Ayah 45:1(45:1) حم : حرف مقطعات ہیں۔
Ayahs 45:2–3(45:2) تنزیل الکتب : تنزیل بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی اتارنا۔ نازل کرنا۔ الکتب ای القران۔ مرکب اضافی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن مجید کا اتارا جانا یا نازل کرنا یا کیا جانا۔ من اللّٰہ اللہ کی طرف سے ہے۔
العزیز الحکیم۔ جو العزیز الحکیم ہے۔ العزیز غالب الحکیم حکمت والا (ہے) یعنی غالب اور حکمت والے اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayah 45:4(45:4) وما یبث من دابۃ۔ واؤ عاطفہ۔ جملہ کا عطف خلقکم پر ہے ما موصولہ یبث مضارع واحد مذکر غائب۔ بث (باب نصر) مصدر ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ دابۃ جانور، چلنے والا۔ رینگنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ اسم فاعل کا صیغہ مذکر اور مؤنث ، دنوں کے لئے مستعمل ہے ۃ وحدت کی ہے دواب جمع ہے (تمہاری) اور ان جانوروں کی پیدائش میں جن کو اللہ نے (زمین پر) پھیلا رکھا ہے یقین رکھنے والوں کے لئے بہت سے دلائل ہیں۔
Ayah 45:5(45:5) واختلاف الیل والنھار : ای وفی اختلاف الیل والنھار۔ اور (اسی طرح) رات دن کے ادل بدل میں موسموں کے گھٹاؤ بڑھاؤ میں۔
رزق سے یہاں مراد بارش ہے کیونکہ بارش پیدائش رزق کا سبب ہے۔
فاحیابہ۔تعقیب کا ہے بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب رزق کے لئے ہے (یعنی بارش سے)
تصریف الریاح۔ مضاف مضاف الیہ تصریف بروزن تفعیل مصدر ہے ہواؤں کا ہیر پھیر، ہواؤں کا بدلنا۔ یعنی مختلف جہات میں چلنا۔ اور مختلف حالات میں مختلف صورت میں چلنا۔ ان سب میں اہل عقل کے لئے دلائل ہیں۔
Ayah 45:6(45:6) نتلوھا : نتلوا مضارع جمع متکلم ہم پڑھ کر سناتے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ، یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے اور اس کا مرجع آیات ہے۔ علیک آپ پر ۔ آپ کو، یہ اللہ کی آیات ہیں جو صحیح صحیح طور پر پڑھ کر ہم آپ کو سناتے ہیں۔
ای۔ کونسی، جس ، کس کس۔ کیا کیا۔ یہ استفہامیہ بھی ہوتا ہے اور شرطیہ بھی۔ حدیث : بات۔
Ayah 45:7(45:7) ویل اسم مرفوع۔ ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی، عذاب کی شدت، ویل اصل میں کلمہ عذاب و ہلاکت ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس سے فعل کا کوئی صیغہ نہیں آتا۔ (اضواء البیان)
افاک۔ جھوٹا۔ افک سے مبالغہ کا صیغہ ہے بروزن فعال۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہا جاتا ہے۔
اور آیت شریفہ ولمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا۔ میں مؤتفکۃ سے مراد بستیاں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے لاٹ دیا تھا۔ اور جھوٹے کو افاک اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اعتقاد حق سے باطل کی طرف سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے کاموں کی طرف پھرتا ہے۔
اثیم بھی اثم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ بمعنی کثیر الاثم بڑا گنہگار ہے۔ اثم سے قبل حرف عطف محذوف ہے۔
مکذبین کے لئے ویل سورة مرسلات میں بھی مذکور ہے ویل یؤمئذ للمکذبین (77:15) بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔
Ayah 45:8(45:8) یسمع ایت اللّٰہ۔ وہ اللہ کی آیات کو سنتا ہے۔ یہ افاک اثیم کی تیسری صفت ہے یا یہ جملہ مستانفہ ہے۔
تتلی علیہ۔ یہ جملہ ایت اللّٰہ سے حال ہے یعنی درآں حالیکہ وہ (آیات) اس کے اوپر پڑھی جاتی ہیں۔ تتلی مضارع مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ پڑھی جاتی ہیں۔ وہ تلاوت کی جاتی ہیں۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ ت ل و۔ مادہ۔
ثم۔ حرف عطف ہے مہلت کے ساتھ ترتیب کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ عام طور پر التراخی الوقت (وقت کی تاخیر کا وقفہ یعنی ترتیب میں ایک شے کا دوسری شے سے کینے وقفہ کے بعد وقوع ہوا) کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بمعنی پھر۔ اس کے بعد لیکن بعض دفعہ التراخی فی الرتبہ کے لئے بھی بول لیتے ہیں۔ یہاں اس کا ستعمال التراخی فی الرتبۃ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ افاک ہے اثیم ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایت اللّٰہ کو سن کر بھی اپنے اعتقادات باطل پر بھی مصر ہے۔
یصر۔ مضارع واحد مذکر غائب اصرار (افعال) مصدر۔ وہ اصرار کرتا ہے وہ مصر ہے۔
مستکبرا۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ مغرور۔ غرور کرنے والا۔ اپنے کو بڑا سمجھنے والا۔ سرکشی کرنے والا۔ منصوب بوجہ ضمیر یصر سے حال ہونے کے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ واذا تتلی علیہ ایتنا ولی مستکبرا کان لم یسمعھا (31:7) اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا ان کو سنا ہی نہیں۔
کان : اصل میں یہ لفظ کان ہی تھا۔ کاف حرف تشبیہ ان حرف مشبہ بالفعل اسی کی طرح اس کا معنوی فائدہ بھی ہے لیکن تخفیف نون کے بعد عمل اور لفظی تصرف ختم ہوگیا۔ اب نہ اسم کو نصب دے سکتا ہے اور نہ خبر کو رفع۔ گویا کہ۔
لم یسمعھا : لم یسمع مضارع نفی جحد بلم۔ واحد مذکر غائب ۔ (گویا کہ) اس نے سنا ہی نہیں۔
فبشرہ۔سببیہ ہے۔ یعنیسے پہلے کا کلام بعد والے کلام کی علت ہے۔ بشر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تبشیر (تفعیل) مصدر۔ بشارت۔ اس خبر کو کہتے ہیں جس کو سن کر چہرے پر خوشی کے آثار پیدا ہوجائیں۔ یہاں چہرے پر آثار غم پیدا کرنے والی خبر کو بطور استہزاء بشارت کہا ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے۔ تحیۃ بینھم ضرب وجیع ان کا آپس کا سلام دردناک ضرب ہے۔ مطلب یہ کہ کارزار کی گرمی سے ان کے سلام کی ابتدا ہوتی ہے۔
Ayah 45:9(45:9) واذا۔ واؤ عاطفہ ہے اذا ظرف زمان ہے بمعنی جب۔ مفاجاتیہ بھی استعمال ہوتا ہے بمعنی ناگہاں۔ اچانک۔ یکایک۔
