45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة الجاثیہ : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ٭یہ کتاب اس زبردست حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جتنی مخلوقات ہیں ان سب میں بیشمار نشانیاں رکھ دی ہیں ۔ انسان اور جانوروں کی پیدائش ، رات اور دن کا آنا جانا ، بلندیوں سے بارش کا برسنا اور زمین میں ایک نئی ترو تازگی پیدا ہونا ۔ ہواؤں کا الٹنا پلٹنا یہ سب کی سب عقل و فہم رکھنے والوں اور ہر چیز کی حکمت سمجھنے والوں کے لئے بہترین دلائل ہیں۔ ٭ایسی کھلی اور واضح نشانیوں کے باوجود جھوٹ پر جمے رہنا اور مال و دولت سمیٹنے کی دھن میں دیوانوں کی طرح لگے رہنا ایک بھول ہے۔ موت کے ایک جھٹکے کے ساتھ ہی یہ سب چیزیں اسی دنیا میں رہ جائیں گی اور اس کے کسی کام نہ آسکیں گی ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جنت کی وہ راحتیں جو ہمیشہ کے لئے ہوں گی وہ اس سے محروم رہے گا ۔ ( نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر اور برداشت سے کام لیں ۔ عفو و در گزر کا معاملہ فرمائیں اور ہر اس کام میں لگے رہیں جو نیک اور بھلا کام ہے ۔ اس پر اجر عظیم عطاء کیا جائے گا ۔ اگر کسی نے برائیاں اور گناہ کئے ہوں گے تو قیامت کے دن اس کو اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا ہوگی۔ ) ٭جھوٹے معبودوں کے متعلق یہ گمان کہ وہ ان کو آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے انتہائی بےبنیاد بات اور غلط فہمی ہے جسے دور کر کے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلی جائے ورنہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی اللہ نے سمندر کو ان کے لیے اس طرح مسخر ( تابع) کردیا ہے جس میں بڑے بڑے جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں جو تجارت کا سامان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتی ہیں۔ اسی نے چاند ، سورج اور ستاروں کو اور زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے کام میں لگا رکھا ہے ۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن پر آدمی کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر اور برداشت سے کام لیں عفو و در گزر کا معاملہ فرمائیں اور ہر ایک نیک اور بھلے کام میں لگے رہیں کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص نیک اور بھلا کام کرتا ہے اس پر اسے اجر عطاء کیا جاتا ہے اور جو برائیاں اور گناہ کرتا ہے اس کا وبال اس پر پڑتا ہے۔ تمام لوگ جب پلٹ کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ہر ایک کو اپنی زندگی کا حساب دینا ہوگا ۔ (کفار یہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا ہی سب کچھ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا عقل و فہم سے دور کی بات ہے ، وہ کہتے کہ ہمارا مرنا جینا یہ سب گردش زمانہ کا اثر ہے ۔ اگر یہ سچ ہوتا کہ ہم دوبارہ پیدا ہوں گے تو ہمارے مرے ہوئے باپ دادا زندہ ہو کر ہمیں نہ بتا دیتے کہ قیامت قائم ہوگی ؟ اللہ نے فرمایا کہ اللہ ہی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے سب کو اسی طرف لوٹ کر جانا ہے) ٭بنی اسرائیل اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کتاب ، حکمت ، نبوت اور دین و دنیا کی ہر نعمت سے نوازا تھا جس سے وہ دنیا کی ایک عظیم قوم بن کر ابھرے تھے لیکن انہوں نے آپس کی ضد بندی اور عداوت کی وجہ سے دین میں شدید اختلافات پیدا کیے جس کے نتیجے میں اللہ نے ان سے ہر نعمت کو چھین کر ان پر عذاب مسلط کردیا ۔ پھر اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو اس شرف سے نوازا ، تمام نعمتیں ، ہدایت اور صراط مستقیم عطاء فرمائی امت محمدیہ سے فرمایا گیا ہے کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم دین حنیف کو اپنا کر صراط مستقیم پر چلو اور سچائی کے اصولوں کو اپنائو ۔ منکرین اور مخالفین کی خواہشات کی پیروی نہ کرو کیونکہ یہ ظالم اور مشرک آپس میں ایک ہیں اور اسلام دشمنی پر متفق ہیں لہٰذا تمہارا اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے تم تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرو کیونکہ اللہ ان ہی کا دوست ہے جو نیکی اور تقویٰ کی زندگی کو اختیار کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ جو لوگ دن رات گناہ سمیٹ رہے ہیں اور جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے تقویٰ اور پرہیز گاری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں یہ دونوں کبھی انجام میں یکساں اور برابر نہیں ہو سکتے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور کائنات کے نظام کو بےکار اور بےفائدہ نہیں بنایا اس کے پیدا کرنے کا مقصد انسان کا امتحان ہے۔ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی ہر خواہش کے پیچھے چل پڑتے ہیں انہوں نے اللہ کی ہدایت کو بھلا دیا ہے ان کو غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت پر نہ چلے تو پھر آخر کون ان کو ہدایت دے کر صراط مستقیم پر چلائے گا ۔ ٭کفار یہ کہتے ہیں کہ پس سب کچھ یہی دنیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ ہمارا مرنا جینا یہ سب گردش زمانہ کا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچ ہے کہ آدمی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو آخر ہمارے باپ دادا جو بہت پہلے گزر چکے ہیں ان کو زندہ کرکے ہمارے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا کہ ہم ان سے پوچھ کر یقین کرلیں کہ واقعی مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہے ؟ ٭زمین اور آسمان کی سلطنت اور بادشاہت صرف ایک اللہ کی ہے وہی قیامت کو قائم کرے گا لیکن ان کفار کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قیامت کا دن ان کے لیے بڑے نقصان کا دن ہوگا کیونکہ اس دن ہر ایک سے پورا پوراحساب لیا جائے گا ۔ جب آدمی اس دن اللہ کے سامنے حاضر ہوگا تو اس سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان کاموں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ ہم نے اپنے فرشتوں کے ذریعے تمہارے سا رے اعمال کو لکھوا رکھا تھا۔ فرمایا جائے گا کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا اور یہ قیامت کا دن ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔ اگر تم اس دن کا مذاق نہ اڑاتے اور پیغمبروں کی باتوں کو مانتے تو تمہیں یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ تم دنیا کی زندگی کے فریب میں آ کر بہترین اعمال سے غافل ہوگئے تھے۔ اب تم اس جہنم میں رہو ۔ تمہیں بچانے والا کوئی نہ آئے گا ۔ اب توبہ کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ وہ وقت دنیا میں گزر چکا تم نے جو گناہ کیے تھے ان کی سزا بھگتنا ہی پڑے گا ۔

