45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsسراج البیان

Ayah 45:1
Ayahs 45:2–9

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو غالب حکمت (ف 1) والا ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں مومنوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں اور جتنے جانور وہ بکھیرتا ہے ۔ ان میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات دن کے بدلنے میں اور جو اللہ نے آسمان سے رزق اتارا ۔ پھر اس سے زمین کو اس کے مرگئے پیچھے جلایا اس میں اور ہواؤں کے پھرنے میں عقل مند لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم ٹھیک تجھے پڑھ کر سناتے ہیں پھر یہ لوگ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کونسی حدیث پر ایمان لائینگے

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار کے لئے خرابی ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ اللہ کی آیتیں جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں سنتا ہے پھر تکبر سے (کفر پر) اڑارہتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں سو تو اسے دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں میں سے کوئی شئے معلوم کرتا ہے تو اسے ٹھٹھے میں اڑاتا ہے ایسیوں ہی کے لئے ذلت کا عذاب ہے

ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی کرینگے ۔ مذہب کے حقائق زیادہ روشنی میں آتے جائیں گے ۔ حل لغات :۔ فارتقلب ۔ پس انتظار کیجئے ۔ ارتقاب سے ہے ۔
Ayahs 45:10–12

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے پرے جہنم ہے اور جو انہوں نے کمایا ان کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ اور نہ وہ کام آئیں گے جنہیں اللہ کے سوا انہوں نے کارساز نہ ٹھہرایا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب (ف 1) ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہوئے ان کے لئے سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کیا ، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل روزگار تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر کرو

قرآن صحیفہ رشدوہدایت ہے 1: نضر بن حارث ایک شخص تھا ۔ جس کو حضور ﷺ سے سخت عداوت تھی ۔ یہ عجمی قصے اور افسانے خرید لاتا ۔ اور جب حضور ﷺ لوگوں کو قرآن سناتے تو وہ یہ کہانیاں لے بیٹھتا ۔ اور لوگوں سے کہتا ۔ کہ قرآن سے تو یہ یہی باتیں زیادہ دلچسپ ہیں ۔ ان کو سنو ، اور قرآن کی طرف توجہ نہ کرو ۔ اس کا خیال تھا ۔ کہ یہ قرآن کی موثریت کا جواب ہے ۔ ان آیات میں اسی قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے ۔ کہ جو جھوٹے قصے سنتے ہیں ۔ اور لوگوں کو لغو اور جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں ۔ قرآن کی آیتوں کو بوجہ کبر و غرور سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان لوگوں کے لئے خدا کے ہاں درد ناک عذاب ہے ۔ جو ان کے لئے نہایت درجہ رسوا کن ہے ۔ جو اپنی کیفیات کے لحاظ سے عظیم ہے ۔ پھر لطف یہ ہے کہ جن لوگوں پر آج ان کو اعتماد ہے ۔ کہ وہ وہاں ان کی نجات اور مخلصی کا باعث ہوں گے ۔ وہ وہاں ان سے قطعی بیزاری کا اظہار کرینگے ۔ یا ان کے ساتھ جہنم میں مبتلائے عذاب ہوں گے ۔ یہ قرآن صحیفہ رشدوہدایت ہے ۔ یہ زندگی کا پروگرام ہے ۔ اس میں تمام انسانی مشکلات کو سلجھایا گیا ہے ۔ اور اس قابل ہے ۔ کہ ہر زمانے کے لوگ اس کو اپنا دستورالعمل قرار دیں ۔ اس لئے جو شخص اس کا انکار کرتا ہے ۔ وہ صرف ایک کتاب کا انکار نہیں کرتا ۔ بلکہ ایک نظام حیات کی مخالفت کرتا ہے ۔ جو خیروصالح کا نظام ہے ۔ اور ایک صحیح لائحہ عمل کو ماننے سے انکار کرتا ہے ۔ جس پر سعادت انسانی کا انحصار ہے ۔ اس لئے یہ پوری انسانیت کا دشمن ہے ۔ اور پوری ہیئت اجتماعیہ کا مخالف اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جرم اس قابل ہے ۔ کہ اس پر شدید ترین سزادی جائے ۔ حل لغات : ۔ بعداللہ ۔ مضاف محذوف ہے ۔ یعنی اللہ کی توضیحات کے بعد الحاک ۔ جھوٹا ۔ دوزغ گو یصر ۔ اضرار سے ہے ۔ یعنی جاننے کے باوجود گناہوں پرجما رہتا ۔ اڑا رہنا ۔
Ayahs 45:13–14

