Explained with ayahs 30–37
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْجَاثِیَة 42
لکھوانے کی صرف یہی ایک ممکن صورت نہیں ہے کہ کاغذ پر قلم سے لکھوایا جائے۔ انسانی اقوال و افعال کو ثبت کرنے اور دوبارہ ان کو بعینہ اسکی شکل میں پیش کردینے کی متعدد دوسری صورتیں اسی دنیا میں خود انسان دریافت کرچکا ہے، اور ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ آگے اس کے اور کیا امکانات پوشیدہ ہیں جو کبھی انسان ہی کی گرفت میں آجائیں گے۔ اب یہ کون جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح انسان کی ایک ایک بات، اور اس کی حرکات و سکنات میں سے ایک ایک چیز، اور اس کی نیتوں اور ارادوں اور خواہشات اور خیالات میں سے ہر مخفی سے مخفی شے کو ثبت کرا رہا ہے، اور کس طرح وہ ہر آدمی، ہر گروہ اور ہر قوم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
معارف و مسائل
(آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…
Read the full tafseer →فاما الذین امنوا و عملوا الصلحت فیدخلھم ربھم فی رحمتہ ذلک ھو الفوز المبین 30
ہر گروہ کو اس کے ریکارڈ سے آگاہ کرد ینے کے بعد اب ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ انجام بیان ہو رہا ہے۔ پہلے اہل ایمان کا انجام بیان ہوا۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ لفظ رحمت یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان لوگوں کو صرف ان کے اعمال ہی کا بدلہ نہیں ملے گا بلکہ اس کے ساتھ ان کے رب کا بےپایاں فضل بھی ہوگا۔ اس کے بعد بطور تحسین فرمایا کہ کھلی ہوئی کامیابی یہ ہے جو یہ لوگ حاصل کریں گے نہ کہ اس دنیا کا وہ چند روزہ عیش جس کے عشق میں پھنس کر…
Read the full tafseer →30۔ 1 یہاں بھی ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر کرکے اس کی اہمیت واضح کردی اور عمل صالح وہ اعمال خیر ہیں جو سنت کے مطابق ادا کئے جائیں نہ کہ ہر وہ عمل جسے انسان اپنے طور پر اچھا سمجھ لے اور اسے نہایت اہتمام اور ذوق شوق کے ساتھ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
9: قیامت کے مختلف مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ وہاں کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بےساختہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے یا بیٹھ جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 30
اب یہ گروہ اس طویل انتظار سے نجات پائے گا۔ قلق اور اضطراب دور ہوگا۔ آیت میں ان کے انجام کو جلدی سے نہایت سادہ انداز میں بیان کردیا ۔ اور یہ لوگ گئے اپنے اصل مقام کی طرف۔
لیکن ہماری نظریں اچانک کیا دیکھتی ہیں کہ ایک دوسرا گروہ ہمارے سامنے ہے اور ان کو طویل الفاظ میں سرزنش کی جاتی ہے۔ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور ان کے برے اعمال ان کو یاد دلائے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →3 یعنی جنت میں جہاں اعلیٰ درجہ کی رحمت اور ہر قسم کی مہربانیاں ہوں گی۔
Read the full tafseer →آیت 30 { فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے“
{ فَیُدْخِلُہُمْ رَبُّہُمْ فِیْ رَحْمَتِہٖ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ } ”تو ان کو داخل کر دے گا ان کا پروردگار اپنی رحمت میں۔ یہ بہت واضح کامیابی ہوگی۔“
Read the full tafseer →43 سب کامیابیوں کا اصل اللہ کی رحمت میں داخل ہونا ہے :۔ اللہ جسے اپنی رحمت میں داخل کرلے تو اس کی واضح کامیابی کے کئی پہلو ہیں۔ ایک تو عذاب سے نجات مل جائے گی اور دوسرے قیامت کی ہولناکیوں سے امن میں رہے گا۔ تیسرے حساب کتاب بالکل سرسری اور آسان سا ہوگا۔ چوتھے جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ پھر مزید انعامات بھی ہوتے رہیں گے۔ گویا اللہ کی رحمت میں داخل ہونا اتنی بڑی کامیابی ہے کہ باقی ہر طرح کی کامیابیاں از خود اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
27۔ یہ پورا فقرہ کافروں سے خطاب کرکے قیامت میں کہا جائے گا۔ صیغہ غائب سے معا صیغہ مخاطب کی طرف منتقل ہوجانا تاکہ کلام میں اثر وقوت زیادہ پیدا ہوجائے۔ عربی اسلوب بلاغت میں عام تھا اور اس کو صنعت التفات کہتے ہیں۔ اور یہاں اس سے مقصود عتاب کی اہمیت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…
