45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 45:1
Ayahs 45:2–6

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اتارنا ہے کتاب کا اللہ کی طرف سے جو عزیز ہے حکیم ہے،

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں میں اور زمین میں نشانیاں ہیں مومنین کے لیے،

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے اللہ تعالیٰ پھیلاتا ہے ان کے پیدا کرنے میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں،

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور جو رزق اللہ نے آسمان سے اتارا ہے پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ فرما دیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں،

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ پر حق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، سو یہ لوگ اللہ کے اور اس کی آیات کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔

یہ کتاب عزیز و حکیم کی طرف سے ہے، آسمان اور زمین، انسان کی تخلیق، لیل و نہار کے اختلاف اور بارش کے نزول میں معرفت الٰہیہ کی نشانیاں ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ عزیز بھی ہے حکیم بھی ہے، اس کے بعد توحید کی نشانیاں بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اہل ایمان ان کو دیکھتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے زمین میں پھیلا رکھے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں اس طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے جو آسمانوں سے رزق نازل فرمایا یعنی بارش جس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ فرمایا یعنی اس کی خشکی کو دور فرما کر اس میں لہلہاتی ہوئی کھیتیاں اور سبزیاں پیدا فرما دیں اور ہوا کو بھیج کر جو مختلف کاموں میں لگایا جو کبھی پورب کو جاتی ہیں اور کبھی پچھم کو کبھی گرم ہے، کبھی ٹھنڈی، کبھی نفع دینے والی ہے، کبھی ضرر پہنچانے والی ان سب چیزوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں عقل والے دیکھتے اور سمجھتے ہیں یہ سب امور قادر مطلق جل شانہٗ کی مشیت اور ارادہ سے وجود میں آتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ آیات جن کو ہم حق کے ساتھ آپ پر تلاوت کرتے ہیں جو وحی کے ذریعے آپ تک پہنچتی ہیں یہ آپ کو فرشتہ سناتا ہے پھر آپ کے ذریعے آپ کے مخاطبین کو پہنچتی ہیں لیکن یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ان آیات کو سننے کے بعد ان کو کیا انتظار ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل سامنے آگئے۔ اس کی آیات جو وحی کے ذریعے آپ تک پہنچیں آپ سے ان لوگوں نے سنیں ان پر وہ ایمان نہیں لائے اس سب کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

بڑی خرابی ہے ہر جھوٹے کے لیے جو نافرمان ہے

ہر جھوٹے، گنہگار اور متکبر اور منکر کے لیے عذاب الیم ہے قریش مکہ میں جو لوگ ایمان نہیں لائے ان میں بعض لوگ کفر و شرک کے سرغنہ ہوئے تھے۔ جو اسلام قبول نہیں کرتے تھے اور دوسروں کو بھی قبول نہیں کرنے دیتے تھے ان میں سے ابو جہل بھی تھا اور نضر بن حارث بھی، معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ ﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍۙ007﴾ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی یہ عجمیوں کی باتیں (قصے کہانیاں) خرید کر لاتا تھا اور لوگوں کو سناتا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ جائیں اور قرآن شریف نہ سنیں۔ جس کا کچھ بیان سورة لقمان کے پہلے رکوع میں آیت کریمہ ﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ ﴾ کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ شان نزول خواہ کسی ایک شخص کے بارے میں ہو، لیکن الفاظ کا عموم ہر اس شخص کو شامل ہے جو اپنے عمل اور کردار سے آیت کے مفہوم کے مصداق ہو ارشاد فرمایا کہ ہر اَفَّاكٍ یعنی خوب جھوٹ بولنے والے اور ہر اَثِيْمٍ یعنی بڑے گنہگار کے لیے ویل ہے یعنی خرابی اور بربادی اور ہلاکت ہے (جس شخص کے بارے میں آیت نازل ہوئی وہ چونکہ بہت جھوٹا اور بہت بڑا گنہگار تھا اس لیے یہ دونوں لفظ لائے گئے اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ تھوڑا جھوٹ اور تھوڑے گناہ جائز ہیں۔ )
Ayahs 45:8–10

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جو اس کے رو برو پڑھی جاتی ہے۔ پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اصرار کرتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو آپ درد ناک عذاب کی بشارت دے دیجیے،

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کو جان لیتا ہے تو ان کا مذاق بناتا ہے ان لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے،

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے دوزخ ہے انہوں نے دنیا میں جو کچھ کمایا اور اللہ کے سوا انہوں نے جو کارساز بنائے ان میں سے انہیں کوئی بھی کچھ بھی نفع نہیں دے گا، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

