Explained with ayahs 21–23
اصل دین چار چیزیں ہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 30
خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن کر رہ جائے۔ جس کام کو اس کا دل چاہے اسے کر گزرے، خواہ خدا نے اسے حرام کیا ہو، اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہے اسے نہ کرے، خواہ خدا نے اسے فرض کردیا ہو۔ جب آدمی اس طرح کسی کی اطاعت کرنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا معبود خدا نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کی وہ اس طرح اطاعت کر رہا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ زبان سے اس کو اپنا اِلٰہ اور معبود کہتا ہو یا نہ کہتا ہو، اور اس کا بت بنا کر اس کی پوجا کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ اس لیے کہ ایسی بےچوں چرا اطاعت ہی اس کے معبود بن جانے کے لیے کافی ہے اور اس عملی شرک کے بعد ایک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
سو کیا (توحید و آخرت کے ان واضح بیانات کے بعد) آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے (کہ جو دل میں آتا ہے اسی کے پیچھے چلتا رہتا ہے) اور خدا تعالیٰ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے (کہ حق کو سنا اور سمجھا بھی مگر نفسانی خواہش کی پیروی سے گمراہ ہوگیا) اور (خدا تعالیٰ نے) اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے (یعنی نفس پرستی کی بدولت قبول حق کی صلاحیت نہایت کمزور ہوگئی) سو ایسے شخص کو بعد خدا کے (گمراہ کردینے کے) کون ہدایت کرے (اس میں تسلی بھی ہے۔ آگے ان منکرین کو زجر کے طور پر خطاب ہے کہ) کیا تم (ان…
Read the full tafseer →افرء یت من اتخذ الھہ ھویۃ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ ط فمن یھدیہ من بعد اللہ ط افلا تذکرون 23
ایک برمحل اشارہ یہود کی طرف
اوپر کی آیت میں خاص طور پر مشرکین کے غلط تصور حیات پر ان کو ملامت تھی۔ اس آیت میں ان کی سرپرستی کرنے والے یہود کے بارے میں مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب کے مدعی ہوتے ہوئے مشرکین اور ان کے دین شرک کی حمایت جو کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بدعملیوں کی پاداش میں اللہ نے ان کے کانوں اور دلوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ تو جو خدا کے قانون کی زد میں آ چکے ہوں اب کس کے بس میں ہے کہ ان کو راہ راست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ 1 یعنی بلوغ علم اور قیام حجت کے باوجود، وہ گمراہی ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے جیسے بہت سے پندار علم میں مبتلا گمراہ۔
23۔ 2 چناچہ وہ حق کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
7: یہ ترجمہ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ کے جملے کو تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 23
انسان جب اسلام کا عظیم اصول اتباع شریعت ترک کرد یتا ہے تو پھر اس کی جو حالت ہوتی ہے قرآن کریم اس خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ یہ شخص اپنی بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ان کا مطیع فرمان ہے۔ اس کے تصورات ، اس کے احکام ، اس کی سوچ اور اس کی حرکات ، اس کی خواہشات کے زاویہ سے ہوتی ہیں۔ یہ ان کو اس طرح پوجتا ہے جس طرح کوئی کسی بت کو پوجتا ہے۔ یہ خواہشات کے اشارات کے پیچھے دوڑتا ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کی یہ تصویر کشی بڑی ناپسندیدگی سے کرتا ہے۔
افر ءیت من اتخذ الھہ ھوہ (45 : 23) “ پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ جانتا تھا کہ اس کی استعداد خراب ہے اور اسی قابل ہے کہ سیدھی راہ سے ادھر ادھر بھٹکتا پھرے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بدبخت علم رکھنے کے باوجود اور سمجھنے بوجھنے کے بعد گمراہ ہوا۔
3 جو شخص محض خواہش نفس کو اپنا حاکم اور معبود ٹھہرالے، جدھر اس کی خواہش لے چلے ادھر چل پڑے اور حق و ناحق کے جانچنے کا معیار اس کے پاس یہ ہی خواہش نفس رہ جائے، اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی اختیار کردہ گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ نہ کان نصیحت کی بات سنتے ہیں، نہ دل سچی بات کو سمجھتا ہے، نہ آنکھ سے بصیرت کی روشنی نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ جس کو اس کے کرتوت کی بدولت ایسی حالت پر پہنچا دے،…