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اسی نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگارکھا ہے ۔ بیشک اس میں دھیان (ف 1) کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

تو ایمانداروں کو کہہ کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے ان کو معاف کریں ۔ تاکہ اللہ ایک قوم کو ان کی کمائی کے موافق سزا دے

قرآن کا عقلمندوں سے خطاب ہے 1: قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے لئے ان لوگوں کو منتخب کرتی ہے ۔ جو صاحب غوروفکر ہیں ۔ وہ ان کو دعوت دیتی ہے ۔ جو مظاہر کائنات پر فکروتدبیر کی نظریں دوڑائیں ۔ اور دیکھیں ۔ کہ کہاں تک اسلامی حقائق فطرت کے مطاق اور موافق ہیں فرمایا کہ تم جن لوگوں کی پرستش کرتے ہو ۔ وہ قطعاً اس احترام کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ پوجا کے لائق وہ ذات ہے جس نے تم کو تسخیر بحر کے علوم سے بہرہ ور کیا ہے جن کی وجہ سے تم سمندر کے سینہ پر کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو ۔ اور اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی تلاش میں کہاں سے کہاں نکل جاتے ہو ۔ اور وہ ہے جس آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے ۔ کیا ان حقائق میں تمہارے لئے فکروتدبیر کا سامان نہیں ؟ ۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے نیک کام کیا تو اپنے ہی (ف 2) لئے ہے اور جس نے بدی کی تو (اس کا وبال) اسی پر ہے ۔ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹو گے

ف 2: مخالفین میں کچھ ایسے ذلیل لوگ تھے ۔ جن میں یہ جرات تو نہ تھی ۔ کہ اسلام کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک دیں ۔ مگر محض تسکین نفس کے لئے وہ مسلمانوں کو گالیاں دے کر دل کے پھپھولے پھوڑ لیتے ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے بلند اخلاق کے نام پر کہا ہے ۔ کہ وہ ان حقیر اور مذبوحی حرکات کو بالکل ناقابل اعتناء سمجھیں ۔ اور قطعاً ان سے تعرض نہ کریں ۔ حل لغات :۔ من فضلہ ۔ مال و دولت کو اس سے تعبیر کیا ہے تاکہ مسلمان ازراہ رہبانیت اس کے حصول میں کوتاہی نہ کریں ایام اللہ ۔ خدا کے وہ دن جن میں وہ مجرموں کو سزا دیتا ہے ۔
Ayahs 45:16–20

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت دی اور اچھی چیزیں کھانے کو دیں ۔ اور تمام جہانوں پر انہیں فضیلت (ف 1) بخشی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کے بارہ میں ہم نے انہیں روشن دلائل دیئے ، پھر پھوٹ جو ڈالی تو علم آنے کے بعد آپس کے حسد سے ڈالی ۔ بیشک تیرا رب قیامت کے ان میں فیصلہ کرے گا ۔ جس بارہ میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تجھے دین کی ایک شریعت پر کردیا ۔ تو تو اسی شریعت (یعنی) راستے کا تابع رہ ، اور نادانوں کی خواہشوں پر نہ چل

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

وہ اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہ آئیں گے اور ظالم لوگ تو بعض بعض کے دوست ہیں ۔ اور اللہ متقیوں کا دوست ہے

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لئے سوجھ کی باتیں اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

