45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 45:1
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اتارنا ہے کتاب کا اللہ کی طرف سے جو عزیز ہے، حکیم ہے

Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں میں اور زمین میں نشانیوں ہیں مؤمنین کے لئے

Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے اللہ تعالیٰ پھیلاتا ہے ان کے پیدا کرنے میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں

Ayahs 45:5–12

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور جو رزق اللہ نے آسمان سے اتارا ہے پھر اس کے ذریعہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ فرمادیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو سمجھتے ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو ہم آپ پر حق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں سو یہ لوگ اللہ کے اور اس کی آیات کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

بڑی خرابی ہے ہر جھوٹے کے لئے جو نافرمان ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جو اس کے روبرو پڑھی جاتی ہے پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اصرار کرتا ہے گویا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو آپ دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی کو جان لیتا ہے تو ان کا مذاق بناتا ہے ان لوگوں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

انکے آگے دوزخ ہے انہوں نے دنیا میں جو کچھ کمایا اور اللہ کے سوا انہوں نے جو کارساز بنائے ان میں سے انہیں کوئی بھی کچھ نفع نہیں دے گا اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ایک بڑی ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا، انکے لئے عذاب ہے سختی والا درد ناک

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں ان سب کو اپنی طرف سے تمہارے لئے مسخر بنادیا بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو فکر کرتے ہیں

1:۔ ابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ کے طریق سے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے چار آیتوں کی تفسیر نہیں کی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “ (اور جتنی چیزیں آسمان میں ہوں گی اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں ان سب کو اپنی طرف سے تمہارا تابع بنایا ہے) یعنی ان میں تعظیما الرقیم اور الغسلین کا ذکر ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر نہیں کی مگر قاری کی خوش بیانی وہ (آیت) ہے ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “ 3:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں عکرمہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “ سے مراد ہے سورج اور چاند کی روشنی۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “ سے مراد ہے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے۔ 5:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر والحاکم وصححہ و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ کس چیز سے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا ؟ انہوں نے فرمایا پانی، روشنی اندھیرا ہوا اور مٹی سے پھر اس نے کہا ان کو کس چیز سے پیدا کیا ؟ فرمایا میں نہیں جانتا وہ آدمی پھر عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس آیا اور ان میں سے وہی سوال کیا تو انہوں نے بھی عبداللہ بن عمرو جیسا جواب دیا۔ پھر وہ ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان سے یہی سوال کیا کہ مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا فرمایا پانی، روشنی اندھیرا ہوا، اور مٹی سے پھر اس نے کہا ان چیزوں کو کس چیز سے پیدا کیا تو ابن عباس ؓ نے آیت پڑھی (آیت ) ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “ (یہ سن کر) اس آدمی نے کہا کہ یہ جواب کوئی نہیں دے سکتا مگر نبی کریم ﷺ کے اہل بیت میں سے کوئی آدمی (کیونکہ ابن عباس ؓ اہل بیت میں سے تھے اس لئے اس آیت کے ذریعہ اس کو جواب دیا )
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

آپ ایمان والوں سے فرمادیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے ایام کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ پر قوم کو اس کی جزادے جو وہ کماتے ہیں

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو شخص نیک کام کرے سو وہ اسی کی جان کے لئے ہے اور جو شخص کوئی برا کام کرے اس کا وبال اسی کے نفس پر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا “ (آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کیا کریں) کے بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ برابر درگزر کرنے کا حکم فرماتے تھے اور اس پر ابھارتے تھے اور اس کے بارے میں ترغیب دیتے تھے یہاں تک کہ حکم دیا گیا کہ اسے چھوڑدیں جو اللہ کے ایام کی امید نہیں رکھتا اور ذکر کیا گیا کہ یہ آیت منسوخ ہے اس کو اس آیت نے منسوخ کیا ہے جو سورة انفال میں ہے (آیت ) ” فاتثقفنہم فی الحرب “ (الایہ) 2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ﷺ مشرکین سے اعراض فرماتے تھے جب وہ آپ کو ایذا پہنچاتے تھے اور آپ کا مذاق اڑاتے تھے اور آپ کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سارے مشرکین سے قتال کرنے کا حکم فرمایا پس یہ آیت منسوخ ہے۔ 3:۔ ابوداؤد نے اپنی تاریخ میں وابن جریر (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ “ (آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کیا کریں جو خدا کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) یعنی وہ لوگ جو لوگ جو اللہ کے انعامات کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا یا انعام نہیں فرمایا۔ سفیان ؓ نے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس (حکم) کو قتال والی آیت منسوخ کردیا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے وابن الانباری نے المصاحف میں قتادہ ؓ سے (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ منسوخ ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے (آیت ) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین حیث وجدتموھم “ (جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین سے لڑو جہاں ان کو پاؤ۔ 5:۔ ابن عساکر (رح) نے ابو مسلم خولانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا اگر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے یعنی (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ “ تو میں تجھ کو درد ناک سزا دیتا اس نے کہا اللہ کی قسم میں ان میں سے ہوں جو ایام اللہ کی امید کی امید رکھتے ہیں پھر آپ کو کیا ہے کہ آپ مجھے سزا نہیں دیتے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں درگزر کروں ان لوگوں سے جو ایام اللہ کی امید نہیں رکھتے تو جو لوگ ایام اللہ کی امید رکھتے ہیں تو وہ بدرجہ اول اس بات کے مستحق ہیں (پھر فرمایا) تو چلی جا تو آزاد ہے۔
Ayahs 45:16–20