یہاں دونوں صورتیں ممکن ہیں۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق بناتا ہے۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جب وہہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو فورا مذاق بنانے لگتا ہے۔
اتخذھا : اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے ٹھہرا لیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب سیئا کی طرف راجع ہے (ہماری آیات میں سے کوئی حصہ) ۔ لیکن روح المعانی میں ہے :۔
بادرالی الاستھزاء بالایت کلہا ولم یقتصر علی الاستھزاء بما بلغہ۔ وہ اپنے استہزاء کو صرف انہیں آیات تک محدود نہیں رکھتا جن کی خبر اس تک پہنچتی ہے بلکہ تمام آیات کے استہزاء میں جلدی دکھاتا ہے ۔ یعنی ساری آیات کو تختہ استہزاء بناتا ہے۔
ھزوا۔ مصدر ، باب فتح۔ مادہ ھ ز ء ، ھ ز ی ئ۔ بمعنی اسم مفعول۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔
اولئک لہم۔ یعنی ایسے تمام جھوٹوں کے لئے ۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کے لئے۔
عذاب مھین۔ موصوف و صفت۔ مھین اسم فاعل واحد مذکر۔ اھانۃ (افعال) مصدر۔ اھانت آمیز، ذلیل و خوار کرنے والا۔
Ayah 45:10(45:10) من ورائھم جھنم : ان کے آگے جہنم ہے (یعنی قیامت کے روز) ۔ ورائہم مضاف مضاف الیہ۔ ورآء اسم ہے جہت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ صاحب اضواء البیان نے بڑے وثوق سے لکھا ہے کہ اس کے معنی آگے کے ہیں ملاحظہ ہو اضواء البیان جلد 7 تفسیر آیۃ ہذا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس کا استعمال تقریبا ہر جہت کے لئے ہوا ہے۔ مثلا
(1) بمعنی پیچھے۔ پس پشت۔ واما من اوتی کتبہ ورآء ظھرہ (84:10) اور جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔
(2) بمعنی آگے :۔ من ورا آئھم۔ (آیۃ ہذا)
(3) آگے، پیچھے، ہر طرف سے : واللّٰہ من ورآئہم محیط (85:20) اور خدا ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔
صاحب تفسیر مظہری رقم طراز ہیں :۔ ورآء کا ترجمہ :۔ درے بھی ہے پرے بھی ہے۔ آگے بھی ہے اور پیچھے بھی۔
لایغنی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ اغناء (افتعال) مصدر۔ کام نہ آئے گا۔ فائدہ بھی نہیں پہنچائیگا۔ دفع نہیں کریگا۔
ماکسبوا ما موصولہ۔ کسبوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ کسب باب ضرب انہوں نے کمایا۔ ای ما کسبوا فی الدنیا۔ یعنی جو انہوں نے کمایا تھا دنیا میں۔ یعنی مال و اولاد وہ ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔
ولا ما اتخذوا من دون اللّٰہ اولیائ۔ واؤ عاطفہ۔ اور نہ ہی کام آئیں گے وہ جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا کارساز بنا رکھا تھا۔ ما موصولہ۔ اولیاء من دون اللّٰہ۔ اللہ کو چھوڑ کر جن کو انہوں نے اپنا کارساز بنا رکھا تھا اس میں وہ بت بھی شامل ہیں جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ اور وہ پیر و پیشوا جن کی وہ پیروی کیا کرتے تھے۔
شیئا۔ کچھ بھی۔ ذرہ برابر بھی۔
Ayah 45:11(45:11) ھذا ھدی : ھذا۔ ای القران۔ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے۔
عذاب من رجز الیم : عذاب الیم موصوف و صفت، دردناک عذاب ۔ رجز کے متعلق ضیاء القرآن میں ہے :۔
علامہ ابن منطور اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ (ترجمہ) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ رجز کا لفظ جو قرآن میں مذکور ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا عذاب جو اپنی شدت کے باعث لرزہ خیز ہو۔ اس کے جھٹکے شدید اور لگاتار ہوں۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ :۔ وہ بدبخت جو ازراہ غرور تکبر اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں انہیں شدید عذاب سے دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
امام راغب اصفہانی المفردات میں لکھتے ہیں :۔ الرجز کے اسل معنی اضطراب کے ہیں اور اسی سے رجز البعیر ہے جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپانے اور چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں۔ اور شعر کے ایک بحر کا نام بھی رجز ہے جس میں شعر پڑھنے سے زبان میں اضطراب سا معلوم ہوتا ہے ۔ لفظ رجز زلزلہ کی طرح عذاب سے کنایہ ہے۔
بعض نے الیم پڑھا ہے۔ اس طرح یہ رجز کی صفت ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ دردناک کپکپاہٹ کا عذاب۔
Ayah 45:12(45:12) سخر ماضی واحد مذکر غائب تسخیر (تفعیل) مصدر اس نے بس میں کردیا۔ اس نے تابع کردیا۔ تسخیر کے معنی جس میں کونے اور کبھی زبردستی کسی خاص کام میں لگا دینے کے ہیں۔
لتجری : لام تعلیل کا ہے۔ تجری : مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ وہ جاری ہے، وہ چلتی ہے۔ الفلک۔ کشتی، کشتیاں، واحد اور جمع دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ فیہ ای فی البحر تاکہ اس (دریا، یا سمندر میں) کشتیاں چلیں۔ بامرہ ای باذنہ اس کے حکم سے۔
ولتبلغوا : واؤ عاطفہ۔ لام تعلیل کا ۔ تبتغوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر تبتغوا اصل میں تبتغون تھا نون اعرابی عامل لام تعلیل کے آنے سے گرگیا۔ تاکہ تم تلاش کرو۔ ڈھونڈو۔
من فضلہ اور تکاہ تم اس کی طرف سے عطا کردہ رزق کی تلاش کرو۔ من فضلہ اس کے فضل میں سے۔ فضل بمعنی بزرگی۔ بخشش۔ جمع افضال۔ فضل کے اصل معنی زیادتی کے ہیں۔ اس لئے اس کا اطلاق اس مال و دولت پر بھی ہوتا ہے جو بطور نفع انسان کو حاصل ہو۔ اور خداوند تعالیٰ کے عطیہ پر بھی خواہ وہ دنیوی ہو یا اخری ، کیونکہ وہ انسان کو اس کے استحقاق سے زیادہ دیا جاتا ہے۔
یہاں آیت ہذا میں فضل سے مراد وہی مال و دولت و رزق مراد ہے۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللّٰہ (62:10) اور جب نماز پوری ہوچکے تو زمین پر پھرو چلو۔ اور اللہ کی روزی تلاش کرو۔
