Ayahs 45:1–21 قرآن حکیم سراسر اللہ کا کلام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے "۔ یعنی " نازل " یا " منزل " وغیرہ کا کوئی صفت کا صیغہ استعمال فرمانے کی بجائے " تنزیل " مصدر کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب سراسر، از اول تا آخر ایک نازل شدہ کتاب ہے۔ مخلوق میں سے کسی بھی جن وانس وغیرہ کی طرف سے اس میں کسی حرف و حرکت اور شوشہ تک کا بھی کوئی دخل اور کسی طرح کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ پس جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد ﷺ خود بناکر لائے ہیں وہ قعطی طور پر غلط کہتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ خالص خداوند قدوس کی طرف سے اتاری گئی کتاب حکیم ہے۔ اور تنزیل کے لفظ میں خاص اہتمام کا مفہوم بھی شامل ہے۔ یعنی اس کتاب حکیم کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے خاص اہتمام سے نازل فرمایا ہے۔ پس اس کی قدر نہ کرنا بڑا ظلم اور سخت بےانصافی ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس شان کی دوسری کوئی کتاب پوری روئے زمین پر نہ موجود ہے نہ ہوسکتی ہے۔ پس جو لوگ اس پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں وہ سراسر نور حق و ہدایت سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
2 قرآن حکیم عزت و عظمت اور علم وحکمت کا خزانہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے اس اللہ کی طرف سے جو کہ سب پر غالب اور بڑا ہی حکمت والا ہے "۔ اس لئے اپنی بےانتہا قوت و عظمت اور کامل غلبہ و اقتدار کے باوجود وہ کرتا وہی کچھ ہے جو سراسر حکمت کا تقاضا اور اس کی مخلوق کے حق میں عین رحمت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم اور رحمن و رحیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جو لوگ صدق دل سے اس کتاب حکیم کے دامن رحمت سے وابستہ ہوجائیں گے اس پر سچا پکا ایمان لاکر اس کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنائیں گے وہ سچی عزت اور حقیقی عظمت سے بھی سرفراز ہوں گے اور انپے دامن کو حکمت کے سچے اور سچے موتیوں سے بھی بھر دیں گے۔ اور جو اس سے اعراض کریں گے اور منہ موڑیں گے وہ ذلت و رسوائی اور حرمان نصیبی کے ہولناک گڑھے میں گر کر دائمی ہلاکت سے دوچار ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قرآن حکیم سچی عزت و عظمت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور واحد ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور یہ علم و حکمت کا واحد اور بےمثال خزانہ ہے۔ کیونکہ وحی خداوندی کی دولت اب اس کتاب حکیم کے سوا اور کہیں ملنا ممکن ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہر طرح سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayahs 45:3–44 رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں بھی "۔ یعنی ان میں بھی غور و فکر کرنے والوں کے لیے عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت ہیں۔ کہ ایک آ رہا ہے اور دوسرا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹا ہو رہا ہے اور دوسرا بڑا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کبھی سرد ہو رہا ہے کبھی گرم۔ ایک اپنی روشنی اور گرمی و تمازت کے ذریعے تمہارے لئے طرح طرح کے فائدوں اور راحتوں کا سامان کرتا ہے اور دوسرا تمہارے لئے اندھیرے اور گہرے سناٹے کا وہ پرکیف ماحول فراہم کرتا ہے جس میں تم لوگ آرام و سکون کی گہری نیند سوتے ہو۔ تو سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ سب کچھ کس قادر مطلق کی قدرت و حکمت کے نمونے اور انتہائی مہربان کی مہربانیاں اور عنایتیں ہیں ؟ اور اس کا تم پر کیا حق واجب ہوتا ہے ؟ اور اس کے ان حقوق کی ادائیگی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو یہی سب کچھ تم لوگوں کو یہ دین حنیف سکھاتا بتاتا ہے۔ اور اسی کی تعلیم تم کو یہ کتاب حکیم دیتی ہے جو محمد رسول اللہ لے کر آئے ہیں۔ پھر اس سے اعراض اور لاپرواہی کس طرح روا ہوسکتی ہے ؟۔ سو اس کتاب حکیم اور اس دین حنیف کا بنی نوع انسان پر وہ عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے کہ جسکی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ پس اس کی قدر نہ کرنا بہت بڑی ناشکری اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی طرح قسما قسم کے جانوروں کو انسان کے بھلے کے لیے زمین میں پھیلا دینا جس سے اس کو طرح طرح کے فوائد اور منافع حاصل ہوتے ہیں اور آسمان سے اترنے والی اس بارش میں جس سے زمین کو حیات تازہ ملتی ہے اور انسان کے نفع اور فائدے کے لیے طرح طرح کی پیداواریں زمین سے نکلتی ہیں۔ سو اس سب میں عظیم الشان دلائل ہیں جو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے وجود باجود اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ پر دلالت کرتے ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 45:55 ہواؤں کی گردش میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہواؤں کی گردش میں بھی عظیم الشان دلائل ہیں "۔ جو کبھی شرقاً غرباً چلتی ہیں اور کبھی شمالاً جنوباً ۔ کبھی نسیم سحر کی صورت میں اور کبھی باد صرصر کی شکل میں۔ کبھی سرد کبھی گرم وغیرہ وغیرہ۔ تو ذرا سوچو کہ آخر یہ سب کچھ کس قادر مطلق کی کارستانی اور کس مہربان مطلق کی مہربانی کے کرشمے ہیں ؟ سو ہواؤں کی گردش میں بھی حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے عظیم الشان دلائل اور نشانیاں موجود ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی باگ ایک ہی قادر مطلق اور مصرّف حکیم کے ہاتھ میں ہے جو انکو اپنی مخلوق کے بھلے کیلئے اپنی حکمت مطلقہ کے تقاضوں کے مطابق استعمال کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ اگر ان کو روک دے تو پل بھر میں ساری دنیا تباہ ہوجائے۔ اور اسی کی قدرت و حکمت سے یہ کسی کے لیے رحمت بنتی ہیں اور کسی کے لیے نقمت و عذاب ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو رحمت و زحمت اور نعمت ونقمت سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
