45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

) یہ) کتاب نازل کی ہوئی ہے اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے،1۔

1۔ (اور اس لئے اس کے مضامین بھی نہایت ہی قابل توجہ ہیں) (آیت) ” حم “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ سورة مومن نمبر 1 پ 24 (آیت) ” تنزیل ...... الحکیم “۔ اس میں منکرین قدیم وجدید کے اس اتہام کی بھی تردید آگئی کہ یہ کلام رسول کا گڑھا ہوا ہے۔ (آیت) ” من .... الحکیم “۔ کلام میں خود مصنف کا اثر آگیا ہے۔ اور کتاب اسی شان اور اسی پایہ کی ہوگئی ہے۔ جیسی (آیت) ” العزیز۔ اور الحکیم “۔ کی کتاب کو ہونا چاہیے۔
Ayahs 45:3–4

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لئے ،

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور خود تمہاری اور ان حیوانات کی آفرینش میں جن کو اس نے پھیلا رکھا ہے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں،2۔

2۔ (اللہ کی قدرت و حکمت کی اور اس کی توحید کی) جن کے دلوں میں ایمان گھر کرچکا ہے۔ اور جن کی بصیرت مومنانہ بن چکی ہے۔ انہیں اس کارخانہ کائنات میں قدم قدم پر اللہ کی حکمتوں، صنعتوں، قدرتوں کے نمونے ملتین ہیں، اور وہ سب اس کی توحید ہی کی طرف لے جاتے ہیں، نہ کہ معبودوں کے تعدد کی جانب۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور (اسی طرح) رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور اس رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس زمین کو تروتازہ کیا اس کے خشک ہوئے پیچھے، اور ہواؤں کے ادل بدل میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں،3۔

3۔ (قدرت الہی اور توحید الہی کی) مطلب یہ ہے کہ کائنات کے جتنے بھی شعبے ہیں، طبعی، نفسیانی، حیوانی، فضائی وغیرہ۔ سب میں غور کرنے والے اور انصاف وطلب حقیقت رکھنے والے انسان کیلئے دلائل و شواہد حق تعالیٰ کی توحید اور قدرت کاملہ ہی کے ملتے ہیں۔ (آیت) ” وفی خلقکم “۔ انسان کی جسمی ساخت و ترکیب وفعلیت سے متعلق جتنے بھی علوم وفنون ہیں، تشریح الابدان، عضویات، نفسیات وغیرہا۔ ان سب کے قوانین و ضوابط سے انسان معرفت الہی ہی کے سبق لے سکتا ہے۔ (آیت) ” وما یبث من دآبۃ “۔ اس کے تحت میں سارے علوم حیوانیات مع اس کے متعلقات کے آگئے۔ (آیت) ” واختلاف اللیل والنھار “۔ ہئیت، ریاضیات، فضائیات، طبیعیات مع اپنی تمام شاخوں کے اس کے تحت آگئے، (آیت) ” من السمآء ..... الریح “۔ معاشیات، حیاتیات، نباتیات، ارضیات، فضائیات کے سارے علوم مع اپنی شاخوں اور متعلقات کے اس کے تحت میں آگئے۔ (آیت) ” رزق “۔ سے مراد مادۂ رزق یعنی بارش ہے۔ اے من مطر وسماہ رزقا لانہ سببہ (بیضاوی) اے ماانزل اللہ تبارک وتعالیٰ من السحاب من المطر فی وقت الحاجۃ الیہ وسماہ رزقا لانہ بہ یحصل الرزق (ابن کثیر) یعنی الغیث الذی ارزاق العباد (معالم) لیکن اگر یہ تاویل مجاز نہ کی جائے۔ جب بھی خود پانی بھی تو رزق ہے ولولم یؤول صح لانہ فی نفسہ رزق ایضا (روح) (آیت) ” بہ “۔ میں ضمیر مادۂ رزق یعنی بارش کی طرف ہے۔ سماء سے ایسے موقع پر ہمیشہ مراد صرف سمت بلندی کی جانب اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ اے جھۃ العلو (روح) امام رازی (رح) نے فرمایا کہ ان تین آیتوں کے ختم پر لفظ تین مختلف آئے ہیں۔ پہلے للمومنین، پھر لقوم یوقنون اور پھر لقوم یعقلون “۔ ان میں ایک خاص ترتیب ہے۔ گویا مخاطبین سے کہا یہ گیا ہے کہ تم اگر ایمان والے ہو تو خود ہی ان دلائل کو سمجھ جاؤ گے لیکن اگر ایمان سے محروم ہو جب بھی حق کے طالب تو ہوگے، جب ہی انہیں سمجھ سکتیہو۔ اور یہ بھی نہ ہو تو آخری درجہ میں بہرحال صاحب فہم تو ہی ہو اسی فہم سے کام لو۔ جب بھی کافی ہے۔
Ayahs 45:6–8

