Explained with ayahs 30–37
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 43
یعنی اپنے گھمنڈ میں تم نے یہ سمجھا کہ اللہ کی آیات کو مان کر مطیع فرمان بن جانا تمہاری شان سے فروتر ہے، اور تمہارا مقام بندگی کے مقام سے بہت اونچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
معارف و مسائل
(آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…
Read the full tafseer →واما الذین کفروا افلم تکن ایتی تتلی علیکم فاسکتبرتم وکنم قوما مجرمین 31
یہ کفار کے انجام کا بیان ہے اور ان کا انجام اہل ایمان کے مقابل میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس سورة میں اصلی بحث کفار ہی سے ہے اور خاص طور پر ان کے متکبرین کے طبقہ سے فرمایا کہ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو ان سے کہا جائے گا کیوں کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے جب تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائیجاتی تھیں تو تم نے تکبر کیا اور ہماری تنبیہ و تذکیر کے باوجود تم بدستور اپنے جرم پر مصر رہے ! اس تکبر اور اصرار کی تفصیل اسی سورة کی آیات 9-8 اور 25-24 میں گزر چکی ہے اس مرحلہ میں ان لوگوں سے یہ سوال ظاہر ہے کہ جواب…
Read the full tafseer →31۔ 1 یہ بطور توبیخ کے ان سے کہا جائے گا، کیونکہ رسول ان کے پاس آئے تھے، انہوں نے اللہ کے احکام انہیں سنائے تھے، لیکن انہوں نے پروا ہی نہیں کی تھی۔
31۔ 2 یعنی حق کے قبول کرنے سے تم نے تکبر کیا اور ایمان نہیں لائے، بلکہ تم تھے ہی گناہ گار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
9: قیامت کے مختلف مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ وہاں کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بےساختہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے یا بیٹھ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت نمبر 31 تا 32
اب ذرا دیکھو ، کیا حال ہے ؟ اور تمہیں کس قدر یقین آرہا ہے۔ قدرے وقفے کے بعد اب ان کی ذہنی دنیا کے حالات کہ اب ان پر چودہ طبق روشن ہیں :
Read the full tafseer →4 یعنی ہماری طرف سے نصیحت و فہمائش اور تمام حجت کا کوئی دقیقہ اٹھا کر نہ رکھا گیا۔ اس پر بھی تمہارے غرور کی گردن نیچی نہ ہوئی۔ آخرت کے پکے مجرم بن کر رہے۔ یا " وکنتم قوماً مجرمین۔ " کا مطلب یہ لیا جائے کہ تم پہلے ہی سے جرائم پیشہ تھے۔
Read the full tafseer →آیت 31 { وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا“
{ اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ } ”ان سے اللہ پوچھے گا کہ کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟“
اس آیت میں اگرچہ کفار کا ذکر ہے ‘ لیکن اس مفہوم کی آیات کے حوالے سے یہ اہم نکتہ مدنظر رہے کہ ہم بھی جب قرآن سنتے ہیں تو اپنے اور پڑھ کر سنانے والے کے بارے میں اس جملے کا مفہوم ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ان سطور کو پڑھنے والے ہر قاری کے ذہن میں بھی یہ تصور ضرور ہونا چاہیے کہ قرآن کا پیغام اس تک پہنچ گیا ہے اور وہ اس کے بارے میں ضرور مسئول ہوگا۔
{ فَاسْتَکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ…
Read the full tafseer →44 یعنی کبرونخوت تم میں اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اللہ کی آیات سننا بھی تم اپنی شان سے فروتر سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
27۔ یہ پورا فقرہ کافروں سے خطاب کرکے قیامت میں کہا جائے گا۔ صیغہ غائب سے معا صیغہ مخاطب کی طرف منتقل ہوجانا تاکہ کلام میں اثر وقوت زیادہ پیدا ہوجائے۔ عربی اسلوب بلاغت میں عام تھا اور اس کو صنعت التفات کہتے ہیں۔ اور یہاں اس سے مقصود عتاب کی اہمیت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…
Read the full tafseer →واما الذین کفروا افلم تکن ایتی تتلی علیکم فاستکبرتم وکنتم قوما مجرمین اور جو لوگ کافر تھے (ان سے کہا جائے گا :) کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ سو تم نے ان کو قبول کرنے سے تکبر کیا ‘ اور تم (اس وجہ سے) بڑے مجرم لوگ تھے۔
فِیْ رَحْمَتِہٖ رحمت سے مراد ہے جنت۔ گذشتہ آیت اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ مجمل تھی ‘ اس آیت سے سزا و جزا کی تفصیل کی گئی ہے۔
الْفَوْزُ الْمُبِیْن یہ کھلی کامیابی ہے ‘ ہر طرح کی آمیزش سے پاک۔
اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ یہ استفہام انکاری یعنی انکار نفی ہے جو مفید اثبات ہے۔