Ayahs 45:1–13

حٰمٓۚ Open ayah 45:1 in the Quran reader

حا ۔ میم حروف مقطعات ( معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اللہ جو زبردست اور بڑی حکمت والا ہے اس کتاب ( قرآن مجید) کا اتارا جانا اس کی طرف سے ہے۔

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ۔

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

تمہاری اپنی پیدائش میں ۔ جانور جن کو اللہ نے پھیلا رکھا ہے ان میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ رزق ( بارش) جسے اللہ نے آسمان (بلندی) سے نازل کیا ہے جس کے ذریعے مردہ زمین میں زندگی پیدا ہوتی ہے اور ہوائوں کی گردش میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو بات کو سمجھتے ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی وہ نشانیاں ہیں جنہیں پڑھ کر ہم آپ کو سنا رہے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ اور اسکی (بےشمار) نشانیوں کے بعد آخر یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

( حقیقت یہ ہے کہ) ہر اس شخص کے لئے تباہی ہے جو بہت جھوٹا اور گناہ گار ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جو اللہ کی آیات کو جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہے سنتا تو ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے تکبر پر اڑا رہتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں ۔ ( اے نبی ﷺ ایسے شخص کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ پھر ان سب لوگوں کے لئے ذلت والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے (صرف) جہنم ہی ہے۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے کوئی چیز انکے کام نہ آسکے گی اور نہ ہی وہ کام آئیں گے جنہیں انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنادوست بنا رکھا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن تو سراسر ہدایت ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ہے ان کے لئے بد ترین اور درد ناک عذاب ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے لئے مسخر ( تابع) کردیا ہے تا کہ تم اس کے حکم سے اس میں کشتیاں ( جہاز) چلائو اور تا کہ تم اس کا فضل ( رزق) تلاش کرو اور توقع ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو گے

