Al-Jaathiya 45:27

Al-Jaathiya · from ayah 27

45:27

وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىِٕذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ ۟وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ يَوۡمَئِذٍ يَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth. And the Day the Hour appears - that Day the falsifiers will lose.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:27

زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، اور جس روز قیامت کی گھڑی آ کھڑی ہو گی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے، اور جس دن قیامت آکھڑی ہوگی، اس دن جو لوگ باطل پر ہیں، وہ سخت نقصان اٹھائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں کی اس دن ہار ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور جِس دن قیامت برپا ہوگی تب (سب) اہلِ باطل سخت خسارے میں پڑ جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست خسارہ میں پڑ جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ ہی کی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل خسارے میں پڑیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جس دن آ کھڑی ہوگی قیامت کی وہ (ہولناک) گھڑی تو سخت خسارے میں پڑجائیں گے اس روز باطل پرست

— مولانا اسحاق مدنی

بس اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل بڑے خسارہ میں ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن جھٹلانے والے بڑے خسارے میں ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت برپا ہوجائے گی اس دن اہل باطل نقصان میں پڑجائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah's is the kingdom of the heavens and the earth, and on the Day when the Hour (of Resurrection) shall come to pass, the followers of falsehood shall be in utter loss.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth. The day the Hour will take place, it will be the day in which the adherents of falsehood shall lose,

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth. The day the Hour will take place, it will be the day in which the adherents of falsehood shall lose,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth. And on the Day that the Hour will be established -- on that Day the followers of falsehood shall lose.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto Allah belongeth the Sovereignty of the heavens and the earth; and on the day when the Hour riseth, on that day those who follow falsehood will be lost.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth. And the Day the Hour appears - that Day the falsifiers will lose.

— Saheeh International

To God belongs the kingdom of the heavens and the earth. On the day when the Hour of Doom arrives, the followers of falsehood will be lost.

— Muhammad Sarwar

And Allah's is the kingdom of the heavens and the earth; and on the day when the hour shall come to pass, on that day shall they perish who say false things.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah's is the dominion of the heavens and the earth; and on the Day whereon the Hour arriveth, then shall lose the followers of falsehood.

— Abdul Majid Daryabadi

To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and the Day that the Hour of Judgment is established,- that Day will the dealers in Falsehood perish!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–29

اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ حضرت سفیان ثوری جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور حضرت معافری مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے (ابن ابی حاتم) وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہوگا کہ ہر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجَاثِیَة 40 سیاق وسباق کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس فقرے سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو خدا اس عظیم الشان کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے اس کی قدرت سے یہ بات ہرگز بعید نہیں ہے کہ جن انسانوں کو وہ پہلے پیدا کرچکا ہے انہیں دوبارہ وجود میں لے آئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (اوپر جو کہا گیا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ تم کو جمع کرے گا۔ ‘ تو اس کو کچھ مشکل نہ سمجھا جائے کیونکہ) اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں (وہ جو چاہے تصرف کرے، پس تمہیں موت کے بعد زندہ کر کے جمع کرنا بھی اس کے لئے کوئی مشکل نہیں) اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل خسارہ میں پڑیں گے اور آپ (اس روز) ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ (مارے خوف کے) زانو کے بل گر پڑیں گے، ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال (میں لکھے ہوئے اعمال کے حساب) کی طرف بلایا جائے گا (یہ مطلب ہے نامہ اعمال کی طرف بلانے کا، ورنہ نامہ اعمال تو خود ان کے پاس ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم کو تمہارے کئے کا بدلہ ملے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وللہ ملک السموت والارض ط ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسرا المبطلون 27 یعنی اگر ان لوگوں کا بھروسہ اپنے مزعومہ شرکاء پر ہے کہ قیامت ہوئی تو وہ ان کو بچالیں گے تو یہ محض ایک خیال خام ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ہے کسی کی بھی مجال نہیں ہے کہ اس کے فصلوں پر اثر انداز ہو سکے۔ وہ دن جب آئے گا تو جو لوگ اس قسم کی جھوٹی آرزئوں میں مبتلا رہے ہیں وہ سب خسارے میں پڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–28

28۔ 1 ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ ہی (چاہے وہ انبیاء کے پیروکار ہوں یا ان کے مخالفین) خوف اور دہشت کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونگے (فتح القدیر) تاآنکہ سب کو حساب کتاب کے لئے بلایا جائے گا، جیسا کہ آیت کے اگلے حصے سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–27