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جو صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں تو پھر اللہ اور اس کی نشانیوں کے سوا اور کون سی بات ہوگی جس پر یہ لوگ ایمان لائے گے ،

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کیلئے جو جھوٹ لگانے والا ہے ،

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

نافرمان ہے، اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جب وہ اس کے روبرو پڑھی جاتی ہیں پھر بھی تکبر کرتا ہوا اڑارہتا ہے، جیسے اس نے انہیں سنا ہی نہیں سو اسے عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دیجئے،4۔

4۔ (کہ وضوح حق کے بعد روش استکبار کی سزا عذاب الیم ہی ہے) (آیت) ” فبای ..... یؤمنون “۔ یعنی توحید، معاد، نبوت وغیرہ مسائل حقہ کا اثبات انہیں آیات ہی سے تو ہوتا ہے۔ سو اب اور کون چیز باقی ہے۔ جس پر ان کے ایمان لانے کی توقی کی جاسکے۔ (آیت) ” بعد اللہ وایتہ “۔ مراد بعد ایات اللہ ہی ہے الفاظ جس ترتیب و ترکیب کے ساتھ قرآن مجید میں آئے ہیں اس نے کلام میں زور وتاکید پیدا کردی ہے۔ تقدیم اسم اللہ للمبالغۃ والتعظیم (بیضاوی) (آیت) ” بعد اللہ “۔ میں بعد سے مراد بعض نے بعد کتاب اللہ لی ہے، اور کتاب کو محذوف سمجھا ہے۔ (آیت) ” بعداللہ “۔ میں بعد کے معنی ” اس سے بڑھ کر “ کے ہیں، امام رازی (رح) نے آیت سے یہ نکتہ بھی اخذ کیا ہے کہ ایمان میں تقلید کافی نہیں، ہر مکلف کو دین الہی کے دلائل پر غور و تفکر بھی کرنا چاہے۔ ابطل بھذا اقول من یزعم ان التقلید کاف وبین انہ یجب علی المکلف التامل فی دلائل دین اللہ (کبیر)
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے، یہی لوگ تو ہیں جن کے لئے ذلت کا عذاب ہے،5۔

5۔ چونکہ انکار وتکذیب کی بنیاد استکبار نفس پر تھی، اس لئے عذاب مہین (ذلیل ورسوا کرنے والے) کی مناسبت بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” اذا ...... ھزوا “۔ استہزاء و تمسخر کا درجہ محض انکار وتکذیب سے کہیں بڑھا ہوا ہے۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے جہنم ہے اور ان کے کام نہ تو وہ چیزیں کچھ بھی آئیں گی جو یہ کما گئے اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز تیار کیا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،6۔

6۔ (آیت) ” عذاب عظیم “۔ کی تصریح سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وہ عذاب علاوہ (آیت) ” مھین “۔ ہونے کے باعث تفضیح ورسوائی ہونے کے شدید بھی بہت سخت ہوگا۔ (آیت) ” ماکسبوا “۔ اس کے عموم میں دنیا کے احوال، اعمال سب داخل ہیں۔
Ayahs 45:11–12

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ (قرآن) ہدایت ہی ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی نشانیوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سختی کا عذاب دردناک ہے ،

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر بنایا تاکہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کی (دی ہوئی) روزی تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر کرو،7۔

7۔ اور اس شکر گزاری کی سب سے بڑی فرد یہ ہے کہ اللہ کی توحید و ربوبیت کا اقرار کرو، اور اس کے احکام کی تعمیل، (آیت) ’ ’ سخرلکم “۔ یعنی تمہارے نفع کیلئے اپنے احکام تکوینی کا تابع بنایا۔ خطاب یہاں عام نوع انسانی سے ہے۔ (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی تاکہ تم ان کشتیوں پر سوار ہو کر اور سفر کر کرکے ہر طرح کے نفع حاصل کرو، (آیت) ” من فضلہ “۔ فضل۔ یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ بحری تجارت، بحری شکار، جہاز رانی سیپی، موتی، مونگے کا کاروبار، غواصی وغیرہ سب کچھ اس میں آجاتا ہے۔ التجارۃ والغوص والصید وغیرھا (بیضاوی) (آیت) ” بامرہ “۔ میں اشارہ کردیا کہ سمندر کا اتنا مسخر ہوجانا یہ تمامتر احسان خداوندی ہے۔ بندہ اسے اپنی قابلیت وقوت ایجاد کی جانب منسوب کرکے اپنے اوپر نازاں نہ ہو۔ (آیت) ” بایت ربھم “۔ ایات رب سے یہاں مراد قرآن بھی لی گئی ہے۔ لان ایات ربھمھی القرآن اے ھذا القران کامل فی الھدایۃ (مدارک)
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اس نے تمہارے لئے مسخر بنایا جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشان ہیں جو غور کرتے رہتے ہیں،8۔

