Explained with ayahs 21–23
اصل دین چار چیزیں ہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 28
یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی تخلیق کھیل کے طور پر نہیں کی ہے بلکہ یہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے۔ اس نظام میں یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے اختیارات اور ذرائع و وسائل کو صحیح طریقہ سے استعمال کر کے جن لوگوں نے اچھا کارنامہ انجام دیا ہو، اور انہیں غلط طریقے سے استعمال کر کے جن دوسرے لوگوں نے ظلم و فساد برپا کیا ہو، یہ دونوں قسم کے انسان آخر کار مر کر مٹی ہوجائیں اور اس موت کے بعد کائنات ایک کھلنڈرے کا کھلونا ہوگی نہ کہ ایک حکیم کا بنایا ہوا با مقصد نظام (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، الانعام، حاشیہ 46، جلد دوم، یونس، حاشیہ 11،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ جو برے برے کام (کفر و شرک و ظلم و معصیت) کرتے (رہتے) ہیں، کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا کہ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے (یعنی مومنین کا مرنا جینا بایں معنی یکساں ہوجائے کہ جس طرح زندگی میں لذتوں سے بہرہ اندوز نہ ہوئے اسی طرح موت کے بعد بھی محروم رہیں اور اسی طرح کافروں کا مرنا جینا بھی بایں معنی یکساں ہوجائے کہ جیسے اس زندگی میں عذاب اور تکلیفوں سے بچے رہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی عذاب سے مامون رہیں۔ مطلب یہ کہ انکار معاد سے یہ لازم آتا ہے کہ اطاعت شعار بندوں کو کہیں اطاعت…
Read the full tafseer →وخلق اللہ السموت والارض بالحق ویتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون 22
نادانوں کے زعم کے علی الرغم خالق نے یہ دنیا پالحق پیدا کی ہے
یعنی نادانوں نے تو یہ گمان کر رکھا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک غایت اور نہایت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اس غایت و نہایت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فصلہ فرمائے اور ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ ہے، اس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا دن نہ آئے، یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا چلتے چلتے بس یونہی ایک دن تمام ہوجائے، اس کے بعد نہ کوئی جزا ہو نہ سزا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا بالحق نہیں بلکہ ایک عبث اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ 1 یعنی بلوغ علم اور قیام حجت کے باوجود، وہ گمراہی ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے جیسے بہت سے پندار علم میں مبتلا گمراہ۔
23۔ 2 چناچہ وہ حق کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
7: یہ ترجمہ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ کے جملے کو تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22
ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا…
Read the full tafseer →1 یعنی زمین و آسمان کو یوں ہی بیکار پیدا نہیں کیا۔ بلکہ نہایت حکمت سے کسی خاص مقصد کے لیے بنایا ہے تاکہ ان کے احوال میں غور کر کے لوگ معلوم کرسکیں کہ بیشک جو چیز بنائی گئی ٹھیک موقع سے بنائی اور تاکہ اندازہ کرلیا جائے کہ ضرور ایک دن اس کارخانہ ہستی کا کوئی عظیم الشان نتیجہ نکلنے والا ہے۔ اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ جہاں ہر ایک کو اس کی کمائی کا پھل ملے گا اور جو بویا تھا وہ بھی کاٹنا پڑے گاگندم از گندم بروید جوز جواز مکافات عمل غافل مشو۔
Read the full tafseer →آیت 22 { وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور اللہ نے تو آسمان اور زمین کو حق عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ پورا پورا بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو کچھ اس نے کمایا ہو ‘ اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو۔“
Read the full tafseer →32 آخرت پر دوسری عقلی دلیل اللہ کی حکمتیں اور ان کا تقاضا کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی :۔ یہ معاد یا عالم آخرت کے قیام پر دوسری دلیل ہے اور یہ اللہ کی صفت حکیم ہونے کے تقاضا کے مطابق ہے۔ یعنی اللہ کا کوئی کام بھی حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ پھر کیا یہ سارا کارخانہ کائنات حکمت سے خالی ہوسکتا ہے۔ جس کی ایک ایک چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے اور انسان ہر چیز سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔ اب اگر انسان اچھے یا برے اعمال، جیسے بھی اس سے بن پڑیں اس دنیا میں کرکے مرجاتا ہے اور اس سے کچھ بھی مؤاخذہ نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کو پیدا کرنا، پھر اس کائنات کی چیزوں سے انسان کو…