Read the full tafseer →فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیدخلھم ربھم فی رحمتہ ذلک ھو الفوز المبین۔ سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کئے تھے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ صریح کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →سو جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تھے ہم انہیں اپنی جنت میں داخل کریں گے۔ یہ کامل کامیابی ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے محفوظ رہے یہ ان لوگوں کی جماعت ہوگی جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(1) فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت : یہاں بشارت کا ذکر پہلے فرمایا، کیونکہ اس سے بشارت میں مزید خوشی شامل ہوئی ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا ہو ، ہر قسم کے شرک حتی کہ ریا سے بھی پاک ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ مزید دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت۔
(2) فیدخلھم ربھم فی رحمتہ : انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔”ربھم“ کے لفظ میں ان کے ساتھ اپنے تعلق اور اپنی محبت کا اظہار ہے اور ”اپنی رحمت“ سے مراد جنت ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :(قال اللہ تبارک و تعالیٰ للجنۃ انت رحمتی ارحم بک من اشاء من عبادی وقال للنار انما انت عذاب اعذب بک من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
رحمت سے مراد جنت ہے یعنی انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ استفہام توبیخ کے لئے ہے۔ تم نے اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا۔ تم مشرک قوم ہو تم نافرمانیاں کرتے ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے : جب وہ اس جرم کا ارتکاب کرنیوالا ہو : مجرم اسے کہتے ہیں جو اپنے آپ کو نافرمانیوں پر برانگختیہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القلم) مجرم مسلم کی ضد ہے پس وہ کفر کے گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “ (یہ ہمارے کتابچہ ہے جو تمہاری مقابلے میں ٹھیک ٹھاک بول رہا ہے) یعنی وہ ام الکتاب ہے جس میں بنی آدم کے اعمال ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور ہم تمہارے اعمال لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے یعنی وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں ) ۔
9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دولت ہے پھر تختیوں کو…
Read the full tafseer →فَاَمَّا الَّذِيْنَ [ تو وہ جو لوگ ہیں جو ] اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا [ ایمان لائے اور انہوں نے عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ [ تو داخل کرے گا ان کو ان کا رب ] فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت میں ] ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ [ یہ ہی کھلی کامیابی ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل ایمان کی جزا بیان فرمائی ﴿ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں یعنی جنت میں داخل فرمائے گا، جہاں رحمت ہی رحمت ہوگی یہ جنت اور رحمت کھلی ہوئی کامیابی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →21:۔ ” فاما الذین امنوا۔ الایۃ “ یہ بشارت اخرویہ ہے لیکن مومنین صالحین کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی رحمت میں پناہ دے گا، ان کے گناہ معاف فرمائیگا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوجانا ہی نمایاں کامیابی ہے جو مومنین کو حاصل ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں توحید اور معاد کے مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گزشتہ آیات میں انہی مسائل کا ذکر ہوا۔ ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بھی اللہ نے بیان فرمایا ہے ہم اس سورة میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد زیادہ ہے اور پھر قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کے مباحث بار بار بیان ہو رہے ہیں۔
حقیقی بادشاہت
آج کی آیات بھی انہی مضامین پر مشتمل ہیں ، پہلے مسئلہ توحید کے متعلق فرمایا وللہ ملک السموت والارض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیء حقیقی…
Read the full tafseer →فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُدْخِلُہُمْ رَبُّہُمْ فِيْ رَحْمَتِہٖ 0 ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَوْزُ الْمُبِيْنُ 30
«أمَّا»