Read the full tafseer →آیت 23 { اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُ } ”کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟“
اس سے قبل یہ مضمون سورة الفرقان کی آیت 43 میں بھی آچکا ہے۔ یہاں اس کا اعادہ دراصل زیر مطالعہ آٹھ سورتوں سورۃ الزمر تا سورة الاحقاف کے مرکزی مضمون کے سیاق وسباق میں ہوا ہے۔ چناچہ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مضمون کے ذیلی عنوانات کی ترتیب کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے۔ ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی چار سورتوں الزمر تا الشوریٰ میں ”توحید ِعملی“ کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدیج کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ سورة الزمر میں تکرار کے ساتھ تاکید کی گئی ہے…
Read the full tafseer →33 اپنی خواہشات کو معبود بنانا :۔ یہ بھی وہی شخص ہوسکتا ہے جسے اللہ کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا یقین نہ ہو۔ ایسے شخص کی زندگی کا مقصد بس یہی رہ جاتا ہے کہ اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرتا جائے۔ کوئی اخلاقی پابندی یا شریعت کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول نہ کرے۔ ایسا شخص نہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرنا گوارا کرسکتا ہے اور نہ نواہی سے اجتناب کرسکتا ہے وہ تو ظلم و عصیان میں شتر بےمہار کی طرح آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
34 علم گمراہی کا سبب کیسے بنتا ہے :۔ (أضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ) کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے ازلی علم میں یہ بات طے شدہ تھی کہ وہ گمراہ…
Read the full tafseer →19۔ (کہ حق کو سننے سمجھنے کے باوجود بھی اتباع خواہش نفس سے گمراہ ہوگیا) (آیت) ” من اتخذ الھہ ھوہ “۔ خداوندی ضابطوں کو یکسر بھلا کر زندگی اور اجزائے زندگی کا حاکم اپنی عقل کو یا کسی بشری قانون اعلی کو بنالینا عملا اپنی خواہش نفس ہی کی پوجا کرنا ہے۔ (آیت) ” اضلہ اللہ علی علم “۔ حق تعالیٰ کا اسباب ضلالت کو تکوینی طور پر خلق کردینا یہی اس کی طرف سے اضلال ہے۔ (آیت) ” ختم ..... غشوۃ “۔ یہ کان اور دل پر مہرلگ جانا اور آنکھوں پر پردہ پڑجانا ابتداء حق تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہوا، بلکہ یہ عین نتیجہ نکلا، ان کی ارادی پیروی نفس کا ان حاشیوں میں اس مسئلہ کی تصریح بار بار کی جاچکی ہے۔
20۔ سمجھنے سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت نمبر 22 تا 26
ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا بالحقِّ ، خلَقَ کے متعلق ہے تاکہ اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کام کا خواہ از قبیل معاصی ہو یا از قبیل طاعات پورا پورا بدلہ دے تو کافر اور مومن برابر نہ ہوں گے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا، بھلا بتاؤ تو کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات ہی کو معبود بنا رکھا ہے یعنی جس پتھر کو یکے بعد دیگرے پسند کرتا ہے (معبود بنا لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم (ازلی) کے مطابق گمراہ کردیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش سے پہلے ہی جانتا ہے کہ وہ اہل ضلالت میں…
Read the full tafseer →افرء یت من اتخذالھہ ھوں ہ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرون سو کیا آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہشات کو بنا رکھا ہے اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے اور اس نے کانوں پر اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ سو ایسے شخص کو اللہ کے (گمراہ کردینے کے) بعد کون ہدایت کرے ‘ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے ؟
اَفَرَءَیْتَ ۔ افرئیت سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا آپ اس کو ہدایت کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے دیکھ بھی لیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود…