اس بڑے جھوٹے اور بڑے گنہگار کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَيْهِ ﴾ (یہ اللہ کی آیات کو سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں) ﴿ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا ﴾ پھر وہ اپنے کفر پر اور شرارت پر اور گنہگاری پر اصرار کرتا ہے اس کا یہ اصرار تکبر کرنے کی حالت میں ہے ﴿ كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا 1ۚ ﴾ (وہ تکبر کرتے ہوئے اس طرح بےرخی اختیار کرلیتا ہے کہ گویا اس نے اللہ کی آیات کو سنا ہی نہیں) ﴿ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 008﴾ (سو آپ اسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں) یہ شخص یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں بڑا ہوں سردار بنا ہوا ہوں ہمیشہ اس حال میں رہوں گا یہ دنیا فانی ہے تھوڑی سی ہے پھر مرنا بھی ہے، موت کے بعد اللہ کے رسول ﷺ اور کتاب کو جھٹلانے والے درد ناک عذاب میں داخل ہوں گے۔ اَفَّاكٍ اور اَثِيْمٍ (جس کا ذکر اوپر ہوا) کی مزید بےہودگی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْـَٔا ا۟تَّخَذَهَا هُزُوًا 1ؕ ﴾ (یعنی ہماری آیات میں سے کوئی آیت اس کے پاس پہنچ جاتی ہے تو وہ اس کا مذاق بناتا ہے یعنی تمسخر کرتا ہے) ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌؕ009﴾ ان لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ﴿ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ جَهَنَّمُ 1ۚ﴾ (ان کے آگے دوزخ ہے اپنے شرک کی وجہ سے اس میں داخل ہوں گے) ﴿ وَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـًٔا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَآءَ 1ۚ ﴾ اور انہوں نے جو بھی کچھ کمایا وہ انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا اور اللہ کے سوا جو انہوں نے اپنے خیال میں اولیاء یعنی کارساز بنا رکھے تھے وہ بھی کچھ نفع نہ دیں گے ﴿ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌؕ0010﴾ (اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ )
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ایک بڑی ہدایت ہے۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے عذاب ہے سختی والا دردناک۔

﴿هٰذَا هُدًى1ۚ﴾ (یہ قرآن سراپا ہدایت ہے اس پر ایمان لانا اور عمل کرنا لازم ہے) مذکورہ صفات سے متصف ہونے والوں کے لیے تینوں طرح کا عذاب بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ ﴾ (الآیۃ) اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب کا بڑا حصہ ہوگا جو درد ناک ہوگا وہاں کا عذاب الیم بھی ہے یعنی درد ناک اور ﴿ مُّهِيْنٌ ﴾ ہے یعنی ذلیل کرنے والا اور عظیم یعنی بڑا بھی ہے۔
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو،

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں ان سب کو اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر بنا دیا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں۔

تسخیر بحر اور تسخیر ما فی السمٰوٰت والارض میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور دلائل توحید بیان فرمائے ہیں۔ اولاً : سمندر کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا یعنی تمہاری ضرورتوں میں کام آنے والا بنا دیا اس تسخیر کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلتی ہیں ان کشتیوں میں سفر کرتے ہو اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان بھی لے جاتے ہو اور اللہ کا فضل بھی تلاش کرتے ہو تجارت کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہو سمندر میں غوطے مارتے ہو موتی نکالتے ہو شکار پکڑتے ہو یہ سب اللہ کا فضل ہے تمہیں چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرو، ثانیاً یہ فرمایا کہ آسمانوں میں اور زمینوں میں جو چیزیں ہیں اللہ نے ان کو تمہارے کام میں لگا دیا یعنی ان چیزوں کو تمہارے کام میں آنے والا بنا دیا، یہ چیزیں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے مسخر ہیں اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق تمہارے منافع کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں بعض منافع آخرت سے متعلق ہیں آخر میں فرمایا کہ یہ جو سب کچھ مذکور ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں فکر کرنے والے لوگوں کے لیے (جو لوگ فکر کرتے ہیں وہ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ )
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

آپ ایمان والوں سے فرما دیجیے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے ایام کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ہر قوم کو اس کی جزا دے جو کماتے ہیں،

آپ اہل ایمان سے فرما دیں کہ منکریں سے در گزر کریں، ہر شخص کا نیک عمل اسی کے لیے ہے، اور برے عمل کا وبال بھی عمل کرنے والے پر ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ﴿ يَغْفِرُوْا ﴾ جو اب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے تقدیر عبارت یوں ہے قُلْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا غَفَرُوْا یَغْفِرُوْا یعنی آپ اپنے ایمان والوں سے فرما دیں کہ درگزر کر وہ اس پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں سے در گزر کریں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں کرتے یعنی کافر لوگ جنہیں اس کا خیال نہیں کہ اللہ تعالیٰ دنوں کو پلٹ دیتا ہے ہمیشہ یکساں زمانہ نہیں رہتا وہ دشمنوں سے انتقام لے لیتا ہے، صاحب روح المعانی نے اس کی دوسری تفسیر حضرت مجاہد تابعی ؓ سے یوں نقل کی ہے کہ ان لوگوں سے درگزر فرمائیں جنہیں ان اوقات کی امید نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ثواب دینے کے لیے مقرر فرمائے ہیں جن میں مومنین کو کامیابی حاصل ہوگی یعنی وہ لوگ آخرت کو مانتے ہی نہیں ان سے درگزر کریں، پھر بعض علماء کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ یہ آیت قتال کا حکم نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور بعض علماء کا قول نقل کیا ہے کہ نسخ نہیں ہوا بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو دشمنوں کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں جن سے ایذا پہنچتی ہے یا وحشت ہوتی ہے ان باتوں سے درگزر کرنا مراد ہے۔ ﴿لِيَجْزِيَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 0014﴾ (یعنی آپ ایمان والوں کو درگزر کرنے کا حکم دیں وہ درگزر کریں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی انہیں جزا دے گا اور کافروں کے عمل کی کافروں کو سز دے گا۔ )
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو شخص نیک کام کرے سو وہ اسی کی جان کے لیے ہے اور جو شخص کوئی برا کام کرے اس کا وبال اسی کے نفس پر ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ 1ۚ﴾ (جو شخص نیک عمل کرے سو وہ اسی کی جان کے لیے ہے) ﴿ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَاٞ ﴾ (اور جس نے برے کام کیے ان کا وبال اسی پر ہوگا) ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ 0015﴾ (پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اہل ایمان کو ایمان کا، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا ثواب ملے گا اور ان کے مخالفین کافرین اور مشرکین اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب دی اور حکم عطا کیا اور نبوت دی، اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، اور جہانوں پر فضیلت دی،

