Explained with ayahs 30–37
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 44
اس سے پہلے آیت 24 میں جن لوگوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ آخرت کا قطعی اور کھلا انکار کرنے والے تھے۔ اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین رکھتے اگرچہ گمان کی حد تم اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں لازماً وہ خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
معارف و مسائل
(آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…
Read the full tafseer →واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ لاریب فیھا قلتم ماندری ما الساعۃ ان نظن الاظنا وما نعن بمستیقنین 32
منکرین کا احمقانہ مطالبہ
یہ ان کے استکبار کی وضاحت ہے کہ تمہارا حال یہ ہو رہا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدہ جزا و سزا شدنی اور قیامت کے واقع ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے تو تم بڑی رعونت سے یہ جواب دیتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کس چیز کا نام ہے، بس ایک گمان ہے جو ہم رکھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔
اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جہاں تک گمان کا تعلق ہے یہ منکرین بھی اپنے دل میں رکھت تھے لیکن ان کا مطالبہ یہ تھا کہ جب ان کو اس کا پورا یقین ہوجائے گا تب وہ مانیں…
Read the full tafseer →32۔ 1 یعنی قیامت کا وقوع، محض ظن وتخمین ہے، ہمیں تو یقین نہیں کہ یہ واقعی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
9: قیامت کے مختلف مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ وہاں کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بےساختہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے یا بیٹھ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت نمبر 31 تا 32
اب ذرا دیکھو ، کیا حال ہے ؟ اور تمہیں کس قدر یقین آرہا ہے۔ قدرے وقفے کے بعد اب ان کی ذہنی دنیا کے حالات کہ اب ان پر چودہ طبق روشن ہیں :
Read the full tafseer →5 یعنی ہم نہیں جانتے قیامت کیسی ہوتی ہے۔ تم جو کچھ قیامت کے عجیب و غریب احوال بیان کرتے ہو ہم کو کسی طرح ان کا یقین نہیں ہوتا۔ یوں سنی سنائی باتوں سے کچھ ضعیف سا امکان اور دھندلا سا خیال کبھی آجائے وہ دوسری بات ہے۔
Read the full tafseer →آیت 32 { وَاِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ لَا رَیْبَ فِیْہَا } ”اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور قیامت آنے میں کوئی شک نہیں“
{ قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ } ”تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے“
السّاعۃ قیامت کی موعودہ گھڑی کا ذکر سن کر تم کہا کرتے تھے کہ ہم کسی ساعت واعت کو نہیں جانتے۔ تمہارے یہ گستاخانہ جملے ہمارے پاس ریکارڈ میں موجود ہیں۔
{ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا } ”ہاں ہمیں ایک گمان سا تو ہوتا ہے“
لیکن کبھی کبھی تم قیامت کا ذکر سن کر یوں بھی کہا کرتے تھے کہ ہاں قیامت کے قائم ہونے اور آخرت کی زندگی کے بارے میں ہمیں گمان سا تو ہوتا…
Read the full tafseer →45 ایمان کے کسی جزو میں بھی شک کرنے والے کافر ہیں :۔ اس آیت سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے منکر اور قیامت میں شک رکھنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں، دونوں ہی ایک جیسے مجرم اور کافر ہیں۔ اور اس سے آگے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر، اس کے فرشتوں پر اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، روز آخرت پر اور خیر و شر کے اللہ کی طرف سے مقدر ہونے پر۔ ان میں سے کسی بھی ایک چیز کا انکار کردینا یا اسے مشکوک سمجھنا ایک ہی بات ہے اور ایسا شک کرنے والا مومن نہیں بلکہ کافر ہی ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ آخرت میں شک کرنے والے مجرم کیوں…
Read the full tafseer →28۔ اور یہی جواب آج کل کے ” روشن خیالوں “ کی زبانوں پر بھی چڑھا ہوا ہے۔ (آیت) ” قلتم ..... الساعۃ “۔ یہ جواب تم دیا کرتے اور بڑی بےپروائی اور شان استغناء کے ساتھ دیا کرتے تھے۔ (آیت) ” ان نظن الا ظنا “۔ ایسا ظن و گمان جو ہر سنی سنائی بات کے متعلق کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔ حضرت اکبر الہ آبادی (رح) کا ایک شعر آج کل کے روشن خیالوں کو مخاطب کرکے ہے :
ع : جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر
خد کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رفت و گمان کافی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…
Read the full tafseer →واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ لاریب فیھا قلتم ما ندری ما الساعۃ ان نظن الا
ظنا وما نحن بمستیقنین اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے تو تم نے کہا : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے۔ محض ایک خیال سا تو ہم کو بھی ہوتا ہے اور ہم کو یقین نہیں۔
اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ یعنی اللہ کا وعدۂ قیامت۔ وعدٌ مصدر ہے ‘ یعنی قیامت کا وعدہ کرنا ‘ یا بمعنی موعود ہے ‘ یعنی قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔
لاَ رَیْبَ فِیْھَا یعنی قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں کیونکہ اس کے آنے کی خبر اللہ نے دی ہے اور ان کی دی ہوئی خبر کا غلط ہونا ناممکن ہے۔
مَا السَّاعَۃُ یعنی…
Read the full tafseer →اور جس وقت دنیا میں تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بعث بعد الموت کے بارے میں وعدہ سچا ہے اور قیامت کے قیام میں کوئی شک نہیں وہ ضرور قائم ہوگی۔ مگر تم کہا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیام قیامت کیا چیز ہے محض ایک خیال سا تو ہمیں ہوتا ہے باقی ہمیں اس کا یقین نہیں اور ان پر ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →(1) واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ…: اللہ تعالیٰ کفار کے جرائم بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے اور انکار کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ؟ جیسے فرعون نے موسیٰ ؑ کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے ہا تھا :”وما رب العلمین) (الشعرائ : 22)”اور رب العالمین کیا چیز ہے ؟“ یہ جھٹلانے کا بدترین انداز ہے جس میں انکار کے ساتھ استہزا بھی شامل ہے۔
(2) ان نظن الاظناً : یہاں ایک سوال ہے کہ اس جملیک ا لفظی معنی ہے ”ہم نہیں گمان کرتے مگر گمان کرنا“ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے ”ان ناکل الا اکلا“ ”ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
یعنی دوبارہ اٹھانا ہو کر رہے گا۔ حمزہ نے الساعۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس کا عطف وعد پر ہے باقی قراء نے مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے یا ان وعد اللہ کے محل پر اس کا عطف ہے مصدر میں جو ضمیر ہے اس پر عطف کرنا اچھا ہے کیونکہ اس کی تاکید نہیں لگائی گئی ضمیر مرفوع پر شعر میں تاکید کے بغیر عطف کیا جاتا ہے۔
یعنی کیا قیامت حق ہے یا باطل ہغ۔ مبرو کے نزدیک اس کی تقدیر یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے
یعنی ہم یقین کرنے والے نہیں تھے کہ قیامت ہو کر رہنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “ (یہ ہمارے کتابچہ ہے جو تمہاری مقابلے میں ٹھیک ٹھاک بول رہا ہے) یعنی وہ ام الکتاب ہے جس میں بنی آدم کے اعمال ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور ہم تمہارے اعمال لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے یعنی وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں ) ۔
9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دولت ہے پھر تختیوں کو…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ [ اور جب کہا جاتا ہے ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ کہ اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [ حق ہے ] وَّالسَّاعَةُ [ اور وہ گھڑی (آنی ہے ) ] لَا رَيْبَ فِيْهَا [ کسی قسم کا کوئی بھی شک نہیں ہے اس میں ] قُلْتُمْ [ تو تم لوگ کہتے ہو ] مَّا نَدْرِيْ [ ہم نہیں جانتے ] مَا السَّاعَةُ ۙ [ کیا ہے وہ گھڑی ] اِنْ نَّظُنُّ [ ہم نہیں گمان کرتے ] اِلَّا ظَنًّا [ مگر کچھ گمان کرنا ] وَّمَا نَحْنُ [ اور ہم نہیں ہیں ] بِمُسْتَيْقِنِيْنَ [ یقین حاصل کرنے والے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 32 ۔ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جہاں تک گمان کا تعلق ہے یہ منکرین بھی اپنے دل میں رکھتے ہیں لیکن ان کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
پھر کافرین کی سزا کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (الآیات) جن لوگوں نے کفر کیا قیامت کے دن عذاب میں داخل ہوں گے جب مصیبت میں گرفتار ہوں گے تو چھٹکارہ کے لیے معذرت کریں گے اس وقت ان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کیا جائے گا ﴿اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ ﴾ کیا تمہارے اوپر میری آیات تلاوت نہیں کی جاتی تھیں ؟ جب یہ آیات تمہارے پاس پہنچیں تو تم نے تکبر کیا اور حق قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھا، کفر پر قائم رہنے ہی میں تم اپنی بڑائی سمجھتے رہے، ﴿وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 0031﴾ (اور تم جرم کرنے والے لوگ تھے) تم نے تکبر کیا حق کو ٹھکرایا مجرمانہ زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
22:۔ ” واما الذین کفروا۔ تا۔ ولاھم یستعتبون “ یہ تخویف اخروی ہے جس میں کچھ تفصیلات بھی مذکور ہیں۔ ” افلم تکن “ سے پہلے ” فیقال لہم “ محذوف ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے کفار و مشرکین سرزنش اور توبیخ کے طور پر کہا جائیگا : کیا دنیا میں تمہیں میری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں، لیکن غروروتکبر سے انکا اناکر کی طرف سے کفار و مشرکین سے سرزنش اور توبیخ کے طور پر کہا جائیگا :۔ کیا دنیا میں تمہیں میری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں، لیکن غرور وتکبر سے انکا انکار کرتے تھے اور تم عادی مجرم اور مشرک تھے، میرے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کے وعظ و نصیحت کے باوجود تم شرک اور دوسرے جرائم سے باز نہیں آتے تھے۔ مجرمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ربط آیات
