Al-Jaathiya 45:24

Al-Jaathiya · from ayah 24

45:24

وَقَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ ۚ— وَمَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۚ— اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ ۟وَقَالُوۡا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ‌ؕ وَمَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ‌ ۚ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "There is not but our worldly life; we die and live, and nothing destroys us except time." And they have of that no knowledge; they are only assuming.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:24

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو" در حقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے، (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : جو کچھ زندگی ہے بس یہی ہماری دنیوی زندگی ہے، (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں کوئی اور نہیں، زمانہ ہی ہلاک کردیتا ہے۔ حالانکہ اس بات کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے، بس وہمی اندازے لگاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ اور انہیں اس کا علم نہیں وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں: ہماری دنیوی زندگی کے سوا (اور) کچھ نہیں ہے ہم (بس) یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے (حالات و واقعات کے) سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا (گویا خدا اور آخرت کا مکمل انکار کرتے ہیں)، اور انہیں اس (حقیقت) کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف خیال و گمان سے کام لے رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی (زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ کہتے ہیں۔ یہ بس ہماری دنیا ہی زندگی ہے۔ یہاں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے حالانکہ ان باتوں کا انہیں کچھ علم نہیں وہ محض گمان سے یہ باتیں کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے۔ یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو بس گردش روزگار ہلاک کرتی ہے اور ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں ہے۔ محض اصل کے تیر تکے چلا رہے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اسی میں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر یہی زمانہ حالانکہ ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں یہ لوگ محض ظن (و گمان) سے کام لیتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی حیات کے اور کوئی حیات نہیں ہم (بس ایک ہی بار) مرتے اور (بس ایک ہی بار) زندگی پاتے اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے درآنحالیکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں یہ محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے (کوئی اور زندگی) سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ حالانکہ ان کے پاس (اس بارے میں) کوئی علم نہیں ہے وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “There is no life other than our present worldly life: herein we live and we die, and it is only (the passage of) time that destroys us. Yet the fact is that they know nothing about this and are only conjecturing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they say, :There is no life but our worldly life. We die and live, and nothing destroys us except time. They have no knowledge about that; they do nothing but make conjectures.

— Muhammad Taqi Usmani

And they say, :There is no life but our worldly life. We die and live, and nothing destroys us except time. They have no knowledge about that; they do nothing but make conjectures.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "There is nothing but our life of this world, we die and we live and nothing destroys us except Ad-Dahr (time). And they have no knowledge of it, they only presume.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: There is naught but our life of the world; we die and we live, and naught destroyeth us save time; when they have no knowledge whatsoever of (all) that; they do but guess.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "There is not but our worldly life; we die and live, and nothing destroys us except time." And they have of that no knowledge; they are only assuming.

— Saheeh International

They have said, "The only life is this worldly life and here we shall live and die. It is only time which will destroy us" They have no knowledge about this. It is only their guesswork.

— Muhammad Sarwar

And they say: There is nothing but our life in this world; we live and die and nothing destroys us but time, and they have no knowledge of that; they only conjecture.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: there is no naught but our life of the world; die and we live; and naught destroyeth us save Time. And they have no knowledge thereof: they do but guess.

— Abdul Majid Daryabadi

And they say: "What is there but our life in this world? We shall die and we live, and nothing but time can destroy us." But of that they have no knowledge: they merely conjecture:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–26

زمانے کو گالی مت دو دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے کچھ جیتے ہیں کچھ مرتے ہیں قیامت کوئی چیز نہیں فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجَاثِیَة 34 یعنی کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے ان کو بتحقیق یہ معلوم ہوگیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لیے کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، اور یہ بات بھی انہیں معلوم ہوگئی ہو کہ انسان کی روح کسی خدا کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مر کر فنا ہوجاتا ہے۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بنا پر کرتے ہیں۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ " ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں "، لیکن یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ " ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ " اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–26