8۔ غوروفکر کی قوتیں بھی اللہ کی دی ہوئی ہیں، اور ان سے اگر صحیح طور پر کام لیاجائے، تو ہدایت ومعرفت ہی کی راہیں کھلتی رہیں گی، اصطلاحی فلسفہ قدیم یونان کا ہو یا یورپ کا وہ عقل و استدلال کے استعمال کا نہیں، سوء استعمال کانمونہ ہے۔ اور غور وفکر کو ایک مسخ کردیا کہ سورج، چاند ستارے، ہوا، خشکی، تری، کی جتنی بھی قوتیں ہیں۔ انسان ان سب کو اپنے کائناتی تصرف میں لائے گا اور جوں جوں قوانیں فطرت کا زیادہ راز دار ہوتا جائے گا، منشاء فطرت اور زیادہ پورا ہوتا جائے گا ، (آیت) ” منہ “۔ اس تصریح نے اسے صاف کردیا کہ یہ تسخیر فطرت کی بھی ساری نعمت تمامتر اللہ ہی کی دی ہوئی ہے، کوئی دیوی دیوتا اس میں شریک نہیں۔ یعنی انہ سبحانہ مکونھا وموجدھا بقدرتہ و حکمتہ ثم مسخرھا لخلقہ (روح) (آیت) ” قوما “۔ ایک قوم کو یعنی اہل ایمان کو۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ان سے درگزر کریں جو اللہ کی معاملات کا یقین نہیں رکھتے، تاکہ اللہ ایک قوم کو ان کے اعمال کا صلہ دے،9۔

9۔ (آیت) ” یغفروا “۔ غفر، یہاں عفو کے مرادف ہے، اے یعفوا ویصفحوا (بیضاوی) (آیت) ” لایرجون ایام اللہ “۔ یعنی اللہ کے اہم سے اہم جو معاملات بندوں کے ساتھ حشر میں پیش آئیں گے۔ مثلا یہ کہ فرمانبرداروں پر عطا و بخشش ہوگی اور نافرمانوں پر نزول عذاب وشدت ہوگا، منکرین قیامت ان سارے امور کی طرف سے اپنے کو غافل ہی بنائے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” ایام اللہ “۔ پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی بھی نیک عمل کرتا ہے، سو اپنی ذات کے لئے کرتا ہے اور جو کوئی برائی کرتا ہے اس کا بھی وبال اسی پر رہتا ہے تو پھر تم کو واپس اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے،10۔

10۔ (وہاں مطیعون کو اپنی طاعتوں کا بدل بلکہ نعم البدل ملے گا اور سرکشوں کو اپنے کرتوتوں کا بدلہ، دنیا میں ان نافرمانوں سے درگزر ہی مناسب ہے) آیت کا مقصود اس انتقام سے روکنا ہے جس سے مقصود اپنے غیظ کی تسکین ہوتی ہے۔ باقی قتال جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ہوتا ہے اس سے نفیا واثباتا آیت کو کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” من عمل صالحا فلنفسہ “۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جو کوئی بھی نیک عمل کرتا ہے اپنے ہی نفع کیلئے کرتا ہے کسی دوسرے پر احسان نہیں کرتا۔ جاہلی قومیں یہ سمجھتی تھیں کہ کسی دیوی دیوتا کی پوجا کرنا خود اس پر کرم کرنا اور اس کو زیر بار منت کرنا ہے۔ (آیت) ” ومن اسآء فعلیھا “۔ یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ بدی کا وبال خود اس بدی کے مرتکب پر پڑتا ہے۔ دوسروں کو اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت دی تھی اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں مہیا کردی اور ہم نے انہیں دنیا جہان والوں پر فضیلت دی تھی،11۔

