Explained with ayahs 30–37
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
سورة الْجَاثِیَة 46
یہ آخری فقرہ اس انداز میں ہے جیسے کوئی آقا اپنے کچھ خادموں کو ڈانٹنے کے بعد دوسروں سے خطاب کر کے کہتا ہے کہ اچھا، اب ان نالائقوں کی یہ سزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
معارف و مسائل
(آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…
Read the full tafseer →ذلکم بانکم اتخذتم ایت اللہ ھزوا وغرتکم الحیوۃ الدنیاج فالیوم ولایخرجون منھا ولا ھم یستعتبون 35
یعنی تم اس رویہ کے سزا وار اس وجہ سے ٹھہرے کہ جب تم کو اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ان کا مذاق اڑاتے اور اس طرح وہاں سے چل دیتے گویا تم نے کوئی بات سنی ہی نہیں۔ آیات 9-8 میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
وغرتکم الحیوۃ الدنیا، یعنی تم کو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو رفاہیت و خوش حالی بخشی اس سے تم نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ تم اسی کے سزا وار و حقدار ہو اور تمہاری یہ خوش حالی اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارے عقیدہ یا عمل میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اس غرور میں مبتلا ہو کہ تم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
37۔ 1 جیسے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْعَظَمَۃُ اِذَارِیْ وَالْکِبْریاءُ رِدَائیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِنْھُمَا اَسْکَنْتُہُ نَارِیْ (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11: توبہ کرنے اور معافی مانگنے کا دروازہ انسان کے لیے ساری زندگی کھلا ہوا ہے، لیکن مرنے کے بعد اور آخرت میں پہنچنے کے بعد یہ دروازہ بند ہوجاتا ہے، اور وہاں معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے وہاں کسی سے یہ کہا بھی نہیں جائے گا کہ معافی مانگ لو۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 35 (1)
اب ان کے آخری انجام کے اعلان پر پردہ گرتا ہے ، جہنم میں ان کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ، نہ ان سے کوئی عذر طلب کیا جاتا ہے اور نہ معافی کی درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔
آیت نمبر 35 (2)
گویا ان الفاظ کے ساتھ ہی ہم کرخت آوازیں سنتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اب یہ منظر یہاں ختم ہوتا ہے اور اس حالت میں کوئی تغیر اور تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
اس مقام پر اللہ کی حمد و ثنا کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ اس تمہید اور منظر کے بعد سورت کے آخری کلمات نہایت ہی موثر ہیں۔
Read the full tafseer →8 یعنی دنیا کے مزوں میں پڑ کر خیال ہی نہ کیا کہ یہاں سے کبھی جانا اور خدا کے سامنے پیش ہونا بھی ہے اور اگر کبھی کچھ خیال آیا بھی تو یوں سمجھ کر دل کی تسلی کرلی کہ جس طرح دنیا میں ہم مسلمانوں سے مقابل ہیں، وہاں بھی ہمارا یہ ہی زور رہے گا۔
9 یعنی نہ ان کو دوزخ سے نکالا جائے گا نہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اب خدا کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
Read the full tafseer →آیت 35 { ذٰلِکُمْ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّغَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا } ”یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا تھا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا۔“
{ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ } ”تو آج انہیں نکالا نہیں جائے گا اس سے اور نہ ہی انہیں موقع دیا جائے گا کہ وہ توبہ کرلیں۔“
اب ان کے لیے موقع نہیں ہوگا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ کو راضی کرلیں۔ توبہ کا موقع تو دنیا میں تھا اور وہ موقع وہ لوگ کھو چکے ہوں گے۔
Read the full tafseer →48 استَعْتَبَ کا معنی :۔ عَتَبَ کے معنی سرزنش کرنا، خفگی کرنا اور عاتب کے معنی ملامت کرنا اور غصہ کرنا بھی ہے اور ناز سے خطاب کرنا بھی (گویا یہ لفظ لغت اضداد سے ہے) اور أعتب کے معنی ناراضگی کو دور کرنا اورإستعتب کے معنی کسی کو راضی کرلینا اور روٹھے ہوئے کو منا لینا ہے۔ گویا ان دوزخ میں پڑے ہوئے لوگوں کو کوئی ایسا موقع نہ دیا جائے گا کہ معذرت اور منت سماجت کرکے یا توبہ کرکے اپنے پروردگار کو راضی کرلیں۔
Read the full tafseer →31۔ یعنی قیامت میں اس کا موقع ہی نہ ہوگا کہ توبہ کرکے اللہ کی ناراضگی کو دور کیا جائے۔ (آیت) ” وغرتکم الحیوۃ الدنیا “۔ انکار آخرت کی اصل بنا یہی دنیا کی مشغولی اور اس میں انہماک تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…
Read the full tafseer →ذلکم بانکم اتخذتم ایت اللہ ھزوا وغرتکم الحیوۃ الدنیا فالیوم لا یخرجون منھا ولا