(آیت) وَمَا يُهْلِكُنَآ اِلَّا الدَّهْرُ۔ لفظ دہر دراصل اس تمام مدت کے مجموعہ کا نام ہے جو اس عالم کی ابتدا سے انتہا تک ہے اور کبھی بہت بڑی مدت کو بھی دہر کہہ دیا جاتا ہے۔ کفار نے یہ قول بطور دلیل کے پیش کیا ہے کہ ہماری موت وحیات کا خدا کے حکم و مشیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسباب طبعیہ کے تابع ہے جس کا مشاہدہ موت کے متعلق تو سب کرتے ہیں کہ اعضاء انسانی اور اس کی قوتیں استعمال کے سبب گھٹتی رہتی ہیں اور ایک زمانہ دراز گزر جانے کے بعد وہ بالکل معطل ہوجاتی ہیں اسی کا نام موت ہے اسی پر حیات کو بھی قیاس کرلو کہ وہ بھی کسی خدائی حکم سے نہیں بلکہ مادہ کی طبعی حرکتوں سے حاصل ہوتی ہے۔ دہر، یا زمانے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

4۔ آگے کا مضمون آیات 37-24 آگے منکرین قیامت کے اس احمقانہ مطالبہ پر تبصرہ ہے کہ جب ان کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ قیامت کا آنا برحق ہے تو ہمارے بزرگوں کو زندہ کر کے دکھا دو اس مطالبہ کی تردید کرتے ہوئے اس انجام کی تصویر کھینچی ہے جس سے قیامت کے منکرین کو لازماً دوچار ہونا پڑے گا ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ جس دن اس انجام سے سابقہ پیش آئے گا اس دن کوئی شریک و شفیع بھی خدا کی پکڑ سے بچانے والا نہیں ہوگا اس دن فوز عظیم صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو آخرت اور توحید پر ایمان رکھنے والے اور شرک و شفاعت پر اعتماد کرنے کے بجائے عمل صالح کی کمائی کرنے والے ہوں گے … اس روشنی میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 یہ دہریہ اور ان کے ہم نوا مشرکین مکہ کا قول ہے جو آخرت کے منکر تھے وہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی پہلی اور آخری زندگی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اس میں موت وحیات کا سلسلہ، محض زمانے کی گردش کا نتیجہ ہے، جیسے فلاسفر کا ایک گروہ کہتا ہے چھتیس ہزار سال کے بعد ہر چیز دوبارہ اپنی حالت لوٹ آتی ہے اور یہ سلسلہ، بغیر کسی سانح اور مدبر کے، یوں ہی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا نہ اس کی کوئی ابتداء ہے نہ انتہاء۔ یہ گروہ دوریہ کہلاتا ہے (ابن کثیر) ظاہر بات ہے یہ نظریہ، اسے عقل بھی قبول نہیں کرتی اور نقل کے بھی خلاف ہے، حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذاء پہنچاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–25

7: یہ ترجمہ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ کے جملے کو تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–26