11۔ (بحیثیت علمبردار توحیدہونے کے دنیا کی ساری مشرک قوموں کے درمیان) (آیت) ” الکتب “۔ یعنی توریت نیز بعض دوسرے انبیاء بنی اسرائیل پر اتارے ہوئے دوسرے صحیفے (آیت) ’ ’ الحکم “۔ یعنی حکمت ومعرفت۔ (آیت) ” النبوۃ “۔ قدیم قوموں میں جب تک تقسیم کی بنیاد نسل پر رہی۔ شرف و امتیاز نبوت نسل اسرائیل ہی کو حاصل رہا۔ (آیت) ’ رزقنھم من الطبیت “۔ الطیبات کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر حلال، نفیس، پاکیزہ چیز اس کے تحت میں آجاتی ہے۔ اشارہ خصوصی حکومت ملک شام کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ جو اپنی نفیس پیداوار کے لئے خاص طور پر مشہور تھا۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں دین کے باب میں کھلی ہوئی دلیلیں دی تھیں سو انہوں نے علم آنے کے بعد بھی باہم اختلاف کیا آپس کی ضد سے،12۔ بیشک آپ کا پروردگار ان کے درمیان ان امور میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے،13۔

12۔ کیا ٹھکانا تھا ان کی ضد، جہالت ونفسانیت کا کہ جو شے دافع اختلاف ہوسکتی تھی، یعنی العلم یا وحی، عین اسی کو باعث تفریق وشقاق بنالیا ! (آیت) ” بینت من الامر “۔ الامر سے مراد دین ہے۔ اور بینات کے تحت میں دلائل ومسائل یعنی حسی اور معنوی اور علمی ہر طرح کی ہدایتیں آگئیں۔ 13۔ (سو آپ یہاں ان کی ہدایت کے زیادہ درپے نہ رہیں) آخرت میں فیصلہ عملی اور مشاہداتی رنگ میں ہوگا۔ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ آج بھی موجود ہے۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا سو آپ اسی پر چلے جائیے اور بےعلموں کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے،14۔

14۔ یہ شیوہ تو ظالموں، فاسقوں کا ہے کہ ایک دوسرے کی راہ پر چلنے لگتے ہیں۔ آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا۔ (آیت) ” الامر “۔ سے مراد دین ہے۔ اے من امر الدین (بیضاوی) (آیت) ’ ’ الامر “۔ ہوسکتا ہے کہ ال استغراق کا ہو، تو مراد یہ ہوگی کہ ہم نے ہر امر عظیم ومہتم بالشان میں آپ کو راہ دکھا دی اور آپ کسی امر میں بھی بےراہ نہیں رہے۔ (آیت) ” فاتبعھا “۔ یعنی دین حق کا اتباع اپنے عمل سے بھی کرتے رہئے، اور تعلیم وتبلیغ سے بھی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شریعت کی مخالفت کرکے قرب و کمال کا دعوی کرنا تمامتر دعوئے باطل کرنا ہے۔ (آیت) ” الذین لایعلمون “۔ یعنی جو لوگ علم حقیقت سے بےبیگانہ ہیں، ناآشنائے ایمان، منکرین حق۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کے ذرا بھی کام نہیں آسکتے، ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، اور پرہیزگاروں کا دوست تو اللہ ہے،15۔

15۔ (تو آپ ﷺ تو پرہیزگار ان عالم کے سرور وسردار ہیں، حق تعالیٰ آپ کا دوست و کارساز تو بدرجہ اولی ہوگا) (آیت) ” ان ..... بعض “۔ ظالم سے یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں۔ نافرمانوں اور سرکشوں کی باہمی نصرت ومعاونت کی ایک تازہ اور نمایاں مثال عین اس تفسیر کی تحریر کے وقت پیش نظر ہے، مسیحیوں کو یہود سے اور یہود کو مسیحیوں سے جو عداوت وبیزاری ہے۔ تاریخ کے اوراق سے ظاہر ہے اور قاتلان ” ابن اللہ “ اور پرستاران ” ابن اللہ “۔ کید درمیان یہی ہونا بھی تھا، لیکن بایں ہمہ اس وقت علاقہ فلسطین میں یہ ود کی آبادی یہود کی مستقل حکومت کے قیام اور یہودیت کے فروغ میں سب سے زیادہ کوشاں یورپ اور امریکہ کی مسیحی ہی سلطنتیں ہیں۔ !
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لئے دنشمندیوں (کاسبب) اور ہدایت (کا ذریعہ) ہے اور یقین لانے والوں کے لئے بڑی رحمت ہے،16۔