6 عقل سے صحیح کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سب چیزوں میں بڑی بھاری اور عظیم الشان نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں "۔ اور اس طرح وہ صحیح نتائج حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو معبود بنا کر عقل کو انہی کی تکمیل میں لگا دیا ہو ان کے لئے ان چیزوں میں کوئی درس عبرت کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو توحید خداوندی کے حق میں نشانیاں اور دلائل تو ہر چہار سو پھیلے بکھرے موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں اور یہ دلائل نظر انہی لوگوں کو آتے ہیں جو اپنی عقل و فکر کے نور سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔ ورنہ لوگ اندھے اور اوندھے ہی رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں جوہر عقل سے صحیح طور پر کام لینے کی تعلیم و تلقین ہے۔ پس توحید خداوندی اور معاد کے لیے نشانیاں تو جا بجا اور قدم قدم پر پائی جاتی ہیں لیکن یہ نظر انہی لوگوں کو آتی ہیں جو اپنی عقلوں سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں اور جو عقل سے کام لیتے ہی نہیں یا صرف مادی فوائد و منافع کی حد تک ہی سوچتے ہیں وہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 45:67 منکرین و مکذبین کے دل و دماغ پر ایک دستک : سو منکرین و مکذبین کے دل و دماغ پر ایک زوردار دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد آخر یہ لوگ کس کلام پر ایمان لائیں گے ؟ "۔ یعنی ایسی بےمثال قدرتوں اور بےانتہا رحمتوں کے مالک ربِّ کریم اور حکمتوں و عظمتوں سے لبریز اس کے اس کلام معجز نظام کے سوا نہ تو ایسی کوئی ہستی ہوسکتی ہے اور نہ کوئی ایسا کلام جس پر ایمان لایا جاسکے۔ لہذا اس اللہ وحدہ لاشریک اور اس کے اس کلام عظیم پر ایمان لا کر اپنی دنیا و عقبیٰ درست کرو ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا حَلَاوَۃَ الْاِیمَانِ بِمَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمْ الرَّحِمِیْنَ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی یہ آیتیں جو ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں حق کے ساتھ اپنے مدعا پر بالکل صاف وصریح طور پر دلالت کرتی اور قطعی طور پر واضح ہیں۔ اور آفاق وانفس کی واضح نشانیوں سمیت یہ سب ہی نشانات قدرت اس کائنات کے خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت، اس کی حکمت وقدرت اور عقیدئہ آخرت کی صداقت و حقانیت کو پوری طرح واضح کردیتے ہیں۔ کوئی ذی ہوش ان سے انکار نہیں کرسکتا۔ اگر اس سب کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو پھر آخر اور کونسا ایسا کلام ہوسکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے ؟۔
Ayahs 45:7–88 استکبار محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے معلوم ہوا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور اس کی بنا پر حق کے مقابلے میں اکڑ جانا انسان کو حق سے محروم کردیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیَاتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ } (الاعراف : 126) اور یہ اس لیے کہ کبریائی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کا حق اور اسی کو سزا وار ہے۔ جبکہ بندے کا اصل کمال و مقام اس امر میں ہے کہ وہ اپنی عبدیت اور اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے اور اسی کی طرف رجوع کرنے میں کمال پیدا کرے۔ اسی پر وہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے دارین کی سعادت و سرخروئی کا مستحق ہوگا۔ اور اس کی طرح طرح کی عنایتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا جائیگا ۔ اللَّھم زدْنَا اِیْمَانًا بِکَ وَحُبًّا فِیْکَ وَخُصُوعًا لکَ وَرُجُوْعًا اِلَیْکَ وَخُذ بِنَوَاصِیْنَا الٰی مَا فیْہِ حُبَّک ورضاک مِنَ الْقَوْلِ والعمل یا ارحم الرَّاحمین ویا اکرم الاکرمین ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ چونکہ اپنے استکبار اور خودپسندی کی بنا پر حق کو قبول کرنے اور اس کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے افک و افترا اور کذب بیانی کی بنا پر حق ہی کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے اور قلب ماہیت سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے یہ نور حق و ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اور بہت بڑی ہلاکت اور تباہی میں جا گرتے ہیں۔ مگر ان کو اس کا احساس و ادراک بھی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کے صلاح و فساد اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔
Ayah 45:99 دین حق کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا مذاق اڑانا محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات کے مطابق یہ آیتیں نضربن حارث کے بارے میں نازل ہوئیں جو لوگوں کو قرآن اور دین سے پھیرنے کے لئے انہیں مختلف قسم کے قصوں کہانیوں کی کتابیں لا کر سناتا۔ اور ان سے کہتا کہ محمد جو قصے پہلی قوموں کے تمہیں سناتا ہے ان سے بہتر یہ قصے ہیں جو میں تم لوگوں کو سناتا ہوں۔ لہذا تم اس کی بجائے میری بات سنو۔ لیکن یہ حکم الفاظ و کلمات کے عموم کے مطابق عام اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو کہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے روکنے اور ان کو اسلام کی مقدس تعلیمات سے محروم رکھنے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ سو جو کوئی ایسی کتابیں قصے کہانیاں اور افسانے وغیرہ سنائے گا اور حق کا مذاق اڑائے گا وہ اس میں داخل ہوگا۔ اسی لئے یہاں اس کے لئے { اولئک } ۔ ایسے لوگوں ۔ جیسے عام الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ اور لوگوں کو حق سے روکنے کا یہ ڈھنگ اور یہ مرض آج کے اہل ھویٰ اور مختلف قسم کے اہل باطل میں بھی ایسے ہی پایا جاتا ہے۔ جو من گھڑت قصے کہانیاں بناتے سناتے جھوٹے اور بناوٹی فضائل گھڑ گھڑ کر پھیلاتے اور حق اور اہل حق کے خلاف لوگوں کو نفرت دلاتے رہتے ہیں۔ تاکہ عوام الناس حق اور اہل حق کی طرف رجوع نہ کرسکیں۔ اور اس طرح ان لوگوں کی اپنی دکانیں چلتی رہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اوپر کی آیت کریمہ میں منکرین و مستکبرین کا وہ سلوک و رویہ بیان فرمایا گیا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے ہیں جبکہ انکو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ اور یہاں ان کے اس رویے کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ جو ایسے لوگ اس وقت اختیار کرتے ہیں جبکہ انکو قرآن کی کسی بات کا علم کسی اور ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ سو ایسے میں یہ لوگ اسکا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کہیں کوئی اور اس سے متاثر نہ ہوجائے۔ سو اس طرح ایسے لوگ اپنی محرومی میں اضافہ کرتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا مذاق اڑانا محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
