45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 45:1

حٰمٓۚ Open ayah 45:1 in the Quran reader

حا۔ می ... م

حا… می… م حروف مقطعات میں سے ہے 1 ؎ حروف مقطعات کی بحث پیچھے سورة البقرہ کی پہلی آیت کے تحت واضح طور پر کردی گئی ہے جس کے بار بار دہرانے کی اب ضرورت نہیں اور جن سورتوں کے شروع میں (حم) کے حروف آئے ہیں یہ کل سات سورتیں ہیں جن میں اس سورت کا نمبر 6 ہے اور ابھی ایک سورت کے بعد انہی حروف سے شروع ہو رہی ہے اور ان سورتوں کو ” حوامیم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ان سب سورتوں میں زمانہ اور ممضون کا قریب موجود ہے اور مضمون کی یکسانیت پائی جاتی ہے جیسا کہ پیچھے تعارف میں ہم نے بیان کردیا ہے۔
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ، جو زبردست حکمت والا ہے

یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے جو زبردست حکمت والا ہے 2 ؎ مکہ کے لوگوں کو اس بات سے بھی انکار تھا کہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی گھڑی ہوئی ہے اور اس کے کچھ حصے دوسرے لوگوں نے آپ سے بیان کیے ہیں۔ اس لیے بار بار ان کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہ بات تمہاری سراسر بہتان اور افتراء ہے اگر یہ گھڑ کر لائی گئی ہے اور کسی انسان کی یہ تصنیف ہے تو پھر تم بھی ایک کتاب اسی طرح کی گڑھ کرلے آئو اگر ساری نہیں تو اس کا کچھ حصہ ہی سہی۔ انہوں نے اس کی ہمت بھی نہ کی اور نہ ہی وہ کرسکتے تھے لیکن اپنی ہٹ دھرمی کے باعث اس کو اللہ کی کتاب تسلیم بھی نہیں کیا اس لیے بار بار سورت کے شروع میں ان کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر ان کو باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے کان اچھی طرح اس سے آشنا ہوجائیں کہ یہ کتاب اللہ ہے کوئی اس کو مانتا ہے یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جو اس کو مانتا اور تسلیم کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا اور بناتا ہے اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو اس کی سچائی کو قبول نہیں کرتا وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے بہرحال تمہاری کامیابی اور کامرانی کا راز اس میں مخفی ہے کہ تم اس حقیقت کو مان لو اور تسلیم کرلو اس میں تمہارا فائدہ ہے اگر تم سمجھو۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں مومنوں کے لیے (کتنی ہی) نشانیاں ہیں

3 ؎ سب کو معلوم ہے اور سب اس بات کو معترف ہیں کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ رب کریم ہے جو اپنی رحمت کی چادر کو دور دور تک پھیلاء ہوئے ہے اور اس نے اپنی رحمت کے تقاضے کے مطابق رحمۃ للعالمین ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ لوگ غفلت کی چادر تانے سوتے رہیں اور عیش و عشرت کا گھن ان کی تعمیری صلاحیتوں کو مسلسل چاٹتا رہے اور فسق وفجور کے بدنما داغ بدستور ان کے چہروں کو برابر مسخ کرتے رہیں۔ اس رب کریم نے اس کائنات کے اندرمختلف نشانیاں رکھ دی ہیں جن پر ہر انسان غوروفکر کرکے اپنی اصلاح خود کر کستا ہے اگر وہ کرنا چاہے اور یہ نشانیاں آفاق وانفس میں موجود ہیں اور اللہ کے کلام قرآن کریم میں موجود ہیں اور اہل ایمان اہی ان نشانیوں کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور تسلیم کرنے یا نہ کرنے میں اس کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی کو مجبورکرکے بالکل نہیں منواتا بلکہ وہ صرف اور صرف غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور بلاشبہ جو شخص بھی غوروفکر سے کام لیتا ہے وہ ان کو تسلیم کرتا ہے اور جو مورکھ منہ اٹھائے چل دیتا ہے اور ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی کردیتا ہے اس کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ اندھے ، بہرے اور گونگے صرف اپنے ڈھانچوں کے اعتبار سے انسان نظر آتے ہیں حقیقت میں وہ الانعام نہیں تو کالانعام بہرحال ضرور ہیں بلکہ سچ پوچھو تو ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں اور جانوروں میں جو اس نے پھیلا رکھے ہیں یقین رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

نشانیاں تو ان کی اپنی پیدائش اور جانداروں کی پیدائش میں بھی موجود ہیں 4 ؎ جو شخص اپنی پیدائش پر غوروفکر کرتا ہے اور ان جانداروں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں تو وہ ہر ایک چیز کو توحید الٰہی کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے پاتا ہے کیونکہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور ان کی فطرت کے مطابق ان کو رزق مہیا کرنے والا اور ان کی فطری ضرورتوں کو پورا کرنے والا صرف اور صرف وہی اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے اگرچہ وہ دیکھا نہیں جاسکتا لیکن یہ ساری چیزیں اس کے موجود ہونے کی دلیل ہیں۔ انسان اپنی پیدائش پر ، اپنے وجود کی ساخت پر ، اپنے اندرودیعت کیے گئے فطری تقاضوں پر ، اپنی ایک ایک حاجت اور ضرورت پر اور پھر ان حاجتوں اور ضرورتوں کے پورا ہونے کے سامانوں پر غور کرے تو اس کی آنکھیں کھل جائیں کہ ان میں سے ہر ایک چیز اور ہر ایک ضرورت کو پورا کرنے والا واحد اللہ ہے اور یہ سب کچھ ایک ہی ہاتھ یعنی قدرت کی کرشمہ سازیاں ہیں تب ہی ساری چزویں ایک دوسرے پر منطبق ہوتی چلی جارہی ہیں اور ان ضرورتوں اور حاجتوں کے پیدا کرنے والے ہی نے یہ سارے سامان بھی پیدا کردیے ہیں انسان کا کام صرف اور صرف تلاش ہے وہ جس کی تلاش کرے گا اور جتنی تلاش کرے گا اور جیسی تلاش کرے گا اس کو ملتا چلا جائے گا اور اس میں انسانی ایجادات و ترقی کا سارا راز رکھ دیا گیا ہے لاریب ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور جب ضرورت کی ہر شے موجو ہے کوئی شے انسان کو خود پیدا نہیں کرنی ہے اور نہ ہی وہ کچھ پیدا کرسکتا ہے ہاں ! اس کا کام ایجاد ہے اور جوں جوں اس کی ضرورت بڑھتی چلی آئی ہیں ایجادات بھی ویسے ہی بڑھتی چلی گئی ہیں اور اسی طرح آگے جوں جوں ضروریات بڑھیں گی ایجادات بھی بڑھتی چلی جائیں گی اور اس طرح بڑھتے بڑھتے انسان اپنی آخرت کو پہنچ جائے گا جس کے بعد اس کے عمل کا زمانہ ختم ہوجائے گا اور بلاشبہ جزا کا زمانہ شروع ہوجائے گا اس لیے اب بھی اگر کوئی آخرت کو پہنچ جائے گا جس کے بعد اس کے عمل کا زمانہ ختم ہوجائے گا اور بلاشبہ جزا کا زمانہ شروع ہوجائے گا اس لیے اب بھی اگر کوئی آخرت سے انکار کرتا ہے تو وہ اپنا اندازہ خود کرلے کہ وہ اپنی ان ساری ایجادات کے باوجود خود ہی ان کا انکار کیے چلا جارہا ہے کیونکہ اس نے جو کچھ ایجاد کیا ہے ان ایجادات میں ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس نے خود بنائی ہو اور اس کا میٹریل (Material) موجود نہ ہو اس لیے اس کا اندازہ ہوجانا چاہیے کہ خالق حقیقی وہ ذات ہے جس نے اس میٹریل (Material) کو بنایا اور پیدا کیا ہے اور اس کا اگر کوئی کمال ہے تو وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اس نے ان چیزوں کو ترتیب دے لیا ہے اور پھر اس کا اپنا اور اس کی اس عقل کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے جس عقل سے اس نے یہ سب کچھ ترتیب دیا ہے پھر کتنا انجام ناشناس ہے جس نے بہت کچھ ترتیب دیا لیکن اس کے باوجود اپنی حالت ، اپنی عقل کی حالت اور اس میٹریل (Material) کی حالت پر اس نے غورنہ کیا اس کو کہتے ہیں کہ لڑکا بغل میں ڈھنڈورا شہر میں۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں بار بار بیان کیا گیا ہے وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 35 تا 39 ، جلد پنجم سورة النحل کی آیت 3 تا 21 ، جلدہفتم سورة الروم کی آیت 20 تا 22 ، سورة السجدہ آیت 7 تا 9 ، سورة یٰسین کی آیت 71 تا 73 ، سورة الزمر آیت 6 ، سورة ال مومن کی آیت 67 ، 68 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں اور اس رزق میں جو اللہ آسمان سے اتارتا ہے پھر جس سے زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں جو عقل و فکر سے کام لیتے ہیں

رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں بھی نشانیاں موجود ہیں 5 ؎ اب انفس سے آفاق کی طرف مضمون منتقل کیا گیا ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کس طرح نظم وضبط کے مطابق آتے جا رہے ہیں اور کروڑوں سال گزرچکے ہیں اور یہ نظام اتنا پختہ اور اتنا بڑا ہے کہ سارے آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن اس کے باوجود اس میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آرہا اتنے بڑے نظام کو معرض وجود میں لانا جس میں کروڑوں سیاروں ، ستاروں اور سورج و چاند کو باندھ دیا گیا ہے اور ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ خاص قسم کا تعلق موجود ہے اور پھر اس اتنے بڑے نظام کو مسلسل چلاتے رہنا کیا یہ سب کچھ بغیر کسی بتانے اور چلانے والے کے بن گیا اور چل رہا ہے ، کیا اس کو عقل تسلیم کرتی ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کا تقاضا کرتی ہے کہ یقینا اس پورے نظام کا کوئی بنانے اور پھر جلانے والا بھی موجود ہے اور جس نے اس کو بنایا ہے وہی اس کو چلارہا ہے اور ان میں جو کمی بیشی ہوتی ہے وہ کس طرح پورے نظم کے ساتھ جاری وساری ہے ، دن اگر بڑھنا شروع ہوتا ہے تو کس طرح سیکنڈ کی اکائی سے بڑھنا شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ کتنا فرق ڈال دیتا ہے لیکن کبھی ایسا کتنا فرق ڈال دیتا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں وا کہ اب دن دس گھنٹے کا ہو اور دوسرا بارہ گھنٹے کا بلکہ اسی خاص انداز اور ترتیب سے بڑھتا ہے اور خاص اندازے اور ترتیب ہی سے گھٹنا شروع ہوتا ہے اور ایک اندازہ پر جاکر رک جاتا ہے اور واپسی شروع ہوجاتی ہے اور جو کچھ ہوتا ہے بالکل آرام کے ساتھ ، آہستگی کے ساتھ ہوتا ہے اس سے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سارا نظام ایک ہی قادر مطلق کے تحت چل رہا ہے اس میں کوئی بھی دوسرا شریک نہیں ہے اگر اس میں کسی بھی دوسرے کی شرکت ہوتی تو آج سے پہلے کب کا یہ نظام درہم برہم ہوچکا ہوتا اور ایک مدت کی سانجھے کی ہنڈیا چورا ہے میں پھوٹ گئی ہوتی۔ پھر کمال ہے اس ذات کبریا کا جس نے تمہارا سارا رزق آسمان کی بلندیوں میں چھپا رکھا ہے اور تم کو حکم دیا ہے کہ اس زمین سے تلاش کرو وہ تم کو اس سے مل جائے گا اور بلاشبہ ہم اس دنیا سے اس کو تلاش کرتے ہیں اور اپنے حصہ کا رزق حاصل کر رہے ہیں ابھی تک اس زمین کے دفینوں پر بھی ہم کو مکمل اور واضح دسترس حاصل نہیں ہوئی اور آسمان کی طرف بھی انسان کی کوششیں جاری ہوچکی ہیں اور نہ معلوم ابھی وہاں سے ہم کو کیا کچھ حاصل ہونا ہے یا وہاں کی مخلوق کے پاس کیا کچھ محفوظ پڑا ہے جس کو اس انسان کی انتظار ہو رہی ہے۔ ابھی تک تو آسمان ہی کو حکم ہوتا ہے تو وہ زمین کی طرف ہمارے حصہ کو منتقل کرتا چلا آرہا ہے اور ان ہوائوں کے ذمہ کتنے کتنے بڑے کام لگادئیے گئے ہیں اور وہ کس طرح کاموں کو سرانجام دے رہی ہیں کہ پہاڑوں سے بھی بھاری بادلوں کو دھکیلتے ہوئے اِدھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر چلائے جاتی ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے آناً فاناً ان کو اتنا بلند کردیتی ہیں کہ خلا میں بھی وہ کہیں نظر نہیں آتے اور اربوں کھربوں ٹن پانی کو فضا میں اس طرح بخارات بناکر رکھ دیتی ہیں کہ اکس کی نمی کو بھی زمین تک نہیں پہنچنے دیتیں۔ اس طرح اگر آپ ایک ایک چیز پر غور کرتے چلے جائیں گے تو آپ کو قدرت خداوندی کے نشانات ہی نشانات نظر آتے چلے جائیں گے۔ تعجب ہے کہ کتنا کو تہ اندیش ہے انسان کہ ایک طرف تو ترقی پر ترقی کی منزلیں طے کرتا جاتا ہے اور دوسری طرف تنزلی ہی تنزلی اور انحطاط ہی انحطاط کی طرف بڑھتا چلا جارہا ہے گویا اس کی ایک آنکھ جوں جوں کھلتی چلی جاتی ہے دوسری اسی طرح سے بند ہوتی چلی جارہی ہے اب اس سے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ کبھی وقت تھا کہ ہمارے آباء کی بحمد اللہ دونوں آنکھیں کھلی تھیں اور وہ دین و دنیا میں کامیابی پر کامیابی حاصل کرتے جاتے تھے سو اتفاق کہ جب غیرروں کی آنکھ کھلی تو ہماری آنکیں بند ہونا شروع ہوگئیں اور اس وقت حالت یہ ہوتی چلی جارہی ہے کہ غیروں کی آنکھ تو ایک کھلی ہے اور ایک بند لیکن ہماری من حیث القوم دونوں ہی بند ہوکررہ گئی ہیں یا غیروں نے ہمیں ایسا ڈرا دیا ہے کہ ہم آنکھیں کھول ہی نہیں رہے تاکہ ان کو پتہ نہ چل جائے۔ اللہ کرے کہ ہم کو بھی اتفاق وانفس کی نشانیاں دیکھنے کی توفیق اور ہماری اپنی ذات کے اندر جو نشانیاں ہیں ان کو تو جھانک سکیں۔ افسوس کہ دونوں آنکھیں ہم کو اللہ نے دی تھیں اور دونوں ہی دیکھنے کے لیے دی تھی لیکن ہم ایسے ڈرائے گئے کہ ہم نے دونوں ہی بند کردیں اور اندھوں کی طرح دوسروں کے سہارے چلنے لگے اور بھی یقین نہیں رہا کہ کبھی ہماری آنکھیں کھلی بھی تھیں۔ اے اللہ ! ہم کو دونوں آنکھیں کھولنے کی توفیق دے تاکہ ہم دوسروں کے سہارے چلنے کے بجائے صرف اور صرف تیرے ہی سہارے چل نکلیں کہ ہماری دنا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار زیر نظر آیت کے مضمون کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے خصوصاً وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 5 ، 6 ، جلد ششم سورة النمل کی آیت 68 ، سورة القصص کی آیت 57 ، جلد ہفتم سورة لقمن کی آیت 92 ، سورة یٰس کی آیت 73 کی تفسیر ملاحظہ کریں اور ہوائوں کی گردش کے لیے مضمون مطلوب ہو تو سورة المومنون آیت 81 ، الفرقان آیت 84 لا 05 ، الشعراء آیت 7 ، الروم آیت 42 ، 05 ، یٰس آیت 33 ، 63 ملاحظہ کریں۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم ٹھیک ٹھیک آپ کو سناتے ہیں پھر (یہ لوگ) اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کن باتوں پر ایمان لائیں گے

یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں۔ 6 ؎ قرآن کریم کی آیتوں کو پڑھ کر سنایا جائے تو یہ آیات کریمات اللہ تعالیٰ کی ہیں اگر تمہاری اپنی جانوں سے استشہاد کے طور پر انفس سے کچھ بیان کیا جائے تو بھی یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں کیونکہ وہی ذات اقدس انسانوں کو پیدا کرنے والی ہے اور اگر آفاق سے کچھ نشانیاں پیش کی جائیں جیسے بادل ، ہوائیں ، سورج ، چاند ، ستارے ، زمین ، پہاڑ ، دریا اور زمین کے اندر کے خزائن تو یہ تمام کی تمام اللہ تعالیٰ ہی کی نشانیاں ہیں اور ان ساری نشانیوں کو ہم نے قرآن کریم میں بیان کردیا ہے اور قرآن کریم تم پر پڑھا جاتا ہے تم خود پڑھتے ہو اور اگر تم کو یہ ساری قسم کی نشانیاں درس عبرت نہ دیں ، آخرت کو تسلیم نہ کرائیں ، اللہ کی ذات کا اثبات نہ کریں تو آخر ان کے بعد تم کو کونسی نشانیوں کا انتظار ہے کہ اگر وہ لائی جائیں تو تم کو ان باتوں کا یقین آجائے گا ؟ ہرگز نہیں اگر تم کو یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی یقین نہیں آتا تو تمہارا اللہ نگہبان اور محافظ ہے اور وہی جانتا ہے کہ تم لوگوں کو منوانے کے لیے کیا دلائل پیش کیے جائیں کہ تم مان جائو اور بلاشبہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کبھی تمہاری خیر کی طرف توجہ ہوگی یا نہیں ؟ لیکن افسوس کہ اس وقت ہمارے مذہبی راہنمائوں نے عوام کو اس قدر چوس لیا ہے کہ اب ان کی اپنی ذات میں کوئی رس باقی نہیں رہا اس لیے اب اگر وہ کچھ دے سکتے ہیں تو مرنے والوں کے نام پر ہی دے سکتے ہیں اور ان مذہبی راہنمائوں نے قرآن کریم کو زندوں کے ہاتھوں سے لے کر مردوں کے لیے خاص کردیا اس لیے اب اگر ان مردوں کو بخشوانے کا خیال کسی کو آئے تو وہ نقد دام دے کر اس قرآن کریم کی آیتوں سے ان کو بخشواسکتا ہے ایسا لگتا ہے کہ شاید زندوں کے لیے نہیں اس کو اتارا ہی مردوں کے لیے گیا ہو حالانکہ یہ بات سو فی صد غلط ہے لیکن افسوس کہ اس غلطی کو اب نہ مذہبی پیشوا مانتے ہیں اور نہ اپنے اپنے مردوں کو بخشوانے والے عوام اس لیے ایسی بات کو کرنے والا اپنا منہ لے کر رہ جاتا ہے۔ قرآن خوانی کی وضاحت ہم جلد ہفتم سورة لقمن کی آیت 33 کے تحت کر آئے ہیں وہاں سے تفصیل معلوم کرلیں۔
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار کے لیے خرابی ہے

ہر جھوٹے گنہگار کے لیے خرابی ہی خرابی ہے 7 ؎ (افاک) اس کا اصل مادہ اک اور (افک) جھوٹ اور بہتان کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے مفہوم میں کسی شے کا اس کی اصل جانب سے منہ پھیرنے کا نام (افک) ہے اس لیے جو بات اپنی اصل صورت سے پھر گئی اس کو (افک) کہیں گے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے اس لیے ان کو (افک) کہا گیا ہے اور اس طرح (افک) بہت جھوٹ بولنے والے اور بہتان تراشنے والے کو کہا جائے گا اور زیر نظر آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ افسوس ہے ہر اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولتا اور بہتان تراشتا ہے اور اس طرح گناہ پر گناہ کیے چلا جاتا ہے اور یہ بات اب اس کی عادت ثانیہ بن کر رہ گئی ہے۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(جو) اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جب اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر غرور سے اپنی ضد پر اس طرح اڑ رہتا ہے جس طرح اس نے کچھ سنا ہی نہیں ، پس آپ ﷺ اس کو ایک دردناک عذاب کی بشارت (سنا) دیجئے

آیات اللہ کو سن کر ان سنی کردینا اور تکبر سے منہ موڑنا عذاب الٰہی کا مستحق ہونا ہے 8 ؎ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر اور سمجھ کر ان سے منہ پھیرلینا اور اپنی مرضی کرتے چلے جانا تکبر کی علامات میں سے ایک بہت بڑی علامت ہے۔ اب سمجھنا یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات کو سن کر ان سے منہ کیسے پھیرا جاسکتا ہے ؟ قرآن کریم کی آیات کریمات میں ادامرد نواہی بیان کیے گئے ہیں اور ان کو سن کر ان کے مطابق عمل نہ کرنا ہی منہ پھیرنا ہے اور اس بات کو پیٹھ پیچھے پھینک دینے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ آج فی زمانہ مسلمانوں نے مکمل طور پر قرآن کریم سے منہ پھیرلیا ہوا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو کوئی تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زندوں کے لیے نازل کیا اور ہم نے اس کو مردوں پر استعمال کیا کہ ان کی بخشش کے لیے پڑھنے لگے اور اس کا ثواب خریدنے اور بیچنے لگے اور یہ بات اس قدر عام ہوگئی کہ اب اس ملک عزیز پاکستان میں جو شخص اس بات سے پرہیز کرے گا وہ تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنے گا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو۔ قرآن کریم کو نازل کیا گیا تھا کہ اس کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس کی امثال ، محاورات ، استعارات ، اشارات ، تشبیہات اور ادبیات پر نگاہ رکھی جائے اور اس کے مفہوم کو من وعن سمجھنے کی کوشش کی جائے لیکن ہم نے اس کی اس طرح تلاوت شروع کی جس طرح کسی طوطے مینا کو کوئی چیز رٹائی جائے تو وہ اس کو رٹ کر بار بار بولتا رہتا ہے ہم نے انسان ہو کر یہی سلوک قرآن کریم سے کیا اور اسی کو ثواب سمجھا اور اس وقت دنیا میں شاید ہی کوئی کتاب ہوگی جو بغیر سمجھے پڑھی جاتی ہوگی لیکن قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کو بغیر سمجھے پڑھا جاتا ہے اور بہت کثرت سے پڑھا جاتا ہے اور اس کو پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کی ملک کیا جاتا ہے اور خصوصاً یہ ثواب پہنچانے کے لیے لوگ مخصوص کیے جاتے ہیں حالانکہ اسلام میں اس کا کوئی جواز موجود نہیں۔ لاریب قرآن کریم کی زبان عربی ہے اور ہماری زبان عربی نہیں ہے اس لیے اس کا سمجھنا عربوں کے برابر آسان نہیں لہٰذا ہم بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت اسی طرح کرائیں گے لیکن بچے آخر ساری زندگی بچے نہیں رہتے اور نہ ہی بچوں کے والدین کو بچے کہا جاسکتا ہے ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جس طرح ہم قرآن کریم کی عبارت کو تلاوت کرنا سیکھتے ہیں اسی طرح اس کا ترجمہ اور مفہوم بھی سیکھنے کی کوشش کریں اور یہ کہ اس کے اوامرو نواہی کو سمجھ کر ان کے مطابق زندگی بسر کریں۔ ایسانہ کریں کہ زبان پر کچھ ورد ہو اور ہاتھ کچھ کر رہے ہوں اور دونوں میں بعد المشرقین اور بعد المغربین ہو۔ اس طرح یہ کہ اس کی تلاوت مردوں کو ثواب پہنچانے کے لیے نہ کی جائے بلکہ زندوں کو سمجھانے کے لیے کی جائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ عوام تو عوام ہمارے خواص کو بھی کبھی اس بات کا خیال نہیں آیا کہ ہم قرآن کریم کی اس آیت پر بار بار غور کرو کہ کیا آج ہماری حالت بالکل وہی نہیں ہوچکی جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ ہماری اکثریت ان آیتوں کو سنتی ہے اور پھر پنے رسم و رواج پر اسی طرح جمی رہتی ہے کہ گویا انہوں نے اس کو سنا ہی نہیں اور یہ علامت زیر نظر آیت میں تکبر کی بتائی گئی ہے اور اس تکبر کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے اور واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خبر پہنچادوتعجب ہے اس قاری ، حافظ ، ملاں ، مولوی ، مولانا اور حضرت العلام پر کہ وہ لوگوں کے گھروں میں جاکر ان کو برکت پہنچانے اور ان کے مردوں کو ثواب بخشنے کی خاطر قرآن خوانی میں مصروف ہیں اور صاحب خانہ اپنے کاروبار میں مستغرق ہے وہ اپنے کاروبار سے حلال و حرام کھا کر اس قاری ، حافظ ، ملاں ، مولوی ، مولانا ، علامہ اور حضرت العلام کی شان کے مطابق اس کی خدمت کرے گا اور اس کا عوض نقد چکائے گا کہ یہ لوگ اس کے گھر میں برکت داخل کریں گے اور اس گھر کے مردوں کو اس قرآن کا ثواب بخشیں گے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں کا اسے کچھ علم ہوتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے ، انہیں لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