فَاسْتَکْبَرْتُمْ یعنی تم نے ان کو ماننے اور ان پر یقین کرنے سے تکبر…
Read the full tafseer →اور کافروں سے کہا جائے گا کیا تمہیں دنیا میں اوامرو نواہی کے بارے میں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں مگر تم نے ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا تھا اور تم مشرک تھے۔
Read the full tafseer →(1) واما الذین کفروا افلم تکن ایتی تتلی علیکم :”واما الذین کفروا“ کے بعد کچھ الفاظ محذوف ہیں۔ کیونکہ ”اما الذین کفروا“ جملہ خبر یہ کا ایک حصہ ہے اور ”افلم تکن ایتی تتلی علیکم“ افلم تکن…‘ ذ سے سمجھ میں آرہے ہیں، جو اس طرح کے ہوسکتے ہیں : ”واما الذین کفروا قیدخلھم فی عذابہ و یقول افلم تکن ایاتی تتلی علیکم“”یعنی رہے کافر تو وہ انھیں اپنے عذاب میں داخل کرے گا اور فرمائے گا، تو کیا میری آیات تمہارے سامنے پڑھی نہ جاتی تھی ؟“ (واللہ اعلم) مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کا اعتاب اور اس کی ڈانٹ بھی سنیں گے جو اپنی جگہ بہت بڑا عذاب ہے۔
(2) فاستکبر تم وکنتم قوما مجرمین : قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
رحمت سے مراد جنت ہے یعنی انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ استفہام توبیخ کے لئے ہے۔ تم نے اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا۔ تم مشرک قوم ہو تم نافرمانیاں کرتے ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے : جب وہ اس جرم کا ارتکاب کرنیوالا ہو : مجرم اسے کہتے ہیں جو اپنے آپ کو نافرمانیوں پر برانگختیہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القلم) مجرم مسلم کی ضد ہے پس وہ کفر کے گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “ (یہ ہمارے کتابچہ ہے جو تمہاری مقابلے میں ٹھیک ٹھاک بول رہا ہے) یعنی وہ ام الکتاب ہے جس میں بنی آدم کے اعمال ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور ہم تمہارے اعمال لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے یعنی وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں ) ۔
9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دولت ہے پھر تختیوں کو…
Read the full tafseer →وَاَمَّا الَّذِيْنَ [ اور وہ جو لوگ ہیں جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۣ [ انکار کیا ] اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ [ تو کیا تم کو پڑھ کر سنائی نہ جاتی تھیں میری آیات ] فَاسْتَكْبَرْتُمْ [ پھر تم بڑے بنے ] وَكُنْتُمْ [ اور تم لوگ تھے ہی ] قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ [ ایک جرم کرنے والی قوم ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
پھر کافرین کی سزا کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (الآیات) جن لوگوں نے کفر کیا قیامت کے دن عذاب میں داخل ہوں گے جب مصیبت میں گرفتار ہوں گے تو چھٹکارہ کے لیے معذرت کریں گے اس وقت ان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کیا جائے گا ﴿اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ ﴾ کیا تمہارے اوپر میری آیات تلاوت نہیں کی جاتی تھیں ؟ جب یہ آیات تمہارے پاس پہنچیں تو تم نے تکبر کیا اور حق قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھا، کفر پر قائم رہنے ہی میں تم اپنی بڑائی سمجھتے رہے، ﴿وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 0031﴾ (اور تم جرم کرنے والے لوگ تھے) تم نے تکبر کیا حق کو ٹھکرایا مجرمانہ زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
22:۔ ” واما الذین کفروا۔ تا۔ ولاھم یستعتبون “ یہ تخویف اخروی ہے جس میں کچھ تفصیلات بھی مذکور ہیں۔ ” افلم تکن “ سے پہلے ” فیقال لہم “ محذوف ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے کفار و مشرکین سرزنش اور توبیخ کے طور پر کہا جائیگا : کیا دنیا میں تمہیں میری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں، لیکن غروروتکبر سے انکا اناکر کی طرف سے کفار و مشرکین سے سرزنش اور توبیخ کے طور پر کہا جائیگا :۔ کیا دنیا میں تمہیں میری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں، لیکن غرور وتکبر سے انکا انکار کرتے تھے اور تم عادی مجرم اور مشرک تھے، میرے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کے وعظ و نصیحت کے باوجود تم شرک اور دوسرے جرائم سے باز نہیں آتے تھے۔ مجرمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں توحید اور معاد کے مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گزشتہ آیات میں انہی مسائل کا ذکر ہوا۔ ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بھی اللہ نے بیان فرمایا ہے ہم اس سورة میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد زیادہ ہے اور پھر قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کے مباحث بار بار بیان ہو رہے ہیں۔