10 دین کا مذاق اڑانے والوں کیلئے رسوا کن عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دین کا مذاق اڑانے والوں کے لیے بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انہوں نے استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑایا تھا۔ اس لئے ان کو ایسے رسوا کن عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ عذاب جرم کے مطابق اور اسی کی جنس سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " الجزاء من جنس العمل " ۔ سو اللہ پاک کی طرف سے ملنے والا ہر عذاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ برا اور پناہ مانگنے کی چیز ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ لیکن اسکا سب سے زیادہ سخت اور برا عذاب وہ ہوتا ہے جسکے ساتھ " خزی " یعنی رسوائی بھی ہو۔ اور یہ عذاب مستکبرین کے ساتھ خاص ہے۔ سو جو لوگ استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق کا انکار کرتے اور دین حق کا مذاق اڑاتے ہیں ان کیلئے آخرت میں بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو متکبروں اور سرکشوں کو آج یہ حقیقت سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن کل جب اس عذاب مہین سے سابقہ پڑے گا تو سب کچھ پوری طرح ان کے سامنے آجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:1011 منکرین و مکذبین کی بےکسی اور بےبسی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہ وہ ساز و سامان انکے کچھ کام آسکے گا جو یہ لوگ دنیا میں کماتے اور بناتے رہے تھے اور نہ انکے وہ حمایتی اور سرپرست انکے کچھ کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا ازخود گھڑ رکھا تھا "۔ جن کو یہ لوگ اللہ پاک کے سوا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ اور گھمنڈ تھا کہ یہ مشکل وقت آنے پر ہمارے کام آئیں گے۔ سو وہ اس مشکل ترین موقع پر ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے کہ یہ ان کے بس میں ہی نہیں ہوگا ۔ اَنّٰی لَہُمْ ذَالِکَ ؟ ۔ سو اس وقت ایسے لوگ بےکسی اور بےبسی کی تصویر بنے اس عذاب مہین کے آگے سرافگندہ کھڑے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موڑ پر اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 45:1112 یہ کتاب حکیم سراسر ہدایت ہے : یعنی یہاں پر " ھادی " نہیں " ھدًی " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ یعنی یہ کتاب حکیم نری ہدایت، عین ہدایت، سراسر ہدایت اور کامل ہدایت کا مجموعہ ہے۔ اس کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے یہ حق و ہدایت کے نور سے سرفراز کرتی ہے۔ اس کے دامن رحمت سے وابستگی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی چیز ہے۔ اور اس سے اعراض و روگرانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سعادت دارین سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زندگی کا ہر لمحہ اس کتاب حکیم کی خدمت میں صرف کرنے اور اس کے دامن رحمت و ہدایت سے وابستہ رہنے کی سعادت و توفیق بخشے اور اس کی خدمت کو محض اپنی شان کریمی و رحیمی سے قبول فرما کر اس کی روشنی پورے عالم میں پھیلا دے ۔ وما ذلک علیہ بعزیز وہو علی کل شیء قدیر۔
13 کافروں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے منکروں کیلئے بلا کا دردناک عذاب ہے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ " رجز " کے معنیٰ سخت ترین عذاب کے ہیں ۔ " الرجز ہو اشد العذاب " ۔ (جامع البیان، المراغی، الکشاف اور صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ اور یہ سخت ترین عذاب اس لئے کہ رب کی آیتوں کے ساتھ کفر اور ان کا انکار نہایت سنگین جرم اور سخت بغاوت و سرکشی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس اعتبار سے بھی کہ یہ آیتیں جو کہ سراسر ہدایت اور عین رحمت ہیں ان کے ساتھ کفر و انکار کا معاملہ ہر خیر سے محرومی اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ اس لئے اس جرم کی سزا اور اس کا عذاب بھی نہایت سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار کے سنگین جرم پر ملنے والا یہ عذاب کوئی معمولی عذاب نہیں ہوگا بلکہ یہ بڑا ہی سنگین اور نہایت ہی دردناک اور ہولناک عذاب ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ ایسا دردناک اور اس قدر ہولناک کہ دل اس سے لرز کر رہ جائیں گے۔ لیکن وہاں پر ایسے بدبختوں کو موت بھی نہیں آئے گی تاکہ اس سے کسی طرح چھوٹ جائیں۔ بلکہ ان کو تو وہاں پر۔ { لاَ یَمُوْتُ فِیْہَا وَلاَ یَحْیٰی } ۔ والی زندگی گزارنا ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:1214 دلائلِ توحید کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے مسخر کردیا سمندر ۔ کے اس عظیم الشان ذخیرئہ آب۔ کو "۔ یعنی اللہ پاک کی معرفت حاصل کرنی ہے تو اس کی بےانتہا قدرت اور بےمثال حکمت کے ان آثار و مظاہر کو دیکھو اور ان میں غور و فکر کرو۔ نہ کہ اس کی ذات اور حقیقت میں۔ کہ یہ تمہارے بس سے باہر ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں وارد ہے کہ اللہ کی مخلوق میں غور کرو اللہ میں غور نہ کرو۔ کیونکہ انسان کا دائرئہ فکر مخلوق ہی ہوسکتا ہے نہ کہ حضرت خالق ۔ جل و علا ۔ سو اللہ وہی وحدہ لاشریک ہے جس نے آسمان و زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کو اور اس میں موجود ہر چیز کو وجود بخشا اور اس کو تمہارے کام میں لگا دیا۔ سو تم لوگ کائنات میں موجود ان گوناگوناں اشیاء سے طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ اور اس واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کا شکر بجا لاؤ اور دل و جان سے اس کے آگے جھک جاؤ کہ اسی نے اپنی رحمت و عنایت سے یہ سب کچھ تمہیں بخشا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کی اس کائنات میں ہر چہار سو پھیلے بکھرے ان عظیم الشان مظاہر قدرت میں سے تم لوگ اس سمندر کے بارے میں غور و فکر سے کام لو تو اس سے تمہیں ایسے چشم کشا اور بصیرت افروز گوہر ہائے مقصود ہاتھ آئیں گے کہ تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی راہیں روشن ہوجائیں گی۔ آخر تم لوگ سوچو کہ اس قدر وسیع و عریض اور حکمتوں و نعمتوں بھرے اس عظیم الشان ذخیرئہ آب کو وجود کس نے بخشا ؟ اس کے اندر بےحد و حساب اور عظیم الشان نعمتوں کے وہ بےحد و حساب خزانے کس نے رکھے جن سے تم لوگ دن رات اور طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو ؟ اور اس کو ان حکمتوں بھرے طبعی قوانین کا پابند کس نے کیا جن کی بنا پر تمہاری کشتیاں اور تمہارے دیوپیکر جہاز اس کا سینہ چیرتے ہوئے ہر طرف رواں دواں ہیں ؟ اور توحید کے یہ دلائل آخرت و معاد کے دلائل بھی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت، اس کی یکتائی و وحدانیت اور معاد و قیامت سے متعلق ان دلائل سے یہ کائنات بھری پڑی ہے لیکن ان کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