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب کا سب اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ بیشک ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی پیدائش ، دن رات کا ایک دوسرے کے پیچھے آنا ، وقت پر بارشوں کا برسنا پھر ان بارشوں کے ذریعہ مردہ زمین میں سر سبزی و شادابی ، نکھار اور تر و تازگی کا ابھرنا ، انسان اور جان داروں کی غذاؤں کا پیدا ہونا یہ عقل و فہم رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں جو کائنات میں بکھیر دی گئی ہیں ۔ اتنی واضح اور کھلی ہوئی نشانیوں کے باوجود ان سچائیوں سے منہ موڑنا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہنا سوائے بد نصیبی کے اور کیا ہے۔ اس کائنات میں ہر آن ایک انقلاب اور تبدیلی آتی رہتی ہے یہاں کسی چیز کو قرار نہیں ہے جو چیز آج ہے وہ کل نہیں رہے گی۔ یہ سب اللہ کی کھلی نشانیاں ہیں ۔ کیا ان نشانیوں کے بعد بھی ایمان و یقین نہ رکھنے والوں کو کسی اور نشانی کی ضرورت ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام جیتے جاگتے لوگوں سے کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس دنیا کا وقتی عیش و آرام ، مال و دولت ، بیوی بچے اور گھر بار سب کچھ یہیں رہ جائے گا ۔ آخرت میں انسان کے کام آنے والی چیزیں صرف انسان کے بہتر اور پسندیدہ اعمال ہیں ۔ اللہ نے اس طرف بھی متوجہ کیا ہے کہ انسان پر اللہ کے بیشمار احسانات ہیں جن پر اسے شکر ادا کرنا چاہیے یہی انسان کی کامیابی کا راز ہے۔ آخرت کی کامیابیاں صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کا شکر ادا کرتے اور اسی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ۔ اور قرآن کریم جو سراسر رحمت ہی رحمت ہے اس کی رہنمائی میں زندگی گزارتے ہیں ۔ وہی لوگ آخرت کی ابدی راحتوں کے مستحق ہیں لیکن جن لوگوں نے اللہ کی ہر نشانی اور رحمت سے آنکھیں بند کرکے اپنی پسندیدہ زندگی گزارنے کا اندازہ اختیار کر رکھا ہے کہ سخت گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے اور آخرت کی ابدی زندگی کی ہر راحت سے محروم رہیں گے۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ایمان رکھنے والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ ان سے در گزر کریں جو اللہ کی طرف سے برا دن آنے کا خوف نہیں رکھتے تا کہ اللہ ایسی قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے جو وہ کرتے رہے ہیں