بنی اسرائیل پر طرح طرح کے انعامات، کتاب حکم اور نبوت سے سرفراز فرمانا، طیبات کا عطیہ، اور جہانوں پر فضیلت یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب دی اور حکم دیا۔ بعض حضرات نے حکم کا ترجمہ فقھہ فی الدین کیا ہے اور بعض حضرات نے اس سے حکمتیں مراد لی ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت بھی دی یعنی ان میں کثرت سے نبی بھیجے سورة مائدہ میں فرمایا ﴿ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا 1ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ 0020﴾ (اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! تم اللہ کے انعام کو جو تم پر ہوا ہے یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بہت سے پیغمبر بنائے اور تم کو صاحب ملک بنایا اور تم کو وہ چیزیں دیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیں۔ ) ﴿وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ﴾ (اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں دیں) یعنی عمدہ اور حلال اور لذت والی چیزیں عطا فرمائیں ﴿ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَۚ0016﴾ (اور ہم نے انہیں جہانوں پر فضیلت دی ان کے زمانہ میں جو لوگ تھے بنی اسرائیل کو ان پر فضیلت عطا فرمائی۔ )
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے دین کے بارے میں انہیں کھلی کھلی دلیلیں عطا کیں، سو انہوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا آپس کی ضدا ضدی کی وجہ سے، بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان امور میں ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے۔

﴿وَ اٰتَيْنٰهُمْ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ 1ۚ ﴾ (اور ہم نے انہیں دین کے بارے میں کھلے ہوئے واضح دلائل عطا فرمائے) جن میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بھی تھے۔ صاحب روح المعانی نے بعض حضرات کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی نشانیاں مراد ہیں یہودیوں کو آپ کی بعثت کی نشانیاں معلوم تھیں لیکن جب آپ تشریف لائے تو یہ لوگ جانتے ہوئے آپ کی بعثت اور رسالت کا یقین ہوتے ہوئے منکر ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ﴾ (پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ پہچانتے ہیں اس کا انکار کر بیٹھے۔ ) ﴿فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ 1ۙ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ 1ؕ﴾ (سو انہوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد ان کے پاس علم آگیا آپس کی ضدا ضدی کی وجہ سے) ﴿بَغْیًا﴾ کا ایک مطلب تو یہی ہے کہ آپس کی ضدا ضدی کی وجہ سے اختلاف میں لگ گئے دلائل واضح سامنے ہوتے ہوئے حق سے منہ موڑا اور ریاست اور چوہدراہٹ کی وجہ سے اختلافات میں پڑگئے اور ایک معنی یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر حسد کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کیا پہلے تو آپ کی آمد کے منتظر تھے۔ جب آپ تشریف لے آئے تو کہنے لگے کہ عرب میں سے کیسے کوئی شخص نبی ہوسکتا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ تم میں سے ہمیشہ نبی آتا رہے گا ان میں سے صرف چند ہی آدمی مسلمان ہوئے اور آج تک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ علامہ قرطبی ؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے دنیاوی ریاست اور چوہدراہٹ کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے سے بغاوت کی اور انبیاء کرام کو قتل کردیا یہی حال آپ کے زمانہ کے مشرکین کا ہے ان کے پاس کھلی ہوئی دلیلیں آگئی ہیں لیکن دنیاوی ریاست کے چلے جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کرتے ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ 0017 ﴾ (بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے۔ )
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ کو ایک خاص طریقہ پر کردیا سو آپ اس کا اتباع کیجیے اور ان لوگوں کی خواہشوں کا اتباع نہ کیجیے جو نہیں جانتے،

ہم نے آپ کو مستقل شریعت دی ہے، کفار آپ کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے، وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اور اللہ متقیوں کا ولی ہے یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے بعد ہم نے آپ کو ایک شریعت دی ہے جو دین سے متعلق ہے۔ قال القرطبی : ای علی منھاج واضح من امر الدین یشرع بک من الحق (علامہ قرطبی فرماتے ہیں یعنی آپ کو دین حق کی جو شریعت (قانون) دی ہے اس کے واضح راستہ پر چلتے رہیں) سو آپ اس کا اتباع کریں اور ان لوگوں کا اتباع نہ کریں جو نہیں جانتے یعنی قریش مکہ جو آپ کا دین قبول کرنے کے بجائے اپنے باپ دادوں کا دین قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں ان کا اتباع نہ کیجیے۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کو کچھ نفع نہیں دے سکتے اور بیشک ظلم کرنے والے ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اللہ متقیوں کا دوست ہے