درس نمبر 236 ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔ سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی دوسری زندگی نہیں۔ بس یہ ہی ایک جہان ہے جس میں ہمارا مرنا اور جینا ہے۔ جیسے بارش ہونے پر سبزہ زمین سے اگا، خشکی ہوئی تو سوکھ کر ختم ہوگیا۔ یہ ہی حال آدمی کا سمجھو، ایک وقت آتا ہے پیدا ہوتا ہے۔ پھر معین وقت تک زندہ رہتا ہے۔ آخر زمانہ کا چکر اسے ختم کردیتا ہے۔ یہ ہی سلسلہ موت وحیات کا دنیا میں چلتا رہتا ہے۔ آگے کچھ نہیں۔ 5 یعنی زمانہ نام ہے دہر کا۔ وہ کچھ کام کرنے والا نہیں۔ کیونکہ ان میں حس نہ شعور نہ ارادہ، لامحالہ وہ کسی اور چیز کو کہتے ہوں گے جو معلوم نہیں ہوتی لیکن دنیا میں اس کا تصرف چلتا ہے۔ پھر اللہ ہی کو کیوں نہ کہیں جس کا وجود اور متصرف علی الاطلاق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا } ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں“ اس ایک جملے میں یوں سمجھئے کہ دہریت اور مادّیت Materialism کی پوری حقیقت سمو دی گئی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق اس کائنات کی اصل اور سب سے بڑی حقیقت مادّہ matter ہے ‘ مادّے کے علاوہ کسی اور شے کا کوئی وجود نہیں ‘ مادّے کی اپنی صفات ہیں ‘ کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تبدیلی آتی ہے وہ مادّے کی ہیئت میں تبدیلیوں physical and chemical changes کے باعث ہی ممکن ہے۔ یہ کائنات مادّے سے خود…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 فلسفہ دہریت اور اس کا رد :۔ ان لوگوں کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ کائنات ایک اتھاہ سمندر ہے۔ جس میں ہر وقت لہریں اٹھتی ہیں پھر اسی سمندر میں مدغم ہوجاتی ہیں۔ حباب اٹھتے ہیں تو وہ پھر اسی میں جذب ہوجاتے ہیں۔ یہی صورت حال اس دنیا میں واقعات و حوادث کی ہے اور ہماری مثال بس ایک حباب یا بلبلہ کی ہے جو پیدا ہوتا پھر اسی سمندر میں گم ہوجاتا ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہیں پھر مر کر اسی میں مل جاتے ہیں۔ یہ زمانے کے حوادث ہیں کہ ہم پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ کائنات اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ جس میں کسی کے مر کر دوبارہ جینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 36 آخرت سے انکار کی بنیاد محض وہم و قیاس ہے جس پر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ عرب خصوصا وسطی اور جنوبی عرب میں کثرت سے لوگ اس عقیدہ ومشرب کے تھے کہ نہ کوئی حیات اخروی ہے نہ کوئی جزاوسزا، جو کچھ ہورہا ہے سب قوانین مادی و طبعی کے لحاظ سے ہورہا ہے۔ انہیں کی ماتحتی میں انسان کو موت بھی آجاتی ہے اور انہیں کے مطابق انسان پیدا بھی ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بڑے شاعت یہی مضمون باندھ گئے ہیں۔ گویا جاہلیت کے ” روشن خیال “۔ کاٹھیک وہی مسلک تھا جو آج کے مہذب ” روشن خیال “۔ فرنگی کا ہے۔ مادیت (میٹر یلزم) کا مسلک دنیا کا ” جدیدترین “ نہیں، بہت قدیم مذہب ہے، قال ذلک مشرکو قریش (جصاص عن قتادۃ) ھذا قول زنادقۃ قریش الذین کانوا ینکرون الصانع الحکیم وان الزمان ومضی الاوقات ھو الذی یحدث ھذہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–26

آیت نمبر 22 تا 26 ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا بالحقِّ ، خلَقَ کے متعلق ہے تاکہ اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کام کا خواہ از قبیل معاصی ہو یا از قبیل طاعات پورا پورا بدلہ دے تو کافر اور مومن برابر نہ ہوں گے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا، بھلا بتاؤ تو کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات ہی کو معبود بنا رکھا ہے یعنی جس پتھر کو یکے بعد دیگرے پسند کرتا ہے (معبود بنا لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم (ازلی) کے مطابق گمراہ کردیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش سے پہلے ہی جانتا ہے کہ وہ اہل ضلالت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر وما لھم بذلک من علم ان ھو الا یظنون اور (قیامت کے منکر) کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندی کے اور کوئی زندگی (آئندہ) نہیں ہے ‘ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو صرف زمانہ (کی گردش) سے موت آتی ہے ‘ اور ان لوگوں کے پاس اس (قول) کی کوئی دلیل نہیں ‘ محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں۔ مَا ھَیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا یعنی زندگی بس یہی زندگی ہے جس میں ہم ہیں۔ نَمُوْتُ وَنَحْیَا کسی زمانے میں ہم مرجاتے ہیں ‘ کسی زمانے میں جیتے ہیں۔ اس جملہ کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی موت کے بعد آتی ہے ‘ کیونکہ واؤ (نموت ونحیا کے درمیان) صرف عطف کیلئے ہے (ترتیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے، یہیں آباء مرتے ہیں اور یہیں اولاد پیدا ہوتی ہے اور ہمیں صرف رات و دن اور مہینوں اور گھنٹوں کی گردش سے موت آجاتی ہے اور ان کی اس بکواس کی ان کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں محض گمان سے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ شان نزول : وَقَالُوْا مَا هِىَ (الخ) ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ جاہل کہا کرتے تھے کہ ہمیں تو رات و دن کی آمد و رفت سے موت آجاتی ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ الخ

