Explained with ayahs 27–29
اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا
اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ حضرت سفیان ثوری جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور حضرت معافری مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے (ابن ابی حاتم) وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہوگا کہ ہر…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 41
یعنی وہاں میدان حشر کا ایسا ہول اور عدالت الہٰی کا ایسا رعب طاری ہوگا کہ بڑے بڑے ہیکڑ لوگوں کی اکڑ بھی ختم ہوجائے گی اور عاجزی کے ساتھ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
معارف و مسائل
(آیت) وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً۔ جثو سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان نے فرمایا، جثو اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں زمین پر صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے ٹک جائیں، اس طرح کی نشست ہوں اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ اور ظاہر کل امة کے لفظ سے یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر مومن کافر نیک و بد سب کو پیش آئے گی اور بعض دوسری آیات اور روایات میں جو محشر کے خوف و فزع سے انبیاء و صلحا کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت و خوف تھوڑی مدت کے لئے انبیاء و صلحاء پر بھی طاری ہو، مگر تھوڑی دیر قلیل ہونے کی بنا پر اس کو نہ…
Read the full tafseer →وتری کل امۃ جاثیۃ کل امۃ تدعی الی کتبھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون 28
تصویر قیامت
اس دن لوگوں کو جس صورتحال سے سابقہ پیش آئے گا یہ اس کی تصویر ہے، فرمایا کہ اس دن ہر گروہ اپنا فیصلہ سننے کے لئے روز انو بیٹھا ہوا ہوگا، ہر گوہ اپنے اپنے دفتر اعمال کی طرف پکارا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں بدلے میں وہی ملے گا جو تم دنیا میں کر کے آئے ہو۔
تریٰ اگرچہ واحد کا صیغہ ہے لیکن الم تر کی طرح اس کا خطاب بھی عام ہوسکتا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں عام ہی ہے۔
کل امۃ یعنی مومن اور کافر ابرار اور فجار اس دن سب اکٹھے ہوں گے، کوئی بھی اس حاضری سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔
جاثیۃ جثایعبشوا، سے ہے۔ جثا الوجل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
28۔ 1 ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ ہی (چاہے وہ انبیاء کے پیروکار ہوں یا ان کے مخالفین) خوف اور دہشت کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونگے (فتح القدیر) تاآنکہ سب کو حساب کتاب کے لئے بلایا جائے گا، جیسا کہ آیت کے اگلے حصے سے واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
9: قیامت کے مختلف مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ وہاں کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بےساختہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے یا بیٹھ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت نمبر 27 تا 28
آیت میں پہلے تو ان کے انجام کا فیصلہ جلدی سے بتا دیا گیا کہ اس دن یہ لوگ عظیم خسارے سے دو چار ہوں گے لیکن فیصلہ سننے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم اور وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں اولین اور آخرین تمام امتیں جمع ہیں۔ جو شخص کبھی اس کرۂ ارض پر زندہ رہا ہے ۔ تھوڑی عمر ملی ہو یا زیادہ ، یہ سب موجود ہیں۔ مجرمین گھٹنوں کے بل گرے ہیں۔ گروہ در گروہ جمع ہیں۔ اور حساب کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی خوفناک ہے کہ تمام انسان اگلے اور پچھلے ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ لوگوں کی ہیئت کذائی خوفناک ہوگی کہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں…
Read the full tafseer →9 یعنی خوف وہیبت سے۔
10 یعنی اعمالنامہ کی طرف بلایا جائے گا کہ آؤ اس کے موافق حساب دو ۔ آج ہر ایک کو اسی کا بدلہ ملے گا۔ جو اس نے دنیا میں کمایا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 28 { وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً } ”اور تم دیکھو گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہوگی۔“
{ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی کِتٰبِہَا } ”ہر امت کو بلایا جائے گا اس کے اعمال نامے کی طرف۔“
وہاں سر ِمحشر باری باری ندا ہوگی کہ فلاں قوم کو لے آیا جائے اور ان کا اعمال نامہ پیش کیا جائے۔
{ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا ان اعمال کا جو تم کرتے رہے ہو۔“
Read the full tafseer →41 یعنی پہلے ہر قسم کے مجرموں کے الگ الگ گروہ بنائے جائیں گے۔ اور قیامت کے مناظر کی دہشت اس قدر زیادہ ہوگی کہ وہ کھڑے نہ رہ سکیں گے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اور سہمے ہوئے اس انتظار میں ہوں گے کہ ان کے حق میں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے اس وقت متکبروں کی سب اکڑ ختم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →25۔ یہ ہر امت سے پکار کر کہا جائے گا۔ (آیت) ” الیوم “۔ مراد یوم حشر کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” جاثیۃ “۔ کھلے ہوئے معنی تو یہ ہیں کہ حساب کے وقت سب ادب سے دوزانوہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ خوف سے زانو کے بل گرپڑیں گے۔ وھی ھیءۃ المذنب الخائف المنتظر لمایکرہ (روح) اس معنی میں آیت مخصوص ہوگی غیر مقبولین اہل باطل کے ساتھ (آیت) ” تدعی الی کتبھا “۔ رجسٹر کی طرف بلائی جائے گی، یعنی اس رجسٹر کے مطابق حساب و کتاب کے لئے طلب کی جائے گی۔ ورنہ نفس رجسٹر یا نامہ عمل تو ظاہر ہے کہ خود ہی سب کے ہاتھ میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…
Read the full tafseer →وتری کل امۃ جاثیہ کل امۃ تدعی الی کتبھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون۔ اور (اس روز) آپ ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ (خوف کے مارے) زانو کے بل گرپڑا ہوگا ‘ ہر فرقہ اپنے اعمال نامے (کے حساب) کی طرف بلایا جائے گا۔ آج تم کو تمہارے کئے ہی کا بدلہ ملے گا
Read the full tafseer →آپ ہر ایک فرقہ والے کو ایک ہی جگہ دیکھیں گے پھر ایک فرقہ کو اس کے نامہ اعمال کے پڑھنے کی طرف بلایا جائے گا، چناچہ ان میں سے بعض کو ان کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور بعض کو ان کے بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →(1) وتری کل امۃ جاثیہ :”جاثیۃ“ ”جثا یجثو جثواً“ (ن) یا ”جثی یمحشی جیاً“ (ض) سے اسم فاعل ہے، گھنٹوں کے بل گری ہوئی۔ یعنی میدان حشر کا ایسا ہول اور رعب ہوگا کہ ہر امت شدید خوف زدہ ہو کر گھنٹوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ نیک ہوں یا بد، سب خوف و دہشت کے ساتھ اسی حالت میں فیصلے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ اس وقت بڑے سے بڑے متکبر کی بھی ساری شیخی اور اکڑ ختم ہوجائے گی۔
(2) کل امۃ تدعی الی کتبھا :”کتاب“ سے مراد کتاب اعمال ہے، جس میں ان کی زندگی کی ساری رو داد حرف بحرف لکھی ہوگی، جیسا کہ فرمایا (ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین ممافیہ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا) (الکھف :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا ان کے لئے قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا : یہ فرشتوں کا قول ہے۔
یعنی وہ گواہی دیتا ہے یہ استعارہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے یعنی کتاب نے اس کی وضاحت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اس کتاب کو پڑھیں گے تو کتاب انہیں ان کے اعمال یاد دلائے گی گویا وہ ان سے کلام کرے گی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (کہف 49) مومن کے بارے میں ہے : (مومنون 62) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
الکتاب سے حال ہے یا ذا سے حال ہے یا ذا کی دوسری خبر ہے یا سے بدل ہے اور ینطق خبر ہے، یعنی تم جو عمل کرتے تھے اس کے لکھنے کا حکم دیتے تھے حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتری کل امۃ جاثیۃ “ (اور تو دیکھے گا ہر فرقہ کو کہ زانو کے بل گراپڑا ہوگا) میں جاثیہ کا معنی ہے متمیزہ یعنی وہ علیحدہ ہوجائے گی۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتری کل امۃ جاثیۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر جماعت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر جماعت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی حساب کے وقت۔