16۔ (آیت) ” ھذا ..... ھدی “۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا مجموعہ بصیرت وہدایت ہونا ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے، اس کی ان خصوصیات سے فائدہ سب ہی اٹھا سکتے ہیں۔ (آیت) ” ورحمۃ لقوم یوقنون “۔ لیکن ثمرۂ عمل یعنی رحمت خاصہ یہ مخصوص اہل ایمان ہی کے ساتھ ہے۔ (آیت) ” بصآئر “۔ بعض محققین نے کہا ہے کہ (آیت) ” بصآئر “۔ بصیغہ جمع لانے میں نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید سارے ہی مہمات کے لئے کافی ہے۔ ایک دو کیلئے نہیں۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا جو لوگ برے برے کام کررہے ہیں اس خیال میں ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا رکھیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ انکی زندگی اور ان کی موت یکساں ہی رکھیں سوکیسا برا حکم یہ لوگ لگاتے ہیں،17۔

17۔ مطلب یہ ہے کہ نافرمان جس طرح اپنے اکثر حالات وآثار تکوینی کے لحاظ سے فرمانبرداروں کے ساتھ دنیا میں ملے جلے رہتے ہیں، اور موت، بیماری، رزق وغیرہ کے اعتبار سے کوئی ظاہری فرق، کھلا ہوامتیاز، محض سرکشی و اطاعت کی بنیاد پر دیکھنے میں نہیں آتا، کیا اس طرح کا خلط ملط عالم ابتلاء کے بعد بھی قائم رہے گا ؟ ہرگز نہیں، عالم حقائق میں اہل طاعت اور اہل طغیان کے حالات وآثار تو ایک دوسرے سے بین طور پر ممتاز اور نمایاں طور پر جدا ہوں گے۔ (آیت) ” الذین اجترحوا السیات “۔ سیات کے تحت میں کفر، شرک، معصیت سب شامل ہیں۔ لیکن یہاں ایمان وعمل صالح کے مقابلہ میں آنے سے اغلبا مراد سیات کفر ہی سے ہے۔ والمراد بھا سیات الکفر (روح) والسیات ھنا سیات الکفر (بحر) (آیت) ” سآء مایحکمون “۔ دونوں میں یکسانی اگر واقعی اور مستقل رہی تو پھر تو قانون مجازات باطل ہی گیا، اور مکافات عمل کے کوئی معنی ہی نہ رہے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ذرا ظلم نہ کیا جائے گا،18۔

18۔ یعنی اس بدلہ میں ظلم زیادتی ذرا سی بھی نہ ہوگی، مطل یہ ہوا کہ اللہ آسمان و زمین کا محض خالق ہی نہیں بلکہ حکمتوں اور مقصدوں کے ساتھ ان کا خالق ہے۔ اور یہ ایک حکمت یہی قانون مجازات ہے، دنیا میں پوراپورا بدلہ ملتا نہیں۔ اس لیے لازمی ہے کہ ایک دوسرا عالم ہو، جس میں انصاف رتی رتی کا کیا جائے، اور سب کے سب اسے محسوس بھی کریں۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

سو کیا آپ نے اس شخص کی بھی حالت دیکھی ہے جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہے اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہرلگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے،19۔ سو ایسے کو بعد اللہ کے اور کون ہدایت کرے تو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے ؟ ،20۔