ولعلکم تشکرون اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ ول کی تشکروا النعم المترتبۃ علی ذلک تاکہ اس رلاش پر مبنی جو نعمتیں حاصل ہوں ان کا تم شکر بجالاؤ۔
Ayah 45:13(45:13) جمیعا منہ : ای ہی جمیعا منہ : یعنی منہ خبر ہے ہی مبتداء محذوف کی یہ سب کچھ اسی کا عطا کر وہ ہے۔ یا یہ حال ہے ما سے۔ ای سخر ھذاہ الاشیاء کائنۃ منہ۔
یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تفکر (تفعل) مصدر۔ وہ غور کرتے ہیں یعنی زمین و آسمان اور ان کے مابین کی جملہ اشیاء کی تخلیق کے متعلق غور کرتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت اور اس کی سلطنت کے حقائق عیاں ہوتے ہیں ۔ اور ان کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتا ہے۔
Ayah 45:14(45:14) یغفروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ مغفرۃ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی کسی کا گناہ معاف کرنا۔ درگزر کرنا۔ معاف کردیں۔ (ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ معاف کردیں۔ یا درگزر کردیں۔
لایرجعون : مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ اندیشہ کرنا۔ خوف رکھنا۔ امید رکھنا۔ یقین رکھنا۔ جو امید نہیں رکھتے اور خوف نہیں رکھتے۔ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں یا ان کو معاف کردیا کریں جو ایام اللہ کا یقین نہیں رکھتے۔
ایام اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ایام بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے اللہ کے دن۔ اللہ کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سرکشوں سے انتقام لے اور ان کی بدکرداری کے عوض ان کو عذاب دے۔ یا اپنے فرمانبردار بندوں کو اپنے مخصوص فضل و کرم سے نوازے۔
ابن السیکت نے تصریح کی ہے کہ عرب ایام کو وقائع کے معنی میں استعمال کرتے ہیں چناچہ کہا جاتا ہے کہ فلان عالم بایام العرب۔ یعنی وہ عرب کے واقعات و حالات کا عالم ہے۔ یہاں الذین لا یرجون ایام اللّٰہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر یقین نہیں رکھتے یا ان کو اللہ کے ان وقائع کا ڈر یا اندیشہ نہیں۔ جب وہ اپنے نیک بندوں کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا۔ اور بدکراروں اور مجرموں کو عذاب دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے بندوں کو جو ایام اللہ کا اندیشہ نہیں رکھتے معاف کردینے میں یہ مصلحت رکھی ہے کہ قیامت کے روز وہ اپنے بندوں کو خود انعام و اکرام دیگا۔ اور بدکرداروں کو سزا دے گا۔ اگر اس کے نیک بندوں نے اپنے مخالفین سے یہاں اس دنیا میں ہی بدلہ لے لیا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ ان سے بدلہ نہیں لے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو درگزر کرنے اور معاف کردینے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بدکرداروں کو خود سزا دے۔
یجزی : مضارع واحد مذکر غائب۔ جزاء (باب ضرب) مصدر۔ مضارع منصوب بوجہ عمل لام تعلیل ہے ۔ وہ بدلہ دیگا۔
بما۔ میں ب سببیہ ہے اور نما موصولہ ۔ بسبب اس کے جو وہ کیا کرتے تھے۔
کانوا یکسبون ماضی استمراری جمع مذکر غائب کسب (باب ضرب) مصدر وہ کمایا کرتے تھے۔ وہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 45:15(45:15) اسائ۔ ماضی واھد مذکر غائب ۔ اساء ۃ (افعال) مصدر سوء مادہ۔ کام خراب کرنا۔ بگاڑنا۔ برا کام انجام دینا۔ برا کرنا۔ برائی کرنا۔ (جس نے) برا کام کیا۔ یہ آیت، سابقہ آیت لیجزی قوما بما کانوا یکسبون کی تفسیر ہے۔
Ayah 45:16(45:16) الکتب : ای التورۃ۔
الحکم : حکم یحکم کا مصدر ہے کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنا۔ یہاں بمعنی اللہ کے احکام کا علم۔
فضلنھم : فضلنا ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تفضیل (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو فضیلت عطا کی۔
علی العلمین : عالمین جمع عالم کی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں ایسی مخلوق کے تعدد کی بنا پر جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ای علی عالمی زمانھم۔ ان کے زمانے کے عالمین پر۔
الطیب لذیز حلال کھانے کی چیزیں۔ جیسے من وسلوی وغیرہ۔
Ayah 45:17(45:17) بینت من الامر : بینت کھلی ہوئی دلیلیں۔ روشن اور واضح دلیلیں۔ بینۃ کی جمع۔ کھول کر بیان کی ہوئی۔ تبیین (تفعیل مصدر سے) الامر سے مراد امر دین ہے۔ یعنی امر دین کی واضح دلیلیں و احکام۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان تمام امور کا علم عطا فرما دیا تھا جن کو جانن اور ان پر عقیدہ رکھنا ضرور تھا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور بعثت کی نشانیاں بھی بتادی تھیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو اتنا ہی یقینی طور پر جانتے اور پہچانتے تھے جتنا کہ اپنی اولاد کو پہچانتے تھے۔
بغیا : تمیز ۔ ضد ، زیادتی، بینھم۔ مضاف مضاف الیہ ایک دوسرے کے مابین ۔ باہمی ۔ ترجمہ : اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں روشن اور واضح احکام دیدئے۔ پس انہوں نے اختلاف نہ کیا مگر بعد اس کے کہ اس کا علم ان کو ہوچکا تھا۔ محض آپس میں ضد کی وجہ سے دوسرے پر زیادتی کرنے کی خواہش تھی۔
یقضی مضارع واحد مذکر غائب قضاء مصدر باب ضرب۔ وہ فیصلہ کردیگا۔
یوم القیامۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ یوم منصوب بوجہ مفعول فیہ ہے۔
فیما کانوا فیہ یختلفون : فی بابت، متعلق۔ ما موصولہ۔ کانوا یختلفون صلہ۔ فیہ (جار مجرور۔ ہ ضمیر امر کی طرف راجع ہے۔ جس امر میں۔ بیشک تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان جس امر دین کے متعلق وہ باہمی اختلاف رکھتے تھے اس کا فیصلہ فرما دیگا۔ یعنی جزاو سزا کی شکل میں عملی فیصلہ کر دیگا۔
Ayah 45:18(45:18) ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے پھر۔ ای بعد از بنی اسرائیل۔