بنی اسرائیل پر انعامات 1: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ہر طح کی نعمتوں سے مشرف فرمایا تھا ۔ انہیں تورات دی ۔ خاص لقمہ اور فصیل خصومات کی قابلیت بخشی ۔ اور نبوت کے فیض عمومی کو ان میں جمادی رکھا ۔ فراعنہ کے مال و دولت کا ان کو وارث بنایا ۔ اور من وسلویٰ ایسی لطیف چیزیں بلا محنت اور بغیر طلب کے ان کو دیں ۔ اور اس زمانے کے لوگوں پر ان کو فضیلت دی ۔ اور پھر اصل دین اور نفس شریعت سے ان کو آگاہ کیا ۔ ان کو بتایا ۔ کہ جہاں یہ صداقتیں پائی جائیں تم تسلیم کرو ۔ اور بغیر ادنی تامل اور جھجک کے اللہ کے پیغام کے سامنے جھک جاؤ۔ مگر ہوا یہ کو جب حضور ﷺ تسریف لائے ۔ اور آپ نے شریعت موسیٰ کی تکمیل کی ۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نبوت کے دروازوں کو بند کردیا ۔ اور فرمایا ۔ کہ میں وہی روح لے کر آیا ہوں ۔ جو سابقاً قوموں اور ملتوں کے لئے باعث حیات ثابت ہوئی ۔ میرے پاس وہی قانون اور فقہ ہے ۔ جو صحف انبیاء میں مذکور ہے ۔ مگر آخری تفصیلات کے ساتھ ، تم لوگ اللہ کے انداز بیان سے واقف ہو ۔ اس لئے تمہارا فرض ہے ۔ کہ مجھ پر ملانے میں سبقت کرو ۔ اور اپنی پاک نفسی اور مذہب شناسی کا ثبوت دو ۔ اور اللہ کی نعمتوں کا عملاً شکرادا کرو ۔ تو انہوں نے محض اس جان اور حسد میں کہ حضور ﷺ نے یہ باتیں کیوں کہی ہیں ۔ انکار کردیا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبوت محض بنی اسرائیل سے مختص ہے ۔ اور بنی اسماعیل کو یہ استحقاق نہیں ہے ۔ کہ وہ اس منصب جلیل کے عامل ہوسکیں ۔ فرمایا ۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن بتائیں گے ۔ کہ تمہارے مزعومات غلط تھے ۔ اور اسلام ہی ایک ایسا مذہب تھا ۔ جس کے ماننے والے آج میرے انعامات کے وارث ہیں ۔ حل لغات :۔ الحکم ۔ حکمت ۔ علم ۔ معاملات میں قطع عداوت کا سلیقہ ابن الامر ۔ یعنی نفیس دین ۔ اور اصل دین شریعۃ ۔ اسلوب ۔ ہدایت ۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

وہ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں کیا ایسے سمجھتے ہیں ۔ کہ ہم انہیں ان کے برابر کردیں گے ۔ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ۔ ان سب کا مرنا جینا ایک سا ہوگا بڑے دعویٰ (ف 1) ہیں جو وہ کرتے ہیں

پیغمبر ﷺ تابع عوام نہیں ہوتا ! 1: حضور کو بتایا ہے ۔ کہ آپ شریعت موسوی کی آخری کڑی ہیں ۔ اور اصل دین اور عین امر کے حامل ہیں ۔ اس لئے یہ جاہل اور حقائق مذہب سے ناآشنا لوگ آپ سے یہ توقع نہ رکھیں ۔ کہ آپ ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے ۔ کیونکہ پیغمبر کا یہ منصب نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کے جذبات کو ٹٹولے ۔ اور ان کے خیالات و افکار کی اطاعت کرے ۔ وہ لوگوں کے مزعومات کی قطعاً پرواہ نہیں کرتا ۔ وہ حق وصداقت کی تعلیم دیتا ہے ۔ کامل راہ نما ہوتا ہے ۔ لوگوں کے پیچھے پیچھے نہیں دوڑتا ۔ اور دنیاوالوں سے بالکل بےنیاز ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کا پیغام خالصاً اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اور اس میں کسی شخص کو یا کسی شخصی نظریہ کو احترام کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ۔ اور نہ یہ کوشش کی جاتی ہے ۔ کہ اس کی تعلیمات عوام کے لئے قابل پذیرائی ہوں ۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو جیسا چاہیے پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص (ف 2) اپنے کئے کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

ف 2: قرآن کی ایک حیثیت یہ ہے ۔ کہ اس میں غیر مسلموں کے لئے بھی بلالحاظ دین اور بلاتفریق مذہب عقل و دانش کا وافرذخیرہ موجود ہے ۔ اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ جو لوگ کا ملا اس کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے اس میں زندگی کے تمام شعبوں پر مشتمل ہدایت اور راہنمائی ہے ۔ اور ایسے ذرایع ووسائل کا ذکر ہے ۔ جو منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں ۔ حل لغات :۔ اجترحوا ۔ اجتراح سے ہے ۔ جس کے معنے اکتساب کے ہیں ۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو جس نے اپنی خواہش (ف 1) کو اپنا معبود ٹھہرایا اور جانتا بوجھتا اللہ نے اسے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگائی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈالا پس اللہ کے بعد کون ہے کہ اسے ہدایت کرے ؟ پھر کیا تم سوچتے نہیں ؟