19۔ (کہ حق کو سننے سمجھنے کے باوجود بھی اتباع خواہش نفس سے گمراہ ہوگیا) (آیت) ” من اتخذ الھہ ھوہ “۔ خداوندی ضابطوں کو یکسر بھلا کر زندگی اور اجزائے زندگی کا حاکم اپنی عقل کو یا کسی بشری قانون اعلی کو بنالینا عملا اپنی خواہش نفس ہی کی پوجا کرنا ہے۔ (آیت) ” اضلہ اللہ علی علم “۔ حق تعالیٰ کا اسباب ضلالت کو تکوینی طور پر خلق کردینا یہی اس کی طرف سے اضلال ہے۔ (آیت) ” ختم ..... غشوۃ “۔ یہ کان اور دل پر مہرلگ جانا اور آنکھوں پر پردہ پڑجانا ابتداء حق تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہوا، بلکہ یہ عین نتیجہ نکلا، ان کی ارادی پیروی نفس کا ان حاشیوں میں اس مسئلہ کی تصریح بار بار کی جاچکی ہے۔ 20۔ سمجھنے سے مراد ایسا سمجھنا ہے جو نافع ہو اور ہدایت کی طرف لے آئے، باقی سمجھنا اگر اپنے عام مفہوم میں بھی نہ ہوتا تو سرے سے یہ لوگ قابل خطاب و عتاب ہی نہ رہ جاتے، بلکہ معذور سمجھ لئے جاتے (آیت) ” من بعد اللہ “۔ بعد، یہاں غیر یا سوا کے معنی میں ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اور متعدد مقامات پر آیا ہے۔ قیل المعنی فمن یھدیہ غیر اللہ سبحانہ (روح) بعض نے کہا ہے کہ مراد بعد اضلال اللہ سے ہے۔ یعنی اللہ کے گمراہ کردینے کے بعد سے۔ اے من بعد اضلالہ (بیضاوی) اے من بعد ان (آیت) ’ اضلہ اللہ “۔ (کبیر) مطلب یہ ہوا کہ ایسوں کی استعداد قبول حق اتنی مضمحل ہوجاتی ہے کہ کوئی توقع کسی انسانی تدبیر سے ان کی اصلاح کی نہیں رہ جاتی۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی حیات کے اور کوئی حیات نہیں ہم (بس ایک ہی بار) مرتے اور (بس ایک ہی بار) زندگی پاتے اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے درآنحالیکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں یہ محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں۔21۔

21۔ عرب خصوصا وسطی اور جنوبی عرب میں کثرت سے لوگ اس عقیدہ ومشرب کے تھے کہ نہ کوئی حیات اخروی ہے نہ کوئی جزاوسزا، جو کچھ ہورہا ہے سب قوانین مادی و طبعی کے لحاظ سے ہورہا ہے۔ انہیں کی ماتحتی میں انسان کو موت بھی آجاتی ہے اور انہیں کے مطابق انسان پیدا بھی ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بڑے شاعت یہی مضمون باندھ گئے ہیں۔ گویا جاہلیت کے ” روشن خیال “۔ کاٹھیک وہی مسلک تھا جو آج کے مہذب ” روشن خیال “۔ فرنگی کا ہے۔ مادیت (میٹر یلزم) کا مسلک دنیا کا ” جدیدترین “ نہیں، بہت قدیم مذہب ہے، قال ذلک مشرکو قریش (جصاص عن قتادۃ) ھذا قول زنادقۃ قریش الذین کانوا ینکرون الصانع الحکیم وان الزمان ومضی الاوقات ھو الذی یحدث ھذہ الحوادث (جصاص) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی (آیت) ” الدھر “۔ بعض عرب ” دہر “ یا ” زمان “ کو مستقل دیوتا کی حیثیت سے مانتے تھے۔ (آیت) ” وما لھم ...... یظنون “۔ یہ ان مدعیان عقل و ” روشن خیالی “ کی تجہیل ہے۔ وجود باری اور وقوع قیامت پر جو دلائل قائم میں ان کی تو یہ کچھ تردید کرپاتے نہیں، اور خود جو دعوی نفی جزء وسزا کا اور اثبات دہریت کا کرتے ہیں، اس پر کوئی دلیل ضعیف سی بھی نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ ادھر ادھر کی جو خیالی باتیں کررہے ہیں وہ سرتاسر سطحی بلکہ بالکل بےمغز ہیں۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی اور جواب نہیں ہوتا بجز اس کے کہ کہنے لگتے ہیں کہ (اچھا تو) اگر (بڑے) سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ،22۔

22۔ (از سرنوزندہ کرکے) گویا کوئی بندہ جب چاہے مردہ کو زندہ کر کے لاسکتا ہے ! کسی مومن کا دعوی کسی نبی، رسول یا فرشتہ کے متعلق کبھی یہ رہا ہے ؟ حواس پرستوں کی عقلیں ایسی ہی ماری جاتی ہیں۔ ! عقلی دلیل کو مشاہدہ کی سطح پر اتار لانے اور اسی میں اس کو محدود ومحصور رکھنے کے لحاظ سے کس قدر مشابہت عرب کے ” دہری “ اور فرنگستان کے (MAteriAlist) کے درمیان ہے۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ (ہی) تم کو زندہ رکھتا ہے پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں ذرا شبہ نہیں لیکن اکثر لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے،23۔

23۔ یعنی یہ احیاء واماتت، زندگی بخشنے اور موت واقع کرنے کے اعمال تو حق تعالیٰ جو قادر مطلق ہے وہی صادر کرتا رہتا ہے اور وہی قیامت کے دن احیاء ثانی بھی کرے گا۔ یہ کسی بندہ کے اختیار کی، تصرف کی بات ہی کب ہے۔ جو تم اس کا عملی اور مشاہداتی ثبوت ہم مسلمانوں سے چاہتے ہو۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