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب دی اور حکم عطا کیا اور نبوت دی اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور جہانوں پر فضیلت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے دین کے بارے میں انہیں کھلی کھلی دلیلیں عطا کیں۔ سو انہوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا آپ کی ضدا ضدی کی وجہ سے بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان امور میں ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ کو ایک خاص طریقہ پر کردیا، سو آپ اس کا اتباع کیجئے اور ان لوگوں کی خواہشوں کا اتباع نہ کیجئے جو نہیں جانتے

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں کچھ نفع نہیں دے سکتے اور بیشک ظلم کرنے والے ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقیوں کا دوست ہے

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں

1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرآء یل الکتب والحکم “ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت دی تھی) میں الحکم سے مراد ہے عقل سمجھ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ “ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا) یعنی شریعۃ سے مراد ہے طریقہ۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے کہ دین کے معاملہ ہدایت اور واضح دلیل۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے شریعت کے فرائض اور حدود اور امر اور نہی۔
Ayahs 45:21–22

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جن لوگوں نے برے کام کئے کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے کہ ان کا مرنا اور جینا برابر ہوجائے یہ برا فیصلہ کرتے ہیں

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ اور تاکہ ہر جان کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دیا جائے اور ان لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے گا

5:۔ ابن المبارک و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) و عبداللہ بن احمد فی زوائد الزھد اور الطبرانی نے ابو الضحی (رح) سے روایت کیا کہ تمیم داری نے سورة جاثیہ پڑھی جب اس (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “ پر آئے (یہ لوگ جو بڑے بڑے کام کرتے ہیں) تو بار بار اس کو پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک ہی صبح ہوگئی اور وہ مقام ابراہیم کے پاس تھے ، 6:۔ ابن ابی شیبہ نے بشیر مولی الربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ تمیم داری نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اس آیت سے گزرے (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “ تو اس کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ ؟ صبح ہوئی۔ 7:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوآء محیاھم ومماتھم “ (کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے گا) یعنی مؤمن دنیا اور آخرت میں مومن ہوتا ہے اور کافر دنیا اور آخرت میں کافر ہوتا ہے۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

خواہشات نفسانی کا پیروکار : کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کے آنکھوں پر پردہ ڈال دیا سو کون ہے جو اللہ کے بعد اس شخص کو ہدایت دے گا۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) واللالکائی فی السنۃ اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے اس آیت ” افراء یت من اتخذ الھہ ھوہ “ (کیا آپ نے اس شخص کی جانب بھی نہیں دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنارکھا ہے) کہ بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ کافر ہے جس نے اپنا دین اللہ کی ہدایت اور دلیل کے بغیر بنارکھا ہے ” اضلہ اللہ فی سابق علمہ “ (اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو گمراہ کردیا اپنے سابقہ علم کی بنا پر۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت ) ” افراء یت من اتخذ الھہ ھوہ “ یعنی جس بات کی خواہش ہوتی ہے اس کو اختیار کرلیتا ہے اور اللہ عزوجل سے نہیں ڈرتا۔ 3:۔ النسائی وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عرب میں سے ایک آدمی ایک پتھر کی عبادت کرتا تھا پھر جب اس سے اچھا پتھر دیکھتا تھا تو اس کو لے لیتا تھا (اور خدا بنالیتا تھا) اور دوسرے جو (یعنی پہلے والے کو) پھینک دیتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ( آیت ) ” افراء یت من اتخذ الھہ ھوہ “
Ayahs 45:24–26