Read the full tafseer →اے نبی کریم آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی ہے جس نے اپنا معبود اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے کہ ان بتوں سے جس کو اس کا نفس چاہتا ہے پوجنا شروع کردیتا ہے اور وہ شخص نضر بن حارث یا ابوجہل یا حارث بن قیس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا گمراہوں میں سے ہونا معلوم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان سے گمراہ کردیا ہے۔
اور اس کے کان پر اور دل پر مہر لگا دی ہے تاکہ وہ حق بات کو نہ سن سکے اور نہ سمجھ سکے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے تاکہ وہ حق بات کو دیکھ نہ سکے سو اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے کے بعد ایسے شخص کو کون دین کا راستہ بتا سکتا ہے پھر بھی تم قرآن کریم سے نصیحت نہیں حاصل کرتے کہ اللہ…
Read the full tafseer →(1) افرئیت من اتخذ الھہ ھولہ : سلسلہ کلام سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ آخرت کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ آخرت کا عقیدہ ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہوتا ہے، اس لئے وہ آخرت کا انکار کردیتے ہیں، پھر ان کے دل میں جو آتا ہے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جس طرح ایک مومن اپنے رب کو اپنا معبود مانتا ہے، اسی کے حکم پر چلتا ہے، اس کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے منکروں کا معبود ان کے نفس کی خواہش ہی ہوتا ہے، وہ جو چاہے ان کے لئے حلال اور جو نہ چاہے ان کے ہاں حرام ہوتا ہے۔ پھر جب وہ آخرت کی باز پرس سے بےفکر ہوجاتے ہیں تو…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس، قتادہ اور حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس کافر نے اپنا دین اسی کو بنا لیا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے وہ کسی چیز کی خواہش نہیں کرتا مگر اس پر سوار ہوجاتا ہے۔ (2) عکرمہ نے کہا : ذرا اسے تو دیکھو جس نے اپنا معبود اسے بنا لیا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے یا جسے وہ اچھا جانتا ہے جب وہ کسی چیز کو اچھا خیال کرتا ہے اور اس کی خواہش کرتا ہے تو اسے اپنا الہ بنا لیتا ہے۔ (3) سعید بن جبیر نے کہا : ان میں سے کوئی پتھر کی پوجا کرتا ہے جب اس پتھر سے خوبصورت پتھر دیکھتا تو پہلے پتھر کو پھینک دیتا اور دوسرے پتھر کی عبادت شروع کردیتا۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت حارث بن قیس سہمی کے بارے میں نازل ہوئی جو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) واللالکائی فی السنۃ اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے اس آیت ” افراء یت من اتخذ الھہ ھوہ “ (کیا آپ نے اس شخص کی جانب بھی نہیں دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنارکھا ہے) کہ بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ کافر ہے جس نے اپنا دین اللہ کی ہدایت اور دلیل کے بغیر بنارکھا ہے ” اضلہ اللہ فی سابق علمہ “ (اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو گمراہ کردیا اپنے سابقہ علم کی بنا پر۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت ) ” افراء یت من اتخذ الھہ ھوہ “ یعنی جس بات کی…
Read the full tafseer →اَفَرَءَيْتَ [ تو کیا آپ نے دیکھا ] مَنِ اتَّخَذَ [ اس کو جس نے بنایا ] اِلٰــهَهٗ [ اپنا الہ ] هَوٰىهُ [ اپنی خواہش کو ] وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ [ اور بھٹکا دیا اس کو اللہ نے ] عَلٰي عِلْمٍ [ ایک علم کے باوجود ] وَّخَتَمَ [ اور اس نے مہر لگا دی ] عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ [ اس کی سماعت اور اس کے دل پر ] وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ [ اور اس نے بنایا اس کی بصارت پر ] غِشٰوَةً ۭ [ ایک پردہ ] فَمَنْ يَّهْدِيْهِ [ تو کون اس کی راہنمائی کرے گا ] مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے بعد ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ]
نوٹ۔ 1: یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا…
Read the full tafseer →اے مخاطب ! کیا تو نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا
ان آیات میں مشرکین کی گمراہی بتلائی کہ وہ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے ہیں اور وقوع قیامت کا بھی انکار کرتے ہیں ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کی خواہش ہی کو معبود بنا رکھا ہے جس کی عبادت کرنے کو جی چاہتا ہے اسی کی عبادت کرنے لگ جاتے ہیں کبھی پتھر کے سامنے جھکے عاجزی کر رہے ہیں کبھی اس پتھر کو سجدہ کیے ہوئے نظر آتے ہیں، علامہ قرطبی نے حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ عرب کے مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ کسی پتھر کو پوجنے لگتے تھے پھر جب اس سے اچھا پتھر نظر آجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →17:۔” افرایت۔ الایۃ “۔ یہ زجر ہے۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو محض اپنی خواہش نفس کا بندہ ہو جو دلیل عقل و نقل کے بغیر محض خواہش نفس سے غیر اللہ کو پکارتا ہے گویا اس نے اپنی خواہش ہی کو معبود بنا رکھا ہے۔ علی علم، اضلہ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی طریق ہدایت کو جانتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جن کو وہ پکار رہا ہے وہ اس کی پکار نہیں سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو باوجود اس علم کے کہ جن کو وہ پکار رہا ہے وہ اس کی پکار نہیں سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو باوجود اس علم کے کہ جن کو وہ پکارتا ہے وہ سنتے نہیں، گمراہ کردیا ہو اور اس کے کانوں پر اور اس کے دل پر مہر جباریت لگا دی ہو اور اس کی آنکھوں پر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آخری شریعت کے نزول کا ذکر کیا اور اس کے اتباع کا معمہ دیا۔ نیز خواہشات نفسانی کی پیروی سے منع فرمایا اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی یہ آیتیں اور سورتیں بصیرت ہدایت اور ہمت ہیں مگر اس شخص کے لئے جو یقین رکھتا ہے …اللہ نے نیک و بد کے متعلق فرمایا کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض برے لوگ برائیاں کماتے ہیں جب کہ بعض اہل ایمان نیکی کے کام کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی زندگی اور موت میں فرق ہے اور یہ تفاوت اگلے جہان میں بھی قائم رہے گا۔
ارض و سما کی تخلیق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے تخلیق ارض و سما کا ذکر فرمایا ہے جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے تو…
Read the full tafseer →اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً 0 ۭ فَمَنْ يَّہْدِيْہِ مِنْۢ بَعْدِ اللہِ 0 ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 23
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ کافرو مومن درجات سعادت میں برابر نہیں تو اس کے اب دلائل بیان فرماتا ہے : فقال و خلق اللہ الخ یہ اول دلیل ہے کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کو برحق بنایا اگر نیک و بد برابر ہوجائیں تو یہ انتظام عالم درہم برہم ہوجاوے (2) ولتجزی کل نفسالخ اس کا عطف بالحق پر ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق ظاہر کرنے کے لیے اور اس لیے بنایا ہے کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے ظلم نہ ہو یعنی مقصود اس عالم کے پیدا کرنے سے عدل و رحمت کا ظاہر کرنا ہے اور یہ جب ہی پورا ہوگا کہ قیامت برپا ہو اور وہاں نیک و بد کا پورا انصاف ہو کر پوری جزاء و سزا دی جاوے۔ (3) افریت من اتخذالہہ…
Read the full tafseer →اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰ ہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ط فَمَنْ یَّھْدِیْہِ مِنْ م بَعْدِاللّٰہِ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 23)
(کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو معبود بنا رکھا ہے اور اس کو اللہ نے علم کے باوجود گمراہ کردیا ہے اور اس کے کانوں اور اس کے دل پر مہر کردی ہے، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، اللہ کے بعد اور کون ہے جو اسے ہدایت دے، کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ )
ہوائے نفس کے اتباع کا نتیجہ
آیتِ کریمہ کے پہلے لفظ سے تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جس میں افسوس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو یونہی پیدا کیا ہے اور مومن اور فاسق کے انجام میں کوئی فرق نہیں۔ درحقیقت وہ شخص اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے۔ کیونکہ کسی کے انجام کو جاننا اور اس کا فیصلہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
