45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 45:1–11

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل فرمانا اللہ غالب (اور) دانا کی طرف سے ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

تمہارے پیدا کرنے میں بھی اور جانوروں کے جن کو (زمین میں) پھیلا رکھا ہے ، یقین کرنے والوں کے لئے (بہت) نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور جو اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا ، پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں تو پھر یہ لوگ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جو اس کے روربرو پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ تکبر کرتا ہوا اس طرح اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ سو اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنادیں

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی کی خبر پاتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے جہنم ہے اور جو کام وہ کرتے رہے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور نہ ہی وہ جن کو اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ (قرآن) سرتا سر ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت درددینے والا عذاب ہوگا

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات کے بھی اور اثرات کے بھی پھر بارش کا نزول اس کے اثرات اور مردہ زمین میں زندگی کا لہرکادوڑنا پھر ہواؤں کا اختلاف اور مختلف ہواؤں کے مختلف اثرات اور ہر شے اور ہر اثر کاٹھیک اپنے اپنے وقت پر اپنا اپنا کام کرنا یہ سب اس خالق کل کی عظمت کے گواہ ہیں اہل خرد کے لیے ۔ اور آپ کی نبوت خود بہت بڑا کرم بھی ہے اور بہت بڑی دلیل بھی کہ آپ پر اللہ کا کلام برحق نازل ہوکرسب کی رہنمائی فرمارہا ہے اگر اس سب کے باوجود یہ ایمان نہیں لاتے تو اللہ اور اس کی آیات کے بعدا س سے بڑی بات کا کوئی تصور نہیں کہ پھر اسے یہ مانیں گے بلکہ ہرجھوٹے اور بدکار کے لیے بہت بڑی خرابی ہے کہ اللہ کی آیات اسے سنائی جائیں اور وہ تکبر سے منہ پھیر کر اور سنی ان سنی کرکے چل دے ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنائیے کہ جو لوگ ہماری آیات کو سن کر انکار کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے لیے ایسے ہی ذلت کے عذاب بھی ہیں اور ان کے طرز عمل کے پیچھے یا اس کا انجام اور حاصل جہنم ہے جہاں ان کا کچھ کیا دھرا کسی کام نہ آئے گا اور نہ مال اور نہ ہی اعمال یہ سب اکارت جائے گا اور جن کو اللہ کے سواپنامددگار سمجھ رکھا ہے وہاں وہ بھی کوئی مدد نہ کرسکیں گے اور انہیں بہت ہی بڑا عذاب ہوگا یہ کتاب سراسر ہدایت ہے اس نے راستہ بتادیا اب جن لوگوں نے اس کونہ مانا اور کفر کی راہ اختیار کی اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے بہت بڑا دردناک عذاب ہے۔
Ayahs 45:12–21

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کردیا کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں (سمندری جہاز) چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور تمہارے لئے سب کچھ اپنی طرف سے مسخر فرما دیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک اس میں غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے پھر تم کو اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی اور انہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت بخشی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں۔ پھر علم آچکنے کے بعد انہوں نے آپس کی ضد سے باہم اختلاف کیا۔ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا سو آپ اسی طریقہ پر چلتے جائیے اور ان جاہلوں کی خواہشوں پر مت چلیئے

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یقینا یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتے اور یہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اور اللہ ہر پرہیزگاروں کے دوست ہیں

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

یہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، ان کی زندگی اور موت ایک جیسی ہوگی یہ لوگ بہت برا فیصلہ کرتے ہیں