خطرناک روگ 1: روحانی طور پر سب سے بڑا مرض اور سب سے زیادہ خطرناک بیماری احجاب نفس اور غرور ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان اللہ کے احکام کو بھی عزت واحترام کی نگاہوں سے نہیں دیکھتا ۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ میرا محدود دماغ اس قابل ہے ۔ کہ تمام مصالح وحکم کا بیک وقت احاطہ کرسکے ۔ ازیس کہ مجھ کو کسی دوسرے کی اطاعت کی قطعاً ضرورت نہیں ۔ میں خود دانا اور سمجھ دارہوں ۔ معاملات میں بصیرت نامہ رکھتا ہوں ۔ اور خیر وشر میں جو فرق ہے ۔ اس کو بخوبی محسوس کرتا ہوں ۔ اس لئے مذہب اور دین اگر میرے عدیے کے موافق ہے ۔ تو درست ہے ۔ اور اگر میرے عندیے میں بعد اس میں موافق نہیں ہے ۔ تو پھر وہ درست نہیں ۔ کیونکہ میرے افکار و تصورات میں قطیت وحتمیت کی پوری استعداد موجود ہے ۔ ان میں کسی غلطی کا امکان نہیں ۔ مکہ والوں کی بالکل یہی ذہنیت تھی ۔ اور اسی روحانی روگ میں مبتلا تھے ۔ کہ ہمارے مزخرافات دینی سی قرین عقل و دانش ہیں ۔ اپنی خواہشات اور خیالات کو انہوں نے خدا سمجھ رکھا تھا ۔ اور ان کا احترام اسی طرح کرتے تھے ۔ جس طرح خدا کے احکام کا احترام کیا جاتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ یہ لوگ باوجود جاننے اور علم رکھنے کے بھی گمراہ ہیں ۔ کیونکہ از راہ کبروغرور یہ حق کی آواز کو سننے کے لئے تیارہی نہیں ۔ اور نہ اسکے لئے آمادہ ہیں ۔ کہ اگر کچھ سن پائیں ۔ تو اس کو دل میں جگہ دیں ۔ یہ عمداً آنکھیں بند کرلیتے ہیں ۔ تاکہ واقعات اور حالات کی زندہ شہادت اور گواہی ان کو ایمان وایقان پر مجبور نہ کردے ۔ اور جب مرض اس منزل پر پہنچ جائے ۔ اور اللہ تعالیٰ توفیق ہدایت چھین لے ۔ تو پھر صحت کا حصول مشکل ہوجاتا ہے ۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اور زندگی نہیں ہے صرف ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں سوائے زمانہ (ف 2) کے اور کوئی نہیں مارتا اور ان کو اس کی بھی کچھ خبر نہیں نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں

ف 2: یہ ان کے ملحدانہ عقائد کی تشریح ہے ۔ کہ ان میں سے بعض لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ سوائے مادی تصورات کے اور دنیا میں کسی چیز کا وجود نہیں ۔ یہ زندگی یہیں تک ہے ۔ اس کے بعد محاسبہ ومکافات کا اصول ناقابل فہم ہے ۔ اور ہماری موت وحیات میں صرف زمانہ اثر انداز ہے فرمایا : کہ ان عقائد کے لئے یہ کسی علمی تیقن کو پیش نہیں کرسکتے ۔ ان کے پاس دہریت کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ۔ یہ محض حقائق کے ساتھ ایک نوع کا سوء ظن ہے ۔ اور تخمین و قیاس ہے ۔ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ۔ ایک رب کائنات کو تسلیم کیا جائے ۔ جو اس کارگاہ عظیم کو اپنی حکمتوں اور قدرتوں کی بناء پر چل رہا ہے ۔ حل لغات :۔ اضلہ اللہ ۔ یعنی اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے اس سے توفیق ہدایت چھین لیں ختمہ مہر کردی ۔ یہ تعبیر ہے ۔ سامعہ ومقلب کی اس کیفیت سے جس کے بعد ان میں قبولیت کی استعداد باقی نہیں رہتی غشوۃ ۔ حجاب کبر و غرور الدھر ۔ زمانہ ۔
Ayahs 45:25–28

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں ۔ تو ان کا یہی جھگڑا ہوتا ہے کہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (ف 3) لے آؤ

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

تو کہہ اللہ تمہیں جلاتا ہے ، پھر تمہیں مارتا ہے ۔ پھر تمہیں قیامت کے دن جس میں شبہ نہیں جمع کریگا ۔ لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن جھوٹے خراب ہونگے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تو ہر امت کو زانوں پر بیٹھا دیکھے گا ۔ ہر امت اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی ۔ جیسا تم کرتے تھے ۔ آج بدلہ پاؤ گے