ھم یستعتبون یہ (تمہاری سزا) اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو ٹھٹول بنا رکھا تھا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا ‘ سو آج وہ لوگ نہ تو دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ کی خفگی کا تدارک طلب کیا جائے گا۔
ھُزُوًا یعنی مذاق کی چیز بنا رکھا تھا ‘ یعنی اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا تھا اور ان پر غور نہیں کیا تھا۔
وَغَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا یعنی تم نے خیال کر رکھا تھا کہ اس دنیوی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہوگی اور اعمال کی حساب فہمی نہ ہوگی۔
وَلاَھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ- عُتبٰی…
Read the full tafseer →اور یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہنسی اڑائی تھی اور تمہیں اطاعت خداوندی سے دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا سو آج نہ تو یہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ دنیا میں ہی واپس کیے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →ولا ھم یستعتبون : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (84) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →مراد قرآن حکیم ہے کھیل دنیاوی زندگی نے اپنی باطل چیزوں اور زیب وزینت سے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا تو تم نے یہ گمان کیا کہ اس کے سوا کوئی چیز نہیں اور دوبارہ اٹھانا بھی نہیں ھا ضمیر سے مراد آگ ہے اور نہ انہیں توبہ کر کے راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے حمزہ اور کسائی نے یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الحج 22) باقی قراء نے یاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، (مومنون 107) اس کی مثل دوسری آیات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا “ (اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تم کو بھلا دیتے ہیں جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا) سے مراد ہے کہ تم نے میرا ذکر اور میری اطاعت چھوڑ دی تھی تو اسی طرح میں نے بھی تم کو چھوڑ دیا (آیت ) ” کما نسیتم لقآء یومکم ھذا یعنی تم نے میرا ذکر اور میری اطاعت چھوڑ دی تھی اسی طرح میں تم کو آگ میں چھوڑ دوں گا۔
مؤمن کے استغفار پر فرشتے کا آمین :
18:۔ ابن عساکر (رح) نے عمر بن ذر ؓ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قوم اللہ کے ذکر کے لئے…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمْ [ یہ ] بِاَنَّكُمُ [ اس سبب سے ہے کہ تم لوگوں نے ] اتَّخَذْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ بنایا اللہ نے نشانیوں کو ] هُزُوًا [ مذاق کا نشانہ ] وَّغَرَّتْكُمُ [ اور فریب دیا تم کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ [ دنیوی زندگی نے ] فَالْيَوْمَ [ تو آج ] لَا يُخْرَجُوْنَ مِنْهَا [ وہ لوگ نہیں نکالے جائیں گے اس سے ] وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ [ اور نہ وہ لوگ منائے جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
﴿وَ قِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰىكُمْ ﴾ (مجرمین سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں) یعنی تمہیں عذاب میں ڈال کر چھوڑ دیتے ہیں جیسے کوئی چیز بھول بھلیاں کردی جاتی ہیں، یہ نہ سمجھنا کہ کبھی عذاب سے چھٹکارہ ہوجائے گا جیسے تم نے آج کے دن کو بھلایا ایسے ہی ہمیشہ کے لیے تمہیں رحمت سے محروم کردیا گیا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔
مجرمین سے مزید خطاب ہوگا کہ یہ جو کچھ نتیجہ (عذاب کی صورت میں) تمہارے سامنے ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق بنایا تھا اور تمہیں دنیا والی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا تھا، آج جب یہاں دوزخ میں ڈال دئیے گئے تو نہ عذاب سے نکالے جاؤ گے اور نہ یہ موقعہ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →24:۔ ” ذلکم بانکم اتخذتم۔ الایۃ “ یہ دائمی عذاب تمہیں اس لیے نصیب ہوا کہ تم اللہ کی آیتوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر لایعنی اعتراضات کیا کرتے تھے اور دنیوی زندگی کی ظاہری شان و شوکت میں ایسے کھو گئے کہ اسی ہی کو اصل زندگی سمجھنے لگے اور آخرت کا انکار کردیا، اس لیے آج ان کو اس دائمی عذاب میں جھونک دیا جائے گا جس سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے اور نہ ان کو ایمان وعمل اور توبہ سے اللہ کو راضی کرنے ہی کا موقع میسر آسکے گا۔ ای لایطلب منھم ان یرضوا ربھم بالتوبۃ لغوات او انہ (مظہری ج 8 ص 392) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ربط آیات