15 سب کچھ اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب اسی کے حکم سے ہو رہا ہے "۔ سو اس کا اذن اور اس کی رحمت اگر شامل حال نہ ہو تو ان کشتیوں اور جہازوں میں سے کچھ بھی نہیں چل سکتا۔ بلکہ یہ سب کچھ اسی پانی میں غرق ہوجائے۔ اور جیسا کہ وقتاً فوقتاً یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے ایسا ہوتا بھی رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ کشتیاں سب کوششوں کے باوجود پانی کی سطح پر چل نہیں پاتیں بلکہ غرقاب ہوجاتی ہیں۔ پس عقل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اور دل و جان سے اس وحدہ لاشریک کے آگے جھک جائے اور جھکا ہی رہے۔ بہرکیف یہ اللہ پاک کی قدرت و حکمت اور اس کے اذن و امر ہی کا نتیجہ ہے کہ جس پانی کے اندر لوہے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اور ایک معمولی سا کنکر بھی فوراً ڈوب جاتا ہے اس میں ہزاروں ٹن لوہا ہزارہا ٹن وزن کے ہمراہ دیو پیکر بحری جہازوں کی شکل میں اس پانی کی سطح پر چلتا پھرتا اور رواں دواں ہے۔ جس سے دنیا طرح طرح کے فوائد و منافع سے بہرہ ور ہوتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کہیں عقل کے اندھوں اور مت کے ماروں کی طرح یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ سب کچھ یونہی الل ٹپ از خود وجود میں آگیا اور اپنے طور پر یونہی چلے جا رہا ہے کہ اس سے بڑھ کر بدعقلی اور حواس باختگی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ سو { بامرہ } کے اس مختصر سے کلمہ کریمہ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ حضرت خالق حکیم ہی کی تخلیق اور اسی کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ پس بڑے ظالم اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس خالق ومالک کی پیدا کردہ اور عطا فرمودہ ان عظیم الشان نعمتوں اور گوناگوں عنایتوں سے طرح طرح کے فائدے اٹھانے کے باوجود اس سے غافل بلکہ اس کے منکر ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ غفلت و انکار کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
16 نعمتوں میں غور و فکر کا اصل اور بڑا مقصد شکر منعم : سو اسی اصل اور سب سے بڑے مقصد پر تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو اس وحدہ لاشریک کا "۔ اس پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت و بندگی اختیار کر کے اور اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اس کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اور اس کی مرضیات میں صرف کرکے۔ تاکہ اس طرح تم دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے بہرہ ور ہو سکو۔ اور خود تمہارا اپنا بھلا ہو۔ ورنہ وہ وحدہ لاشریک ہر کسی سے اور ہر طرح سے غنی اور بےنیاز ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ وَلاَ یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ } ۔ (الزمر :7) یعنی " اگر تم لوگ کفر اور ناشکری کرو گے تو اس سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑے گا کہ وہ تم سب سے قطعی طور پر اور ہر لحاظ سے غنی اور بےنیاز ہے۔ البتہ وہ اپنے بندوں سے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ اس سے راضی اور خوش ہوتا ہے " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم لک الحمد والشکر حتی ترضی ولک الحمد والشکر بعد ما رضیت ولک الحمد والشکر کما تحب وترضی وخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک والرضا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 45:1317 آسمان کی سب چیزیں انسان کی خدمت میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے تمہارے کام میں لگا دیا ان سب چیزوں کو جو کہ آسمانوں میں ہیں "۔ جیسے سورج، چاند، ستارے، بادل، بارشیں اور ہوا وغیرہ۔ جن سے تمہیں طرح طرح کے اور بےحد و حساب فائدے پہنچتے ہیں اور لگاتار اور دن رات پہنچتے ہیں۔ سو صرف سمندر کی تسخیر اور اس کے گوناں گوں فوائد و منافع ہی کی بات نہیں بلکہ تم لوگ ذرا نگاہ اٹھا کر اپنے اوپر تنی ہوئی آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو بھی دیکھ لو۔ تمہیں اس میں بھی حضرت خالق کی عظیم الشان قدرت، حکمت اور اس کی عظیم الشان رحمت و عنایت کے چمکتے دمکتے ایسے عظیم الشان مظاہر نظر آئیں گے جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تم لوگوں کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ اور جس میں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت مطلقہ اور آخرت و معاد سے متعلق عظیم الشان دلائل ملیں گے مگر اسی صورت میں جبکہ ان مظاہر میں صحیح طریقے سے غور و فکر کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق -
18 اور زمین کی سب چیزیں بھی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین کے اندر ہے "۔ جیسے انہار و اَشجار، جبال وبحار اور طرح طرح کے جانور وغیرہ بیشمار مخلوقات جن سے تم لوگ قسما قسم کے فائدے اٹھاتے ہو اور دن رات اٹھاتے ہو۔ مگر پھر بھی اس واہب مطلق کا شکر ادا نہیں کرتے جس نے تم کو ان تمام نعمتوں سے نوازا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اگر تم لوگ اپنے پاؤں تلے روندی جانے والی اس زمین کو اور اس میں پائے جانے والے ان نشانہائے قدرت ہی کو بنظر غور و فکر دیکھ لو جو ہر وقت تمہارے سامنے ہیں تو تمہیں حضرت خالق ومالک کی قدرت و حکمت، اس کی رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کے عظیم الشان دلائل وبراہین نظر آئیں گے۔ مگر تم لوگ تو سوچتے ہی نہیں ہو۔ سو غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
