Explained with ayahs 30–37
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة الْجَاثِیَة 45
یعنی وہاں ان کو پتہ چل جائے گا کہ اپنے جن طور طریقوں اور عادات و خصائل اور اعمال و مشاغل کو وہ دنیا میں بہت خوب سمجھتے تھے وہ سب ناخوب تھے۔ اپنے آپ کو غیر جوابدہ فرض کر کے انہوں نے ایسی بنیادی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات ہی غلط ہو کر رہ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
معارف و مسائل
(آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…
Read the full tafseer →وبدالھم سیات ماعملوا وحاق بھم ما کانوابہ یستھزء ون 33
بدعملوں کی بدعملیوں کے اصل نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے
انسان جو عقلی و اخلاقی جرائم اس دنیا میں کرتا ہے ان کے برے نتائج اس کے سامنے فوراً نہیں آتے اس وجہ سے ان کے معاملہ میں وہ دلیر ہوتا جاتا ہے اور ناصحوں کی نصیحت قبول کرن اتو درکنا وہ ان کو بیوقوف سمجھتا اور ان کی باتوں کا مذاقاڑاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اعمال کے حقیقی نتائج سے پردہ اٹھا دے گا اس دن اندھے سے اندھے کو بھی نظر آجائے گا کہ اس نے دنیا میں ج بس بھری فصلی بوئی اور جس کے انجام سے اس کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں نے اس کو ڈرایا لیکن اس نے ان کی کوئی پروا نہ کی، اس کا حاصل…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی قیامت کا عذاب، جسے وہ مذاق یعنی انہونا سمجھتے تھے، اس میں وہ گرفتار ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
10: یعنی دوزخ کے جس عذاب کا یہ کافر لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہی عذاب ان کو گھیرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت نمبر 33
اس کے بعد دوبارہ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور ان کا بہت ہی دردناک انجام ہوگا۔
Read the full tafseer →6 یعنی جب قیامت آئے گی ان کی تمام بدکاریاں اور ان کے نتائج سامنے آجائیں گے اور عذاب وغیرہ کی دھمکیوں کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے وہ خود ان پر ہی الٹ پڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 33 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کے وہ تمام ُ برے اعمال جو انہوں نے کیے تھے“
{ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور انہیں گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔“
دنیا میں وہ لوگ جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے ‘ چناچہ وہی جہنم انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے وہاں موجود ہوگی۔
Read the full tafseer →46 یعنی جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں اپنی کامیابی کا معیار سمجھ رکھا تھا اور اس کامیابی کے لیے دنیا میں وہ جو کچھ پاپڑ بیلتے رہے تھے۔ ایسے سب اعمال کے نتائج صرف ان کے سامنے ہی نہیں آئیں گے بلکہ ان کے گلے پڑجائیں گے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے غیرجواب وہ سمجھ رکھا تھا وہ ایک ایسی بنیادی غلطی تھی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات غلط ہو کر رہ گیا۔
Read the full tafseer →29۔ حقائق سارے کے سارے آئینہ ہو کر رہے۔ ؛ اور اسی میں ان کا اپنا معذب ہونا بھی آگیا۔ (آیت) ’ ’ وحاق ..... یستھزء ون “۔ یہ گھیر لینے والی چیز جس کی یہ ہنسی اڑایا کرتے تھے ظاہر ہے کہ عذاب آخرت ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…
Read the full tafseer →وبدالھم سیات ما عملوا وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ اور (اس وقت) ان پر اپنے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور جس عذاب کو وہ مذاق اڑاتے تھے ‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(33۔ 34) اور انبیاء کرام اور کتب خداوندی کے ساتھ مذاق کی سزا ان کو آگھیرے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ آج کے دن ہم تمہیں دوزخ میں ڈالتے ہیں جیسا کہ تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کوئی تمہارا مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →وبدالھم سیات ماعملوا…: یعنی ان کے سامنے ان کے اعمال کے برے نتائج ظاہر ہوجائیں گے اور وہی قیامت اور جہنم جن کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہ انھیں اپنے گھیرے میں گھیر لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
یعنی دوبارہ اٹھانا ہو کر رہے گا۔ حمزہ نے الساعۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس کا عطف وعد پر ہے باقی قراء نے مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے یا ان وعد اللہ کے محل پر اس کا عطف ہے مصدر میں جو ضمیر ہے اس پر عطف کرنا اچھا ہے کیونکہ اس کی تاکید نہیں لگائی گئی ضمیر مرفوع پر شعر میں تاکید کے بغیر عطف کیا جاتا ہے۔
یعنی کیا قیامت حق ہے یا باطل ہغ۔ مبرو کے نزدیک اس کی تقدیر یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے
یعنی ہم یقین کرنے والے نہیں تھے کہ قیامت ہو کر رہنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “ (یہ ہمارے کتابچہ ہے جو تمہاری مقابلے میں ٹھیک ٹھاک بول رہا ہے) یعنی وہ ام الکتاب ہے جس میں بنی آدم کے اعمال ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور ہم تمہارے اعمال لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے یعنی وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں ) ۔