جعلنک : جعلنا ماضی جمع متکلم ۔ جعل باب فتح۔ ہم نے بنایا۔ ہم نے کیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ پھر ہم نے تم کو (قائم) کردیا۔ شریعۃ۔ طریقہ ، راستہ۔
المفردات میں ہے :۔ الشرع : سیدھا راستہ جو وواضع ہو۔ یہ اصل میں شرعت لہ طریقا (واضح راستہ مقرر کرنا) کا مصدر ہے اور بطور اسم کے بولا جاتا ہے۔ چناچہ واضح راستہ کو شرع و شرع وشریعۃ کہا جاتا ہے ۔ پھر استعارہ کے طور پر طریق الٰہیہ پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ ایک دستور۔ ایک طریق۔
بعض نے کہا ہے کہ شریعت کا لفظ شریعۃ الماء سے ماخوذ ہے جس کے معنی پانی کے گھاٹ کے ہیں (جہاں لوگ بآسانی بیٹھ کر پانی پی سکتے ہیں۔ غسل وغیرہ کرسکتے ہیں) اور شریعت کو شریعت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو صحیح حقیقت پر مطلع ہونے سے سیرابی اور طہارت ہوتی ہے۔
انہی معنی میں بعض حکماء کا قول ہے کہ :۔ کنت اشرب فلا اروی فلما عرفت اللّٰہ تعالیٰ رویت بلاشرب (من پیتا رہا لیکن سیر نہ ہوا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوگئی تو بغیر پینے کے سیری حاصل ہوگئی۔ شریعۃ میں تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے۔
من الامر : ای من امر الدین۔
فاتبعھا۔تعلیل کا ہے اتبع امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جس کا مرجع شریعۃ ہے۔ پس تو اس (شریعت) کی پیروی کر۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم (43:43) پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رکھو۔
ولا تتبع۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اتباع (افتعال) مصدر۔ اور نہ پیروی کر۔
اھواء الذین لا یعلمون ۔ اھوی ھوی کی جمع ۔ خواہش، خیالات، مضاف ۔ الذین اسم موصول لا یعلمون صلہ۔ صلہ موصول مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہوا لاتتبع کا۔ اور جاہلوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔
جہلاء سے مراد بعض کے نزدیک بنو قریظہ اور بنو نضیر ہیں۔ بعض کے نزدیک رأساء قریش ہیں جو نبی کریم ﷺ کو کہا کرتے تھے کہ اپنے آباء و اجداد کے دین کی پیروی کر۔
Ayah 45:19(45:19) لن یغنوا مضارع منفی تاکید بلن : جمع مذکر غائب ۔ اغناء (افعال) مصدر وہ ہرگز دفع نہیں کرسکیں گے۔ ہرگز کسی کام نہ آسکیں گے۔ مضارع منصوب بوجہ عمل لن ہے۔
من اللّٰہ۔ اللہ کے سامنے۔ اللہ کے مقابلے میں۔
ان الظلمین بعضھم اولیاء بعض : ان حرف مشبہ بالفعل ، الظلمین اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ اسم ان۔ بعضھم اولیاء بعض خبر۔ تحقیق ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اولیاء جمع ولی کی بمعنی دوست ، ساتھی۔
ولی المتقین۔ مضاف مضاف الیہ۔ المتقین اسم فاعل جمع مذکر منصوب اتقاء (افتعال) مصدر۔ متقی لوگ ، پرہیزگار لوگ۔ ولی المتقین پرہیزگار لوگوں کا دوست ہے۔
Ayah 45:20(45:20) ھذا : ای القران اتباع شریعت۔
بصائر : بصیرۃ کی جمع۔ کھلی دلیلیں۔ ظاہر نصیحتیں۔ دانش و بصیرت) قرآن مجید میں بصائر پانچ دفعہ استعمال ہوا ہے مثلا :۔
(1) قدجاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ (6:105) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا۔
(2) ھذا بصائر من ربکم وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون (7:203) یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
(3) قال لقد علمت ما انزل ھؤلاء الا رب السموت والارض بصائر (17:102) انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ اور وہ بھی تم لوگوں کے سمجھانے کو۔
(4) ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اہلکنا القرون الاولی بصائر للناس وھدی ورحمۃ لعلہم یتذکرون (28:43) اور ہم نے پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی۔ جو لوگوں کے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
(5) ھذا بصائر للناس وھدی ورحمۃ لقوم یوقنون (45:20) یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ (آیت زیر نظر) ترجمہ۔ مولنا فتح محمد جالندھری۔
متذکرہ بالا آیات میں بصائر روشن دلیلوں ، ظاہر نصیحتوں، دانائی اور بصیرت کی باتوں کے لئے مستعمل ہے۔
البصر کے معنی آنکھ کے ہیں۔ قوت بینائی کو بھی بصر کہہ لیتے ہیں۔ دل کی بینائی پر بصر اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں۔ بصر کی جمع ابصار اور بصیرۃ کی جمع ابصار آتی ہے جب حاسئہ بصر کے ساتھ روئیت قلبی بھی شامل ہو تو بصیرت ہی استعمال ہوتا ہے۔ اور اس بصیرت کو ہی دانائی ۔ آگہی بھی کہا جاتا ہے ۔ یا دل کی آنکھ بھی کہہ سکتے ہیں۔
لسان العرب میں ہے کہ جب حضرت معاویہ ؓ نے حضرت عباس ؓ سے کہا یا بنی ہاشم تصابون فی ابصارکم کہ اے بنی ہاشم تمہاری آنکھوں میں نقص ہے تو انہوں نے جواب دیا وانتم یا بنی امیۃ تصابون فی بصائرکم کہ اے بنی امیہ اور تمہارے دل کی آنکھوں میں نقص ہے۔
ھذا بصائر للناس۔ یہ قرآن لوگوں کے لئے روشن دلیلیں یا عقل و دانش کی باتیں ہیں وھدی ورحمۃ لقوم یوقنون۔ اور یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے باعث ہدایت و رحمت ہے۔
یوقنون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ایقان (افعال) مصدر، وہ یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 45:21(45:21) ام : ام منقطعہ ہے بل کے معنی میں آیا ہے اس کا کوئی خاص مدلول نہیں محض ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف انتقال کے لئے ذکر کیا گیا ہے۔ یا استفہام انکاری کے لئے ہے (یعنی ان کا یہ خیال درست نہیں ہے) ۔
حسب کا فاعل الذین ہے قاعدہ کے مطابق حسب کے دو مفعول ہونے چاہئیں یہاں صرف ایک مفعول ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تجعلہم اگرچہ بظاہر ایک مفعول ہے لیکن دو کے قائم مقام ہے نجعل کا معنی نصیر ہے ہم اس کا مفعول اول ہے اور کالذین امنوا مفعول ثانی ہے۔