و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔
تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →فَاَمَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُھُمْ رَبُّھُمْ فِیْ رَحْمَتِہٖ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْمُبِیْنُ ۔ (الجاثیۃ : 30)
(پس جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی وہ کھلی ہوئی کامیابی ہے۔ )
اہلِ ایمان کا انجام
دفترِاعمال کی گواہی کے مطابق ہر گروہ اور ہر شخص اپنے انجام کو پہنچے گا۔ ان میں سب سے پہلے اہل ایمان کے انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے نامساعد حالات کے باوجود ایمان قبول کیا اور پھر شریعت کے مطابق عمل صالح کی زندگی گزاری۔ انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یعنی صرف یہی نہیں ہوگا کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو ملنے والے اعمال ناموں کا نتیجہ۔
جو لگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دامن میں لیے لیا اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جھڑکنے کے انداز میں استفسار فرمائے گا۔ کیا میرے ارشاد تم تک نہیں پہنچے تھے ؟ لیکن تم نے ان کے ساتھ تکبر کیا اور تم مجرم ٹھہرے۔ یقیناً قیامت کے دن مجرموں کو ان کے جرم کے مطابق سزا ہوگی اور کسی پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو نہ صرف ان کے ایمان اور اعمال کی جزا دی جائے…
Read the full tafseer →آیت 30 : فَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْ خِلُہُمْ رَبُّہُمْ فِیْ رَحْمَتِہٖ (پس جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کیے تھے۔ تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا) رحمت سے جنت مراد ہے۔ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (اور یہ صریح کامیابی ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
29، ھذاکتابنا، یعنی محافظین کا رجسڑ۔ ، ینطق علیکم بالحق، جو تمہارے خلاف شافی بیان کی گوائی دے گی ۔ پس گویا کہ وہ بول رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ کتاب سے مراد محفوظ ہے۔ ، اناکنا نستنسخ ماکنتم تعملون، یعنی ہم فرشتوں کو حکم دیں تمہارے اعمال کے نسخ یعنی ان کی کتابت اور تم پر اثبات کا اور کہا گیا ہے کہ ، تستنسخ، یعنی تاخذ نسخہ یہ اس وجہ سے کہ دوفرشتے انسان کے ہر عمل کو بلند کرتے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ اس میں سے وہ عمل ثابت کرتے ہیں جس میں اس کے لیے ثواب یاعقاب ہو اور ان میں سے لغوعمل کو پھینک دیتے ہیں۔ جیسے ان کا قول ادھر آ اور چلاجا وغیرہ۔ اور کہا گیا ہے لوح محفوظ سے لکھنا مراد ہے کہ فرشتے ہر سال لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33۔ اوپر جزا و سزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گزاری اور نیک کام کئے ان کے لئے جنت ہے اور یہی بڑی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لئے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہراتے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزا و سزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا اور جزا و سزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہارا وہی مخسرا پن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ دوزخ قرار دیا ‘ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
57 منکرین کی تذلیل و تحقیر کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کفار و منکرین سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ "۔ مگر تم لوگوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں ان سے منہ موڑا اور تم لوگ مجرم ہی بنے رہے اور تم نے حق کو قبول کر کے نہ دیا۔ سو اب چکھو مزہ اپنے اس کفر و انکار اور استکبار کا جس کو تم نے زندگی بھر اپنائے رکھا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا اور کیا کرایا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ باعث محرومی و ہلاکت ہے کہ اس کی بنا پر انسان حق اور حقیقت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیات 27 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ف 2 اس سے صاف نکلتا ہے کہ اگر کسی کو حشر نشر، حساب کتاب، فرشتوں، پیغمبروں اور دین کے دوسرے ضروری عقائد میں شک ہو تو (گو انکار نہ ہو) تو بھی) وہ کافر ہے اور کمال ایمان کے لئے پورا یقین ہونا شرط ہے (وحیدی )