حقیقی بادشاہت
آج کی آیات بھی انہی مضامین پر مشتمل ہیں ، پہلے مسئلہ توحید کے متعلق فرمایا وللہ ملک السموت والارض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیء حقیقی…
Read the full tafseer →وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 0 ۣ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰـتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 31
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔
تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قف اَفَلَمْ تَـکُنْ اٰیٰـتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاسْتَـکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 31)
(اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا میری آیات تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں، لیکن تم نے تکبر کیا، اور تم مجرم لوگ تھے۔ )
کفار کا انجام
صاحبِ ایمان لوگوں کے انجام کے بعد کفار کا انجام بیان فرمایا گیا ہے۔ چونکہ اس سورة میں اصل بحث کفار ہی کے حوالے سے کی جارہی ہے اور بار بار ان کے اصل مرض کی نشان دہی کی جارہی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو ناقابلِ اعتنا سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی آزاد زندگی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو ملنے والے اعمال ناموں کا نتیجہ۔
جو لگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دامن میں لیے لیا اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جھڑکنے کے انداز میں استفسار فرمائے گا۔ کیا میرے ارشاد تم تک نہیں پہنچے تھے ؟ لیکن تم نے ان کے ساتھ تکبر کیا اور تم مجرم ٹھہرے۔ یقیناً قیامت کے دن مجرموں کو ان کے جرم کے مطابق سزا ہوگی اور کسی پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو نہ صرف ان کے ایمان اور اعمال کی جزا دی جائے…
Read the full tafseer →آیت 31 : وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور وہ لوگ جو کافر تھے) پس ان کو کہا جائے گا۔ اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ (کیا میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں) مطلب یہ ہے۔ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے۔ پس میری آیات تم پر نہیں پڑھی جاتیں تھیں۔ تو معطوف علیہ کو حذف کردیا۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ألم یاتکم رسلی فلم تکن آیاتی تتلٰی علیکم۔
فَاسْتَکْبَرْتُمْ (پس تم نے ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا تھا) وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (اور تم بڑے مجرم لوگ تھے) یعنی کافر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
29، ھذاکتابنا، یعنی محافظین کا رجسڑ۔ ، ینطق علیکم بالحق، جو تمہارے خلاف شافی بیان کی گوائی دے گی ۔ پس گویا کہ وہ بول رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ کتاب سے مراد محفوظ ہے۔ ، اناکنا نستنسخ ماکنتم تعملون، یعنی ہم فرشتوں کو حکم دیں تمہارے اعمال کے نسخ یعنی ان کی کتابت اور تم پر اثبات کا اور کہا گیا ہے کہ ، تستنسخ، یعنی تاخذ نسخہ یہ اس وجہ سے کہ دوفرشتے انسان کے ہر عمل کو بلند کرتے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ اس میں سے وہ عمل ثابت کرتے ہیں جس میں اس کے لیے ثواب یاعقاب ہو اور ان میں سے لغوعمل کو پھینک دیتے ہیں۔ جیسے ان کا قول ادھر آ اور چلاجا وغیرہ۔ اور کہا گیا ہے لوح محفوظ سے لکھنا مراد ہے کہ فرشتے ہر سال لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ اوپر جزا و سزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گزاری اور نیک کام کئے ان کے لئے جنت ہے اور یہی بڑی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لئے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہراتے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزا و سزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا اور جزا و سزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہارا وہی مخسرا پن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ دوزخ قرار دیا ‘ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