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقالوا ماھی الاحیاتنا الدنیا نموت و نحیا : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة مومنون (37) ، یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ ”نحیا و نموت“ (ہم جیتے ہیں اور مرتے ہیں) یہ کیوں کہا :(نموت و نحیا) ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں ؟“ اس کا جواب کئی طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ ”واؤ“ میں ترتیب ضروری نہیں ہوتی اور یہاں ان کی بات نقل کرتے ہوئے کلام کے حسن کے لئے ایسا کیا گیا ہے، کیونکہ ”ماھی الاحیاتنا الدنیا“ کے بعد ”نموت و نحیا“ جیسے جملے میں جو حسن اور موافقت ہے وہ ”نحیا و نموت“ میں نہیں۔ دوسرا جواب یہ کہ ”نموت ونحیا“ کا مطلب یہ ہے کہ ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولادیں رہتی ہیں، یا ہم میں سے کچھ مرجاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ ان کی جانب سے انکار، دوبارے اٹھائے جانے کو جھٹلانا اور جزا کا ابطال ہے کا معنی ہے ہم مریں گے اور ہماری اولادیں زندہ رہیں گی (1) یہ کلبی کا قول ہے اسے نحیا بھی پڑھا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم میں سے بعض مریں گے اور ہم میں سے بعض زندہ ہوں گے۔ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی ہم زندہ ہوں گے اور ہم مریں گے، یہ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد سال اور دن ہیں (3) قتادہ نے کہا : عمر ہے (4) معنی ایک سال ہے۔ اسے الادھریمر بھی پڑھا گیا ہے انب عینیہ نے کہا : دور جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے اور وہی زندہ کرتا ہے اور ہمیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–26

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے کہ ہم کو رات اور دن ہلاک کرتے ہیں اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا لدھر “ (اور انہوں نے کہا کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو صرف زمانہ کی گردش سے موت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابن آدم مجھ کو تکلیف دیتا ہے کہ وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں سارے اختیارات میرے ہاتھ میں ہیں میں رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ 2:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) وابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] مَا هِىَ [ نہیں ہے یہ ] اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا [سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے ] نَمُوْتُ وَنَحْيَا [ ہم (خود ہی ) مرتے ہیں اور ہم زندہ رہتے ہیں ] وَمَا يُهْلِكُنَآ [ اور نہیں ہلاک کرتا ہم کو (کوئی ) ] اِلَّا الدَّهْرُ ۚ [ سوائے اس زمانے کے ] وَمَا لَهُمْ [ اور نہیں ہے ان کے لئے ] بِذٰلِكَ [ اس کے بارے میں ] مِنْ عِلْمٍ ۚ [ کوئی بھی علم ] اِنْ هُمْ [ نہیں ہیں یہ لوگ ] اِلَّا [ مگر (یہ کہ ) ] يَظُنُّوْنَ [ گمان کرتے ہیں ] د ھ ر : (ف) دھرا کسی کو کوئی بات پہنچنا ۔ دھر ، مدت دراز ۔ لمبا زمانہ ۔ اصل میں دھر مدت عالم کو کہتے ہیں یعنی ابتدا آفرینش سے لے کر اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دہریوں کی جاہلانہ باتیں اور ان سے ضروری سوال اس کے بعد مشرکین کے انکار قیامت کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ قَالُوْا مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا ﴾ ان لوگوں نے کہا کہ جس کا نام زندگی ہے وہ ہماری اس دنیا والی زندگی کے سوا کچھ نہیں ہے ہمیں ایک ہی بار یہ زندگی ملی ہے مرنے کے بعد پھر جی اٹھنا نہیں ﴿نَمُوْتُ وَ نَحْيَا ﴾ موت وحیات کا یہ سلسلہ جاری ہے ہم مرجائیں گے اور ہماری اولاد اس دنیا میں پیچھے زندہ رہ جائے گی پھر وہ بھی مرجائیں گے اور ان کی اولاد زندہ رہ جائے گی یہ قیامت کا آنا اور حساب کتاب ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ﴿ وَ مَا يُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ 1ۚ﴾ اور ہمیں ہلاک نہیں کرے گا مگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–37

دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت : قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔ (ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ” وقالوا ماھی۔ تا۔ یظنون “ یہ شکوی اولی ہے۔ یہ حشر و نشر کے بھی منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ زندی صرف یہی دنیا کی زندگی ہی ہے اس زندگی کے ختم ہوجانے کے بعد اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم دیکھ رہے کہ کچھ لوگ مر رہے ہیں اور کچھ لوگ پیدا ہورہے ہیں بس یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور ہماری موت تو حوادثت زمانہ اور نازل دہر کا نتیجہ ہے۔ یہ مشرکین کے ایک گروہ کا خیال ہے جو تمام وقائع و حوادث کو وقت اور زمانے کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وھؤلاء معترفون بوجود اللہ تعالیٰ فہم غیر الدھریۃ۔ والکل یقول باستقلال الدھر بالتاثیر (روح ج 25 ص 103) ۔ یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض بےعلمی سے ناشی ہے۔ ان کے پاس کوئی عقلی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آخری شریعت کے نزول کا ذکر کیا اور اس کے اتباع کا معمہ دیا۔ نیز خواہشات نفسانی کی پیروی سے منع فرمایا اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی یہ آیتیں اور سورتیں بصیرت ہدایت اور ہمت ہیں مگر اس شخص کے لئے جو یقین رکھتا ہے …اللہ نے نیک و بد کے متعلق فرمایا کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض برے لوگ برائیاں کماتے ہیں جب کہ بعض اہل ایمان نیکی کے کام کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی زندگی اور موت میں فرق ہے اور یہ تفاوت اگلے جہان میں بھی قائم رہے گا۔ ارض و سما کی تخلیق اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے تخلیق ارض و سما کا ذکر فرمایا ہے جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا مَا ہِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُہْلِكُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ۝ 0 ۚ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ۝ 0 ۚ اِنْ ہُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ۝ 24 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–26

تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ کافرو مومن درجات سعادت میں برابر نہیں تو اس کے اب دلائل بیان فرماتا ہے : فقال و خلق اللہ الخ یہ اول دلیل ہے کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کو برحق بنایا اگر نیک و بد برابر ہوجائیں تو یہ انتظام عالم درہم برہم ہوجاوے (2) ولتجزی کل نفسالخ اس کا عطف بالحق پر ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق ظاہر کرنے کے لیے اور اس لیے بنایا ہے کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے ظلم نہ ہو یعنی مقصود اس عالم کے پیدا کرنے سے عدل و رحمت کا ظاہر کرنا ہے اور یہ جب ہی پورا ہوگا کہ قیامت برپا ہو اور وہاں نیک و بد کا پورا انصاف ہو کر پوری جزاء و سزا دی جاوے۔ (3) افریت من اتخذالہہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالُوْا مَاھِیَ اِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَـآ اِلاَّالدَّھْرُ ج وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ج اِنْ ھُوْ اِلاَّ یَظُنُّوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 24) (اور وہ کہتے ہیں کہ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم کو بس گردش روزگار ہلاک کرتی ہے اور ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں، یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔ ) منکرینِ قیامت کے دلائل اور ان کی بےوقعتی گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جو شخص خواہشِ نفس کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بنا لیتا ہے اور اسی کے اتباع میں زندگی کے ہر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–27