دوسری آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتے یعنی اگر آپ نے ان کے دین کا اتباع کرلیا اور اس پر اللہ کی طرف سے گرفت ہوگئی تو یہ لوگ ذرا بھی آپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ 1ۚ ﴾ ظالم لوگ یعنی کفار، مشرکین اور منافقین اور یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی نیت رکھتے ہیں۔ ﴿ وَ اللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ 0019﴾ اور اللہ متقیوں کا ولی ہے وہ دنیا میں بھی ان کی مدد فرماتا ہے اور آخرت میں بھی مدد فرمائے گا۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لیے دانشمندیوں کا اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔

تیسری آیت میں قرآن مجید کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگوں کے لیے دانشمندیوں کا ذریعہ ہے اس میں غور کریں تو بصیرت کی باتیں پائیں گے۔ مزید فرمایا کہ قرآن ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جن لوگوں نے برے کام کیے کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے کہ ان کا مرنا اور جینا برابر ہوجائے، یہ برا فیصلہ کرتے ہیں،

کیا گنہگار یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے برابر کردیں گے یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اہل باطل کے اس گمان کی تردید فرمائی کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہم سے بڑھ کر درجہ والے نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہمیں مال دیا ہے آخرت میں بھی ہمیں نعمتیں دی جائیں گی جیسا کہ سورة حم سجدہ میں بعض لوگوں کا قول نقل کیا ہے ﴿ وَّ لَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْۤ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى ﴾ (اور اگر میں اپنے رب کی طرف واپس کردیا گیا تو بلاشبہ میرے لیے اچھی حالت ہوگی۔ ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مجرمین کفار و مشرکین یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم میں اور ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ان کا یہ خیال غلط ہے یہ بات نہیں ہے کہ ہم دونوں فریق کی زندگی اور موت کو برابر کردیں گے دنیا میں مومنین کی زندگی اور ہے اور وہ فرمانبردار ہیں اور موحد ہیں اللہ کے دین پر ہیں اگرچہ مال نہ ہو اور کافر منکر ہیں اپنے خالق کے باغی اور نافرمان ہیں پھر موت کے بعد مومن کو نعمتیں ملیں گی جنت میں داخل ہوں گے اور کافر عذاب میں مبتلا ہوں گے، دوزخ میں جائیں گے لہٰذا نہ دونوں کی زندگی برابر ہے اور نہ دونوں کی موت برابر۔ مومن دنیا میں بھی کافر سے بہتر ہے اور آخرت میں بھی کافر سے بہتر ہوگا کافروں کا یہ خیال کرنا کہ موت کے بعد ہم مومنین سے اچھی حالت میں رہیں گے یہ ان کی جہالت کی بات ہے جھوٹا اور غلط خیال ہے اسی کو فرمایا ﴿ سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ (رح) 0021﴾ (برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں) قال صاحب الروح : قولہ عزوجل سَوَآءً بدل من الکاف بناء علی انھا بمعنی مثل وقولہ تعالیٰ مَّحْيَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ فاعل سَوَآءً اجری مجری مستوکما قالو مررت برجل سواء ھو والعدم۔ 1 ھ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں سَوَآءً بدل ہے کاف سے اس بنیاد پر کہ کاف مثل کے معنی میں ہے۔ اور مَّحْيَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ سَوَآءً کا فاعل ہے جو کہ مستو کا قائم مقام ہے جیسا کہ کہتے ہیں : مررت برجل سواء ھو والعدم میں ایسے آدمی کے پاس سے گذرا کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ )
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کے ساتھ اور تاکہ ہر جان کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دیا جائے، اور ان لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

دوسری آیت میں فرمایا کہ ہر نفس کو اور زمینوں کو حق (یعنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا اور اس لیے پیدا فرمایا کہ انہیں دیکھنے والے یہ سمجھ لیں کہ ہر نفس کو اس کے اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں جو حکمتیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو دیکھنے والے پیدا کرنے والے کی قدرت کاملہ پر استدلال کریں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ جس ذات نے ان کو پیدا فرمایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ فرما دے حساب کتاب کے لیے حاضر کردے اور ان کے اعمال کی جزاء، سزا دیدے۔ سورة الاحقاف میں فرمایا ﴿ اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى 1ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ0033﴾ (کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا وہ اس پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے کیوں کر نہیں بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) وقولہ تعالیٰ ﴿لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ﴾ معطوف علی لفظة بالحق ای خلقھا لیدل سبحانہ وتعالیٰ بھا علی قدرتہ ولیعلم الناس انہ تعالیٰ یجزی کل نفس بما کسبت فان الخالق جل مجدہ لم یخلق السمٰوٰت والارض عبثا بلا حكمةٍ ولا الانس والجان عبثًا بل خلقھم لیجزیھم باعمالھم قال تعالیٰ ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 00115﴾ ﴿وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ﴾ بِالْحَقِّ کے لفظ پر معطوف ہے۔ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی قدرت کی دلیل دے اور تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمینوں کو بےفائدہ اور بےحکمت پیدا نہیں فرمایا اور نہ انسان و جن بےکار پیدا ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے پیدا کیا تاکہ ان کو ان کے اعمال کا صلہ دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 00115﴾
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کانوں پر اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، سو کون ہے جو اللہ کے بعد اس شخص کو ہدایت دے گا، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے،