سواء بدل ہے اور کاف مبدل منہ ہے جو یہاں مثل کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ سواء مصدر ہے اور مستو کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ محیاہم ومماتھم اس کا فاعل ہیں۔
صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں :۔ اگر چہ اور بھی اقوال ہیں لیکن زیادہ صحیح اور صاف یہی ترکیب ہے۔
حسب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب حسبان باب حسب یحسب مصدر ماضی و مضارع ہر دو میں عین کلمہ پر کسرہ۔ جس کے معنی گمان کرنے اور سمجھ لینے کے ہیں۔ حسب یحسب ماضی و مضارع ہر دو پر فتح) سے مصدر حسبان آتا ہے جس کے معنی حساب و شمار (حساب کے مطابق سزا) ہیں۔ یہاں آیۃ ہذا میں اول الذکر تحریر ہے ۔ کیا یہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں۔
الذین اسم موصول اجترحوا السیئات، صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر فاعل اپنے فعل حسب کے ساتھ مل کر۔
اجترحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے گناہ کمایا۔ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا اجتراح (افتعال) مصدر۔ گناہ کمانا۔
السیئات۔ برے کام، گناہ۔ سیئۃ کی جمع۔ ان تجعلہم : ان مصدریہ یجعلہم : نجعل مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع متکلم۔ جعل باب فتح مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ان کو بنادیں۔ ہم ان کو کردیں ۔
کالذین۔ کاف تشبیہ کا بمعنی مثل۔ الذین امنوا بہ تحلیل صرفی مفعول ثانی فعل حسب کا نیز معطوف علیہ جملہ وعملوا الصلحت کا۔ سوائ۔ اسم مصدر بمعنی مستوا (برابر)
محیاہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا جینا۔ محیا۔ مصدر میمی حیوۃ سے۔
مماتھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا مرنا۔ ان کی موت۔ موت سے مصدر میمی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا خیال کر رکھا ہے ان لوگوں نے جو ارتکاب کرتے ہیں برائیوں کا۔ کہ ہم بنادیں گے انہیں ان لوگوں کو مانند جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ یکساں ہوجائے ان کا جینا ان کا مرنا (مطلب یہ کہ ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے) ۔
سائ۔ فعل ذم ہے۔ یعنی برا ہے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ سوء (باب نصر) مصدر سے۔
ما یحکمون : ما موصولہ۔ یحکمون مضارع جمع مذکر غائب حکم باب نصر مصدر۔ بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔
Ayah 45:22(45:22) بالحق : حق کے ساتھ ۔ نیز ملاحظہ ہو 45:6 متذکرہ بالا۔
ولتجزی۔ واؤ عاطفہ لام تعلیل کا۔ تجزی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ جزاء باب ضرب۔ مصدر۔ وہ بدلہ دی جائے گی۔ اس کی جزاء دی جائے گی۔
بما کسبت : جو کچھ اس نے کمایا۔ جو کچھ اس نے کیا۔
لا یظلمون : مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب ظلم (باب ضرب) مصدر۔ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 45:23(45:23) افرأیت : میں ہمزہ استفہامیہ ہےعاطفہ ہے جس کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے پورا کلام اس طرح تھا۔ کیا آپ اس کو ہدایت کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے دیکھ بھی لیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔
ارایت بمعنی اخبرنی بھی استعمال ہونا ہے۔ ویسے اس جملہ کا اردو ترجمہ ۔ کیا بھلا تو نے (اس شخص کو) دیکھا ہے۔ اس کا صحیح مطلب ادا کرتا ہے۔
اتخذا الھہ ھوہ (جس نے) اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔ الھہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی اپنے فعل اتخذ کا ھوہ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول اتخذ کا۔ ای من اتخذ ھوہ الہہ۔
واصلہ اللّٰہ علی علم۔ اور اللہ نے اسے علی علم گمراہ کردیا ہے۔ علی علم فاعل یا مفعول سے حال ہے ای حال من الفاعل او المفعول۔ (روح البیان)
فاعل سے حال : اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کو فطری استعداد کو جانتے ہوئے اسے گمراہ کردیا ہے۔ اور
مفعول سے حال : اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کردیا۔ کیونکہ وہ شخص راہ ہدایت کو جانتے ہوئے بھی گمراہی کی طرف جا رہا تھا۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا :۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جاء ھم العلم (45:17) متذکرہ الصدر۔
وختم علی سمعہ وقلبہ اور اس (خدا وند تعالیٰ ) نے اس (گمراہ) کے کانوں پر مہر لگا دی۔ اس لئے وہ نصیحت نہیں سنتا۔ اور اس کے دل پر مہر لگا دی اس لئے وہ آیات پر غور نہیں کر رہا۔
وجعل علی بصرہ غشاوۃ اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لئے وہ عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتا۔
فمن یھدیہ پھر ایسے شخص کو اللہ کے (گمراہ کردینے کے) بعد کون ہدایت دے۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے شخص کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ من بعد اللّٰہ : ای من بعد اضلالہ (بیضاوی) یعنی اللہ کے اس کو گمراہ کردینے کے بعد۔
افلا تذکرون ہمزہ استفہامیہ ہےعاطفہ ہے اس کا عطف محذوف پر ہے ای لا تلاحظون فلا تذکرون۔ کیا تم دیکھتے نہیں پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔
Ayah 45:24(45:24) قالوا۔ یعنی منکرین بعث کہتے ہیں۔
ماہی : ما الحیوہ۔ زندگی کیا ہے ما استفہامیہ کی صورت میں۔ اگر ما نافیہ لیا جائے تو ترجمہ ہوگا :۔ زندگی کھر نہیں (سوائے ہماری دنیا دی زندگی کے) ۔ الا : مگر۔ سوائے۔ حرف استثنائ۔
حیاتنا الدنیا : حیاتنا مضاف الیہ مل کر مضاف الدنیا مضاف الیہ۔ ہماری دنیا کی زندگی۔
نموت۔ مضارع جمع متکلم۔ موت باب نصر مصدر۔ ہم مرتے ہیں۔ یعنی ہم میں سے بعض مرتے ہیں۔
نحیا : نحیی مضارع جمع متکلم ۔ حیوۃ (باب سمع) مصدر۔ ہم جیتے ہیں (یعنی ہم میں سے بعض جیتے ہیں۔