9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دولت ہے پھر تختیوں کو…
Read the full tafseer →وَبَدَا لَهُمْ [ اور ظاہر ہوئیں ان کیلئے ] سَيِّاٰتُ مَا [ اس کی برائیاں جو ] عَمِلُوْا [ ان لوگوں نے عمل کیے ] وَحَاقَ بِهِمْ [ اور چھا گیا ان پر ] مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ وہ جس کا یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے ]
Read the full tafseer →یہ لوگ قیامت کا صرف انکار ہی نہیں کرتے تھے۔ اس کا مذاق بھی بناتے تھے اس لیے فرمایا ﴿وَ بَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا﴾ (اور انہوں نے جو برے کام کیے تھے ان کے برے نتائج وہاں ان کے سامنے آجائیں گے) ﴿وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠0033﴾ (اور ان پر وہ عذاب نازل ہوجائے گا جس کا استہزا اور تمسخر کیا کرتے تھے) جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت پر ایمان لاؤ اور برے اعمال سے بچو تو حق کی دعوت کا مذاق بناتے تھے اس کا نتیجہ سامنے آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
23:۔ ” وبدا لہم۔ الایۃ “ سیئات بد اعمالیوں کے نتائج یعنی بد اعمالیوں کی سزائیں ظاہر ہوجائیں گی اور استہزاء اور تمسخر کی سزا ان پر نازل ہوگی۔ وقیل الیوم ننسکم الخ، چونکہ نسیان کے حقیقی معنی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف محال ہے، اس لیے مجازا عذاب میں چھوڑ دینا مراد ہے از قبیل تسمیۃ المسبب باسم السبب یعنی جس طرح تم نے قیامت کے دن بارگاہ ایزدی میں پیشی کو بھلا دیا تھا اس سے بالکل ہی غافل ہوگئے تھے، اسی طرح آج ہم تمہیں دائمی عذاب میں داخل کریں گے اور ہمیشہ کے لیے تمہیں اس میں چھوڑ دیں گے، اس طرح جہنم تمہارا دائمی ٹھکانا ہوگا اور آج کوئی تمہارا یار و مددگار اور ناصر و گمگسار نہیں جو تمہیں اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ربط آیات
سورۃ جاثیہ حوامیم سبعہ میں چھٹے نمبر پر ہے اگلی سورة الاحقاف پر یہ ساتوں سورتیں ختم ہوجائیں گی ان سورتوں کو لباب القرآن یعنی قرآن کا لب لباب اور نچوڑ کہا گیا ہے ان میں دین کے بنیادی عقائد اور اصول بیان کئے ہیں۔ اس سورة میں بھی توحید اور اس کے دلائل ، مشرکین کا رد ، شریعت کا اتباع ، تکبر کی تردید اور بعض دوسرے اہم مسائل بیان ہوئے ہیں۔ سورة کے اس آخری حصہ میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوچکا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی تمام باطل پرست اور بدعقیدہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ ہر گروہ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرے…
Read the full tafseer →وَبَدَا لَہُمْ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ 33
بدا
بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47]
( ب د و ) بدا
( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔
تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →وَبَدَا لَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الجاثیۃ : 33)
(اور ظاہر ہوجائیں گی ان پر برائیاں ان اعمال کی جن کو وہ کرتے رہے، اور وہ چیز ان کو گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے۔ )
قیامت کے روز اعمال کے حقیقی نتائج سے پردہ اٹھا دیا جائے گا
دنیا میں آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے اس کے برے نتائج فوراً اس کے سامنے نہیں آتے اور اسی باعث وہ بہت سارے جرائم پر دلیر ہوتا جاتا ہے۔ اور جو لوگ ان برائیوں کے نتائج سے اسے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا وہ مذاق اڑاتا ہے۔ لیکن قیامت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس دن اعمال کے حقیقی نتائج سے پردہ اٹھا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے تکبر کا نتیجہ تھا کہ وہ قیامت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ذریعے یہ اعلان کروایا کہ لوگو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے مگر تکبر کرنے والوں کو جب بھی کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ تو متکبر لوگ شک کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت قائم ہوگی۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں اس لیے ہمیں ان پر یقین نہیں آتا۔ حالانکہ ان لوگوں کی بےیقینی کے باوجود قیامت قائم ہوگی اور ان کے سامنے ان کے برے اعمال پیش کردیئے جائیں گے۔ جس قیامت کا وہ مذا ق اڑاتے ہیں وہی انہیں گھیر لے گی انہیں کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کو…
Read the full tafseer →آیت 33 : وَبَدَالَہُمْ (اور ان کو ظاہر ہوجائیں گے) یعنی ان کفار کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے۔ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا (تمام برے اعمال) ان کے اعمال کی قباحتیں یا ان کے برے اعمال کی سزائیں۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا۔ ] الشوری۔ 40[
وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (اور وہ ان کو آ گھیرے گا جس کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے) ان کے استہزاء کی سزا ان پر اتر پڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
