45. Surah Al-Jaathiya
الجاثيةCrouching · 37 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة الجاثیہ : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ٭یہ کتاب اس زبردست حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جتنی مخلوقات ہیں ان سب میں بیشمار نشانیاں رکھ دی ہیں ۔ انسان اور جانوروں کی پیدائش ، رات اور دن کا آنا جانا ، بلندیوں سے بارش کا برسنا اور زمین میں ایک نئی ترو تازگی پیدا ہونا ۔ ہواؤں کا الٹنا پلٹنا یہ سب کی سب عقل و فہم رکھنے والوں اور ہر چیز کی حکمت سمجھنے والوں کے لئے بہترین دلائل ہیں۔ ٭ایسی کھلی اور واضح نشانیوں کے باوجود جھوٹ پر جمے رہنا اور مال و دولت سمیٹنے کی دھن میں دیوانوں کی طرح لگے رہنا ایک بھول ہے۔ موت کے ایک جھٹکے کے ساتھ ہی یہ سب چیزیں اسی دنیا میں رہ جائیں گی اور اس کے کسی کام نہ آسکیں گی ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جنت کی وہ راحتیں جو ہمیشہ کے لئے ہوں گی وہ اس سے محروم رہے گا ۔ ( نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر اور برداشت سے کام لیں ۔ عفو و در گزر کا معاملہ فرمائیں اور ہر اس کام میں لگے رہیں جو نیک اور بھلا کام ہے ۔ اس پر اجر عظیم عطاء کیا جائے گا ۔ اگر کسی نے برائیاں اور گناہ کئے ہوں گے تو قیامت کے دن اس کو اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا ہوگی۔ ) ٭جھوٹے معبودوں کے متعلق یہ گمان کہ وہ ان کو آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے انتہائی بےبنیاد بات اور غلط فہمی ہے جسے دور کر کے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلی جائے ورنہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی اللہ نے سمندر کو ان کے لیے اس طرح مسخر ( تابع) کردیا ہے جس میں بڑے بڑے جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں جو تجارت کا سامان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتی ہیں۔ اسی نے چاند ، سورج اور ستاروں کو اور زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے کام میں لگا رکھا ہے ۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن پر آدمی کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کفار و مشرکین کی باتوں پر صبر اور برداشت سے کام لیں عفو و در گزر کا معاملہ فرمائیں اور ہر ایک نیک اور بھلے کام میں لگے رہیں کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص نیک اور بھلا کام کرتا ہے اس پر اسے اجر عطاء کیا جاتا ہے اور جو برائیاں اور گناہ کرتا ہے اس کا وبال اس پر پڑتا ہے۔ تمام لوگ جب پلٹ کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ہر ایک کو اپنی زندگی کا حساب دینا ہوگا ۔ (کفار یہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا ہی سب کچھ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا عقل و فہم سے دور کی بات ہے ، وہ کہتے کہ ہمارا مرنا جینا یہ سب گردش زمانہ کا اثر ہے ۔ اگر یہ سچ ہوتا کہ ہم دوبارہ پیدا ہوں گے تو ہمارے مرے ہوئے باپ دادا زندہ ہو کر ہمیں نہ بتا دیتے کہ قیامت قائم ہوگی ؟ اللہ نے فرمایا کہ اللہ ہی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے سب کو اسی طرف لوٹ کر جانا ہے) ٭بنی اسرائیل اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کتاب ، حکمت ، نبوت اور دین و دنیا کی ہر نعمت سے نوازا تھا جس سے وہ دنیا کی ایک عظیم قوم بن کر ابھرے تھے لیکن انہوں نے آپس کی ضد بندی اور عداوت کی وجہ سے دین میں شدید اختلافات پیدا کیے جس کے نتیجے میں اللہ نے ان سے ہر نعمت کو چھین کر ان پر عذاب مسلط کردیا ۔ پھر اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو اس شرف سے نوازا ، تمام نعمتیں ، ہدایت اور صراط مستقیم عطاء فرمائی امت محمدیہ سے فرمایا گیا ہے کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم دین حنیف کو اپنا کر صراط مستقیم پر چلو اور سچائی کے اصولوں کو اپنائو ۔ منکرین اور مخالفین کی خواہشات کی پیروی نہ کرو کیونکہ یہ ظالم اور مشرک آپس میں ایک ہیں اور اسلام دشمنی پر متفق ہیں لہٰذا تمہارا اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے تم تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرو کیونکہ اللہ ان ہی کا دوست ہے جو نیکی اور تقویٰ کی زندگی کو اختیار کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ جو لوگ دن رات گناہ سمیٹ رہے ہیں اور جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے تقویٰ اور پرہیز گاری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں یہ دونوں کبھی انجام میں یکساں اور برابر نہیں ہو سکتے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور کائنات کے نظام کو بےکار اور بےفائدہ نہیں بنایا اس کے پیدا کرنے کا مقصد انسان کا امتحان ہے۔ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی ہر خواہش کے پیچھے چل پڑتے ہیں انہوں نے اللہ کی ہدایت کو بھلا دیا ہے ان کو غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت پر نہ چلے تو پھر آخر کون ان کو ہدایت دے کر صراط مستقیم پر چلائے گا ۔ ٭کفار یہ کہتے ہیں کہ پس سب کچھ یہی دنیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ ہمارا مرنا جینا یہ سب گردش زمانہ کا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچ ہے کہ آدمی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو آخر ہمارے باپ دادا جو بہت پہلے گزر چکے ہیں ان کو زندہ کرکے ہمارے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا کہ ہم ان سے پوچھ کر یقین کرلیں کہ واقعی مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہے ؟ ٭زمین اور آسمان کی سلطنت اور بادشاہت صرف ایک اللہ کی ہے وہی قیامت کو قائم کرے گا لیکن ان کفار کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قیامت کا دن ان کے لیے بڑے نقصان کا دن ہوگا کیونکہ اس دن ہر ایک سے پورا پوراحساب لیا جائے گا ۔ جب آدمی اس دن اللہ کے سامنے حاضر ہوگا تو اس سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان کاموں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ ہم نے اپنے فرشتوں کے ذریعے تمہارے سا رے اعمال کو لکھوا رکھا تھا۔ فرمایا جائے گا کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا اور یہ قیامت کا دن ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔ اگر تم اس دن کا مذاق نہ اڑاتے اور پیغمبروں کی باتوں کو مانتے تو تمہیں یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ تم دنیا کی زندگی کے فریب میں آ کر بہترین اعمال سے غافل ہوگئے تھے۔ اب تم اس جہنم میں رہو ۔ تمہیں بچانے والا کوئی نہ آئے گا ۔ اب توبہ کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ وہ وقت دنیا میں گزر چکا تم نے جو گناہ کیے تھے ان کی سزا بھگتنا ہی پڑے گا ۔
حٰمٓۚ Open ayah 45:1 in the Quran reader
حا ۔ میم حروف مقطعات ( معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader
اللہ جو زبردست اور بڑی حکمت والا ہے اس کتاب ( قرآن مجید) کا اتارا جانا اس کی طرف سے ہے۔
اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader
بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ۔
وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader
تمہاری اپنی پیدائش میں ۔ جانور جن کو اللہ نے پھیلا رکھا ہے ان میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader
رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ رزق ( بارش) جسے اللہ نے آسمان (بلندی) سے نازل کیا ہے جس کے ذریعے مردہ زمین میں زندگی پیدا ہوتی ہے اور ہوائوں کی گردش میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو بات کو سمجھتے ہیں
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader
یہ اللہ کی وہ نشانیاں ہیں جنہیں پڑھ کر ہم آپ کو سنا رہے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ اور اسکی (بےشمار) نشانیوں کے بعد آخر یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟
وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader
( حقیقت یہ ہے کہ) ہر اس شخص کے لئے تباہی ہے جو بہت جھوٹا اور گناہ گار ہے
یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader
جو اللہ کی آیات کو جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہے سنتا تو ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے تکبر پر اڑا رہتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں ۔ ( اے نبی ﷺ ایسے شخص کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے
وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader
اور جب ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ پھر ان سب لوگوں کے لئے ذلت والا عذاب ہے
مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader
ان کے آگے (صرف) جہنم ہی ہے۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے کوئی چیز انکے کام نہ آسکے گی اور نہ ہی وہ کام آئیں گے جنہیں انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنادوست بنا رکھا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader
یہ قرآن تو سراسر ہدایت ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ہے ان کے لئے بد ترین اور درد ناک عذاب ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader
اللہ ہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے لئے مسخر ( تابع) کردیا ہے تا کہ تم اس کے حکم سے اس میں کشتیاں ( جہاز) چلائو اور تا کہ تم اس کا فضل ( رزق) تلاش کرو اور توقع ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو گے
وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader
اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب کا سب اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ بیشک ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ایمان رکھنے والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ ان سے در گزر کریں جو اللہ کی طرف سے برا دن آنے کا خوف نہیں رکھتے تا کہ اللہ ایسی قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے جو وہ کرتے رہے ہیں
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader
جس نے بھی عمل صالح اختیار کیا تو وہ اس کے اپنے لئے ہے اور جس نے کوئی برائی کی اسے خود ہی بھگتے گا ۔ پھر تم سب اپنے رب کی طرف ہی لوٹائے جائو گے۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader
( اس سے پہلے) ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب ، حکمت ، نبوت ( اور زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ) اور پاکیزہ رزق دیا تھا اور اہل عالم پر ان کو فضلیت و عظمت عطاء کی تھی
وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader
ان کو دین کے بارے میں کھلی کھلی ہدایات دی گئی تھیں لیکن انہوں نے علم آجانے کے باوجود محض آپس کی ضد بندی کی وجہ سے اختلاف پیدا کیا۔ ( اے نبی ﷺ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader
پھر ( اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو دین کے ایک راستے پر قائم کیا ہے آپ اسی کی اتباع کیجئے اور ان لوگوں کی بات نہ مانئے جو نادان ہیں
اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader
بیشک وہ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہ آسکیں گے اور بیشک ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ تقویٰ والوں کا ساتھی ہے۔
هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader
یہ ( قرآن مجید) ان لوگوں کے لئے روشنی ، ہدایت اور رحمت ہے جو یقین رکھتے ہیں ۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کو کمایا ہے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم انہیں اور ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والوں کو برابر کردیں گے۔ کہ ان کا مرنا اور جینا یکساں ہوجائے۔ یہ بد ترین دعویٰ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے تا کہ ( قیامت کے دن) ہر شخص کو جو اس نے کیا ہے اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے ۔ اور ان لوگوں پر کسی قسم کا ظلم نہ کیا جائے گا ۔
اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کیا آپ نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور علم کے باوجود اللہ نے اس کو بھٹکا دیا ہے ۔ اس کی سماعت اور قلب پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ پھر اللہ کے بعد وہ کون ہے جو اسے راہ ہدایت دکھا سکتا ہے کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟
وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader
وہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی ہے ۔ ہم یہیں مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں اور ہمیں زمانہ کے علاوہ کوئی چیز نہیں مارتی۔ لیکن ان کے پاس ( اپنی بات ثابت کرنے کی) کوئی دلیل نہیں ہے ۔ وہ محض خیالی باتیں کرتے ہیں۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader
اور جب ہماری کھلی کھلی آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کرکے ) لے آئو۔
قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ وہی تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ۔ پھر وہی تمہیں قیامت کے ایسے دن میں جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ۔
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader
زمین اور آسمانوں کی سلطنت اللہ ہی کی ہے۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پر ست سخت نقصان میں ہوں گے۔
وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader
آپ اس دن ہر گروہ کو گھنٹوں کے بل گرا ہوا دیکھیں گے ۔ ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو کہ تم کرتے رہے تھے۔
هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader
یہ نامہ اعمال ہماری کتاب ہے جو تم پر گواہی دے گی کیونکہ تم جو کام کرتے تھے اس کو ہم لکھواتے جاتے تھے۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader
پھر وہ لوگ جو ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے تھے ان کو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ ان کی کھلی کامیابی ہوگی۔
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader
اور جن لوگوں نے کفر و انکار کیا تھا (ان سے کہا جائے گا کہ ) کیا تمہیں میری باتیں پڑھ پڑھ کر سنائی نہیں گئی تھیں۔ مگر تم نے تکبر کیا اور تم سخت گناہ گار بن گئے تھے۔
وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader
اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کیا ہے ؟ ہم تو بس ایک ہلکا سے گمان رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔
وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader
اور جو اعمال انہوں نے کئے تھے ان کی برائیاں ان پر کھل جائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان کو گھیر لے گا۔
وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader
اور کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم بھی تمہیں اسی طرح بھلادیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی تمہارا مدد گار نہیں ہے۔
ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader
یہ اس لئے (برا انجام ہوا کہ ) تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑایا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ آج کے دن نہ تو وہ آگ سے نکالے جائیں گے اور نہ وہ اللہ کو معاف مانگ کر راضٰ کرسکیں گے۔
فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader
پس تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہی زمین کا رب ہے اور وہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader
اور ہر طرح کی بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہے وہی زبر دست ہے اور حکمت والا ہے۔