جس شخص نے اپنے نظریات اور جذبات کو الٰہ بنا لیا ہے۔ اس کے افکار اور کردار پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم دینے کے باوجود گمراہی میں کھلا چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی گئی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے سوا اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اس کے باوجود تم نصیحت…
Read the full tafseer →آیت 23 : اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰہُ (کیا آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا الٰہ اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے) یعنی وہ خواہش نفس کا مطیع ہے۔ جس طرف خواہش اس کو لے جاتی ہے۔ گویا وہ خواہش کی اسی طرح عبادت کرتا ہے جیسا معبود کی عبادت کرتے ہیں۔ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ (اور اللہ تعالیٰ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا) اس نے خود ضلال کو اختیار کیا یا ضلال کا فعل اس میں پیدا فرما دیا۔ علی علمٍ اس کے باوجود کہ اس کو اس کا علم ہے۔ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ ( اور اس کے کان پر مہر لگا دی) وہ وعظ و نصیحت کو قبول نہیں کرتا۔ وَقَلْبِہٖ (اور دل پر) وہ حق کا معتقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
21، ام حسب، بلکہ کافی ہے۔ ، الذین اجترا السیئات ، کفر اور نافرمانیوں کا ارتکاب کیا۔ ، ان نجعلھم کالذین امنو اوعملوا الصالحات، یہ آیت مشرکین مکہ کے دچندلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے مؤ منین کو کہا کہ اگر جو تم کہتے ہو حق ہے تو ہم آخرت میں بھی تم پر فضیلت رکھیں گے۔ جیسا کہ ہم تم پر دنیا میں فضیلت رکھتے ہیں۔ ، سواء محیاھم، حمزہ اور کسائی اور حفص اور یعقوب رحمہم اللہ نے، سوائ، کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ہم ان کو برابر کردیں گے۔ یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ کافروں کی زندگی، ومما تھم، مؤ منین کی زندگی اور ان کی موت کی طرح برابر ہے ہرگز نہیں۔
اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
22۔ 27۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد خاک ہو کر سب برابر ہوجائیں گے کیونکہ انسان کا پھر دوبارہ جینا اور جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اوپر کی آیت میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا کہ ایسی ناانصافی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا کہ نیک و بد دونوں کے مر کر خاک ہوجانے کے بعد پھر خبر نہ لی جائے کہ نیک شخص نے نیکی جو کی تھی اس کی جزا اور بد شخص نے بدی جو کی تھی اس کی سزا کچھ ہونے کی ہے یا نہیں ان آیتوں میں اس جواب کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخر عمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 23
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (افرء یت) کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ؟ (من اتخذ الھہ ھوۂ ) ” جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ “ جس راستے پر چاہا چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ (واضلہ اللہ علی علم) اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہوسکتا ہے۔ (وختم علی سمعہ) ” اور اس کے کانوں پر مہر لگا دی۔ “ اس لئے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لئے فائدہ مند ہو (وقلبہ) ” اور اس کے دل پر “ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا (وجعل علی بصرہ غشوۃ) ”…
Read the full tafseer →خواہش نفس کی پیروی سے پرہیز کیا جائے
قول باری ہے : (افرایت من اتخذالھہ ھواہ۔ سو کیا آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی ہے جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی ہے ، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے اس قول باری کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ وہ جس چیز کی خواہش کرتا ہے اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اسے اللہ کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بعض روایات میں ہے کہ خواہش نفسانی ایک خدا ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں درج بالا آیت کی تلاوت کی گئی یعنی وہ اپنی نفسانی خواہش کی اس طرح پیروی کرتا ہے جس طرح وہ اپنے خدا کی…