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ نہیں ہے یہ مگر ہماری دنیا والی زندگی ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو ہلاک نہیں کرے گا مگر زمانہ اور انہیں اد کا کچھ بھی علم نہیں یہ لوگ صرف گمان کرتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے اوپر ہماری کھلی کھلی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کی حجت اس کے سواکچھ نہیں ہوتی کہ ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ اگر تم سچے ہو

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے پھر موت دیتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے کہ ہم کو رات اور دن ہلاک کرتے ہیں اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا لدھر “ (اور انہوں نے کہا کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو صرف زمانہ کی گردش سے موت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابن آدم مجھ کو تکلیف دیتا ہے کہ وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں سارے اختیارات میرے ہاتھ میں ہیں میں رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ 2:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افرء یت من اتخذ الھہ ھوہ “ یعنی جس بات کی خواہش ہوتی ہے اس کو اختیار کرلیتا ہے اور اللہ عزوجل سے نہیں ڈرتا۔ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا “ زمانے کو برا کہنا گناہ ہے : 3:۔ احمد والبخاری ومسلم و ابوداؤد والنسائی وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے کہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں میرے ہاتھ میں (سب) اختیارات ہیں میں رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما یھلکنا الا لدھر “ میں دہر سے مراد ہے زمانہ۔ 5:۔ ابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں آدم کے بیٹے کو زمانے کی خرابی کیساتھ زمانہ کو برا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ میں ہی زمانہ ہوں رات اور دن کو بھیجتا ہوں جب میں چاہتا ہوں تو ان دونوں کو قبض کرلیتا ہوں۔ 6:۔ ابن جریر (رح) والحاکم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے بندے سے قرضہ مانگا اس نے مجھے نہیں دیا اور میرے بندے نے مجھے برا بھلا کہا اور کہتا ہے وادھراہ جبکہ میں زمانہ ہوں (یعنی زمانہ کو پھیرنے والا ہوں
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے ملک آسمانوں اور زمین کا اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ میں پڑجائیں گے

جھوٹے کی ہلاکت و بربادی : 1:۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر ؓ ایک قوم کے پاس سے گزرے جبکہ آپ نے ایک خوبصورت سرخ چادر پہنی ہوئی تھی قوم میں سے ایک آدمی نے کہا اگر میں ان کی چادر چھین لوں تو میرے لئے تمہارے پاس کیا (انعام) ہوگا تو انہوں نے ایک چیز اس کے لئے بطور انعام) کے مقرر کردی۔ وہ آدمی کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن (یہ ابن عمر کی کنیت ہے) یہ چادر آپ کی ہے ؟ فرمایا میں نے اس کو کل خریدا تھا۔ اس آدمی نے کہا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ یہ پہن کر گناہ کا ارتکاب کررہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے اس چادر کو اتارا تاکہ اس کو دیدیں (یہ دیکھ کر قوم ہنسنے لگی) پوچھا تم کو کیا ہوا انہوں نے کہا یہ جھوٹا آدمی ہے۔ وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے میرے بھائی کیا تو نہیں جانتا کہ موت تیرے آگے ہے تو نہیں جانتا کب تیرے پاس آجائے صبح کو یا شام کو یا دن کو پھر قبر کا مسئلہ ہے اور منکرنکیر ہیں اور اس کے بعد قیامت ہے کہ اس دن جھوٹ بولنے والے خسارے میں ہوں گے آپ نے ان لوگوں کو رلایا اور چلے گئے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

(اور اے مخاطب) تو ہر امت کو دیکھے گا کہ وہ گھنٹوں کے بل گری ہوئی ہوگی ہر امت اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے

2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتری کل امۃ جاثیۃ “ (اور تو دیکھے گا ہر فرقہ کو کہ زانو کے بل گراپڑا ہوگا) میں جاثیہ کا معنی ہے متمیزہ یعنی وہ علیحدہ ہوجائے گی۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتری کل امۃ جاثیۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر جماعت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر جماعت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی حساب کے وقت۔ 5:۔ سعید بن منصور و عبداللہ بن احمد فی زوائد الزھد وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے البعث میں عبداللہ بن باباہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم ایک ٹیلے پر جہنم سے پہلے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہو پھر سفیان نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وتری کل امۃ جاثیۃ “۔ 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے (آیت ) ” وتری کل امۃ جاثیۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر امت اپنی نبی کے ساتھ ہوگی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ایک ٹیلہ پر تشریف لائیں گے آپ تمام مخلوق سے بلند ہوں گے اور یہ مقام محمود ہوگا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کل امۃ تدعی الی کتبھا “ (ہر فرقہ اپنے اعمالنامے کی طرف بلایا جائے گا) یعنی وہ جانتے ہیں کہ ہر امت کو دوسری امت سے پہلے اور ایک قوم کو دوسری قوم سے پہلے اور ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے پہلے بلایا جائے گا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے تھے ہر امت کیلئے ایک شکل بنائی جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے پتھر میں یہ بت میں سے یالکڑی میں سے یا جانور میں سے پھر کہا جائے گا جو شخص جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلے تو ان میں سے سب آگے بت ہوں گے جو آگ کی طرف بڑھیں گے یہاں تک کہ وہ ان کو پھینک دیں گے محمد ﷺ کی امت باقی رہ جائے گی اور اہل کتاب یہودیوں سے کہا جائے گا تم کس چیز کی عبادت کرتے تھے ؟ کہیں گے ہم اللہ کی اور عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے مگر تھوڑے ان میں سے ہوں گے (جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے پھر ان سے کہا جائے گا کہ عزیر تم میں سے نہیں ہیں اور نہ تم میں سے ہو تو ان کو بائیں طرف لے جایا جائے گا وہ دوزخ کی طرف چلیں گے اور ٹھہر نہیں سکیں گے پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا تم کس چیز کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے ہم اللہ کی اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے مگر ان میں سے تھوڑے ہوں گے (اللہ کی عبادت کرنے والے) ان سے کہا جائے گا کہ مسیح تم میں سے نہیں ہیں اور نہ تم ان میں سے ہو ان بھی بائیں طرف لے جایا جائے گا وہ چلیں گے اور ٹھہر نہیں سکیں گے اور (اب) محمد ﷺ کی امت باقی رہے گی ان سے کہا جائے گا تم کس چیز کی عبادت کرتے تھے ؟ تو وہ کہیں گے ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے اور ہم دنیا سے اس حال میں جدا ہوئے کہ ہم اس دن سے ڈرتے تھے تو ایمان والوں کو سجدہ کا حکم دیا جائے گا تو ایمان والے سجدہ کریں گے اور ہر منافق کو روک دیا جائے گا اور منافق کی کمر سجدہ کرنے ٹوٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے سجدہ کو اس کے لئے عار کا اور ذلت کا حسرت اور ذلالت کا ذریعہ بنادیں گے۔
Ayahs 45:29–33

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں حق کے ساتھ بولتی ہے بیشک ہم لکھوالیتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یہ کھلی ہوئی کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا کیا تمہارے پاس میری آیات نہیں آئیں جو تم پر پڑھی جاتی تھیں ؟ سو تم تکبر کیا اور تم مجرم قوم تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا گیا کہ بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم نے کہا ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم تو بس یوں ہی خیال کرتے ہیں اور ہم یقین کرنے والے نہیں ہیں

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جو عمل انہوں نے کئے تھے ان کے برے نتیجے ظاہر ہوگئے اور جس چیز کی وہ مذاق بنایا کرتے تھے وہ ان پر نازل ہوگئی