آیات 12 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں درگذر کی جائے۔ آپ اہل ایمان سے فرمادیجئے کہ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات مہ نہ الجھیں ا اور ان لوگوں سے درگزر کریں کہ یہ بدبخت تو اللہ کے معاملات یعنی جزاوسزا پر یقین ہی نہیں رکھتے ان سے اعلی اخلاق کی کیا توقع کی جاسکتی ہے اور عنقریب یہ اپنے اعمال کی سزا پائیں گے اور اصولی بات ہے جو نیک کام کرے گا وہ خود ہی اس کا فائدہ حاصل کرے گا اور جو کوئی برائی کرے خود بھگتے گا کہ سب لوگوں کو لوٹ کر اللہ کی بارگاہ میں ہی حاضر ہوتا ہے۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بھی کتاب دی حکومت سے نوازا اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور انہیں بہترین نعمتیں عطا کیں مادی اور حسی بھی اور معنوی اعتبار سے بھی اور اس دور کے سارے لوگوں پر فضیلت اور بزرگی عطا کی اور دین کے تمام احکام و عقائد دلائل سے واضح کردیے مگر انہوں نے سب حقائق کا علم ہونے کے بعد اپنی خواہشات میں مبتلا ہوکربغاوت کی اور ان کی نفسانیت اور ایک دوسرے سے حسد کی وجہ سے اختلاف میں مبتلا ہوگئے ۔ اللہ کریم یوم قیامت ان کے اختلافات کا فیصلہ فرمادیں گے کہ اہل حق سرفراز ہوں گے اور نفس کے اسیر اپنی سزا پائیں گے۔ احکام میں صرف اسلام پر عمل ہوگا۔ پھر ہم نے آپ کو ایک خاص طریقہ عمل اور احکام عطا فرمادیا یہاں علماء کا ارشاد ہے کہ اصول یعنی عقاید میں تو سب دین پر متفق ہیں توحید و رسالت اور آخرت وغیرہ مگر احکام ہر دین کے اپنے ہیں لوگوں کے مزاج اور زمانہ کی ضرورت نیز حکمت الٰہیہ کے مطابق لہذا احکام میں اب صرف اسلامی شریعت پر ہی عمل ہوگا لہذا آپ احکام دین میں اسی پر عمل کیجئے اور ان نادانوں کی خواہشات کی کوئی پرواہ نہ کیجئے کہ یہ اللہ کے مقابلے میں کسی کے کیا کام آئیں گے کہ اللہ کے احکام کے مقابل ان کی بات مانی جائے یہ ایک دوسرے کی بات مانتے ہیں کہ ظالم ظالموں کے دوست ہیں کافر کافروں کادوست ہے مگر مومن کادوست تو اللہ رب العزت ہے اسے تو اس کی بات ماننا چاہے یہ سب دانش اور بصیرت کی باتیں اور اہل یقین کے لیے رحمت کا سبب اور ہدایت کی راہ ہے۔ ان بیوقوفوں کا خیال ہے کہ بدکار اور کافر ان لوگوں کے برابر رہیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کیے ۔ جزاوسزا تو عقلا بھی لازم ہے۔ یہ تو عقلا بھی لازم ہے کہ بھلائی اور برائی اپنے اپنے انجام کو پہنچیں جبکہ دار دنیا تو محض دار عمل ہے کتنے نیک اور دیانت دار یہاں تکلیف برداشت کرتے ہیں کتنے چور اور بدکار دولت جمع کرکے عیش کرتے ہیں اگرچہ ان کی دنیا کی زندگی بھی برابر تو نہیں ہوتی کہ نیک کا دل سکون سے لبریز جبکہ بدکار اور کافر کا دل کا سکون ناآشنا ہوتا ہے موت کی کیفیات بھی الگ الگ اور اس کے بعد بھر کے کردار کا صلہ بھی ضروری ہے ورنہ پھیر نیکی کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اور بدی کرنے والے کامیاب ٹھہرتے ہیں جو بات عقلا بھی درست نہیں یہ ان کی بات کہ موت کے بعد حیات یا بدلہ نہیں ہے نہایت احمقانہ بھی ہے اور بری بھی کہ انصاف کے خلاف ہے۔
Ayahs 45:22–26

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ان پر کوئی زیادتی نہ کی جائیگی

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنارکھا ہے اور باجود جاننے بوجھنے کے الل نے اس کو گمراہ کردیا اور اللہ نے اس کے کانوں اور اس کے دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ سو ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت کرے۔ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں او ہمیں تو صرف زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں مگر وہ صرف ایسا گمان کرتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کا صرف یہ جواب ہوتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کرکے) سامنے لاؤ

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اللہ تم کو زندہ رکھتے ہیں پھر تم کو موت دیں گے پھر قیامت کے دن جس میں ذرا شک ہیں تم کو جمع فرمائیں گے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