5:۔ سعید بن منصور و عبداللہ بن احمد فی زوائد الزھد وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے البعث میں عبداللہ بن باباہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →وَتَرٰى [ اور آپ دیکھیں گے ] كُلَّ اُمَّةٍ [ ہر امت کو ] جَاثِيَةً ۣ [ گھٹنوں کے بل گرنے والی حالت میں ] كُلُّ اُمَّةٍ [ ہر امت ] تُدْعٰٓى [ بلائی جائے گی ] اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ [ اپنی کتاب (نامہ اعمال) کی طرف ] اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ [ آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا ] مَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے تھے ]
Read the full tafseer →﴿وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ (اور جو بھی امتیں دنیا میں گزریں ان میں سے ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہوئی ہوگی) یعنی ہر شخص خائف اور پریشان ہوکر مذکورہ صورت اور حالت میں ہوگا یہ جاثیہ کا لفظی ترجمہ ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جاثیہ یعنی مُجْتَمَعَة ہے یعنی سب امتیں جمع ہوں گی۔
﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ (ہر امت کو اس کی کتاب یعنی اعمالنامے کی طرف بلایا جائے گا) جو پہلے سے فرشتوں نے لکھ رکھے ہوں گے) یہ بلانا ہر ایک کا اعمالنامہ ہاتھ میں دینے کے لیے ہوگا جس کے بعد حساب کتاب شروع ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمان ہوگا ﴿ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0028﴾…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
20:۔ ” وللہ ملک السموات والارض “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے اور دلائل سابقہ کا خلاصہ ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ اور ساری کائنات میں بلا شرت غیرے صرف وہی متصرف و مختار ہے، لہذا اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔ ” ویوم تقوم الساعۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور جب قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست (کفار و مشرکین) ۔ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں رہیں گے کیونکہ انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائیگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ” وتری کل امۃ جاثیۃ۔ قیامت کے دن تم ہر ملت کے لوگوں کو دیکھو گے کہ خوف وہراس کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہیں اور ہر امت کے لوگوں کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں توحید اور معاد کے مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گزشتہ آیات میں انہی مسائل کا ذکر ہوا۔ ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بھی اللہ نے بیان فرمایا ہے ہم اس سورة میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد زیادہ ہے اور پھر قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کے مباحث بار بار بیان ہو رہے ہیں۔
حقیقی بادشاہت
آج کی آیات بھی انہی مضامین پر مشتمل ہیں ، پہلے مسئلہ توحید کے متعلق فرمایا وللہ ملک السموت والارض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیء حقیقی…
Read the full tafseer →وَتَرٰى كُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِيَۃً 0 ۣ كُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِہَا 0 ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔
تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً قف کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی کِتٰبِھَا ط اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 28)
(اس دن آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو سر جھکائے دوزانو بیٹھے ہوئے، ہر گروہ کو پکارا جائے گا اس کے دفترِاعمال کی طرف آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ )
اُمَّۃٌ جَاثِیَۃٌ اسم فاعل ہے۔ سر جھکائے دوزانو بیٹھنے والے گروہ کو کہتے ہیں۔
قیامت کے منکرین کا عبرتناک انجام
قیامت کا انکار کرنے والوں کو ان کے عبرتناک انجام کا ایک منظر دکھایا گیا ہے کہ آج جو لوگ تکبر اور غرور کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو سننے کے روادار نہیں اور ان کی گردنیں ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن لوگوں کی حالت۔
قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہوگا کہ حاملہ اپنا حمل ساقط کربیٹھے گی اور دودھ پلانے والی اپنے بچے کو پھینک دے گی۔ ربِّ ذولجلال کے جلال کی وجہ سے لوگ اس طرح حواس باختہ ہوں گے جس طرح نشہ پینے والا حواس باختہ ہوتا ہے۔ حالانکہ کسی نے کوئی نشہ نہیں پیا ہوگا۔ یہ حالت لوگوں کی اس وجہ سے ہوگی کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہوگی (الحج : 2)
لوگ آپس میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے سوائے اس کے کہ وہ ایک دوسرے کی بھنک سنیں گے (طہٖ : 108) خوف کی وجہ سے لوگوں کی آنکھیں نیلی پیلی ہوچکی ہوں گی اور حواس باختگی کی وجہ سے وہ دنیا کی زندگی کے بارے میں کہیں گے…
Read the full tafseer →قیامت کے دن زانو کے بل گرنا :
آیت 28 : وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً (اور آپ ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ زانو کے بل گرپڑیں گے) جاثیہ : زانو کے بل بیٹھنا۔ کہا جاتا ہے۔ جثا فلان یجثو۔ جبکہ وہ زانو کے بل بیٹھے۔ ایک قول یہ ہے : اس کا معنی اکٹھے ہونے والی ہے۔
نحو : کلُ اُمۃ۔ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔
قراءت : کلکو کل امۃ کا بدل مان کر یعقوب نے نصب پڑھا ہے۔ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی کِتٰبِہَا (ہر فرقہ اپنے نامہ عمل کی طرف بلایا جائے گا) کتاب سے اعمال کے صحائف مراد ہیں۔ اسم جنس پر اکتفاء کیا گیا۔ پھر ان کو کہا جائے گا۔ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (آج تم کو تمہارے کئے ہوئے اعمال…
Read the full tafseer →27، قل اللہ یحییکم ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ، یعنی قیامت کے دن کیلئے۔ ، لاریب فیہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون، اللہ ملک السموات والارض ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسرالمبطلون، یعنی کافر جو اصحاب باطل ہیں اس دن ان کا خسارہ ظاہر ہوگا۔ اس طرح کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 29۔ اس آیت کے اور آیت یوم ند عوکل اناس مامہم کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے طرح طرح کا اختلاف کیا ہے مگر کسی آیت کی تفسیر کسی صحیح حدیث میں آجائے تو پھر اختلاف کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ ترمذی 1 ؎ مستدرک حاکم صحیح ابن حبان مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے حاصل جس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو بلایا جائے گا اور دائیں اور بائیں ہاتھ میں ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اس کا چہرہ نورانی ہوجائے گا اور جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیت 27
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →53 قیامت کے روز لوگوں کی بدحالی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے "۔ شدت ہول اور خوف کی بناء پر۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہوگا جبکہ دوزخ کو ان کے سامنے لایا جائے گا اور اس کی چیخ و پکار اور دھاڑنے کی آوازیں سن کر ان کی حالت غیر ہوجائے گی۔ (ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ اَللّٰہُمَّ اَعِذْنَا مِنْ کُلِّ نَوْعٍ مِّنَ الْعَذَاب والْفَزِعِ- " جثا الرجل " اس وقت بولا جاتا ہے جب آدمی اپنے دونوں زانوؤں پر بیٹھا ہو۔ غلام، محکوم اور مجرم اپنے آقاؤں اور حاکموں کے حضور اپنا فیصلہ سننے کیلئے اسی طرح عاجزانہ اور بےکسانہ طور پر بیٹھا کرتے تھے۔ اسی لیے یہاں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–37
آیات 27 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…
Read the full tafseer →ف 10 یہی خوف و دہشت سے حساب و کتاب کے انتظار میں جیسا کہ مجرم خوف زدہ ہو کر بیٹھتا ہوتا ہے … حضرت عبداللہ بن عمر فرمات یہیں کہ قیامت کے روز ہر امت اپنے نبی سمیت گھنٹوں کے بل بیٹھی ہوگی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ایک چبوترے پر ظاہر ہوں گے جو سب سے بلند ہوگا اور وہی مقام محمود ہوگا (شوکانی بحوالہ ابن مردویہ)