قرآن کریم کی آیتوں کو سن کر ان کا مذاق اڑانے کی سزا کا بیان 9 ؎ جو مضمون ہم نے اوپر درج کیا ہے اسی مضمون کو پڑھ کر ہمارا مذہی گروہ سیخ پا ہوجاتا ہے اور پھر وہ فتویٰ دیتا ہے کہ اس طرح کھلا بیان کرنے والا قرآن کریم کے ساتھ مذاق کررہا ہے اور وہ کفر کا مرتکب ہوا اور لاریب وہ واجب القتل ہے اس طرح لوگوں کو بھڑکا کر وہ سستے داموں جنت کا سودا کرے گا لیکن کبھی اپنی حالت پر غور نہیں کرے گا کہ اس کفر کے فتویٰ کا وہ مستحق ہے جو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی تلقین کرتا ہے یا وہ مستحق ہے جس نے لوگوں کی جہالت کی ترجمانی کرتے ہوئے کفر کا فتویٰ لگایا ہے ؟ قرآن کریم کو زندوں کی بجائے مردوں کے ثواب کے لیے پڑھ کر اپنے پیٹ کے دوزخ کو بھررہا ہے کیونکہ قرآن کریم کو سن کر اس کی آیتوں کا مذاق تو اس نے اڑایا ہے جس نے اس کا بےمحل استعمال کیا ہے نہ کہ اس نے جس نے اس کے بےمحل استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔ اسی کو کہا جاتا ہے کہ الٹا چور کو توال کو ڈانٹے اور الٹے بانس بریلی کو۔ لاریب کسی بھی چیز کا بےمحل استعمال زیادتی ہے ، ظلم ہے اور اس کا بےمحل استعمال کرنے والے اس کا مذاق اڑانے والے ہیں۔ قرآن کریم کا محل استعمال زندہ لوگ ہیں مردہ نہیں۔ قرآن کریم کا محل استعمال اس کو سوچ سمجھ کر پڑھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے اس کا عکس نہیں۔ وہ لوگ جو قرآن کریم کا بےمحل استعمال کرتے ہیں وہ وہی ہیں جو قرآن کریم کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اس کے اوامرونواہی کی پابندی نہیں کرتے بلکہ کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں اور جب ان کی توجہ قرآن کیم کے ان اوامرو نواحی کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے تو وہ نہ خود اس کی طرف توجہ کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو توجہ کرنے دیتے ہیں بلاشبہ ان لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے اور ذلیل کرنے والے عذاب کی وضاحت کی جاچکی ہے کہ دوزخیوں کو خوراک ، مشروبات اور لباس کس طرح کے ملیں گے اور جو کچھ ان کو دیا جائے گا وہ سب کا سب ذلیل کرنے والا ہی ہوگا یہاں تک کہ جو گفتگو ان سے ہوگی وہ بھی ان کو ذلیل ہی کرے گی اور یہ سب کچھ اس لیے کیا جائے گا کہ وہ دنیا میں یہی سلوک لوگوں سے کیا کرتے تھے اور اس طرح جو کچھ ان سے کیا جائیگا وہ ان ہی کے اعمال کا نتیجہ ہوگا اور جسای کروگے ویسا بھروگے کا محاورہ عام بول چال میں لوگ استعمال کرتے ہیں جو فی الواقع ایک حقیقت ہے۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ وہ (لوگ) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا اپنا کارساز بنا رکھا تھا اور ان کے لیے بڑا (ہی سخت) عذاب ہے

ان کے آگے جہنم ہے جو انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس کے نتیجہ سے وہ دوچار ہوں گے 01 ؎ اب ان لوگوں کے لیے دوزخ کے عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا اس لیے کہ جہاں وہ پہنچ گئے ہیں وہاں اس سے آگے اور ہے ہی کیا ؟ عذاب ہی عذاب تو ہے کیونکہ ان کے کیے کا نتیجہ ہی ان کو ملنا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسی میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گلتے سڑتے رہیں گے۔ دنیا کی زندگی تو ایک مختصر سی چیز تھی کیونکہ اس کے پیچھے موت تھی جس نے دنیا کی ساری چیزوں سے نجات دے دی لیکن اب تو موت بھی نہیں اور اگر کوئی مرنا بھی چاہے تو یقینا وہ مر نہیں سکے گا کیونکہ موت کو تو موت دی جاچکی ہوگی۔ انہوں نے جو کچھ اپنی دنیوی زندگی میں آگے بھیجا ہوگا اس کے رزلٹ سے ان کو دوچار ہونا ہوگا اور ان کی وہ کمائی جو انہوں نے دوسروں کے سہارے کی صورت میں کمائی ہوگی وہ بھی ان کے کچھ کام نہیں آئے گی کہ وہ ایسا وقت ہوگا کہ سب وسیلے ، واسطے اور سہارے ختم ہو کر رہ جائیں گے یہاں تک کہ حقیقی رشتہ دار بھی ایک دوسرے سے آنکھیں چرائیں گے اور ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو ان کے کسی کام آئے کیونکہ وہاں اگر کوئی سہارا ہوسکتا ہے تو وہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ذات ہوسکتی تھی اور اسی ذات کی دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی وہ کرتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے اور بلاشبہ ان کے لیے اب ہولناک عذاب کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا اور وہ بھی معمولی نہیں کہ اس کو برداشت کرلیا جائے بلکہ بہت زبردست اور بہت ہی بڑا ہوگا جس کا تصور اس جگہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ عالم آخرت کا عذاب ہے جس کو مثلاً ہی بیان کیا جاسکتا ہے حقیقتاً نہیں بیان کیا جاسکتا ۔ اور زیر نظر آیت میں (من دون اللہ اولیاء) کے جو الفاظ آئے ہیں ان میں وہ سب ہستیاں اور شخصیتیں آگئیں جن کو وہ اپنے زعم میں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے خواہ نبی ورسول ہوں یا پیر و فقیر اور مرشد ہوں یا وہ اولیاء کرام ہوں یا فرشتے اور جن کے قریش مکہ کی طرح لوگوں نے بت اور شبیہیں تیار کی ہوں یا اس دور کے مشرکوں کی طرح قبریں اور روضے بنارکھے ہوں وہ سب کے سب اس میں شامل ہیں اور سب کے سب من دون اللہ ہیں اس کی مزید وضاحت آگے سورة المعارج اور سورة عبس میں آرہی ہے اور عزوۃ الوثقی جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 561۔ ، 661 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ( قرآن کریم) ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں سے انکار کرتے رہتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے

قرآن کریم پر ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت ہے اور نہ ماننے والوں کے لیے عذاب کی خبر 11 ؎ قرآن کریم ہدایت ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس کو بطور ہدایت قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس کی ہدایت سے استفادہ نہیں کنا چاہتے اور اس کو اللہ کی کتاب تسلیم نہیں کرتے ان کے لیے درد ناک عذاب کی ایک خبر ہے جو قبل از وقت ان کو سنائی جارہی ہے (رجز) کی اصل ر ج ز ہے اور یہ لفظ تین بار قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس کے معنی پلیدی ، گناہ ، عذاب اور بت وغیرہ کے آتے ہیں اور رجز اصل میں وہ چیز ہے جس سے گھن آئے اور (رجس) کے ہم معنی ہی استعمال ہوتا ہے اور بعض نے ہیں تک لکھا ہے کہ ” زا “ ” سین “ سے بدل گیا ہے یا ” سین “ ” زا “ سے کیونکہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجز کی اصل اضطراب یعنی خوب ہلنا اور جنبش کرنا کے ہیں اس لیے جس عذاب میں ہلنا اور جنبش کرنا بھی ہو اور اس کی صورت نہایت کریہہ اور ڈر دینے والی ، کپکپادینے والی ہو اس کو (رجز) کہا جاتا ہے (وقال ابواسحق ومعنی الرجز فی القرآن ھو ال عذاب المقلقل لشدتہ ولہ قلقلۃ شدیدۃ متتابعۃ (لسان العرب) ” ابواسحق کہتے ہیں کہ رجز کا لفظ جو قرآن کریم میں آیا ہے اس کے معنی ایسے عذاب کے ہیں جو اپنی شدت کے باعث لرزہ خیز وہ اور اس کے جھٹکے شدید اور لگاتار ہوں۔ “
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ذات ہے جس نے سمندروں کو تمہارے کام پر لگا دیا تاکہ اس (اللہ) کے حکم سے ان میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور (یہ بھی کہ) تم اس کا شکر ادا کرتے رہو