بس اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل بڑے خسارہ میں ہوں گے،24۔

24۔ (جب دیکھیں گے کہ اب کوئی سہارا نام کو بھی موجود نہیں کا کچھ بھی کسی صورت سے بنائے نہیں بنتی) (آیت) ” وللہ ..... الارض “ زمین و آسمان میں کہیں بھی کسی دوسرے کی ملکیت وشرکت نہیں، وہی اکیلا مالک و متصرف ہے جب اور جس طرح جو کچھ چاہے کرے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور آپ ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ دو زانوں ہوں گے، ہر جماعت اپنے رجسٹر کی طرف بلائی جائے گی آج تمہیں تمہارے کئے کا بدلہ ملے گا،25۔

25۔ یہ ہر امت سے پکار کر کہا جائے گا۔ (آیت) ” الیوم “۔ مراد یوم حشر کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” جاثیۃ “۔ کھلے ہوئے معنی تو یہ ہیں کہ حساب کے وقت سب ادب سے دوزانوہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ خوف سے زانو کے بل گرپڑیں گے۔ وھی ھیءۃ المذنب الخائف المنتظر لمایکرہ (روح) اس معنی میں آیت مخصوص ہوگی غیر مقبولین اہل باطل کے ساتھ (آیت) ” تدعی الی کتبھا “۔ رجسٹر کی طرف بلائی جائے گی، یعنی اس رجسٹر کے مطابق حساب و کتاب کے لئے طلب کی جائے گی۔ ورنہ نفس رجسٹر یا نامہ عمل تو ظاہر ہے کہ خود ہی سب کے ہاتھ میں ہوگا۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا رجسٹر ہے جو تمہارے حق میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے تم جو کچھ بھی کرتے رہتے تھے، ہم سب لکھواتے جاتے تھے،26۔

26۔ (فرشتوں سے اور ان کے لکھنے میں کسی غلطی کے رہ جانے کا احتمال وامکان ہی نہیں) یہ سارا قول ان اہل دوزخ سے پکار کر کہا جائے گا۔ (آیت) ” کتبنا “۔ یعنی ہمارا لکھوایا ہوا رجسٹر، ابھی ابھی کتبھا میں اس رجسٹر کی نسبت بندوں کی طرف کی گئی تھی، اس حیثیت سے کہ رجسٹر میں اعمال تو بندوں ہی کے درج ہوں گے۔ اور اب اسی کتاب کی نسبت حق تعالیٰ اپنی جانب کررہا ہے، یہ اس اعتبار سے کہ وہ رجسٹر لکھوایا ہوا تو حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ (آیت) ” ینطق علیکم “۔ تمہارے خلاف صاف صاف گواہی دے رہا ہے۔ تمہاری بدکرداریوں کو پوری طرح ظاہر کررہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ بالکل ٹھیک ٹھیک، نپی تلی بات، بغیر کمی و زیادتی کے شائبہ کے۔
Ayahs 45:30–31

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے تھے تو ان کو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا صریح کامیابی یہی تو ہے ،

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر تھے سو (اے کافرو) کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں لیکن تم اکڑے رہے اور تم لوگ بڑے مجرم تھے،27۔

27۔ یہ پورا فقرہ کافروں سے خطاب کرکے قیامت میں کہا جائے گا۔ صیغہ غائب سے معا صیغہ مخاطب کی طرف منتقل ہوجانا تاکہ کلام میں اثر وقوت زیادہ پیدا ہوجائے۔ عربی اسلوب بلاغت میں عام تھا اور اس کو صنعت التفات کہتے ہیں۔ اور یہاں اس سے مقصود عتاب کی اہمیت ہے۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہا کرتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت ہے کیا چیز، ہاں ایک خیال سا تو ہم کو بھی ہوتا ہے اور ہم (اس پر) یقین کرنے والے نہیں،28۔

28۔ اور یہی جواب آج کل کے ” روشن خیالوں “ کی زبانوں پر بھی چڑھا ہوا ہے۔ (آیت) ” قلتم ..... الساعۃ “۔ یہ جواب تم دیا کرتے اور بڑی بےپروائی اور شان استغناء کے ساتھ دیا کرتے تھے۔ (آیت) ” ان نظن الا ظنا “۔ ایسا ظن و گمان جو ہر سنی سنائی بات کے متعلق کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔ حضرت اکبر الہ آبادی (رح) کا ایک شعر آج کل کے روشن خیالوں کو مخاطب کرکے ہے : ع : جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر خد کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رفت و گمان کافی۔
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