Read the full tafseer →42 خواہش پرستی باعث ہلاکت و محرومی : سو خواہش پرستی کی ہلاکت خیزیوں اور خواہش پرستوں کے حال پر دعوت غور و فکر دینے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے اس شخص کے حال پر بھی کبھی غور کیا جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود رکھا ہو "۔ یعنی اس کا حال واقعی قابل غور اور لائقِ عبرت ہے کہ ایسے شخص کا انجام بہت برا اور نہایت بھیانک ہے۔ کیونکہ راستے اصل میں دو ہی ہیں۔ ایک ھدیٰ کا اور دوسرا ھویٰ کا۔ اِتِّباعِ ہُدٰی یعنی ہدایت کی پیروی کی راہ سلامتی و نجات اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ ہے۔ جبکہ اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی کی راہ ہلاکت اور تباہی کی راہ ہے کہ ایسے شخص نے نجات و سرخروئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیات 22 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ نے یہ سارانظام آسمانوں اور زمین کا بھی حق و انصاف پر بنایا ہے جس طرح اس کی تعمیر و تخلیق میں ہے ہر شے کو ایک حیثیت اور حق دیا گیا ہے اسی طرح سے اعمال کا بدلہ بھی یقینا دیاجائے گا مثلا جیسے کھانا کھانے کا نتیجہ ہے کہ بھوک ختم ہوجاتی ہے پھر اگر درست ہوتوصحت ہوتی ہے خراب ہوتوبیمار کردیتا ہے اسی طرح ایک نتیجہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز وسائل سے حاصل کیا گیا تھا یا نہیں جس کا اظہار یقینا قیامت کو ہوگا اور وہاں کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی مگر ان کی مصیبت یہ کہ آپ دیکھیں انہوں نے اپنی خواہش نفس کو ہی اپنا معبود بنارکھا ہے۔
خواہش نفس کو معبود بنارکھا ہے۔
کوئی…
Read the full tafseer →ف 1 خواہش کو خدا بنا لینے سے مراد ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن جائے۔ جو دل میں آئے کر گزرے خواہ خدا کے قانون میں وہ حرام ہو … علوم ہوا کہ شخص کسی نہ کسی خدا کو پوجتا ہے اگر مالک حقیقی کا بندہ نہیں بنتا تو اپنی خواہش کا بندہ بن کر اس کی پوجا کرتا رہتا ہے۔
2 یعنی جو شخص اپنے نفس کو اپنا خدا بنا لے اور کسی طرح سیدھی راہ پر آنے کے لئے تیار نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بھ اسے اس کی اختیار کردہ گمراہی میں بڑھتے رہنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ ” جیسا کہ اس کے علم میں تھا۔ “ یعنی ازل سے خدا کے علم میں تھا کہ وہ راہ راست پر آنے والا نہیں ہے اور یہ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ ” علم ہوت یساقی اللہ نے اسے گمراہ کردیا۔…
Read the full tafseer →(45:23) افرأیت : میں ہمزہ استفہامیہ ہےعاطفہ ہے جس کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے پورا کلام اس طرح تھا۔ کیا آپ اس کو ہدایت کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے دیکھ بھی لیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔
ارایت بمعنی اخبرنی بھی استعمال ہونا ہے۔ ویسے اس جملہ کا اردو ترجمہ ۔ کیا بھلا تو نے (اس شخص کو) دیکھا ہے۔ اس کا صحیح مطلب ادا کرتا ہے۔
اتخذا الھہ ھوہ (جس نے) اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔ الھہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی اپنے فعل اتخذ کا ھوہ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول اتخذ کا۔ ای من اتخذ ھوہ الہہ۔
واصلہ اللّٰہ علی علم۔ اور اللہ نے اسے علی علم گمراہ کردیا ہے۔ علی علم فاعل یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 24 : تجزی ( بدلہ دیا گیا) ھوا ( خواہش) الدھر ( زمانہ) یظنون (وہ گمان کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 22 تا 24 : ان تین آیات میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں (1) آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور قیامت کا قائم ہونا (2) جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اس کو ہدایت نصیب نہ ہونا (3) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد دوسری کوئی زندگی نہیں ہے اور ہمیں زندگی اور موت زمانے کی وجہ سے آتی ہے۔
پہلی بات کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اس ساری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کے انتظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ وہ اس کے چلانے میں کسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Read the full tafseer →خطرناک روگ
1: روحانی طور پر سب سے بڑا مرض اور سب سے زیادہ خطرناک بیماری احجاب نفس اور غرور ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان اللہ کے احکام کو بھی عزت واحترام کی نگاہوں سے نہیں دیکھتا ۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ میرا محدود دماغ اس قابل ہے ۔ کہ تمام مصالح وحکم کا بیک وقت احاطہ کرسکے ۔ ازیس کہ مجھ کو کسی دوسرے کی اطاعت کی قطعاً ضرورت نہیں ۔ میں خود دانا اور سمجھ دارہوں ۔ معاملات میں بصیرت نامہ رکھتا ہوں ۔ اور خیر وشر میں جو فرق ہے ۔ اس کو بخوبی محسوس کرتا ہوں ۔ اس لئے مذہب اور دین اگر میرے عدیے کے موافق ہے ۔ تو درست ہے ۔ اور اگر میرے عندیے میں بعد اس میں موافق نہیں ہے ۔ تو پھر وہ درست نہیں ۔ کیونکہ میرے افکار و…
Read the full tafseer →(23) اے پیغمبر بھلا آپ نے اس شخص کی حالت کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا اور اپنا معبود بنارکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم صحیح کی بنا پر بےراہ اور گمراہ بنا رکھا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر کردی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے پھر اب اللہ تعالیٰ کے بعد اس گم کردہ راہ کی کون رہنمائی کرسکتا ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے۔ یعنی باوجود ان دلائل واضحہ کے جو ہم نے توحید پر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر بیان کئے ہیں آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جسنی اپنی خواہش نفسانی کو معبود بنا رکھا ہے مطلب یہ ہے کہ نفسانی خواہش کا ایسا فرمانبردار ہے جس…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جو جی میں آتا ہے علما و عملا اس کا اتباع کرتا ہے۔
3۔ یعنی حق کو سنا اور سمجھا بھی، مگر اتباع ہوی سے گمراہ ہوگیا۔
4۔ یعنی اتباع ہوی کی بدولت استعداد قبول حق کی نہایت مضمحل ہوگئی۔
Read the full tafseer →لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اپنے نفس ہی کو اپنا خدا بنائے بیٹھے ہیں اور ان کی پہچان ؟
32 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام بھی اس بات کا حقیقت میں مستحق ہے کہ انسان جو کام بھی کرے صرف اور صرف اسی کی رضا کے لئے کرے کیونکہ وہی ہر کام کی جزا مرتب کرنے والا ہے لیکن بہت سے انسان ایسے بھی ہیں جو جو کام بھی کرتے ہیں ان کا مطمع نظر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی نہیں بلکہ اپنی خواہش کی پیروی ہوتی ہے اور خواہش ہی کا بندہ بنکر رہ جاتے ہیں جس کام کو انکا جی چاہے وہ کیا اور جس کو جی نہ چاہا نہ کیا گویا اصل مطلوب ان کا اللہ کی مرضی اور رضا نہیں ہوتا بلکہ اپنی خواہشات یا اپنے دل کی رضا اور مرضی ہوتی ہے اور اس طرح وہ حلال…
Read the full tafseer →Commentary
مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ ("Have you seen him who has taken his desires as his god...45:23) In other words, he who has made his selfish desires his object of worship. Obviously, no unbeliever claims that his desires are his object of worship. Keeping this in view, this verse of the Qur'an indicates that ` worship' actually means ` obedience'. Thus anyone who undertakes to obey someone against the obedience of Allah makes him the object of his worship instead of Allah. There are people who ignore what Allah has declared lawful and unlawful or what He has permitted and what…
Read the full tafseer →30 "To make one's lust one's god" implies that one should become a slave of one's lusts and desires: one should do whatever one likes whether God has forbidden it, and should not do what one dislikes, whether God has made it obligatory. When a man starts obeying somebody like this, it means that his deity is not God but the one whom he is obeying without question, no matter whether he calls him his Iord (with the tongue) or not, and carves out an image of him and worship: him or not. For when he has worshipped him directly without question, it is enough to make him a deity and after this…
Read the full tafseer →