32، واذا قیل ان وعداللہ حق والساعۃ لاریب فیھا، حمزہ (رح) نے، والساعۃ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس کا عطف وعد پر ہے اور دیگر حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے ۔ ، قلتم ماندری ما الساعۃ ان نظن الا ظنا، یعنی ہم اس کو نہیں جانتے مگر وہم اور اندازہ۔ ، ومانحن بمستیقنین، کہ وہ ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ اوپر جزا و سزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گزاری اور نیک کام کئے ان کے لئے جنت ہے اور یہی بڑی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لئے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہراتے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزا و سزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا اور جزا و سزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہارا وہی مخسرا پن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ دوزخ قرار دیا ‘ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
60 بدعملیوں کے نتائجِ بد کا ظہور آخرت میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بدعملوں کی بدعملیوں کے نتائج آخرت میں ہی ظاہر ہوں گے۔ تب ایسے لوگوں کی آنکھیں کھلیں گی۔ سو وہاں انکے برے اعمال کی وہ برائیاں کھل کر اور اپنی اصل شکل میں انکے سامنے آجائیں گی جو دنیا میں ان کو نظر نہیں آرہی تھیں کہ ابتلا و آزمائش کے تقاضوں کی بنا پر دنیا میں ان پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ سو دنیا میں انسان جو جو عقلی اور اخلاقی جرائم کرتا ہے انکے اصل اور حقیقی نتائج اس کے سامنے نہیں آتے۔ اس لیے وہ ان پر دلیر ہو کر انکے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں میں ایسا کھو جاتا ہے کہ کسی ناصح کی نصیحت قبول کرنے کی بجائے الٹا اپنے ایسے سچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیات 27 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 3 منانے کے موقع سے مراد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ہے۔
Read the full tafseer →(45:33) یدا۔ ماضی واحد مذکر غائب بدو بداء (باب نصر) مصدر۔ کھلم کھلا ظاہر ہوگیا۔
سیئات۔ جمع سیئۃ کی برائیاں ۔ برے کام۔ گناہ۔ قباحتیں۔ وبدا لہم سیئات ما عملوا۔ یعنی دنیا می جو برے عمل انہوں نے کئے تھے ان کی برائیاں یا سزا ان کے سامنے آجائے گی۔ ان پر ظاہر ہوجائے گی۔
حاق بھم : حاق ماضی واحد مذکر غائب۔ حیق (باب ضرب) مصدر اس نے گھیر لیا۔ وہ الٹ پڑا۔ وہ نازل ہوا۔ حاق بھم اس نے ان کو گھیر لیا۔
ما کانوا بہ یستھزء ون : ما اسم موصول۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع ما موصولہ ہے۔ مراد جزائ۔ عذاب۔ کانوا یستھزء ون : ماضی استمراری جمع مذکر غائب استھزاء (استفعال) مصدر بمعنی مذاق اڑانا۔ ہلکا سمجھ کر ہنسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
قیامت کا انجام۔
(ف 1) اوپر جزا وسزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گذاری اور رسول اللہ اور قرآن پر ایمان لائے ان کے لیے جنت ہے اور یہی بڑی کامیابی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لیے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہرتے تھے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزاوسزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا، اور جزا وسزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہاری وہی مسخراپن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ…
Read the full tafseer →[9] وہ گھیر لینے والی چیز عذاب آخرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں…
Read the full tafseer →(33) اور جو اعمال انہوں نے کئے تھے ان سب اعمال کی برائیاں ان کے سامنے ظاہر ہوئیں اور کھل گئیں اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور ہنسی کیا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو گھیر لیا۔ یعنی براے اعمال کی سزائیں ظاہر ہوگئیں یا برے اعمال ظاہر ہوگئے اور جس عذاب کا ٹھٹھا کیا کرتے تھے اور مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے آگھیرا اور وہی عذاب ان پر الٹ پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 3۔ یعنی وعدہ بعث و مجازاة کا۔
Read the full tafseer →اس وقت ان کی باتوں کی حقیقت کھل جائے گی اور وہ اپنے مذاق کی زد میں ہوں گے
33 ؎ جس چیز کا ان کو یقین نہیں آرہا تھا اور جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اب حقیقت بن کر ان کے سامنے کھڑی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کے بڑے اعمال کے نتائج کھل کر ان کے سامنے آگئے ہیں اور اپنے کرتوتوں کی سزا بھی ان کو سنا دی گئی ہے اور ان کو دیکھو اور پھر ذرا غور سے دیکھو کہ ان کے چہروں سے اس وقت سب کچھ عیاں ہو رہا ہے اور اس وقت وہ اپنے کئے گئے مذاق کی زد میں ہیں اور دیکھو کس طرح { رب ارجعون } کی صدائیں بلھند کرتے ہیں کہ اے اللہ ایک بار ہم کو دنیا میں دوبارہ لوٹا دے تاکہ ہم نیک عمل کریں اور ذرا مجھ کو ڈھیل دے دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
Commentary
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
45 That is, "There they will come to know that their ways of behaviour, their practices and manners, and their actions and pastimes, which they regarded as very good in the world were, in fact, very bad: they had committed a basic mistake in thinking that they were not answerable to anyone, and this had rendered their whale lifework fruitless and vain."
Read the full tafseer →