) آج) ان پر ان کے اعمال کی ساری برائیاں کھل کر رہیں، اور انہیں گھیر لیا اس چیز نے جس کی یہ ہنسی اڑایا کرتے تھے،29۔

29۔ حقائق سارے کے سارے آئینہ ہو کر رہے۔ ؛ اور اسی میں ان کا اپنا معذب ہونا بھی آگیا۔ (آیت) ’ ’ وحاق ..... یستھزء ون “۔ یہ گھیر لینے والی چیز جس کی یہ ہنسی اڑایا کرتے تھے ظاہر ہے کہ عذاب آخرت ہی ہے۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور (ان سے) کہا جائے گا کہ آج تم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جیسا کہ تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں،30۔

30۔ (جو تمہاری سزا کچھ ہلکی ہی کراسکے) (آیت) ” ننسکم “۔ فعل انساء (بھلا دینا) جب حق تعالیٰ کی جانب منسوب ہوتی ہے تو نعوذ باللہ کوئی سہو یا ضعف حافظہ تو مراد ہو نہیں سکتا۔ یہ تو ملائکہ تک کے حق میں ممکن نہیں۔ مراد صرف مجاز ہی سے ہوسکتی ہے، یعنی کافروں کو رحمت حق کے التفات سے محروم کردیا جائے گا۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو ہنسی بنارکھا تھا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا تو آج تو یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے (اللہ کی) خفگی دور کی جائے گی،31۔

31۔ یعنی قیامت میں اس کا موقع ہی نہ ہوگا کہ توبہ کرکے اللہ کی ناراضگی کو دور کیا جائے۔ (آیت) ” وغرتکم الحیوۃ الدنیا “۔ انکار آخرت کی اصل بنا یہی دنیا کی مشغولی اور اس میں انہماک تھا۔
Ayah 45:36

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

خوبیاں (سب کی سب) اللہ ہی کے لئے ہیں (جو) آسمانوں کا پروردگار ہے، زمین کا پروردگار ہے، سارے جہانوں کا پروردگار ہے،32۔

32۔ یعنی نہ آسمان اور نہ زمین اور نہ یہ جہاں خود کسی جہت سے معبود یا قابل پرستش ہے جیسا کہ مشرکوں نے سمجھ رکھا ہے اور نہ کوئی دیوی دیوتا ہی قابل پرستش ہے۔ (آیت) ” رب السموت “۔ آسمان یا فضائے آسمانی میں کہیں کسی دیوی دیوتا کا وجود نہیں۔ (آیت) ” رب الارض “۔ سارے روئے زمین کے کسی چپہ پر کوئی دیوی دیوتا کو وجود نہیں رکھتا۔ (آیت) ” رب العلمین “۔ کائنات بھر میں کسی مقام پر کسی دیوی دیوتا کا وجود نہیں۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔
Ayah 45:37

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

بس اسی کے لئے آسمانوں اور زمین میں بڑائی ہے اور وہی زبردست ہے، حکمت والا ہے،33۔

33۔ وہ سب پر غالب وزبردست ہے۔ جب چاہے اپنی بڑائی کا علانیہ اظہار کرکے سب کی نام نہاد بڑائیوں کا خاتمہ کردے لیکن اس کی صفت حکمت بھی سب پر غالب ہے، اپنی تکوینی مصلحتوں اور حکمتوں سے اسی عالم ابتلاء میں وہ اپنی کبریائی کا مشاہدہ اس اعلان کے ساتھ نہیں کراتا۔ (آیت) ” ولہ .... الارض “۔ ترکیب کلام یعنی لہ کی تقدیم نے مفہوم میں حصر پیدا کردیا ہے۔ یعنی کبریائی صرف اسی ایک کی ہے۔ کوئی اور اس میں شریک وسہیم نہیں، نہ زمین میں نہ آسمان میں نہ کائنات کے کسی گوشہ میں۔ بحمد اللہ آج دو شنبہ 3 محرم 1367 ؁ھ مطابق 17 نومبر 1967 ء ؁ کو اس پچیسویں پارہ کی تفسیر پر نظر ثانی سے فراغت پائی اور نظر ثالث سے آج سہ شنبہ 27 رجب 1369 ؁ھ مطابق 16 مئی 1950 ء ؁ کو قبل ظہر۔