اللہ وہ ہے جس نے سمندروں کو تمہارے کام میں لگادیا ہے ، چاہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو 21 ؎ مسخر کرنا کیا ہے ؟ کسی کو مجبو رکرکے کسی کام پر لگایا جانا جس میں اس کی اپنی مرضی کو کوئی عمل دخل نہ ہو انسان کے لیے اس کائنات کی ہرچیز مسخر کردی گئی ہے اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جو اپنی مرضی اور اختیار کرسکے بلکہ انسان میں یہ طاقت وقوت اور سمجھ وسوچ کا ایسا مادہ پیدا کردیا گیا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہرچیز کو مسخر کرسکتا ہے اگر مسخر کرنا چاہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے مسخر کرنے سے مسخر نہ ہوسکے بشرطیکہ وہ مسخر کرنا چاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو اتنا اختیار نہیں دیا جتنا کہ اللہ رب کریم نے ایک انسان کو دیا ہے کہ وہ ہر ایک چیز کے فرمانبردار بنانے کی صلاحیتیں اس میں موجود ہیں یہ صلاحیت اللہ تعالیٰ ہی نے ودیعت کی ہے کہ وہ سینکڑوں ٹن کی وزنی چیزیں پانی کی پیٹھ پر لادے اور پانی اپنے بہائو کے باعث موافق ہوائوں کی مدد سے اس کو بخریت جہاں وہ چاہے کنارے لگادے۔ اس پانی میں جو صلاحیت رکھتی گئی اور اس لکڑی میں جو صلاحیت ودیعت کی گئی ہے کہ وہ خود بھی تیرے اور اپنے اندر ڈوبنے والی چیزوں کو بھرلینے کے بعد ان کو بھی خشکی پر پہنچادے اور اس پانی کے اندر کئی طرح کی مخلوق پیدا فرمادی کہ انسان اس مخلوق میں سے جس کو چاہے استعمال کرنے کے لیے تروتازہ حاصل کرے۔ اس لیے حق تو یہ تھا کہ جس اللہ نے ان ساری چیزوں کی فطرت میں یہ صلاحیتیں رکھی ہیں تاکہ لوگ ان سے استفادہ کرسکیں وہ لوگ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان بھی مانیں اور تسلیم کریں اور اس کا شکریہ بھی ادا کریں جس نے انسان کی خاطر ان کو پیدا کردیا ہے اور بلاشبہ اگر وہ ایسا کریں تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت کو تسلیم کرلیا اور یہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اس نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمہارے ہی کام میں لگا رکھا ہے بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں

آسمان و زمین کی ہرچیز اس نے تمہارے لیے مسخر کردی ہے 31 ؎ گزشتہ آیت میں صرف سمندروں کا ذکر تھا سمندر تمہارے مسخر کردئیے گئے ہیں اور سمندروں میں جو کچھ ہے اس کو شمار کرنا شروع کردیں تو ان کا شمار کرنا اتنا سہل نہیں ہے لیکن زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کے لیے مسخر نہ کردی گئی ہو اب یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ کس کس چیز سے استفادہ کرتا ہے اور کس کس چیز سے نہیں اور پھر یہ بھی کہ اس تسخیر میں کسی دیوپری ، بت ، صاحب بت ، قبر ، صاحب قبر ،۔ کسی نبی ، ولی بزرگ اور پیرومرشد کا کوئی دخل نہیں ہے یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے انسان کی خاطر اس کائنات میں وہ چیزیں جو اس ظاہری آنکھ سے نظر آتی ہیں اور وہ جو اس ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتیں بلکہ ان کو دیکھنے کے لیے آلات کا سہارا لینا پڑتا ہے ایسی چیزیں جن کا علم انسان نے حاصل کرلیا ہے اور وہ جن کا ابھی تک اس کو علم نہیں سب کا سب انسان کے لیے مسخر کردیا ہے اور پھر یہی نہیں کہ اس کائنات میں ان گنت چیزیں اس کے لیے مسخر کردی ہوں لیکن اس کے پاس ان کے معلوم کرنے کی کوئی چیز موجود نہ ہو نہیں انسان کو عقل جیسی ایک ایسی چیز عطا فرمادی جس میں ان ساری چیزوں سے استفادہ کرنے کی صلاحیت بھی ودیعت کردی ہے اور پھر چونکہ یہ انسان کی فطرت ہے خواہ وہ انسان اللہ کا فرمانبردار اور اس کے اوامرونواہی کا پابند ہوکرزندگی گزارتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور اس کے اوامرو نواہی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وقت گزار رہا ہو سب کے لیے تسخیر کائنات کی صلاحیت ایک جیسی موجود ہے چاہے وہ صلاحیت کو بروئے کار لاکر اس سے استفادہ کرے اور دوسروں کے استفادہ کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کرے اور چاہے اس صلاحیت کو اسی طرح ضالع کردے اور پھر جو انسان اس کی کوشش کرتا ہے وہ اس کو حاصل کرلیتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج یہ مضمون کس طرح صادق آرہا ہے کہ اگر مسلمانوں کو اس صلاحیت سے کام لینے سے ان کے مذہبی راہنمائوں نے روک دیا ہے اور غیر مسلموں نے اس سے کام لینا شروع کیا تو وہ باوجود غیر مسلم ہونے کے اس سے استفادہ پر استفادہ حاصل کیے چلے جا رہے ہیں اگرچہ یہ صلاحیت ودیعت کرنے والی ذات رب ذوالجلال والاکرام کا وہ انکار ہی کرتے ہیں اور جس قرآن کریم نے اس میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے نظریہ پیش کیا ہے اس کو ماننے کے لیے بھی وہ تیار نہ ہوں۔ اور یہی وہ نشانیاں ہیں جن کی طرف غوروفکر کرنے کی توجہ اس جگہ دلائی جارہی ہے۔ اور اس میں یہ بات بھی واضح کردی کہ جس طرح (جمیعاً منہ) سے مراد ہر ایک چیز کا اللہ سے ہونا نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہونا مراد ہے اسی طرح (روح منہ) سے بھی روح کا اللہ سے ہونا مراد نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہونا مراد ہے جیسا کہ سورة النساء کی آیت 171 میں اس کی وضاحت گزرچکی ہے اور سورة المجادلہ کی آیت 22 میں دوبارہ آئے گی جہاں (ایدھم بروح منہ) کے الفاظ آئیں گے۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اور آپ ﷺ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ وہ (اللہ) ایک قوم کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