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے بھی عمل صالح اختیار کیا تو وہ اس کے اپنے لئے ہے اور جس نے کوئی برائی کی اسے خود ہی بھگتے گا ۔ پھر تم سب اپنے رب کی طرف ہی لوٹائے جائو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15 : تبتغوا ( تم ڈھونڈتے ہو) یرجون ( تم امید رکھتے ہو) اسائ ( اس نے برا کیا) تشریح : آیت نمبر 16 تا 15 : یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے انسان کو بیشمار نعمتوں سے نوازرکھا ہے سمندر اور دریا جو بےانتہاء طاقت ور ہیں اور کائنات کی وہ لا تعداد چیزیں جن کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کو انسانوں کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ آدمی جس طرح چاہتا ہے ان چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اللہ نے اپنی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سمندر جیسی عظیم قوت کو انسان کے تابع اور مسخر کردیا ہے جس میں جہازوں اور کشتیوں کے ذریعہ گہرے پانیوں تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ آدمی ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آتا اور جاتا ہے اور اپنا رزق تلاش کرتا ہے۔ اسی سمندر سے مچھلیوں کا شکار کر کے ان کے گوشت کو استعمال کرتا ہے قیمتی پتھر ، موتی یہاں تک کہ اب سمندر کے اندر سے تیل اور گیس تک نکال رہا ہے۔ سمندر کے اندر کتنی مع دنیانت ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کہتے ہیں کہ سمندر کے اندر جتنی مع دنیات کے خزانے بھرے ہوئے ہیں وہ شایدخش کی پر بھی نہیں ہیں بہر حال سمندر ہو یا خشکی ، پہاڑ ہوں یا جنگلات آج کے دور میں اور اس سے پہلے دور میں انسان ان سے فائدے حاصل کرتا رہا ہے اس کو یہ صلاحیت کس نے عطاء فرمائی ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ ساری صلاحتیں ہم نے انسان کو عطاء کی ہیں جن پر اسے ہر آن شکر ادا کرنا چاہیے لیکن انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو اپنا کمال سمجھتا ہے اور ان پر شکر ادا نہیں کرتا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اور اہل ایمان ان نا شکرے لوگوں کی پرواہ نہ کریں ۔ اپنا کام کئے جائیں ، صبر و تحمل سے کام لیں اور اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ انسان کا اچھا اور برا عمل اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے سب کو اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے وہ اچھی طرح بتا دے گا کہ اگر انہوں نے بہتر عمل کئے تو اس پر بہترین بدلہ عطاء کیا جائے گا لیکن اگر کسی نے گناہ یا خطا کا کام کیا ہے تو وہ اس گناہ کے وبال سے بچ نہیں سکتا ۔ فرمایا کہ تم ان نا شکرے لوگوں سے انتقام اور بدلہ نہ لو کیونکہ اگر تم نے صبر و تحمل اور برداشت سے کام لیا تو پھر اللہ خود ان سے انتقام لے گا ۔ اللہ کا یہی دستور ہے ” ایام اللہ “ اس پر گواہ ہیں ۔ ایام اللہ سے مراد وہ معاملات ہیں جو آخرت میں انسانوں کے ساتھ کئے جائیں جن میں اللہ اپنے فرماں بردار بندوں کو انعام و اکرام سے نوازے گا اور نافرمانوں کو سخت سزا دے گا یا گزری ہوئی قوموں کے وہ واقعات مراد ہیں کہ جب بھی انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو ان کو سخت عذاب دیا گیا اور نیکیوں پر بہترین صلہ عطاء کیا گیا ۔ بہر حال غور و فکر کرنے والوں کے لئے ان تمام باتوں میں بہترین نصیحت اور عبرت کا سامان موجود ہے۔
Ayahs 45:16–21

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

( اس سے پہلے) ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب ، حکمت ، نبوت ( اور زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ) اور پاکیزہ رزق دیا تھا اور اہل عالم پر ان کو فضلیت و عظمت عطاء کی تھی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

ان کو دین کے بارے میں کھلی کھلی ہدایات دی گئی تھیں لیکن انہوں نے علم آجانے کے باوجود محض آپس کی ضد بندی کی وجہ سے اختلاف پیدا کیا۔ ( اے نبی ﷺ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ( اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو دین کے ایک راستے پر قائم کیا ہے آپ اسی کی اتباع کیجئے اور ان لوگوں کی بات نہ مانئے جو نادان ہیں

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

بیشک وہ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہ آسکیں گے اور بیشک ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ تقویٰ والوں کا ساتھی ہے۔