11 اس سے مراد ہر وہ کتاب بھی ہوسکتی ہے جو کسی نبی پر نازل کی گئی یعنی یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا اس امت نے اپنے نبی کی کتاب پر عمل بھی کیا یا نہیں۔
Read the full tafseer →(45:28) کل امۃ : مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل تری کا ہر ایک امت ہر ایک فرقہ۔
جاثیۃ : اسم فاعل واحد مؤنث۔ زانو پر بیٹھنے والی۔ زانو پر گرنے والی۔ جثو : جثی (باب نصر) مصدر۔ یہاں جاثیۃ جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے جماعۃ قائمۃ : جماعۃ قاعدۃ بولتے ہیں۔ ج ث و، یا ج ث ی مادہ۔ تو دیکھے گا کہ ہر گروہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہوگا۔ امۃ سے حال ہے۔
تدعی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب دعاء (باب نصر) مصدر۔ وہ پکاری جائے گی۔ اسے پکارا جائے گا۔ ضمیر نائب فاعل امۃ کی طرف راجع ہے۔
کتبھا : مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب امۃ کی طرف راجع ہے اس کی کتاب، اس کا اعمال نامہ۔
الیوم تجزون ما کنتم تعلمون :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 3: یعنی جب ان کے سامنے حشرونشر کی کیفیات سے متعلق دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ۔ کہ ہم تو جب مانیں گے ۔ جب ہمارے سامنے آباؤاجداد آکر کھڑے ہوجائیں ۔ اور رونما ہوکر اس عقیدے کی صداقت پر گواہی دیں ۔ فرمایا : کیا زندگی اور موت کا ردوبدل تم روزانہ ملاحظہ نہیں کرتے ۔ کیا یہ نہیں دیکھتے ۔ کہ تم میں لاکھوں انسان ہر روز کتم عدم سے عالم وجود میں آتے ہیں ۔ اور لاکھوں زندگی کی دنیا سے موت کی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔ کیا یہ اس بات کا اہم ترین ثبوت نہیں ۔ کہ سب لوگوں کو اسی طرح ایک وقفہ زندہ ہونا ہے ۔ اور خدا کے حضور میں اپنے عمال کا حساب پیش کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →(28) اور اے پیغمبر آپ ہر فرقے کو گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دیکھیں گے ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا کہا جائے گا کہ آج تم کو ان اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
جاشیہ سرجھکا کردوزنو بیٹھنا یعنی ہر شخص دوزانو سرجھکائے ہوئے ہوگا زانو پر بیٹھنا داد خواہ کی بیٹھک کے بل گرے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 6۔ وہ جو چاہے تصرف کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ہر چیز کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے ، قیامت قائم ہوگی ، جھٹلانے والے خسارے میں رہیں گے :
72 ؎ { جاثیۃ } کا اصل مادہ ج ث و ہے { جثایجٹر جٹرا “ جلس علی رکبتیہ “ } دو زانو بیٹھنا اور اگر اس کو ج ث ی سے تسلیم کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے گھٹنوں کے بل گرنا یا اوندھے گرنا ۔ دراصل بیٹھنا اور اوندھے گرنا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دو زانو بیٹھنا نہایت آرام اور سکون سے بیٹھنا ہے اور مؤدب بیٹھنا ہے لیکن اونھے گرنا یا گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہونا شدت عذاب کے خوف سے ہوتا ہے۔ { جثیا } کا لفظ قرآن کریم میں دو بار استعمال ہوا ہے اور دونوں بار سورة مریم میں آیا ہے ایک بار آیت 86 میں اور دوسری بار آیت 27 میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
Commentary
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ("And you will see every community kneeling down...45:28" ). The word jathiyah is derived from جُثُو juthuww. It means ` to sit with knees upon the ground'. Sayyidna Sufyan ؓ says that the word means ` to sit in such a way that only the knees and the toes of the feet rest on the ground'. The latter type of sitting will be on account of awe, horror and fear. The words, كُلُّ أُمَّةٍ "every community" means that horrors of Resurrection will be felt by all on the plain - believers, non-believers, and righteous and unrighteous, all of them. There are…
Read the full tafseer →41 That is, the dread and terror of the Plain of Resurrection and the awe of the Divine Court will be etch that it will break the stubbornnese of the most arrogant and boastful people, and everyone will be found fallen on his knees humbly.
Read the full tafseer →