ایمان والوں کو ایمان نہ لانے والوں سے درگزر کرتے رہنے کی واضح ہدایت 41 ؎ (یغفروا) کا اصل غر ہے اور غفر کے معنی ڈھانپنے کے ہیں۔ کسی چیز کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی چیز میں چھپا دینا جیسے عربی محاورہ ہے اغفر ثوبک فی الوعاء اپنے کپڑے محفوظ رکھنے کے لیے کسی چیز میں چھپا دو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر للوسخ کپڑے رنگ لو اس طرح میل سے کپڑا محفوظ رہتا ہے یعنی رنگ کپڑے کے میل کو چھپالیتا ہے۔ اور کبھی اس سے ظاہری طور پر درگزر کرنے کے معنی بھی مراد لیے جاتے ہیں خواہ دل سے معاف نہ کیا جائے بلکہ وقتی مصلحت ہی سمجھی جائے۔ (المفرودات) اور اس جگہ یہی آخری معنی مراد ہیں۔ مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ تم کفار سے عفو و درگزر ہی سے کام لو اگرچہ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی خوف نہیں وہ تم کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے ہیں اور دکھ پہنچاتے ہیں لیکن تم صبر وثبات سے کام لیتے ہوئے ان سے الجھنے کی بالکل کوشش نہ کرو اور نہ ہی ان سے فی الحال انتقام لو۔ تمہارے مقام رفیع کے لیے یہی بات ضروری ہے اور ان کی سزا کا معاملہ اللہ کے سپرد کردو اور یاد رکھو ہر بات میں انتقام ہی کوئی خوبی نہیں ، درگزر کرنا اور برداشت کرنا سب سے بڑی خوبی ہے جب انتقام لینے والا اپنا انتقام اللہ کے سپرد کرتا ہے تو یقینا وہ زبردست ہے وہ ان سے انتقام لے گا اور تم کو اس کا اجر بھی ملے گا یہ وہ لوگ ہیں جو (ایام اللہ) کی کوئی امید نہیں رکھتے۔ ( ایام اللہ) سے مراد وہ دن ہیں جو انبیاء کرام اور رسل عظام کی مخالف قوموں کی ہلاکت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے گئے اور ہر نبی ورسول کو جب قوم نے جھٹلایا اور وہ جھٹلاتی ہی چلی گئی تو انجام کار اللہ نے اس نبی ورسول کے ذریعہ سے اس قوم کو آخری وارننگ دی اور ان کی ہلاکت کا ایک دن مقرر کردیا۔ اس طرح نبی ورسول و مع اس کے ساتھیوں کے ہجرت کرجانے کا حکم دیا اور جب وہ وہاں سے نکل گئے تو مخالف قوم کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا گیا اور پھ ران میں سے ایک بھی نہ بچا سوائے ان کے جو ہجرت کرگئے اور وہاں سے نکل گئے۔ فرمایا یہ لوگ اگرچہ اس طرح کا کوئی کھٹکا اپنے اندر نہیں رکھتے تاہم جب ہر قوم کے لیے یہ قانون طے کیا جاچکا ہے تو یہ لوگ اگر اس طرح مخالفت کرتے رہے تو آخر عذاب الٰہی سے اپنے آپ کو کیسے بچالیں گے جو کچھ یہ کما رہے ہیں یقینا ایک روز ان کو بھی ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑلیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے کامل علم میں یہ بات موجود اور واضح ہے کہ ان کی پکڑ کا کیا طریقہ ہوگا اور یہ لوگ کس طرح کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ہجرت کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ ان لوگوں کی پکڑ میدان جنگ میں عذاب دئیے جانے سے ہوئی اور ان کا یہ عذاب بدر سے شروع ہو کر فتح مکہ پر جاکر ختم ہوا اور ان کی طاقت وسطوت کی کمر اس طرح توڑ دی گئی کہ پھر وہ ساری زندگی اٹھ کر کھڑے نہ ہوسکے اور جب انہوں نے دیکھا کہ اب ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تو ایمان کے ساتھ وابستگی کا اعلان کردیا اور یہ لوگ وہی تھے جو ان (ایام اللہ) والے عذاب سے بچ نکلے۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے نیک عمل کیے تو اس نے اپنے ہی فائدے کے لیے کیے اور جس نے برائی کی تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف واپس لوٹائے جاؤ گے

نیک عمل کرنے والوں کا اپنا فائدہ اور بداعمال لوگوں کا اپنا نقصان ہے 51 ؎ ہر طرح کے عمل کے ساتھ اس کا نیجہ لازم کردیا گیا ہے اگر عمل اچھا ہوگا تو یقینا اس کا نتیجہ بھی اچھا ہی نکلے گا اور اگر عمل برا ہوا تو یقینا اس کا نتیجہ بھی برا ہی ہوگا اور اس طرح ہر عمل کرنے والے کو اس کے نتیجہ سے دوچار ہونا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ عمل تو الف کرے اور اس کا نتیجہ ب کے ذمہ لازم کردیا جائے یہ اندھیر نگری اللہ تعالیٰ کے قانون میں نہیں ہے اس لیے ہر عمل کرنے والے کو اپنے عمل کی طرف دھیان دینا ہوگا کیونکہ وہی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے اور اچھے برے کی پہچان بھی ان کو کرادی گئی ہے۔ قانون الٰہی ییع ہے کہ (لیروا اعمالھم) ” اعمال کرنے والوں کے اعمال ان کو دکھائے جائیں گے۔ “ ایک تو اعمال دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کو بتایا جائے گا کہ وہ دنیا میں کیا کیا کرکے آیا اور اس طرح ان کے اعمال کا پورا نقشہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور عمل مع اپنی ہئتا کے دکھایا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے سامنے پیش کردئیے جائیں گے اور دونوں مفہوم اس سے ناکل سکتے ہیں اور لاریب وہ وقت ہی ایسا ہوگا کہ کوئی شخص اپنے کیے سے انکار نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کسی بڑے سے بڑے ہیکڑ اور جری قسم کے آدمی کے پاس بھی اس وقت ایسی طاقت اور جرات ہوگی۔ پھر جب انسان کے اپنے اعضا ہی اس کے خلاف گواہی دے رہے ہوں تو کوئی بات چھپائے گا تو آخر کیوں اور کیسے ؟ جب کہ طے شدہ بات بھی یہ ہے کہ ” جس نے ذرا برابر نیکی کی ہوگی وہ اپنی نیکی کو دیکھ لے گا اور اسی طرح جس نے ایک ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس برائی کو اپنے سامنے دیکھ لے گا۔ “ (الزلزال 99 : 7 ، 8) پھر جس کی نیکیاں زیادہ اور برائیاں کم ہوں گی وہ کامیاب اور جس کی برائیاں زیادہ اور نیکیاں کم ہوں گی وہ ناکام قرار دیا جائے گا اور کامیاب ہونے والوں کو جنت میں جگہ ملے گی اور ناکام ہونے والوں کو دوزخ میں اور جنت کے درجات اور دوزخ کے درجات بھی ہوں گے اور جو شخص جس درجہ کا مستحق ہوگا اس کو اس میں اور جو جس درجہ کا مستحق ہوگا وہ اس میں اپنی اپنی جگہ پالے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی اور ظلم ہرگز نہیں ہوگا اور معافی اور درگزر کیا جانا رحم و محبت اور شفقت کے لیے لازم وضروری ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ مشرکین کے سوا رعایت اور چھوٹ سب کو ملے گی۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے (اپنے خاص فضل و کرم سے) بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت بخشی اور پاکیزہ رزق عطا کیا اور ان کو (اس وقت کے) تمام اہل عالم پر فضیلت بھی عطا کی

بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کتنے انعامات کیے کہ ذلت سے نکال کر امارت پر فائز کردیا 61 ؎ بنی اسرائیل کو فرعون مصر نے دبایا اور ایسا دبایا کہ وہ مدتوں تک اٹھ نہ سکے اللہ تعالیٰ نے جب اس مردہ قوم کو زندہ کرنا چاہا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور آپ نے جن حالات میں پرورش کی اس کی مکمل حکایت آپ پیچھے سورة طٰہ اور سورة القصص میں پڑھ چکے ، انجام کا روہ وقت آیا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطا فرما کر فرعون کی طرف جانے کا حکم صادر فرمایا آپ نے جن خطرات کا ذکر اپنے رب سے کیا ان کے ازالہ کے لیے ایک تو ہارون (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی نبوت دے کر روانہ کردیا اور دوسرا حکم صادر فرمایا کہ فرعون آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرپائے گا آپ بےفکر ہو کر اس کے پاس جائیں اور اس کے سامنے اس کی ربوبیت والوہیت کا انکار کرتے ہوئے میری ربوبیت اور الوہیت کا درس دیں اور اگر وہ راہ راست پر نہ آئے تو اس کے سامنے اپنا مطالبہ پیش کریں کہ بنی اسرائیل پر ظلم وستم کرنے سے وہ باز آئے اور آپ کے ساتھ ان کو یہاں سے نکل جانے دے فرعون نے دلائل سن لیئے اور میدان مناظرہ میں ہار جانے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم وستم کرنا ترک نہ کیا اور ایک مدت تک موسیٰ (علیہ السلام) کی کھل کر مخالفت کرتا رہا کئی بار آپ کے قتل کے منصوبے بنائے لیکن عمل درآمد نہ کر اسکا اور انجام کار اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے فیصلہ کے مطابق بنی اسرائیل کو مصر سے ساتھ لے کر ہجرت کرجانے کا حکم دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جو بنی اسرائیل جاسکے ان کو لے کر مصر سے نکلے ہی تھے کہ فرعون نے اپنا لائو لشکر تیار کرکے ان کا پیچھا کیا جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کو دریا سے پار کرنے کے ساتھ ہی فرعون اور اس کے لائو لشکر کو اسی دریا کے میدان میں غرق کردیا اور اس کی وضاحت بھی پیچھے گزرچکی خصوصاً سورة طٰہ اور سورة القصص میں آپ پڑھ چکے ازیں بعد اس قانون کے مطابق کہ جب کوئی نبی ورسول کسی جگہ سے ہجرت کرتا ہے تو واپس اس مقام پر رہائش پذیر نہیں ہوتا۔ آپ نے صحرائی زندگی اختیار کی اور بنی اسرائیل کی حکومت اسی جگہ رہ کر سنبھال لی اور اس کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے کتاب یعنی تورات آپ پر نازل کی اور ملک کی باگ ڈور بھی بنی اسرائیل کے سپرد کردی اور ان سارے خزانوں ، زمینوں ، باغوں اور دوسرے سارے انعاموں کو ان کو مالک بنادیا اور اس طرح رزق کی فراوانی بھی ان کے حصے میں آئی اس وقت کی جتنی قومیں بنی اسرائیل کے اردگرد آباد تھیں سب پر بنی اسرائیل کو فضلیت عطا کردی اور اس طرح گویا بنی اسرائیل کی آزمائش کا دور شروع ہوگیا۔ پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ بنی اسرائیل اس دستار فضیلت کی زیادہ مدت تک حفاظت نہ کرسکے اور ان کی قومی کمزوریاں موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی ہی میں ظاہر ہونا شروع ہوگئیں اور ان کمزوریوں کی تفصیلات پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دین کے نہایت واضح احکام دیئے پھر انہوں نے علم کے آنے کے بعد آپس کی ضد سے اختلاف کیا بلاشبہ آپ کا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن جن امور میں وہ جھگڑتے تھے فیصلہ کر دے گا (تاکہ بات ان پر واضح ہوجائے)