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ ( قرآن مجید) ان لوگوں کے لئے روشنی ، ہدایت اور رحمت ہے جو یقین رکھتے ہیں ۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کو کمایا ہے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم انہیں اور ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والوں کو برابر کردیں گے۔ کہ ان کا مرنا اور جینا یکساں ہوجائے۔ یہ بد ترین دعویٰ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 : شریعۃ (راستہ ، طریقہ) بصائر ( سمجھ کی باتیں) یوقنون (وہ یقین رکھتے ہیں) اجتر حوا ( انہوں نے کمایا) تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 : فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپس کی ضد بندی ، اختلافات اور نا شکری کا ایسا انداز اختیار کیا کہ انکی ساری عظمتوں کو چھین کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے حوالے کردیا گیا ۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کو توریت جیسی روشن ومنور کتاب ، سیکڑوں سال تک حکومت و اقتدار ، ہزاروں نبی اور رسول ، مال و دولت ، زندگی گزارنے کے بیشمار وسائل اور ذرائع اور بہترین طریقے سکھائے گئے تھے جن کے ذریعہ اگر وہ چاہتے تو اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیتے ، خود بھی راہ حق پر چلتے اور دوسروں کو بھی اس سچائی کے راستے پر ڈال سکتے تھے لیکن مال و دولت اور دنیا کی محبت نے انہیں دنیا داری کے دھندوں میں پھنسا دیا تھا۔ علم و فہم رکھنے کے باوجود فرقہ پرستی ، ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی آرزو اور ضد بندی نے انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا تھا جس سے انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو اپنے ہاتھوں برباد کر ڈالا ۔ باہمی اختلافات کی وجہ سے اس وقت کی معلوم دنیا میں ہر طرف فساد اور ابتری کو پھلا دیا جس سے ہر شخص امن و سکون کی دولت سے محروم ہو کر رہ گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک ان کے باہمی اختلافات کا فیصلہ تو قیامت کے دن کردیا جائے گا جو ان سے دور نہیں ہے لیکن اہل ایمان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ آپس کے اختلافات کو ہوا نہ دیں کہ جس سے بھی گروہ بندیوں اور لڑائی جھگڑوں میں پھنس کر بنی اسرائیل جیسے انجام سے دو چار ہوجائیں ۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرمایا جا رہے کہ بنی اسرائیل تو دین کے سچے راستے کو بھول کر خواہشوں کے غلام ہوچکے ہیں ۔ ہم نے آپ کو ایک صاف شفاف دین اور آپ کی امت کو خیر امت بنا کر ساری انسانیت کی رہبری و رہنمائی کی ذمہ داری سپرد کردی ہے اب آپ کا اور آپ کی امت کا یہ فرض ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو دین کے صاف شفاف راستے پر لے کر چلیں ۔ جو لوگ اس راستے کو اختیار کریں گے ان کو دنیا کی عظمتیں اور آخرت کی ابدی راحتیں عطاء کی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ اپنی غلط فہمیوں کو دور کرلیں جن کا یہ خیال ہے کہ وہ جس طرح دنیا میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں اسی طرح وہ اپنی بد عملیوں اور نا فرمانیوں کے باوجود آخرت کی تمام نعمتوں میں بھی عیش کریں گے۔ فرمایا کہ اللہ کے عدل و انصاف کے قانون کے خلاف ہے کہ وہ اچھے اور برے ، فرماں بردار اور نافرمان ، نیک اور گناہ گار دونوں کے ساتھ یکساں اور ایک جیسا معاملہ فرمائیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک ، پرہیز گار اور فرماں برداروں کو جنت کی ابدی راحتیں عطاء فرمائیں گے اور جو لوگ بد کردار فاسق اور فاجر اور اللہ کے نافرمان ہیں ان کو جہنم کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں ان پر عذاب مسلط فرمائیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو دین کے بہترین راستے پر قائم کیا ہے۔ آپ اسی کی اتباع کیجئے۔ اور ان لوگوں کی کوئی بات نہ مانئے جو نادان ہیں کیونکہ وہ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہ آسکیں گے ۔ فرمایا کہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں لیکن اللہ ان کا دوست ہے جو تقویٰ کی زندگی اختیار کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم ان لوگوں کے لئے روشنی و ہدایت اور رحمت ہے جو یقین کی دولت سے مالا مال ہے۔
Ayahs 45:22–24

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے تا کہ ( قیامت کے دن) ہر شخص کو جو اس نے کیا ہے اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے ۔ اور ان لوگوں پر کسی قسم کا ظلم نہ کیا جائے گا ۔