ف 3: یعنی جب ان کے سامنے حشرونشر کی کیفیات سے متعلق دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ۔ کہ ہم تو جب مانیں گے ۔ جب ہمارے سامنے آباؤاجداد آکر کھڑے ہوجائیں ۔ اور رونما ہوکر اس عقیدے کی صداقت پر گواہی دیں ۔ فرمایا : کیا زندگی اور موت کا ردوبدل تم روزانہ ملاحظہ نہیں کرتے ۔ کیا یہ نہیں دیکھتے ۔ کہ تم میں لاکھوں انسان ہر روز کتم عدم سے عالم وجود میں آتے ہیں ۔ اور لاکھوں زندگی کی دنیا سے موت کی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔ کیا یہ اس بات کا اہم ترین ثبوت نہیں ۔ کہ سب لوگوں کو اسی طرح ایک وقفہ زندہ ہونا ہے ۔ اور خدا کے حضور میں اپنے عمال کا حساب پیش کرنا ہے ۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب ہے تم پر سچ بولتی ہے ۔ جو کچھ تم کرتے (ف 1) تھے لکھواتے جاتے تھے

کامیابی کا اصلی مفہوم 1: قرآن حکیم مکہ کے مدہوش لوگوں کو کہتا ہے ۔ کہ یہ ضروری نہیں کہ تمہاری دولت مندی ہمیشہ تمہارا ساتھ دے ۔ اور تم اپنی بداعمالیوں پر دائما فخر کرتے رہو ۔ بلکہ آپ وقت آئے گا ۔ جب تم نہایت تضرع ولحاح کے ساتھ زانو کے بل گر پڑو گے اور اپنے نامہ اعمال کو دیکھو گے ۔ اس وقت تم سے کہا جائے گا ۔ کہ آج مکافات کا دن ہے ۔ آج تم سے تمہاری مدہو ہشوں اور غفلتوں کا انتقام لیا جائے گا ۔ آج تم کو بتایا جائے گا ۔ کہ غرور ونخوت کا انجام کیا ہے ۔ یہ نامہ اعمال اور صحیفہ کردار بولے گا ۔ اور ایک ایک کرکے تمہارے گناہوں کو شمار کرتا جائے گا ۔ حل لغات :۔ جاثیہ ۔ زانو کے بل ۔
Ayahs 45:30–37

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انہیں ان کا رب اپنی رحمت (ف 1) میں داخل کریگا یہ جو ہے یہی بڑی مراد ملنی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے (ان سے کہا جائے گا) کہ کیا تم پر ہماری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں ۔ پھر تم نے تکبر کیا اور تم گنہگار لوگ ہورہے ؟

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا گیا کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور قیامت جو ہے اس میں شک نہیں تو تم نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے ہم ایک ضعیف ساگمان کرسکتے ہیں ۔ اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جو کام انہوں نے کئے تھے ۔ اس کی بدیاں ان پر ظاہر ہوں گی ۔ اور جس پر ٹھٹھا کرتے تھے وہ انہیں گھیر لے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلائیں گے جیسے تم اپنے اس دن کی ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا ٹھہرایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا سو آج وہ دوزخ سے نکالے نہ جائینگے اور نہ ان سے توبہ طلب کی جائے گی

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب اور سارے جہان کا رب ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کو بڑائی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے

ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں سمیت کتم عدم میں جا منہ چھپائے گ ۔ تم نے بڑی بےنیازی کے ساتھ کہا تھا ۔ ہم نہیں جانتے ۔ قیامت کیا بلا ہے ۔ ہمیں اس کے واقع ہونے میں قطعی شبہ ہے آج تمہارے گناہ رونما ہوکر تمہارے سامنے ہیں ۔ اور تمہارے لئے تکلیف واذیت کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ اور تم کو تمہارے مذاق اور تمسخر کی پوری پوری سزا مل رہی ہے ۔ آج جس طرح تم لوگوں نے قیامت کو بھلا رکھا تھا ۔ اور آج کے متقضیات کی پرواہ نہیں کی تھی ۔ تمہیں فراموش کردیا جائے گا ۔ اور قعقا نظر عنایت والتفات سے نہیں دیکھا جائے گا ۔ آج کا دن تمہارے لئے سزا کا دن ہے ۔ تم نے اس دن کا انکار کیا تھا ۔ آج دیکھ لو ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ آج وہ لوگ کہاں ہیں ! جن کی نصرت اور اعانت پر تمہیں بھروسہ تھا ۔ یہ سزا اس بناء پر ہے ۔ کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو استہزاء کے ساتھ سنا ۔ اور اس دنیا کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی ۔ اور مغرور ہوئے ۔ حل لغات :۔ حل لغات :۔ مجرمین ۔ گناہ گار ما اشاعۃ ۔ قیامت ۔ متعین گھڑی وحانی ۔ احاطہ کرلے گا ۔ گھیر لے گا ۔ نفسکم ۔ ترک التفات کریں گے الکبریآء ۔ عظمت ۔ و رفعت ، بڑائی ۔