نموت اور نحیی میں واؤ صرف عطف کے لئے ہے۔ ترتیب ماتعقیب کے لئے نہیں ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور وہ (منکرین بعث روز قیامت) کہتے ہیں نہیں (کوئی دوسری) زندگی بجز ہماری دنیا کی زندگی کے (یہیں) ہم نے زندہ رہنا اور مرنا ہے۔
ما یھلکنا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب، اھلاک (افعال) مصدر۔ ہم کو نہیں ہلاک کرتا ہے۔
الا الدھر۔ اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ۔ الدھر (زمانہ) اصل میں مدت عالم کو کہتے ہیں یعنی ابتدائے آفرنیش سے لیکر اس کے اختتام کا عرصہ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ ہل انی علی الانسان حین من الدھر (76:1) بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے میں الدھر سے یہی معنی مراد ہیں پھر (مجازا) اس سے طویل مدت لی جاتی ہے برخلاف لفظ ” زبان “ کے کہ یہ مدت قلیلہ اور کثیرہ دونوں پر بولا جاتا ہے۔
بذلک : ب حرف جر ہے ذلک ان کا یہ کہنا : ما یہلکنا الا الدھر : من علم ای علی علم : ای ما یقولون ذلک من علم و یقین ولکن من ظن وتخمین۔ وہ یہ بات علم و یقین کی بنا پر نہیں کہہ رہے بلکہ اپنے خیال اور تخمینے کی بناء پر کہہ رہے ہیں۔
ان ہم الا یظنون ان نافیہ ہے الا حرف استثناء یظنون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) مصدر۔ وہ گمان کرتے ہیں ۔ وہ محض ظن سے کام لے رہے ہیں۔
Ayah 45:25(45:25) تتلی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر ت، ل، و، مادہ۔ وہ پڑھی جاتی ہے، وہ تلاوت کی جاتی ہے
ما کان حجتہم : حجۃ منصوب ہے کیونکہ وہ کان خبر ہے کان کا اسم قولہ تعالیٰ الا ان قالوا ئتوا بابائنا ان کنتم صدقین اس ترکیب کی اور مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ (7:82:27:56:69:29 پر ملاحظہ فرما دیں۔
حجتہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی دلیل۔ حجت کوئی ایسی بات جس سے استدلال کرسکیں۔ مشرکوں اور منکروں کے قول کو حجت صرف ان کے خیال کے اعتبار سے فرمایا ورنہ ان کا یہ قول واقع میں کوئی حجت یعنی انکار قیامت کی دلیل نہیں ہے۔
الا حرف استثناء ان مصدریہ ائتوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ایتان (باب ضرب) مصدر۔ ات ی مادہ۔ بمعنی آنا۔ ب کے صلہ کے ساتھ ۔ بمعنی فعل متعدی۔ لانا۔ تم لے آؤ۔ تم لاؤ۔ ابائنا : مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے باب دادا۔
Ayah 45:26(45:26) ثم حرف عطف ہے یہاں تراخی فی الوقت کے لئے استعمال ہوا ہے۔
الی یوم القیامۃ میں الی زائد ہے۔ یا بمعنی لام ہے۔ یعنی لیوم القیمۃ قیامت کے دن۔
لاریب فیہ۔ ریب۔ شک و شبہ۔ راب یرب (باب ضرب) کا مصدر ہے ۔ فیہ ای فی یوم القیمۃ۔ فی وقوع القیمۃ۔
ولکن اکثر الناس لایعلمون : لیکن اکثر لوگ (چونکہ کوتاہ نظر ہیں قلیل التفکر ہیں۔ اسلئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو) نہیں جانتے
Ayah 45:27(45:27) یوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسر المبطلون : یوم مفعول فیہ ہے۔ یخسر کا یومئذ بدل ہے یوم سے۔ جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز باطل پرست خسارے میں رہیں گے۔
یخسر : مضارع واحد مذکر غائب ۔ خسران (باب سمع) مصدر۔ یخسر صیغہ واحد مذکر بمعنی جمع مذکر آیا ہے۔ وہ نقصان اٹھائیں گے۔ وہ گھاٹا پائیں گے۔
مبطلون : اسم فاعل جمع مذکر۔ ابطال (افعال) مصدر سے۔ حق کو جھٹلانے والے۔ باطل پرست۔
Ayah 45:28(45:28) کل امۃ : مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل تری کا ہر ایک امت ہر ایک فرقہ۔
جاثیۃ : اسم فاعل واحد مؤنث۔ زانو پر بیٹھنے والی۔ زانو پر گرنے والی۔ جثو : جثی (باب نصر) مصدر۔ یہاں جاثیۃ جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے جماعۃ قائمۃ : جماعۃ قاعدۃ بولتے ہیں۔ ج ث و، یا ج ث ی مادہ۔ تو دیکھے گا کہ ہر گروہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہوگا۔ امۃ سے حال ہے۔
تدعی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب دعاء (باب نصر) مصدر۔ وہ پکاری جائے گی۔ اسے پکارا جائے گا۔ ضمیر نائب فاعل امۃ کی طرف راجع ہے۔
کتبھا : مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب امۃ کی طرف راجع ہے اس کی کتاب، اس کا اعمال نامہ۔
الیوم تجزون ما کنتم تعلمون : ای فیقال لہم : الیوم ۔۔ الخ تجزون۔ مضار مجہول جمع مذکر حاضر۔ جزاء باب ضرب مصدر تم بدلہ دئیے جاؤ گے تم جزاء دئیے جاؤ گے۔ ماکنتم تعلمون جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 45:29(45:29) ینطق۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ نطق (باب ضرب) مصدر۔ جو (یعنی ہمارا نوشتہ) بولتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے۔ علیکم بالحق۔ تمہارے بارے میں سچ مچ۔
کنا نستنسخ : ماضی استمراری جمع متکلم استنساخ (استفعال) مصدر۔ نسخ مادہ۔ ہم محفوظ رکھا کرتے تھے ۔ نسخۃ وہ کتاب جس سے نقل کی جائے استنساخ ایک تحریر سے دوسری تحریر نقل کرنا۔ انساخ (افعال) لکھوانا۔ انا کنا نستنسخ ہم لکھوالیا کرتے تھے۔
Ayah 45:30(45:30) وما۔ یہ حرف شرط ہے اور تفصیل اور تاکید کا حرف بھی ہے اس کے شرط کا حرف ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے جیسے کہ :۔ فاما من اوتی کتبہ بیمینہ فاولئک یقرء ون کتبھم (17:71) تو جن کے (اعمال کی) کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی۔ وہ اپنی کتاب خوش (خوش ہر لہوکر) پڑھیں گے۔ یا فاما من ثقلت موازینہ فھو فی عیشۃ راضیۃ (101:6-7) تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔
موجودہ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا (رحمتہ بمعنی جنتہ ہے) ۔ گزشتہ آیت میں سزا و جزا کو مجمل طور پر بیان کیا گیا اس آیت میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