8: یعنی آخرت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سارے انسانوں کو جمع کرے گا، یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اسی دنیا میں مردوں کو زندہ کرے گا، لہذا آخرت کے عقیدے کے مقابلے میں تمہارا یہ مطالبہ کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر کے لاؤ، سراسر لغو مطالبہ ہے، رہی یہ بات کہ مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا بہت مشکل بات ہے تو جس اللہ نے تمہیں عدم سے وجود عطا کر کے پیدا کیا ہے، اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ ایک مرتبہ تمہاری روح قبض کر کے دوبارہ پیدا کردے، جبکہ اس ساری کائنات کی بادشاہی اسی کے قبضے میں ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–28

آیت نمبر 27 تا 28 آیت میں پہلے تو ان کے انجام کا فیصلہ جلدی سے بتا دیا گیا کہ اس دن یہ لوگ عظیم خسارے سے دو چار ہوں گے لیکن فیصلہ سننے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم اور وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں اولین اور آخرین تمام امتیں جمع ہیں۔ جو شخص کبھی اس کرۂ ارض پر زندہ رہا ہے ۔ تھوڑی عمر ملی ہو یا زیادہ ، یہ سب موجود ہیں۔ مجرمین گھٹنوں کے بل گرے ہیں۔ گروہ در گروہ جمع ہیں۔ اور حساب کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی خوفناک ہے کہ تمام انسان اگلے اور پچھلے ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ لوگوں کی ہیئت کذائی خوفناک ہوگی کہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 { وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔“ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ } ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن جھٹلانے والے بڑے خسارے میں ہوں گے۔“ جو لوگ حق کو باطل قرار دے رہے ہیں ‘ روزِ محشر انہیں عظیم خسارے کا سامنا کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 باطل پرستوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہوں۔ خواہ وہ دہریے ہوں، نیچری یا صرف آخرت کے منکر ہوں۔ ان لوگوں کو چونکہ اپنے اعمال کی بازپرس کا خیال تک نہ ہوگا۔ لہذا ایسے لوگوں نے اس خیال سے کوئی بھی نیک عمل نہ کیا ہوگا۔ اس دن انہیں پتا چلے گا کہ وہ کس قدر دھوکے میں پڑے ہوئے تھے اور اپنا کس قدر نقصان کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ (جب دیکھیں گے کہ اب کوئی سہارا نام کو بھی موجود نہیں کا کچھ بھی کسی صورت سے بنائے نہیں بنتی) (آیت) ” وللہ ..... الارض “ زمین و آسمان میں کہیں بھی کسی دوسرے کی ملکیت وشرکت نہیں، وہی اکیلا مالک و متصرف ہے جب اور جس طرح جو کچھ چاہے کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–37

آیت نمبر 27 تا 37 ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللہ ملک السموت والارض ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسر المبطلون اور اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی ‘ اس روز باطل پرست خسارے میں رہیں گے۔ سابق آیات میں زندہ رکھنے ‘ مردہ کرنے اور قیامت کے دن سب کو جمع کرنے پر اللہ کے قادر ہونے کا بیان کیا گیا ہے ‘ اس آیت میں عمومی قدرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ یعنی قیامت کے دن اہل باطل کی خسران مآلی سامنے آجائے گی ‘ سب کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش اور نباتات ہیں اور قیامت کے دن مشرکین دنیا و آخرت کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے نقصان میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) واللہ ملک السموت والارض : پچھلی آیت میں پہلی دفعہ زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا، اس آئی میں آسمان و زمین یعنی ساری کائنات کے اکیلے مالک ہونے کو قیامت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ملکیت میں جو چاہے کرسکتا ہے۔ وہ ساری کائنات بنا سکتا ہے، اسے فنا بھی کرسکتا ہے اور پھر دوبارہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے کچھ احوال ذکر فرمائے۔ (2) ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسر المبطلون : جس طرح کوئی تاجر اپنے سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے لئے محنت کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو زندگی، صحت اور عقل کا سرمایہ عطا فرما…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس دن کی ہولناکی کے باعث تو یہ گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھے گا۔ یہاں امت سے مراد ہر ملت والے ہیں، جاثیہ میں پانچ تاویلیں ہیں : 1 ۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی مستوفزہ ہے (1) سفیان نے کہا : مستوفزا اسے کہتے ہیں جس کے زمین پر اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے پوروں کے اطراف لگتے ہیں۔ ضحاک نے کہا : یہ حساب کے موقع پر ہوتا ہے۔ 2 ۔ مجتمع، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے قول کیا ہے : فراء نے کہا : معنی ہے تو ہر دین والے کو مجتمع دیکھے گا۔ 3 ۔ متمیزہ، الگ الگ، یہ عکرمہ نے قول کیا ہے : 4 ۔ جھکا ہوا یہ قریش کی لغت ہے، یہ مورج کا قول ہے۔ 5 گھنٹوں پر بیٹھنے والا، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : جثا سے مراد گھنٹوں پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