57 منکرین کی تذلیل و تحقیر کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کفار و منکرین سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ "۔ مگر تم لوگوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں ان سے منہ موڑا اور تم لوگ مجرم ہی بنے رہے اور تم نے حق کو قبول کر کے نہ دیا۔ سو اب چکھو مزہ اپنے اس کفر و انکار اور استکبار کا جس کو تم نے زندگی بھر اپنائے رکھا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا اور کیا کرایا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ باعث محرومی و ہلاکت ہے کہ اس کی بنا پر انسان حق اور حقیقت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیات 27 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ف 2 اس سے صاف نکلتا ہے کہ اگر کسی کو حشر نشر، حساب کتاب، فرشتوں، پیغمبروں اور دین کے دوسرے ضروری عقائد میں شک ہو تو (گو انکار نہ ہو) تو بھی) وہ کافر ہے اور کمال ایمان کے لئے پورا یقین ہونا شرط ہے (وحیدی )
Read the full tafseer →(45:31) واما الذین کفروا : میں واؤ عاطفہ ہے۔ اما حرف شرط اور جو لوگ کفر کرتے رہے۔ جملہ شرط ہے۔ اس کے بعد جواب اما محذوف ہے۔ ای فیقال لہم۔ افلم تکن ایتی تتلی علیکم : میں ہمزہ استفہامیہ ہے فاء حرف عطف ہے اس سے قبل معطوف علیہ محذوف ہے : ای اکم یاتکم رسلی فلم تکن ایتی تتلی علیکم : کیا میرے پیغمبر تمہارے پاس نہیں آئے تھے۔ اور پھر کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں۔
افلم تکن ایتی تتلی علیکم : میں استفہام انکاری ہے یعنی انکار نفی ہے جو مفید اثبات ہے۔ انکار کی نفی اثبات ہے۔
فاستکبرتم : پھر تم (سن کو) تکبر کیا کرتے تھے۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استکبار (استفعال) مصدر۔ مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
قیامت کا انجام۔
(ف 1) اوپر جزا وسزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گذاری اور رسول اللہ اور قرآن پر ایمان لائے ان کے لیے جنت ہے اور یہی بڑی کامیابی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لیے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہرتے تھے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزاوسزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا، اور جزا وسزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہاری وہی مسخراپن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں…
Read the full tafseer →(31) اور جو لوگ کفروانکار کرتے رہے ان سے کا جائے گا کیا تم کو میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم نے ان کے قبول کرنے سے غرور اور تکبر کیا اور تم بڑے ہی گناہ گار لوگ تھے۔ یعنی جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا تھا ان سے کہا جائے گا کیا یہ نہیں ہوا کہ میری آیتیں تم کو سنائی گئیں سو تم نے ان کے قبول کرنے سے تکبر کیا اور یہ تمہارابہت بڑا جرم تھا اور اس وجہ سے تم مجرم اور جرائم پیشہ لوگ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 1۔ یعنی تمہارے اعمال کو ظاہر کر رہا ہے۔
2۔ اور یہ ان ہی کا مجموعہ ہے۔
Read the full tafseer →منکرین و معاندین کے لئے دوزخ پہلے ہی تیارکر دی گئی ہے
13 ؎ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جنہوں نے دل کے ساتھ نہ تو اللہ تعالیٰ کو مانا ، نہ اس کے رسولوں ، فرشتوں ، کتابوں اور قیامت کے دن کی تصدیق کی اور اگر زبان سے اقرار بھی کیا تو رسماً کیا اور عملً اس کی تردید کردی۔ اسلام کی زبان میں ان سب کو خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں کافر قراردیا ہے اور اب سب کو ان کے فیل ہونے کی اطلاع کرنے کے بعد اور انکا رزلٹ ان کو سنا دینے کے بعد پوچھا جا رہا ہے کہ کیا تمہارے سامنے ہماری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں اور یہ استفسار ان کو شرم دلانے ہی کے لئے کیا جائے گا اور دراصل ان کو بتانا مقصد ہے کہ تمہارا یہ فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
Commentary
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…
Read the full tafseer →43 That is, "You thought it was below your dignity to believe in Allah's Revelations and submit to them, and considered yourselves to be above subjection and servitude."
Read the full tafseer →