71 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل مصریوں کے ساتھ معاشرت اختیار کرکے ان کی بہت سی رسومات کو قبول کرچکے تھے وہ من حیث القوم تو بلاشبہ بنی اسرائیل تھے لیکن ان کی رسومات اور دوسرے بہت سے طور طریقے وہی ہوچکے تھے جو دوسرے مصریوں کے تھے۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت بھی کر آئے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے ابدی دشمن فرعون کو غرق بھی کردیا گیا لیکن ابھی زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اعتکاف کی صورت کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے جب کہ اس اعتکاف کے دوران آپ کو تورات جیسی آسمانی کتاب سے بھی نوازا گیا لیکن قوم کی اکثریت نے آپ کی قوم ہی کے ایک منافق مرد سامری کی شعبدہ بازی سے گائے کی پرستش شروع کردی اور اس سلسلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کا انتظار بھی نہ کیا حالانکہ اس اعتکاف میں کوئی زیادہ وقت بھی نہیں لگا تھا صرف چالیس روز خرچ ہوئے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو طور ہی پر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمادیا کہ ہم نے آپ کی قوم کو آزمایا تو اس کی اکثریت آزمائش میں فیل ہوگئی اور ایک گائے کے بچھڑے کی انہوں نے پرستش شروع کردی جو مصر میں رہ کر انہوں نے مصریوں ہی سے مستعارلی تھی جو ان کے دلوں میں جم گئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو اس بچھڑے کو جلادیا گیا اور اس کی راکھ کو زمین میں پھیلادیا اور سامری کو قرار واقعی سزا دی گئی لیکن اس کے باوجود قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی وہ قدر و قیمت نہ ڈالی جو ان کو ڈالنا چاہیے تھی بنی اسرائیل کو اگرچہ دین کے معاملہ میں کسی مخمصہ اور ابہام میں نہیں رہنے دیا گیا اور عقائد صحیح ، اعمال حسنہ اور اخلاق پسندیدہ کے بارے میں انہیں واضح ہدایات دی گئیں اور پختہ دلائل سے ان کو مطمئن کرنے کی پوری پوری کوشش کی گئی لیکن ان کی رذالت اور دنائت نے ان کو باوجود ایک قوم ہونے کے مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا اور ان کی یہ تقسیم نہایت شدید اختلاف پر مبنی تھی اور پھر آہستہ آہستہ ان کی اس مذہی تفریق نے ان کی دینی اور اخلاقی زندگی کو گوناگوں خرابیوں کی آماجگاہ بنادیا اور اس فرقہ بندی کے باعث وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے فتویٰ بازی کرنے لگے۔ لاریب ان کی فرقہ بندی اور اختلاف و انتشار کی وجہ محض ان کی بےعلمی اور ناخواندگی ہی نہ تھی بلکہ وہ جہالت تھی جو وقتی علوم کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے اور اسی فرقہ بندی کے لیے باعث ان کی مذہبی حیثیت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی قوت و طاقت بھی پاش پاش ہوگئی۔ وہ الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ گئے اور جن قوموں پر ان کو ایک بار فضیلت دی گئی تھی انہیں قوموں نے ان کے اس انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی اسکھ کو وہ نقصان پہنچایا کہ ان کو مختلف علاقوں کی طرف تتر بتر کر کے حکومت پر انہوں نے نے قضصہ کرلیا اور جس غلامی میں وہ مدتوں لپٹے رہے تھے ان کی حالت اس سے بھی بدتر ہوگئی۔ اگر ان کی اس حالت پر نظر رکھی جائے تو آج قوم مسلم کی بعینہ وہی حالت ہے جو اس وقت قوم بنی اسرائیل کی ہوچکی تھی۔ اب ان کے اختلافات کا فیصلہ قیامت کے روز ہی ہو سکے گا اور ان کے ساتھ ہی ہم قوم مسلم کا بھی ۔ اگرچہ اس روز کیا ہوا فیصلہ کسی کے بھی کام نہیں آئے گا۔ اب نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے مخصوص حکم دیا جارہا ہے جو قوم مسلم کے لئے قابل غور ہے۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ ﷺ کو واضح راہ پر مامور کردیا پس آپ ﷺ اسی پر چلتے رہیں اور ان لوگوں کی خواہش پر نہ چلیں جو (دین کی) سمجھ نہیں رکھتے

نبی اسرائیل کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کو واضح رہ پر متعین کرنے کا اعلان : 81 ؎ (شریعۃ) کی اصل ش ر ع ہے اور (شریعۃ) شرع سے اسم ہے جس کے معنی راستہ ، شریعت ، الٰہی طریقہ کے ہیں۔ بعض اہل سنت کا بیان ہے کہ شریعت کا نام شرب الماء پانی کے گھاٹ سے تشبیہہ کی بنا پر پڑا ہے اسی حیثیت سے کہ جو شخص اس کی سچی حیقت پر مطلع ہوگیا وہ بحمد اللہ سیراب ہوگیا اور پاک ہوگیا اور اس پاکیزگی سے مراد جس کو کسی حکیم نے بیان کیا ہے کہ ” میں پیتا رہا اور سیراب نہ ہوا پھر جب اللہ تعالیٰ کی معرفمت ہوئی تو بن پئے سیراب ہوگیا “ اور پاک ہونے سے مراد یہ ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا کہ ” اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی کی باتیں اے نبی کے گھر والوں اور ستھرا کر دے تم کو ستھرا کردینا “ (الاحزاب 33 : 23) امام راغب ہی نے { شرعۃ و منہا جا } (5 : 84) کے متعلق فرمایا کہ ان دو لفظوں کے اختیار کرنے میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے ایک تو جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک راہ پر چلنے کے لئے مسخر کیا ہے جس کا تعلق صالح عباد اور عمارات بلاد سے ہے اور دوسرا وہ جس کا انسان اختیار سے قصد کرتا ہے جس میں شرائع کا اختلاف ہے یعنی جو دین اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے مقرر کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے کہ { شریعۃ } وہ ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے اور منہاج وہ ہے جو سنت رسول اللہ ﷺ نے بتایا او ابن جریر نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے سبیل اور سنت اور پھر سنتیں مختلف ہیں ایک شریعت تورات کی ہے ، ایک شریعت انجیل کی ہے اور ایک شریعت قرآن کریم کی۔ اس میں اللہ نے جو چاہا حلال کردیا زور جو چاہا حرام کردیا اگرچہ یہ سب کچھ عین اس کی حکمت کے تحت ہوا ہے اور دین ایک ہی ہے یعنی توحید الٰہی اور اخلاص اور ابن عباس ؓ کا قول ہی اس بارے میں اصول محکم ہے اس لئے کہ اس جگہ دین اور طریق کا ذکر ہے اور باتیں دو ہی ہیں جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے آنے سے تعلق رکھتی ہیں ایک وہ شریعت اور راستہ جو اللہ کی کتاب بتاتی ہے اور دوسرا وہ منہاج یا راستہ جو نبی کریم ﷺ کا عمل بتاتا ہے اور دونوں کھلے طریق ہیں اور دونوں ہی پر عمل لازم اور ضروری ہے ، ضروری رہا ہے اور ضروری رہے گا مفرداتِ راغب) اس سے بات واضح ہوگئی کہ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اب ہم اپنا آخری راستہ آپ ﷺ کو بتا رہے ہیں اور آپ ﷺ اسی کے مطابق عمل کر کے جس شریعت کی تکمیل کریں گے یہی شریعت دنیا کے قیام تک باقی رہے گی۔ آپ ﷺ کا کام ہماری کتاب یعنی قرآن کریم کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کر کے دکھانا ہے اور گزشتہ لوگوں ، ان کی خواہشات او اہواء کی پیروی آپ ﷺ کو نہیں کرنا ہے اس لئے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں علم کی بنا پر نہیں کرتے بلکہ اپنی خواہشات اور اپنے آبائو اجداد کی خواہشات و اہواء کے مطابق کر رہ ہیں۔ گویا ایک طرح سے جو کچھ بنی اسرائیل نے کیا تھا اس سے آپ کو منع فرمایا جا رہا ہے اور آپ کو منع کرنے سے مراد آپ کی امت کو منع کرنا ہے جو آپ ﷺ ہی کی وساطت سے کیا جاسکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ ہی اللہ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ ہی کی وساطت سے ہم کو سمجھایا جا رہا ہے کہ نبی اسرائیل نے علم پانے کے باوجود اپنی نفسانفسی سے دین میں ایسے اختلافات بپا کردیئے اور آپ میں ایسی گروہ بندیاں کر ڈالیں جن سے وہ اس قابل نہ رہے کہ دنیا کو اللہ کے راستے پر بلا سکیں اب اس اصل دین کی شاہراہ پر تمہیں کھڑا کیا گیا ہے تاکہ تم تم وہ خدمت انجام دو جسے بنی اسرائیل چھوڑ چکے ہیں اور اب وہ اس حکم کے ادا کرنے کے اہل ہی نہیں رہے لیکن افسوس کہ اس وقت ہماری حالت بھی بالکل وہی ہو چلی ہے جو بنی اسرائیل کی تھی کہ وہی گروہ بندیاں اور وہی کفر کے فتوے اور بالکل ہم بھی اسی طرح جوتیوں دال بٹ رہے ہیں جس طرح وہ بٹا کرتے تھے اور نتائج بھی بالکل وہی نکل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ہم کو سنبھل جانے کی ہمت دے کہ اسی کی ہمت اور توفیق سے کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما کہ تو ہی دعائوں کا قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کے مقابلہ میں یہ لوگ آپ ﷺ کے کچھ بھی کام نہیں آسکتے اور بلاشبہ کفار ایک دوسرے کے دوست ہیں اور متقیوں کا دوست اللہ ہے