اے مخاطب ! کیا تو نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا ان آیات میں مشرکین کی گمراہی بتلائی کہ وہ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے ہیں اور وقوع قیامت کا بھی انکار کرتے ہیں ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کی خواہش ہی کو معبود بنا رکھا ہے جس کی عبادت کرنے کو جی چاہتا ہے اسی کی عبادت کرنے لگ جاتے ہیں کبھی پتھر کے سامنے جھکے عاجزی کر رہے ہیں کبھی اس پتھر کو سجدہ کیے ہوئے نظر آتے ہیں، علامہ قرطبی نے حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ عرب کے مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ کسی پتھر کو پوجنے لگتے تھے پھر جب اس سے اچھا پتھر نظر آجاتا تھا تو پہلے پتھر کو پھینک دیتے تھے اور دوسرے پتھر کو پوجنے لگتے تھے یعنی ان کا معبود ان کی نفس کی خواہش کے مطابق ہوتا تھا۔ آیت کا دوسرا معنی مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ آپ نے انہیں دیکھا جو اپنے نفس کے پابند ہیں ؟ انہیں ہدایت سے کوئی محبت نہیں اور گمراہی سے کوئی نفرت نہیں جو نفس چاہتا ہے وہی کہتے ہیں اور وہی کرتے ہیں یہ تفسیر پہلے مفہوم کو بھی شامل ہے عربی میں ھَوٰی خواہش نفس کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جتنی جگہ بھی هَوٰىهُ کا ذکر ہے مذمت کے ساتھ ہی ہے سورة القصص میں فرمایا ﴿ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ ﴾ (اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جس نے اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کا اتباع کیا) اتباع ھویٰ کے بارے میں ضروری تنبیہ جیسا کہ نفس کی خواہش کفر پر جما کر رکھتی ہے اور اسلام قبول کرنے سے باز رکھتی ہے اسی طرح بہت سے مدعیان اسلام بھی نفس کے پابند ہونے کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر گناہ کرتے ہیں جو نفس کی خواہش ہوتی ہے وہی کرتے ہیں نمازیں بھی چھوڑتے ہیں، زکوٰتیں بھی حساب کرکے نہیں دیتے حرام مال بھی کماتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں دشمنوں کی طرح شکل و صورت بناتے ہیں اور ان جیسا لباس پہنتے ہیں اور طرح طرح کے گناہوں کے مرتکب رہتے ہیں اتباع ھَوٰی یعنی نفس کی خواہش پر چلنا برباد کردینے والی چیز ہے اور نفس کی مخالفت کرنا کامیابی کا راستہ ہے سورة النازعات میں فرمایا ﴿وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ0041 ﴾ (اور لیکن جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔ ) مومن بندہ پر لازم ہے کہ نفس کی خواہشوں سے خبردار رہے جائز اور حلال خواہش پوری کرنے کی اجازت ہے لیکن اگر نفس کی ہر خواہش پورا کرنے کے پیچھے پڑا تو نفس تباہ کرکے چھوڑے گا رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہوشیار وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور احمق وہ ہے جس نے اپنے نفس کو اس کی خواہشوں کے پیچھے لگا دیا اور اللہ تعالیٰ سے امیدیں باندھتا رہا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 451) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں نجات دینے والی یہ چیزیں ہیں : (1) پوشیدہ اور ظاہر طریقے پر اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا۔ (2) رضا مندی اور ناراضگی میں حق بولنا۔ (3) مالداری اور تنگدستی میں میانہ روی اختیار کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں : (1) نفس کی خواہش جس کا اتباع کیا جائے۔ (2) کنجوسی جس کی اطاعت کی جائے۔ (3) انسان کا اپنے نفس پر اترانا اور یہ ان میں سب سے زیادہ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 434) مومن پر لازم ہے کہ نفس کی خواہشوں کو رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے تابع کردے جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد ہے (لاَیُومِنُ اَحَدُكمْ حَتّٰی یَكوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 30) البتہ اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے نفس کو دبانا پڑتا ہے اور اسے خیر کے لیے آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ ﴿وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ ﴾ (اور اسے اللہ نے علم والا ہوتے ہوئے گمراہ کردیا) ﴿ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً 1ؕ﴾ یہ تینوں جملے پہلے جملہ پر معطوف ہیں چاروں جملوں کا ترجمہ یوں ہوا کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ فرما دیا اور اس کے کانوں پر اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ﴿فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ (سو اللہ کے گمراہ کرنے کے بعد اسے کون ہدایت دے گا) ﴿اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 0023﴾ (کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے) درحقیقت نفس کی خواہشوں کے پیچھے چلنا انسان کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ہے اتباع ھویٰ کرتے کرتے اور جی چاہی زندگی پر چلتے چلتے قبول حق کی استعداد ختم ہوجاتی ہے پھر علم بھی کام نہیں دیتا جانتے اور سمجھتے ہوئے حق کو قبول نہیں کرتا کان بھی حق سننے کو تیار نہیں اور دل بھی قبول نہیں کرتا اور آنکھوں پر بھی پردہ پڑجاتا ہے اتنی دور کی گمراہی میں پڑجانے کے بعد ہدایت پر آنے کی کوئی بھی امید نہیں رہتی۔ قولہٗ تعالیٰ : ﴿عَلٰى عِلْمٍ ﴾ یجوز ان یکون حالا من الفاعل ای اضلہ اللّٰہ عالما بانہٗ من اھل الضلال فی سابق علمہٖ ، ویجوزان یکون حالا من المفعول ای اضلہ عالما بطریق الھدی۔ ﴿عَلٰى عِلْمٍ ﴾ یہ بھی جائز ہے کہ یہ فاعل سے حال ہو یعنی اللہ نے اسے گمراہ کیا اپنے ازلی علم سے یہ جانتے ہوئے کہ یہ گمراہوں میں سے ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مفعول سے حال ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کیا اس حال میں یہ ہدایت کا راستہ جانتا تھا۔ ﴿فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ بعض نے کہا اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کون ہدایت دے سکتا ہے۔ وقولہ تعالیٰ : ﴿فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ ای من بعد اضلال اللّٰہ ایاہ وقیل معناہ فمن یھدیہ غیر اللّٰہ
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ نہیں ہے یہ مگر ہماری دنیا والی زندگی ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرے گا مگر زمانہ، اور انہیں اس کا کچھ بھی علم نہیں، یہ لوگ صرف گمان کرتے ہیں،