Read the full tafseer →18۔ یعنی اس بدلہ میں ظلم زیادتی ذرا سی بھی نہ ہوگی، مطل یہ ہوا کہ اللہ آسمان و زمین کا محض خالق ہی نہیں بلکہ حکمتوں اور مقصدوں کے ساتھ ان کا خالق ہے۔ اور یہ ایک حکمت یہی قانون مجازات ہے، دنیا میں پوراپورا بدلہ ملتا نہیں۔ اس لیے لازمی ہے کہ ایک دوسرا عالم ہو، جس میں انصاف رتی رتی کا کیا جائے، اور سب کے سب اسے محسوس بھی کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت نمبر 22 تا 26
ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا بالحقِّ ، خلَقَ کے متعلق ہے تاکہ اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کام کا خواہ از قبیل معاصی ہو یا از قبیل طاعات پورا پورا بدلہ دے تو کافر اور مومن برابر نہ ہوں گے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا، بھلا بتاؤ تو کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات ہی کو معبود بنا رکھا ہے یعنی جس پتھر کو یکے بعد دیگرے پسند کرتا ہے (معبود بنا لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم (ازلی) کے مطابق گمراہ کردیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش سے پہلے ہی جانتا ہے کہ وہ اہل ضلالت میں…
Read the full tafseer →وخلق اللہ السموت والارض بالحق ولتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون اور
ا اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا اور اسلئے کہ ہر شخص کو اسکے کئے کا بدلہ دے دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
وَخَلَقَ اللّٰہُ الخ یعنی اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا تاکہ اللہ کی ہستی ‘ اس کی قدرت اور کامل صفات پر ان کی تخلیق سے استدلال کیا جاسکے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی پیدائش بےکار اور بےسود نہیں کی گئی ‘ بلکہ اس کے اندر اللہ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ نیک اور بد میں امتیاز اور مظلوم کا ظالم سے انتقام دلوانا مقصود ہے ‘ اگر یہ امتیاز اور انتقام اس زندگی میں نہ ہو تو مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ ہر ایک نیک و بد کو اس کی نیکی اور برائی کا بدلہ دیا جائے اور کسی کی نیکی میں اور گناہوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →وخلق اللہ السموت والارض بالحق …: یہ آخرت کے حق ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ص (27) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →الحق سے پہلے الامر کا لفظ مخدوف ہے اصل میں لکی تجزی تھا ہر نفس نے جو کیا ہوگا اسے آخرت میں جزا دی جائے گی ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
5:۔ ابن المبارک و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) و عبداللہ بن احمد فی زوائد الزھد اور الطبرانی نے ابو الضحی (رح) سے روایت کیا کہ تمیم داری نے سورة جاثیہ پڑھی جب اس (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “ پر آئے (یہ لوگ جو بڑے بڑے کام کرتے ہیں) تو بار بار اس کو پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک ہی صبح ہوگئی اور وہ مقام ابراہیم کے پاس تھے ،
6:۔ ابن ابی شیبہ نے بشیر مولی الربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ تمیم داری نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اس آیت سے گزرے (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “ تو اس کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ ؟ صبح ہوئی۔
7:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَخَلَقَ اللّٰهُ [ اور پیدا کیا اللہ نے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں اور زمین کو ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] وَلِتُجْزٰى [اور تاکہ بدلہ دیا جائے ] كُلُّ نَفْسٍۢ [ ہر جان کو ] بِمَا كَسَبَتْ [ اس کا جو اس نے کمایا ] وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ [ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Read the full tafseer →دوسری آیت میں فرمایا کہ ہر نفس کو اور زمینوں کو حق (یعنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا اور اس لیے پیدا فرمایا کہ انہیں دیکھنے والے یہ سمجھ لیں کہ ہر نفس کو اس کے اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں جو حکمتیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو دیکھنے والے پیدا کرنے والے کی قدرت کاملہ پر استدلال کریں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ جس ذات نے ان کو پیدا فرمایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ فرما دے حساب کتاب کے لیے حاضر کردے اور ان کے اعمال کی جزاء، سزا دیدے۔ سورة الاحقاف میں فرمایا ﴿ اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →16:َ ” وخلق اللہ۔ الایۃ “ یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیی نے زمین و آسمان اور اس ساری کائنات کو اظہار حق کے لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ کائنات کو اظہار حق کے لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ کائنات کا ذر ذرہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی صفات کارسازی پر دلالت کرے اور اس طرح اس کی وحدانیت پر ذرہ کائنات سے ظاہر ہو۔ بالھق لیدل علی قدرتہ (مدارک ج 4 ص 104) ۔ ای لید علی وجودہ وقدرتہ وصفات کمالہ (مظہری ج 8 ص 386) ۔ ” ولتجزی کل نفس الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور بالحق پر معطوف ہے (روح) اس کائنات کو پیدا کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے تاکہ بندوں کا امتحان ہو اور ان میں نیکو کار اور بدکار کے درمیان امتیاز ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آخری شریعت کے نزول کا ذکر کیا اور اس کے اتباع کا معمہ دیا۔ نیز خواہشات نفسانی کی پیروی سے منع فرمایا اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی یہ آیتیں اور سورتیں بصیرت ہدایت اور ہمت ہیں مگر اس شخص کے لئے جو یقین رکھتا ہے …اللہ نے نیک و بد کے متعلق فرمایا کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض برے لوگ برائیاں کماتے ہیں جب کہ بعض اہل ایمان نیکی کے کام کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی زندگی اور موت میں فرق ہے اور یہ تفاوت اگلے جہان میں بھی قائم رہے گا۔
ارض و سما کی تخلیق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے تخلیق ارض و سما کا ذکر فرمایا ہے جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے تو…
Read the full tafseer →وَخَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسِ بِمَا كَسَبَتْ وَہُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 22
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ کافرو مومن درجات سعادت میں برابر نہیں تو اس کے اب دلائل بیان فرماتا ہے : فقال و خلق اللہ الخ یہ اول دلیل ہے کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کو برحق بنایا اگر نیک و بد برابر ہوجائیں تو یہ انتظام عالم درہم برہم ہوجاوے (2) ولتجزی کل نفسالخ اس کا عطف بالحق پر ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق ظاہر کرنے کے لیے اور اس لیے بنایا ہے کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے ظلم نہ ہو یعنی مقصود اس عالم کے پیدا کرنے سے عدل و رحمت کا ظاہر کرنا ہے اور یہ جب ہی پورا ہوگا کہ قیامت برپا ہو اور وہاں نیک و بد کا پورا انصاف ہو کر پوری جزاء و سزا دی جاوے۔ (3) افریت من اتخذالہہ…
Read the full tafseer →وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 22)
(اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو اس کے کیے کا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ )
تخلیقِ ارض و سما کا نتیجہ جزائِ اعمال ہے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے تمام اعمال اس کے بنیادی تصورات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ نیکی اسی سے ظہور میں آتی ہے جس کے دل میں نیکی کا جذبہ ہوتا ہے۔ اور برائی اسی سے سرزد ہوتی ہے جس کے دل میں برائی جڑ پکڑ چکی ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نذر قرآن کریم ہمیشہ بنیادی تصورات یعنی عقائد پر زور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے شریعت نازل فرمائی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنی ضد اور جہالت پر قائم رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقیقت کھول کر بیان فرمائی ہے کہ نیک اور برے لوگ کسی اعتبار سے برابر نہیں ہوسکتے۔ مگر اس کے باوجود ظالم لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر قسم کی فراوانی اس لیے دے رکھی ہے کہ وہ ہمیں پسند کرتا ہے اور ہمارے مقابلے میں نیک لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے لوگوں میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ ہم آخرت میں بھی ایمانداروں سے بہتر ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کے انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 22 : وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا) تاکہ یہ اس کی قدرت پر دلالت کریں۔ وَلِتُجْزٰی (اور تاکہ بدلہ دیا جائے) اس کا عطف اس معلل محذوف پر ہے۔ کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (ہر نفس کو اس کے کیے ہوئے عمل کا اور ان پر ذرا ظلم نہ کیا جائے گا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