ذلک۔ یعنی مؤمنین کا رحمت حق میں ادخال۔
الفوز المبین۔ موصوف و صفت۔ کھلی کامیابی۔ صاف صاف ہر ایک آمیزش سے پاک۔ صریح کا میابی۔ الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرنے کے ہیں۔ المبین : کھلی ہوئی۔ صاف ظاہر۔ صریح۔
Ayah 45:31(45:31) واما الذین کفروا : میں واؤ عاطفہ ہے۔ اما حرف شرط اور جو لوگ کفر کرتے رہے۔ جملہ شرط ہے۔ اس کے بعد جواب اما محذوف ہے۔ ای فیقال لہم۔ افلم تکن ایتی تتلی علیکم : میں ہمزہ استفہامیہ ہے فاء حرف عطف ہے اس سے قبل معطوف علیہ محذوف ہے : ای اکم یاتکم رسلی فلم تکن ایتی تتلی علیکم : کیا میرے پیغمبر تمہارے پاس نہیں آئے تھے۔ اور پھر کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں۔
افلم تکن ایتی تتلی علیکم : میں استفہام انکاری ہے یعنی انکار نفی ہے جو مفید اثبات ہے۔ انکار کی نفی اثبات ہے۔
فاستکبرتم : پھر تم (سن کو) تکبر کیا کرتے تھے۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استکبار (استفعال) مصدر۔ مطلب یہ کہ ۔ سن کر بھی تم نے ان کو ماننے اور ان پر یقین کرنے میں تکبر سے کام لیا۔
وکنتم قوما مجرمین : قوما مجرمین موصوف و صفت۔ منصوب بوجہ خبر کان۔ گنہگار لوگ۔ مجرم لوگ۔ جرم کرنے والے لوگ : ای کنتم قوما عادتہم الاجرام۔ تم تھے ہی ایسی قوم جن کی عادت ہی کفر و جرم کرنے کی تھی۔
Ayah 45:32(45:32) واذا۔ واؤ عاطفہ اور اذا شرطیہ ہے بمعنی جب۔ اذاقیل ۔۔ لا ریب فیہا۔ جملہ شرط ہے ۔ اور قلتم ما ندری مالساعۃ ۔۔ الخ جواب شرط ہے۔
ما ندری۔ مضارع منفی جمع متکلم درایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہم نہیں جانتے الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے۔ دری مادہ۔
ان نظن الا ظنا وما نحن بمستیقنین : ان نظن : ان نافیہ ہے۔ نظن مضارع جمع متکلم ۔ ظن (باب نصر) مصدر۔ ہم خیال نہیں کرتے۔ الا استثناء متصل۔ ظنا کی تنوین تحقیر کے لئے ہے یعنی حقیر ساگمان۔ خفیف ساوہم۔ ان نظن الا ظنا محض ایک خیال سا تو ہم کو بھی لگتا ہے۔
مستیقنین : اسم فاعل جمع مذکر۔ استیقان (اسفتعال) مصدر یقین کرنے والے بحالت جری۔ اور ہم کو یقین نہیں۔
الظن۔ قرآن مجید میں شک (یا وہم و گمان) کے معنی میں بھی آیا ہے اور یقین کے معنی میں بھی۔ امام راغب اصفہانی المفردات میں رقمطراز ہیں۔ الظن کسی چیز کی علامات سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسے ظن کہتے ہیں۔ جب یہ علامات قوی ہوں تو ان سے علم کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے ۔ مگر جب نسبت کمزور ہو تو وہ نتیجہ وہم کی حد سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ نتیجہ قوی ہوجائے اور علم کا درجہ حاصل کرے یا اسے علم کے درجہ میں فرض کرلیا جائے تو اس کے بعد ان یا ان استعمال ہوتا ہے مگر جب وہ ظن کمزور ہو اور وہم کے درجہ سے آگے نہ بڑھے تو پھر اس کے ساتھ صرف ان استعمال ہوتا ہے جو کسی قول یا فعل کے عدم کے ساتھ مختص ہے چناچہ آیات الذین یظنون انہم ملقوا ربھم (2:46) جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں ۔۔ میں ظن کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
اور آیت وذالنون اذ ذھب مغاضبا فظن ان لن نقدر علیہ (21:87) اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے نازاض ہوکر) غصے کی حالت میں چل دئیے اور خیال کیا کہ ہم اس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں ظن بمعنی وہم لینا بہتر ہے۔ اور علامہ زرکشی نے برہان میں لکھا ہے کہ :۔ قرآن مجید میں اس فرق کو سمجھنے کے لئے کہ کہاں ظن کا استعمال یقین کے معنی میں ہے اور کہاں وہم کے معنی میں ہے۔ دو ضابطے ہیں :۔
(1) جہاں ظن کی تعریف آئی ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے وہاں یقین مراد ہے اور جہاں اس کی مذمت واقع ہے اور اس پر عقاب کی دھمکی دی گئی ہے وہاں شک کے معنی مراد ہیں۔
(2) ہر وہ ظن جس کے بعد ان خفیفہ ہوگا وہاں شک کے معنی ہوں گے۔ جیسے کہ بل ظنننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اہلیہم ابدا (48:12) بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے کے ہی نہیں۔
اور ہر وہ ظن کہ جس کے ساتھ ان مشددہ متصل ہوگا بمعنی یقین ہوگا۔ جیسے ارشاد ہے : انی ظننت انی ملق حسابیہ (69:20) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ مجھ کو ملنا ہے میرا حساب۔
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد چہارم از مولنا عبد الرشید نعمانی (رح)۔
Ayah 45:33(45:33) یدا۔ ماضی واحد مذکر غائب بدو بداء (باب نصر) مصدر۔ کھلم کھلا ظاہر ہوگیا۔
سیئات۔ جمع سیئۃ کی برائیاں ۔ برے کام۔ گناہ۔ قباحتیں۔ وبدا لہم سیئات ما عملوا۔ یعنی دنیا می جو برے عمل انہوں نے کئے تھے ان کی برائیاں یا سزا ان کے سامنے آجائے گی۔ ان پر ظاہر ہوجائے گی۔
حاق بھم : حاق ماضی واحد مذکر غائب۔ حیق (باب ضرب) مصدر اس نے گھیر لیا۔ وہ الٹ پڑا۔ وہ نازل ہوا۔ حاق بھم اس نے ان کو گھیر لیا۔
ما کانوا بہ یستھزء ون : ما اسم موصول۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع ما موصولہ ہے۔ مراد جزائ۔ عذاب۔ کانوا یستھزء ون : ماضی استمراری جمع مذکر غائب استھزاء (استفعال) مصدر بمعنی مذاق اڑانا۔ ہلکا سمجھ کر ہنسی اڑانا۔
حاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون جس (عزاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا۔
Ayah 45:34(45:34) وقیل ۔ واؤ عاطفہ۔ قیل : ای قیل لہم : ان سے کہا جائیگا ۔ ماضی مجہول بمعنی مستقبل۔ واحد مذکر غائب قول (باب نصر) مصدر ہے قیل کا ۔ الیوم۔ آج کے دن۔ (مراد یوم قیامت) الیوم ۔۔ یستعتبون مقولہ ۔
ننساکم مضارع جمع متکلم نسیان (باب سمع) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہم تم کو بھول جائیں گے۔ ہم تم کو فراموش کردیں گے۔ ہم تم کو بھولے بسرے کی طرح بالکل چھوڑ دیں گے۔