دہریوں کی جاہلانہ باتیں اور ان سے ضروری سوال اس کے بعد مشرکین کے انکار قیامت کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ قَالُوْا مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا ﴾ ان لوگوں نے کہا کہ جس کا نام زندگی ہے وہ ہماری اس دنیا والی زندگی کے سوا کچھ نہیں ہے ہمیں ایک ہی بار یہ زندگی ملی ہے مرنے کے بعد پھر جی اٹھنا نہیں ﴿نَمُوْتُ وَ نَحْيَا ﴾ موت وحیات کا یہ سلسلہ جاری ہے ہم مرجائیں گے اور ہماری اولاد اس دنیا میں پیچھے زندہ رہ جائے گی پھر وہ بھی مرجائیں گے اور ان کی اولاد زندہ رہ جائے گی یہ قیامت کا آنا اور حساب کتاب ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ﴿ وَ مَا يُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ 1ۚ﴾ اور ہمیں ہلاک نہیں کرے گا مگر زمانہ۔ عموماً منکرین اسلام کا یہی عقیدہ ہے کہ زمانہ ہی سب کچھ کرتا ہے دنیا میں آتے ہیں مرجاتے ہیں قیامت اور حساب و کتاب کچھ نہیں ان میں بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے بھی قائل ہیں لیکن موت اور حیات اور انقلابات اور حوادث اور مصائب کو زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جب تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ زمانہ نے ایسا کیا اور زمانہ کو جو برا کہتے ہیں یہ برا کہنا اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچتا ہے کیونکہ سب کچھ حوادث اور انقلابات اسی کی مشیت اور ارادہ سے وجود میں آتے ہیں اور زمانہ خود اسی کی مخلوق ہے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود کو نہیں مانتے اور ہر نشیب و فراز کو زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہیں نہ عالم کی ابتداء کے قائل ہیں اور نہ انتہا کے، ان کو عرف عام میں دہریہ کہا جاتا ہے ان لوگوں سے اگر بات کی جائے کہ زمانہ تو رات دن گزرنے کا نام ہے اس میں کوئی تاثیر نہیں پھر زمانہ میں تو خود تغیرات ہیں وہ فاعل مختار کیسے ہوسکتا ہے اور یہ جو مخلوق کی انواع و اقسام ہیں اور آپس میں امتیازات ہیں انسانوں میں قلب ہے اور جوارح ہیں، اور درخت ہیں ان کے پھل مختلف ہیں مزے مختلف ہیں، جانور کی صورتیں اور ان کے اعمال مختلف ہیں اور اس طرح کے ہزاروں امتیازات ہیں یہ صرف رات دن کے گزرنے سے وجود میں سے کیسے آگئے، آم کا پھل بڑا اور جامن کا چھوٹا کیوں ہے کھجور کا تنا لمبا کیوں ہے اس کے پھل چھوٹے کیوں ہیں بڑے بڑے سمندروں کا پانی شور کیوں ہے میٹھا کیوں نہیں ہوتا، کسی کے اولاد ہوتی ہی نہیں کسی کے صرف لڑکے ہوتے ہیں کسی کے صرف لڑکیاں ہوتی ہیں تو ان سب باتوں کے جواب سے دہریہ عاجز رہ جاتے ہیں۔ ﴿وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ 1ۚ﴾ (اور انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے) ﴿اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ 0024 ﴾ (بس اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں) ان لوگوں کی ان باتوں کی وجہ سے قیامت رک نہ جائے گی، وہ ضرور واقع ہوگی جو اس کے منکروں کے لیے عذاب شدید کا باعث بنے گی۔
Ayahs 45:25–26

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے اوپر ہماری کھلی کھلی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کی حجت اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ اگر تم سچے ہو،

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے پھر موت دیتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