21، ام حسب، بلکہ کافی ہے۔ ، الذین اجترا السیئات ، کفر اور نافرمانیوں کا ارتکاب کیا۔ ، ان نجعلھم کالذین امنو اوعملوا الصالحات، یہ آیت مشرکین مکہ کے دچندلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے مؤ منین کو کہا کہ اگر جو تم کہتے ہو حق ہے تو ہم آخرت میں بھی تم پر فضیلت رکھیں گے۔ جیسا کہ ہم تم پر دنیا میں فضیلت رکھتے ہیں۔ ، سواء محیاھم، حمزہ اور کسائی اور حفص اور یعقوب رحمہم اللہ نے، سوائ، کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ہم ان کو برابر کردیں گے۔ یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ کافروں کی زندگی، ومما تھم، مؤ منین کی زندگی اور ان کی موت کی طرح برابر ہے ہرگز نہیں۔
اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
22۔ 27۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد خاک ہو کر سب برابر ہوجائیں گے کیونکہ انسان کا پھر دوبارہ جینا اور جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اوپر کی آیت میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا کہ ایسی ناانصافی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا کہ نیک و بد دونوں کے مر کر خاک ہوجانے کے بعد پھر خبر نہ لی جائے کہ نیک شخص نے نیکی جو کی تھی اس کی جزا اور بد شخص نے بدی جو کی تھی اس کی سزا کچھ ہونے کی ہے یا نہیں ان آیتوں میں اس جواب کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخر عمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلے پھر…
Read the full tafseer →آیت 22
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ تخلیق فرمایا تاکہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا محاسبہ کرے گا جن کو اس نے اپنی عبادت کا حکم دیا اور انہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا کہ آیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں یا کفر کا رویہ اختیار کر کے کفار کی سزا کے مستحق بنتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →40 کائنات کی تخلیق بالحق اور اس کا طبعی تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو حق کے ساتھ "۔ اور جب اس سارے کارخانہ ہست و بود کی پیدائش ہی حق کے ساتھ اور حق کے لئے ہے جو کہ عدل و انصاف کا مقتضیٰ ہے تو پھر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ نیکوکار اور بدکار دونوں فریقوں کو ایک برابر کردیا جائے ؟ ۔ حاشا و کلا ۔ سو ان دونوں فریقوں کے کئے کرائے کے فرق و نتائج کے ظہور کے لئے ضروری ہے کہ جزا و سزا کا ایک دن بپا ہو۔ تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ بھرپور طریقے سے پا سکے اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیات 22 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ نے یہ سارانظام آسمانوں اور زمین کا بھی حق و انصاف پر بنایا ہے جس طرح اس کی تعمیر و تخلیق میں ہے ہر شے کو ایک حیثیت اور حق دیا گیا ہے اسی طرح سے اعمال کا بدلہ بھی یقینا دیاجائے گا مثلا جیسے کھانا کھانے کا نتیجہ ہے کہ بھوک ختم ہوجاتی ہے پھر اگر درست ہوتوصحت ہوتی ہے خراب ہوتوبیمار کردیتا ہے اسی طرح ایک نتیجہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز وسائل سے حاصل کیا گیا تھا یا نہیں جس کا اظہار یقینا قیامت کو ہوگا اور وہاں کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی مگر ان کی مصیبت یہ کہ آپ دیکھیں انہوں نے اپنی خواہش نفس کو ہی اپنا معبود بنارکھا ہے۔
خواہش نفس کو معبود بنارکھا ہے۔
کوئی…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی زمین و آسمان کا یہ نظام محض کھیل نہیں بنایا بلکہ یہ ایک بامقصد حکیمانہ نظام ہے جس میں ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ دیا جائے اور دنیا و آخرت میں کسی پر ظلم نہ ہو۔
Read the full tafseer →(45:22) بالحق : حق کے ساتھ ۔ نیز ملاحظہ ہو 45:6 متذکرہ بالا۔
ولتجزی۔ واؤ عاطفہ لام تعلیل کا۔ تجزی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ جزاء باب ضرب۔ مصدر۔ وہ بدلہ دی جائے گی۔ اس کی جزاء دی جائے گی۔
بما کسبت : جو کچھ اس نے کمایا۔ جو کچھ اس نے کیا۔
لا یظلمون : مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب ظلم (باب ضرب) مصدر۔ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 24 : تجزی ( بدلہ دیا گیا) ھوا ( خواہش) الدھر ( زمانہ) یظنون (وہ گمان کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 22 تا 24 : ان تین آیات میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں (1) آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور قیامت کا قائم ہونا (2) جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اس کو ہدایت نصیب نہ ہونا (3) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد دوسری کوئی زندگی نہیں ہے اور ہمیں زندگی اور موت زمانے کی وجہ سے آتی ہے۔