کما نسیتم لقاء یومکم ھذا : ک حرف تشبیہ ما موصولہ نسیتم لقاء یومکم ھذا اس کا صلہ۔ جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔
یومکم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ لقاء کا۔ یہ مصدر کی اضافت اپنے ظرف کی طرف ہے فیکون المعنی : کما نسیتم لقاء ربکم فی یومکم ھذا : اس کے معنی ہیں جس طرح تم نے آج کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ہونے کو بھلا رکھا تھا۔
وماوکم النار۔ واؤ عاطفہ۔ ماوکم مضاف مضاف الیہ۔ ماوی اسم ظرف مکان ۔ اوی (باب ضرب) مصدر۔ ٹھکانا۔ پناہ گاہ۔ رہنے کی جگہ ۔ جملہ ماوکم النار کا عطف ہے جس کا عطف الیوم پر ہے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اسی طرح وما لکم من نصرین معطوف ہے جس کا عطف الیوم پر ہے اور کوئی تمہارا مدد گار نہیں ہے۔
Ayah 45:35(45:35) ذلکم : ای ذلک العذاب لکم۔ تمہارا یہ عذاب۔
بانکم ب سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ بیشک تم ۔
اتخذتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ تم نے بنا رکھا تھا۔ تم نے اختیار کر رکھا تھا۔
ایت اللّٰہ ھزوا : ایت اللّٰہ مضاف مضاف الیہ مفعول فعل اتخذتم کا۔ ھزوا مصدر۔ باب فتح۔ بمعنی اسم مفعول ۔ یعنی ۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ ترجمہ :۔ یہ عذاب تم پر بدیں سبب ہوگا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو تم نے ہدف مذاق بنا رکھا تھا۔
وغرتکم۔ واؤ عاطفہ۔ غرت ماضی واحد مؤنث غائب غرور (باب نصر) مصدر وھو کہ دینا۔ فریب میں مبتلا کرنا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول ۔ اور ضمیر فاعل الحیوۃ الدنیا کی طرف راجع ہے۔ الحیوۃ الدنیا موصوف و صفت۔ دنیوی زندگی۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور دنیوی زندگی نے تم کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ (یعنی تم دنیا کمی زندگی اور اس کی عیش سامانیوں میں ہی ڈوب گئے تھے۔ اور آخرت کو اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی اور اپنے اعمال کی جزاء و سزاء کو بالکل بھول گئے تھے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے !
بدنیانہ بندہ دل ہر کہ مرداست کہ ایں دنیا سراپا رنج و در داست
بردبارے بگورستاں گزر کن کہ ایں دنیا حریفاں راچہ کر داست
فالیوم : پس آج کے دن ، یعنی آج قیامت کے دن۔
لایخرجون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب ۔ اخراج (افعال) مصدر۔ وہ باہر نہیں نکالے جائیں گے۔
منھا : ای من النار۔
ولا ہم یستعتبون۔ واؤ عاطفہ سے جملہ کا عطف الیوم پر ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب تاکید و تخصیص کے لئے ہے۔ لا یستعتبون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب ہے استعتاب (استفعال) مصدر۔ ترجمہ : اور ان سے اللہ کو راضی کرنے کی خواہش کی جائے گی۔
استعتاب (استفعال) اعتاب (مادہ ع ت ب) سے مشتق ہے اعتاب (باب افعال) متعدی۔ بمعنی رضا مند کرنا۔ ازالہ ناراضگی کرنا۔ طلب اعتاب ہے۔ سو ولاہم یستعتبون کا مطلب ہوا کہ : اور نہ ان سے (اللہ کی) ناراضگی دور کرنے کی طلب کی جائے گی (کہ اے واصلین جہنم اللہ کے آگے عاجزی و توبہ کرکے اس کی ناراضگی کو دور کرلو۔ کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا ۔ عمل کا وقت بیت چکا ہوگا۔ جزا و سزا کا وقت شروع ہوچکا ہوگا) ۔
فالیوم لا یخرجون منھا ولا ہم یستعتبون میں خطاب سے غیبت کی طرف عدول ان سے اظہار بیزاری کے لئے ہے۔ اردو زبان اس طرز بیان سے ناآشنا ہے۔
صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں :۔ یہ آخری فقرہ اس انداز میں ہے جیسے کوئی آقا اپنے کچھ خادموں کو ڈانٹنے کے بعد دوسروں سے خطاب کرکے کہتا ہے کہ اچھا اب ان نالائقوں کی یہ سزا ہے۔
فائدہ : اوپر مباحث روحانیہ کا ذکر کرکے سورة کو اگلی دو آیات میں حمد باری تعالیٰ پر ختم کیا گیا ہے۔
Ayah 45:36(45:36) فللّٰہ الحمد : للّٰہ میں لام اختصاص کا ہے۔ الحمد کو اللہ کے ساتھ مختص کیا گیا ہے۔ الحمد میں الف لام استغراق کا ہے یعنی ہر قسم کی تعریف وثناء صرف اور صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے۔ الحمد مبتداء للّٰہ اس کی خبر۔ خبر کو تاکید کے لئے مقدم لایا گیا ہے۔
رب السموت ورب الارض۔ اللہ تعالیٰ کی صفت میں ہے۔ رب العالمین ماقبل سے بدل ہے۔ لفظ رب کی تکرار کے لئے ہے رد۔
Ayah 45:37(45:37) ولہ الکبریا فی السموت والارض : واؤ عاطفہ ہے لہ میں لام تخصیص و حصر کے لئے ہے اور لہ کی تقدیم نے اس میں مزید تاکید پیدا کردی ہے۔ یعنی کبریائی صرف اسی ایک خدائے وحدہ لاشریک کی ہے کوئی اور اس میں شریک نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ الکبریاء اسم مصدر۔ ہر ایک کی اطاعت سے بالاتر ہونا۔ سب پر فوقیت اور بزرگی رکھنا۔ (لغات القرآن) العظمۃ والملک (عظمت و سلطنت) ابن الاثیر۔
اس جملہ کی تشریح میں امام راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کے لئے بڑائی ہے اور اس کا ثبوت اس حدیث قدسی سے بھی ملتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن ناز غنی فی واحد منھما قصمتہ۔ (کبریائی میری رداء ہے اور عظمت میری چادر ہے جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک میں میرے ساتھ مزاحم ہوگا تو میں اس کی گردن توڑ دوں گا۔
اور قرآن میں ہے :۔ قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ اباء نا وتکون لکما الکبریاء فی الارض (10:78) وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور اس ملک مین تم دونوں کی سرداری ہوجائے ۔ ایک شاعر نے کہا ہے :۔
مر اورا رسد کبریا ومنی کہ ملکش قدیم است وذاتش غنی
العزیز غالب ، زبردست، قوی، عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
الحکیم : حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ہر دونوں اللہ کے اسماء حسنی میں سے ہیں۔