منکرین قیامت کی حجت بازی ﴿وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ ﴾ اور جب ان کے اوپر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں جن میں قیامت واقع ہونے کا بھی تذکرہ ہوتا ہے اور اس کے امکان اور وقوع کے دلائل دئیے جاتے ہیں تو اصلی دلیل سے عاجز ہوکر کٹ حجتی پر اتر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیامت آنے کی جو خبر دے رہے ہو اگر تمہارا یہ خبر دینا سچ ہے تو ہمارے باپ دادوں کو سامنے لے آؤ جنہیں مرے ہوئے زمانہ دراز گزر چکا ہے اگر وہ لوگ زندہ ہوکر سامنے آجائیں تو ایک تو ہمیں موت کے بعد زندہ ہونے کا یقین آجائے گا دوسرے ہم ان سے پوچھ لیں گے کہ موت کے بعد کیا کیا ہوا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ اللہ تمہیں زندگی دیتا ہے) یعنی بےجان نطفہ سے پیدا فرماتا ہے ﴿ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ﴾ (پھر تمہیں موت دے گا) ﴿ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ ﴾ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں یعنی تم مانو یا نہ مانو ایسا ہونا ہی ہے اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں جو تمہارے کہنے کے مطابق تمہارے باپ دادوں کو زندہ فرمائے، اس نے وقوع قیامت کی خبر دے دی امکان اور وقوع کے دلائل بیان فرما دئیے سب پر حجت پوری ہوگئی ﴿ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (رح) 0026﴾ اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کے نبیوں نے جو وقوع قیامت کی خبر دی ہے وہ سچ ہے۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ملک آسمانوں اور زمین کا، اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ میں پڑجائیں گے،

قیامت کے دن اہل باطل خسارہ میں ہوں گے، ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی اور اپنی اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی، اہل ایمان رحمت میں اور اہل کفر عذاب میں ہوں گے یہ سورة الجاثیہ کے آخری رکوع کی آیات میں، اول تو یہ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک صرف اللہ ہی کے لیے ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی خالق ہے اور مالک ہے اور بادشاہ ہے ملک اور ملکوت سب اسی کا ہے پھر آخری دو آیتوں میں بھی اس مضمون کو دہرایا ہے درمیان میں قیامت کے احوال و اہوال بیان فرمائے اور مومنین اور کافرین میں جو قیامت کے دن امتیاز ہوگا اس کا تذکرہ فرمایا اور مجرمین سے جو گفتگو ہوگی اس کو بتایا۔ ارشاد فرمایا ﴿وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ 0027﴾ (اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والے یعنی مجرمین، منکرین، مشرکین، اور کافرین نقصان میں پڑجائیں گے) ان لوگوں نے دنیاوی اغراض کے لیے حضرات انبیاء کرام کی تکذیب کی اور اس انداز سے زندگی گزاری جیسے ہمیشہ اسی دنیا میں رہیں گے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو تنہا ہوں گے نہ اولاد ہوگی نہ اصحاب ہوں گے نہ احباب ہوں گے جو جرم کیے تھے ان کی سزا ملے گی جو کچھ کمایا تھا وہ دنیا میں دھرا رہ گیا اب جرم ہی جرم ہے خسارہ ہی خسارہ ہے بربادی ہی بربادی ہے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو ہر امت کو دیکھے گا کہ وہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی، ہر امت اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی، آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے،

﴿وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ (اور جو بھی امتیں دنیا میں گزریں ان میں سے ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہوئی ہوگی) یعنی ہر شخص خائف اور پریشان ہوکر مذکورہ صورت اور حالت میں ہوگا یہ جاثیہ کا لفظی ترجمہ ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جاثیہ یعنی مُجْتَمَعَة ہے یعنی سب امتیں جمع ہوں گی۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ (ہر امت کو اس کی کتاب یعنی اعمالنامے کی طرف بلایا جائے گا) جو پہلے سے فرشتوں نے لکھ رکھے ہوں گے) یہ بلانا ہر ایک کا اعمالنامہ ہاتھ میں دینے کے لیے ہوگا جس کے بعد حساب کتاب شروع ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمان ہوگا ﴿ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0028﴾ (آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے)
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں حق کے ساتھ بولتی ہے، بیشک ہم لکھوا لیتے تھے جو تم کرتے تھے،

مزید ارشاد ہوگا ﴿ هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بالْحَقِّ 1ؕ﴾ (یہ ہماری کتاب ہے (یعنی تمہارے اعمال نامے ہیں) جو تمہارے اعمال کے بارے میں بالکل صحیح گواہی دے رہے ہیں) ﴿ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0029﴾ (بےشک ہم لکھوا لیتے تھے جو تم کرتے تھے) جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور تھے بندوں کے اعمال لکھنا ان کے سپرد تھا یہ انہیں کے لکھے ہوئے اعمالنامے ہیں جو بالکل صحیح ہیں۔ فائدہ : لفظ جاثیہ کا ترجمہ اگر مُجْتَمَعَة ہو تو اس پر بھی کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا اور اگر یہ معنی لیے جائیں کہ حساب کے وقت سب ادب سے دوزانوں بیٹھے ہوں گے تو اس پر بھی کوئی اشکال نہیں اگر یہ معنی لیے جائیں کہ حساب کے ڈر اور گھبراہٹ کی وجہ سے سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے اور حضرات انبیاء کرام کی امتوں کے صالحین کو ان میں سے عام مخصوص منہ البعض کے طور پر مستثنیٰ مان لیا جائے تب بھی اشکال باقی نہیں رہتا اگر لفظ کلَّ کا مصداق سب ہی کو لیا جائے تو یہ بظاہر ﴿وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ 0089﴾ کے معارض معلوم ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کیفیت کی مدت اور مقدار بیان نہیں کی گئی اس لیے اگر ذرا دیر کو صالحین کی بھی یہ کیفیت ہوجائے تو یہ بھی معارض نہیں ہے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یہ کھلی ہوئی کامیابی ہے،

اس کے بعد اہل ایمان کی جزا بیان فرمائی ﴿ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں یعنی جنت میں داخل فرمائے گا، جہاں رحمت ہی رحمت ہوگی یہ جنت اور رحمت کھلی ہوئی کامیابی ہے
Ayahs 45:31–32

