ یکساں معاملہ کرے گا۔ اور دونوں کا انجام برابر کرے گا ؟ ہرگز نہیں۔ نہ ان زندگی میں دونوں برابر ہوسکتے ہیں نہ مرنے کے بعد جو حیات طیبہ مومن صالح کو یہاں نصیب ہوتی ہے اور جس نصرت اور علو ورفعت کے وعدے دنیا میں اس سے کیے گئے وہ ایک کافر بدکار کو کہاں میسر ہیں۔ اس کے لیے دنیا میں معیشت ضنک اور آخرت میں لعنت و خسران کے سوا کچھ نہیں۔ الغرض یہ دعویٰ بالکل غلط اور یہ خیال بالکل مہمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوں اور بدوں کا مرنا اور جینا برابر کرے گا۔ اس کی حکمت اس کو مقتضی نہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ دونوں کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک نتیجہ ظاہر ہو کر رہے۔ اور ہر ایک کی نیک یا بدی کے آثار فی الجملہ یہاں بھی مشاہد ہوں اور ان کا پوری طرح مکمل معائنہ موت کے بعد ہو۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور بنائے اللہ نے آسمان اور زمین جیسے چاہئیں اور تاکہ بدلہ پائے ہر کوئی اپنی کمائی کا اور ان پر ظلم نہ ہوگا1

1 یعنی زمین و آسمان کو یوں ہی بیکار پیدا نہیں کیا۔ بلکہ نہایت حکمت سے کسی خاص مقصد کے لیے بنایا ہے تاکہ ان کے احوال میں غور کر کے لوگ معلوم کرسکیں کہ بیشک جو چیز بنائی گئی ٹھیک موقع سے بنائی اور تاکہ اندازہ کرلیا جائے کہ ضرور ایک دن اس کارخانہ ہستی کا کوئی عظیم الشان نتیجہ نکلنے والا ہے۔ اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ جہاں ہر ایک کو اس کی کمائی کا پھل ملے گا اور جو بویا تھا وہ بھی کاٹنا پڑے گاگندم از گندم بروید جوز جواز مکافات عمل غافل مشو۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو جس نے ٹھہرا لیا اپنا حاکم اپنی خواہش کو اور راہ سے بچلا دیا اس کو اللہ نے جانتا بوجھتا2 اور مہر لگا دی اس کے کان پر اور دل پر اور ڈال دی اس کی آنکھ پر اندھیری پھر کون راہ پر لائے اس کو اللہ کے سوا سو کیا تم غور نہیں کرتے3

2 یعنی اللہ جانتا تھا کہ اس کی استعداد خراب ہے اور اسی قابل ہے کہ سیدھی راہ سے ادھر ادھر بھٹکتا پھرے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بدبخت علم رکھنے کے باوجود اور سمجھنے بوجھنے کے بعد گمراہ ہوا۔ 3 جو شخص محض خواہش نفس کو اپنا حاکم اور معبود ٹھہرالے، جدھر اس کی خواہش لے چلے ادھر چل پڑے اور حق و ناحق کے جانچنے کا معیار اس کے پاس یہ ہی خواہش نفس رہ جائے، اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی اختیار کردہ گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ نہ کان نصیحت کی بات سنتے ہیں، نہ دل سچی بات کو سمجھتا ہے، نہ آنکھ سے بصیرت کی روشنی نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ جس کو اس کے کرتوت کی بدولت ایسی حالت پر پہنچا دے، کون سی طاقت ہے جو اس کے بعد اس راہ پر لے آئے۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اور کچھ نہیں بس یہی ہے ہمارا جینا دنیا کا ہم مرتے ہیں اور پوجتے ہیں اور ہم جو مرتے ہیں سو زمانہ سے4 اور ان کو کچھ خبر نہیں اس کی محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں5