پہلی بات کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اس ساری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کے انتظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ وہ اس کے چلانے میں کسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…
Read the full tafseer →[6] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Read the full tafseer →ف 2: قرآن کی ایک حیثیت یہ ہے ۔ کہ اس میں غیر مسلموں کے لئے بھی بلالحاظ دین اور بلاتفریق مذہب عقل و دانش کا وافرذخیرہ موجود ہے ۔ اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ جو لوگ کا ملا اس کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے اس میں زندگی کے تمام شعبوں پر مشتمل ہدایت اور راہنمائی ہے ۔ اور ایسے ذرایع ووسائل کا ذکر ہے ۔ جو منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں ۔
حل لغات :۔ اجترحوا ۔ اجتراح سے ہے ۔ جس کے معنے اکتساب کے ہیں ۔
Read the full tafseer →(22) اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور جیسا بنانا چاہیے تھا ویسا بنایا اور اس لئے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلا دیاجائے گا اور لوگوں پر کسی قسم کا ظلم اور زیادتی نہیں کی جائے گی یعنی آسمان و زمین کا پیدا کرنا حکمت اور کمال تدبیر پر مبنی ہے تاکہ اس کی قدرت اور اس کی توحید پر استدلال کیا جاسکے اور قدرت علی البعث پر استدلال ہوسکے اور تاکہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلا دیا جاسکے اور چونکہ دنیا میں پورا بدلہ ملنے کی صورت نہیں اس لئے بعث یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا ضروری ہے اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پھل ملنا ضروری ہے۔
یوں سمجھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1۔ مطلب یہ کہ ان کا معاد سے یہ لازم آتا ہے کہ مطیعین کو کہیں ثمرہ اطاعت کا نہ ملے، اور مخالفین پر کبھی وبال مخالفت کا نہ پڑے، پس وجود آخرت کی یہ حکمت ہوئی کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے ثمرات مل جاویں۔
Read the full tafseer →ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ اس کی کمائی کے مطابق دینا جاتے گا ، کسی پر ظلم نہیں ہو گا
22 ؎ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے ساتھ انسانوں کی جزاو سزا کا کیا تعلق ہے ؟ اس میں انسان کو تفہیم کرائی گئی ہے کہ انسان ہی خلاصہ کائنات ہے کیونکہ اسی کی خاطر ان آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کچھ انسانوں ہی کے لئے ہے محض کھیل اور تماشا کے لئے ان کو نہیں پیدا کردیا گیا بامقصد پیدا کیا گیا ہے جب یہ سب کچھ انسانوں کی خاطر ہے تو آخر انسان کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان ساری چیزوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اختیار سے جو اللہ نے اس کو دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
Commentary
The Hereafter: Divine Requital is Rationally Necessary
Of the two verses mentioned, the first one argues rationally that Divine reward and punishment are necessary. Every person is a witness to the fact that no one receives his full measure of reward or punishment for the good or bad deeds he does in this world. Generally, the unbelievers and evil-doers wallow in wealth and lead a life of luxury. The obedient servants of Allah, on the other hand, live in poverty, hardship and misery. In the first place, the crimes of the wicked criminals are often not detected. Even if they are…
Read the full tafseer →28 That is, 'Allah has not created the earth and the heavens for mere sport, but it is a wise system with a purpose. In this system it is absolutely unimaginable that the people who may have accomplished good deeds by the right use of the powers and means and resouces granted by AIlah and the people who may have spread mischief and wickedness by their wrong use, should end up ultimately in the dust after death, and there should be no life hereafter in which their good and bad deeds should lead to good or bad results according to justice. If this were so, this universe would be the plaything…
Read the full tafseer →