فہم القرآن ربط کلام : اپنے نفس کو معبود بنانے والا شخص دنیا کی لذات پر اس قدر فریفتہ ہوجاتا ہے کہ اس کا مرنے کو جی نہیں چاہتا اس وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا صرف دنیا میں ہے موت کے بعد نہ ہم نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے جواب دینا ہے۔ انسان اپنے نظریات اور جذبات کو اس وقت الٰہ کا درجہ دیتا ہے جب دنیا پر بےحد فریفتہ ہو کر وہ حقیقی الٰہ کو بھول جاتا ہے۔ اس وجہ سے نفس کا بچاری سمجھ بیٹھتا ہے کہ مرنے کے بعد نہ میں نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے حساب دینا ہے۔ اس بنیاد پر کہتا ہے کہ بس ہم نے اسی دنیا میں جینا اور مرنا ہے۔ ہماری زندگی اور موت کا معاملہ زمانے کے ساتھ تعلق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 24 : وَقَالُوْا مَاہِیَ (اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ سوائے اس حیات کے) یعنی کوئی زندگی نہیں کیونکہ ان سے موت کے بعد والی زندگی کا وعدہ کیا گیا۔ اِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا (جو ہماری دنیا کی زندگی ہے۔ اور کوئی حیات نہیں) جس میں ہم ہیں اور اس کو گزار رہے ہیں۔ نَمُوْتُ وَنَحْیَا (ہم مرتے اور جیتے ہیں) نمبر 1۔ ہم مرتے ہیں اور ہماری اولادیں پیدا ہوتی ہیں۔ یا نمبر 2۔ بعض مرتے اور بعض زندہ رہتے ہیں۔ نمبر 3۔ یا ہم نطفہ کی شکل میں مردہ تھے اور اس کے بعد پیدا ہوئے۔ نمبر 4۔ یا ہمیں دونوں باتیں پیش آتی ہیں موت و زندگی۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ حیات تو یہ دنیا کی زندگی ہے اور موت اسکے بعد ہے۔ اسکے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23، افرایت من اتخذا الھہ ھواہ، ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ یہ کافر اس نے اپنا دین اپنی خواہش کو بنایا۔ پس دل میں جو خیال آتا ہے اس کو کر گزرتا ہے اس لیے کہ وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ اس کا خوف رکھتا ہے اور جو چیز اللہ نے حرام کی اس کو حرام نہیں سمجھتا۔ اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنا معبوداپنی خواہش کو بنالیا ہے۔ پس اسی کی عبادت کرتا ہے جب کوئی چیزپہلے خدا سے اچھی ملتی اس کو پھینک دیتے اور توڑدیتے اور دوسرے کی عبادت شروع کردیتے۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا نام ھوی رکھا گیا۔ اس لیے کہ وہ اپنے صاحب کے ساتھ جہنم میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–27

22۔ 27۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد خاک ہو کر سب برابر ہوجائیں گے کیونکہ انسان کا پھر دوبارہ جینا اور جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اوپر کی آیت میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا کہ ایسی ناانصافی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا کہ نیک و بد دونوں کے مر کر خاک ہوجانے کے بعد پھر خبر نہ لی جائے کہ نیک شخص نے نیکی جو کی تھی اس کی جزا اور بد شخص نے بدی جو کی تھی اس کی سزا کچھ ہونے کی ہے یا نہیں ان آیتوں میں اس جواب کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخر عمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–26

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (افرء یت) کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ؟ (من اتخذ الھہ ھوۂ ) ” جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ “ جس راستے پر چاہا چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ (واضلہ اللہ علی علم) اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہوسکتا ہے۔ (وختم علی سمعہ) ” اور اس کے کانوں پر مہر لگا دی۔ “ اس لئے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لئے فائدہ مند ہو (وقلبہ) ” اور اس کے دل پر “ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا (وجعل علی بصرہ غشوۃ) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 24–37

قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ ) ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی (ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “ قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 دہریوں کی منطق کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ "۔ یعنی یہ سب کچھ زمانے کا چکر ہے اور بس۔ اسی لئے ایسے لوگ دہریے کہلاتے ہیں۔ اور زمانہ جاہلیت میں عربوں کا طریقہ تھا کہ ان کو جب کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچتی تو وہ زمانے ہی کو اسکا ذمہ دار اور اصل فاعل اور موثر سمجھ کر اس کو گالی دیتے اور کہتے ۔ " یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِ " ۔ اسی لئے حدیث میں زمانے کو گالی دینے سے منع فرمایا گیا ہے۔ چناچہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا ۔ { لا تَسُبُّوْا الدَّہْرَ فَاِنَ الدَّہْرَ ہُوَ اللّٰہُ } ۔ یعنی یہ لوگ تو زمانے کو موثر حقیقی سمجھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–37

مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–26

آیات 22 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ اللہ نے یہ سارانظام آسمانوں اور زمین کا بھی حق و انصاف پر بنایا ہے جس طرح اس کی تعمیر و تخلیق میں ہے ہر شے کو ایک حیثیت اور حق دیا گیا ہے اسی طرح سے اعمال کا بدلہ بھی یقینا دیاجائے گا مثلا جیسے کھانا کھانے کا نتیجہ ہے کہ بھوک ختم ہوجاتی ہے پھر اگر درست ہوتوصحت ہوتی ہے خراب ہوتوبیمار کردیتا ہے اسی طرح ایک نتیجہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز وسائل سے حاصل کیا گیا تھا یا نہیں جس کا اظہار یقینا قیامت کو ہوگا اور وہاں کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی مگر ان کی مصیبت یہ کہ آپ دیکھیں انہوں نے اپنی خواہش نفس کو ہی اپنا معبود بنارکھا ہے۔ خواہش نفس کو معبود بنارکھا ہے۔ کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی خدا کا حکم اور ملک الموت وغریہ کچھ نہیں ہے، بس زمانہ کی گردش ہے جس سے ہم بوڑھے ہوجاتے ہیں اور جب اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ زندہ نہیں ہوسکتے تو مرجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:24) قالوا۔ یعنی منکرین بعث کہتے ہیں۔ ماہی : ما الحیوہ۔ زندگی کیا ہے ما استفہامیہ کی صورت میں۔ اگر ما نافیہ لیا جائے تو ترجمہ ہوگا :۔ زندگی کھر نہیں (سوائے ہماری دنیا دی زندگی کے) ۔ الا : مگر۔ سوائے۔ حرف استثنائ۔ حیاتنا الدنیا : حیاتنا مضاف الیہ مل کر مضاف الدنیا مضاف الیہ۔ ہماری دنیا کی زندگی۔ نموت۔ مضارع جمع متکلم۔ موت باب نصر مصدر۔ ہم مرتے ہیں۔ یعنی ہم میں سے بعض مرتے ہیں۔ نحیا : نحیی مضارع جمع متکلم ۔ حیوۃ (باب سمع) مصدر۔ ہم جیتے ہیں (یعنی ہم میں سے بعض جیتے ہیں۔ نموت اور نحیی میں واؤ صرف عطف کے لئے ہے۔ ترتیب ماتعقیب کے لئے نہیں ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور وہ (منکرین بعث روز قیامت) کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–24

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 24 : تجزی ( بدلہ دیا گیا) ھوا ( خواہش) الدھر ( زمانہ) یظنون (وہ گمان کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 22 تا 24 : ان تین آیات میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں (1) آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور قیامت کا قائم ہونا (2) جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اس کو ہدایت نصیب نہ ہونا (3) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد دوسری کوئی زندگی نہیں ہے اور ہمیں زندگی اور موت زمانے کی وجہ سے آتی ہے۔ پہلی بات کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اس ساری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کے انتظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ وہ اس کے چلانے میں کسی کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–29