8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “ (یہ ہمارے کتابچہ ہے جو تمہاری مقابلے میں ٹھیک ٹھاک بول رہا ہے) یعنی وہ ام الکتاب ہے جس میں بنی آدم کے اعمال ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور ہم تمہارے اعمال لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے یعنی وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں ) ۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دولت ہے پھر تختیوں کو پیدا فرمایا اس میں دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہوگا اس کو لکھا یہاں تک کہ فنا ہوجائے گی دنیا مخلوق کے ساتھ اور کئے ہوئے عمر کے ساتھ نیک کیطرف سے یابدکار کی طرف سے واقع ہوگا اور جو رزق حلال ہے یا حرام ہے اور جو تر اور خشک ہے ان سب کو لکھا اور یہ چیزیں ہر چیز پر لازم کردیں کہ اس کا دخل ہونا دنیا میں زندہ ہو کر اور کتنی مدت تک ددنیا میں اس کا باقی رہنا اور کتنی مدت تک اس کا دنیا کا فنا ہوجانا پھر یہ لکھا ہوافرشتوں کے سپرد کردیا اور مخلوق کے ساتھ فرشتوں کو مقرر کردیا اور مخلوق کے فرشتے اس کتاب کے فرشتوں کے پاس آتے ہیں جو اس چیز کو لکھتے ہیں جو دن اور رات میں تقسیم کی گئی ہوتی ہے ان کاموں پر جن پر وہ مقرر کئے گئے تھے پھر وہ لوگوں کی طرف آتے ہیں اور ان کو اللہ کے حکم سے حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ہانک کرلے جاتے ہیں اس چیز کی طرف جو اس تحریر سے ان کے پاس موجود ہوتی ہے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا اے ابن عباس ؓ کیا تم عرب قوم میں سے نہیں ہو (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ یعنی نہیں لکھی جاتی کوئی چیز مگر کتاب میں سے۔ 10:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نون کو پیدا فرمایا اور وہ دوات ہے اور قلم کو پیدا کیا اور فرمایا لکھ اس سے کہا میں کیا لکھوں ؟ فرمایا لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے نیک اور بد کا علم اور تقسیم کیا گیا رزق وہ حلال ہو یا حرام پھر ہر چیز پر یہ امور لازم کردیئے کہ اس کا دنیا میں داخل ہونا اور وہ کتنی مدت اس میں رہے گا اور اس دنیا سے کس طرح نکلے گا۔ پھر بندوں پر حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر کردیئے اور کتاب پر ایک نگران مقرر کردیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور دوسرے فرشتے ہر دن ان نگرانوں سے اس دنیا کے عمل لکھ لیتے ہیں جب وہ رزق ختم ہوجاتا ہے تو زندگی کا معاملہ کٹ جاتا ہے اور مدت پوری ہوجاتی ہے مگر حفاظت کرنے والے فرشتے آتے ہیں اور اس سے اس دن کے عمل کو طلب کرتے ہیں ان سے وہ نگران فرشتے کہتے ہیں ہم تمہارے صاحب کے لئے اپنے پاس کچھ نہیں پاتے وہ حفاظت کرنے والے واپس لوٹ جاتے ہیں اور وہ ان لوگوں کو پاتے ہیں کہ وہ مرچکے ہوتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کیا تم عرب قوم نہیں ہو تم سنتے ہو کہ حفاظت کرنے والے فرشتے کہتے ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ اور یہ لکھنا اصل کتاب سے ہی ہوتا ہے۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو ہر دن ایک چیز کو لے کر لوٹتے ہیں جس میں وہ بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں۔ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پید کیا : 12:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر اپنے داہنے ہاتھ سے اس کو پکڑا اور دونوں ہاتھ اللہ تعالیٰ کے داہنے ہیں اس نے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہوگا کہ وہ نیک کا عمل ہوگا یا بدکارکا وہ ترہو یا خشک اسے لکھ دیا تو اس کو اپنے پاس شمار کرلیا کتاب میں اور فرمایا پڑھو تم اگر چاہو (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق، انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور یہ لکھنا نہیں ہوتا مگر ایسی چیز سے کہ جس سے فراغت ہوچکی ) ۔ 13:۔ ابن مردویہ (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے دنیا والوں کے اعمال نیکیاں اور برائیاں مراد ہیں جو آسمان سے اتری ہیں ہر صبح کو اور شام کو اور انسان کو جو مصیبت پہنچتی ہے اس دن یا رات میں جیسے وہ انسان جس کو قتل کیا جاتا ہے اور وہ غرق ہوتا ہے وہ انسان جو چھت سے نیچے گرتا ہے اور جو پہاڑ کے اوپر سے گرتا ہے اور جو کسی کنویں میں گرتا ہے اور جو آگ میں جلایا جاتا ہے مگر فرشتے اس سب چیزوں کو محفوظ کرلیتے ہیں جب شام ہوتی ہے تو وہ آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں اور وہ اس کو اسی طرح پاتے ہیں جیسے آسمان میں ذکر حکیم میں لکھا ہوا تھا۔ 14:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نگہبان فرشتے ام الکتاب (یعنی لوح محفوظ) سے نقل کرتے ہیں جو بنو آدم عمل کرتا ہے اور بلاشبہ آدمی وہی عمل کرتا ہے جو فرشتے ام الکتاب سے نقل کرتے ہیں۔ 15:۔ ابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) نے الحلیۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس (یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس) کتاب میں ہر چیز لکھی گئی ہے جو واقعی ہونے والی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے نگہبان فرشتے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر مقرر کردیئے یہ نگہبان فرشتے کتاب میں سے نقل کرتے ہیں جو بندے عمل کرتے ہیں پھر یہ (آیت) پڑھی ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق، انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “۔ 16:۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ نے (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر فرمایا کہ وہ رمضان کی لیلۃ القدر میں زمین میں سال بھر میں واقع ہونے والے واقعات اگلے سال تک لکھ لیں پھر وہ فرشتے ہر خمیس کی شام کو اس کام میں لکھی ہوئی کتاب کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں جسے حفظہ لکھتے ہیں تو وہ حفظہ کے ہاتھوں لکھے ہوئے اعمال کو اس کتاب میں لکھے ہوئے اعمال کے مطابق پاتے ہیں اس میں کوئی زیادتی اور کمی نہیں ہوتی۔
Ayahs 45:34–37