19 سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا { جَمِیْعًا مِنْہُ } یعنی " یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے "۔ نہ کہ کسی اور کی طرف سے۔ اور نہ ہی کسی اور کا اس میں کوئی حصہ و اشتراک ہے کہ اس سب کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کسی اور ہستی کا نہ تو ان اشیاء میں سے کسی چیز کے خلق و ایجاد میں کسی طرح کا کوئی دخل اور حصہ ہے اور نہ اس کے عمل و تصرف میں۔ تو پھر کس قدر ناشکرا اور ناسپاس ہے وہ انسان جو اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی ان عظیم الشان اور بےحد و حساب نعمتوں سے ہر لحظہ اور طرح طرح سے مستفید ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اس خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے اور غافل ہے ۔ { قُتِلَ الاِنْسَانُ مَا اَکْفَرَہٗ } ۔ (العبس : 17) " ستیاناس ہو ایسے انسان کا کس قدر ناشکرا ہے یہ ؟ "۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے اس منعم حقیقی کو بھول کر اس کی عاجز مخلوق اور خود ساختہ معبودوں کے آگے جھکے ان کے آگے سجدہ ریز ہو۔ ان کے گرد طواف کرے اور چکر لگائے۔ ان کی بھینٹ چڑھائے اور ان کے لئے پھیرے مانے۔ ان کو پوجے پکارے اور ان کے نام کی نذر و نیاز دے وغیرہ وغیرہ۔ سو کس قدر ظلم ہے یہ ؟ ۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ} ۔ اور اس طرح ایسا انسان خود اپنی تذلیل اور تباہی کا سامان کرے اور ۔ { خَسِرَ الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃِ } ۔ کا مصداق بنے اور اس کو اس کا احساس تک نہ ہو کہ میں اس قدر ہولناک خسارے اور دائمی تباہی کے عمیق کھڈے میں گر رہا ہوں ۔ { الَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا } ۔ سو یہ نتیجہ ہوتا ہے خدا فراموشی کا کہ اس سے انسان خود فراموشی کا شکار ہو کر تباہی کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔ { نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسَاہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُوْلٓئِکَ ہُمُ الفَاسِقُونْ } ۔ والَعِیْاذ باللّٰہ الذّی لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام ۔
20 غور وفکر کرنے والوں کے لیے بھاری نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں "۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس وسیع و عریض اور حکمتوں بھری کائنات میں غور و فکر سے کام لے کر ایسے لوگ اپنے خالق ومالک۔ جل و علا ۔ پر ایمان و یقین میں استحکام اور پختگی کی دولت سے سرشار ہوتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ غور و فکر اور سوچ و بچار بڑی محمود و مطلوب شی ہے۔ مگر جبکہ یہ اپنی جگہ پر ہو۔ یعنی مخلوق میں ہو نہ کہ حضرت خالق ۔ جَلَّ مَجُدُہٗ ۔ میں۔ کیونکہ یہ انسان جیسی عاجز مخلوق کے بس سے باہر ہے۔ کیونکہ انسان جتنی بھی عقل و فکر کا مالک ہو وہ بہرحال مخلوق ہی ہے۔ اور حضرت خالق ۔ سُبْحَانَہ وتَعالیٰ ۔ مخلوق کے دائرہ سے وراء الورا ہے۔ اور دوسری شرط غور و فکر کے محمود و مطلوب ہونے کے لئے یہ ہے کہ وہ صحیح نیت کے ساتھ ہو کہ حقیقت تک رسائی اور اپنے خالق ومالک کی معرفت مطلوب و مقصود ہو کہ ایسی غور و فکر ایمان و یقین کی قوت و ترقی کا ذریعہ بنتی اور گوہر مقصود سے بہرہ ور و سرشار کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسی کی توفیق و سرفرازی سے نوازے ۔ آمین۔ سو دلائل وبراہین کی کمی نہیں۔ کائنات کا چپہ چپہ ان سے معمور ہے۔ اور قرآن حکیم نے بھی اس کی پوری تفصیل فرما دی ہے۔ کمی جس چیز کی ہے وہ ہے تفکر اور صحیح طور سے غور و فکر سے کام لینا۔ اور یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کسی کو مجبور نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صحیح طور پر غور وفکر کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 45:1421 عفو و درگزر کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد میں ایمان والوں کو عفو و درگزر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو توحید وقدرت خداوندی کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے اخلاق فاضلہ کی تعلیم دی جا رہی ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے اخلاق فاضلہ ہی سے ہے۔ مگر اخلاق فاضلہ وہ جو عقیدئہ توحید پر مبنی ہوں اور نور ایمان و یقین سے جنم لیں۔ اس آیت کریمہ کے مفسرین کرام نے دو مطلب بیان کیے ہیں۔ اور وہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ اور اس میں ان دونوں ہی کی گنجائش موجود ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان ان ظالم لوگوں کی زیادتیوں پر صبر و برداشت اور عفو و درگزر سے کام لیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انکو اپنی طرف سے انکے صبر و حلم اور عفو و درگزر کا اجر وثواب نصیب فرمائے۔ اور دوسرا یہ کہ اہل ایمان ایسے ظالم لوگوں سے عفو و درگزر کا معاملہ کریں تاکہ اللہ ان کی زیادتیوں کا بدلہ انکو خود ہی دے۔ (روح، قرطبی اور جامع البیان وغیرہ) ۔ اور الفاظ و کلمات کے عموم کے مطابق یہ دونوں ہی مطلب درست ہیں کہ اس طرح اہل ایمان کو ان کا اجر وثواب بھی پورا ملے اور کفار و منکرین کو عذاب بھی پورا ملے۔ سو اللہ تعالیٰ کی عدالت کا فیصلہ ہی صحیح اور حقیقی فیصلہ ہے۔
22 ایام اللہ سے مقصود و مراد ؟ : سو " ایام اللہ "، " اللہ کے دنوں " سے مقصود و مراد وہ خاص دن ہیں جن میں اللہ پاک کسی قوم پر کوئی خاص انعام فرماتے ہیں۔ یا کسی بدکار قوم پر کوئی خاص عذاب نازل فرماتے ہیں۔ سو اس ارشاد سے یہ تعلیم و تلقین فرمائی گئی کہ جو لوگ آخرت کی سزا و جزا پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں ان کی بدسلوکی پر ان سے الجھنے اور انہیں جواب دینے کی بجائے صبر و برداشت ہی سے کام لیا جائے۔ تاکہ اللہ پاک ان سے خود ہی نپٹ لے اور ان کو ان کے کئے کرائے کا وہ بھرپور بدلہ دے جس کے وہ مستحق ہیں۔ سو اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ منکرین و مخالفین کی اوچھی حرکتوں سے نہ دل برداشتہ ہوں اور نہ مشتعل۔ بلکہ انکو نظرانداز ہی کریں اور عفو و درگزر ہی سے کام لیں۔ ان لوگوں کو چونکہ یہ اندیشہ نہیں ہے کہ جس روز بد سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے وہ فی الواقع ظہور میں آنے والا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔ اور اللہ انکو ڈھیل دے رہا ہے تاکہ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں اور اس کے نتیجے میں اپنے بھرپور انجام کو پہنچ کر رہیں۔ اور سنت الٰہی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ شریروں کو پوری مہلت دیتا ہے تاکہ ان پر حجت پوری ہوجائے۔ اور جب انکو پکڑا جائے تو ان کیلئے کوئی عذر باقی نہ رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