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور علم کے باوجود اللہ نے اس کو بھٹکا دیا ہے ۔ اس کی سماعت اور قلب پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ پھر اللہ کے بعد وہ کون ہے جو اسے راہ ہدایت دکھا سکتا ہے کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی ہے ۔ ہم یہیں مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں اور ہمیں زمانہ کے علاوہ کوئی چیز نہیں مارتی۔ لیکن ان کے پاس ( اپنی بات ثابت کرنے کی) کوئی دلیل نہیں ہے ۔ وہ محض خیالی باتیں کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 24 : تجزی ( بدلہ دیا گیا) ھوا ( خواہش) الدھر ( زمانہ) یظنون (وہ گمان کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 22 تا 24 : ان تین آیات میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں (1) آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور قیامت کا قائم ہونا (2) جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اس کو ہدایت نصیب نہ ہونا (3) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد دوسری کوئی زندگی نہیں ہے اور ہمیں زندگی اور موت زمانے کی وجہ سے آتی ہے۔ پہلی بات کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اس ساری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کے انتظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ وہ اس کے چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جتنی چیزیں ہیں ان کو اللہ نے بےمقصد پیدا نہیں کیا ہے بلکہ ان کا مقصد انسانوں کا امتحان ہے جب اللہ چاہے گا اس انتظام کائنات کو ختم کر دے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی تا کہ ہر شخص کے اعمال کے مطابق اس کو جزا یا سزا دی جاسکے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ وہ شخص راستے سے بھٹک جاتا ہے جو اپنی خواہش نفس کو اس حد تک برتر مقام دے دیتا ہے کہ اس کا ہر کام عقل و فہم ہونے کے باوجود اپنی خواہش نفس کے تحت ہوجاتا ہے۔ اور وہ اپنے نفس کی اس طرح اطاعت کرتا ہے جیسے اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے۔ وہ اپنی نفسانی خواہشات کا اس طرح غلام بن جاتا ہے کہ اس کا نفس اس کو جس طرف بلاتا ہے وہ اسی طرف چل پڑتا ہے اس کو جائز اور ناجائز ، حرام اور حلال کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ اس کی عقل اس حد تک گر جاتی ہے کہ ایک حق بات کو اس کے کان سنتے ہیں مگر اس کے معنی اور مفہوم تک نہیں پہنچتے ۔ اس کی آنکھ دیکھتی ہے مگر وہ اس سے سبق حاصل نہیں کرتا ۔ اس کے پاس دل ہوتا ہے مگر وہ عقل و فہم سے خالی ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ آسمان کے نیچے دنیا میں جتنے معبودوں کی عبادت کی گئی ہے ان میں سب سے زیادہ اللہ کی نا راضگی کا سبب نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہے ( قرطبی) اسی طرح حضرت شداد ؓ ابن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور مرنے کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرتا ہے اور فاجر و فاسق شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنی خواہشات کے پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اس کے باوجود اللہ سے آخرت کی بہتری کی تمنا رکھتا ہے۔ ( قرطبی) خلاصہ یہ ہے کہ خواہش نفس کو مبعود بنانے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی نفسانی خواہشات کا اس طرح غلام بن جائے کہ اس کو جائز و ناجائز ، حرام و حلال اور حق و باطل کی پرواہ نہ رہے۔ جس بات کی طرف اس کا نفس اس کو لے جانا چاہتا ہے وہ بلا تکلف اس طرف بڑھنا چلا جاتا ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی کہ وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد دوسری کوئی زندگی نہیں ہے۔ دین و مذہب کی پابندیاں ، جائز و ناجائز ، نیکی اور بدی یہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ زمانہ اور اس کی رفتار ہے وہی ہمیں پیدا کرتا ہے اور وہی ہمیں مار دیتا ہے۔ اگر مر نے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی کوئی حقیقت ہوتی تو ہمارے باپ دادا جو ہزاروں سال پہلے مرکھپ گئے ہیں وہ زندہ ہوجاتے اور ہم ان کو دیکھ کر ایمان لے آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے دھریوں ( باطل پرستوں) کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ان مردوں کو ضرور پیدا کرے گا مگر اس کے لئے ایک دن مقرر ہے اور وہ قیامت کا دن ہے اور وہ ان منکرین آخرت پر بڑا سخت دن ہوگا کیونکہ یہ فیصلے کا دن ہوگا جس میں نیکیوں پر قائم رہنے والوں کو بہترین انعام ، جزا اور بدلہ دیا جائے گا اور ان کو ابدی راجت بھری جنتوں میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جنہوں نے پوری زندگی برائیوں ، گناہوں ، ظلم ، زیادتی ، کفر اور شرک میں گزاری ہوگی وہ جہنم کی سخت سزا سے نہ بچ سکیں گے۔
Ayahs 45:25–37