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھولتے ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی ملاقات کو بھول گئے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی مددگار نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنالیا اور دنیا والی زندگی نے تمہیں دھوکہ دیا سو آج وہ اس میں سے نہیں نکالے جائیں گے اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ راضی کرلو

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو اللہ ہی کے لئے سب تعریف جو رب ہے آسمانوں کا

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور رب سارے جہانوں کا اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہ عزیز ہے حکیم ہے

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا “ (اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تم کو بھلا دیتے ہیں جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا) سے مراد ہے کہ تم نے میرا ذکر اور میری اطاعت چھوڑ دی تھی تو اسی طرح میں نے بھی تم کو چھوڑ دیا (آیت ) ” کما نسیتم لقآء یومکم ھذا یعنی تم نے میرا ذکر اور میری اطاعت چھوڑ دی تھی اسی طرح میں تم کو آگ میں چھوڑ دوں گا۔ مؤمن کے استغفار پر فرشتے کا آمین : 18:۔ ابن عساکر (رح) نے عمر بن ذر ؓ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قوم اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھتی ہے تو ان کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی ہوتے ہیں جب وہ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں تو وہ فرشتے بھی اس کی حمد بیان کرتے ہیں اگر وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو وہ بھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اگر وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں تو وہ بھی اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں اور جب وہ اللہ سے استغفار کرتے ہیں تو وہ آمین کہتے ہیں پھر وہ اپنے رب کی طرف اوپر چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے رب زمین میں تیرے بندوں نے تیرا ذکر کیا تو ہم نے بھی تیرا ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے پوچھا انہوں نے کیا کہا فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے رب انہوں نے تیری حمد بیان کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری ہی سب سے پہلے عبادت کی گئی اور میری ہی سب سے آخر میں حمد کی گئی پھر فرشتوں نے کہا انہوں نے تیری تسبیح بیان کی فرمایا میری مدح میرے علاوہ کسی کو یہ لائق نہیں کہ اس کی حمد بیان کی جائے پھر فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ! انہوں نے تیرے بڑائی بیان کی فرمایا میری ہی بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور غالب حکمت والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب وہ لوگ آپ سے مغفرت طلب کی تھی فرمایا تم گواہ ہوجاؤ میں نے ان کی مغفرت کردی۔ 19:۔ ابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ اللہ کے تین کپڑے ہیں اس نے عزت کو راز بنایا اور رحمت کو سرابیل بنایا اور کبرائی کو رداء بنایا جو آدمی اپنے آپ کو عزت والا خیال کرے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عزت دی تو وہ وہی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ذق فانک انت العزیز الحکیم “ اور جس نے رحم کیا اللہ تعالیٰ پر رحم فرمائیں گے اور جس نے نے تکبر کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کیا (ایسی بات کا) جو اسی کے لائق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو آدمی مجھ سے جھگڑا کرے میرے لئے زیبا نہیں کہ میں اسے جنت میں داخل کروں۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومسلم (رح) و ابوداؤد (رح) وابن ماجہ (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ کبریائی میرے اوپر اوڑھنے والی چادر ہے اور عظمت میری ازار (یعنی تہبند) ہے جو شخص بھی مجھ سے ان میں سے کوئی چھیننے کی کوشش کرے گا تو میں اس کو آگ میں ڈال دوں گا (واللہ اعلم) (یعنی جو کوئی دنیا میں برائی اور تکبراختیار کرے گا تو میں اس کو دوزخ کی آگ میں ڈال دوں گا) الحمد للہ سورة الجاثیہ مکمل ہوئی :