جھوٹے کی ہلاکت و بربادی : 1:۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر ؓ ایک قوم کے پاس سے گزرے جبکہ آپ نے ایک خوبصورت سرخ چادر پہنی ہوئی تھی قوم میں سے ایک آدمی نے کہا اگر میں ان کی چادر چھین لوں تو میرے لئے تمہارے پاس کیا (انعام) ہوگا تو انہوں نے ایک چیز اس کے لئے بطور انعام) کے مقرر کردی۔ وہ آدمی کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن (یہ ابن عمر کی کنیت ہے) یہ چادر آپ کی ہے ؟ فرمایا میں نے اس کو کل خریدا تھا۔ اس آدمی نے کہا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ یہ پہن کر گناہ کا ارتکاب کررہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے اس چادر کو اتارا تاکہ اس کو دیدیں (یہ دیکھ کر قوم ہنسنے لگی) پوچھا تم کو کیا ہوا انہوں نے کہا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کے لئے ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین کی حکومت ] وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ [ اور جس دن قائم ہوگی وہ گھڑی (قیامت ) يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ [ گھاٹے میں رہیں گے باطل کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن اہل باطل خسارہ میں ہوں گے، ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی اور اپنی اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی، اہل ایمان رحمت میں اور اہل کفر عذاب میں ہوں گے یہ سورة الجاثیہ کے آخری رکوع کی آیات میں، اول تو یہ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک صرف اللہ ہی کے لیے ہے اسی نے سب کچھ پیدا فرمایا وہی خالق ہے اور مالک ہے اور بادشاہ ہے ملک اور ملکوت سب اسی کا ہے پھر آخری دو آیتوں میں بھی اس مضمون کو دہرایا ہے درمیان میں قیامت کے احوال و اہوال بیان فرمائے اور مومنین اور کافرین میں جو قیامت کے دن امتیاز ہوگا اس کا تذکرہ فرمایا اور مجرمین سے جو گفتگو ہوگی اس کو بتایا۔ ارشاد فرمایا ﴿وَ يَوْمَ تَقُوْمُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–37

دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت : قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔ (ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–29

20:۔ ” وللہ ملک السموات والارض “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے اور دلائل سابقہ کا خلاصہ ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ اور ساری کائنات میں بلا شرت غیرے صرف وہی متصرف و مختار ہے، لہذا اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔ ” ویوم تقوم الساعۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور جب قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست (کفار و مشرکین) ۔ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں رہیں گے کیونکہ انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائیگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ” وتری کل امۃ جاثیۃ۔ قیامت کے دن تم ہر ملت کے لوگوں کو دیکھو گے کہ خوف وہراس کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہیں اور ہر امت کے لوگوں کو ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–31

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں توحید اور معاد کے مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گزشتہ آیات میں انہی مسائل کا ذکر ہوا۔ ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بھی اللہ نے بیان فرمایا ہے ہم اس سورة میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد زیادہ ہے اور پھر قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کے مباحث بار بار بیان ہو رہے ہیں۔ حقیقی بادشاہت آج کی آیات بھی انہی مضامین پر مشتمل ہیں ، پہلے مسئلہ توحید کے متعلق فرمایا وللہ ملک السموت والارض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیء حقیقی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ يَوْمَىِٕذٍ يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ۝ 27 ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–33

ترکیب : یوم ظرف والعامل فیہ یخسر یومئذبدل منہ وقیل العامل الملک ینطق منصوب محلاعلی الحال اومرفوع علے انہ خبر آخر لھذہ الساعۃ قرء بالرفع علی معنی وقیل الساعۃ لاریب فیھا بالنصب عطفاعلی وعداللہ۔ جواب امامحذوف تقدیرہ و اما الذین کفرو افیقال لھم۔ تفسیر : کفار کے عقائدِ فاسدہ کے ذکر میں بیان ہوا تھا کہ وہ حشر کے منکر ہیں اور کہتے ہیں اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دکھائو۔ اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کہہ دیجئے اللہ مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ حشر کے دن جمع کرے گا۔ اب امکان حشر اور اس دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے فقال وللہ ملک السماوات والارض الخ کہ اللہ کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُالْمُبْطِلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 27) (آسمانوں اور زمین کی پادشاہی اللہ ہی کی ہے، اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست خسارے میں پڑجائیں گے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ صرف زندگی اور موت ہی اللہ تعالیٰ کے قبضے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تو آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے۔ وہی اس کائنات پر فرمانروائی کررہا ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ ہر چیز کا وجود اس کی قدرت سے ہے اور ہر چیز کی بقاء اسی کی قدرت کی مرہونِ منت ہے۔ جو ذات اس حد تک قادرمطلق ہو اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–27