4 یعنی اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی دوسری زندگی نہیں۔ بس یہ ہی ایک جہان ہے جس میں ہمارا مرنا اور جینا ہے۔ جیسے بارش ہونے پر سبزہ زمین سے اگا، خشکی ہوئی تو سوکھ کر ختم ہوگیا۔ یہ ہی حال آدمی کا سمجھو، ایک وقت آتا ہے پیدا ہوتا ہے۔ پھر معین وقت تک زندہ رہتا ہے۔ آخر زمانہ کا چکر اسے ختم کردیتا ہے۔ یہ ہی سلسلہ موت وحیات کا دنیا میں چلتا رہتا ہے۔ آگے کچھ نہیں۔ 5 یعنی زمانہ نام ہے دہر کا۔ وہ کچھ کام کرنے والا نہیں۔ کیونکہ ان میں حس نہ شعور نہ ارادہ، لامحالہ وہ کسی اور چیز کو کہتے ہوں گے جو معلوم نہیں ہوتی لیکن دنیا میں اس کا تصرف چلتا ہے۔ پھر اللہ ہی کو کیوں نہ کہیں جس کا وجود اور متصرف علی الاطلاق ہونا دلائل فطریہ اور براہین عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہوچکا ہے۔ اور زمانہ کا الٹ پھیر اور رات دن کا ادل بدل کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی معنی سے حدیث میں بتلایا گیا کہ دہر اللہ ہے اس کو برا نہ کہنا چاہیے۔ کیونکہ جب آدمی دہر کو برا کہتا ہے اسی نیت سے کہتا ہے کہ حوادث دہر اس کی طرف منسوب ہیں حالانکہ تمام حوادث دہر اللہ کے ارادے اور مشیت سے ہیں تو دہر کی برائی کرنے سے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہوتی ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب سنائی جائیں ان کو ہماری آیتیں کھلی کھلی اور کچھ دلیل نہیں ان کی مگر یہی کہ کہتے ہیں لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو، اگر تم سچے ہو6

6 یعنی جب قرآن کی آیات با بعث بعدالموت کے دلائل اس کو سنائی جاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میں کسی دلیل کو نہیں مانوں گا۔ بس اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمارے مرے ہوئے باپ دادوں کو زندہ کر کے دکھلا دو ۔ تب ہم تسلیم کریں گے کہ بیشک موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا حق ہے۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

تو کہہ کہ اللہ ہی جلاتا ہے تم کو پھر مارے گا تم کو پھر اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن تک اس میں کچھ شک نہیں پر بہت لوگ نہیں سمجھتے7

7 یعنی جس نے ایک مرتبہ زندہ کیا پھر مارا، اسے کیا مشکل ہے کہ دوبارہ زندہ کر کے سب کو ایک جگہ اکٹھا کر دے۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جس دن قائم ہوگی قیامت اس دن خراب ہوں گے جھوٹے8

8 اس دن ذلیل و خوار ہو کر پتہ لگے گا کہ کس دھوکہ میں پڑے ہوئے تھے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تو دیکھے ہر فرقہ کو کہ بیٹھے ہیں گھٹنوں کے بل9 ہر فرقہ بلایا جائے اپنے اپنے دفتر کے پاس آج بدلہ پاؤ گے جیسا تم کرتے تھے10

9 یعنی خوف وہیبت سے۔ 10 یعنی اعمالنامہ کی طرف بلایا جائے گا کہ آؤ اس کے موافق حساب دو ۔ آج ہر ایک کو اسی کا بدلہ ملے گا۔ جو اس نے دنیا میں کمایا تھا۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا دفتر ہے بولتا ہے تمہارے کام ٹھیک1 ہم لکھواتے جاتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے2

1 یعنی جو کام کیے تھے یہ اعمالنامہ ٹھیک ٹھیک وہ ہی بتلاتا ہے۔ ذرہ بھر کمی بیشی نہیں۔ 2 یعنی ہمارے علم میں تو ہر چیز ازل سے ہے۔ مگر ضابطہ میں ہمارے فرشتے لکھنے پر مامور تھے ان کی لکھی ہوئی مکمل رپورٹ آج تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ یقین لائے ہیں اور بھلے کام کیے سو ان کو داخل کرے گا ان کا رب اپنی رحمت میں یہ جو ہے یہی ہے صریح مراد ملنی3

3 یعنی جنت میں جہاں اعلیٰ درجہ کی رحمت اور ہر قسم کی مہربانیاں ہوں گی۔
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے کیا تم کو سنائی نہ جاتی تھیں باتیں میری پھر تم نے غرور کیا اور ہوگئے تم لوگ گناہ گار4