Read the full tafseer →(45:30) وما۔ یہ حرف شرط ہے اور تفصیل اور تاکید کا حرف بھی ہے اس کے شرط کا حرف ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے جیسے کہ :۔ فاما من اوتی کتبہ بیمینہ فاولئک یقرء ون کتبھم (17:71) تو جن کے (اعمال کی) کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی۔ وہ اپنی کتاب خوش (خوش ہر لہوکر) پڑھیں گے۔ یا فاما من ثقلت موازینہ فھو فی عیشۃ راضیۃ (101:6-7) تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔
موجودہ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا (رحمتہ بمعنی جنتہ ہے) ۔ گزشتہ آیت میں سزا و جزا کو مجمل طور پر بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
قیامت کا انجام۔
(ف 1) اوپر جزا وسزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گذاری اور رسول اللہ اور قرآن پر ایمان لائے ان کے لیے جنت ہے اور یہی بڑی کامیابی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لیے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہرتے تھے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزاوسزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا، اور جزا وسزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہاری وہی مسخراپن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ف 1: اس وقت اللہ کے وہ بندے جنہوں نے دنیا میں ایمان کی دولت کو پالیا تھا ۔ اور ایقان وتسکین نفس کی نعمتوں سے جھولیوں کو بھر لیا تھا ۔ اپنے کو اللہ کی رحمتوں اور بخششوں کے سایہ تلے تصور کریں گے ۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ۔ کہ غور سے دیکھو ، کھلی اور واضح کامیابی یہ ہے ۔ جو ان سعید روحوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ اور محروم لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا جائے گا ۔ کہ آج تمہارے لئے کوئی آسودگی نہیں ۔ کیا تمہارے پاس ہمارا پیغام نہیں پہنچا تھا ۔ اور تم نے متکبرانہ اس کو ٹھکرا نہیں دیا تھا ۔ اور جب تم سے کہا گیا تھا ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور ایک دن قیامت آکر رہے گی ۔ تب یہ دنیائے دوں انپی تمام دلچسپیوں…
Read the full tafseer →(30) سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال بھی کئے تھے ان کو ان کا پروردگار اپنی مہر اور اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ رحمت میں داخل کرلینا کھلی ہوئی کامیابی ہے۔ یعنی رحمت میں داخل فرمالینا اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوسکتی ہے یہی بڑی مراد تھی جو حاصل ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 1۔ یعنی تمہارے اعمال کو ظاہر کر رہا ہے۔
2۔ اور یہ ان ہی کا مجموعہ ہے۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں اور نیکیاں کمانے والوں کو کامیاب قرار دیا جائے گا :
03 ؎ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے ایسا ایمان لانا جو اللہ پر ایمان لانے کا حق ہے اور اللہ کی کتابوں پر ایمان لائے جو کتابوں پر ایمان لانے کا حق ہے اور رسولوں پر ایمان لائے جو ایمان لانا حق ہے اور آخرت پر ایمان لائے جو آخرت پر ایمان لانے کا حق ہے اور ان سب پر ایمان لانے کی تصدیق ان کے عمل سے ہوجائے گی اگر اعمال اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق ہوئے اور اس طرح جن کاموں کے کرن کا حکم ہے انکو بخوشی کیا اور جن کو چھوڑنے کا حکم ہے ان کو بخوشی چھوڑ دیا تو لاریب عمل نے تصدیق کردی کہ یہ شخص ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
Commentary
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
42 The only possible way of getting a thing recorded is not by means of the pen and paper only. Man himself has discovered in this world several other forms of recording human words and actions and reproducing them exactly and accurately; and we cannot even imagine what other possibilities of it lie yet undiscovered, which man himself will discover and exploit in the future. Now, who can know how and by what means is Allah getting recorded man's every word, his every movement and action, even his hidden intentions and motives and desires and ideas, and how He will place before every man and…
Read the full tafseer →