فہم القرآن ربط کلام : اپنے نفس کو معبود بنانے والا شخص دنیا کی لذات پر اس قدر فریفتہ ہوجاتا ہے کہ اس کا مرنے کو جی نہیں چاہتا اس وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا صرف دنیا میں ہے موت کے بعد نہ ہم نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے جواب دینا ہے۔ انسان اپنے نظریات اور جذبات کو اس وقت الٰہ کا درجہ دیتا ہے جب دنیا پر بےحد فریفتہ ہو کر وہ حقیقی الٰہ کو بھول جاتا ہے۔ اس وجہ سے نفس کا بچاری سمجھ بیٹھتا ہے کہ مرنے کے بعد نہ میں نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے حساب دینا ہے۔ اس بنیاد پر کہتا ہے کہ بس ہم نے اسی دنیا میں جینا اور مرنا ہے۔ ہماری زندگی اور موت کا معاملہ زمانے کے ساتھ تعلق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 27 : وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَپذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل خسارہ میں پڑیں گے) نحو : یخسر۔ یہ قوم پر نصب دے رہا ہے اور یومئذٍ یہ یوم تقوم کا بدل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–27

تفسیر 24۔ ، وقالوا، یعنی بعث کا انکار کرنے والے، ماھی الاحیاتنا الدنیا، یعنی زندگی صرف دنیا کی زندگی ہے۔ ، نموت ونحیا، یعنی آباء مرجاتے ہیں اور اولادزندہ رکھی جاتی ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی ہم مرجاتے ہیں اور ہم زندہ ہوتے ہیں پس واؤجمع کے لیے ہے۔ ، ومایھلکنا الاالدھر، یعنی زمانے کا گزرنا اور عمرکا لمبا ہونا اور رات ودن کا آناجانا ہمیں فناکرتا ہے۔ ، ومالھم بذلک، یعنی جو انہوں نے کہا ہے، من علم ، یعنی انہوں نے یہ کسی علم سے نہیں کہا۔ ، ان ھم الا یظنون، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بندہ یہ نہ کہے اے زمانہ کی خرابی کیونکہ میں زمانہ ہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–27

22۔ 27۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد خاک ہو کر سب برابر ہوجائیں گے کیونکہ انسان کا پھر دوبارہ جینا اور جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اوپر کی آیت میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا کہ ایسی ناانصافی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا کہ نیک و بد دونوں کے مر کر خاک ہوجانے کے بعد پھر خبر نہ لی جائے کہ نیک شخص نے نیکی جو کی تھی اس کی جزا اور بد شخص نے بدی جو کی تھی اس کی سزا کچھ ہونے کی ہے یا نہیں ان آیتوں میں اس جواب کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخر عمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–37

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے اکیلے ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے : (یوم تقوم الساعۃ) ” جس روز قیامت برپا ہوگی۔ “ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو جنہوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہوگا ان کے اعمال ضائع ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے تو اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے، ان کا اجر وثواب ختم ہوجائے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 24–37

قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ ) ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی (ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “ قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

52 باطل پرست سراسر خسارے میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز باطل پرست سراسر خسارے میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اپنے سوئِ اختیار کی بنا پر وہ قبول حق کی استعداد اور اس کی فرصت کو ضائع کر کے ابدی نعمتوں کی بجائے دائمی عذاب کے مستحق بن چکے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ خسارہ باطل پرستوں کو اگرچہ آج اور اس دنیا میں بھی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور وہ برابر اسی میں غلطاں و پیچاں ہیں مگر آج ان کے دل و دماغ پر غفلت کا ایسا پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کی آنکھوں پر ہویٰ و ہوس کی ایسی سیاہ پٹی بندھی ہوئی ہے کہ یہ لوگ اصل حقیقت کے دیکھنے سمجھنے سے قاصر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–37

مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–37

آیات 27 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ بھلایہ اس ذات کے لیے کیسے مشکل ہوسکتا ہے کیا مر کر کوئی کہاں کھوجائے گا کہ ارض وسما اور ساری کائنات تو اللہ ہی کی سلطنت ہے اور ذرے ذرے پر اسی کا حکم چلتا ہے ہاں جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ انکار کرنے والے جان لیں گے وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے اس روز کسی کو سرکشی کی مجال نہ ہوگی بلکہ ہر فرقہ گھٹنوں کے بل گرکرحکم کامنتظر ہو اور ہر فرقے کو اس کانامہ اعمال دے کر اس کے مطابق طلب کیا جائے گا کہ آج جزا اور بدلے کا دن ہے آج تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور یہ اعمال نامے ہمارے بنائے ہوئے دفاتر ہیں جو سچی مچی بات بیان کر رہے ہیں کہ دنیا میں تم جو کچھ بھی کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 کیونکہ اس روز حقیقت ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور وہ تلافی مافات کے لئے کچھ نہ کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:27) یوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسر المبطلون : یوم مفعول فیہ ہے۔ یخسر کا یومئذ بدل ہے یوم سے۔ جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز باطل پرست خسارے میں رہیں گے۔ یخسر : مضارع واحد مذکر غائب ۔ خسران (باب سمع) مصدر۔ یخسر صیغہ واحد مذکر بمعنی جمع مذکر آیا ہے۔ وہ نقصان اٹھائیں گے۔ وہ گھاٹا پائیں گے۔ مبطلون : اسم فاعل جمع مذکر۔ ابطال (افعال) مصدر سے۔ حق کو جھٹلانے والے۔ باطل پرست۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–37

تشریح آیات نمبر 25 تا 37 جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–29

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–32

[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–28

ف 3: یعنی جب ان کے سامنے حشرونشر کی کیفیات سے متعلق دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ۔ کہ ہم تو جب مانیں گے ۔ جب ہمارے سامنے آباؤاجداد آکر کھڑے ہوجائیں ۔ اور رونما ہوکر اس عقیدے کی صداقت پر گواہی دیں ۔ فرمایا : کیا زندگی اور موت کا ردوبدل تم روزانہ ملاحظہ نہیں کرتے ۔ کیا یہ نہیں دیکھتے ۔ کہ تم میں لاکھوں انسان ہر روز کتم عدم سے عالم وجود میں آتے ہیں ۔ اور لاکھوں زندگی کی دنیا سے موت کی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔ کیا یہ اس بات کا اہم ترین ثبوت نہیں ۔ کہ سب لوگوں کو اسی طرح ایک وقفہ زندہ ہونا ہے ۔ اور خدا کے حضور میں اپنے عمال کا حساب پیش کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور آسمانوں میں اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت اور اس کا راج ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اور قیامت اٹھے گی اس دن اہل باطل سخت گھاٹے میں رہیں گے۔ اہل باطل یعنی منکر اور جھوٹے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 27–28

ہر چیز کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے ، قیامت قائم ہوگی ، جھٹلانے والے خسارے میں رہیں گے : 72 ؎ { جاثیۃ } کا اصل مادہ ج ث و ہے { جثایجٹر جٹرا “ جلس علی رکبتیہ “ } دو زانو بیٹھنا اور اگر اس کو ج ث ی سے تسلیم کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے گھٹنوں کے بل گرنا یا اوندھے گرنا ۔ دراصل بیٹھنا اور اوندھے گرنا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دو زانو بیٹھنا نہایت آرام اور سکون سے بیٹھنا ہے اور مؤدب بیٹھنا ہے لیکن اونھے گرنا یا گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہونا شدت عذاب کے خوف سے ہوتا ہے۔ { جثیا } کا لفظ قرآن کریم میں دو بار استعمال ہوا ہے اور دونوں بار سورة مریم میں آیا ہے ایک بار آیت 86 میں اور دوسری بار آیت 27 میں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–27

وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ‌ "...and nothing destroys us except time...(45:24) " The word dahr means ` time from the beginning of the world to its end'. It also refers to ` a very long period of time'. The atheists alleged that their life and death have nothing to do with Divine will and command. They happen under natural causes. Death is a process which they say they experience when their human limbs, organs and abilities diminish on account of constant use and, with the passage of time, the matter becomes dissolved and is destroyed; and that this is the be-all and end-all of human…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

40 In view of the context, this sentence by itself gives the meaning that it is not at all beyond the power of God Who is ruling over this great and marvellous universe that He should bring the human beings whom He has created in the first instance back into existence once again.

Read the full tafseer →