23 اصل اور پورا بدلہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے مل سکے گا : سو اس عفو و درگزر کے نتیجے کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ ہر قوم کو خود بدلہ دے اس کی زندگی بھر کی کمائی کا "۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ان کے صبر و برداشت اور عفو و درگزر کا بدلہ دے۔ اور جیسا کہ اوپر گزرا ہمارا خیال یہ ہے اور { قوماً } کی تنکیر بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ اور ہم نے اپنے ترجمہ میں بھی اس کے اظہار کی کوشش کی ہے کہ یہ دونوں ہی مطلب جو کہ اس بارے اوپر بیان ہوئے ہیں صحیح ہیں۔ اور دونوں ہی مراد ہیں کہ اہل ایمان عفو و درگزر سے کام لیں۔ تاکہ ان کو ان کے صبر و برداشت اور عفو و درگزر کا صلہ و بدلہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ خود اپنی شان کرم کے مطابق عطا فرمائے۔ اور کفار و منکرین کو ان کے کفر و انکار کی سزا و جزا اس کے قانون عدل و انصاف کے عین مطابق اور بھرپور طریقے سے ملے ۔ فَوَفقنَا اللّٰہ لما تحِبُّ وَتَرضٰی مِنَ القول والعمل واھْدِنَا لِاَحْسَنِ الْاخْلَاقَ وَلَا یَہْدِیْ لٰاَحْسَنِہَا اِلَّا اَنْتَ واصرْنَا عَنْ سَیَّئِہا وَلَا یَصْرفُ عن سَیئہا الا اَنْتَ یا مَنْ بِیَدِہ مَلٰکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ -
Ayah 45:1524 اچھے عمل کا صلہ و بدلہ خود کرنے والے کو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اچھا عمل کرے گا تو وہ خود اپنے ہی لیے کرے گا "۔ کہ اس کا اجر و صلہ خود اسی کو ملے گا۔ سو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کوئی اپنے کسی نفلی عمل کا ثواب کسی دوسرے کو بخشے گا تو اس کا اجر وثواب اس بخشنے والے کو خود بھی ملے گا۔ کیونکہ یہ عمل تو اسی کا ہے۔ بہرکیف نیکی کا بدلہ خود نیکی کرنے والے ہی کو ملے گا۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی مختلف قسم کی خیرات اور برکات کی صورت میں اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی جنت کی نعیم مقیم کی شکل میں۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ کسب خیرات کے سلسلے میں جتنا ہوسکے آگے بڑھا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
25 برائی کا وبال اس کے مرتکب ہی پر ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ " برائی کا وبال خود برائی کرنے والے پر ہوگا "۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کی جگہ کوئی دوسرا پکڑا جائے اور یہ بچ جائے۔ ہاں اگر اس نے دوسرے کو بہکایا بھٹکایا ہوگا تو اس کا بوجھ بھی اس پر ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِم } ۔ (العنکبوت : 13) ۔ کیونکہ انہوں نے ضلال کے ساتھ اضلال کا بھی ارتکاب کیا۔ بہرکیف برائی کا وبال خود ان ہی لوگوں پر ہوگا جو برائی پر اڑے اور جمے رہے ہوں گے۔ اہل ایمان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ جبکہ انہوں نے پیغام حق انکو پہنچا دیا ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
26 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم سب لوگوں کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔ اور وہاں پہنچ کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور یہ ہو کر رہے گا خواہ تم چاہو یا نہ چاہو اور مانو یا نہ مانو۔ تمہیں اس کے حضور بہرحال حاضر ہونا ہے۔ نیک انسان خوشی سے جائے گا تاکہ وہ اس کی طرف سے ملنے والی بےمثال و بےنہایت نعمتوں سے متمتع و مستفید ہو سکے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے ۔ " اَلْمَوْتُ جَسْرٌ یُّوْصِلُ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ " ۔ " موت ایک پل ہے جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے۔ " اور کافر و منافق کو جبراً اور خواہی نخواہی جانا ہوگا تاکہ وہ اپنے اس کفر و انکار اور فتنہ و فساد کی سزا بھگت سکے جس کا ارتکاب وہ زندگی بھر کرتا رہا۔ اور یہ سب اس لئے ہوگا کہ تاکہ ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں۔ سو اپنے اس انجام اور اس عظیم الشان حقیقت کو ہمیشہ اور ہر حال میں پیش رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال اور اس کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:1627 بنی اسرائیل کی بےقدری اور ناشکری کا ذکر : سو اس سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان پر ان لوگوں کی ناقدری و ناشکری کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو ہم نے کتاب سے نوازا "۔ یعنی تورات سے جو کہ اپنے دور میں ہدایت و نور کا منبع و مرکز اور سرچشمہ تھی۔ تاکہ وہ لوگ اس کی روشنی میں اپنے لیے سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان کرسکیں۔ مگر ان بدبختوں نے خود کو بدلنے کی بجائے خدا کی کتاب ہی کو بدل ڈالا۔ اور اس کو کچھ کا کچھ بنادیا۔ یہاں تک کہ اصل تورات کا وجود ہی عنقاء ہوگیا۔ سو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ایسے عظیم الشان احسانات کی ناقدری کی۔ یہاں تک کہ انکو ان سے محروم کردیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ایسے ایسے عظیم الشان انعامات اور احسانات سے نوازا مگر ان ناہنجار اور بدبخت لوگوں نے ہر احسان کی بےقدری اور ناشکری کی۔ اور یہاں تک کہ وہ ان نعمتوں سے خود بھی محروم ہوئے اور وہ اپنے ساتھ اور اپنی طرح دوسروں کو بھی محروم ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
28 بنی اسرائیل کی کتاب، نبوت اور حکم سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو کتاب، حکم اور نبوت کی تینوں عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز کیا۔ ان میں سب سے پہلے کتاب کا ذکر فرمایا جو کہ سب سے بڑا شرف و اعزاز ہے۔ جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کی مخلوق میں سے کسی کو نوازا جاتا ہے۔ سو بنی اسرائیل کو نبوت جیسے اس عظیم الشان شرف اور سب سے بڑی نعمت سے نوازا گیا جو کہ سب سے بڑی روحانی اور معنوی نعمت ہے۔ اور دنیاوی حکومت و سلطنت سے بھی ان کو سرفراز کیا گیا جو کہ مادی اور ظاہری نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے۔ سو ان میں بیشمار انبیائے کرام بھی مبعوث فرمائے گئے اور بادشاہ و حکمراں بھی ۔ { اِذ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَائَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا } ۔ (المائدۃ : 20) ۔ مگر ان لوگوں نے اللہ پاک کی ان عظیم الشان نعمتوں کی قدر پہچاننے اور اپنے خالق ومالک کا حقِّ شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری ہی کا طریقہ اپنایا۔ جس سے یہ لوگ اللہ کی ان نعمتوں سے محروم ہو کر ہمیشہ کے لئے مطرود اور مغضوب ہوگئے۔ اور اب یہ اپنی طرح دوسروں کو بھی محروم ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کتاب سے یہاں پر مراد تورات ہے جو حضرت موسیٰ کو عطا فرمائی گئی تھی اور جو اس ناہنجار قوم کے لیے ہدایت و نور کا منبع ومصدر تھی۔ اور حکم سے مراد وہ حکومت ہے جو حضرت داؤد اور سلیمان کے واسطے سے ان کو ملی تھی اور جو انکے بعد زمانہ دراز تک ان میں قائم اور موجود رہی۔ اور نبوت سے مراد وہ سلسلہ نبوت ہے جو حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ تک ان کے اندر موجود رہا۔ اس کے بعد ان کی بغاوت و سرکشی کی بنا پر ان کو ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کردیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
29 بنی اسرائیل کے لیے پاکیزہ روزی کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو روزی کیلئے طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے نوازا "۔ کہ کھانے پینے کی دوسری بیشمار چیزوں کے علاوہ ان پر من وسلویٰ بھی اتارا گیا۔ مگر انہوں نے ان عظیم الشان نعمتوں کی قدر نہ پہچانی اور ہمارے فرمانبردار بننے کی بجائے باغی اور سرکش بن گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انکو رزق و فضل اور نعمت و رفاہیت کی اس عظیم الشان عنایت سے نوازا گیا جس کا آغاز ان کے ارض فلسطین پر قبضے سے ہوا۔ اور حضرت سلیمان کے دور میں ان کی یہ رفاہیت اپنے نقطہ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ سو ان تمام نعمتوں اور عنایتوں کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ دل و جان سے شکر بجا لاتے اور اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جھک جاتے۔ اور اس طرح یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی اور ابدی فوز و فلاح سے سرفراز ہوجاتے۔ مگر انہوں نے ناشکری اور کفران نعمت سے کام لیکر اپنے آپ کو دائمی ہلاکت و تباہی کے گہرے کھڈے میں ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ذکر و شکر کی نعمت سے سرشار و سرفراز رکھے اور غفلت و ناشکری کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
30 بنی اسرائیل کی فضیلت، بزرگی اور عظمت و برتری کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو فضیلت و بزرگی بخشی تمام جہانوں پر "۔ یعنی انکے اپنے اس دور میں کہ اپنے زمانے میں پیغام حق و ہدایت اور توحید کی حامل و علمبردار صرف یہی قوم تھی۔ اور نبوت و حکومت کے دونوں شرف و اعزاز صرف اسی قوم کو نصیب ہوئے تھے۔ اور اس کے علاوہ بھی اس کو ایسے انعامات سے نوازا گیا تھا جو اس کے سوا کسی اور قوم کے حصے میں نہیں آئے۔ مگر انہوں نے اس کا حق ادا کرنے کی بجائے کفران نعمت ہی سے کام لیا۔ جس کے نتیجے میں ان کو دینی امامت و پیشوائی کے شرف عظیم اور مقام رفیع سے معزول و محروم کر کے ان کو ہمیشہ کے لئے ذلت و رسوائی کے ہولناک گڑھے میں ڈال دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نبوت و حکومت اور کتاب ہدایت کے ان عظیم الشان شرفوں سے اس قوم کو قدرت نے اپنی فیاضیوں سے نوازا۔ مگر انہوں نے ناشکری ہی کی جس کے نتیجے میں آخرکار ان پر ذلت و رسوائی کا ٹھپہ لگ گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 45:1731 بنی اسرائیل کے حسد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سب کے باوجود اور علم کی روشنی آجانے کے بعد انہوں نے اختلاف کیا محض آپس کے حسد اور ضد وعناد کی بنا پر "۔ سو آپس کی ضد اور حسد ایسی خطرناک اور ہولناک بیماری ہے جو انسان کو اوندھا کر کے رکھ دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ حق و ہدایت کے نور اور علم کی روشنی کے کھلے اور واضح دلائل اور ثبوت آجانے کے باوجود اندھا بن جاتا ہے اور ضلالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پاس علم حق کی روشنی پہنچ چکی تھی مگر انہوں نے اس کے باوجود اس میں اختلاف کیا۔ اور یہ اختلاف کسی معقول وجہ پر مبنی نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ محض ان لوگوں کے آپس کے حسد اور باہم ضدم ضدا کا نتیجہ تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس طرح وہ لوگ حق و ہدایت کے نور سے محروم ہو کر ضلالت و گمراہی کے انتہائی ہولناک گڑھے میں جا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال کے ہر شائبے سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
32 اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ تمہارا رب قیامت کے روز ان کے ان تمام اختلافات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں یہ لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر پڑے رہے تھے "۔ یعنی عملی طور پر۔ اور نتیجہ وانجام کے اعتبار سے۔ ورنہ علم وبیان کے اعتبار سے تو یہ فیصلہ وحی کے ذریعے اور کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اس دنیا میں بھی فرمایا دیا گیا ہے۔ اور حق و حقیقت کو طرح طرح سے اور دو ٹوک طریقے پر واضح فرما دیا گیا ہے۔ مگر اس کو ان لوگوں نے تسلیم نہیں کیا۔ سو اب عملی طور پر اور آخری فیصلہ اسی دن ہوگا جو کہ فصل وتمیز اور بدلے اور جزا و سزا کا دن ہے۔ جب یہ لوگ وہاں پر اپنے کئے کرائے کے انجام کو پہنچ کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو فصل وتمیز کے اس روز واضح ہوجائے گا کہ کون کس حد تک حق بجانب تھا اور کس حد تک اس میں ضد اور ہٹ دھرمی کے محرکات کارفرما تھے۔ پس جو لوگ اپنے بغض و حسد اور عناد و ہٹ دھرمی کی بنا پر حق بات کو سننے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ان کا معاملہ اسی یوم فصل پر چھوڑ دیا جائے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 45:1833 منکرین کا دین محض اتباع ہویٰ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتے "۔ یعنی جو علم نہیں رکھتے حق اور حقیقت کا۔ جس کے نتیجے میں وہ غافل و بےفکر ہیں اپنے رب کی معرفت اور اس کے حقوق سے۔ اور وہ جاہل ہیں اپنے فرائضِ بندگی سے۔ اور اس طرح وہ حق اور حقیقت کی روشنی سے محروم ہو کر بہائم کی زندگی گزار رہے ہیں اور خواہشات نفس کی تحصیل و تکمیل ہی ان کا اصل مطمح نظر اور مقصود حیات ہے۔ سو ایسے بندگان ھویٰ و ہوس کی پیروی سراسر ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ لہذا ایسوں کی پیروی کبھی نہیں کرنا۔ اگرچہ وہ ظاہری اعتبار سے اور دنیاوی چمک دمک کے لحاظ سے کتنا ہی کچھ کیوں نہ رکھتے ہوں۔ اور کتنی ہی ڈگریاں سندیں اور ڈپلومے انہوں نے کیوں نہ اٹھا رکھے ہوں کہ وہ بہرحال ہلاکت و تباہی کی راہ پر گامزن ہیں ۔ والعیاذ باللّٰہِ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ جَل جَلَالُہٗ ۔ سو وحی خداوندی کے علم سے محروم لوگوں نے جو بھی طور طریقے اپنا رکھے ہیں وہ سب کے سب دراصل خواہشات ہی کی پیروی کرتے ہیں اگرچہ ایسے لوگ اپنے ان طور طریقوں کو دین ہی کا نام دیتے ہوں کہ راستے اصل میں دو ہی ہیں۔ ایک ھدیٰ کا راستہ جو وحی خداوندی سے ملتا ہے اور دوسرا ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ جو وحی خداوندی کے نور سے عاری اور محروم لوگ اپناتے ہیں۔ اور وحی خداوندی اب دنیا میں صرف اور صرف قرآن حکیم ہی کی صورت میں موجود ہے۔ پس قرآن حکیم کے سوا جو بھی راستہ کسی نے اپنایا وہ اصل میں خواہشات نفس ہی کی پیروی ہے۔ اس لیے یہاں پر رسول اکرم ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ جو واضح شریعت وحی کے ذریعے آپ کو اپنے رب کی طرف سے عطا فرمائی گئی ہے اسی کی پیروی کرنا۔ اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنا جو علم نہیں رکھتے۔ اور علم نہ رکھنے والے خواہشات کے ان پیروکاروں میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین سب شامل ہیں کہ مشرکین اگرچہ دین ابراہیمی کی پیروی کا دعویٰ کرتے تھے مگر نور وحی سے وہ بہرحال محروم اور شرک کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اور ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کی کوئی روشنی سرے سے تھی ہی نہیں۔ اور یہود و نصاریٰ کے پاس آسمانی کتابیں اگرچہ آئی تھیں لیکن انہوں نے اس کو اس قدر بگاڑ کر اور بدل کر رکھ دیا تھا کہ اصل حقیقت بالکل گم ہو کر رہ گئی۔ دین توحید کو انہوں نے دین شرک بنادیا۔ اور وہ لوگ محض اپنی خواہشات کے پیرو بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 45:1934 ظالم آپس میں ایک دوسرے کے دوست : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں "۔ جو اپنے ظلم و بغاوت کے رشتے کے مطابق ایک دوسرے سے دوستی رکھتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ حقیقت میں اپنا ہی نقصان کرتے اور ایک دوسرے کو راہ حق و ہدایت سے دور لے جاتے اور محروم کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالَّذِیْنَ کَفَرَوُآ اَوْلِیائُہُُمُ الَّطاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النور الی الظُّلُمَاتِ } ۔ (البقرۃ : 257) مگر ان کو اس کا احساس و شعور نہیں۔ یہ تو ہوا ان کا حال اس دنیا میں۔ اور آخرت میں ان کا کوئی یار و مددگار ہوگا ہی نہیں ۔ { وَمَا لَہُمْ مِنْ نَّاصِرِیْنَ } ۔ (آل عمران : 22) ۔ کیونکہ مالک حقیقی سے انہوں نے لو لگائی نہیں تھی۔ باقی جو دوستیاں انہوں نے دنیا میں قائم کر رکھی تھیں، وہ سب اس روز دشمنیوں میں بدل جائیں گی۔ اور صرف ایک دوستی وہاں کام آئے گی جو کہ ایمان اور تقویٰ کی اساس و بنیاد پر قائم ہوگی۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { الاخِلَّائُ یَؤْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ۔ (الزخرف : 67) تب حقیقت حال پوری طرح کھل کر سب کے سامنے آجائے گی۔ سو جو دوست انہوں نے دنیا میں بنا رکھے تھے وہ وہاں پر ان کے کچھ کام آ نہیں سکیں گے۔ بلکہ ظلم و بغاوت کے رشتے کے ساتھ انہوں نے جو دوستیاں دنیا میں قائم کی تھیں وہ سب وہاں پر ان کے لئے الٹا باعث عذاب اور موجبِ غم بن جائیں گی۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ظالم لوگ خواہ کتنا ہی زور لگائیں ان کی کوئی پروا کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ خداوند قدوس کے حضور تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔ جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے تم پر ڈالی ہے اس کی پرسش بہرحال تم ہی سے ہونی ہے، ان سے نہیں۔ اس لیے اللہ کا جو حکم تمہیں دیا جا رہا ہے اسی کی تعمیل اور پیروی کرو۔ یہ لوگ خواہ مخالفت کے ذریعے تمہیں دبانے کی کوشش کریں خواہ ہمدردانہ اور خیر خواہانہ انداز میں نرم کرنا چاہیں کسی بھی صورت میں نہ ان کی بات ماننی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی پروا کرنی ہے۔ اور ان ظالموں نے حق کے مقابلے کیلئے آپس میں جو گٹھ جوڑ کرنا ہے اس سے بھی خوف کھانے اور ہراساں ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ اپنے ایماندار اور تقویٰ رکھنے والے بندوں کا ولی اور کارساز خود ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پھر انکو کسی سے ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا ضرورت ؟
35 اللہ کارساز ہے پرہیزگاروں کا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کارساز اور دوست و مددگار ہے پرہیزگاروں کا "۔ جو انہیں اس دنیا کے ہر موڑ پر بھی اپنی رحمت و عنایت سے نوازتا ہے اور انہیں کفر و ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان و ہدایت کے نور کی طرف لاتا ہے ۔ { اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ } ۔ (البقرۃ : 257) اور اس دنیا کے بعد بھی اس کی عنایتیں ہر مرحلے پر ان کے شامل حال رہیں گی ۔ { نَحْنُ اَوْلِیَآئُ کُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الاٰخِرَۃِ } ۔ (حٰمٓ السجدۃ : 30) ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان وتقویٰ کی دولت جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنتی ہے ۔ فَالْحَمدْ ’ُ لِلّٰہِ الّذِیْ شَرَّفْنَا بٰھذِہِ النِّعَمَۃِ بِمَحْضِ مِنِّہٖ وَکَرمِہٖ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیٰنَ ۔ فَزِدْنَا اَللّٰھُمَّ مِنْھَا وثَبِّتْنَا عَلَیْھَا وَعَلٰی صِرَاطِکَ الْمُستَقِیْمَ وَخُذْ بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ جُبُّکَ وَالرِّضَا ۔ سو جب ایمانداروں کا ولی و دوست اور کارساز و کار فرما اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ان کو کسی سے ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ پس وہ اس کے بھروسے پر اس کی راہ میں اور اس کے دین کیلئے کام کرتے جائیں۔ وہ ان کی کارسازی کیلئے کافی ہے۔ اور جن کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی مدد ہو کس کی طاقت ہے کہ وہ انکو کوئی نقصان پہنچا سکے ؟۔ فالحمد للہ جل وعلا ۔ فکن اللہم لنا ولا تکن علینا -