انسانوں کو راضی کرنے کے بجائے اللہ کو راضی کرنے سے عمل صحیح اور درست ہوتا ہے : 91 ؎ قرآن کریم میں جب بھی کوئی حکم نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کرکے دیا جاتا ہے تو اس حکم پر غور و فکر کرنے ضرورت دو طرح سے ہوتی ہے ایک یہ کہ کیا یہ حکم آپ کے لئے خاص ہے یا آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی امت کے لئے ہے دوسرا یہ کہ اس حکم میں آپ ﷺ بھی شریک ہیں یا محض آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ کی امت تک بات پہنچانا ہے کیونکہ بہت سے احکام آپ ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کئے گئے ہیں لیکن ان کی حقیت اس حکم کو آپ ﷺ کی امت تک پہنچانا ہی ہوتی ہے کیونکہ امت کے لوگوں ہی سے وہ کوتاہی ہو سکتی ہے آپ ﷺ اس کوتاہی کو کبھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہی وہ بات ہے جس کی تفہیم نہ ہونے کے باعث بڑے بڑے لوگوں کو غلطیاں تلگی ہیں اور عوام بھی ان غلطیوں میں اکثر مبتلا نظر آتے ہیں۔ اور قرآن کریم کے تراجم کو سامنے رکھ کر بحثیں کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ یہ انداز خطاب ہر زبان میں موجود ہے کہ بات کرنے میں انسان کسی کو مخاطب کرتا ہے اور سنانا کسی اور کو مقصود ہوتا ہے اور اس میں ایک سے زیادہ حکمتیں مخفی ہیں جو غور کرنے سے خود بخود واضح ہوجاتی ہیں اور قرآن کریم لاریب اللہ کا کلام ہے لیکن انسانوں ہی کی زبان میں نازل کیا گیا اور انداز گفتگو بالکل وہی ہے جو اہل زبان کا ہے۔ ” اے پیغمبر اسلام ! اللہ کے مقابلہ میں وہ آپ ﷺ کے کچھ بھی کام نہیں آسکتے “ کا خطاب تو رسول اللہ ﷺ ہی ہیں لیکن اس سے تفہیم عا مسلمانوں کو کرائی گئی وہ اس وقت کے مومن تھے جب قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا اور آج کے بھی ہیں اور رہتی دنیا تک سارے آنے والوں کو کہا جا رہا ہے گویا اصل میں خطاب عام ہے۔ یعنی جب بھی جہاں بھی تم لوگوں کو راضی کرنے کے لئے اللہ کے دین میں کسی قسم کا ردوبدل کرو گے تو اللہ کے مواخذہ کرنے سے وہ تم کو نہیں بچا سکیں گے۔ ظاہر ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے ردوبدل کرنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی آپ ﷺ کرسکتے تھے لیکن عام مسلمانوں سے ایسی حرکت ممکن تھی ، ہے اور کی جاسکتی ہے اور اس وقت جو حالت ہے وہ تو اس قدر عام ہے کہ اب ہم جو کچھ کر رہے ہیں محض لوگوں ہی کے خوف سے کر رہے ہیں اور اللہ کے دین کی اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی دی گئی شریعت کی وہ کونسی بات ہے جو ہم مسلمانوں نے بدل کر نہیں رکھ دی اور پھر اکثریت اسی بدلی ہوئی شریعت پر چل نکلی ہے اور ہماری گروہ بندی کے علمائے کرائم اس بناوٹی شریعت کی ترجمانی کر رہے ہیں الا ماشاء اللہ اور یہ بیماری اس قدر عام ہے کہ اب کم ازکم کسی انسان سے بھی پوشیدہ نہیں رہ گویا اس معاملہ میں ہم مسلمانوں نے یہودیوں کے کان بھی کتر دیئے ہیں اور ہماری مذہبی حالت وہی اسی راہ پر چل رہی ہے اور سیاسی صورتحال اس سے بھی بدتر ہوچکی ہے اور ہماری آنکھیں مشاہدہ کر رہی ہیں کہ جو قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ حرف بہ حرف پورا ہو رہا ہے کہ ” ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں “ یہ الفاظ عالمی صورتحال پر کس طرح منطبق ہوچکے ہیں اور اللہ ہمیں متقین بننے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم بھی اپنے اللہ کو ساتھی سمھیں کیونکہ وہ متقین ہی کا ساتھی ہے جو ظالموں کا ساتھی نہیں ہو سکتا اگرچہ ظالم بھی سمجھیں او دنیا کے سارے انسان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں بہحال اللہ کے ساتھی ہونے کا مفہوم یہی ہے کہ ظالموں کا ڈر اور خوف دل سے جاتا رہے اور جب تک ان ظالموں کا خوف اور خطرہ ہمارے دلوں میں موجود ہے اس وقت تک ہم متقین نہیں بن سکتے خواہ کوئی ہوں ، کہاں ہوں اور کون ہوں۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے روشن دلائل ہیں اور (اسی طرح) یہ رحمت اور ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں

بصیرت کی نشانیاں یہی ہیں کہ ہدایت اور رحمت یقین لانے والوں کے لئے ہے : 02 ؎…{ بصائر } کی اصل ب ص ر ہے { بصائر } جمع ہے بصیرۃ جس کے معنی بینائی سمجھ اور دلیل کے ہیں اور اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ { بصیرۃ } کا استعمال صرف اور صرف دل کی بینائی کے متعلق ہوتا ہے آنکھ سے دیکھنے اور نظر کرنے کے لئے نہیں ہوتا { بصیرۃ } کے مختلف معانی آء ہیں جیسے عقل ، سمجھ ، عبرت ، دلیل اور حجت وغیرہ ، یہ قرآن کریم اور یہ شریعت جو نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنے عمل سے تمہارے سامنے پیش کی ہے دنیا کے سارے انسانوں کے لئے روشنی پیش کرتی ہے جس سے حق اور باطل کھل کر سامنے آگیا ہے اور کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہی لیکن ان روشن دلائل سے ہدایت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں اور وہی لوگ منزل مراد کو پہنچتے ہیں جو اس کے احکا کو خضر راہ بناتے ہیں اور اس کے ہدایت اور رحمت ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ زبان سے اقرار اور عمل سے انکار کرنے والے اپنے دعویٰ میں کبھی سچے نہیں ہو سکتے خواہ وہ کہاں ہوں ، کیسے ہوں اور کون ہوں۔