سورۃ جاثیہ حوامیم سبعہ میں چھٹے نمبر پر ہے اگلی سورة الاحقاف پر یہ ساتوں سورتیں ختم ہوجائیں گی ان سورتوں کو لباب القرآن یعنی قرآن کا لب لباب اور نچوڑ کہا گیا ہے ان میں دین کے بنیادی عقائد اور اصول بیان کئے ہیں۔ اس سورة میں بھی توحید اور اس کے دلائل ، مشرکین کا رد ، شریعت کا اتباع ، تکبر کی تردید اور بعض دوسرے اہم مسائل بیان ہوئے ہیں۔ سورة کے اس آخری حصہ میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوچکا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی تمام باطل پرست اور بدعقیدہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ ہر گروہ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرے…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰيٰتِ اللہِ ہُزُوًا وَّغَرَّتْكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا 0 ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُوْنَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ 35
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ترکیب : اضاف اللقاء الی الیوم تو سعالانہ اضاف الی الشیء ماھو واقع فیہ کمکراللیل کماقدمراعرابہ فی اکثر المواضع و ماوٰ کم الجملۃ معطوفہ علی الیوم الخ و کذ الاھم یستعتبون ای لایطلب منھم العتبٰی وھوالرجوع الی طاعۃ اللہ۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا کہ ان کے اعمال کی برائی جو ان پر پڑے گی منجملہ اس کے ایک یہ بات ہوگی کہ جہنم میں ڈال کر ان سے یہ عتاب آمیز کلام کیا جاوے گا جس سے ابدی مایوسی ٹپکتی ہے اور جو کچھ آس تھی وہ بھی ٹوٹ جاوے گی۔ تین جملے بیان ہوئے۔ اول الیوم ننساکم کہ آج ہم تم کو بھول جاویں گے یعنی بمنزلہ بھولے ہوئے کے کردیں گے ‘ سخت بےپروائی کریں گے۔ جیسا کہ تم آج کے دن کے سامان اور اس…
Read the full tafseer →ذٰلِکُمْ بِاَنَّـکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًاوَّغَرَّتْـکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْـیَا ج فَالْیَوْمَ لاَ یُخْرَجُوْنَ مِنْھَا وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَـبُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 35)
(یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا، اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال دیا تھا، پس آج نہ تو وہ اس دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ )
یہ انجام ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ہے
قیامت کے دن کفار جس انجام سے دوچار ہوں گے اس کا حوالہ دے کر ان سے کہا جائے گا کہ یہ مصیبت اچانک تمہارے سروں پر نازل نہیں ہوئی بلکہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے تکبر کا نتیجہ تھا کہ وہ قیامت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ذریعے یہ اعلان کروایا کہ لوگو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے مگر تکبر کرنے والوں کو جب بھی کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ تو متکبر لوگ شک کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت قائم ہوگی۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں اس لیے ہمیں ان پر یقین نہیں آتا۔ حالانکہ ان لوگوں کی بےیقینی کے باوجود قیامت قائم ہوگی اور ان کے سامنے ان کے برے اعمال پیش کردیئے جائیں گے۔ جس قیامت کا وہ مذا ق اڑاتے ہیں وہی انہیں گھیر لے گی انہیں کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کو…
Read the full tafseer →آیت 35 : ذٰلِکُمْ (یہ) اس وجہ سے ہے یعنی عذاب بِاَنَّکُمُ (اس سبب سے کہ تم) اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی ہنسی اڑائی تھی اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ پس آج یہ لوگ نہ تو دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا تدارک طلب کیا جائے گا) یعنی ان سے یہ نہ طلب کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب سے معافی مانگیں یعنی اس کو راضی کریں۔
Read the full tafseer →34، وقیل الیوم ننساکم ، ہم تمہیں آگ میں چھوڑین گے۔ ، کما نسیتم لقاء یومکم ھذا، تم نے اس دن کی ملاقات کے لیے ایمان وعمل کو چھوڑدیا۔ ، وماکم الناروما لکم من نصرین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ 37۔ دوزخیوں پر جب طرح طرح کا عذاب ہوگا تو ان کو قائل کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا یہ عذاب تم پر اس لئے ہے کہ تم نے اللہ کے کلام کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑایا تھا اور دنیا کی زندگی پر مغرور ہو کر آج کے دل کو بھول گئے تھے اس لئے اب اس عذاب سے کسی طرح تم چھوٹ نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ عذر سنا جائے گا آخر کو فرمایا جب آسمان اور زمین اور تمام جہان کا مالک اللہ ہے تو اس کے بندوں کو اس کی تعظیم اور تعریف لازم ہے اس میں کسی کو شریک ٹھہرانا بڑی نادانی کی بات ہے کیونکہ آسمان و زمین میں اللہ کی بڑائی مانی جاتی ہے زمین میں جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں ان کے پاس کچھ اس کی سند نہیں ہے پھر فرمایا جو کوئی اس حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →63 اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں سے کہا جائے گا کہ یہ اس لیے کہ تم لوگوں نے مذاق اڑایا اللہ کی آیتوں کا۔ سو اللہ پاک کی آیتوں کا مذاق اڑانا وہ بدترین کفر ہے جو انسان کو حق و ہدایت کی دولت سے محروم کردیتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیم ۔ سو جب تم لوگوں کو تمہارے اس ہولناک دن کی ہولناکی اور اس کے تقاضوں کے متعلق اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو تم انکا مذاق اڑاتے۔ اور تم وہاں سے اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے کہ گویا کہ تم نے سنا ہی نہیں۔ سو اب چکھو مزہ اپنے اس استہزاء و مذاق کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیات 27 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 3 منانے کے موقع سے مراد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ہے۔