آیات 22 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ اللہ نے یہ سارانظام آسمانوں اور زمین کا بھی حق و انصاف پر بنایا ہے جس طرح اس کی تعمیر و تخلیق میں ہے ہر شے کو ایک حیثیت اور حق دیا گیا ہے اسی طرح سے اعمال کا بدلہ بھی یقینا دیاجائے گا مثلا جیسے کھانا کھانے کا نتیجہ ہے کہ بھوک ختم ہوجاتی ہے پھر اگر درست ہوتوصحت ہوتی ہے خراب ہوتوبیمار کردیتا ہے اسی طرح ایک نتیجہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز وسائل سے حاصل کیا گیا تھا یا نہیں جس کا اظہار یقینا قیامت کو ہوگا اور وہاں کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی مگر ان کی مصیبت یہ کہ آپ دیکھیں انہوں نے اپنی خواہش نفس کو ہی اپنا معبود بنارکھا ہے۔ خواہش نفس کو معبود بنارکھا ہے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی خواہش نفس کی عبادت کرتا ہوں مگر عبادت سے مراد اور حقیقت عبادت تو اطاعت ہے اگر اللہ کے مقابل کسی کی بھی اطاعت کی گئی تو اس کا معنی ہے اس کی عبادت کی گئی رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض خواہش نفس ہے۔ اللہ کریم اسے بچنے کی توفیق دے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کریم توفیق ہدایت سلب کرلیتے ہیں اور آدمی جانتا بوجھتا غلط راستے پر چل پڑتا ہے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے کہ قرب الٰہی یا اطاعت الٰہی کی خواہش ہی پیدا نہیں ہوتی کان ہدایت کی اور حق کی بات سننے سے بند ہوجاتے ہیں اور آنکھوں تک پر پردہ پڑجاتا ہے اور یہ اس گستاخی کی سزا ہے جو دنیا میں ملتی ہے اور یہ ایسی خوفناک سزا ہے کہ جب اللہ ہی نے راستے دیکھنے اور ہدایت پرچلنے کی توفیق سلب کرلی تو پھر ایسے لوگوں کے لیے کوئی بھی ہدایت کا سامان نہیں کرسکتا۔ گمراہی یاثواب۔ جس طرح بعض اعمال کے نتیجے میں دل پر مہر ہوجاتی ہے کان اور آنکھیں حق سننے یا دیکھنے سے محروم ہوجاتی ہیں اور خصوصا ایک حال میں کہ جب کوئی اپنی خواہشات کی پیروی کرکے اسے درست سمجھنا شروع کردے اور احکام الٰہی سے نامناسب یا دوسرے لفظوں میں غلط نظر آنے لگیں تو اس کی سزا یہ ہوتی ہے جو دنیا میں مل جاتی ہے اور آخرت کی تباہی اور دائمی جہنم کا سبب بنتی ہے صدافسوس کہ یہ صرف مرض آج کل کے نام نہاد ترقی یافتہ طبقے میں پھیل رہا ہے اسی طرح ہر نیک عمل کا ثواب یہ ہے کہ دل میں ایک کیفیت ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے جو مزید اطاعت الٰہی کی خواہش کہہ لیجئے اور مزید خلوص پیدا ہوتا ہے نیکی میں لذت محسوس ہوتی ہے اور گناہ سے نفرت بڑھتی ہے جو آخرت کے انعامات کا سبب بنتی ہے لہذا ہر آدمی کو اپناثواب ایک طرح سے جانچنا چاہیے یہ تصور درست نہیں کہ ادھاری مزدوری ہے عبادت کا ساراثواب آخرت میں ملے گا یہ بات سمجھنے کی ہے۔ ان سب باتوں کے بعد بھی یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ آخرت نہ ہوگی بلکہ یہی ہمارا مرناجینا ہے اور یہ سب تو زمانے کا وقت کا اور گزرتے ہوئے وقت کی خصوصیات کا اثر ہے کہ انسانی قوی کمزور ہوتے ہوئے موت تک پہنچادیتے ہیں۔ زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب ، موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشان ہونا ، لیکن کیا گزرتے وقت زمانے یادہر میں یہ خصوصیات از خود پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ عقلا بھی ہر شے کا سبب تلاش کرتے ہو اور موت وحیات کا سبب دہر کو قرار دیا گیا اگر ایسا بھی ہوتودہر کو کس نے پیدا کیا کس نے یہ خصوصیات رکھ دیں اور اگر وہ اپنی ذات سے خود ہے سب کمالات اس کے ذاتی ہیں تو پھر وہی اللہ ہے جس کا نام تم نے اطاعت سے بچنے اور عظمت سے انکار کرنے کے لیے دہر اور زمانہ رکھ دیا ہے اسی لیے نبی کریم زمانے کو برابھلا کہنے سے منع فرماتے ہیں کہ انہوں نے اللہ ہی کی صفات کا اس نام میں اقرار کررکھا ہے اگرچہ دہر اسمائے الٰہی میں نہیں اور اس نظریے پر اس کے پاس عقلی دلیل تو پہلے نہ تھی کہ کوئی علمی دلیل بھی نہیں محض اٹکل پچو لگاتے ہیں اور جب اللہ کی واضح آیات اور عقلی وعلمی دلائل پیش کیے جاتے ہیں تو لاجواب ہو کر کہنے لگتے ہیں کہ اگر آپ کی بات سچی ہے اور موت کے بعد حیات ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے لائیں ۔ یہ کتنی بودی بات ہے دوبارہ دنیا میں آنے کی تو بات ہی نہیں ہورہی اور اگر قیامت کی زندگی پہ شبے ہے کہ کوئی ایسا نہیں کرسکتا توفرمادیجئے کہ اپنی تخلیق کو دیکھ کر جو قادر مطلق ایک قطرے سے پیدا کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے شہ زوروں کو موت دے دیتا ہے وہی تمہیں پھر سے پیدا کرکے میدان محشر میں جمع فرمائے گا جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں آتی۔
Ayahs 45:27–37