سورۃ جاثیہ حوامیم سبعہ میں چھٹے نمبر پر ہے اگلی سورة الاحقاف پر یہ ساتوں سورتیں ختم ہوجائیں گی ان سورتوں کو لباب القرآن یعنی قرآن کا لب لباب اور نچوڑ کہا گیا ہے ان میں دین کے بنیادی عقائد اور اصول بیان کئے ہیں۔ اس سورة میں بھی توحید اور اس کے دلائل ، مشرکین کا رد ، شریعت کا اتباع ، تکبر کی تردید اور بعض دوسرے اہم مسائل بیان ہوئے ہیں۔ سورة کے اس آخری حصہ میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوچکا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی تمام باطل پرست اور بدعقیدہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ ہر گروہ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرے…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ لَا رَيْبَ فِيْہَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِيْ مَا السَّاعَۃُ 0 ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ 32
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔
تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ لاَرَیْبَ فِیْھَا قُلْتُمْ مَّانَدْرِیْ مَاالسَّاعَۃُ لا اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّ ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 32)
(اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں۔ )
مخالفین کے استکبار کی تفصیل
گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفین کے جس استکبار کا ذکر ہوا ہے یہ اسی کی تفصیل ہے۔ ان کے تکبر کا حال یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اور اس نے ہر رسول کے ذریعے اس کی امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے تکبر کا نتیجہ تھا کہ وہ قیامت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ذریعے یہ اعلان کروایا کہ لوگو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے مگر تکبر کرنے والوں کو جب بھی کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ تو متکبر لوگ شک کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت قائم ہوگی۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں اس لیے ہمیں ان پر یقین نہیں آتا۔ حالانکہ ان لوگوں کی بےیقینی کے باوجود قیامت قائم ہوگی اور ان کے سامنے ان کے برے اعمال پیش کردیئے جائیں گے۔ جس قیامت کا وہ مذا ق اڑاتے ہیں وہی انہیں گھیر لے گی انہیں کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کو…
Read the full tafseer →آیت 32 : وَاِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے) جو جزاء کے متعلق فرمایا۔
نحو : ان اور اس کے اسم کے محل پر عطف کی صورت میں مرفوع ہے۔ قراءت : حمزہ نے الساعۃَ پڑھا ہے۔ اور اس کو وعداللّٰہ۔ پر عطف کیا ہے۔ وَّالسَّاعَۃُ لَا رَیْبَ فِیْہَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ (اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ تو تم کہا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے) وہ کہتے قیامت کیا چیز ہے۔ اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّ ظَنًّا (محض ایک خیال تھا) اس کا اصل اس طرح ہے۔ نظن ظنًا اور اس کا معنی صرف گمان کا ثابت کرنا ہے۔ پھر حرف نفی اور استثناء کو داخل کیا گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
29، ھذاکتابنا، یعنی محافظین کا رجسڑ۔ ، ینطق علیکم بالحق، جو تمہارے خلاف شافی بیان کی گوائی دے گی ۔ پس گویا کہ وہ بول رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ کتاب سے مراد محفوظ ہے۔ ، اناکنا نستنسخ ماکنتم تعملون، یعنی ہم فرشتوں کو حکم دیں تمہارے اعمال کے نسخ یعنی ان کی کتابت اور تم پر اثبات کا اور کہا گیا ہے کہ ، تستنسخ، یعنی تاخذ نسخہ یہ اس وجہ سے کہ دوفرشتے انسان کے ہر عمل کو بلند کرتے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ اس میں سے وہ عمل ثابت کرتے ہیں جس میں اس کے لیے ثواب یاعقاب ہو اور ان میں سے لغوعمل کو پھینک دیتے ہیں۔ جیسے ان کا قول ادھر آ اور چلاجا وغیرہ۔ اور کہا گیا ہے لوح محفوظ سے لکھنا مراد ہے کہ فرشتے ہر سال لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ اوپر جزا و سزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گزاری اور نیک کام کئے ان کے لئے جنت ہے اور یہی بڑی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لئے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہراتے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزا و سزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا اور جزا و سزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہارا وہی مخسرا پن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ دوزخ قرار دیا ‘ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →58 انکار قیامت سب سے بڑی محرومی اور بدبختی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا انکار سب سے بڑی بدبختی اور محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم لوگوں سے کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر حق ہے اور قیامت کے بارے میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے "۔ اور یہ تمہارے اس تکبر و سرکشی کا ایک نمونہ تھا جس نے تم کو حق کی دولت اور ہدایت کی روشنی سے محروم رکھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ انکے اس استکبار ہی کا نتیجہ اور اسکا شاخسانہ تھا کہ دنیا میں جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے تو یہ اپنے متکبرانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیات 27 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ف 2 اس سے صاف نکلتا ہے کہ اگر کسی کو حشر نشر، حساب کتاب، فرشتوں، پیغمبروں اور دین کے دوسرے ضروری عقائد میں شک ہو تو (گو انکار نہ ہو) تو بھی) وہ کافر ہے اور کمال ایمان کے لئے پورا یقین ہونا شرط ہے (وحیدی )
Read the full tafseer →(45:32) واذا۔ واؤ عاطفہ اور اذا شرطیہ ہے بمعنی جب۔ اذاقیل ۔۔ لا ریب فیہا۔ جملہ شرط ہے ۔ اور قلتم ما ندری مالساعۃ ۔۔ الخ جواب شرط ہے۔
ما ندری۔ مضارع منفی جمع متکلم درایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہم نہیں جانتے الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے۔ دری مادہ۔
ان نظن الا ظنا وما نحن بمستیقنین : ان نظن : ان نافیہ ہے۔ نظن مضارع جمع متکلم ۔ ظن (باب نصر) مصدر۔ ہم خیال نہیں کرتے۔ الا استثناء متصل۔ ظنا کی تنوین تحقیر کے لئے ہے یعنی حقیر ساگمان۔ خفیف ساوہم۔ ان نظن الا ظنا محض ایک خیال سا تو ہم کو بھی لگتا ہے۔
مستیقنین : اسم فاعل جمع مذکر۔ استیقان (اسفتعال) مصدر یقین کرنے والے بحالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
قیامت کا انجام۔
(ف 1) اوپر جزا وسزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گذاری اور رسول اللہ اور قرآن پر ایمان لائے ان کے لیے جنت ہے اور یہی بڑی کامیابی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لیے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہرتے تھے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزاوسزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا، اور جزا وسزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہاری وہی مسخراپن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں…
Read the full tafseer →(32) اور جب تم سے کا جاتا تھا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے اور قیامت کے وقوع اور اس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے تو تم کہا کرتے تھے ہم نہیں جانتے اور ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت کیا چیز ہے ہاں ہم کو صرف یوں ہی ایک ہلکا سا خیال تو ہوتا مگر ہمکو اس کے ہونے کا یقین نہیں ہے اور ہم کو اس کا یقین نہیں ہوتا۔ یعنی ہم کو مسلمانوں کے کہنے سننے سے ایک وہم سا ہوتا ہے لیکن ہم کو اس قیامت کا یقین نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کے وعدے کا یقین نہیں پھر قیامت کا یقین نہیں تو گویا دوبارازندہ ہونے اور سزا اور جزا کا یقین نہیں ہے اور یہی کفر صریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 3۔ یعنی وعدہ بعث و مجازاة کا۔
Read the full tafseer →تم کو اللہ کا وعدہ یاد دلایا گیا تو تم نے برملا کہا کہ یا مت و یا مت کچھ بھی نہیں ہے
23 ؎ گزشتہ آیت میں ان کے تکبر کا بیان تھا اور زیر بیان تھا اور زیر نظر آیت اس کی وضاحت پیش کر رہی ہے کہ ان کے تکبر کی اصلی حالت کیا تھی اور بتایا جا رہا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا ذکر کیا جاتا تھا تو کہتے کہ یہ اللہ اور وعدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کیا اللہ کا بھی کوئی وعدہ ہے یا وہ بھی کبھی وعدہ کا پابند ہو سکتا ہے کیا اللہ کو بھی تم وعدہ میں جکڑا ہوا سمجھتے ہو کیا تم کو اللہ کا وعدہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی ؟ یہ ڈھکوسلا تم نے کہاں سے حاصل کرلیا ، کس قیامت کی تم بات کرتے ہو ، جتنا منہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
Commentary
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…
Read the full tafseer →44 The people mentioned in verse 24 above were those who denied the Hereafter openly and absolutely, here those who are not sure of it although they do not deny its possibility because of conjecture. Apparently there is a vast difference between the two groups in that one of them denies the Hereafter absolutely and the other regards it as possible on the basis of conjecture. But as for the result and final end, there is no difference between them, for the moral consequences of the denial of the Hereafter and of lack of the faith in it are the same. A person whether he disbelieves in the…
Read the full tafseer →