Read the full tafseer →(45:35) ذلکم : ای ذلک العذاب لکم۔ تمہارا یہ عذاب۔
بانکم ب سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ بیشک تم ۔
اتخذتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ تم نے بنا رکھا تھا۔ تم نے اختیار کر رکھا تھا۔
ایت اللّٰہ ھزوا : ایت اللّٰہ مضاف مضاف الیہ مفعول فعل اتخذتم کا۔ ھزوا مصدر۔ باب فتح۔ بمعنی اسم مفعول ۔ یعنی ۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ ترجمہ :۔ یہ عذاب تم پر بدیں سبب ہوگا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو تم نے ہدف مذاق بنا رکھا تھا۔
وغرتکم۔ واؤ عاطفہ۔ غرت ماضی واحد مؤنث غائب غرور (باب نصر) مصدر وھو کہ دینا۔ فریب میں مبتلا کرنا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول ۔ اور ضمیر فاعل الحیوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ف 1) دوزخیوں پر جب طرح طرح کا عذاب ہوگا تو ان کو قائل کرنے کے لیے یہ کہا جائے گا یہ عذاب اس لیے کہ تم نے اللہ کے کلام کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑایا تھا، اور دنیا کی زندگی پر مغرور ہوکر آج کے دن کو بھول گئے تھے اس لیے اب اس عذاب کسی طرح تم چھوٹ نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ عذرسناجائے گا، آخر کو فرمایا جب آسمان اور زمین اور تمام جہان کا مالک اللہ ہے تو اس کے بندوں کو اس کی تعظیم اور تعریف لازم ہے پھر فرمایا جو کوئی اس حکم کے برخلاف عمل کرے گا، تو اللہ نافرمان لوگوں پر بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس کے بدلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور وہ صاحب حکمت ایسا ہے کہ اس کی حکمت کے آگے بڑے بڑے بادشاہوں کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
[11] یعنی نہ ان کو دوزخ سے نکالا جائے گا نہ یہ موقع دیا جائے گا کہ اپنے رب سے معافی مانگ کر اس کو راضی کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں…
Read the full tafseer →(35) یہ سزا تم کو اس لئے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑایا اور اس کی باتوں سے ٹھٹھا کیا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا لہٰذا آج یہ کفر پیشہ لوگ نہ تو اس آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے یہ خواہش کی جائیگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں۔ یعنی قیامت میں عذاب تم پر اس لئے کیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے احکام کی ہنسی اڑایا کرتے تھے دنیوی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال دیا تھا تم دنیوی زندگی کی حقیقی اور دائمی زندگی سمجھا کرتے تھے دوسری زندگی کا یقین نہ کرتے تھے بس آج کی دن نہ تو یہ لوگ دوزخ سے کبھی نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کے راضی اور خوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 5۔ یعنی اس کا موقع نہ دیا جائے گا کہ توبہ کر کے خدا کو راضی کرلیں۔
Read the full tafseer →ہم نے تمہاری نشانیوں کا مذاق اڑایا اور دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے :
53 ؎ تم کو معلوم تھا اور تم اچھی طرح سجھتے کہ جس پیغام کے بھیجنے والے سے بدسلوکی کی جائے اور اس کا مذاق اڑایا جائے تو وہ پیغام پہنچانے والے سے بدسلوکی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے مذاق ہوتا ہے بلکہ یہ بد سلوکی اور مذاق اس سے ہوتا ہے جس نے پیغام بھیجا۔ کیا وہ تم کو میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سناتے رہے تھے ، کیا انہوں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ ہم اس ذات کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں جس نے تم کو پیدا کیا ، تم کو رزق دینا ، تمہارے لئے اس کائنات کا ذرہ ذرہ پیدا کیا اور ہرچیز کو تمہارے لئے فرمانبردار بنا دیا کہ جس چیز سے تم استفادہ کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
Commentary
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
46 This last sentence depicts the manner of a master who after rebuking some of his servants turns to others and says: "Well, these wretched people now deserve such and such punishment!"
Read the full tafseer →