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–32

[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: یہ ان کے ملحدانہ عقائد کی تشریح ہے ۔ کہ ان میں سے بعض لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ سوائے مادی تصورات کے اور دنیا میں کسی چیز کا وجود نہیں ۔ یہ زندگی یہیں تک ہے ۔ اس کے بعد محاسبہ ومکافات کا اصول ناقابل فہم ہے ۔ اور ہماری موت وحیات میں صرف زمانہ اثر انداز ہے فرمایا : کہ ان عقائد کے لئے یہ کسی علمی تیقن کو پیش نہیں کرسکتے ۔ ان کے پاس دہریت کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ۔ یہ محض حقائق کے ساتھ ایک نوع کا سوء ظن ہے ۔ اور تخمین و قیاس ہے ۔ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ۔ ایک رب کائنات کو تسلیم کیا جائے ۔ جو اس کارگاہ عظیم کو اپنی حکمتوں اور قدرتوں کی بناء پر چل رہا ہے ۔ حل لغات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) اور یہ منکرین قیامت یوں کہتے ہیں کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں ہم یہیں ایک مرنا مرتے ہیں اور ایک جینا جیتے ہیں اور ہم کو نہیں مارتا اور نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ اور ان منکروں کے پاس اپنے اس کہنے پر کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض خیال اور اٹکل کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دوسری زندگی کے قائل نہیں ہیں اس لئے دعویٰ کرتے ہیں کہ بس یہی دنیا کی زندگی سے پیدا ہوئے جئے اور مرگئے اس سے زیادہ کچھ نہیں اور ہمارا مرنا بھی کیا مرور زمان کی وجہ قوی مضمحل ہوئے اور مرگئے تو گردش زمانہ ہم کو ماردیتی ہے۔ یہ قول ان کا قائم مقام دلیل کے تھا گویا اپنے جینے اور مرنے پر یہ جملہ بطور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–26

ف 5۔ مطلب یہ کہ مرور زمانہ سے قوی بدنیہ تحلیل ہوتے ہیں اور ان اسباب طبیعہ سے موت آجاتی ہے، اور اس طرح حیات کا سبب بھی امور طبیعہ ہیں۔ پس جب موت وحیات مقتضا اسباب طبیعہ کا ہے اور حیات ثانیہ کو اسباب طبعیہ مقتضی ہیں نہیں تو حیات ثانیہ نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ جو آخرت کی زندگی سے انکاری ہیں کیا ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے ؟ 42 ؎ آخرت سے انکار کرنے والے بڑے عزم و جزم کے ساتھ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور واضح الفاط میں دو ٹوک یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور یہ بات کہنے والے محض ایک بےدلیل بات کرتے ہیں۔ کسی طرح وہ دوسروں پر بےدلیل ہونے کا الزام دے رہے ہیں یہ وہی بات ہوئی کہ چور بھی اور چتر بھی۔ ان لوگوں نے جو یہ بات کہی ہے کہ ہم خود ہی زندہ ہوتے ہیں اور مرتے ہیں تو انہوں نے یہ بات کس دلیل سے کی ہے کیا یہ سارا نظام جو اس کائنات کا چل رہا ہے جس میں اس قدر نظم و ضبط ہے کہ اس پر سارے حسابوں کا دارومدار رکھا گیا ہے یہ بغیر کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–27

وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ‌ "...and nothing destroys us except time...(45:24) " The word dahr means ` time from the beginning of the world to its end'. It also refers to ` a very long period of time'. The atheists alleged that their life and death have nothing to do with Divine will and command. They happen under natural causes. Death is a process which they say they experience when their human limbs, organs and abilities diminish on account of constant use and, with the passage of time, the matter becomes dissolved and is destroyed; and that this is the be-all and end-all of human…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 This is, "There is no means of knowledge by which they might have known with certainty that after this life there is no other life for Tnan, and that man's soul is not seized by the Command of God, but he dies and perishes merely in the course of time. The deniers of the Hereafter say these things not on the basis of any knowledge but on mere conjecture. The maximum that they could say scientifically is: "We do not know whether there is any life after death or not;" but they cannot say: "We know that there is no other life after this life." Likewise, they cannot make the claim of knowing…

Read the full tafseer →