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور آپ ہر فرقے کو دیکھیں گے کہ گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا آج تم کو تمہارے کاموں کا بدلہ ملے گا

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا دفتر ہے جو تمہارے مقابلے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے تم جو کچھ کیا کرتے تھے ، ہم لکھواتے جاتے تھے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے تو ان کے پروردگار ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائیں گے یہ بڑی واضح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہ جاتی تھیں ؟ سو تم ن تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا اور قیامت میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ؟ محض ایک خیال سا تو ہم کو بھی ہوتا ہے اور ہم کو (اس پر) یقین نہیں

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور (اس وقت) ان کو اپنے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ارشاد ہوگا جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے (پرواہ نہ کریں گے) اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ تم اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج نہ تو یہ لوگ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب ہے (اور) تمام جہانوں کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بڑائی ہے اور وہ غالب (اور) دانا ہے

آیات 27 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے تھے ہم فرشتوں سے لکھواتے جاتے تھے اب ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان قبول کرکے اللہ کی اطاعت کا راستہ اختیار کیا ان کا پروردگار اپنی رحمت سے سرفراز فرمائے گایہی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اللہ کی رحمت کو پالیاجائے اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ان سے کہاجائے گا کہ کیا تم لوگوں کو ہماری آیات اور دلائل اور احکام سنائے نہ جاتے تھے تب تم تکبر کا اظہار کرتے تھے اور اطاعت کی جگہ اکڑ دکھاتے تھے اور تم بہت بڑے گناہ گار بن گئے جب تمہیں کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت یقینا قائم ہوگی اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہا کرتے تھے ہم کسی ایسی بات کو نہیں جانتے یہ کوئی بات نہیں محض لوگوں کا خیال ہے اور ہمیں بھی سننے سنانے سے وہم سا ہوتا ہے مگر اس بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے اس طرح کے سب اعمال بد سامنے آجائیں گے اور جس عذاب کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے وہ انہیں لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہاجائے گا کہ جس طرح تم نے دنیا میں ہمیں بھلارکھا تھا آج ہم نے تمہیں بھلادیا۔ اللہ کا بھلادینا۔ بندہ تو آخرت کو اللہ کی بارگاہ میں پیشی کو اور خود اس کی ذات کریم کو بھول سکتا ہے مگر اللہ کے علم میں توہرشے ہر وقت موجود لہذا جہاں ایسی صفت کا بیان آئے تو وہاں معید بعید مراد لیا جاتا ہے معنی بعید سے مراد نتیجہ یہ ہوتا ہے یعنی بھلانے کا نتیجہ کہ پرواہ نہیں تم کہاں برباد ہوتے ہو جیسے کوئی چیز یاد ہی نہ رہے تو اس کی پرواہ ہی نہیں ہوتی۔ لہذا اب تمہارا انجام اور ہمیشہ کا گھردوزخ ہے جہاں کوئی تمہاری مدد بھی نہ کرسکے گا اور یہ تمہارے اس کردار کا نتیجہ ہے کہ تم نے اللہ کے احکام اور اس کی آیات کا مذاق اڑایا اور تمہیں دنیا کی زندگی اور عیش و آرام نے دھوکے میں رکھا تم سمجھے یونہی عیش کرتے رہیں گے لہذا اب تمہیں نہ تو دوزخ سے نکالاجائے اور نہ ہی ایسے لوگوں سے توبہ کرنے کو کہاجائے وہ وقت گزرچکا۔ اور اب سب تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور ساری کائنات کا کہ ہر ذرہ اپنی جگہ درست رکھا ہے اور ہر شے کو اس کی ضرورت اور عمل کے نتائج مہیا فرماتا ہے ارض وسما میں اس کی بڑائی ہے اور وہ ہر شے پر ہر آن غالب ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے کہ لوگ اس کی حکمت سے چندے مہلت پاکر اس کی عظمت کو بھول رہے ہیں مگر نتیجہ تو سامنے آجائے گا۔