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی کھلی آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کرکے ) لے آئو۔

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ وہی تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ۔ پھر وہی تمہیں قیامت کے ایسے دن میں جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی سلطنت اللہ ہی کی ہے۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پر ست سخت نقصان میں ہوں گے۔

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

آپ اس دن ہر گروہ کو گھنٹوں کے بل گرا ہوا دیکھیں گے ۔ ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو کہ تم کرتے رہے تھے۔

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ نامہ اعمال ہماری کتاب ہے جو تم پر گواہی دے گی کیونکہ تم جو کام کرتے تھے اس کو ہم لکھواتے جاتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر وہ لوگ جو ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے تھے ان کو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ ان کی کھلی کامیابی ہوگی۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر و انکار کیا تھا (ان سے کہا جائے گا کہ ) کیا تمہیں میری باتیں پڑھ پڑھ کر سنائی نہیں گئی تھیں۔ مگر تم نے تکبر کیا اور تم سخت گناہ گار بن گئے تھے۔

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کیا ہے ؟ ہم تو بس ایک ہلکا سے گمان رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جو اعمال انہوں نے کئے تھے ان کی برائیاں ان پر کھل جائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان کو گھیر لے گا۔

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم بھی تمہیں اسی طرح بھلادیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی تمہارا مدد گار نہیں ہے۔

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے (برا انجام ہوا کہ ) تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑایا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ آج کے دن نہ تو وہ آگ سے نکالے جائیں گے اور نہ وہ اللہ کو معاف مانگ کر راضٰ کرسکیں گے۔

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہی زمین کا رب ہے اور وہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور ہر طرح کی بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہے وہی زبر دست ہے اور حکمت والا ہے۔

تشریح آیات نمبر 25 تا 37 جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ جو اس ہولناک دن کے منکر ہیں وہ اس دن شدید نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ ایسے لوگ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو اس قدر خوف زدہ ہوجائیں گے کہ جب ان کے ہاتھ میں ان کا نامہ اعمال آجائے گا تو وہ گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے اس نامہ اعمال کے متعلق پوچھیں گے جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے ذریعہ لکھوایا ہوگا۔ اس سچائی کے سامنے کوئی جھوٹ نہ بول سکے گا ۔ اگر اس نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو یہ کتاب بو ل اٹھے گی ہاتھ، پیر اور زبان سب اس کے ایک ایک عمل کی گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ نے احادیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے ہاتھوں میں پہنچادیا جائے گا ۔ جس کے نامہ اعمال کو اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سمائے اور ہر ایک کو دکھاتا پھرے گا کہ میررے نامہ اعمال کو پڑھو۔ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اور دمک رہا ہوگا لیکن جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال تھمایا جائے گا اس کا چہرہ سیاہ اور تاریک ہوجائے گا۔ جن کے اعمال درست ہوں گے ان کو جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کیا جائے گا لیکن جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو جھٹلایا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ کیا تمہیں آیات پڑھ کر سنائی نہ گئی تھیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کو سنا تھا مگر تم نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی تکبر اور غرور ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور اس طرح تم اللہ کے مجرم بن گئے۔ جب تم سے کہا جب تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کیا ہم تو بس ہلکا گمان رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج ساری حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آگئی ہے ۔ تم دنیا میں جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہی آج تمہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے ۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم بھی تمہیں اسی طرح نظر انداز کریں گے جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو سن کر نظر انداز کردیا کرتے تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ اب آج کے دن تم اپنے اعمال کا مزہ چکھو یہاں کوئی تمہاری مدد کے لئے نہیں آئے گا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کائنات میں جتنی بھی خوبیاں اور بھلائیاں ہیں وہ سب کی سب اللہ کے لئے ہیں وہی زمین کا پروردگار ہے۔ وہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ، آسمانوں اور زمین کا مالک وہی ہے ، وہی زبر دست حکمت والا ہے، اسی کی ساری قوت و طاقت ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین