Al-Jaathiya 45:29

Al-Jaathiya · from ayah 29

45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ ؕ— اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟هٰذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ‌ؕ اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

This, Our record, speaks about you in truth. Indeed, We were having transcribed whatever you used to do."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:29

یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھواتے جا رہے تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) دفتر ہے جو تمہارے بارے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے۔ تم جو کچھ کرتے تھے، ہم اس سب کو لکھوا لیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہمارا یہ نوشتہ تم پر حق بولتا ہے، ہم لکھتے رہے تھے جو تم نے کیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ ہمارا نوشتہ ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کرے گا، بیشک ہم وہ سب کچھ لکھوا (کر محفوظ کر) لیا کرتے تھے جو تم کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے، جو تم عمل کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) اعمال نامہ ہے جو تمہارے متعلق ٹھیک ٹھیک بیان کردے گا جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ ہم (ساتھ ساتھ انہیں) لکھواتے جاتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہمارا دفتر ہے جو تمہارے اوپر بالکل ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔ ہم لکھواتے رہے ہیں جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ہماری کتاب بول رہی ہے تم پر حق کے ساتھ بلاشبہ ہم لکھوا لیا کرتے تھے وہ سب کچھ جو تم لوگ کر رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ہمارا رجسٹر ہے جو تمہارے حق میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے تم جو کچھ بھی کرتے رہتے تھے ہم سب لکھواتے جاتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہمارا (تیار کردہ) اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ گواہی دے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جا رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is Our Record which bears witness against you with truth; We used to record all what you did.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is Our book that speaks against you with truth. We used to get recorded all that you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

This is Our book that speaks against you with truth. We used to get recorded all that you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This Our Record speaks about you with truth. Verily, We were recording what you used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This Our Book pronounceth against you with truth. Lo! We have caused (all) that ye did to be recorded.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

This, Our record, speaks about you in truth. Indeed, We were having transcribed whatever you used to do."

— Saheeh International

This is Our Book. It will tell you the truth. We have made a copy of all that you have done.

— Muhammad Sarwar

This is Our book that speaks against you with justice; surely We wrote what you did,

— Muhammad Habib Shakir

This Book of Ours speaketh against you with truth; verily We have been setting down whatsoever ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

"This Our Record speaks about you with truth: For We were wont to put on Record all that ye did."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–29

اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ حضرت سفیان ثوری جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور حضرت معافری مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے (ابن ابی حاتم) وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہوگا کہ ہر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة الْجَاثِیَة 42 لکھوانے کی صرف یہی ایک ممکن صورت نہیں ہے کہ کاغذ پر قلم سے لکھوایا جائے۔ انسانی اقوال و افعال کو ثبت کرنے اور دوبارہ ان کو بعینہ اسکی شکل میں پیش کردینے کی متعدد دوسری صورتیں اسی دنیا میں خود انسان دریافت کرچکا ہے، اور ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ آگے اس کے اور کیا امکانات پوشیدہ ہیں جو کبھی انسان ہی کی گرفت میں آجائیں گے۔ اب یہ کون جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح انسان کی ایک ایک بات، اور اس کی حرکات و سکنات میں سے ایک ایک چیز، اور اس کی نیتوں اور ارادوں اور خواہشات اور خیالات میں سے ہر مخفی سے مخفی شے کو ثبت کرا رہا ہے، اور کس طرح وہ ہر آدمی، ہر گروہ اور ہر قوم کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–37

معارف و مسائل (آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق انا کنا تستنسخ ماکنتم تعملون 29 یہ بھی اوپر والی بات ہی کا حصہ ہے۔ یعنی ان کو آگاہ کردیا جائے گا کہ اس دفتر سے کسی ناانصافی یا کسی سہو و نسیان کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ٹھیک بتائے گا کہ کس نے کیا کیا ہے اس لئے کہ ہر ایک کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر موجود ہے۔ تم جو کچھ کرتے رہے ہو ہم اس کو برابر فرشتوں سے لکھواتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 یعنی ہمارے علم کے علاوہ، فرشتے بھی ہمارے حکم سے تمہاری ہر چیز نوٹ کرتے اور محفوظ رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–32

9: قیامت کے مختلف مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ وہاں کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بےساختہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے یا بیٹھ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 29 اب ان کو معلوم ہوگا کہ اس اعمال نامے سے کوئی چھوٹی بڑی شے رہ نہیں گئی۔ اس لیے کہ ہر چیز اللہ کے علم کے مطابق لکھی گئی ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد ان اقوام و ملل کی تقسیم ہوگی ، مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کو صرف دو حصوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ تمام اقوام و ملل کے لوگ اب دو طبقے ہوں گے۔ ایک گروہ اور طبقہ اہل ایمان کا ہوگا اور ایک اہل کفر کا ہوگا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک صرف دو پارٹیاں ہیں اور دو جھنڈے ہیں۔ حزب اللہ اور حز الشیطان۔ اس کے علاوہ تمام ملتیں ، تمام فرقے اور مذاہب ختم ہوں گے۔ تمام آبادی دو گروہ ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جو کام کیے تھے یہ اعمالنامہ ٹھیک ٹھیک وہ ہی بتلاتا ہے۔ ذرہ بھر کمی بیشی نہیں۔ 2 یعنی ہمارے علم میں تو ہر چیز ازل سے ہے۔ مگر ضابطہ میں ہمارے فرشتے لکھنے پر مامور تھے ان کی لکھی ہوئی مکمل رپورٹ آج تمہارے سامنے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 { ہٰذَا کِتٰـبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ } ”یہ ہمارا تیار کردہ اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ گواہی دے گا۔“ یہ وہ ریکارڈ ہے جس میں ہم نے تمہارے ایک ایک عمل کو محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ ابھی تمہاری ایک ایک حرکت کی ٹھیک ٹھیک تفصیل بتادے گا اور تمہارے خلاف بالکل ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔ { اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جا رہے تھے۔“ اس ”لکھنے“ کے مفہوم میں بہت وسعت اور جامعیت ہے۔ عام طور پر ہمارا ذہن لکھنے کے انسانی طور طریقوں کی طرف جاتا ہے۔ لیکن ان طریقوں میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایسی تبدیلیاں آچکی ہیں جن کے بارے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 انفرادی اور اجتماعی اعمال نامے اعمال ناموں کی حقیقت :۔ لکھنے اور لکھوانے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کسی کاغذ پر قلم اور روشنائی کے ساتھ کچھ تحریر کیا جائے۔ انسان خود ایسی ایجادات کرچکا ہے جس سے کسی کے اعمال، حرکات و سکنات، گفتگو اور لب و لہجہ سب کچھ دوسروں کے سامنے آجاتا ہے اور دوسرے اسے دیکھ اور سن سکتے ہیں اور ابھی جو کچھ مزید انسان ایجادات کرے گا وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ لکھوایا ہوا ریکارڈ صرف حرکات و سکنات اوراقوال ہی پیش نہیں کرے گا، بلکہ دلوں میں پیداشدہ خیالات اور وساوس تک کو سامنے لا رکھے گا۔ پھر یہ ریکارڈ ہر شخص کا انفرادی بھی موجود ہوگا اور ایک ہی قسم کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ (فرشتوں سے اور ان کے لکھنے میں کسی غلطی کے رہ جانے کا احتمال وامکان ہی نہیں) یہ سارا قول ان اہل دوزخ سے پکار کر کہا جائے گا۔ (آیت) ” کتبنا “۔ یعنی ہمارا لکھوایا ہوا رجسٹر، ابھی ابھی کتبھا میں اس رجسٹر کی نسبت بندوں کی طرف کی گئی تھی، اس حیثیت سے کہ رجسٹر میں اعمال تو بندوں ہی کے درج ہوں گے۔ اور اب اسی کتاب کی نسبت حق تعالیٰ اپنی جانب کررہا ہے، یہ اس اعتبار سے کہ وہ رجسٹر لکھوایا ہوا تو حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ (آیت) ” ینطق علیکم “۔ تمہارے خلاف صاف صاف گواہی دے رہا ہے۔ تمہاری بدکرداریوں کو پوری طرح ظاہر کررہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ بالکل ٹھیک ٹھیک، نپی تلی بات، بغیر کمی و زیادتی کے شائبہ کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون اور (کہا جائے گا :) یہ ہمارا کتابچہ (اندراج نامہ) ہے جو تمہارے مقابلے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے اور ہم تمہارے اعمال کو (فرشتوں کے ذریعہ سے) لکھواتے جاتے تھے۔ بغوی نے لکھا ہے : جاثیہ دو زانو بیٹھنے والی۔ فریق معاملہ جب حاکم کے سامنے اپنے معاملہ پیش کرتا ہے تو دو زانو بیٹھ کر پیش کرتا اور فیصلہ کا انتظار کرتا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : میں ہی سب سے پہلا شخص ہوں گا جو دو زانو ہو کر اللہ کے روبرو اپنا جھگڑا پیش کرے گا۔ ہم نے سورة الحج کی آیت ھٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ کی تفسیر میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ حضرت سلمان فارسی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور کہا جائے گا کہ آج تمہارے دنیا کے اعمال و اقوال کا بدلہ دیا جائے گا اور یہ ہمارا لکھوایا ہوا دفتر ہے جو تمہارے مقابلہ میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے ہم تمہارے تمام اعمال و اقوال کو لکھواتے جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1 ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق : اس میں ”ینطق“ کا لفظ قابل توجہ ہے، کیونکہ کتاب تو پڑھی جاتی کہ یہ استعارہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اور وہ کتاب فی الواقع بولے گی۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو بہت ہی بلند ہے اور قیامت کا معاملہ دنیا سے بہت مختلف ہے، مگر اب انسان نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل سے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں جو وہ سب کچھ دکھا اور سنا دیتی ہیں جو انسان کرتا ہے یا بولتا ہے۔ البتہ وہ کسی کی نیت کو سامنے نہیں لا سکتیں، مگر اللہ تعالیٰ کی تیار کروائی ہوئی ہو کتاب لوگوں کے افعال، اقوال، احوال اور نیتیں سب کچھ سامنے لے آئے گی۔ (2) انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملوکن : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس دن وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–29

ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا ان کے لئے قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا : یہ فرشتوں کا قول ہے۔ یعنی وہ گواہی دیتا ہے یہ استعارہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے یعنی کتاب نے اس کی وضاحت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اس کتاب کو پڑھیں گے تو کتاب انہیں ان کے اعمال یاد دلائے گی گویا وہ ان سے کلام کرے گی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (کہف 49) مومن کے بارے میں ہے : (مومنون 62) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ الکتاب سے حال ہے یا ذا سے حال ہے یا ذا کی دوسری خبر ہے یا سے بدل ہے اور ینطق خبر ہے، یعنی تم جو عمل کرتے تھے اس کے لکھنے کا حکم دیتے تھے حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–33

8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “ (یہ ہمارے کتابچہ ہے جو تمہاری مقابلے میں ٹھیک ٹھاک بول رہا ہے) یعنی وہ ام الکتاب ہے جس میں بنی آدم کے اعمال ہیں (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ (اور ہم تمہارے اعمال لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے یعنی وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں ) ۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس (آیت ) ” انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دولت ہے پھر تختیوں کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا كِتٰبُنَا [ یہ ہماری کتاب (ریکارڈ) ہے ] يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ [ یہ واضح کرکے بیان کرتی ہے تم لوگوں پر (اعمال کو ) ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ [ بیشک ہم لکھوا لیتے تھے ] مَا [ اس کو جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے تھے ] نوٹ۔ 1: لکھوانے کی صرف یہی ایک ممکن صورت نہیں ہے کہ کاغذ پر قلم سے لکھوا یا جائے ۔ انسانی اقوال و افعال کو ثبت کرنے اور دوبارہ ان کو بالکل اسی شکل میں پیش کردینے کی متعدد دوسری صورتیں اسی دنیا میں خود انسان دریافت کرچکا ہے اب یہ کون جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح انسان کو ایک ایک بات ، اس کی حرکات و سکنات ، اس کی نیتوں ،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید ارشاد ہوگا ﴿ هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بالْحَقِّ 1ؕ﴾ (یہ ہماری کتاب ہے (یعنی تمہارے اعمال نامے ہیں) جو تمہارے اعمال کے بارے میں بالکل صحیح گواہی دے رہے ہیں) ﴿ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0029﴾ (بےشک ہم لکھوا لیتے تھے جو تم کرتے تھے) جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور تھے بندوں کے اعمال لکھنا ان کے سپرد تھا یہ انہیں کے لکھے ہوئے اعمالنامے ہیں جو بالکل صحیح ہیں۔ فائدہ : لفظ جاثیہ کا ترجمہ اگر مُجْتَمَعَة ہو تو اس پر بھی کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا اور اگر یہ معنی لیے جائیں کہ حساب کے وقت سب ادب سے دوزانوں بیٹھے ہوں گے تو اس پر بھی کوئی اشکال نہیں اگر یہ معنی لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–37

دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت : قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔ (ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–29

20:۔ ” وللہ ملک السموات والارض “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے اور دلائل سابقہ کا خلاصہ ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ اور ساری کائنات میں بلا شرت غیرے صرف وہی متصرف و مختار ہے، لہذا اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔ ” ویوم تقوم الساعۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور جب قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست (کفار و مشرکین) ۔ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں رہیں گے کیونکہ انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائیگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ” وتری کل امۃ جاثیۃ۔ قیامت کے دن تم ہر ملت کے لوگوں کو دیکھو گے کہ خوف وہراس کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہیں اور ہر امت کے لوگوں کو ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–31

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں توحید اور معاد کے مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گزشتہ آیات میں انہی مسائل کا ذکر ہوا۔ ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بھی اللہ نے بیان فرمایا ہے ہم اس سورة میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد زیادہ ہے اور پھر قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کے مباحث بار بار بیان ہو رہے ہیں۔ حقیقی بادشاہت آج کی آیات بھی انہی مضامین پر مشتمل ہیں ، پہلے مسئلہ توحید کے متعلق فرمایا وللہ ملک السموت والارض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیء حقیقی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ۝ 0 ۭ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 29 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔ تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰذَا کِتٰـبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ ط اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 29) (یہ ہمارا تیار کرایا ہوا دفترِاعمال ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا، ہم لکھواتے رہے ہیں جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ ) دفترِاعمال کی وضاحت یہ دفترِاعمال کی وضاحت ہے جس کی طرف قیامت کے دن ہر امت اور ہر گروہ کو توجہ دلائی جائے گی تاکہ انھیں اپنا دفترِاعمال دیکھتے ہوئے یہ گمان نہ گزرے کہ نہ جانے اس میں ہمارے اعمال صحیح درج ہوئے بھی ہیں یا نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ لکھنے والوں سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہو۔ یہ صرف واہمہ نہیں بلکہ ہمارا ذہین شاعر اس کا ذکر بھی کرچکا ہے جس پر افسوس کا اظہار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–29

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن لوگوں کی حالت۔ قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہوگا کہ حاملہ اپنا حمل ساقط کربیٹھے گی اور دودھ پلانے والی اپنے بچے کو پھینک دے گی۔ ربِّ ذولجلال کے جلال کی وجہ سے لوگ اس طرح حواس باختہ ہوں گے جس طرح نشہ پینے والا حواس باختہ ہوتا ہے۔ حالانکہ کسی نے کوئی نشہ نہیں پیا ہوگا۔ یہ حالت لوگوں کی اس وجہ سے ہوگی کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہوگی (الحج : 2) لوگ آپس میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے سوائے اس کے کہ وہ ایک دوسرے کی بھنک سنیں گے (طہٖ : 108) خوف کی وجہ سے لوگوں کی آنکھیں نیلی پیلی ہوچکی ہوں گی اور حواس باختگی کی وجہ سے وہ دنیا کی زندگی کے بارے میں کہیں گے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعمالنامے کا پیش ہونا آیت 29 : ہٰذَا کِتٰبـُنَا (یہ ہمارا دفتر ہے) کتاب کی نسبت اپنی طرف ملابست کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ان کے اعمال اس میں درج ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت اس لئے ہے کہ وہ مالک ہے۔ فرشتوں کو اسی نے حکم دیا کہ وہ اس کے ندوں کے اعمال اس میں درج کریں۔ یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ (جو تمہارے مقابلے میں بول رہا ہے) جو تم نے عمل کیے ان کی گواہی دے رہا ہے۔ بِالْحَقِّ (ٹھیک ٹھیک) بلاکم وکاست۔ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (ہم تمہارے اعمال کو لکھواتے جاتے تھے) تمہارے اعمال ملائکہ سے لکھواتے تھے۔ ایک قول یہ ہے : نسخت اور استنسخت دونوں ایک معنی میں ہیں۔ یہ کتاب سے نقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28، وتری کل امۃ جاثیۃ، گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا اور یہ حاکم کے سامنے جھگڑا کرنے والے کی طرح کا بیٹھنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا ا نتظار کرتا ہوگا۔ سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک قیامت میں ایک گھڑی ہے جو دس سال کی ہوگی ۔ لوگ اس میں اپنے گھٹنوں کے بل گریں گے حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) رب کو پکاریں گے میں تجھ سے صرف اپنی ذات کا سوال کرتاہوں۔ ، کل امۃ تدعی الی کتابھا، جس میں اس کے اعمال ہوں گے اور یعقوب (رح) نے، کل امۃ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کو کہاجائے گا۔ ، الیوم تجزون ماکنتم تعملو،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–29

28۔ 29۔ اس آیت کے اور آیت یوم ند عوکل اناس مامہم کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے طرح طرح کا اختلاف کیا ہے مگر کسی آیت کی تفسیر کسی صحیح حدیث میں آجائے تو پھر اختلاف کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ ترمذی 1 ؎ مستدرک حاکم صحیح ابن حبان مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے حاصل جس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو بلایا جائے گا اور دائیں اور بائیں ہاتھ میں ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اس کا چہرہ نورانی ہوجائے گا اور جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–37

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 24–37

قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ ) ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی (ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “ قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–31

57 منکرین کی تذلیل و تحقیر کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کفار و منکرین سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ "۔ مگر تم لوگوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں ان سے منہ موڑا اور تم لوگ مجرم ہی بنے رہے اور تم نے حق کو قبول کر کے نہ دیا۔ سو اب چکھو مزہ اپنے اس کفر و انکار اور استکبار کا جس کو تم نے زندگی بھر اپنائے رکھا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا اور کیا کرایا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ باعث محرومی و ہلاکت ہے کہ اس کی بنا پر انسان حق اور حقیقت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–37

مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

آیات 27 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی ہمارے حکم سے فرشتے لکھتے رہتے تھے تاکہ تم پر حجت قائم کی جاسکے، ورنہ ہمیں تو ہر چیز کا ازل سے علم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:29) ینطق۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ نطق (باب ضرب) مصدر۔ جو (یعنی ہمارا نوشتہ) بولتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے۔ علیکم بالحق۔ تمہارے بارے میں سچ مچ۔ کنا نستنسخ : ماضی استمراری جمع متکلم استنساخ (استفعال) مصدر۔ نسخ مادہ۔ ہم محفوظ رکھا کرتے تھے ۔ نسخۃ وہ کتاب جس سے نقل کی جائے استنساخ ایک تحریر سے دوسری تحریر نقل کرنا۔ انساخ (افعال) لکھوانا۔ انا کنا نستنسخ ہم لکھوالیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–37

تشریح آیات نمبر 25 تا 37 جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–29

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–32

[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

کامیابی کا اصلی مفہوم 1: قرآن حکیم مکہ کے مدہوش لوگوں کو کہتا ہے ۔ کہ یہ ضروری نہیں کہ تمہاری دولت مندی ہمیشہ تمہارا ساتھ دے ۔ اور تم اپنی بداعمالیوں پر دائما فخر کرتے رہو ۔ بلکہ آپ وقت آئے گا ۔ جب تم نہایت تضرع ولحاح کے ساتھ زانو کے بل گر پڑو گے اور اپنے نامہ اعمال کو دیکھو گے ۔ اس وقت تم سے کہا جائے گا ۔ کہ آج مکافات کا دن ہے ۔ آج تم سے تمہاری مدہو ہشوں اور غفلتوں کا انتقام لیا جائے گا ۔ آج تم کو بتایا جائے گا ۔ کہ غرور ونخوت کا انجام کیا ہے ۔ یہ نامہ اعمال اور صحیفہ کردار بولے گا ۔ اور ایک ایک کرکے تمہارے گناہوں کو شمار کرتا جائے گا ۔ حل لغات :۔ جاثیہ ۔ زانو کے بل ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) یہ نامہ اعمال ہمارا لکھوا ہوا دفتر اور کتاب ہے جو تمہارے مقابلے میں حقیقت واقعیہ کو ظاہر کررہی ہے اور تم پر ٹھیک ٹھیک بولتی ہے اور سچ سچ اظہار حقیقت کرتی ہے کیونکہ تم جو اعمال کیا کرتے تھے ان کو ہم لکھواتے جاتے تھے۔ یعنی ہر شخص کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلاکر یہ فرمائیں گے یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے مقابلے میں صحیح صحیح بات بتائے گی کیونکہ تمہارے تمام اعمال اس میں مکتوب و محفوظ ہیں۔ نستنسخ ہم ثابت رکھتے ہیں ہم لکھواتے تھے ہم محفوظ رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–31

ف 1۔ یعنی تمہارے اعمال کو ظاہر کر رہا ہے۔ 2۔ اور یہ ان ہی کا مجموعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ ہماری کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی اور سب لکھا ہوا واضح کردیتی ہے : 92 ؎ یہ ہمارا تیار کردہ صحیفہ اعمال ہے جو تیرے ریکارڈ کی پوری (Floppy) ہے اور من و عن اس میں سب کچھ آپ کا محفوظ کردیا گیا ہے تمہارے اعمال میں سے کسی چیز کو کم و بیش نہیں کیا گیا اس کی اس جگہ پر ہاتھ رکھو اور پنے کئے کو سنتے چلے جائو اور اس جگہ ہاتھ رکھو تو اپنے اعمال کرن کا پورا نقشہ دیکھ لو کیونکہ اس میں تمہاری ہر حرکت بھی ساتھ ساتھ نوٹ کی گئی ہے اور یہ بالکل اسی وقت کی آپ کو نظر آئے گی جس وقت تم نے یہ سب کیا اور کہا تھا غور کرو کہ کون ہے جو اس کا انکار کرسکے ؟ کبھی یہ ساری باتیں ایمان بالغیب تعلق رکھتی تھیں لیکن آج کتنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–37

Commentary وَتَرَ‌ىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

42 The only possible way of getting a thing recorded is not by means of the pen and paper only. Man himself has discovered in this world several other forms of recording human words and actions and reproducing them exactly and accurately; and we cannot even imagine what other possibilities of it lie yet undiscovered, which man himself will discover and exploit in the future. Now, who can know how and by what means is Allah getting recorded man's every word, his every movement and action, even his hidden intentions and motives and desires and ideas, and how He will place before every man and…

Read the full tafseer →