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا کیا تمہارے پاس میری آیات نہیں آئیں جو تم پر پڑھی جاتی تھیں ؟ سو تم نے تکبر کیا اور تم مجرم قوم تھے،

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا گیا کہ بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم نے کہا ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم تو بس یوں ہی خیال کرتے ہیں اور ہم یقین کرنے والے نہیں ہیں،

پھر کافرین کی سزا کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (الآیات) جن لوگوں نے کفر کیا قیامت کے دن عذاب میں داخل ہوں گے جب مصیبت میں گرفتار ہوں گے تو چھٹکارہ کے لیے معذرت کریں گے اس وقت ان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کیا جائے گا ﴿اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ ﴾ کیا تمہارے اوپر میری آیات تلاوت نہیں کی جاتی تھیں ؟ جب یہ آیات تمہارے پاس پہنچیں تو تم نے تکبر کیا اور حق قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھا، کفر پر قائم رہنے ہی میں تم اپنی بڑائی سمجھتے رہے، ﴿وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 0031﴾ (اور تم جرم کرنے والے لوگ تھے) تم نے تکبر کیا حق کو ٹھکرایا مجرمانہ زندگی اختیار کی آج تمہارے لیے اسی جرم کی سزا کا فیصلہ کیا گیا ہے ان سے مزید خطاب ہوگا کہ دنیا میں تمہارا یہ حال تھا کہ جب تم سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ حق ہے قیامت ضرور آئے گی اس میں شک نہیں ہے تو جواب یوں دے دیتے تھے : ﴿مَّا نَدْرِيْ مَا السَّاعَةُ ﴾ (ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے) ﴿ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا ﴾ (ہم خیال نہیں کرتے مگر تھوڑا سا) مطلب یہ تھا کہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا کہ قیامت قائم ہوگی لوگوں کے کہنے سے یوں ہی چلتا ہوا خیال دل میں آجاتا ہے ﴿ وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ 0032﴾ (اور ہم یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ )
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جو عمل انہوں نے کیے تھے ان کے برے نتیجے ظاہر ہوگئے اور وہ جس چیز کا مذاق بنایا کرتے تھے وہ ان پر نازل ہوگئی

یہ لوگ قیامت کا صرف انکار ہی نہیں کرتے تھے۔ اس کا مذاق بھی بناتے تھے اس لیے فرمایا ﴿وَ بَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا﴾ (اور انہوں نے جو برے کام کیے تھے ان کے برے نتائج وہاں ان کے سامنے آجائیں گے) ﴿وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠0033﴾ (اور ان پر وہ عذاب نازل ہوجائے گا جس کا استہزا اور تمسخر کیا کرتے تھے) جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت پر ایمان لاؤ اور برے اعمال سے بچو تو حق کی دعوت کا مذاق بناتے تھے اس کا نتیجہ سامنے آگیا۔
Ayahs 45:34–35

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھولتے ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی ملاقات کو بھول گئے، اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارے لیے کوئی مددگار نہیں،

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق کی چیز بنالیا اور دنیا والی زندگی نے تمہیں دھوکہ دیا، سو آج وہ اس میں سے نہیں نکالے جائیں گے اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ راضی کرلو،

﴿وَ قِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰىكُمْ ﴾ (مجرمین سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں) یعنی تمہیں عذاب میں ڈال کر چھوڑ دیتے ہیں جیسے کوئی چیز بھول بھلیاں کردی جاتی ہیں، یہ نہ سمجھنا کہ کبھی عذاب سے چھٹکارہ ہوجائے گا جیسے تم نے آج کے دن کو بھلایا ایسے ہی ہمیشہ کے لیے تمہیں رحمت سے محروم کردیا گیا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ مجرمین سے مزید خطاب ہوگا کہ یہ جو کچھ نتیجہ (عذاب کی صورت میں) تمہارے سامنے ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق بنایا تھا اور تمہیں دنیا والی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا تھا، آج جب یہاں دوزخ میں ڈال دئیے گئے تو نہ عذاب سے نکالے جاؤ گے اور نہ یہ موقعہ دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو یہ موقعہ دنیا میں تھا وہاں توبہ کرسکتے تھے اور اپنے رب کو راضی کرسکتے تھے، جب موت آگئی اور اس کے بعد میدان حشر میں پہنچ گئے تو کوئی طریقہ خالق ومالک جل مجدہٗ کے راضی کرنے کا نہیں رہا۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو اللہ ہی کے لیے ہے سب تعریف جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمینوں کا اور رب ہے سارے جہانوں کا،

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہ عزیز ہے حکیم ہے۔

اللہ ہی کے لیے حمد ہے اور اسی کے لیے کبریائی ہے ﴿فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ ﴾ (الی آخر السورۃ) (سو اللہ ہی کے لیے حمد ہے، جو آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی رب ہے اور سارے جہانوں کا رب ہے اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں میں زمین میں اور وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں۔ ) وھذا اٰخر تفسیر سورة الجاثیة، والحمد للّٰہ رب کل راکبةٍ وما شیة والسلام علی من علم اعمالاً لھا اجورٌ باقیة، وعلی اٰلہٖ واصحابہٖ الذین جاھدوا کل باغیة وطاغیة