4 یعنی ہماری طرف سے نصیحت و فہمائش اور تمام حجت کا کوئی دقیقہ اٹھا کر نہ رکھا گیا۔ اس پر بھی تمہارے غرور کی گردن نیچی نہ ہوئی۔ آخرت کے پکے مجرم بن کر رہے۔ یا " وکنتم قوماً مجرمین۔ " کا مطلب یہ لیا جائے کہ تم پہلے ہی سے جرائم پیشہ تھے۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہیے کہ وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں تم کہتے تھے ہم نہیں سمجھتے کیا ہے قیامت، ہم کو آتا تو ہے ایک خیال سا اور ہم کو یقین نہیں ہوتا5 اور کھل جائیں

5 یعنی ہم نہیں جانتے قیامت کیسی ہوتی ہے۔ تم جو کچھ قیامت کے عجیب و غریب احوال بیان کرتے ہو ہم کو کسی طرح ان کا یقین نہیں ہوتا۔ یوں سنی سنائی باتوں سے کچھ ضعیف سا امکان اور دھندلا سا خیال کبھی آجائے وہ دوسری بات ہے۔
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

ان پر برائیاں ان کاموں کی جو کیے تھے اور الٹ پڑے ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے6

6 یعنی جب قیامت آئے گی ان کی تمام بدکاریاں اور ان کے نتائج سامنے آجائیں گے اور عذاب وغیرہ کی دھمکیوں کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے وہ خود ان پر ہی الٹ پڑے گا۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور حکم ہوگا کہ آج ہم تم کو بھلا دیں گے جیسے تم نے بھلا دیا تھا اپنی اس دن کی ملاقات کو7 اور گھر تمہارا دوزخ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار

7 یعنی دنیا میں تم نے آج کے دن کو یاد نہ رکھا تھا۔ آج ہم تم کو مہربانی سے یاد نہ کریں گے۔ ہمیشہ کے لیے اسی طرح عذاب میں پڑا چھوڑ دیں گے۔ جیسے تم نے اپنے کو دنیا کے مزوں میں پھنسا کر چھوڑ دیا تھا۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تم پر اس واسطے کہ تم نے پکڑا اللہ کی باتوں کو ٹھٹھا اور بہکے رہے دنیا کی زندگانی پر7 سو آج نہ ان کو نکالنا منظور ہے وہاں سے اور نہ ان سے مطلوب ہے توبہ9

8 یعنی دنیا کے مزوں میں پڑ کر خیال ہی نہ کیا کہ یہاں سے کبھی جانا اور خدا کے سامنے پیش ہونا بھی ہے اور اگر کبھی کچھ خیال آیا بھی تو یوں سمجھ کر دل کی تسلی کرلی کہ جس طرح دنیا میں ہم مسلمانوں سے مقابل ہیں، وہاں بھی ہمارا یہ ہی زور رہے گا۔ 9 یعنی نہ ان کو دوزخ سے نکالا جائے گا نہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اب خدا کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو اللہ ہی کے واسطے ہے سب خوبی جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا رب سارے جہان کا

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والاف 10

10 چاہیے آدمی اسی کی طرف متوجہ ہو۔ اس کے احسانات و انعامات کی قدر کرے۔ اسی کی ہدایت پر چلے، سب کو چھوڑ کر اسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر رکھے۔ اور اس کی بزرگی و عظمت کے سامنے ہمیشہ باختیار خود مطیع و منقاد رہے۔ کبھی سرکشی و تمرد کا خیال دل میں نہ لائے۔ حدیث قدسی میں ہے " الکبریاء ردائی واعظمۃ ازاری فمن نازعنی واحدًا منہما قذفتہ فی النار " (کبریائی میری چادر اور عظمت میرا تہ بند ہے۔ لہذا جو کوئی ان دونوں میں سے کسی میں مجھ سے منازعت اور کشمکش کرے گا، میں اسے اٹھا کر آگ میں پھینک دوں گا) اللہم اجعلنا مطیعین لامرک وجنبنا غضبک وقنا عذاب النار۔ انک سمیع قریب مجیب الدعوات۔ ثم سورة الجاثیۃ یعونہ وصونہ فللہ والمنتہ وبہ التوفیق والعمصمۃ۔